Surat us Shooaraa

Surah: 26

Verse: 5

سورة الشعراء

وَ مَا یَاۡتِیۡہِمۡ مِّنۡ ذِکۡرٍ مِّنَ الرَّحۡمٰنِ مُحۡدَثٍ اِلَّا کَانُوۡا عَنۡہُ مُعۡرِضِیۡنَ ﴿۵﴾

And no revelation comes to them anew from the Most Merciful except that they turn away from it.

اور ان کے پاس رحمان کی طرف سے جو بھی نئی نصیحت آئی یہ اس سے روگردانی کرنے والے بن گئے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

And never comes there unto them a Reminder as a recent revelation from the Most Gracious, but they turn away therefrom. meaning, every time a Scripture comes from heaven to them, most of the people turn away from it. As Allah says: وَمَأ أَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُوْمِنِينَ And most of mankind will not believe even if you desire it eagerly. (12:103) يحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ مَا يَأْتِيهِمْ مِّن رَّسُولٍ إِلاَّ كَانُواْ بِهِ يَسْتَهْزِءُونَ Alas for mankind! There never came a Messenger to them but they used to mock at him. (36:30) ثُمَّ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا تَتْرَى كُلَّ مَا جَأءَ أُمَّةً رَّسُولُهَا كَذَّبُوهُ Then We sent Our Messengers in succession. Every time there came to a nation their Messenger, they denied him... (23:44) Allah says here: فَقَدْ كَذَّبُوا فَسَيَأْتِيهِمْ أَنبَاء مَا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِيُون

