Surat us Shooaraa

Surah: 26

Verse: 3

سورة الشعراء

لَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَّفۡسَکَ اَلَّا یَکُوۡنُوۡا مُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۳﴾

Perhaps, [O Muhammad], you would kill yourself with grief that they will not be believers.

ان کے ایمان نہ لانے پر شاید آپ تو اپنی جان کھو دیں گے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ ... It may be that you are going Bakhi` yourself, means, destroy yourself -- because of your keenness that they should be guided and your grief for them. ... أَلاَّ يَكُونُوا مُوْمِنِينَ that they do not become believers. Here Allah is consoling His Messenger for the lack of faith of those among the disbelievers who do not believe in him. This is like the Ayat: فَلَ تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَيْهِمْ حَسَرَتٍ So destroy not yourself in sorrow for them. (35:8) فَلَعَلَّكَ بَـخِعٌ نَّفْسَكَ عَلَى ءَاثَـرِهِمْ إِن لَّمْ يُوْمِنُواْ بِهَـذَا الْحَدِيثِ أَسَفاً Perhaps, you would Bakhi` yourself, over their footsteps, because they believe not in this narration. (18:6) Mujahid, Ikrimah, Qatadah, Atiyyah, Ad-Dahhak, Al-Hasan and others said that: لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ (It may be that you are going Bakhi` yourself), means, `kill yourself.' Then Allah says: إِن نَّشَأْ نُنَزِّلْ عَلَيْهِم مِّن السَّمَاء ايَةً فَظَلَّتْ أَعْنَاقُهُمْ لَهَا خَاضِعِينَ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

31نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو انسانیت سے جو ہمدردی اور ان کی ہدایت کے لئے جو تڑپ تھی، اس میں اس کا اظہار ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢] آپ کی یہ انتہائی آرزو تھی کہ کفار مکہ ایمان لے آئیں اور جب وہ ایمان لانے کے بجائے معاندانہ روش اختیار کرتے تو آپ کو اتنا ہی شدید صدمہ ہوتا تھا۔ اس کی وجوہ کئی تھیں۔ ایک یہ کہ آپ خلق خدا کے لئے نہایت ہمدردانہ اور مشفقانہ جذبات رکھتے تھے۔ آپ جانتے تھے کہ یہ لوگ میری مخالفت کرکے جہنم کا ایندھن بننے والے ہیں۔ لہذا آپ کو ان کی اس مخالفت سے شدید دکھ ہوتا تھا۔ تیسری وجہ فطری تھی۔ انسان جس کام میں اپنی تمام تر کوششیں صرف کر رہا ہو اگر اس کا کوئی مثبت نتیجہ نظر نہ آرہا ہو تو وہ مایوس ہوجاتا ہے اور اسے سخت صدمہ پہنچتا ہے۔ تیسری وجہ یہ تھی جس میں دوسرے مسلمان بھی شامل تھے۔ کہ اگر یہ لوگ اسلام قبول کرلیتے تو اسلام کو خاصی تقویت پہنچ سکتی تھی۔ بصورت دیگر مسلمانوں کی ایذاؤں اور مشکلات میں مزید اضافہ ہورہا تھا۔ ان وجوہ کی بنا پر آپ کفار کے انکار پر شدید افسردہ اور غمگین رہتے تھے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو تسلی دیتے فرمایا کہ آپ ان لوگوں کے ایمان نہ لانے پر اپنے آپ کو ہلکان نہ کریں۔ انھیں راہ راست پر لانا آپ کے ذمہ نہیں اور جو کام آپ کے ذمہ ہے وہ آپ کر ہی رہے ہیں۔ آپ انھیں ان کے حال پر چھوڑیئے اس سے نپٹنا میرا کام ہے۔ آپ بس اپنا کام کرتے جائیے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ ۔۔ : اس سے مقصود نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دینا ہے کہ ان بدبختوں کے ایمان نہ لانے پر آپ اس قدر رنجیدہ نہ ہوں، قرآن سے بڑا معجزہ کوئی نہیں، وہ آپ نے انھیں دکھلا دیا، اب بھی ایمان نہیں لاتے تو ان پر اتنا غم کرنے کی ضرورت نہیں۔ دیکھیے سورة کہف کی آیت (٦) اور سورة فاطر کی آیت (٨) کی تفسیر ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ Seemingly you are going to let yourself collapse in grief - 26:3). The word بَاخِعٌ (bakhi|" )is derived from بَخعٌ (bakh& ) which means to reach up to Bikha`, an artery of the neck, while slaughtering. In this verse baki` is used in the sense of putting oneself into trouble and toil. |"Allamah ` Askari has said, ` Although at such places the sentence appears to be informative but in fact it means to prohibit or prevent&. What it conveys is that, ` O Messenger, do not be so despondent because of your people&s disbelief and rejection of Islam that you cause yourself to collapse&. One learns from this verse that even if it is apparent that a disbeliever would not convert to Islam, still it is not right to stop preaching to him. The second thing one learns is that the efforts one makes for a certain objective must be balanced and moderate, and if someone is adamant not to be guided to the right path, one should not be over-grieved.

