Surat us Shooaraa

Surah: 26

Verse: 210

سورة الشعراء

وَ مَا تَنَزَّلَتۡ بِہِ الشَّیٰطِیۡنُ ﴿۲۱۰﴾

And the devils have not brought the revelation down.

اس قرآن کو شیطان نہیں لائے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Qur'an was brought down by Jibril, not Shaytan Allah tells us about His Book, which falsehood cannot approach from before or behind it, sent down by the All-Wise, Worthy of all praise. He states that it has been brought down by the trustworthy Ruh (i.e., Jibril) who is helped by Allah, وَمَا تَنَزَّلَتْ بِهِ الشَّيَاطِينُ And it is not the Shayatin who have brought it down. Then He tells us that it could not be the case for three reasons that the Shayatin brought it down. One is that it would not suit them, i.e., they have no desire to do so and they do not want to, because their nature is to corrupt and misguide people, but this contains words enjoining what is right and forbidding what is evil, and light, guidance and mighty proofs. There is a big difference between this and the Shayatin, Allah says:

یہ کتاب عزیز یہ کتاب عزیز جس کے آس پاس بھی باطل پھٹک نہیں سکتا جو حیکم وحمید اللہ کی طرف سے اتری ہے جس کو روح الامین جو قوت وطاقت والے ہیں لے کر آئیں ہیں اسے شیاطین نہیں لائے پھر ان کے نہ لانے پر تین وجوہات بیان کی گئیں ۔ ایک تو یہ کہ وہ اس کے لائق نہیں ۔ ان کا کام مخلوق کو بہکانا ہے نہ کہ راہ راست پر لانا ۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر جو اس کتاب کی شان ہے اس کے سراسر خلاف ہے ۔ یہ نور یہ ہدایت ہے یہ برہان ہے اور شیاطین ان تینوں چیزوں سے چڑتے ہیں وہ ظلمت کے دلدادہ اور ضلالت کے ہیرو ہیں ۔ وہ جہالت کے شیدا ہیں پس اس کتاب میں اور ان میں تو تباین اور اختلاف ہے ۔ کہاں وہ کہاں یہ؟ دوسری وجہ یہ ہے کہ وہ جہاں اس کے اہل نہیں وہاں ان میں اس کو اٹھانے اور لانے کی طاقت بھی نہیں ۔ یہ تو وہ ذی عزت والا کام ہے کہ اگر کسی بڑے سے بڑے پہاڑ بھی اترے تو اس کو بھی چکنا چور کردے ۔ پھر تیسری وجہ یہ بیان فرمائی کہ وہ تو اس کے نزول کے وقت ہٹادئیے گئے تھے انہیں تو سننا بھی نہیں ملا ۔ تمام آسمان پر سخت پہرہ چوکی تھی یہ سننے کے لئے چڑھتے تھے تو ان پر آگ برسائی جاتی تھیں ۔ اس کا ایک حرف سن لینا بھی ان کی طاقت سے باہر تھا ۔ تاکہ اللہ کا کلام محفوظ طریقے پر اس کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچے اور آپ کی وساطت سے مخلوق الٰہی کو پہنچے ۔ جیسے سورۃ جن میں خود جنات کا مقولہ بیان ہوا ہے کہ ہم نے آسمان کو ٹٹولا تو اسے سخت پہر چوکی سے بھر پور پایا اور جگہ جگہ شعلے متعین پائے پہلے تو ہم بیٹھ کر اکا دکا بات اڑا لایا کرتے تھے لیکن اب تو کان لگاتے ہی شعلہ لپکتا ہے اور جلاکر بھسم کردیتا ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٢٣] اس آیت کا تعلق سابقہ آیت وانہ لتنزیل رب العالمین سے ہے درمیان میں قرآن کو جھٹلانے والوں کے کچھ احوال بیان کرنے کے بعد اصل مضمون کی طرف رجوع کیا گیا ہے کفار مکہ کے الزامات میں سے ایک الزام بھی تھا کہ وہ آپ کو کاہن کہتے بھی تھے اور سمجھتے بھی تھے۔ چناچہ جندب بن سفیان فرماتے ہیں۔ کہ ایک دفعہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مزاج ناساز ہوا اور آپ دو تین رات نماز تہجد کے لئے اٹھ نہ سکے۔ ایک عورت) عوراء بنت حرب، ابو سفیان کی بہن، ابو لہب کی بیوی پاس کے پاس آئے اور کہنے لگی && محمد) ! (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ( میں سمجھتی ہوں۔ تیرے شیطان نے تجھ کو چھوڑ دیا۔ دو تین راتوں سے تیرے پاس نہیں آیا && اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں۔ ~) ( وَالضُّحٰى ۝ ۙ ) 93 ۔ الضحی:1) (~ (بخاری۔ کتاب التفسیر۔ تفسیر سورة والضحیٰ )

