Surat us Shooaraa

Surah: 26

Verse: 50

سورة الشعراء

قَالُوۡا لَا ضَیۡرَ ۫ اِنَّاۤ اِلٰی رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَ ﴿ۚ۵۰﴾

They said, "No harm. Indeed, to our Lord we will return.

انہوں نے کہا کوئی حرج نہیں ہم تو اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں ہی ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

قَالُوا لاَا ضَيْرَ ... They said: No harm! meaning, `no problem, that will not harm us and we do not care.' ... إِنَّا إِلَى رَبِّنَا مُنقَلِبُونَ Surely, to our Lord we are to return. means, `the return of us all is to Allah, may He be glorified, and He will never allow the reward of anyone who has done good to be lost. What you have done to us is not hidden from Him, and He will reward us in full for that.' So they said:

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

501لاضیر۔ کوئی حرج نہیں یا ہمیں کوئی پرواہ نہیں۔ یعنی اب جو سزا چاہے دے لے، ایمان سے نہیں پھر سکتے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

قَالُوا لَا ضَيْرَ‌ ۖ إِنَّا إِلَىٰ رَ‌بِّنَا مُنقَلِبُونَ They said, |"There is no harm. We are to return to our Lord. (26:50) When the Pharaoh threatened the magicians to kill them, and to cut their limbs and to crucify them, the magicians replied rather indifferently, the gist of their reply was, ` You do whatever you can. We shall lose nothing. Even if we are killed we will go back to our Lord, where there is nothing but comfort&. It is worth noting here that the magicians who had involved all their lives practicing the sinful sorcery and who believed in the Pharaoh&s claim to be a god, rather, used to worship him, pronounced faith in Allah before that tyrant and despotic king and the entire nation. This was in itself something most astonishing and courageous, but it was not just the pronouncement of faith in Allah, but a demonstration of such deep devotion as if they could see the Dooms Day and the Hereafter before their eyes. The blessings and bounties of the Hereafter were within their sight, for which they raised themselves over and above any punishment or torment of this world, and said فَاقْضِ مَا أَنتَ قَاضٍ that is ` You do whatever you are to do (20:72). We are not going back from our faith&. This in fact was also a miracle of Sayyidna Musa (علیہ السلام) which was no less than the miracle of the staff and the luminous hand. Many incidents of similar nature have also occurred with our Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . In one such incident a drastic change had occurred in a seventy years old infidel in that within a minute he not only converted to Islam, but was ready to lay down his life to become a martyr.

قَالُوْا لَا ضَيْرَ ۡ اِنَّآ اِلٰى رَبِّنَا مُنْقَلِبُوْنَ ، یعنی جب فرعون نے جادوگروں کو قبول ایمان پر قتل کی اور ہاتھ پاؤں کاٹنے اور سولی چڑھانے کی دھمکی دی تو جادوگروں نے بڑی بےپروائی سے یہ جواب دیا کہ تم جو کچھ کرسکتے ہو کرلو۔ ہمارا کوئی نقصان نہیں، ہم قتل بھی ہوں گے تو اپنے رب کے پاس چلے جائیں گے جہاں آرام ہی آرام ہے۔ یہاں غور کرنے کی بات یہ ہے کہ یہ جادوگر جو عمر بھر جادوگری کے کفر میں مبتلا، اس پر مزید فرعون کے دعویٰ خدائی کو ماننے والے اور اس کی پرستش کرنے والے تھے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا معجزہ دیکھ کر اپنی پوری قوم کے خلاف، فرعون جیسے ظالم جابر بادشاہ کے خلاف ایمان کا اعلان کردیں یہی ایک حیرت انگیز چیز تھی مگر یہاں تو صرف ایمان کا اعلان ہی نہیں بلکہ ایمان کا وہ گہرا رنگ چڑھ جانے کا مظاہرہ ہے کہ قیامت و آخرت گویا ان کے سامنے نظر آنے لگی۔ آخرت کی نعمتوں کا مشاہدہ ہونے لگا ہے جس کے مقابلے میں دنیا کی ہر سزا اور مصیبت سے بےنیاز ہو کر (فَاقْضِ مَآ اَنْتَ قَاضٍ ) کہہ دیا یعنی جو تیرا جی چاہے کرلے ہم تو ایمان سے پھرنے والے نہیں۔ یہ بھی درحقیقت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہی کا معجزہ ہے جو معجزہ عصا اور ید بیضاء سے کم نہیں، اسی طرح کے بہت سے واقعات ہمارے رسول محمد مصطفے ٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاتھوں ظاہر ہوئے ہیں کہ ایک منٹ میں ستر برس کے کافر میں ایسا انقلاب آ گیا کہ صرف مومن ہی نہیں ہوگیا بلکہ غازی بن کر شہید ہونے کی تمنا کرنے لگا۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