معارف و مسائل لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ الآیتہ، باخع بخع سے مشتق ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ ذبح کرتے کرتے بخاع تک پہنچ جائے جو گردن کی ایک رگ ہے۔ اور اس جگہ باخع سے مردا اپنے آپ کو تکلیف اور مشقت میں ڈالنا ہے۔ علامہ عسکری نے فرمایا کہ اس جیسے مقامات میں اگرچہ صورت جملہ خبریہ کی ہے مگر حقیقۃً اس سے مراد نہی اور ممانعت کرنا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اے پیغمبر، اپنی قوم کے کفر اور اسلام سے انحراف کے سبب اتنا رنج نہ کیجئے کہ جان گھلنے لگے۔ اس آیت سے ایک تو یہ معلوم ہوا کہ کسی کافر کے بارے میں اگر یہ معلوم بھی ہوجائے کہ اس کی تقدیر میں ایمان لانا نہیں ہے تب بھی اس کو تبلیغ کرنے سے رکنا نہیں چاہئے، دوسرے یہ معلوم ہوا کہ مشقت میں اعتدال چاہئے اور جو شخص ہدایت نہ پائے۔ اس پر زیادہ حزن وغم نہ کیا جائے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ اَلَّا يَكُوْنُوْا مُؤْمِنِيْنَ۝ ٣ لعل لَعَلَّ : طمع وإشفاق، وذکر بعض المفسّرين أنّ «لَعَلَّ» من اللہ واجب، وفسّر في كثير من المواضع ب «كي» ، وقالوا : إنّ الطّمع والإشفاق لا يصحّ علی اللہ تعالی، و «لعلّ» وإن کان طمعا فإن ذلك يقتضي في کلامهم تارة طمع المخاطب، وتارة طمع غيرهما . فقوله تعالیٰ فيما ذکر عن قوم فرعون : لَعَلَّنا نَتَّبِعُ السَّحَرَةَ [ الشعراء/ 40] ( لعل ) لعل ( حرف ) یہ طمع اور اشفاق ( دڑتے ہوئے چاہنے ) کے معنی ظاہر کرنے کے لئے آتا ہے ۔ بعض مفسرین کا قول ہے کہ جب یہ لفظ اللہ تعالیٰ اپنے لئے استعمال کرے تو اس کے معنی میں قطیعت آجاتی ہے اس بنا پر بہت سی آیات میں لفظ کی سے اس کی تفسیر کی گئی ہے کیونکہ ذات باری تعالیٰ کے حق میں توقع اور اندیشے کے معنی صحیح نہیں ہیں ۔ اور گو لعل کے معنی توقع اور امید کے ہوتے ہیں مگر کبھی اس کا تعلق مخاطب سے ہوتا ہے اور کبھی متکلم سے اور کبھی ان دونوں کے علاوہ کسی تیسرے شخص سے ہوتا ہے ۔ لہذا آیت کریمہ : لَعَلَّنا نَتَّبِعُ السَّحَرَةَ [ الشعراء/ 40] تاکہ ہم ان جادو گروں کے پیرو ہوجائیں ۔ میں توقع کا تعلق قوم فرعون سے ہے ۔ بخع البَخْعُ : قتل النفس غمّا، قال تعالی: فَلَعَلَّكَ باخِعٌ نَفْسَكَ [ الكهف/ 6] حثّ علی ترک التأسف، نحو : فَلا تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَيْهِمْ حَسَراتٍ [ فاطر/ 8] . قال الشاعر ألا أيهذا الباخع الوجد نفسه وبَخَعَ فلان بالطاعة وبما عليه من الحق : إذا أقرّ به وأذعن مع کراهة شدیدة تجري مجری بَخَعَ نفسه في شدته . ( ب خ ع ) البخع ( ف) کے معنی غم سے اپنے تیئں ہلاک ڈالنا کے ہیں ؟ اور آیت کریمہ : فَلَعَلَّكَ باخِعٌ نَفْسَكَ [ الكهف/ 6] شاید تم عم وغصہ سے خود کو ہلاک کر ڈالو میں رنج وغم کے ترک کی ترغیب دی گئی ہے جیسا کہ آیت : فَلا تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَيْهِمْ حَسَراتٍ [ فاطر/ 8] میں ہے کہ ان پر حسرتوں کے باعث تہماری جان نہ نکل جائے ۔ شاعر نے کہا ہے ( طویل ) ( 40 ) الا ایھا الباخع الواجد نفسہ اے غم کی وجہ سے خود کو ہلاک کرنے والے بخع فلان بالطاعۃ فلان نے طاعت میں مبالغہ کیا ۔ بخع فلان بما علیہ من الحق فلاں نے سخت بیزاری کے ساتھ اپنے اوپر دوسرے کے حق کا اقرار کیا گویا یہاں سخت کرامت اور بیزاری کو خود کو ہلاک کرنے کے قائم مقام کردیا کیا ہے ۔ نفس الَّنْفُس : ذاته وقوله : وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ [ آل عمران/ 30] فَنَفْسُهُ : ذَاتُهُ ، ( ن ف س ) النفس کے معنی ذات ، وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ [ آل عمران/ 30] اور خدا تم کو اپنے ( غضب سے ڈراتا ہے ۔ میں نفس بمعنی ذات ہے أیمان يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی: وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُولئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ [ الحدید/ 19] . ( ا م ن ) الایمان کے ایک معنی شریعت محمدی کے آتے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ :۔ { وَالَّذِينَ هَادُوا وَالنَّصَارَى وَالصَّابِئِينَ } ( سورة البقرة 62) اور جو لوگ مسلمان ہیں یا یہودی یا عیسائی یا ستارہ پرست۔ اور ایمان کے ساتھ ہر وہ شخص متصف ہوسکتا ہے جو تو حید کا اقرار کر کے شریعت محمدی میں داخل ہوجائے اور بعض نے آیت { وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ } ( سورة يوسف 106) ۔ اور ان میں سے اکثر خدا پر ایمان نہیں رکھتے مگر ( اس کے ساتھ ) شرک کرتے ہیں (12 ۔ 102) کو بھی اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٣) اور اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شاید آپ قریش کے ایمان نہ لانے پر غم کرتے کرتے اپنی جان دے دیں گے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

2 The words bakhi'un-nafsaka literally mean: "You would kill yourself." The verse in fact describes the extreme anguish, anxiety and grief of the Holy Prophet over the Makkan disbelievers' ways of deviation, moral degradation, and obduracy and opposition to his message of reform. Sometimes it seemed as if his grief and mental suffering for their sake would cause his death. This state of the Holy Prophet has been referred to at other places in the Qur'an as well, for instance in AI-Kahf: 6, thus: "Well, O Muhammad, it may be that you will consume your life for their sake out of sorrow if they do not believe in this message. And in Al-Fatir: 8, thus:" ....Iet not your life be consumed in grief for their sake."

سورة الشُّعَرَآء حاشیہ نمبر :2 نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حالت کا ذکر قرآن مجید میں مختلف مقامات پر کیا گیا ہے ۔ مثلاً سورہ کہف میں فرمایا : فَلَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَّفْسَکَ عَلیٰٓ اٰثَارِھِمْ اِنْ لَّم یُؤْمِنُوْا بِھٰذَا الْحَدِیْثِ اَسَفاًO شاید تم ان کے پیچھے غم کے مارے اپنی جان کھو دینے والے ہو اگر یہ اس تعلیم پر ایمان نہ لائے ۔ ( آیت 6 ) ۔ اور سورہ فاطر میں ارشاد ہوا فَلَا تَذْھَبْ نَفْسُکَ عَلَیْھِمْ حَسَرَاتٍO ان لوگوں کی حالت پر رنج و افسوس میں تمہاری جان نہ گھلے ( آیت 8 ) ۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس دور میں اپنی قوم کی گمراہی و ضلالت ، اس کی اخلاقی پستی ، اس کی ہٹ دھرمی ، اور اصلاح کی ہر کوشش کے مقابلے میں اس کی مزاحمت کا رنگ دیکھ دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم برسوں اپنے شب و روز کس دل گداز و جاں گُسِل کیفیت میں گزارتے رہے ہیں ۔ بَخع کے اصل معنی پوری طرح ذبح کر ڈالنے کے ہیں ۔ بَاخِعٌ نَّفْسَکَ کے لغوی معنی یہ ہوئے کہ تم اپنے آپ کو قتل کیے دے رہے ہو ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(26:3) لعلک۔ لعل حرف مشبہ بفعل ۔ ک اس کا اسم ۔ شاید تو۔ شاید کر تو۔ ہوسکتا ہے۔ کہ تو۔ باخع : بخع یبخع (فتح) بخع سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر۔ اپنے آپ کو ہلاک کردینے والا۔ غم یا غصہ سے اپنے آپ کو ہلاک کردینے والا۔ شاعر نے کہا ہے :۔ الا انھا الباخع الوجد نفسہ۔ اے غم کی وجہ سے خود کو ہلاک کرنے والے۔ اور جگہ قرآن میں آیا ہے : فلعلک باخع نفسک علی اثارھم ان لم یؤمنوا بھذا الحدیث اسفا (18:6) اگر وہ اس قرآن حکیم پر ایمان نہ لائے تو شاید آپ اس غم میں ان کے پیچھے اپنی جان دیدیں گے۔ جو گدی ریڑھ کی ہڈی میں سے گزرتی ہوئی گردن تک پہنچتی ہے اسے بخاع کہتے ہیں جب ذبح کرتے وقت چھری یہاں تک پہنچ جائے تو ذبح مکمل ہوجاتی ہے اسی سے باخع ماخوذ ہے یعنی ایسا ذبح کرنے والا جس نے چھری بخاع تک پہنچا دی ہو۔ الا یکونوا مومنین : لا یکونوا مضارع منفی مجزوم مؤمنین اسم فاعل جمع مذکر منصوب یکونوا کی خبر۔ یہ ہلاکت کی وجہ ہے الا اصل میں ان لا ہے۔ ای خیفۃ ان لا یؤمنوا بذلک الکتب المبین یہ اندیشہ کرتے ہوئے کہ وہ اس واضح کتاب پر ایمان نہ لائیں گے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

7 ۔ اس سے مقصود نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دینا ہے کہ ان بدبختوں کے ایمان نہ لانے پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس قدر رنجیدہ نہ ہوں۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط سورة : سورة الفرقان کا اختتام اس بات پر ہوا کہ اے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انہیں واضح کردیں کہ جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی تکذیب کرے گا، بہت جلد اپنا انجام پالے گا۔ اگر انہیں یقین نہیں آتا تو انہیں تکذیب کرنے والی اقوام کے واقعات سنائیں کہ ان کا کیا انجام ہوا، جس میں سر فہرست فرعون کی قوم ہے۔ طٓسٓمٰ ۔ حروف مقطعات ہیں۔ جن کا معنٰی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اس سورة کا آغاز کتاب مبین کے تعارف سے شرو ع وہا ہے۔ ” اَلْمُبِیْنِ “ کا معنٰی ہے ایسی کتاب جس کے ارشادات، احکام، ٹھوس دلائل اور حقائق پر مبنی ہیں۔ جن میں کسی قسم کا تضاد اور الجھاؤ نہیں پایا جاتا۔ یہ کتاب اپنا مدّعا اس انداز اور دلنشیں پیرائے میں بیان کرتی ہے۔ کہ جس سے حق و باطل، کھرے اور کھوٹے، جائز اور ناجائز میں کھلا فرق دکھائی دیتا ہے۔ اس کتاب کی نہ پہلے کوئی نظیر موجود ہے اور نہ ہی قیامت تک اس کی کوئی مثال پیش کرسکتا ہے۔ جس طرح یہ کتاب اپنی مثال آپ ہے۔ اسی طرح ہی جس ذات گرامی پر یہ نازل کی گئی وہ بھی کائنات میں اپنی نظیر اور مثال نہیں رکھتے۔ نبی آخر الزمان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کتاب مبین کو جس پر خلوص انداز اور جانفشانی کے ساتھ لوگوں تک پہنچایا وہ آپ ہی کا کام تھا۔ آپ کے خلوص اور انتھک جدوجہد کے باوجود کفار نے ناصرف اس کا انکار کیا بلکہ وہ آپ پر مختلف الزام لگاتے اور ظلم ڈھاتے رہے۔ اس کے باوجود آپ کی خواہش تھی کہ یہ لوگ مسلمان ہوجائیں۔ بسا اوقات یہ آرزو آپ کے لیے اس قدر گراں صورت اختیار کر جاتی کہ قریب تھا کہ آپ کو جسمانی تکلیف لاحق ہوجائے۔ اس کیفیت کو دوسرے مقام پر یوں بیان کیا گیا ہے۔ کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کا سینہ کھول نہیں دیا اور آپ کا بوجھ ہلکا نہیں فرمایا ؟ قریب تھا کہ اس بوجھ سے آپ کی کمر ٹوٹ جائے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے ذکر کو بلند فرمایا یقین کرو کہ تنگی کے بعد آسانی آیا کرتی ہے۔ (الانشرح : ١ تا ٦) سورۃ طٰہٰ میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یوں تسلّی دی گئی : ” طٰہٰ ۔ ہم نے یہ قرآن آپ پر اس لیے نازل نہیں کیا ہے کہ آپ مصیبت میں پڑجائیں۔ یہ تو نصیحت ہے ہر اس شخص کے لیے جو ڈرنے والا ہے۔ یہ کتاب اس ذات کی طرف سے نازل کی گئی ہے جس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے۔ “ اس بوجھ کو اتارنے اور غم کو ہلکا کرنے کے لیے اس سورة کی ابتداء میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ بات سمجھائی گئی کہ کیا یہ لوگ مسلمان نہیں ہوتے تو آپ اپنے آپ کو ہلاک کرلیں گے ؟ آپ کا کام بار بار سمجھانا ہے۔ جو اعلیٰ اخلاق اور کمال جانفشانی کے ساتھ آپ سر انجام دے رہے ہیں۔ (عَنْ عَاءِشَۃَ (رض) أُمِّ الْمُؤْمِنِینَ أَنَّہَا قَالَتْ أَوَّلُ مَا بُدِءَ بِہِ رَسُول اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مِنَ الْوَحْیِ الرُّؤْیَا الصَّالِحَۃُ فِی النَّوْمِ ۔۔ فَقَالَ لِخَدِیجَۃَ وَأَخْبَرَہَا الْخَبَرَ لَقَدْ خَشِیتُ عَلَی نَفْسِی فَقَالَتْ خَدِیجَۃُ کَلاَّ وَاللَّہِ مَا یُخْزِیک اللَّہُ أَبَدًا، إِنَّکَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ ، وَتَحْمِلُ الْکَلَّ ، وَتَکْسِبُ الْمَعْدُومَ ، وَتَقْرِی الضَّیْفَ ، وَتُعِینُ عَلَی نَوَاءِبِ الْحَقِّ ) [ رواہ البخاری : باب بدء الوحی ] ” حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو وحی کی ابتدا نیند میں سچے خوابوں سے ہوئی۔۔۔۔ پھر آپ نے حضرت خدیجہ (رض) کو سارا ماجرا کہہ سنایا اور فرمایا، مجھے اپنی جان کا خطرہ ہے۔ انہوں نے تسلی دی کہ ہرگز نہیں۔ اللہ کی قسم ! اللہ تعالیٰ آپ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا۔ آپ صلۂ رحمی کرتے ہیں، دوسروں کے بوجھ اٹھاتے ہیں، محتاج کی خبر گیری کرتے ہیں، مہمان کو کھانا کھلاتے ہیں مصیبت زدہ کی مدد کرتے ہیں۔ “ مسائل ١۔ قرآن مجید روشن اور ایک واضح کتاب ہے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی اور اطمینان سے نوازا۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی محنت کو بےانتہا خراج تحسین سے سرفراز فرمایا۔ تفسیر بالقرآن نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں پر چوکیدار نہیں بنائے گئے : ١۔ (پیغمبروں نے کہا) ہمارے ذمہ دین کی تبلیغ کرنا ہے۔ (یٰس : ١٧) ٢۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو ڈرانے والے ہیں اور اللہ ہر چیز پر کارساز ہے۔ (ہود : ١٢) ٣۔ آپ کا کام تبلیغ کرنا ہے اور حساب لینا ہمارا کام ہے۔ (الرعد : ٤٠) ٤۔ رسولوں کا کام صرف تبلیغ کرنا ہے۔ (النحل : ٣٥) ٥۔ آپ کو ان پر نگران نہیں بنایا گیا آپ کا کام تبلیغ کرنا ہے۔ (الشوریٰ : ٤٨) ٦۔ آپ نصیحت کریں آپ کا کام بس نصیحت کرنا ہے، آپ کو کو توال نہیں بنایا گیا۔ (الغاشیۃ : ٢١۔ ٢٢)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