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٤] ان لوگوں کو راہ راست سمجھانے کا طریقہ یہی ہے کہ ان کی توجہ اللہ تعالیٰ کی آیات تکوینیہ ( وہ نشانیاں جو کائنات میں ہر سو بکھری ہوئی ہیں) ( اور آیات تنزیلیہ) وحی کی صورت میں نازل ہونے والی آیات یا وہ آیات جن میں معاندین حق پر عذاب نازل ہونے کا ذکر ہے کی طرف دلائی جائے۔ مگر یہ کچھ ایسے بدبخت واقع ہوئے ہیں کہ اللہ کی طرف سے جو بھی آیات یا معجزہ وغیرہ نازل ہوتی ہے تو بجائے اس کے یہ اس میں کچھ غور و فکر کریں اور توجہ دیں یہ الٹا اس سے منہ موڑ جاتے ہیں اور اللہ کی آیات کا مذاق اڑانا شروع کردیتے ہیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَمَا يَاْتِيْهِمْ مِّنْ ذِكْرٍ مِّنَ الرَّحْمٰنِ ۔۔ : سورة انبیاء کی آیت (٤٢) میں ہے : (عَنْ ذِكْرِ رَبِّهِمْ ) اور یہاں فرمایا : (مِّنْ ذِكْرٍ مِّنَ الرَّحْمٰن) اس کی مناسبت یہ ہے کہ آپ جن کے غم میں پڑے ہیں ان کی حالت یہ ہے کہ رحمٰن اپنی رحمت سے جب ان کی بھلائی کے لیے کوئی نصیحت بھیجتا ہے، تو وہ اس سے منہ موڑنے والے ہوتے ہیں۔ ” مُحْدَثٍ “ کا مطلب یہ ہے کہ ان کا یہ معاملہ اس نصیحت کے ساتھ ہے جو بار بار نئی سے نئی آتی رہتی ہے، اگر ایک آدھ دفعہ ہی آتی تو ان کا کیا حال ہوتا، اس لیے ان کے غم میں اپنے آپ کو ہلاک مت کریں۔ 3 ”إِلَّا أَعْرَضُوْا عَنْہُ “ (مگر اس سے منہ موڑ لیتے ہیں) کے بجائے فرمایا : (اِلَّا كَانُوْا عَنْهُ مُعْرِضِيْنَ ) ” مگر وہ اس سے منہ موڑنے والے ہوتے ہیں “ اس میں ان کے مسلسل اعراض کا بیان ہے۔ 3 قرآن مجید کے محدث ہونے کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة انبیاء کی آیت (٢) کی تفسیر۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَمَا يَاْتِيْہِمْ مِّنْ ذِكْرٍ مِّنَ الرَّحْمٰنِ مُحْدَثٍ اِلَّا كَانُوْا عَنْہُ مُعْرِضِيْنَ۝ ٥ أتى الإتيان : مجیء بسهولة، ومنه قيل للسیل المارّ علی وجهه ( ا ت ی ) الاتیان ۔ ( مص ض ) کے معنی کسی چیز کے بسہولت آنا کے ہیں ۔ اسی سے سیلاب کو اتی کہا جاتا ہے ذكر الذِّكْرُ : تارة يقال ويراد به هيئة للنّفس بها يمكن للإنسان أن يحفظ ما يقتنيه من المعرفة، وهو کالحفظ إلّا أنّ الحفظ يقال اعتبارا بإحرازه، والذِّكْرُ يقال اعتبارا باستحضاره، وتارة يقال لحضور الشیء القلب أو القول، ولذلک قيل : الذّكر ذکران : ذكر بالقلب . وذکر باللّسان . وكلّ واحد منهما ضربان : ذكر عن نسیان . وذکر لا عن نسیان بل عن إدامة الحفظ . وكلّ قول يقال له ذكر، فمن الذّكر باللّسان قوله تعالی: لَقَدْ أَنْزَلْنا إِلَيْكُمْ كِتاباً فِيهِ ذِكْرُكُمْ [ الأنبیاء/ 10] ، ( ذک ر ) الذکر ۔ یہ کبھی تو اس ہیت نفسانیہ پر بولا جاتا ہے جس کے ذریعہ سے انسان اپنے علم کو محفوظ رکھتا ہے ۔ یہ قریبا حفظ کے ہم معنی ہے مگر حفظ کا لفظ احراز کے لحاظ سے بولا جاتا ہے اور ذکر کا لفظ استحضار کے لحاظ سے اور کبھی ، ، ذکر، ، کا لفظ دل یاز بان پر کسی چیز کے حاضر ہونے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے ۔ اس بنا پر بعض نے کہا ہے کہ ، ، ذکر ، ، دو قسم پر ہے ۔ ذکر قلبی اور ذکر لسانی ۔ پھر ان میں کسے ہر ایک دو قسم پر ہے لسیان کے بعد کسی چیز کو یاد کرنا یا بغیر نسیان کے کسی کو ہمیشہ یاد رکھنا اور ہر قول کو ذکر کر کہا جاتا ہے ۔ چناچہ ذکر لسانی کے بارے میں فرمایا۔ لَقَدْ أَنْزَلْنا إِلَيْكُمْ كِتاباً فِيهِ ذِكْرُكُمْ [ الأنبیاء/ 10] ہم نے تمہاری طرف ایسی کتاب نازل کی ہے جس میں تمہارا تذکرہ ہے ۔ رحم والرَّحْمَةُ رقّة تقتضي الإحسان إلى الْمَرْحُومِ ، وقد تستعمل تارة في الرّقّة المجرّدة، وتارة في الإحسان المجرّد عن الرّقّة، وعلی هذا قول النّبيّ صلّى اللہ عليه وسلم ذاکرا عن ربّه «أنّه لمّا خلق الرَّحِمَ قال له : أنا الرّحمن، وأنت الرّحم، شققت اسمک من اسمي، فمن وصلک وصلته، ومن قطعک بتتّه» ( ر ح م ) الرحم ۔ الرحمۃ وہ رقت قلب جو مرحوم ( یعنی جس پر رحم کیا جائے ) پر احسان کی مقتضی ہو ۔ پھر کبھی اس کا استعمال صرف رقت قلب کے معنی میں ہوتا ہے اور کبھی صرف احسان کے معنی میں خواہ رقت کی وجہ سے نہ ہو ۔ اسی معنی میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک حدیث قدسی میں فرمایا ہے (152) انہ لما خلق اللہ الرحم قال لہ انا الرحمن وانت الرحم شفقت اسمک میں اسمی فمن وصلک وصلتہ ومن قطعت قطعتۃ ۔ کہ جب اللہ تعالیٰ نے رحم پیدا کیا تو اس سے فرمایا :۔ تین رحمان ہوں اور تو رحم ہے ۔ میں نے تیرے نام کو اپنے نام سے اخذ کیا ہے ۔ پس جو تجھے ملائے گا ۔ ( یعنی صلہ رحمی کرے گا ) میں بھی اسے ملاؤں گا اور جو تجھے قطع کرلیگا میں اسے پارہ پارہ کردوں گا ، ، حدث الحدوث : كون الشیء بعد أن لم يكن، عرضا کان ذلک أو جوهرا، وإِحْدَاثه : إيجاده . وإحداث الجواهر ليس إلا لله تعالی، والمُحدَث : ما أوجد بعد أن لم يكن، وذلک إمّا في ذاته، أو إحداثه عند من حصل عنده، نحو : أحدثت ملکا، قال تعالی: ما يَأْتِيهِمْ مِنْ ذِكْرٍ مِنْ رَبِّهِمْ مُحْدَثٍ [ الأنبیاء/ 2] ، ويقال لكلّ ما قرب عهده محدث، فعلا کان أو مقالا . قال تعالی: حَتَّى أُحْدِثَ لَكَ مِنْهُ ذِكْراً [ الكهف/ 70] ، وقال : لَعَلَّ اللَّهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذلِكَ أَمْراً [ الطلاق/ 1] ، وكلّ کلام يبلغ الإنسان من جهة السمع أو الوحي في يقظته أو منامه يقال له : حدیث، قال عزّ وجلّ : وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلى بَعْضِ أَزْواجِهِ حَدِيثاً [ التحریم/ 3] ( ح د ث ) الحدوث ) ( ن) کے معنی ہیں کسی ایسی چیز کو جود میں آنا جو پہلے نہ ہو عام اس سے کہ وہ جوہر ہو یا عرض اور احداث صرف ذات باری تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہے ۔ محدث ( صیغہ صفت مفعول ) ہر وہ چیز جو عدم سے وجود میں آئی ہو اور کسی چیز کا احداث کبھی تو نفس شے کے اعتبار سے ہوتا ہے اور کبھی اس شخص کے اعتبار سے ہوتا ہے ۔ جسے وہ حاصل ہوئی ہو ۔ جیسے ۔ احدثت ملکا ) میں نے نیا ملک حاصل کیا ) چناچہ آیت کریمۃ ؛۔ ما يَأْتِيهِمْ مِنْ ذِكْرٍ مِنْ رَبِّهِمْ مُحْدَثٍ [ الأنبیاء/ 2] ان کے پاس کوئی نئی نصیحت ان کے پروردگار کی طرف سے نہیں آتی ( میں اسی دوسرے معنی کے اعتبار ذکر کو محدث کہا گیا ہے اور ہر وہ قول و فعل جو نیا ظہور پذیر ہوا ہو اسے بھی محدث کہہ دیتے ہیں ۔ قرآن میں ہے :۔ حَتَّى أُحْدِثَ لَكَ مِنْهُ ذِكْراً [ الكهف/ 70] جب تک میں خود ہی پہل کرکے تجھ سے بات نہ کروں ۔ لَعَلَّ اللَّهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذلِكَ أَمْراً [ الطلاق/ 1] شاید خدا اس کے بعد کوئی ( رجعت کی ) سبیل پیدا کردے ۔ ہر وہ بات جو انسان تک سماع یا وحی کے ذریعہ پہنچے اسے حدیث کہا جاتا ہے عام اس سے کہ وہ وحی خواب میں ہو یا بحالت بیداری ) قرآن میں ہے ؛وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلى بَعْضِ أَزْواجِهِ حَدِيثاً [ التحریم/ 3] اور ( یاد کرو ) جب پیغمبر نے اپنی ایک بی بی سے ایک بھید کی بات کہی ۔ اعرض وإذا قيل : أَعْرَضَ عنّي، فمعناه : ولّى مُبدیا عَرْضَهُ. قال : ثُمَّ أَعْرَضَ عَنْها [ السجدة/ 22] ، فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ وَعِظْهُمْ ( ع ر ض ) العرض اعرض عنی اس نے مجھ سے روگردانی کی اعراض کیا ۔ قرآن میں ہے : ثُمَّ أَعْرَضَ عَنْها [ السجدة/ 22] تو وہ ان سے منہ پھیرے ۔ فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ وَعِظْهُمْ [ النساء/ 63] تم ان سے اعراض بر تو اور نصیحت کرتے رہو ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٥) اور ان کے نبی کے پاس جبریل امین (علیہ السلام) قرآن کریم کی کوئی تازہ آیت ایک کے بعد دوسری لے کر نہیں آتے مگر یہ کہ اس قرآن کریم کو جھٹلانے لگتے ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٥ (وَمَا یَاْتِیْہِمْ مِّنْ ذِکْرٍ مِّنَ الرَّحْمٰنِ مُحْدَثٍ اِلَّا کَانُوْا عَنْہُ مُعْرِضِیْنَ ) ” انہیں مختلف انداز سے سمجھا یا جا رہا ہے ‘ انداز بدل بدل کر آیات نازل کی جا رہی ہیں ‘ مگر یہ لوگ ہیں کہ کسی نصیحت اور کسی یاد دہانی سے اثر لینے کو تیار ہی نہیں۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