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَمَا تَنَزَّلَتْ بِهِ الشَّيٰطِيْنُ : یہ ذکر کرنے کے بعد کہ یہ قرآن رب العالمین کا نازل کردہ ہے، جسے جبریل امین لے کر آپ کے دل پر اترا ہے، اب ان لوگوں کی تردید فرمائی جو کہتے تھے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس یہ وحی شیطان لاتے ہیں، جیسا کہ جندب بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ جبریل (علیہ السلام) کی آمد رک گئی تو قریش کی ایک عورت کہنے لگی : ” أَبْطَأَ عَلَیْہِ شَیْطَانُہُ “ ” اس کے شیطان نے اس کے پاس آنے میں دیر کردی ہے۔ “ تو اس پر یہ آیات اتریں : (وَالضُّحٰى وَالَّيْلِ اِذَا سَـجٰى مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلٰى) [ الضحٰی : ١ تا ٣ ] ” قسم ہے دھوپ چڑھنے کے وقت کی ! اور رات کی جب وہ چھا جائے ! نہ تیرے رب نے تجھے چھوڑا اور نہ وہ ناراض ہوا۔ “ [ بخاري، التہجد، باب ترک القیام للمریض : ١١٢٥ ] اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اس قرآن کو لے کر شیاطین نہیں اترے کہ یہ جادو ہو یا کہانت ہو، یا شعر ہو یا اوٹ پٹانگ خواب ہوں، کیونکہ شیاطین کا سرمایہ یہی کچھ ہوتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے شیاطین کے لیے اس کے ناممکن ہونے کی تین وجہیں بیان فرمائیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَمَا تَنَزَّلَتْ بِہِ الشَّيٰطِيْنُ۝ ٢١٠ نزل النُّزُولُ في الأصل هو انحِطَاطٌ من عُلْوّ. يقال : نَزَلَ عن دابَّته، والفَرْقُ بَيْنَ الإِنْزَالِ والتَّنْزِيلِ في وَصْفِ القُرآنِ والملائكةِ أنّ التَّنْزِيل يختصّ بالموضع الذي يُشِيرُ إليه إنزالُهُ مفرَّقاً ، ومرَّةً بعد أُخْرَى، والإنزالُ عَامٌّ ، فممَّا ذُكِرَ فيه التَّنزیلُ قولُه : نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] وقرئ : نزل وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106] ( ن ز ل ) النزول ( ض ) اصل میں اس کے معنی بلند جگہ سے نیچے اترنا کے ہیں چناچہ محاورہ ہے : ۔ نزل عن دابۃ وہ سواری سے اتر پڑا ۔ نزل فی مکان کذا کسی جگہ پر ٹھہر نا انزل وافعال ) اتارنا قرآن میں ہے ۔ عذاب کے متعلق انزال کا لفظ استعمال ہوا ہے قرآن اور فرشتوں کے نازل کرنے کے متعلق انزال اور تنزیل دونوں لفظ استعمال ہوئے ہیں ان دونوں میں معنوی فرق یہ ہے کہ تنزیل کے معنی ایک چیز کو مرۃ بعد اخریٰ اور متفرق طور نازل کرنے کے ہوتے ہیں ۔ اور انزال کا لفظ عام ہے جو ایک ہی دفعہ مکمل طور کیس چیز نازل کرنے پر بھی بولا جاتا ہے چناچہ وہ آیات ملا حضہ ہو جہاں تنزیل لا لفظ استعمال ہوا ہے ۔ نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] اس کو امانت دار فر شتہ لے کر اترا ۔ ایک قرات میں نزل ہے ۔ وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106] اور ہم نے اس کو آہستہ آہستہ اتارا شطن الشَّيْطَانُ النون فيه أصليّة «3» ، وهو من : شَطَنَ أي : تباعد، ومنه : بئر شَطُونٌ ، وشَطَنَتِ الدّار، وغربة شَطُونٌ ، وقیل : بل النون فيه زائدة، من : شَاطَ يَشِيطُ : احترق غضبا، فَالشَّيْطَانُ مخلوق من النار کما دلّ عليه قوله تعالی: وَخَلَقَ الْجَانَّ مِنْ مارِجٍ مِنْ نارٍ [ الرحمن/ 15]: الشّيطان اسم لكلّ عارم من الجنّ والإنس والحیوانات . قال تعالی: شَياطِينَ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ [ الأنعام/ 112] ( ش ط ن ) الشیطان اس میں نون اصلی ہے اور یہ شطن سے مشتق ہے جس کے معنی دور ہونیکے ہیں اور بئر شطون ( بہت گہرا کنوآں ) شطنت الدار ۔ گھر کا دور ہونا غربۃ شطون ( بطن سے دوری ) وغیرہ محاوارت اسی سے مشتق ہیں بعض نے کہا ہے کہ لفظ شیطان میں نون زائدہ ہے اور یہ شاط یشیط سے مشتق ہے جس کے معنی غصہ سے سوختہ ہوجانے کے ہیں ۔ اور شیطان کو بھی شیطان اسی لئے کہا جاتا ہے کہ وہ آگ سے پیدا ہوا ہے جیسا کہ آیت : ۔ وَخَلَقَ الْجَانَّ مِنْ مارِجٍ مِنْ نارٍ [ الرحمن/ 15] اور جنات کو آگ کے شعلہ سے پیدا کیا ۔ سے معلوم ہوتا ہے ۔ ابو عبیدہ نے کہا ہے کہ شیطان ہر سر کش کو کہتے ہیں خواہ وہ جن وانس سے ہو یا دیگر حیوانات سے ۔ قرآن میں ہے : ۔ شَياطِينَ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ [ الأنعام/ 112] شیطان ( سیرت ) انسانوں اور جنوں کو