لعلک باخع ……خضعین (٤) انداز کلام ایسا ہے کہ گویا خود نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تنبیہ کی جاتی ہے کہ اپنی جان کو اس وجہ سے خطرے میں ڈال رہے ہیں کہ یہ لوگ ایمان نہیں لاتے۔ لعلک باخع نفسک (٢٦ : ٣) ” اے نبی شاید آپ اس غم میں اپنی جان کھو دو گے۔ “ مع النفس کے معنی قتل النفس ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور اکرم کفار قریش کے عدم ایمان پر کس قدر دل گیر تھے۔ کیونکہ آپ کو یقین تھا کہ اگر یہ ایمان نہ لائے تو دوسری اقوام کی طرح کہیں یہ بھی نیست و نابود نہ کردیئے جائیں۔ یوں آپ اپنے آپ کو اس غم میں گھول رہے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ آپ کے رشتہ دار ، اہل خاندان اور اہل قوم تھے۔ اس کی وجہ سے آپ زیادہ پریشان تھے۔ لیکن رب تعالیٰ کو سے زیادہ ہمدردی تھی۔ اللہ نے آپ کو اس تباہ کن دل کر فتگی سے منع کردیا۔ فرمایا کہ آپ ذرا آرام اور سکون سے کام جاری رکھیں۔ آپ کا یہ فریضہ نہیں ہے کہ لوگ ایمان لائیں ، اگر محض لوگوں کا ایمان ہی مطلوب ہوتا تو ہم ایک ہی حکم سے ان کی گردنیں جھکا سکتے تھے۔ آسمان سے ہم ایسا معجزہ نازل کرتے کہ یہ لوگ سرجھکا دیتے اور نہ ماننے کی کوئی صورت نہرہتی اور نہ یہ لوگ ایمان سے منہ نہ موڑ سکتے اور یکدم دبک کر رہ جاتے۔ فظلت اعنا قھم لھا خضعین (٢٦ : ٣) ” ان کی گردنیں اس کے آگے جھک جائیں۔ “ یہ لوگ گردنیں جھکا کر اس طرح کھڑے ہوجاتے کہ گویا باندھے ہوئے ہیں اور اپنی جگہ سے یہ حرکت ہی نہیں کرسکتے۔ دست بستہ کھڑے ہوجاتے۔ لیکن اللہ کی مشیت یہ نہ تھی کہ اپنی اس آخری رسالت کو ان لوگوں سے زبردستی منوایا جائے۔ اس رسالت کو صرف ایک ہی معجزہ دیا گیا اور وہ معجزہ قرآن تھا۔ یہ قرآن زندگی کا ایک مکمل نظام دیتا ہے اور یہ ہر پہلو کے اعتبار سے معجزہ ہے۔ بس اس کو آگے بڑھ کر قبول کریں۔ یہ قرآن انداز تعبیر اور فنی نظم و نسق کے اعتبار سے بھی معجز ہے۔ پورے قرآن میں یہ کلام اپنے اعلیٰ معیار اور بلند سطح کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔ فنی اور فصاحت و بلاغت کے اعتبار سے اس میں کوئی نشیب وقرار نہیں ہے۔ یعنی کسی جگہ کلام اپنے معیار سے گرا ہوا نہیں ہے۔ کسی جگہ اس نے اپنی خصوصیات کو نہیں چھوڑا۔ ایسا نہیں ہے جس طرح انسانی کلام ہوتا ہے۔ جس میں نشیب و فراز آتے رہتے ہیں۔ کسی جگہ اونچا کسی جگہ درمیانہ اور کسی جگہ صاف ہی گرا ہوا۔ کسی جگہ پر شوکت اور کسی جگہ جھولدار۔ مثلاً ایک ہی مصنف ایک جگہ ایک طرح کی بات کرتا ہے اور دوسری جگہ انداز بدل جاتا ہے۔ لیکن قرآن ہے کہ آغاز سے انجام تک جوئے رواں ہے۔ ایک ہی سطح پر ایک ہی رفتار سے اور ایک معیار پر جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا سرچشمہ بھی ایک ہے۔ پھر اپنے افکار و نظریات کے اعتبار سے بھی یہ معجزہ ہے۔ اس کے فکری اجزاء باہم مربوط ہیں۔ اس میں کوئی ایک بات نہیں ہے جو اس کے مجموعی فیصل ی سے لگا نہ کھاتی ہو۔ نہ کوئی اتفاقیبات ہے۔ تمام ہدایات ، اور تمام ضابطہ بندیاں ایک ہی ضابطے کے مطابق متکامل اور متناسق ہیں۔ یہ تعلیمات انسان کی پوری زندگی کو گھیرے ہوئے ہیں۔ زندگی کے مسائل کا پورا استیاب ہے اور پوری انسانی زندگی کے مسائل کا جواب شافی اسی میں موجود ہے۔ اس کا ایک جزئیہ بھی ایسا نہیں ہے جو قرآن کریم کے تمام دوسرے جزئیات کے مخلاف اور متضاد ہو۔ پھر یہ پورا فکری نظام ، نظام فطرت کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔ تمام اجزاء فکر ایک ہی محور کے اردگرد گھوم رہے ہیں۔ ایک ہی رسی میں سب کچھ بندھا ہا ہے۔ مکمل ہم آہنگی کے ساتھ۔ انسان اپنی محدود مہارت کے ساتھ کوئی ایسامربوط نظام فکر و عمل پیش کرنے کے قابل ہی نہیں ہے۔ لہٰذا یہ ماہر مطلق کا ارسال کرد نظام ہے اور یہ زمان و مکان کی حدود قیود سے ماوراء ہے۔ غرض قرآن کا یہ نظام اس قدر جامعیت لئے ہوئے ہے۔ اس کی فکری اور عملی تنظیم حیرت انگیز ہے۔ پھر اس کے اندر ایک اور اعجاز بھی ہے ، اس کی آواز سننے ہی دلوں میں اتر جاتی ہے ، یہ دلوں کی کنجیاں رکھتا ہے۔ اس کو سنتے ہی دل کھل جاتے ہیں اور انسان کے اندر تاثر قبول کرنے والی پنہاں قوتیں جاگ اٹھتی ہیں اور اس کی آواز پر لبیک کہتی ہیں۔ یہ الجھے ہوئے دینی مسائل کو اس قادر سادگی اور آسانی کے ساتھ حل کردیتا ہے کہ انسان حیران رہ جاتا ہے۔ بغیر کسی مشکل اور پیچیدگی اور زیادہ محنت کے۔ محض ایک نچ کے ساتھ دلوں کی دنیا کو بدل کر رکھ دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی مشیت کا تقاضا یوں ہوا کہ قرآن کریم کو اپنی اس آخری رسالت کے لئے ایک معجزہ قرار دے اور اللہ نے یہ مناسب نہ سمجھا کہ کوئی مادی اور طبیعی معجزہ نازل کرے ، جس کو دیکھ کر لوگوں کی گردنیں جھک جائیں اور وہ بامر مجبوری اسے تسیم کرلیں۔ یہ اس لئے کہ یہ آخری نبوت تمام انسانوں کے لئے ایک عام اور کھلی رسالت تھی۔ اور آئندہ آنے والی نسلوں کے لئے قیامت تک یہی ہدایت تھی اور یہ کسی ایک قوم تک محدود اور کسی محدود وقت کے ساتھ مقید اور موقف رسالت نہ تھی ۔ اس لئے اللہ نے اس رسالت کو ایک ایسا معجزہ دیا جو اقوام قریب و بعید دونوں کے لئے عام ہو۔ ہر قوم اور ہر نسل کے لئے ہو۔ جہاں تک مادی معجزات کا تعلق ہے ان کے سامنے تو صرف وہ لوگجھکتے ہیں جو اسے دیکھتے ہیں۔ اور ان اقوام کے بعد تو وہ واقعات قصص و روایات بن جانے ہیں۔ وہ آنے والی نسلوں کے لئے مشاہد نہیں ہوتے۔ رہا قرآن مجید تو وہ چودہ سو سال سے ایک معجزہ ہے۔ یہ ایک کھلی کتاب ہے ، ایک زبردست نظام زندگی ہے۔ اگر اس کو کسی بھی زمانے کے لوگ اپنا راہنما اور امام بنا لیں۔ تو وہ اس سے فائد اٹھا سکتے ہیں اور وہ ان کی زندگی کے پورے مسائل حل کرسکتا ہے اور ان کی ضروریات کو پورا کر سکات ہے بلکہ وہ ان کو ایک نہایت ہی اعلیٰ افیق پر افضل زندگی اور بہترین نتائج تک پہنچا سکتا ہے۔ یہ وہ خزانہ ہے کہ آجہم نے اپنے دور میں اس سے جو کچھ معلوم نہیں کیا ، آنے والے نسلیں اس سے معلوم کرلیں گی۔ یہ ہر سائل کو اس کے سوال کے مطابق دیتا ہے اور جھلوی بھر کے دیتا ہے اور اس کے خزانے ختم نہیں ہونے بلکہ از سر نو نئے نئے ذخیرے ملتے ہیں ۔ لیکن لوگ ہیں کہ اس قرآن کے عظیم خزانوں اور حکمتوں کو پا نہیں رہے اور اعراض کرتے ہیں۔ جوں جوں قرآن کی کوئی نئی آیت نازل ہوتی تو وہ کہتے :

