Surat us Shooaraa

Surah: 26

Verse: 51

سورة الشعراء

اِنَّا نَطۡمَعُ اَنۡ یَّغۡفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰیٰنَاۤ اَنۡ کُنَّاۤ اَوَّلَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ﴿۵۱﴾ؕ٪  7

Indeed, we aspire that our Lord will forgive us our sins because we were the first of the believers."

اس بنا پر کہ ہم سب سے پہلے ایمان والے بنے ہیں ہمیں امید پڑتی ہے کہ ہمارا رب ہماری سب خطائیں معاف فرما دے گا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

إِنَّا نَطْمَعُ أَن يَغْفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطَايَانَا ... Verily, we really hope that our Lord will forgive us our sins, `the sins we have committed and the magic you forced us to do.' ... أَن كُنَّا أَوَّلَ الْمُوْمِنِينَ as we are the first of the believers, means, because we are the first of our people, the Egyptians, to believe. So he killed them all.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

511أوَّلُ الْمُئْومِنِیْنَ اس اعتبار سے کہا کہ فرعون کی قوم مسلمان نہیں ہوئی اور انہوں نے قبول ایمان میں سبقت کی۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٣٨] مقابلہ سے پہلے جادوگروں کی یہ حالت تھی کہ وہ فرعون سے انعام و اکرام حاصل کرنے کے لئے التجا کر رہے تھے لیکن جب وہ علی وجہ البصبرت صدق دل سے ایمان لے آئے تو ان کے ذہن میں یک لخت انقلاب آگیا۔ جیسے یکدم کسی کی آنکھیں کھل جائیں۔ ان کے ایمان نے ان میں اتنی جرات پیدا کردی تھی کہ اب وہ اسی جابر اور ظالم فرعون کی سولی کی دھمکی کو بھی خاطر میں نہیں لا رہے تھے وہ یک زبان ہو کو بول اٹھے تم جتنا بڑا سلوک ہم سے کرسکتے ہو اس میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھو۔ زیادہ سے زیادہ تم ہمیں مار ہی سکتے ہو۔ اس سے زیادہ تو ہمارا کچھ بگاڑ سکو گے مگر ہمیں جو دولت ایمان میسرآئی ہے وہ ان تکلیفوں کے مقابلہ میں ہزار درجہ بہتر ہے۔ انصاف کا تقاضا تو یہ تھا کہ اس معرکہ حق و باطل میں جادوگروں کی شکست کے بعد جس طرح جادوگروں ایمان لائے تھے اسی طرح فرعون بھی ایمان لے آتا۔ مگر وہ پہلے سے زیادہ اکڑ بیٹھا جس کی وجہ سے محض یہ تھی کہ اگر وہ ایمان لاتا تو اس کی ساری حکومت اور اقتدار ہاتھ سے جاتی تھی اور اسے موسیٰ (علیہ السلام) کا مطیع فرمان بنا کر رہنا پڑتا تھا۔ لیکن جادوگروں کو ایسی کوئی فکر لاحق نہ تھی۔ جس سے ایک واضح نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایمان لانے میں سب سے بڑی رکاوٹ اپنے جاہ، اپنی سرداریوں اور اپنے۔۔ سے دستبرداری ہوتی ہے اور ایسے ہی لوگ انبیاء کے سب سے پہلے اور سب سے بڑے مخالف اور دشمن ہوتے ہیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اَنْ كُنَّآ اَوَّلَ الْمُؤْمِنِيْنَ : یعنی دلیل واضح ہوجانے کے بعد قوم فرعون میں سے سب سے پہلے ہم ایمان لائے۔ نوٹ ! آیت (٤١) سے (ا ٥) تک کی تفسیر کے لیے سورة اعراف (١١٣ تا ١٢٦) اور سورة طٰہٰ (٦٥ تا ٧٥) کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اِنَّا نَطْمَعُ اَنْ يَّغْفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰيٰنَآ اَنْ كُنَّآ اَوَّلَ الْمُؤْمِنِيْنَ۝ ٥ ١ۭۧ طمع الطَّمَعُ : نزوعُ النّفسِ إلى الشیء شهوةً له، طَمِعْتُ أَطْمَعُ طَمَعاً وطُمَاعِيَةً ، فهو طَمِعٌ وطَامِعٌ. قال تعالی: إِنَّا نَطْمَعُ أَنْ يَغْفِرَ لَنا رَبُّنا[ الشعراء/ 51] ، أَفَتَطْمَعُونَ أَنْ يُؤْمِنُوا لَكُمْ [ البقرة/ 75] ، خَوْفاً وَطَمَعاً [ الأعراف/ 56] ، ( ط م ع ) الطمع کے معنی ہیں نفس انسانی کا کسی چیز کی طرف خواہش کے ساتھ میلان ۔ طمع ( س ) طمعا وطماعیۃ کسی چیز کی طرف خواہش کے ساتھ مائل ہونا طمع وطامع اس طرح مائل ہونے والا قرآن میں ہے : ۔ إِنَّا نَطْمَعُ أَنْ يَغْفِرَ لَنا رَبُّنا[ الشعراء/ 51] ہمین امید ہے کہ ہمارا خدا ہمارے گناہ بخش دیگا ۔ أَفَتَطْمَعُونَ أَنْ يُؤْمِنُوا لَكُمْ [ البقرة/ 75]( مومنوں ) کیا تم آرزو رکھتے ہو کہ یہ لوگ تمہارے دین کے قائل ہوجائیں گے ۔ خَوْفاً وَطَمَعاً [ الأعراف/ 56] وڑانے اور امید دلانے کیلئے غفر الغَفْرُ : إلباس ما يصونه عن الدّنس، ومنه قيل : اغْفِرْ ثوبک في الوعاء، واصبغ ثوبک فإنّه أَغْفَرُ للوسخ «1» ، والغُفْرَانُ والْمَغْفِرَةُ من اللہ هو أن يصون العبد من أن يمسّه العذاب . قال تعالی: غُفْرانَكَ رَبَّنا[ البقرة/ 285] ( غ ف ر ) الغفر ( ض ) کے معنی کسی کو ایسی چیز پہنا دینے کے ہیں جو اسے میل کچیل سے محفوظ رکھ سکے اسی سے محاورہ ہے اغفر ثوبک فی ولوعاء اپنے کپڑوں کو صندوق وغیرہ میں ڈال کر چھپادو ۔ اصبغ ثوبک فانہ اغفر لو سخ کپڑے کو رنگ لو کیونکہ وہ میل کچیل کو زیادہ چھپانے والا ہے اللہ کی طرف سے مغفرۃ یا غفران کے معنی ہوتے ہیں بندے کو عذاب سے بچالیا ۔ قرآن میں ہے : ۔ غُفْرانَكَ رَبَّنا[ البقرة/ 285] اے پروردگار ہم تیری بخشش مانگتے ہیں ۔ خطأ الخَطَأ : العدول عن الجهة، وذلک أضرب : أحدها : أن ترید غير ما تحسن إرادته فتفعله، وهذا هو الخطأ التامّ المأخوذ به الإنسان، يقال : خَطِئَ يَخْطَأُ ، خِطْأً ، وخِطْأَةً ، قال تعالی: إِنَّ قَتْلَهُمْ كانَ خِطْأً كَبِيراً [ الإسراء/ 31] ، وقال : وَإِنْ كُنَّا لَخاطِئِينَ [يوسف/ 91] . والثاني : أن يريد ما يحسن فعله، ولکن يقع منه خلاف ما يريد فيقال : أَخْطَأَ إِخْطَاءً فهو مُخْطِئٌ ، وهذا قد أصاب في الإرادة وأخطأ في الفعل، وهذا المعنيّ بقوله عليه السلام : «رفع عن أمّتي الخَطَأ والنسیان» «3» وبقوله : «من اجتهد فأخطأ فله أجر» «4» ، وقوله عزّ وجلّ : وَمَنْ قَتَلَ مُؤْمِناً خَطَأً فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ [ النساء/ 92] . والثّالث : أن يريد ما لا يحسن فعله ويتّفق منه خلافه، فهذا مخطئ في الإرادة ومصیب في الفعل، فهو مذموم بقصده وغیر محمود علی فعله، والخَطِيئَةُ والسّيّئة يتقاربان، لکن الخطيئة أكثر ما تقال فيما لا يكون مقصودا إليه في نفسه، بل يكون القصد سببا لتولّد ذلک الفعل منه ( خ ط ء ) الخطاء والخطاء ۃ کے معنی صحیح جہت سے عدول کرنے کے ہیں اس کی مختلف صورتیں ہیں ۔ ( 1 ) کوئی ایسا کام بالا رادہ کرے جس کا ارادہ بھی مناسب نہ ہو ۔ یہ خطا تام ہے جس پر مواخزہ ہوگا ا س معنی میں فعل خطئی یخطاء خطاء وخطاء بولا جا تا ہے قرآن میں ہے : ۔ إِنَّ قَتْلَهُمْ كانَ خِطْأً كَبِيراً [ الإسراء/ 31] کچھ شک نہیں کہ ان کا مار ڈالنا بڑا سخت جرم ہے ۔ وَإِنْ كُنَّا لَخاطِئِينَ [يوسف/ 91] اور بلا شبہ ہم خطا کار تھے ۔ ( 2 ) ارادہ تو اچھا کام کرنے کا ہو لیکن غلطی سے برا کام سرزد ہوجائے ۔ کہا جاتا ہے : ۔ اس میں اس کا ارادہ وہ تو درست ہوتا ہے مگر اس کا فعل غلط ہوتا ہے اسی قسم کی خطا کے متعلق آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے کہ : «رفع عن أمّتي الخَطَأ والنسیان» میری امت سے خطا سے خطا اور نسیان اٹھائے گئے ہیں ۔ نیز فرمایا : وبقوله : «من اجتهد فأخطأ فله أجر» جس نے اجتہاد کیا ۔ لیکن اس سے غلطی ہوگئی اسے پھر بھی اجر ملے گا قرآن میں ہے : ۔ اور جو غلطی سے مومن کو مار ڈالے تو ایک تو غلام کو ازاد کردے ۔ ( 3 ) غیر مستحن فعل کا ارادہ کرے لیکن اتفاق سے مستحن فعل سرزد ہوجائے ۔ اس صورت میں اس کا فعل تو درست ہے مگر ارادہ غلط ہے لہذا اس کا قصد مذموم ہوگا مگر فعل ہے لہذا اس کا قصد مذموم ہوگا مگر فعل بھی قابل ستائس نہیں ہوگا ۔ الخطیتۃ یہ قریب قریب سیئۃ کے ہم معنی ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَأَحاطَتْ بِهِ خَطِيئَتُهُ [ البقرة/ 81] اور اسکے گناہ ہر طرف سے اس کو گھیر لیں گے ۔ لیکن زیادہ تر خطئۃ کا استعمال اس فعل کے متعلق ہوتا ہے جو بزات خود مقصود نہ ہو بلکہ کسی دوسری چیز کا ارادہ اس کے صدر کا سبب بن جائے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٥١) اور ہم امید رکھتے ہیں کہ ہمارا پروردگار ہمارے سابقہ شرک کو معاف کردے اس وجہ سے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر سب سے پہلے ایمان لائے ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٥١ (اِنَّا نَطْمَعُ اَنْ یَّغْفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰیٰنَآ) ” اب ہمیں اگر کچھ طمع ہے ‘ تو بس یہی ہے اور ہمارے دل میں اگر کوئی خواہش ‘ کوئی آرزو اور تمنا ہے تو ایک ہی ہے ‘ کہ ہمارا رب ہماری پچھلی خطاؤں سے درگزر فرمائے۔ (اَنْ کُنَّآ اَوَّلَ الْمُؤْمِنِیْنَ ) ” کہ ہم نے سب سے پہلے اللہ کے رسول ( علیہ السلام) کی تصدیق کی ہے اور کوئی دوسرا اس معاملے میں ہم پر سبقت نہیں لے جاسکا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

