Surat us Shooaraa

Surah: 26

Verse: 223

سورة الشعراء

یُّلۡقُوۡنَ السَّمۡعَ وَ اَکۡثَرُہُمۡ کٰذِبُوۡنَ ﴿۲۲۳﴾ؕ

They pass on what is heard, and most of them are liars.

۔ ( اچٹتی ) ہوئی سنی سنائی پہنچا ‌دیتے ہیں اور اُن میں سے اكثر جھوٹے ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

يُلْقُونَ السَّمْعَ ... Who gives ear, means, they try to overhear what is said in the heavens, and they try to hear something of the Unseen, then they add to it a hundred lies and tell it to their human comrades, who then tell it to others. Then the people believe everything they say because they were right about the one thing which was heard from the heavens. ... وَأَكْثَرُهُمْ كَاذِبُونَ and most of them are liars. This was stated in an authentic Hadith recorded by Al-Bukhari from A'ishah, may Allah be pleased with her, who said, "The people asked the Prophet about fortune-tellers, and he said: إِنَّهُمْ لَيْسُوا بِشَيْء They are nothing. They said: "O Messenger of Allah, they say things that come true." The Prophet said: تِلْكَ الْكَلِمَةُ مِنَ الْحَقِّ يَخْطَفُهَا الْجِنِّيُّ فَيُقَرْقِرُهَا فِي أُذُنِ وَلِيِّهِ كَقَرْقَرَةِ الدَّجَاجِ فَيَخْلِطُونَ مَعَهَا أَكْثَرَ مِنْ مِايَةِ كَذْبَة That is a word of truth which the Jinn snatches, then he gabbles it like the clucking of a chicken into the ear of his friend, but he mixes it with more than one hundred lies. Al-Bukhari also recorded that Abu Hurayrah said, "The Prophet said: إِذَا قَضَى اللهُ الاَْمْرَ فِي السَّمَاءِ ضَرَبَتِ الْمَلَيِكَةُ بِأَجْنِحَتِهَا خُضْعَانًا لِقَوْلِهِ كَأَنَّهَا سِلْسِلَةٌ عَلَى صَفْوَانٍ فَإِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوبِهِمْ قَالُوا مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ قَالُوا لِلَّذِي قَالَ الْحَقَّ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ فَيَسْمَعُهَا مُسْتَرِقُو السَّمْعِ وَمُسْتَرِقُو السَّمْعِ هَكَذَا بَعْضُهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ وَصَفَ سُفْيَانُ بِيَدِهِ فَحَرَّفَهَا وَبَدَّدَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ فَيَسْمَعُ الْكَلِمَةَ فَيُلْقِيهَا إِلَى مَنْ تَحْتَهُ ثُمَّ يُلْقِيهَا الاْخَرُ إِلَى مَنْ تَحْتَهُ حَتَّى يُلْقِيَهَا عَلَى لِسَانِ السَّاحِرِ أَوِ الْكَاهِنِ فَرُبَّمَا أَدْرَكَهُ الشِّهَابُ قَبْلَ أَنْ يُلْقِيَهَا وَرُبَّمَا أَلْقَاهَا قَبْلَ أَنْ يُدْرِكَهُ فَيَكْذِبُ مَعَهَا مِايَةَ كَذْبَةٍ فَيُقَالُ أَلَيْسَ قَدْ قَالَ لَنَا يَوْمَ كَذَا وَكَذَا كَذَا وَكَذَا فَيُصَدَّقُ بِتِلْكَ الْكَلِمَةِ الَّتِي سُمِعَتْ مِنَ السَّمَاء When Allah decrees a matter in heaven, the angels beat their wings in submission to His decree, a chain beating on a rock. And when the fear in their hearts subsides, they say: "What is it that your Lord has said" They say: "The truth. And He is the Most High, the Most Great." Then when the Jinn who are listening out, one above the other (-- and Sufyan illustrated this with a gesture, holding his hand vertically with his fingers outspread --) when they hear this, they throw it down from one to another, until it is passed to the fortune-teller or soothsayer. The shooting star may strike the Jinn before he passes it on, or he may pass it on before he is struck, and he adds to it one hundred lies, thus it is said: "Did he not tell us that on such and such a day, such and such would happen" So they believe him because of that one thing which was heard from the heavens. This was recorded by Al-Bukhari. Al-Bukhari recorded from A'ishah, may Allah be pleased with her, that the Prophet said: إِنَّ الْمَلَيِكَةَ تَحَدَّثُ فِي الْعَنَانِ وَالْعَنَانُ الْغَمَامُ بِالاَْمْرِ يَكُونُ فِي الاَْرْضِ فَتَسْمَعُ الشَّيَاطِينُ الْكَلِمَةَ فَتَقُرُّهَا فِي أُذُنِ الْكَاهِنِ كَمَا تُقَرُّ الْقَارُورَةُ فَيَزِيدُونَ مَعَهَا مِايَةَ كَذْبَة The angels speak in the clouds about some matter on earth, and the Shayatin overhear what they say, so they tell it to the fortune-teller, gurgling into his ear like (a liquid poured) from a glass bottle, and he adds to it one hundred lies. Refutation of the Claim that the Prophet was a Poet Allah tells: وَالشُّعَرَاء يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوُونَ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