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی اور مکذبین کے لیے وعید علامہ بغوی معالم التنزیل ص ٣٨١ ج ٣ میں لکھتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جب اہل مکہ نے تکذیب کی تو یہ آپ کو شاق گزرا چونکہ آپ کو اس بات کی حرص تھی کہ وہ لوگ ایمان لے آئیں اس لیے ان کی تکذیب سے آپ کو تکلیف ہوتی تھی۔ آپ کو تسلی دینے کے لیے اللہ تعالیٰ نے آیت (لَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَّفْسَکَ ) نازل فرمائی (جس کا مطلب یہ ہے کہ آپ اپنا کام کرتے رہیں ان کے غم میں آپ کو جان ہلاک کرنا نہیں ہے) ۔ اس کے بعد ارشاد فرمایا کہ ہم اگر چاہیں تو آسمان سے ایسی نشانی نازل فرما دیں جسے یہ تسلیم کرلیں اور اس کی وجہ سے ان کی گردنیں جھک جائیں اور اس طرح سے جبراً و قہراً ایمان لے آئیں لیکن ایسا کرنا نہیں ہے کیونکہ لوگوں کو مجبور نہیں کیا گیا بلکہ اختیار دیا گیا ہے تاکہ اپنے اختیار سے ایمان قبول کریں۔ اس کے بعد مخاطبین کی عام حالت بیان فرمائی کہ جب بھی رحمن کی طرف سے کوئی نئی نصیحت آتی ہے تو قبول کرنے کے بجائے اعراض کرتے ہیں ان کے جھٹلانے اور آیات کا مذاق بنانے کا نتیجہ عنقریب ان کے سامنے آجائے گا یعنی تکذیب اور استہزاء کی سزا پائیں گے صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ آنے والے عذابوں کو انباء سے تعبیر فرمایا جو نباء کی جمع ہے نباء خبر کے معنی میں آتا ہے چونکہ قرآن عظیم نے پہلے سے تکذیب و استہزاء کے مواقب کی خبر دی ہے اس لیے (اَنْبَآءُ مَا کَانُوْا بِہٖ یَسْتَہْزءُوْن) فرمایا یعنی تکذیب پر عذاب آنے کی جو خبریں دی گئی تھیں ان کا ظہور ہوجائے گا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

3:۔ یہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے تسلی ہے۔ دعوی توحید پر کچھ دلائل سورة الفرقان میں بیان ہوچکے ہیں اور کچھ اب سورة الشعراء میں بیان ہوں گے۔ ان دلائل کے باوجود بھی اگر مشرکین نہ مانیں تو آپ اپنی جان کو غم میں نہ ڈالیں۔ کیونکہ غرض تبلیغ تھی جو احسن طریق سے ہوچکی اور زبردستی منوانا مقصود نہیں۔ ” ان نشا ننزل علیھم الخ “ اگر ہم چاہتے تو آسمان سے ایک ایسی نشانی نازل کردیتے جس کے سامنے وہ عاجز ہو کر جھک جاتے اور مجبور ہو کر ایمان لے آتے مگر جبراً منوانا ہماری حکمت کے منافی ہے کیونکہ ہم امتحان لینا چاہتے ہیں کہ کون اپنے اختیار سے ایمان لاتا ہے اور کون انکار کرتا ہے۔ ” ان لا یکونوا ای لئلا یکونوا “ (مدارک) اور ” لھا خضعین “ کے بعد ” ولکن لنبلوھم “ مقدر ہے۔ ای لو نشاء لانزلنا ایۃ تضطرھم الی الایمان قھرا ولکن لا نفعل ذلک لانا نرید من احد الا الایمان الاختیاری۔ (ابن کثیر ج 3 ص 331) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(3) اے پیغمبر ! آپ شاید اس بات سے کہ وہ کافر ایمان نہیں لائے اپنی جان کھو بیٹھیں گے۔ یعنی آپ ان پر اپنی شفقت کی وجہ اتنا غم کھاتے ہیں اور ان کے ایمان نہ لانے پر آپ اس قدر بےقرار اور غمگین ہوتے ہیں کہ ایسا معلوم ہوتا ہے شاید ان کے ایمان نہ لانے کے غم میں آپ کی جان جاتی رہے گی اور آپ صدمے میں اپنی جان دے بیٹھیں گے آخر شفقت کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