40 That is, "We have to return to our Lord in any case. If you kill us now, we shall present ourselves before Him just today, and we have nothing to worry in this. We rather expect that we shall be forgiven our sins and errors because out of this eatire gathering we were the first to believe as soon as reality became known to us." This reply of the magicians made two things absolutely clear to the people who had been gathered together by Pharaoh heralds : First, that Pharaoh was a dishonest obdurate and deceitful person. When he saw that Moses had come out successful in the contest which he himself had arrangedto be decisive, he concocted a plot and forced the magicians to confess it by coercion and threats. Had there been any truth in it, the magicians would not have readilyoffered to have their hands and feet cut off on opposite sides and get crucified. The fact that the magicians remained steadfast and firm in their belief even in the face of such a horrible threat, proves that the accusation of plotting a conspiracy against Pharaoh was baseless. The fact was that the magicians being experts in their art had realized that what Moses had displayed was no magic, but surely a manifestation of the powers of Allah, Lord of the universe. Secondly, thousands of the people who had gathered together from all corners of the land had themselves witnessed the great moral change that had occurred in the magicians as soon as they professed belief in the Lord of the universe. The same magicians who had been summoned to strengthen and secure the ancestral creed by means of their magic and who, a minute before, were humbly begging Pharaoh for rewards had now become so bold and ennobled spiritually that they would not take any notice of Pharaoh's powers and his threats and were even prepared to face death and extreme physical torture for the sake of their Faith. Thus psychologically there could not be a better occasion to expose the polytheistic ,creed of the Egyptians in their own eyes and help impress the truth of Moses' religion in the minds of the people.