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٢١٠ تا ٢١٢) اور اس قرآن کریم کو شیاطین لے کر نہیں آئے کیونکہ یہ ان کی حالت کے مناسب بھی نہیں اور نہ وہ اس کے اہل ہیں اور وہ اس پر قادر بھی نہیں کیوں کہ وہ شیاطین وحی آسمانی سے روک دیے گئے ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢١٠ (وَمَا تَنَزَّلَتْ بِہِ الشَّیٰطِیْنُ ) ” عربوں کے ہاں عام لوگ شاعروں کے بارے میں یہ خیال رکھتے تھے کہ ان کے قابو میں جن ہوتے ہیں جو ان کو نئی نئی اور اچھی اچھی باتیں اشعار کی شکل میں جوڑ جوڑ کردیتے رہتے ہیں۔ چناچہ جب قرآن نازل ہونا شروع ہوا تو بعض مشرکین نے اس کے بارے میں بھی کہنا شروع کردیا کہ اسے شیاطینِ جن نازل کر رہے ہیں۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

130 After the positive aspect as stated in vv. 192-193, the negative aspect is being stated that the Qur'an has not been brought down by satans as the enemies of the Truth allege. The unbelieving Quraish in their campaign to spread lies and slander against the Holy Prophet were facing a real difficulty. They did not know how to account for the wonderful discourses which were being presented before the people in the form of the Qur'an and which were moving their hearts deeply. They could not stop the Qur'an from reaching the people. The only thing they could do to counteract its effect and influence was to create doubts and suspicions about it in their minds and hearts. Therefore, in their desperation they charged that Muhammad (Allah's peace be upon him) was a sorcerer, who was being inspired by the satans, and they considered this charge of theirs to be the most effective because it could neither be easily verified nor refuted.

