Surat us Shooaraa

Surah: 26

Verse: 218

سورة الشعراء

الَّذِیۡ یَرٰىکَ حِیۡنَ تَقُوۡمُ ﴿۲۱۸﴾ۙ

Who sees you when you arise

جو تجھے دیکھتا رہتا ہے جبکہ تو کھڑا ہوتا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Who sees you when you stand up. means, He is taking care of you. This is like the Ayah, وَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ فَإِنَّكَ بِأَعْيُنِنَا So wait patiently for the decision of your Lord, for verily, you are under Our Eyes. (52:48) Ibn Abbas said that the Ayah, الَّذِي يَرَاكَ حِينَ تَقُومُ (Who sees you when you stand up) means, "To pray." Ikrimah said: "He sees him when he stands and bows and prostrates." Al-Hasan said: الَّذِي يَرَاكَ حِينَ تَقُومُ (Who sees you when you stand up) means, "When you pray alone." Ad-Dahhak said: الَّذِي يَرَاكَ حِينَ تَقُومُ (Who sees you when you stand up) means, "When you are lying in bed and when you are sitting." Qatadah said: الَّذِي يَرَاكَ (Who sees you) "When you are standing, when you are sitting, and in all other situations." وَتَقَلُّبَكَ فِي السَّاجِدِينَ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٣٠] یعنی جب آپ نماز کے لئے رات کو اٹھتے ہیں یا کسی بھی نماز میں قیام کی حالت میں ہوتے ہیں یا تبلیغ رسالت کے فریضہ کی انجام دہی کے لئے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

الَّذِيْ يَرٰىكَ حِيْنَ تَقُوْمُ ۔۔ : یعنی اس عزیز و رحیم پر بھروسا رکھ جو ہر وقت تجھے دیکھ رہا ہے، اس وقت بھی جب تو کھڑا ہوتا ہے، رات قیام میں کھڑا ہو یا دعوت و جہاد کے فریضے کی ادائیگی کے لیے، یا کسی بھی کام کے لیے اور تیرے صحابہ میں تیرے گھومنے پھرنے کو بھی دیکھ رہا ہے جن کا خاص وصف ساجدین ہے، فرمایا : ( تَرٰىهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَّبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَرِضْوَانًا ۡ سِيْمَاهُمْ فِيْ وُجُوْهِهِمْ مِّنْ اَثَرِ السُّجُوْدِ ۭ ) [ الفتح : ٢٩ ] ” تو انھیں اس حال میں دیکھے گا کہ رکوع کرنے والے ہیں، سجدے کرنے والے ہیں، اپنے رب کا فضل اور (اس کی) رضا ڈھونڈتے ہیں، ان کی شناخت ان کے چہروں میں (موجود) ہے۔ “ جب تو ان کے ساتھ باجماعت نماز کی حالت میں اپنی ہیئت بدل رہا ہوتا ہے، کبھی ان کے ساتھ سجدے میں ہوتا ہے، کبھی رکوع میں، کبھی قیام میں اور جب تو ان سجدہ گزاروں کے ساتھ دعوت یا جہاد کے کام میں پھر رہا ہوتا ہے تو تیرا رب ہر وقت تجھے دیکھ رہا ہے اور اپنے اس قیام اور پھرنے میں تو جو کچھ کہتا ہے وہ اسے سنتا ہے اور جو کچھ تو کرتا ہے اسے جانتا ہے، کیونکہ وہی سننے والا، جاننے والا ہے۔ اس لیے اس پر بھروسا رکھ جس کی نگاہ سے تو ایک لمحہ اوجھل نہیں، وہ تجھے کبھی بےسہارا نہیں چھوڑے گا۔ 3 ان آیات میں اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے صحابہ کی شب و روز کی مصروفیات کو جو شخص بھی غور سے دیکھے گا وہ کبھی نہیں کہہ سکتا کہ ان لوگوں کا شیطان سے کوئی تعلق ہوسکتا ہے ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

الَّذِيْ يَرٰىكَ حِيْنَ تَقُوْمُ۝ ٢١٨ۙ حين الحین : وقت بلوغ الشیء وحصوله، وهو مبهم المعنی ويتخصّص بالمضاف إليه، نحو قوله تعالی: وَلاتَ حِينَ مَناصٍ [ ص/ 3] ( ح ی ن ) الحین ۔ اس وقت کو کہتے ہیں جس میں کوئی چیز پہنچے اور حاصل ہو ۔ یہ ظرف مبہم ہے اور اس کی تعین ہمیشہ مضاف الیہ سے ہوتی ہے جیسے فرمایا : ۔ وَلاتَ حِينَ مَناصٍ [ ص/ 3] اور وہ رہائی کا وقت نہ تھا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢١٨ (الَّذِیْ یَرٰٹکَ حِیْنَ تَقُوْمُ ) ” اس سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا تہجد کے لیے کھڑے ہونا مراد ہے۔ واضح رہے کہ تہجد کا حکم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بالکل ابتدائی دور میں ہی دے دیا گیا تھا : (یٰٓاَیُّہَا الْمُزَّمِّلُ قُمِ الَّیْلَ اِلَّا قَلِیْلًا ) (المزمل) ” اے چادر میں لپٹنے والے ! قیام کیجیے رات میں مگر تھوڑا “۔ تو گویا یہاں اسی حوالے سے فرمایا جا رہا ہے کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! جب آپ تہجد کے لیے ہمارے حضور کھڑے ہوتے ہیں تو اس وقت ہم آپ کو دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ ہم بیشک آپ کی نظروں سے پوشیدہ ہیں مگر آپ ہماری نظروں سے پوشیدہ نہیں ہیں : (لاَ تُدْرِکُہُ الْاَبْصَارُز وَہُوَ یُدْرِکُ الْاَبْصَارَج وَہُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ ) (الانعام) ” اسے نگاہیں نہیں پا سکتیں جبکہ وہ تمہاری نگاہوں کو پا لیتا ہے ‘ اور وہ لطیف بھی ہے اور ہرچیز سے باخبر بھی۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