سورة الشُّعَرَآء حاشیہ نمبر :40 یعنی ہمیں اپنے رب کی طرف پلٹنا تو بہرحال ایک نہ ایک دن ضرور ہے ۔ اب اگر تو قتل کر دے گا تو اس سے زیادہ کچھ نہ ہو گا کہ وہ دن جو کبھی آنا تھا ، آج آ جائے گا ۔ اس صورت میں ڈرنے کا کیا سوال؟ ہمیں تو الٹی مغفرت اور خطا بخشی کی امید ہے کیونکہ آج اس جگہ حقیقت کھلتے ہی ہم نے مان لینے میں ایک لمحے کی تاخیر بھی نہ کی اور اس پورے مجمع میں سب سے پہلے پیش قدمی کر کے ہم ایمان لے آئے ۔ جادوگروں کے اس جواب نے دو باتیں تمام اس خلقت کے سامنے واضح کر دیں جسے فرعون نے ڈھنڈورے پیٹ پیٹ کر جمع کیا تھا ۔ اول یہ کہ فرعون نہایت جھوٹا ، ہٹ دھرم اور مکار ہے ۔ جو مقابلہ اس نے خود فیصلے کے لیے کرایا تھا اس میں موسیٰ علیہ السلام کی کھلی کھلی فتح کو سیدھی طرح مان لینے کے بجائے اور اس نے فوراً ایک جھوٹی سازش کا افسانہ گھڑ لیا اور قتل و تعصیب کی دھمکی دے کر زبر دستی اس کا اقرار کرانے کی کوشش کی ۔ اس افسانے میں ذرہ برابر بھی کوئی صداقت ہوتی تو ممکن نہ تھا کہ جادوگر ہاتھ پاؤں کٹوانے اور سولی پر چڑھ جانے کے لیے یوں تیار ہو جاتے ۔ ایسی کسی سازش سے اگر کوئی سلطنت مل جانے کا لالچ تھا تو اب اس کے لیے کوئی گنجائش باقی نہیں رہی ، کیونکہ سلطنت کے مزے تو جو لوٹے گا سو لوٹے گا ، ان غریبوں کے حصے میں تو صرف کٹ کٹ کر جان دینا ہی رہ گیا ہے ۔ اس ہولناک خطرے کو انگیز کر کے بھی ان جادوگروں کا اپنے ایمان پر قائم رہنا اس بات کی کھلی دلیل ہے کہ سازش کا الزام سراسر جھوٹا ہے اور سچی بات یہی ہے کہ جادوگر اپنے فن میں ماہر ہونے کی وجہ سے ٹھیک ٹھیک جان گئے ہیں کہ جو کچھ موسیٰ علیہ السلام نے دکھایا ہے وہ ہرگز جادو نہیں ہے بلکہ واقعی اللہ رب العالمین ہی کی قدرت کا کرشمہ ہے ۔ دوسری بات جو اس وقت ملک کے گوشے گوشے سے سمٹ کر آئے ہوئے ہزارہا آدمیوں کے سامنے کھل کر آ گئی وہ یہ تھی کہ اللہ رب العالمین پر ایمان لاتے ہی ان جادوگروں میں کیسا زبردست اخلاقی انقلاب واقع ہو گیا ۔ کہاں تو ان کی پستی ذہن و فکر کا یہ حال تھا کہ دین آبائی کی نصرت کے لیے آئے تھے اور فرعون کے آگے ہاتھ جوڑ جوڑ کر انعام مانگ رہے تھے ، اور کہاں اب آن کی آن میں ان کی بلندی ہمت و عزم اس درجے کو پہنچ گئی کہ وہی فرعون ان کی نگاہ میں ہیچ ہو گیا ، اس کی بادشاہی کی ساری طاقت کو انہوں نے ٹھوکر مار دی اور اپنے ایمان کی خاطر وہ موت اور بد ترین جسمانی تعذیب تک برداشت کرنے کے لیے تیار ہو گئے ۔ اس سے بڑھ کر مصریوں کے دین شرک کی تذلیل اور موسیٰ علیہ السلام کے لائے ہوئے دین حق کی مؤثر تبلیغ اس نازک نفسیاتی موقع پر شاید ہی کوئی اور ہو سکتی تھی ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(26:51) نطمع مضارع متکلم (باب سمع) طمع مصدر۔ ہم امید کرتے ہیں۔ ان کنا۔ یہاں بمعنی لان ہے۔ کیونکہ ۔ اس لئے کہ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