2231یعنی ایک آدھ بات، جو کسی طرح وہ سننے میں کامیاب ہوجاتے ہیں، ان کاہنوں کو آکر بتلا دیتے ہیں، جن کے ساتھ وہ جھوٹی باتیں اور بھی ملا لیتے ہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٣٣] یعنی ان کاہن قسم کے لوگوں کے ذرائع معلومات انتہائی ناقص قسم کے ہوتے ہیں۔ اور اس آیت کے بھی دو مطلب ہیں ایک یہ کہ شیطان ملاء اعلیٰ کی طرف کاہن لگاتے ہیں اور کوئی ایک آدھ بات سن پائیں تو اس میں سو جھوٹ ملا کر کاہنوں کو بتلاتے ہیں اور دوسرا یہ کہ کاہن شیطانوں کی طرف کان لگائے رکھتے ہیں۔ پھر جب شیطان کسی کاہن کو کچھ القاء کرتا ہے تو یہ کاہن اس میں سو جھوٹ ملا کر لوگوں کو بتلاتے ہیں۔ گویا ان کے کاروبار کی بنیاد سراسر جھوٹ پر مبنی ہوتی ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

يُّلْقُوْنَ السَّمْعَ وَاَكْثَرُهُمْ كٰذِبُوْنَ : ” السَّمْعَ “ مصدر بمعنی اسم مفعول ہے، یعنی سنی ہوئی بات۔ اس کے دو معنی ہوسکتے ہیں، ایک یہ کہ شیاطین فرشتوں سے سنی ہوئی بات کاہنوں کے کانوں میں لا ڈالتے ہیں، جن میں وہ اپنی طرف سے سو (١٠٠) جھوٹی باتیں ملا دیتے ہیں۔ فرشتوں سے سنی ہوئی وہ بات سچی نکلتی ہے تو سو (١٠٠) جھوٹی باتوں کی طرف کوئی توجہ ہی نہیں کرتے۔ دوسرا یہ کہ وہ ” افاک و اثیم “ کاہن شیاطین سے سنی ہوئی بات لوگوں کو بتاتے ہیں جس میں وہ مزید جھوٹ ملا دیتے ہیں اور ان کے اکثر جھوٹ بول رہے ہوتے ہیں، سوائے اس ایک بات کے جو شیاطین نے چرا کر ان تک پہنچائی ہوتی ہے۔ ” يُّلْقُوْنَ السَّمْعَ “ میں ” السَّمْعَ “ مصدر مفعول لہ بھی ہوسکتا ہے، یعنی وہ شیاطین فرشتوں کی گفتگو سننے کے لیے کان لگاتے ہیں، یا وہ کاہن شیاطین کی باتیں سننے کے لیے کان لگاتے ہیں۔ یہ معنی بھی درست ہے۔ ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( إِذَا قَضَی اللّٰہُ الْأَمْرَ فِي السَّمَاءِ ، ضَرَبَتِ الْمَلَاءِکَۃُ بِأَجْنِحَتِھَا خُضْعَانًا لِقَوْلِہِ ، کَأَنَّہُ سِلْسِلَۃٌ عَلٰی صَفْوَانٍ ، فَإِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوْبِھِمْ قَالُوْا مَا ذَا قَالَ رَبُّکُمْ ؟ قَالُوْا لِلَّذِيْ قَالَ الْحَقَّ ، وَھُوَ الْعَلِيُّ الْکَبِیْرُ ، فَیَسْمَعُھَا مُسْتَرِقُ السَّمْعِ وَمُسْتَرِقُوا السَّمْعِ ھٰکَذَا بَعْضُہُ فَوْقَ بَعْضٍ ، وَصَفَہُ سُفْیَانُ بِکَفِّہِ فَحَرَفَھَا وَ بَدَّدَ بَیْنَ أَصَابِعِہِ ، فَیَسْمَعُ الْکَلِمَۃَ فَیُلْقِیْھَا إِلٰی مَنْ تَحْتَہُ ، ثُمَّ یُّلْقِیْھَا الْآخَرُ إِلٰی مَنْ تَحْتَہُ ، حَتّٰی یُلْقِیَھَا عَلٰی لِسَان السَّاحِرِ أَوِ الْکَاھِنِ ، فَرُبَّمَا أَدْرَکَ الشِّھَابُ قَبْلَ أَنْ یُلْقِیَھَا، وَرُبَّمَا أَلْقَاھَا قَبْلَ أَنْ یُّدْرِکَہُ ، فَیَکْذِبُ مَعَھَا ماءَۃَ کَذْبَۃٍ فَیُقَالُ أَلَیْسَ قَدْ قَالَ لَنَا یَوْمَ کَذَا وَ کَذَا، کَذَا وَ کَذَا ؟ فَیُصَدَّقُ بِتِلْکَ الْکَلِمَۃِ الَّتِيْ سُمِعَتْ مِنَ السَّمَاءِ ) [ بخاري، التفسیر، باب ( حتی إذا فزع عن قلوبہم۔۔ ) : ٤٨٠٠ ] ” جب اللہ تعالیٰ کسی کام کا فیصلہ آسمان پر کرتا ہے تو فرشتے عاجزی سے اپنے پر پھڑ پھڑاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا فرمان انھیں اس طرح سنائی دیتا ہے جیسے صاف چکنے پتھر پر زنجیر کی آواز ہوتی ہے، پھر جب وہ گھبراہٹ ان کے دلوں سے دور ہوجاتی ہے تو وہ آپس میں دریافت کرتے ہیں کہ تمہارے رب نے کیا فرمایا ہے ؟ وہ کہتے ہیں کہ اس نے حق فرمایا ہے اور وہ بہت بلندی والا، بہت بڑائی والا ہے، تو (کبھی کبھی) چوری سننے والا اسے سن لیتا ہے اور چوری سننے والے اس طرح ایک دوسرے کے اوپر ہوتے ہیں۔ “ اور (حدیث کے راوی) سفیان نے چوری سننے والوں کی کیفیت بیان کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کو الگ الگ کرکے ایک دوسرے کے اوپر رکھ کر دکھایا۔ ” تو وہ (شیطان جنّ ) بات سن لیتا ہے اور اپنے سے نیچے والے کو پہنچا دیتا ہے، پھر وہ دوسرا اسے اپنے سے نیچے والے کو پہنچا دیتا ہے، یہاں تک کہ وہ اسے جادوگر کاہن کی زبان پر ڈال دیتا ہے، پھر بعض اوقات شعلہ اسے نیچے پہنچانے سے پہلے آ پکڑتا ہے اور بعض اوقات وہ شعلہ پہنچنے سے پہلے دوسرے کو وہ بات پہنچا دیتا ہے تو وہ اس کے ساتھ سو جھوٹ ملا دیتا ہے۔ تو کہا جاتا ہے، کیا اس نے ہمیں فلاں فلاں دن ایسے ایسے نہیں کہا تھا ؟ تو اس بات کی وجہ سے جو آسمان سے سنی تھی اس کو سچا سمجھ لیا جاتا ہے۔ “ عائشہ زوج النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیان کرتی ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا، آپ فرما رہے تھے : ( إِنَّ الْمَلَاءِکَۃَ تَنْزِلُ فِي الْعَنَانِ ، وَھُوَ السَّحَابُ ، فَتَذْکُرُ الْأَمْرَ قُضِيَ فِي السَّمَاءِ ، فَتَسْتَرِقُ الشَّیَاطِیْنُ السَّمْعَ فَتَسْمَعُہُ ، فَتُوْحِیْہِ إِلَی الْکُھَّانِ ، فَیَکْذِبُوْنَ مَعَھَا ماءَۃَ کَذْبَۃٍ مِنْ عِنْدِ أَنْفُسِھِمْ ) [ بخاري، بدء الخلق، باب ذکر الملائکۃ۔۔ : ٣٢١٠ ] ” فرشتے بادل میں اترتے ہیں اور اس کام کا ذکر کرتے ہیں جس کا آسمان میں فیصلہ کیا گیا ہوتا ہے۔ تو شیطان چوری سے اس کی طرف کان لگاتے ہیں اور اسے سن لیتے ہیں اور کاہنوں کے دلوں میں پہنچا دیتے ہیں اور اس کے ساتھ اپنی طرف سے سو (١٠٠) جھوٹ ملا دیتے ہیں۔ “ صفیہ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیویوں میں سے ایک بیوی سے بیان کیا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( مَنْ أَتٰی عَرَّافًا فَسَأَلَہُ عَنْ شَيْءٍ لَمْ تُقْبَلْ لَہُ صَلاَۃُ أَرْبَعِیْنَ لَیْلَۃً ) [ مسلم، السلام، باب تحریم الکہانۃ۔۔ : ٢٢٣٠ ] ” جو شخص کسی عراف (چوریاں یا گم شدہ چیزیں بتانے والے) کے پاس گیا اور اس سے کسی چیز کے بارے میں پوچھا تو اس کی چالیس راتوں کی نماز قبول نہیں ہوگی۔ “ ابوہریرہ اور حسن (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( مَنْ أَتٰی کَاھِنًا أَوْ عَرَّافًا فَصَدَّقَہُ بِمَا یَقُوْلُ فََقَدْ کَفَرَ بِمَا أُنْزِلَ عَلٰی مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ) [ مسند أحمد : ٢؍٤٢٩، ح : ٩٥٤٨ ] ” جو شخص کسی کاہن یا عراف کے پاس جائے اور اسے اس بات میں سچا سمجھے جو وہ کہے تو اس نے اس کے ساتھ کفر کیا جو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل ہوا۔ “ عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ کچھ لوگوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کاہنوں (غیب کی باتیں بتانے والوں) کے متعلق پوچھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( لَیْسُوْا بِشَيْءٍ ، قَالُوْا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ! فَإِنَّھُمْ یُحَدِّثُوْنَ أَحْیَانًا بالشَّيْءِ یَکُوْنُ حَقًّا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ تِلْکَ الْکَلِمَۃُ مِنَ الْحَقِّ یَخْطَفُھَا الْجِنِّيُّ فَیَقُرُّھَا فِيْ أُذُنِ وَلِیِّہِ قَرَّ الدَّجَاجَۃِ فَیَخْلِطُوْنَ فِیْھَا أَکْثَرَ مِنْ ماءَۃِ کَذْبَۃٍ ) [ بخاري، الأدب، باب قول الرجل للشيء ۔۔ : ٦٢١٣ ] ” وہ کچھ بھی نہیں۔ “ لوگوں نے کہا : ” یا رسول اللہ ! بعض اوقات وہ ہمیں کوئی بات بتاتے ہیں جو سچی نکلتی ہے۔ “ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” وہ بات حق ہوتی ہے جسے جنّی (جن) اچک لیتا ہے اور اپنے دوست کے کان میں مرغی کے کڑکڑ کرنے کی طرح ڈال دیتا ہے، پھر وہ اس کے ساتھ سو (١٠٠) جھوٹ ملا لیتے ہیں۔ “

