Surat us Shooaraa

Surah: 26

Verse: 221

سورة الشعراء

ہَلۡ اُنَبِّئُکُمۡ عَلٰی مَنۡ تَنَزَّلُ الشَّیٰطِیۡنُ ﴿۲۲۱﴾ؕ

Shall I inform you upon whom the devils descend?

کیا میں تمہیں بتاؤں کہ شیطان کس پر اترتے ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Refutation of the Fabrications of the Idolators Here Allah addresses those idolators who claimed that what was brought by the Messenger was not the truth but was merely something that he had made up by himself, or that it came to him in visions from the Jinn. Allah stated that His Messenger was above their claims and fabrications, and that what he had brought did indeed come from Allah, and that it was a revelation and inspiration, brought down by a noble, trustworthy and mighty angel. It did not come from the Shayatin, because they have no desire for anything like this Noble Qur'an -- they descend upon those who are like them, the lying fortune-tellers. Allah says: هَلْ أُنَبِّيُكُمْ ... Shall I inform you, meaning, shall I tell you, ... عَلَى مَن تَنَزَّلُ الشَّيَاطِينُ تَنَزَّلُ عَلَى كُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٍ

شیاطین اور جادوگر مشرکین کہاکرتے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا لایا ہوا یہ قرآن برحق نہیں ۔ اس نے اسکو خود گھڑلیا ہے یا اس کے پاس جنوں کا کوئی سردار آتا ہے جو اسے یہ سکھاجاتا ہے ۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو اس اعتراض سے پاک کیا اور ثابت کیا کہ آپ جس قرآن کو لائے ہیں وہ اللہ کا کلام ہے اسی کا اتارا ہوا ہے ۔ بزرگ امین طاقتور فرشتہ اسے لایا ہے ۔ یہ کسی شیطان یا جن کی طرف سے نہیں شیاطین تو تعلیم قرآن سے چڑتے ہیں اس کی تعلیمات ان کے یکسر خلاف ہیں ۔ انہیں کیا پڑی کہ ایسا پاکیزہ اور راہ راست پر لگانے والا قرآن وہ لائیں اور لوگوں کو نیک راہ بتائیں وہ تو اپنے جیسے انسانی شیطانوں کے پاس آتے ہیں جو پیٹ بھر کر جھوٹ بولنے والے ہوں ۔ بدکردار اور گناہگار ہوں ۔ ایسے کاہنوں اور بدکرداروں اور جھوٹے لوگوں کے پاس جنات اور شیاطین پہنچتے ہیں کیونکہ وہ بھی جھوٹے اور بداعمال ہیں ۔ اچٹتی ہوئی کوئی ایک آدھ بات سنی سنائی پہنچاتے ہیں اور وہ ایک جو آسمان سے چھپے چھپائے سن لی تو سو جھوٹ اس میں ملاکر کاہنوں کے کان میں ڈالدی ۔ انہوں نے اپنی طرف سے پھر بہت سی باتیں شامل کرکے لوگوں میں ڈینگیں ماردیں ۔ اب ایک آدھ بات تو سچی نکلی لیکن لوگوں نے ان کی اور سو جھوٹی باتیں بھی سچی مان لیں اور تباہ ہوئے ۔ بخاری شریف میں ہے کہ لوگوں نے کاہنوں کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تو آپ نے فرمایا وہ کوئی چیز نہیں ہیں ۔ لوگوں نے کہا حضور کبھی کبھی تو ان کی کوئی بات کھری بھی نکل آتی ہے؟ آپ نے فرمایا ہاں یہ وہی بات ہوتی ہے جو جنات آسمان سے اڑا لاتے ہیں اور ان کے کان میں کہہ کر جاتے ہیں پھر اسکے ساتھ جھوٹ اپنی طرف سے ملاکر کہہ دیتے ہیں صحیح بخاری شریف کی ایک حدیث میں یہ بھی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی کام کا فیصلہ آسمان پر کرتا ہے تو فرشتے با ادب اپنے پر جھکا دیتے ہیں ۔ ایسی آواز آتی ہے جیسے کسی چٹان پر زنجیر بجائی جاتی ہو جب وہ گھبراہٹ ان کے دلوں سے دور ہوتی ہے تو آپس میں دریافت کرتے ہیں کہ رب کا کیا حکم صادر ہوا ہے ؟ دوسرے جواب دیتے ہیں کہ رب نے یہ فرمایا اور وہ عالی شان اور بہت بڑی کبرائی والا ہے ۔ کبھی کبھی امر الہی سے چوری چھپے سننے والے کسی جن کے کان میں بھنک پڑجاتی ہے جو اس طرح ایک پر ایک پر ہو کر وہاں تک پہنچ جاتے ہیں ۔ راوی حدیث حضرت سفیان نے اپنے ہاتھوں کی انگلیاں پھیلاکر اس پر دوسرا ہاتھ اس طرح رکھ کر انہیں ہلاکر بتایا کہ اس طرح ۔ اب اوپر والا نیچے والے کو اور وہ اپنے سے نیچے والے کو وہ بات بتلادیتا ہے یہاں تک کہ جادوگر اور کاہن کو وہ پہنچادیتے ہیں ۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ بات پہنچاتے اس سے پہلے شعلہ پہنچ جاتا ہے اور کبھی اس کے پہلے ہی وہ پہنچادیتے ہیں اس میں کاہن وجادوگر اپنے سوجھوٹ شامل کر کے مشہور کرتا ہے چونکہ وہ ایک بات سچی نکلتی ہے لوگ سب باتوں کو ہی سچا سمجھنے لگتے ہیں ۔ ان تمام احایث کا بیان آیت ( حَتّىٰٓ اِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوْبِهِمْ قَالُوْا مَاذَا ۙ قَالَ رَبُّكُمْ ۭ قَالُوا الْحَقَّ ۚ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيْرُ 23؀ ) 34- سبأ:23 ) کی تفسیر میں آئے گا ۔ انشاء اللہ بخاری شریف کی ایک حدیث میں یہ بھی ہے کہ فرشتے آسمانی امر کی بات چیت بادلوں پر کرتے ہیں جسے شیطان سن کر کاہنوں اور وہ ایک سچ میں سو جھوٹ ملاتے ہیں ۔ پھر فرمایا کہ کافر شاعروں کی اتباع گمراہ لوگ کرتے یں ۔ عرب کے شاعروں کا دستور تھا کسی کی مذمت اور ہجو میں کچھ کہہ ڈالتے تھے لوگوں کی ایک جماعت ان کے ساتھ ہوجاتی تھی اور اسکی ہاں میں ہاں ملانے لگتی تھی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت کیساتھ عرج میں جا رہے تھے راستے میں ایک شاعر شعر خوانی کرتے ہوئے ملا ۔ آپ نے فرمایا اس شیطان کو پکڑ لو یا فرمایا روکو ۔ تم میں سے کوئی شخص خون اور پیپ سے اپنا پیٹ بھرلے یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ شعروں سے اپنا پیٹ بھرے ۔ انہیں ہر جنگل کی ٹھوکریں کھاتے کسی نے نہیں دیکھا ؟ ہر لغو میں یہ گھس جاتے ہیں ۔ کلام کے ہر فن میں بولتے ہیں ۔ کبھی کسی کی تعریف میں زمین اور آسمان کے قلابے ملاتے ہیں ۔ کبھی کسی کی مذمت میں آسمان و زمین سر پر اٹھاتے ہیں جھوٹی خوشامد جھوٹی برائیاں گھڑی ہوئی بدیاں ان کے حصے میں آئی ہیں ۔ یہ زبان کے بھانڈ ہوتے ہیں لیکن کام کے کاہل ایک انصاری اور ایک دوسری قوم کے شخص نے ہجو کا مقابلہ کیا جس میں دنوں کے قوم کے بڑے بڑے لوگ بھی ان کے ساتھ ہوگئے ۔ پس اس آیت میں یہی ہے کہ ان کا ساتھ دینے والے گمراہ لوگ ہیں ۔ وہ وہ باتیں بکا کرتے ہیں جنہیں کسی نے کبھی کیا نہ ہو ۔ اسی لئے علماء نے اس بات میں اختلاف کیا ہے کہ اگر کسی شاعر نے نے اپنے شعر میں کسی ایسے گناہ کا اقرار کیا ہو جس پر حد شرع واجب ہوتی ہو تو آیا وہ حد اس پر جاری کی جائے گی یانہیں؟ دونوں طرف علماء گئے ۔ واقعی وہ فخر وغرور کے ساتھ ایسی باتیں بک دیتے ہیں کہ میں نے یہ کیا اور وہ کیا حالانکہ نہ کچھ کیا ہو اور نہ ہی کرسکتے ہوں ۔ امیر المومنین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی خلافت کے زمانے میں حضرت نعمان بن عدی بن فضلہ کو بصرے کے شہر یسان کا گورنر مقرر کیا تھا ۔ وہ شاعر تھے ایک مرتبہ اپنے شعروں میں کہا کہ کیا حسینوں کو یہ اطلاع نہیں ہوئی کہ ان کا محبوب یسان میں ہے جہاں ہر وقت شیشے کے گلاسوں میں دور شراب چل رہا ہے اور گاؤں کی بھولی لڑکیوں نے گانے اور ان کے رقص وسرور مہیا ہیں ہاں اگر میرے کسی دوست سے ہوسکے تو اس بڑے اور بھرے ہوئے جام مجھے پلائے لیکن ان سے چھوٹے جام مجھے سخت ناپسند ہیں ۔ اللہ کرے امیر المومنین کو یہ خبر نہ پہنچے ورنہ برا مانیں گے اور سزادیں گے ۔ یہ اشعار سچ مچ حضرت امیرالمومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک پہنچ گئے آپ سخت ناراض ہوئے اور اسی وقت آدمی بھیجا کہ میں نے تجھے تیرے عہدے سے معزول کیا ۔ اور آپ نے ایک خط بھیجا جس میں بسم اللہ کے بعد حم کی تین آیتیں ( الیہ المصیر ) تک لکھ کر پھر تحریر فرمایا کہ تیرے اشعار سے مجھے سخت رنج ہوا ۔ میں تجھے تیرے عہدے سے معزول کرتا ہوں ۔ چنانچہ اس خط کو پڑھتے ہی حضرت نعمان دربار خلافت میں حاضر ہوئے اور با ادب عرض کیا کہ امیر المومنین واللہ نہ میں نے کبھی شراب پی نہ ناچ رنگ وگانا بجانا دیکھا ، نہ سنا ۔ یہ تو صرف شاعرانہ ترنگ تھی ۔ آپ نے فرمایا یہی میرا خیال ہے لیکن میری تو ہمت نہیں پڑتی کہ ایسے فحش گو شاعر کو کوئی عہدہ دو ۔ پس معلوم ہوا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نزدیک بھی شاعر اپنے شعروں میں کسی جرم کے اعلان پر اگرچہ وہ قابل حد ہو تو حد نہیں لگائی جائے گی اس لئے کہ وہ جو کہتے ہیں سو کرتے نہیں ہاں وہ قابل ملامت اور لائق سرزنش ضرور ہیں ۔ چنانچہ حدیث میں ہے کہ پیٹ کو لہو پیپ سے بھر لینا اشعار سے بھرلینے سے بد تر ہے ۔ مطلب یہ کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نہ تو شاعر ہیں ، نہ ساحر ، نہ کاہن ، نہ مفتری ہیں ۔ آپ کا ظاہر حال ہی آپ کے ان عیوب سے براءت کا بہت بڑا عادل گواہ ہے جیسے فرمان ہے کہ تو ہم نے انہیں شعر گوئی سکھائی ہے نہ اس کے لائق ہے یہ تو صرف نصیحت اور قرآن مبین ہے ۔ اور آیت میں ہے یہ رسول کریم کا قول ہے کسی شاعر کا نہیں تم میں ایمان کی کمی ہے یہ کسی کاہن کا قول نہیں ۔ تم میں نصیحت ماننے کا مادہ کم ہے یہ تو رب العلمین کی اتاری ہوئی کتاب ہے اس سورت میں بھی یہی فرمایا گیا کہ یہ رب العلمین کی طرف سے اتری ہے ۔ روح الامین نے تیرے دل پر نازل فرمائی ہے عربی زبان میں ہے اس لیے کہ تو لوگوں کو آگاہ کردے اسے شیاطین لے کر نہیں آئے نہ یہ ان کے لائق ہے نہ ان کی بس کی بات ہے وہ تو اس کے سننے سے بھی الگ کردئیے گئے ہیں ۔ جو جھوٹے مفتری اور بد کردا ہوتے ہیں ان کے پاس شیاطین آتے ہیں جواچٹتی باتیں سن سناکر ان کے کانوں میں آکر ڈال جاتے ہیں ۔ محض جھوٹ بولنے والے یہ خود ہوتے ہیں شاعروں کی پشت پناہی اوباشوں کا کام ہے وہ تو ہر وادی میں سرگرداں ہوتے ہیں زبانی باتیں بناتیں ہیں عمل سے کورے رہتے ہیں ۔ اس کے بعد جو فرمان ہے اسکا شان نزول یہ ہے کہ اس سے اگلی آیت جس میں شاعروں کی مذمت ہے جب اتری تو دربار رسول کے شعراء حضرت حسان بن ثابت ، حضرت عبداللہ بن رواحہ ، حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہم روتے ہوئے دربار نبی صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شاعروں کی تو یہ گت بنی اور ہم بھی شاعر ہیں اسی وقت آپ نے یہ دوسری آیت تلاوت فرمائی کہ ایمان لانے والے اور نیک عمل کرنے والے تم ہو ذکر اللہ بکثرت کرنے والے تم ہو مظلوم ہو کر بدلہ لینے والے تم ہو پس تم ان سے مسثنیٰ ہو ( ابن ابی حاتم وغیرہ ) ۔ ایک روایت میں حضرت کعب کا نام ہے ایک روایت میں صرف عبداللہ کی اس شکایت پر کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شاعر تو میں بھی ہوں اس دوسری آیت کانازل ہونا مروی ہے لیکنے یہ قابل نظر ۔ اس لئے کہ یہ سورت مکیہ ہے شعراء انصار جتنے بھی تھے وہ سب مدینے میں تھے پھر ان کے بارے میں اس آیت کانازل ہونا یقینا محل غور ہوگا اور جو حدیثیں بیان ہوئیں وہ مرسل ہیں اس وجہ سے اعتماد نہیں ہوسکتا ہے یہ آیت کانازل بیشک استثناء کے بارے میں ہے اور صرف یہی انصاری شعراء رضی اللہ عنہم ہی نہیں بلکہ اگر کسی شاعر نے اپنی جاہلیت کے زمانے میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بھی اشعار کہے ہوں اور پھر مسلمان ہوجائے توبہ کرلے اور اس کے مقابلے میں ذکر اللہ بکثرت کرے وہ بیشک اس برائی سے الگ ہے ۔ حسنات سیات کو دور کردیتی ہے جب کہ اس نے مسلمان کو اور دین حق کو برا کہا تھا وہ برا تھا لیکن جب اس نے ان کی مدح کی تو برائی بھلائی سے بدل گئی ۔ جیسے حضرت عبداللہ بن زبعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسلام سے پہلے حضور کی ہجو بیان کی تھی لیکن اسلام کے بعد بڑی مدح بیان کی اور اپنے اشعار میں اس ہجو کا عذر بھی بیان کرتے ہوئے کہا ۔ میں اس وقت شیطانی پنجہ میں پھنسا ہوا تھا اسی طرح ابو سفیان بن حارث بن عبدالمطلب باوجود آپ کا چچا زاد بھائی ہونے کے آپ کا جانی دشمن تھا اور بہت ہجو کیا کرتا تھا جب مسلمان ہوئے تو ایسے مسلمان ہوئے کہ دنیا بھر میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ محبوب انہیں کوئی نہ تھا ۔ اکثر آپ کی مدح کیا کرتے تھے اور بہت ہی عقیدت ومحبت رکھتے تھے ۔ صحیح مسلم میں ابن عباس سے مروی ہے کہ ابو سفیان صخر بن حرب جب مسلمان ہوا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنے لگا مجھے تین چیزیں عطا فرمائیے ایک تو یہ کہ میرے لڑکے معاویہ کو اپنا کاتب بنا لیجیے ۔ دوسرے مجھے کافروں سے جہاد کے لئے بھیجیے اور میرے ساتھ کوئی لشکر دیجیے تاکہ جس طرح کفر میں مسلمانوں سے لڑا کرتا تھا اب اسلام میں کافروں کی خبر لوں ۔ آپ نے دونوں باتیں قبول فرمائیں ایک تیسری درخواست بھی کی جو قبول کی گئی ۔ پس ایسے لوگ اس آیت کے حکم سے اس دوسری آیت سے الگ کرلئے گئے ۔ ذکر اللہ خواہ وہ اپنے شعروں میں بکثرت کریں خواہ اور طرح اپنے کلام میں یقینا وہ اگلے گناہوں کا بدلہ اور کفارہ ہے ۔ اپنی مظلومی کا بدلہ لیتے ہیں ۔ یعنی کافروں کی ہجو کا جواب دیتے ہیں ۔ خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حسان سے فرمایا تھا ان کفار کی ہجو کرو جبرائیل تمہارے ساتھ ہیں ۔ حضرت کعب بن مالک شاعر نے جب شعراء کی برائی قرآن میں سنی تو حضور سے عرض کیا آپ نے فرمایا تم ان میں نہیں ہو مومن تو جس طرح اپنی جان سے جہاد کرتا ہے اپنی زبان سے بھی جہاد کرتا ہے ۔ واللہ تم لوگوں کے اشعار تو انہیں مجاہدین کے تیروں کی طرح چھید ڈالتے ہیں ۔ پھر فرمایا ظالموں کو اپنا انجام ابھی معلوم ہوجائے گا ۔ انہیں عذر معذرت بھی کچھ کام نہ آئیگی ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ظالم سے بچو اس سے میدان قیامت میں اندھیروں میں رہ جاؤ گے ۔ آیت عام ہے خواہ شاعر ہوں خواہ شاعر نہ ہوں سب شامل ہیں ۔ حضرت حسن نے ایک نصرانی کے جنازے کو جاتے ہوئے دیکھ کر یہی آیت تلاوت فرمائی تھی ۔ آپ جب اس آیت کی تلاوت کرتے تو اس قدر روتے کہ ہچکی بندھ جاتی ۔ روم میں جب حضرت فضالہ بن عبید تشریف لے گئے اس وقت ایک صاحب نماز پڑھ رہے تھے جب انہوں نے اس آیت کی تلاوت کی تو آپ نے فرمایا اس سے مراد بیت اللہ کی بربادی کرنے والے ہیں کہا گیا کہ اس سے مراد اہل مکہ ہیں ، یہ بھی مروی ہے کہ مراد مشرک ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ آیت عام ہے سب پر مشتمل ہے ۔ ابن ابی حاتم میں ہے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا فرماتی ہیں میرے والد حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے انتقال کے وقت اپنی وصیت صرف دو سطروں میں لکھی ۔ جو یہ تھی بسم اللہ الرحمن الرحیم یہ ہے وصیت ابو بکر بن ابی قحافہ کی ۔ اس وقت کی جب کہ وہ دنیا چھوڑرہے تھے ۔ جس وقت کافر بھی مومن ہوجاتا ، فاجر بھی توبہ کرلیتا تب کاذب کو بھی سچا سمجھتا ہے میں تم پر اپنا خلیفہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بناجارہا ہوں ۔ اگر وہ عدل کرے تو بہت اچھا اور میرا گمان بھی ان کے ساتھ یہی ہے اور اگر وہ ظلم کرے اور کوئی تبدیلی کر دے تو میں غیب نہیں جانتا ۔ ظالموں کو بہت جلد معلوم ہوجائے گا کہ کس لوٹنے کی جگہ وہ لوٹتے ہیں ۔ سورۃ شعراء کی تفسیر بحمد اللہ ختم ہوئی ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

هَلْ اُنَبِّئُكُمْ عَلٰي مَنْ تَنَزَّلُ الشَّيٰطِيْنُ ۔۔ :” اَفَّاکٍ “ ”إِفْکٌ“ میں سے مبالغہ ہے، زبردست جھوٹا۔ ” اَثِیْمٍ “ ”إِثْمٌ“ میں سے مبالغہ ہے، سخت گناہ گار۔ پہلے فرمایا تھا کہ شیاطین نہ یہ قرآن لے کر اترے ہیں نہ ان کے لیے یہ ممکن ہے، اب یہ بیان ہے کہ شیاطین کا قرآن لے کر آنے کی طرح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اترنا بھی محال ہے، کیونکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صادق و امین ہیں اور خیر کی تمام خوبیوں سے آراستہ ہیں، شیاطین تو ایسے لوگوں پر اترتے ہیں جو نہایت جھوٹے اور سخت گناہ گار ہوں، کیونکہ انھوں نے انھی لوگوں پر اترنا ہوتا ہے جن کے دلوں میں ان کی بات قبول کرنے کی استعداد ہو اور جو جھوٹ، خیانت، خبث اور دوسری کمینگیوں میں ان کے ساتھ مناسبت رکھتے ہوں۔ مراد اس سے وہ کاہن، نجومی، جوتشی، چوریاں بتانے والے اور عامل قسم کے لوگ ہیں جو غیب دانی کا ڈھونگ رچاتے اور لوگوں کو ان کی قسمتیں بتاتے پھرتے ہیں۔ کچھ جنوں اور موکّلوں کی تسخیر کے دعوے سے اپنا کاروبار چلاتے پھرتے ہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٢٢١۔ ١٢٢) کیا میں تمہیں بتاؤں کہ کس پر شیاطین اترا کرتے ہیں سنو ایسے شخصوں پر اترا کرتے ہیں جو پہلے سے جھوٹے اور بڑے بدکردار ہوں جیسا کہ مسیلمہ کذاب وغیرہ۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٢١ (ہَلْ اُنَبِّءُکُمْ عَلٰی مَنْ تَنَزَّلُ الشَّیٰطِیْنُ ) ” اے وہ لوگو ! جو سمجھتے ہو کہ یہ قرآن جناتّ اور خبیث روحوں کا بنایا ہوا ہے ‘ آؤ ! میں تمہیں بتاؤں کہ یہ شیاطین جو ہیں وہ کن لوگوں پر اترا کرتے ہیں۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(26:221) انبئکم : انبی مضارع واحد متکلم کم ضمیر جمع مذکر حاضر میں تم کو بتاؤں ۔ میں تم کو خبر دوں ۔ یا ۔ خبردوں گا۔ من موصولہ ہے۔ تنزل مضارع واحد مؤنث غائب اصل میں تتنزل تھا۔ ایک تاء حذف ہوگئی تنزل تفعل مصدر وہ اترتی ہے۔ وہ اترے گی۔ یہاں یہ صیغہ الشیطین کے لئے استعمال ہوا ہے۔ علی من تنزل الشیطین۔ شیطان کس پر اترتے ہیں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : اہل مکہ کا رسالت مآب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر یہ الزام تھا کہ آپ پر شیطان نازل ہوتا ہے جو پہلے لوگوں کے قصے کہانیاں آپ پر پڑھتا ہے۔ اسی سورة ٢١٠ تا ٢١٢ میں کفار کے الزام کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر شیطان نہیں اترتے نہ ان میں ایسا کرنے کی طاقت ہے۔ اس کے بعد نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دعوت اور اس کا طریقہ کار بتلایا گیا ہے۔ اب کفار کے الزام کا دوسرے انداز میں جواب دیا گیا ہے۔ میرے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نزول شیطان کا الزام لگانے والو ! سنو میں تمہیں بتلاؤں کہ شیطان کن لوگوں پر نازل ہوتے ہیں ہر جھوٹے اور گناہ گار پر شیطان نازل ہوتے ہیں۔ وہی شیطان کی باتیں غور سے سنتے ہیں اور ان کی اکثریت جھوٹے لوگوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ ” ہَلْ اُنَبِّءُکُمْ “ ” کیا میں تمہیں بتاؤں ؟ “ کے الفاظ استعمال فرماکر ایک طرف کفار کے الزام کا جواب دیا اور دوسری طرف سرور دو عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سیرت طیبہ کی طرف کھلا اشارہ ہے کہ جس ذات پر تم شیاطین کے نزول کا الزام لگاتے ہو وہ تو اس قدر گفتار اور کردار کے لحاظ سے پاکیزہ ہے کہ اعلان نبوت سے پہلے بھی تم اسے الصادق اور الامین کہتے تھے سوچو اور غور کرو ! کیا ایسی ذات جھوٹ بولنا یا سننا اور اور اسے آگے پھیلانا پسند کرسکتی ہے۔ جبکہ شیاطین تو انسان کو جھوٹ فریب کے سوا کوئی چیز القاء نہیں کرتے شیاطین تو فاسق وفاجر شخص پر ڈیرے ڈالتے ہیں۔ اس بات کو یوں بھی بیان کیا گیا ہے۔ ” ہم نے ہر نبی کے لیے انسانوں اور شیطانوں کو دشمن بنادیا یہ ایک دوسرے کی طرف دھوکا دینے کے لیے بناوٹی باتیں دل میں ڈالتے ہیں اور اگر آپ کا رب چاہتا تو وہ ایسا نہ کرتے، پس انہیں ان کے جھوٹ کے حوالے کیجئے۔ “ (الانعام : ١١٢) (وَمَنْ یَعْشُ عَنْ ذِکْرِ الرَّحْمَنِ نُقَیِّضْ لَہُ شَیْطَانًا فَہُوَ لَہُ قَرِیْنٌ) [ الزخرف : ٣٦] ” جو اللہ کے ذکر سے غافل ہوجاتا ہے اس پر شیطان مسلط کردیا جاتا ہے اور وہ اس کا ساتھی بن جاتا ہے۔ “ (عَنْ حَفْصَۃَ قَالَتْ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مَنْ اَتٰی عَرَّافًا فَسَأَلَہٗ عَنْ شَیْءٍ لَمْ تُقْبَلْ لَہٗ صَلٰوۃُ اَرْبَعِےْنَ لَےْلَۃً ) [ رواہ مسلم : باب تَحْرِیمِ الْکِہَانَۃِ وَإِتْیَانِ الْکُہَّانِ ] ” حضرت حفصہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ‘ جو شخص گم شدہ یا چوری کا پتا بتانے والے کے پاس جائے اور اس سے کسی چیز کے بارے میں دریافت کرئے اس کی چالیس دن تک نماز قبول نہیں ہوتی۔ “ مسائل ١۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر کفار بےہودہ الزام لگایا کرتے تھے۔ ٢۔ جھوٹے اور فاسق شخص پر شیطان اترتا ہوتا ہے۔ ٣۔ شیطان لوگوں کے دل میں جھوٹی اور مکر و فریب کی باتیں القاء کرتا ہے۔ تفسیر بالقرآن شیطان کن لوگوں پر مسلّط ہوتا ہے : ١۔ سود کھانے والے کو شیطان بدحواس کردیتا ہے۔ ( البقرۃ : ٢٧٥) ٢۔ منافقین کو ان کے برے اعمال کے سبب شیطان نے پھسلا دیا۔ ( آل عمران : ١٥٥) ٣۔ جو لوگ اپنے فیصلے اللہ اور اس کے رسول کے علاوہ کسی دوسرے کے سامنے لے جاتے ہیں شیطان ان کو گمراہ کردیتا ہے۔ ( النساء : ٦٠) ٤۔ جو شخص اللہ کے ذکر سے غافل ہوجائے تو اس پر شیطان مسلّط ہوجاتا ہے۔ ( الزخرف : ٣٦) ٥۔ شیطان مشرکین پر مسلّط ہو کر ان کو سیدھے راستے کی طرف آنے سے روکتا ہے۔ ( النمل : ٢٤) ٦۔ شیطان کی دوستی اختیار کرنے والوں پر گمراہی مسلط کردی جاتی ہے۔ (الاعراف : ٣٠) ٧۔ شیطان ہر انسان پر حاوی ہونے کی کوشش کرتا ہے۔ ( بنی اسرائیل : ٥٣)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ھل انیئکم ……کذبون (٠٤١) عربوں میں کاہن ہوا کرت ی تھے ، ان کا دعویٰ یہ تھا کہ جن انہیں غیب کی خبریں دیتے ہیں اور لوگ ان کے ہاں جاتے تھے اور ان کی پیش گوئیاں سنتے تھے ان کاہنوں میں سے اکثر جھوٹے ہوتے تھے۔ ان کاہنوں کی تصدیق وہ لوگ کرتے تھے جو ہر قسم کے اوبام اور ہر قسم کے افسانوں پر یقین کرنے کے لئے تیار ہوتے تھے لیکن یہ کاہن بہرحال لوگوں کو کسی بھلائی کی طرف نہ بلاتے تھے اور نہ لوگوں کی قیادت راہ ایمان کی طرف کرتے تھے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا حال ان سے بہت مختف تھا۔ رسول اللہ کو قرآن کے ذریعہ ایک نہایت ہی ٹھوس نظام زندگی کی طرف بلاتے تھے۔ یہ کاہن قرآن کے بارے میں کبھی کہتے یہ شعر ہے اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں کہتے کہ آپ شاعر ہیں۔ لیکن وہ حیران تھے کہ یہ قرآن بہرحال ایک بےمثال کلام ہے ، لوگوں کے دلوں تک اثر جاتا ہے۔ لوگوں کے اندر ایک نیا شعور پیدا کرتا ہے اور اس کے اس قدر گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں کہ عوام اسے رد نہیں کرسکتے۔ چناچہ اس سورت میں اس نکتے کی وضاحت کردی گئی کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو نظام پیش کر رہے ہیں اور قرآن کریم جو نظام پیش کر رہا ہے ، یہ کوئی شاعرانہ کلام اور سوچ نہیں ہے۔ قرآن کریم ایک ہی نظریہ اور ایک ہی منہاج پر اول سے آخر تک چل رہا ہے۔ اس کے سامنے ایک ہی متعین مقصد اور نصب العین ہے۔ وہاپین نصب العین کی طرف سیدھا آگے بڑھ رہا ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا بھی وہیمنہاج ہے۔ یہ نہیں ہے کہ آپ ٓج ایک بات کریں اور کل اسکے برعکس بات کریں۔ آپ کبھی بھی بدتے ہوئے میلانات و رجحانات اور وقتی خواہشات کے پیچھے نہیں پھرتے۔ ایک ہی دعوت ہے جسے آپ لے کر آئے ہیں اور وہی دے رہے ہیں۔ ایک ہی عقیدہ ہے جو آپ پیش فرما رہے ہیں اور آپ ایک ایسے منہاج کے مطابق کام کر رہے ہیں جس میں کوئی ٹیڑھ نہیں ہے۔ جبکہ شعراء ایسے نہیں ہوتے۔ شعراء بدلتے ہوئے تاثرات اور وقتی جذبات کے اسیر ہوتے ہیں۔ ان پر ان کے شعور کی حکمرانی ہوتی ہے۔ جس طرح شعور ہوتا ہے اسی کا وہ انصار کردیتے ہیں ایک ہی وقت میں وہ ایک ہی حقیقت سیاہ دیکھتے ہیں تو اسے سیاہ کہہ دیتے ہیں اسی بات کو دو اگلے لمحے میں مفید دیکھتے ہیں تو اسے سفید کہہ دیتے ہیں۔ اگر کسی سے راضی ہوئے تو مدح کرتے ہیں اور اگر ناراض ہوئے تو مذمت کرتے ہیں۔ پھر ہر شاعر کا اپنا مزاج ہوتا ہے اور اس کی اپنی شاعری ہوتی ہے۔ پھر یہ شعراء اپنے لئے خود ایک جہاں پیدا کرتے ہیں اور اسی میں کم گشتہ ہوت یہیں۔ یہ بعض افعال اور بعض ذہنی نتائج تخلیق کرتے ہیں اور پھر ان کو حقائق مان کر خود ان سے متاثر ہوتے ہیں۔ اس لئے یہ عمل لوگ نہیں ہوتے کیونکہ یہ اپنی خیالی دنیا میں گم رہتے ہیں۔ لیکشن جو شخص ایک متعین دعوت لے کر اٹھتا ہے اس کا مزاج شاعرانہ نہیں ہوتا۔ متعین دعوت کا حامل تو اس دعوت کو عملاً دنیا میں قائم دیکھنا چاہتا ہے۔ کسی بھی داعی کا ایک متعین دف اور نصب العین وتا ہے۔ پھر ہر داعی نے اپنی دعوت کے قیام کے لئے ایک طریق کار متعین کردیا ہوتا ہے۔ وہ اس متعین راہ پر ایک متعین سمت کی طرف جاتا ہے۔ ادھر ادھر نہیں بھٹکتا ۔ اس کی نظریں تیز ہوتی ہیں۔ عقل زندہ ہوتی ہے وہ ادہام اور تحمیات کی دنیا میں نہیں رہتا۔ نہ وہ محض خیالی نقشہ پیش کر کرکے خوش ہوتا ہے وہ اپنے نقشے پر عملی دنیا تعمیر کرنا چاہتا ہے۔ لہٰذا رسولوں کے منہاج اور شعراء کے منہاج کے درمیان جوہری فرق اور دیئے ان دونوں کے اندر یقینا کوئی اشتراک نہیں ہے اور یہ بات کوئی زیداہ پچیدیہ بھی نہیں ہے کہ اسے نہ سجھا جاسکے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

76:۔ یہ پہلے جواب ہی سے متعلق ہے اور اس میں بتایا گیا ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر شیاطین کا نازل ہونا محال ہے۔ یعنی شیاطین تو کاہنوں کے پاس آتے ہیں جو بڑے ہی جھوٹے اور بد عمل ہوتے ہیں۔ وہ شیطانوں کی باتیں غور سے سنتے ہیں اور ان کی اکثر باتیں جھوٹی اور بےاصل ہوتی ہیں۔ لیکن اس کے برعکس محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سراپا صدق و صفا ہیں، انہوں نے آج تک ساری زندگی میں کبھی جھوٹ نہیں بولا، ان کا کردار بھی آئینے کی مانند پاک اور شفاف ہے اس لیے شیاطین کا آپ کے پاس آنا ناممکن اور محال ہے۔ وحیث کانت ساحۃ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) منزھۃ عن ان یحوم حولھا شائبۃ شیء من تلک الاوصاف اتضح استحالۃ تنزلھم علیہ (علیہ الصلوۃ والسلام) (ابو السعود ج 6 ص 564) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(221) اے پیغمبر ان منکرین سے جو قرآن کریم کو شیاطین کی خبریں بتاتے ہیں فرمائیے کیا میں تم کو بتائو کہ شیاطین کس پر اترا کرتے ہیں۔