6 ۔ یعنی دلیل واضح ہوجانے کے بعد قوم فرعون میں سے سب سے پہلے ایمان لائے۔ زجاج کہتے ہیں کہ ان کے ساتھ (اس روز) چھ لاکھ ستر ہزار آدمی ایمان لائے اور انہی کو فرعون نے۔ جیسا کہ آگے آیت 54 میں آرہا ہے۔ ” شوذتہ قلیلون “ (چھوٹی سی جماعت) کہا تھا۔ (قرطبی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : جادوگردوں کی طرف سے فرعون کی دھمکیوں کا جواب۔ ایمان لانے والے جادوگروں نے فرعون کی دھمکیوں کے جواب میں اعلان کیا کہ تمہاری دھمکیوں اور سزا کی ہمیں کوئی پرواہ نہیں کیونکہ مرنے کے بعد ہم اپنے رب کے پاس پہنچ جائیں گے۔ ہم اپنے رب سے امید رکھتے ہیں کہ وہ ہماری خطاؤں کو معاف فرمائے گا۔ کیونکہ ہم اس پر پہلے ایمان لانے والے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ایمان لانے والے جادوگروں نے فرعون کو یہ بھی کہا کہ ہم اپنے پیدا کرنے والے رب اور اس کے دلائل پر تجھے ہرگز ترجیح نہیں دے سکتے۔ لہٰذا ہمارے ساتھ جو سلوک کرنا چاہتا ہے کرلے۔ تیری سزا اس دنیا کی زندگی تک ہے ہم اپنے رب پر ایمان لائے ہیں تاکہ وہ ہماری خطاؤں کو معاف فرما دے اور جو ہم سے جبراً جادو کروایا گیا ہے ہم اس کی بھی معافی مانگتے ہیں۔ ہمارے لیے ہر حال میں اللہ ہی بہتر ہے جو ہمیشہ رہنے والا ہے۔ (طٰہٰ : ٧٢۔ ٧٣) سچے ایمان کی یہی نشانی ہے کہ یہ انسان کو چند لمحوں میں اس کے رب کے اتنا قریب کردیتا ہے کہ انسان نہ سزا کی پرواہ کرتا ہے اور نہ کسی مفاد کو خاطر میں لاتا ہے اور نہ ہی کسی قسم کے خوف سے مرعوب ہوتا ہے۔ (وَعَنْ سُفْےَانَ ابْنِ عَبْدِاللّٰہِ الثَّقَفِیِّ قَالَ قُلْتُ ےَا رَسُوْلَ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قُلْ لِّیْ فِی الْاِسْلَامِ قَوْلًا لَّا اَسْاَلُ عَنْہُ اَحَدًا بَعْدَکَ وَفِیْ رِوَاے َۃٍ غَےْرَکَ قَالَ قُلْ اٰمَنْتُ باللّٰہِ ثُمَّ اسْتَقِمْ ) [ رواہ مسلم : باب جامِعِ أَوْصَافِ الإِسْلاَمِ ] ” حضرت سفیان بن عبداللہ ثقفی (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں عرض کیا مجھے اسلام کے بارے میں ایسی بات ارشاد فرمائیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد کسی سے سوال کرنے کی ضرورت باقی نہ رہے دوسری روایت میں ہے ’ آپ کے علاوہ ‘ کسی سے پوچھنے کی حاجت نہ رہے۔ فرمایا اللہ پر ایمان لانے کے بعد اس پر ڈٹ جاؤ۔ “ ” جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے پھر وہ اس پر ڈٹ گئے ان پر فرشتے نازل ہوتے ہیں اور ان سے کہتے ہیں کہ نہ ڈرو اور نہ غم کھاؤ اور اس جنت کی خوشی سنوجس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے۔ “ (حٰم السجدۃ : ٣٠) ارادی اور غیر ارادی گناہوں کی معافی مانگنا : (عَنْ فَرْوَۃَ بْنِ نَوْفَلٍ الأَشْجَعِیِّ قَالَ سَأَلْتُ عَاءِشَۃَ (رض) عَمَّا کَانَ رَسُول اللَّہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یَدْعُو بِہِ اللَّہَ قَالَتْ کَانَ یَقُول اللَّہُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ أَعْمَل) [ رواہ مسلم : باب التَّعَوُّذِ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلَ وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ یَعْمَلْ ] ” حضرت فروہ بن نوفل اشجعی بیان کرتے ہیں میں نے سیدہ عائشہ (رض) سے اس دعا کے متعلق سوال کیا جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مانگا کرتے تھے آپ دعا کرتے اے اللہ میں تجھ سے ان لغزشوں کی معافی مانگتا ہوں جو میں نے کی ہیں اور ان سے بھی جو میں نے نہیں کیں۔ “ ” اے ہمارے رب اگر ہم بھول جائیں یا غلطی کریں تو ہماری گرفت نہ فرما۔ “ [ البقرۃ : ٢٨٦] مسائل ١۔ سچے ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ آدمی دھمکیوں اور ہر قسم کی سزا کی پرواہ نہ کرے۔ ٢۔ انسان نے بالآخر اپنے رب کی طرف ہی پلٹ کرجانا ہے۔ ٣۔ آدمی کو اپنے رب سے گناہوں کی معافی مانگتے رہنا چاہیے۔ ٤۔ کسی کے مجبور کرنے پر بھی اگر گناہ کیا ہو تو اس کی معافی مانگنا بھی لازم ہے۔ ٥۔ حقیقت آشکارہ ہونے پر آدمی کو اسے تسلیم کرنے میں پہل کرنی چاہیے۔ تفسیر بالقرآن مومن ہر حال میں اپنے رب سے معافی طلب کرتے ہیں : ١۔ اپنے پروردگار سے بخشش طلب کرو، اسی کی طرف متوجہ رہو۔ وہ تم پر بارش برسائے گا اور تمہاری قوت میں اضافہ کرے گا۔ (ھود : ٥٢) ٢۔ اللہ تعالیٰ استغفار کرنے والوں کو عذاب نہیں دیتا۔ (الانفال : ٣٣) ٣۔ اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرو۔ بیشک اللہ معاف کرنے اور رحم کرنے والا ہے۔ (المزمل : ٢٠) ٤۔ اللہ سے معافی طلب کرو اور اسی کی طرف متوجہ رہو۔ بیشک میرا رب نرمی کرنے اور شفقت فرمانے والا ہے۔ (ھود : ٩٠) ٥۔ اللہ سے مغفرت طلب کرو یقیناً وہ معاف کرنے والا ہے۔ (نوح : ١٠)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