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

يُّلْقُوْنَ السَّمْعَ وَاَكْثَرُہُمْ كٰذِبُوْنَ۝ ٢٢٣ۭ لقی( افعال) والإِلْقَاءُ : طرح الشیء حيث تلقاه، أي : تراه، ثم صار في التّعارف اسما لكلّ طرح . قال : فَكَذلِكَ أَلْقَى السَّامِرِيُ [ طه/ 87] ، قالُوا يا مُوسی إِمَّا أَنْ تُلْقِيَ وَإِمَّا أَنْ نَكُونَ نَحْنُ الْمُلْقِينَ [ الأعراف/ 115] ، ( ل ق ی ) لقیہ ( س) الالقآء ( افعال) کے معنی کسی چیز کو اس طرح ڈال دیناکے ہیں کہ وہ دوسرے کو سمانے نظر آئے پھر عرف میں مطلق کس چیز کو پھینک دینے پر القاء کا لفظ بولا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : فَكَذلِكَ أَلْقَى السَّامِرِيُ [ طه/ 87] اور اسی طرح سامری نے ڈال دیا ۔ قالُوا يا مُوسی إِمَّا أَنْ تُلْقِيَ وَإِمَّا أَنْ نَكُونَ نَحْنُ الْمُلْقِينَ [ الأعراف/ 115] تو جادو گروں نے کہا کہ موسیٰ یا تو تم جادو کی چیز ڈالو یا ہم ڈالتے ہیں ۔ موسیٰ نے کہا تم ہی ڈالو۔ سمع السَّمْعُ : قوّة في الأذن به يدرک الأصوات، وفعله يقال له السَّمْعُ أيضا، وقد سمع سمعا . ويعبّر تارة بالسمّع عن الأذن نحو : خَتَمَ اللَّهُ عَلى قُلُوبِهِمْ وَعَلى سَمْعِهِمْ [ البقرة/ 7] ، وتارة عن فعله كَالسَّمَاعِ نحو : إِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُولُونَ [ الشعراء/ 212] ، وقال تعالی: أَوْ أَلْقَى السَّمْعَ وَهُوَ شَهِيدٌ [ ق/ 37] ، وتارة عن الفهم، وتارة عن الطاعة، تقول : اسْمَعْ ما أقول لك، ولم تسمع ما قلت، وتعني لم تفهم، قال تعالی: وَإِذا تُتْلى عَلَيْهِمْ آياتُنا قالُوا قَدْ سَمِعْنا لَوْ نَشاءُ لَقُلْنا[ الأنفال/ 31] ، ( س م ع ) السمع ۔ قوت سامعہ ۔ کا ن میں ایک حاسہ کا نام ہے جس کے ذریعہ آوازوں کا اور اک ہوتا ہے اداس کے معنی سننا ( مصدر ) بھی آتے ہیں اور کبھی اس سے خود کان مراد لیا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ خَتَمَ اللَّهُ عَلى قُلُوبِهِمْ وَعَلى سَمْعِهِمْ [ البقرة/ 7] خدا نے ان کے دلوں اور کانوں پر مہر لگا رکھی ہے ۔ اور کبھی لفظ سماع کی طرح اس سے مصدر ی معنی مراد ہوتے ہیں ( یعنی سننا ) چناچہ قرآن میں ہے : ۔ إِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُولُونَ [ الشعراء/ 212] وہ ( آسمائی باتوں کے ) سننے ( کے مقامات ) سے الگ کردیئے گئے ہیں ۔ أَوْ أَلْقَى السَّمْعَ وَهُوَ شَهِيدٌ [ ق/ 37] یا دل سے متوجہ ہو کر سنتا ہے ۔ اور کبھی سمع کے معنی فہم و تدبر اور کبھی طاعت بھی آجاتے ہیں مثلا تم کہو ۔ اسمع ما اقول لک میری بات کو سمجھنے کی کوشش کرو لم تسمع ماقلت لک تم نے میری بات سمجھی نہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَإِذا تُتْلى عَلَيْهِمْ آياتُنا قالُوا قَدْ سَمِعْنا لَوْ نَشاءُ لَقُلْنا[ الأنفال/ 31] اور جب ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو کہتے ہیں ( یہ کلام ) ہم نے سن لیا ہے اگر چاہیں تو اسی طرح کا ( کلام ) ہم بھی کہدیں ۔ كذب وأنه يقال في المقال والفعال، قال تعالی: إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] ، ( ک ذ ب ) الکذب قول اور فعل دونوں کے متعلق اس کا استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے ۔ إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] جھوٹ اور افتراء تو وہی لوگ کیا کرتے ہیں جو خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٢٢٣) اور جو شیاطین کی فرشتوں سے اڑائی ہوئی باتوں کی طرف ان شیاطین کی طرف کان لگا لیتے ہیں اور وہ شیاطین ایک بات اچکتے ہیں اور سو جھوٹ اس میں اپنی طرف سے ملا کر پھر کاہنوں کو اس سے مطلع کرتے ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