سورة الشُّعَرَآء حاشیہ نمبر :130 پہلے اس معاملے کا مثبت پہلو ارشاد ہوا تھا کہ یہ رب العالمین کی نازل کردہ ہے اور اسے روح الامین لے کر اترا ہے ۔ اب اس کا منفی پہلو بیان کیا جا رہا ہے کہ اسے شیاطین لے کر نہیں اترے ہیں جیسا کہ حق کے دشمنوں کا الزام ہے ۔ کفار قریش نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کو نیچا دکھانے کے لیے جھوٹ کی جو مہم چلا رکھی تھی اس میں سب سے بڑی مشکل انہیں یہ پیش آ رہی تھی کہ اس حیرت انگیز کلام کی کیا توجیہ کی جائے جو قرآن کی شکل میں لوگوں کے سامنے آ رہا تھا اور دلوں میں اترتا چلا جا رہا تھا ۔ یہ بات تو ان کے بس میں نہ تھی کہ لوگوں تک اس کے پہنچنے کو روک سکیں ۔ اب پریشان کن مسئلہ ان کے لیے یہ تھا کہ لوگوں کو اس سے بد گمان کرنے اور اس کی تاثیر سے بچانے کے لیے کیا بات بنائیں ۔ اس گھبراہٹ میں جو الزامات انہوں نے عوام میں پھیلائے تھے ان میں سے ایک یہ تھا کہ محمد صلی الہ علیہ وسلم معاذ اللہ کاہن ہیں اور عام کاہنوں کی طرح ان پر بھی یہ کلام شیاطین القا کرتے ہیں ۔ اس الزام کو وہ اپنا سب سے زیادہ کارگر ہتھیار سمجھتے تھے ۔ ان کا خیال تھا کہ کسی کے پاس اس بات کو جانچنے کے لیے آخر کیا ذریعہ ہو سکتا ہے کہ یہ کلام کوئی فرشتہ لاتا ہے یا شیطان اور شیطانی القاء کی تردید آخر کوئی کرے گا تو کیسے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

49: یہاں سے چند ان باتوں کی تردید کی جا رہی ہے جو کفار مکہ قرآن کریم کے بارے میں کہا کرتے تھے۔ بنیادی طور پر ان کے دو دعوے تھے، بعض لوگوں کا کہنا تھا کہ معاذ اللہ آنحضرت صلی اللہ علہ وسلم کاہن ہیں اور بعض لوگ آپ کو شاعر کہہ کر قرآن کریم کو شاعری کی کتاب قرار دیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آیات میں ان دونوں باتوں کی تردید فرمائی ہے۔ ’’ کاہن‘‘ ان لوگوں کو کہا جاتا تھا جن کا دعویٰ یہ تھا کہ جنات ان کے قبضے میں ہیں جو انہیں غیب کی خبریں لا کردیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں کاہنوں کی ٰیہ حقیقت بیان فرمائی ہے کہ جو جنات ان کے پاس آتے ہیں، وہ در اصل شیاطین ہیں۔ اور قرآن کریم کے مضامین ایسے ہیں کہ شیاطین کو کبھی پسند نہیں آسکتے، اور نہ وہ ایسی نیکی کی باتیں کرنے کی قدرت رکھتے ہیں۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(26:210) ما تنزلت بہ : ما نافیہ ہے۔ تنزلت ماضی کا صیغہ واحد مؤنث غائب۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب قرآن کے لئے ہے۔ اس قرآن کو (جماعت) شیاطین لے کر نہیں اتری ۔ تنزل (تفعل) مصدر۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