27:۔ یہ ” لا ضیر “ کی دوسری تعلیل ہے۔ ” ان کنا “ ای لان کنا۔ اور ہمیں اس لیے بھی پرواہ نہیں کیونکہ ہمیں اس بات کی آرزو ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے گناہ معاف فرمادے کیونکہ ہم سب سے پہلے ایمان لا رہے ہیں۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

51۔ ہم امید رکھتے ہیں کہ ہمارا پروردگار ہماری خطائوں کو معاف کردے اور بخش دے گا بسبب اس کے کہ ہم ان موجودہ حاضرین میں سب سے پہلے ایمان لانے والوں میں ہیں یعنی ایمان اور اسلام اپنے پہلے گناہوں کو گرار دیتا ہے اسی لئے ان نو مسلموں نے سابقہ گناہوں کے معاف ہوجانے کی امید کی کہ ہمارا پروردگار کفر کی خطائوں کو بخش دے گا پہلے ایمان لانے کا مطلب ظاہر ہوگیا کہ اس بھرے مجمع میں سب سے پہلے ہم ہی کو توفیق نصیب ہوئی اور ہم ہی یہ کہہ سکتے ہیں کہ اول المومنین ہیں۔ غرض ! اس اہم واقعہ میں فرعون کی بڑی ذلت و رسوائی ہوئی لیکن بایں ہمہ ذلت و رسوائی وہ اپنی شرارت سے باز نہیں آیا اور بنی اسرائیل پر ظلم ڈھانا بند نہیں کیا آخر سب کو دریا میں غرق کردیا اور بنی اسرائیل کو ملک مصر کا وارث بنادیا آگے اسی کا بیان ہے۔