(٥) اس آیت سے فرقہ معتزلی ٢ ؎ نے یہ مطلب جو نکالا ہے کہ قرآن شریف مخلوقات کے کلام کی طرح ایک نو پیدا چیز ہے جس کو حضرت جبرئیل ( علیہ السلام) نے انبیاء کو پہنچا دیا یہ مطلب ان کا بالکل غلط ہے کیونکہ اس صورت میں اللہ تعالیٰ کے کلام اور مخلوقات کے کلام میں کوئی فرق باقی نہیں رہتا کس واسطے کہ آخر بندوں میں بھی قوت کلام کرنے کی اللہ نے ہی پیدا کی ہے پھر انسان اور پیڑ میں اس وقت کا پیدا کرنا برابر ہے حالانکہ مشرکین مکہ کو اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں جگہ جگہ اس سبب سے کافر فرمایا ہے کہ وہ لوگ قرآن کو بشر کا کلام کہتے تھے بلکہ اہل سنت اور تمام سلف کا مذہب قرآن شریف کے باب میں یہ ہے کہ قرآن شریف قدیم اور خاص اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اللہ تعالیٰ سے یہی الفاظ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے سنے اور اللہ کے حکم سے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو وہی الفاظ جبرئیل (علیہ السلام) کی معرفت پہنچے اور آنحضرت کی معرفت امت کے لوگوں کو پہنچے اب جو لوگ قرآن شریف پڑھتے ہیں یہ آواز تو التبہ لوگوں کی ہے مگر کلام اللہ کا ہے جس طرح کوئی چوبدار لفظ کسی بادشاہ کا کوئی حکم لوگوں کو سنائے تو آواز چوبدار کی کہلائے گی اور حکم بادشاہ کا کہلاوے گا۔ مسند امام احمد ترمذی ابوداؤد نسائی ابن ماجہ اور مستدرک حاکم میں معتبر سند سے جابر (رض) کی یہ حدیث کہ موسم حج پر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں سے یہ فرمایا کہ میں اللہ کا کلام لوگوں کو سناتا ہوں اور سوا اس کے بہت سی آیتیں اور حدیثیں اس بات کو ثابت کرتی ہیں کہ قرآن شریف اللہ کا فرمایا ہوا کلام ہے غرض ان گمراہ فرقوں نے یہ جو کہا ہے کہ اللہ کے کلام کے یہ معنے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کسی چیز میں بولنے کی قوت پیدا کردیتا ہے یا یہ کہ قرآن شریف کلام تو حضرت جبرئیل کا ہے لیکن مطلب وہی ہے جو اللہ تعالیٰ کی ذات پاک میں تھا۔ یہ سب غلط مذہب ہیں اور اہل سنت نے بڑی تفصیل سے ان غلط مذہبوں کو نامعتبر ٹھہرایا ہے اس صورت میں معنے آیت کے یہ ہیں کہ مشرکوں پر جو حکم نیا اترتا ہے وہ اس سے منہ پھیرتے ہیں یہ معنے نہیں ہیں کہ اللہ کا کلام نیا اور نو پیدا ہے بلکہ اللہ کا کلام قدیم ہے جن پر اترتا ہے ان کو نیا ہے جس طرح کوئی شخص مثلا دہلی کی جامع مسجد کو آج دیکھے تو اس کے دیکھنے کے حساب سے یہ کہا جاوے گا کہ اس نے ایسی نئی مسجد آج دیکھی ہے کہ عمر بھر کبھی نہیں دیکھی تھی اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ جامع مسجد شاہجہان نے آج نئی بنائی ہے حاصل کلام یہ ہے کہ ہزار گیارہ سو برس سے اہل سنت اور مخالف فرقوں کی بحث اس مسئلہ میں اور صفات الٰہی کے مسئلوں میں چلی آتی ہے صدہا کتابیں خاص اس مسئلہ کے باب میں تصنیف ہوئیں جعد بن ورہم اس مسئلہ کا ایجاد کرنے والا ہشام بن عبدالملک کی خلافت میں خالد حاکم عراق کے ہاتھ سے اسی مسئلہ کی ایجاد کی تفصیل پر قتل ہوا تفصیل اس مسئلہ کی حدیث کی شرح کی کتابوں میں ١ ؎ ہے مختصر طور پر اس مسئلہ کا ذکر اس خیال سے کردیا گیا ہے کہ تفسیر کشاف ٢ ؎ اور اس قسم کی تفسیروں کو دیکھ کر کوئی مسلمان دھوکے میں نہ پڑجاوے صحیح بخاری ومسلم ٣ ؎ میں عدی بن حاتم سے روایت ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قیامت کے دن حساب و کتاب کے وقت اللہ تعالیٰ ہر شخص سے بلا واسطہ کلام کرے گا اس صحیح حدیث سے فرقہ معتزلی کا وہ اعتقاد کسی طرح سے صحیح نہیں قرار پاسکتا کہ خود اللہ تعالیٰ کی ذات میں بولنے کی صفت نہیں ہے کیونکہ جب اس حدیث میں واسطہ کو اڑا دیا گیا ہے تو پھر لوح محفوظ یا پیڑ یا اور کسی چیز کا واسطہ کہاں سے آسکتا ہے۔ (٢ ؎ دوسری صدی ہجری کا ایک بدعتی اور گمراہ فرقہ جس کا امام احمد بن جنبل (رح) وغیرہ محدثین نے ہر طریقے سے مقا بلکہ کیا (ع ‘ ح۔ ) (١ ؎ مثلا فتح الباری ص ٧٧٠ ج ٦ طبح دہلی۔ ) (٢ ؎ محمود جاز اللہ مخشری زمتوفی ٥٢٨ ھ کی مشہور تفسیر (ع ‘ ح ) ( ٣ ؎ مشکوٰۃ باب الحساب والقصاص والمیزن فصل اول )