138 "Getting up" may mean getting up for the Prayers during the night, or coming out for the purpose of performing the Prophetic Mission.

سورة الشُّعَرَآء حاشیہ نمبر :138 اٹھنے سے مراد راتوں کو نماز کے لیے اٹھنا بھی ہو سکتا ہے اور فریضۂ رسالت ادا کرنے کے لیے اٹھنا بھی ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(26:218) تقوم مضارع واحد مذکر حاضر۔ قیام مصدر۔ (باب نصر) تو کھڑا ہوتا ہے تو اٹھتا ہے۔ ای تقوم الی الصلوۃ جب تو نماز کے لئے کھڑا ہوتا ہے۔ تقلبک۔ مضاف مجاف الیہ۔ تقلب بروزن (تفعیل) مصدر ہے۔ پھرنا۔ آنا جانا ۔ گھومنا۔ الٹنا پلٹنا۔ ک ضمیر واحد مذکر حاضر۔ تیرا گھومنا۔ تیرا پھرنا ۔ تیرا آنا جانا۔ تقلب منصوب بوجہ مفعول یری کے ہے۔ السجدین۔ سجدہ کرنے والے بمعنی نمازی۔ اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

9 ۔ اکثر مفسرین (رح) نے یہی معنی کئے ہیں۔ (شوکانی) اس کے دوسرے معنی ساتھیوں کی دیکھ بھال بھی ہوسکتے ہیں۔ چناچہ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں : یعنی جب تو تہجد کو اٹھتا ہے اور یاروں کی خبر لیتا ہے کہ یاد میں ہیں یا غافل۔ (موضح)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

75:۔ اللہ تعالیٰ آپ کا حافظ و ناصر ہے جو آپ کی تمام نقل و حرکت کو دیکھات ہے ” حین تقوم “ جب آپ نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہیں۔ ” وتقلبک فی السجدین “ اور جب صحابہ کو نماز پڑھاتے ہیں اس وقت ایک حالت نماز سے دوسری حالت میں آپ کے تقلب کو بھی جانتا ہے یعنی قیام، رکوع، سجود اور قعود وغیرہ حالات میں۔ (حین تقوم) ای الی الصلوۃ (و تقلبک) ای ویری سبحانہ تعیرک من حال کالجلوس والسجود والی اخر کالقیام (فی السجدین) ای فیما بین المصلین اذا اممتھم (روح ج 19 ص 137) ۔ یا مطلب یہ ہے کہ جب آپ نماز تہجد کے لیے اٹھتے ہیں اس وقت بھی وہ آپ کو دیکھتا ہے ” وتقلبک فی السجدین “ اور نماز تہجد پڑھنے والوں میں آپ کے چلنے پھرنے کو بھی دیکھتا ہے۔ ” الساجدین “ سے صحابہ کرام (رض) مراد ہیں جو نماز تہجد پڑھتے تھے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رات کو چکر لگا کر معلوم کرتے کہ صحابہ (رض) کس طرح اللہ کی عبادت میں مصروف ہیں۔ وھو ذکر ما کان یفعلہ فی جوف اللیل من قیامہ للتھجد و تقلبہ فی تصفح احوال المتھجدین من اصحابہ لیطلع علیھم من حیث لایشعرون و لیعلم کیف یعبدون اللہ و یعملون لاخرتھم (مدارک ج 3 ص 152) ۔ ” انہ ھو السمیع العلیم “ یہ ما قبل کے لیے علت ہے یعنی وہ آپ کے تمام احوال کو جانتا ہے اس لیے کہ وہ سب کچھ سننے اور سب کچھ جاننے والا ہے۔ سیوطی وغیرہ اور شیعوں نے ” ساجدین “ سےحضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آباء و اجداد مراد لیے ہیں اور اس سے یہ ثابت کیا ہے کہحضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آباء و اجداد میں کوئی مشرک نہیں ہوا۔ لیکن یہ مفہوم خلاف ظاہر ہے اور نہ اس سے اس پر استدلال صحیح ہے جیسا کہ علامہ آلوسی فرماتے ہیں۔ انی لا اقول بحجیۃ الایۃ علی ھذا المطلب (روح ج 19 ص 138) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(218) جو آپ کو اس وقت بھی دیکھتا ہے جب تہجد کی نماز کے لئے کھڑے ہوتے ہیں۔