قَالُوْا لَا ضَيْرَ۝ ٠ۡاِنَّآ اِلٰى رَبِّنَا مُنْقَلِبُوْنَ۝ ٥٠ۚ ضير الضَّيْرُ : المَضَرَّةُ ، يقال : ضارّه وضرّه . قال تعالی: لا ضَيْرَ إِنَّا إِلى رَبِّنا مُنْقَلِبُونَ [ الشعراء/ 50] ، وقوله : لا يَضُرُّكُمْ كَيْدُهُمْ شَيْئاً [ آل عمران/ 120] . ( ض ی ر ) الضیر ( ض ) کے معنی مضرت اور گزند کے ہیں اور ضارہ وضرہ کے ایک ہی معنی ہیں یعنی کسی کو نقصان اور تکلیف پہنچانا۔ قرآن میں ہے ؛ لا ضَيْرَ إِنَّا إِلى رَبِّنا مُنْقَلِبُونَ [ الشعراء/ 50] کچھ نقصان ( کی بات ) نہیں ہم اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں ۔ اور فرمایا ؛ لا يَضُرُّكُمْ كَيْدُهُمْ شَيْئاً [ آل عمران/ 120] ان کا فریب تمہیں کچھ بھی نقصان نہ پہنچا سکے گا ۔ انقلاب قَلْبُ الشیء : تصریفه وصرفه عن وجه إلى وجه، والِانْقِلابُ : الانصراف، قال : انْقَلَبْتُمْ عَلى أَعْقابِكُمْ وَمَنْ يَنْقَلِبْ عَلى عَقِبَيْهِ [ آل عمران/ 144] ، وقال : إِنَّا إِلى رَبِّنا مُنْقَلِبُونَ [ الأعراف/ 125] ( ق ل ب ) قلب الشئی کے معنی کسی چیز کو پھیر نے اور ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف پلٹنے کے ہیں الانقلاب کے معنی پھرجانے کے ہیں ارشاد ہے ۔ انْقَلَبْتُمْ عَلى أَعْقابِكُمْ وَمَنْ يَنْقَلِبْ عَلى عَقِبَيْهِ [ آل عمران/ 144] تو تم الٹے پاؤں پھر جاؤ ( یعنی مرتد ہوجاؤ ) وَمَنْ يَنْقَلِبْ عَلى عَقِبَيْهِ [ آل عمران/ 144] اور جو الٹے پاؤں پھر جائے گا ۔إِنَّا إِلى رَبِّنا مُنْقَلِبُونَ [ الأعراف/ 125] ہم اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٥٠) انھوں نے جواب دیا جو دنیا میں ہمارے ساتھ برتاؤ کرے گا اس سے ہمارا آخرت میں کوئی نقصان نہیں ہوگا ہم اللہ تعالیٰ اور اس کے عطا کردہ ثواب کے پاس جا پہنچیں گے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(26:50) ضمیر۔ ڈر۔ ضرر۔ مضرت۔ ضار یضر کا مصدر ہے جس کے معنی نقصان کرنے اور ضرر پہنچانے کے ہیں۔ منقلبون۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ منقلب واحد انقلاب مصدر قلب مادہ۔ لوٹنے والے۔ لوٹ کر جانے والے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

5 ۔ یعنی بہرحال اللہ تعالیٰ کی طرف تو لوٹنا ہی ہے۔ اس طرح مریں گے تو شہادت کا درجہ پائیں گے اور صبر کا اجر ملے گا۔ (وحیدی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

قالوا الاضیر ……المئومنین (٢٦ : ٥١) ” ۔ “ کچھ پرواہ نہیں ہے۔ ہمیں اس بات کی اب کوئی فکر نہیں ہے کہ ہمارے ہاتھ پائوں کاٹے جائیں۔ تشدد اور سولی کی سزا کی بھی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ موت اور شہادت سے ہم نہیں ڈرتے ۔ ہمیں تو ان باتوں کی کوئی پروا نہیں ہے ، اگر ہم مر گئے تو ہم اپنے رب کے پاس چلے جائیں گے۔ آخر اس زمین کی زندگی میں رکھا گیا ہے ؟ ہمارا مطمح نظر تو اب یہ ہے۔ ان یغفرلنا ربنا خطینا (٢٦ : ٥١) ” کہ ہمارا رب ہمارے خطائیں معاف کر دے۔ “ اور یہ خطائیں اس اعزاز کی وجہ سے معاف کر دے کہ ان کنا اول المئومنین (٢٦ : ٥١) ” یہ کہ ہم پہلے ایمان لانے والے بن گئے۔ “ اب ہمیں سابقین اولین کا درجہ حاصل ہے۔ اے اللہ ! کیا ہی شان ہے ایمان کی جب یہ ضمیر کی دنیا کو منور کر دے۔ جب اس کا فیضان روح پر ہوجائے۔ جب کاسہ قلب مومن ایمان سے بھر جائے تو مٹی کا یہ کالبد اعلیٰ علبین کے مقام پر چلا جاتا ہے۔ دل غنی ہوجاتا ہے۔ دلوں کے اندر دولت ایمان جمع ہوجاتی ہے اور اس کے مقابلے میں کہ روئے زمین کی سب دولت ہیچ نظر آتی ہے۔ اب سیاق کلام میں پھر ایک بار پردہ گرتا ہے اور جادوگروں کے روشن ضمیرکا یہ منظر آنکھوں سے اوجھل ہوجاتا ہے۔ اس پر مزید کوئی تبصرہ نہیں ہے۔ تاکہ ان سابقین اولین کا یہ گہرا اثر قاری کے دل میں بحال رہے۔ لوگ سوچیں کہ اہل مکہ اہل ایمان پر جو مظالم ڈھا رہے ہیں یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ تاریخ میں اہل ایمان اس قسم کے مظالم بردشات کرتے چلے آئے ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

50۔ ان نو مسلم یعنی جو ابھی موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کے پروردگار پر ایمان لائے تھے جادوگروں نے کہا کوئی ضرر اور نقصان نہیں یقینا ہم تو اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں یعنی ہم موت سے ڈرتے نہیں مرنے کے بعد تو اپنے مالک کے پاس پہونچ جائیں گے جہاں ہر قسم کا آرام میسر ہوگا لہٰذا ہمیں کوئی نقصان نہیں الموت حبہ یوصل الحبیب الی الحبیب خالص ایمان کی یہی شان ہوتی ہے۔