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(26:5) ما یاتیہم میں ما نافیہ ہے۔ یاتی مضارع واحد مذکر غائب ایتان مصدر (باب ضرب) ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ وہ ان کے پاس آتی ہے یا آجائے گی۔ ما یاتیھم نہیں آتی ان کے پاس ۔ من ذکر میں من زائدہ ہے محض تاکید کے لئے اور نفی کو زور دار بنانے کے لئے لایا گیا ہے یا یہ تبعیضیہ ہے لیکن اول الذکر زیادہ صحیح ہے۔ ذکر ای موعظۃ و تذکیر۔ یعنی پندونصیحت یا تنبیہ کی کوئی بات۔ یا قرآن مجید کی کوئی آیت۔ محدث۔ اسم مفعول واحد مذکر۔ احداث (افعال) مصدر۔ تازہ۔ نونبو، نئی۔ محدث و محدثۃ۔ نئی چیز جو اجنبی معلوم ہو۔ محدث صفت ہے ذکر کی۔ تازہ موعظت، تازہ فہمائش۔ معرضین۔ اسم فاعل جمع مذکر منصوب۔ اعراض (افعال) مصدر ۔ منہ موڑنے والے۔ اعراض کرنے والے۔ روگردانی کرنے والے۔ عنہ میں ہ ضمیر واحد غائب ذکر کی طرف سے راجع ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