3 ۔ کہ جس طرح کاہنوں پر شیاطین اپنا کلام لے کر نازل ہوتے ہیں، اس طرح محمد (ﷺ) پر بھی یہ کلام شیطانوں ہی کا نازل کردہ ہے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : قرآن مجید کے بارے میں کفار کی ہرزہ سرائی اور اس کا جواب۔ کفار ہرزہ سرائی کرتے ہوئے رسول محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر یہ الزام بھی لگاتے کہ اس پر فرشتہ نازل ہونے کی بجائے کوئی شیطان مسلط ہوچکا ہے۔ جو اس کے دل میں مختلف قسم کے خیالات ڈالتا ہے۔ جسے یہ خاص انداز میں ہمارے سامنے بیان کرتا ہے۔ اس الزام کی تردید کرتے ہوئے یہ دلیل دی گئی ہے کہ نہ آپ پر شیاطین کوئی بات نازل کرتے ہیں اور نہ ہی شیطان ایسا کرسکتے ہیں اور نہ ان میں ایسا کرنے کی طاقت اور صلاحیت ہے۔ وحی کا سلسلہ اس قدر مضبوط اور محفوظ ہے کہ شیطان اس سے کوسوں میل دور رکھے جاتے ہیں۔ شیطان کا پہلا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگوں سے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرواتا ہے۔ جبکہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت کا لب لباب اور مرکزی پیغام ہی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو کسی انداز میں بھی شریک نہ بنایا جائے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک شرک ایسا جرم ہے اگر نبی بھی ” اللہ “ کے ساتھ کسی کو شریک بنائے یا کسی کو اس کی عبادت میں شریک کرے تو وہ بھی اللہ کے عذاب سے نہیں بچ سکتا۔ وحی کی حفاظت کا انتظام اور جنّات کا اعتراف : کیونکہ شیطان جنسی اعتبار سے جنات میں سے ہیں۔ اس لیے سورة جن میں انہی کے زبان سے اس بات کی وضاحت پیش کی گئی ہے۔ ” یہ کہ ہم نے آسمان کو ٹٹولا تو اسے سخت پہر داروں اور شہابوں سے بھرا ہوا پایا۔ ہم سننے کے لیے آسمان کے کچھ ٹھکانوں میں بیٹھا کرتے تھے مگر اب جو سننے کو کان لگائے تو وہ اپنے لیے ایک شہاب کو تاک لگائے ہوئے پاتا ہے۔ “ (جن : ٨۔ ٩) شرک کی سنگینی : (ذٰلِکَ ھُدَی اللّٰہِ یَھْدِیْ بِہٖ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِہٖ وَ لَوْ اَشْرَکُوْا لَحَبِطَ عَنْھُمْ مَّا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ) [ الانعام : ٨٨] ” یہ اللہ کی ہدایت ہے وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اس پر چلاتا ہے اور اگر یہ لوگ شریک بناتے تو جو عمل وہ کیا کرتے تھے ان کے ضائع ہوجاتے۔ “ (ہُوَ الْحَیُّ لَآ اِِلٰہَ اِِلَّا ہُوَ فَادْعُوْہُ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ اَلْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْن) [ الزمر : ٦٥] ” وہ زندہ ہے اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں سو خالصتاً اسی کو پکارو تمام تعریفیں جہانوں کے رب کے لیے ہیں۔ “ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے کو پکارنے کا گناہ اور سزا : ١۔ شرک سے تمام اعمال ضائع ہوجاتے ہیں۔ (الزمر : ٦٥) ٢۔ شرک کرنے والا راہ راست سے بھٹک جاتا ہے۔ (النساء : ١١٦) ٣۔ اللہ مشرک کو معاف نہیں کرے گا اس کے علاوہ جسے چاہے گا معاف کر دے گا۔ (النساء : ٤٨) ٤۔ اٹھارہ انبیاء کے ذکر کے بعد ارشاد ہوا۔ اگر یہ بھی شرک کرتے تو ان کے اعمال ضائع کر دئیے جاتے۔ ( الانعام : ٨٤ تا ٨٨) ٥ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اگر آپ بھی شرک کریں گے تو آپ کے اعمال بھی ضائع ہوجائیں گے۔ ( الزمر : ٦٥) ٦۔ اگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شرک کریں تو آپ کو بھی عذاب ہوگا۔ ( الشعراء : ٢١٣) ٧۔ جو شخص اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہے گویا کہ وہ آسمان سے گرپڑا۔ (الحج : ٣١) ٨۔ شرک کرنے والے پر جنت حرام ہے۔ (المائدۃ : ٧٢) ٩۔ مشرکین کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ (ابراہیم : ٣٠) ١٠۔ اللہ اور اس کا رسول مشرکوں سے بری الذّمہ ہے۔ (التوبۃ : ٣) ١١۔ شرک کرنے والا بہت بڑی گمراہی میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ ( النساء : ١١٦)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