141 This may have two meanings: (1) The satans somehow get a little hint of the truth and inspire their agents with it, mixing it with all kinds of falsehood; and (2) the deceitful, unscrupulous sorcerers hear something from the satans and then mixing it with falsehood, whisper it into the people's ears. This has been explained in a Tradition which Bukhari has quoted on the authority of Hadrat 'A'ishah. She says that when some people asked the Holy Prophet about sorcerers, he replied that they were nothing. They said, "O Messenger of Allah, they, sometimes, tell the right thing" The Holy Prophet answered, "That right thing is overheard by the jinns who whisper it into their friend's ear, who concocts a story by mixing a lot of falsehood in it."

سورة الشُّعَرَآء حاشیہ نمبر :141 اس کے دو مطلب ہو سکتے ہیں ۔ ایک یہ کہ شیاطین کچھ سن گن لے کر اپنے اولیاء پر القاء کرتے ہیں اور اس میں تھوڑی سی حقیقت کے ساتھ بہت سا جھوٹ ملا دیتے ہیں ۔ دوسرے یہ کہ جھوٹے لپاٹیے کاہن شیاطین سے کچھ باتیں سن لیتے ہیں اور پھر اپنی طرف سے بہت سا جھوٹ ملا کر لوگوں کے کانوں میں پھونکتے پھرتے ہیں ۔ اس کی تشریح ایک حدیث میں بھی آئی ہے جو بخاری نے حضرت عائشہ سے روایت کی ہے ۔ وہ فرماتی ہیں کہ بعض لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کاہنوں کے بارے میں سوال کیا ۔ آپ نے فرمایا وہ کچھ نہیں ہیں ۔ انہوں نے عرض کیا ، یا رسول اللہ بعض اوقات تو وہ ٹھیک بات بتا دیتے ہیں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ ٹھیک بات جو ہوتی ہے اسے کبھی کبھار جن لے اڑتے ہیں اور جاکر اپنے دوست کے کان میں پھونک دیتے ہیں ، پھر وہ اس کے ساتھ جھوٹ کی بہت سی آمیزش کر کے ایک داستان بنا لیتا ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