9 ۔ یعنی قرآن کی کوئی نئی آیت یا حکم جس میں انہیں نصیحت کی گئی ہو۔ (دیکھئے انبیا آیت :2)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

یہاں اللہ کے ناموں میں سے رحمٰن کو لایا گیا ہے ، اشارہ اس طرف ہے کہ یہ کتاب اور یہ نصیحت نازل کر کے اللہ نے مخلوق پر بہت بڑی رحمت کی ہے اور اس رحمت سے وہ منہ موڑ رہے ہیں۔ تو ظاہر ہے کہ ان کا یہ فعل بہت ہی قبیح اور شفیع ہے۔ آسمانوں سے ان پر رحمت کا نزول ہو رہا ہے اور وہ اس سے بھاگ رہے ہیں۔ وہ اپنے آپ کو اللہ کی چیز سے محروم کر رہے ہیں جس کے وہ فی الحقیقت بہت ہی محتاج ہیں۔ اس لئے ان کے اس اعراض پر اللہ کی طرف سے بہت ہی سخت تہدید نازل ہوتی ہے کہ اللہ کا عذاب ان کے لئے منتظر ہے۔ بہت جلد یہ لوگ اس سے دوچار ہوں گے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

4:۔ یہ زجر ہے۔ یعنی یہ مشرکین مسلسل توحید کا انکار کر رہے ہیں ! چناچہ اللہ کی طرف سے جب بھی مضمون توحید اور دعوت ” تبارک “ پر مشتمل کوئی تازہ آیت نازل ہوتی ہے تو وہ اس سے اعراض اور اس کا انکار کرتے ہیں۔ ” فقدکذبوا فسیاتھیہم الخ “ یہ تخویف دنیوی ہے یا اخروی۔ ان معاندین پر ہماری حجت قائم ہوچکی اور مسئلہ توحید ہر پہلو سے ان پر دلائل کے ساتھ واضح کیا جا چکا ہے۔ مگر اس کے باوجود وہ انکار و اعراض کر رہے ہیں، اس لیے اب عنقریب ہی انہیں توحید سے اعراض و استہزاء کی سخت سزا دی جائے گی جس طرح اقوام سابقہ کو ان کے انکار و اعراض اور عناد و استہزاء کی سزا دی گئی تو اس وقت ان پر توحید کی حقانیت واجح ہوجائے گی جس کا زندگی بھر مذاق اڑاتے رہے۔ عذاب سے جنگ بدر کے دن کا عذاب مراد ہے یا آخرت کا۔ و ھذا وعید لھم وانذار بانھم سیعلمون اذا مسھم عذاب اللہ یوم بدرا ویوم القیمۃ الخ (مدارک ج 3 ص 136) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(5) اور ان دین حق کے منکروں کے پاس کوئی نئی نصیحت اور فہمائش اور نصیحت آمیز حکم رحمان کی جانب سے نہیں آتا مگر یہ منکر اس سے اعراض اور روگردانی کرتے ہیں یعنی رحمان کی جانب سے جو نئی نصیحت ان کے پاس آتی ہے یہ اس سے منہ پھیرتے، بےرخی اور اعراض کرتے ہیں۔