وما تنزلت ……لمعزولون (٢٠٤) اس سے قبل قرآن کریم کے بارے میں کہا گیا تھا کہ یہ رب العالمین کی طرف سے ہے اور اسے روح الامین لے کر آتے ہیں اور اس کے بعد بات آگے نکل گئی کہ یہ لوگ تکذیب پر تل گئے ہیں اور اپنی نادانی سے عذاب کے آنے میں شتابی کر رہے ہیں۔ لیکن قرآن کے بارے میں وہ یہ الزام بھی لگاتے تھے کہ یہ شیاطین کی طرف سیالقائہوتا ہے۔ جس طرح کاہنوں پر شیاطین کچھ کلمات القا کرتے ہیں جن میں بعض خبریں غیب کی ہوتی ہیں اور جن کی وجہ سے وہ کہانت کی دکان چمکاتے ہیں۔ لیکن یہاں اس کی تردید کی جاتی ہے کہ ہر مذہب و ملت جانتی ہے کہ شیطان کا کیا کام ہوتا ہے جبکہ قرآن تو اصلاح اور ہدایت کا کام کرتا ہے اور شیطان ہر مذہب و ملت کے تصور کے مطابق برائی گمرایہ اور ضلالت کی دعوت دیتا ہے۔ پھر شیطانی قوتوں کے اندر یہ طاقت کہاں ہے کہ وہ قرآن نازل کرسکیں۔ اللہ کی جانب سینزول وحی اور قرآن کا انتظام نہایت محفوظ ہے۔ اس کو تو روح الامین ، رب العالمین کے حکم سے نہایت حفاظت اور امانت و دیانت سے لاتے ہیں۔ اب روئے سخن حضور اکرم کی طرف پھرجاتا ہے۔ آپ کو شرک سے ڈرایا جاتا ہے حالانکہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے شرک کا وقوع ایک مستبعد امر ہے۔ دراصل حضور کو کہہ کرامت کو لایا جاتا ہے اور آپ کو یہ تلقین کی جاتی ہے کہ آپ اپنے قریبی لوگوں کو ڈرائیں۔ اللہ پر بھروسہ کریں۔ اللہ ہمیشہ آپ کی نگرانی اور نگہبانی کرتا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اس کے بعد پھر قرآن مجید کی حفاظت کا تذکرہ فرمایا (وَمَا تَنَزَّلَتْ بِہِ الشَّیَاطِیْنُ ) (کہ اس قرآن کو شیاطین لے کر نازل نہیں ہوئے) (وَمَا یَنْبَغِیْ لَہُمْ ) (اور یہ ان کے لیے درست بھی نہیں ہے) (وَمَا یَسْتَطِیْعُوْنَ ) (اور وہ اس پر قدرت بھی نہیں رکھتے) (اِِنَّہُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُوْلُوْنَ ) (بلاشبہ وہ اس کے سننے سے روک دیئے گئے ہیں) یعنی یہ لوگ وحی آسمانی کو سن بھی نہیں سکتے اس پر انہیں بالکل ہی قدرت نہیں ہے، صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ اس میں مشرکین قریش کی اس بات کی تردید ہے جو انہوں نے کہا تھا کہ ایک جن محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے تابع ہے وہ آپ کو قرآن سنا دیتا ہے اور آپ اسی کو نقل فرما دیتے ہیں۔ ان لوگوں کی تردید میں فرمایا کہ اس قرآن کو شیاطین لے کر نہیں آئے اور نہ ان لوگوں کو اس پر قدرت ہے کیونکہ قرآن تو سبب ہدایت ہے اور شیاطین کا کام گمراہ کرنے کا ہے وہ ہدایت کی چیز کو جس میں توحید ہی توحید ہے مشرکین کے پاس پہنچانے کا ذریعہ کیونکر بن سکتے ہیں، پھر مزید بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس کی قدرت بھی نہیں دی کہ وہ وحی آسمانی کو سن لیں۔ وہاں سے لانا اور آپ تک پہنچانا تو بعد کی بات ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

73:۔ یہ ” وانہ لتنزیل رب العلمین “ سے متعلق ہے۔ اس کے بارے میں مشرکین نے دو شب ہے ظاہر کیے تھے اول یہ کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے تابع جن ہیں جو اس کے پاس خبریں لاتے ہیں۔ دوم یہ کہ وہ شاعر ہے اور اس کا کلام شاعرانہ ہوتا ہے جو سننے والوں کو فوراً متاثر کردیتا ہے۔ یہ مشرکین کے پہلے شبہہ کا جواب ہے۔ وھو رد لقول مشرکی قریش ان لمحمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تابعا من الجن یخبرہ کما تخبر الکھنۃ وان القران مما القاہ الیہ (علیہ الصلوۃ والسلام) (روح ج 19 ص 132) ۔ یعنی اس قرآن کو جو دعوی ” تبارک “ پر مشتمل ہے شیاطین لے کر نہیں آئے۔ کیونکہ شیاطین جو سراسر ناپاک اور خبیث ہیں اس لائق ہی نہیں اور نہ ان میں اس کی طاقت ہی ہے اس لیے کہ ملا اعلی کی باتیں سننے سے انہیں دور کردیا گیا ہے اور ان کی وہاں تک رسائی ممکن ہی نہیں۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(210) اور اس قرآن کریم کو شیاطین لے کر نہیں اترے۔