51: یعنی شیاطین کی باتوں پر بھروسہ کرنے والے کوئی نیک لوگ نہیں، گنہگار لوگ ہوتے ہیں اور ان شیاطین کا یہ دعوی بھی بالکل لغو ہے کہ انہیں غیب کی خبریں معلوم ہیں، ہوتا یہ ہے کہ کبھی فرشتوں کی کوئی بات ان کے کانوں میں پڑجاتی ہے تو وہ اس میں بہت سے جھوٹ شامل کرکے اپنے معتقدین کو آکر بتادیتے ہیں۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

11 ۔ یعنی ان بدکاروں میں یا شیطانوں میں۔ 12 ۔ یعنی امور غیبیہ سے متعلق جو ایک آدھ ناتمام بات سن پاتے ہیں اس میں اپنی طرف سے سو جھوٹ ملا کر بیان کرتے ہیں۔ (شیطان ان بدکاروں سے اور یہ بدکار لوگوں سے) ۔ حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ کچھ لوگوں نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کاہنوں کے بارے میں سوال کیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :” وہ کچھ نہیں ہیں “۔ انہوں نے عرض کیا ” اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! بعض اوقات تو ٹھیک بات بتا دیتے ہیں۔ فرمایا :” اس ٹھیک بات کو کبھی کوئی جن لے اڑتا ہے اور جا کر اپنے دوست کے کان میں پھونک دیتا ہے پھر وہ اس میں سو جھوٹ کی آمیزش کردیتے ہیں۔ (شوکانی بحوالہ بخاری و مسلم)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(223) جو شیاطین کی باتوں پر پوری طرح کان لگا دیتے ہیں اور ان میں سے اکثر بہت ہی جھوٹ بولا کرتے ہیں۔ یعنی شیاطین کے اترتے کی یہ حقیقت ہے کہ کچھ لوگ شیطان سے دوستی کرلیتے ہیں۔ شیطانی آسمانوں کی طرف جانتے ہیں وہاں ان کو انگارے مارے جاتے ہیں وہاں سے بھاگتے ہیں بھاگتے میں فرشتوں کی کوئی جزئی بات کان میں پڑگئی تو اس میں کچھ اور جھوٹی باتیں ملا کر اس دوست کو سنادیں دوست نے بہت کان لگا کر یہ باتیں سنیں پھر دوسرے انسانوں کو گمراہ کرنے کی غرض سے سنائیں سناتے وقت اس جھوٹ میں کچھ اور جھوٹ ملا دیا اس سے زیادہ ان شیطانی خبروں کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ایک لوگ تھے کاہن کہلاتے کسی شیطان سے دوستی کر رکھتے نذرو نیاز دیکر وہ سب شیطانوں میں مل کرجاتا فرشتوں کی باتیں سننے کو وہاں انگارے مارتے ہیں جو تارے چھوٹتے نظر آتے ہیں جو ایک دو بات کان میں پڑگئی آکر اپنے دوست پر لاڈالی اس نے لوگوں کو بتادی لوگ اس کے قائل ہوئے جو سچا کاہن ہے سو یہ اور بہت لوگ مکر بناتے ہیں یعنی چیز انسان سے چھپی ہے شیطان پر معلوم ہے جیسے سو پچاس کوس کے احوال یا کسی کی جیب میں کیا ہے یا اس کے دل میں خیال کیا ہے اور اگلی چبر شیطان کو بھی معلوم نہیں مگر ایک دو بات جو فرشتوں سے سنی اور دس بیس ملا لیں اٹکل جھوٹ پڑے یا سچ سو شیطان نیک بختوں سے بےزار ہے کہ یہ اس کو برا جانتے ہیں جھوٹے دغا بازوں سے خوش ہے جو اس کی مرضی کے موافق ہیں 12