Surat us Shooaraa

Surah: 26

Verse: 89

سورة الشعراء

اِلَّا مَنۡ اَتَی اللّٰہَ بِقَلۡبٍ سَلِیۡمٍ ﴿ؕ۸۹﴾

But only one who comes to Allah with a sound heart."

لیکن فائدہ والا وہی ہوگا جو اللہ تعالٰی کے سامنے بے عیب دل لے کر جائے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Except him who brings to Allah a clean heart. meaning, free from any impurity or Shirk. Ibn Sirin said, "The clean heart knows that Allah is true, that the Hour will undoubtedly come and that Allah will resurrect those who are in the graves." Sa`id bin Al-Musayyib said, "The clean heart is the sound heart." This is the heart of the believer, for the heart of the disbeliever and the hypocrite is sick. Allah says: فِى قُلُوبِهِمْ مَّرَضٌ (In their hearts is a disease). (2:10) Abu Uthman An-Nisaburi said, "It is the heart that is free from innovation and is content with the Sunnah."

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

891قلب سلیم یا بےعیب دل سے مراد وہ دل ہے جو شرک سے پاک ہو۔ یعنی کلب مومن۔ اس لئے کافر اور منافق کا دل مریض ہوتا ہے۔ بعض کہتے ہیں، بدعت سے خالی اور سنت پر مطمئن دل، بعض کے نزدیک دنیا کے مال متاع کی محبت سے پاک دل اور بعض کے نزدیک، جہالت کی تاریکیوں اور اخلاقی ذلالتوں سے پاک دل۔ یہ سارے مفہوم بھی صحیح ہوسکتے ہیں۔ اس لئے کہ قلب مومن مذکورہ تمام برائیوں سے پاک ہوتا ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٦٤] آیت نمبر ٨٨، ٨٩ حضرت ابراہیم کی دعا کا حصہ بھی ہوسکتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد بھی۔ پہلی صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ اس دن مجھے رسوا نہ کرنا جس دن نہ مال کام آئے گا اور نہ اولاد۔ یعنی میرے باپ کی دولت اس دن اس کے کسی کام نہ آئے گی اور نہ ہی میں کام آسکوں گا۔ کام آنے والی چیز تو صرف اللہ کی اطاعت ہوگی۔ جو شخص فرمانبردار دل لے کر حاضر ہوا وہی کامیاب ہوگا اور دوسری صورت میں قیامت کی یہ صفات اللہ تعالیٰ سے ارشاد ہوئی ہیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اِلَّا مَنْ اَتَى اللّٰهَ بِقَلْبٍ سَلِيْمٍ : سلامتی والے دل سے مراد ایسا دل ہے جو کفر و شرک سے پاک ہو۔ بعض نے بدعت و جہالت اور اخلاق رذیلہ سے پاک ہونا بھی مراد لیا ہے۔ مال اور اولاد بھی کام آئیں گے تو اس کے جس کا دل کفر و شرک سے خالی ہوگا۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اِلَّا مَنْ اَتَى اللہَ بِقَلْبٍ سَلِيْمٍ۝ ٨٩ۭ أتى الإتيان : مجیء بسهولة، ومنه قيل للسیل المارّ علی وجهه ( ا ت ی ) الاتیان ۔ ( مص ض ) کے معنی کسی چیز کے بسہولت آنا کے ہیں ۔ اسی سے سیلاب کو اتی کہا جاتا ہے الله الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . وإله جعلوه اسما لکل معبود لهم، ( ا ل ہ ) اللہ (1) بعض کا قول ہے کہ اللہ کا لفظ اصل میں الہ ہے ہمزہ ( تخفیفا) حذف کردیا گیا ہے اور اس پر الف لام ( تعریف) لاکر باری تعالیٰ کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے اسی تخصیص کی بناء پر فرمایا :۔ { هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا } ( سورة مریم 65) کیا تمہیں اس کے کسی ہمنام کا علم ہے ۔ قلب قَلْبُ الشیء : تصریفه وصرفه عن وجه إلى وجه، کقلب الثّوب، وقلب الإنسان، أي : صرفه عن طریقته . قال تعالی: وَإِلَيْهِ تُقْلَبُونَ [ العنکبوت/ 21] . ( ق ل ب ) قلب الشئی کے معنی کسی چیز کو پھیر نے اور ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف پلٹنے کے ہیں جیسے قلب الثوب ( کپڑے کو الٹنا ) اور قلب الانسان کے معنی انسان کو اس کے راستہ سے پھیر دینے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : وَإِلَيْهِ تُقْلَبُونَ [ العنکبوت/ 21] اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

قول باری ہے : (الا من اتی اللہ بقلب سلیم) بجز اس کے کہ کوئی شخص قلب سلیم لئے ہوئے اللہ کے حضور حاضر ہو۔ ایک قول کے مطابق آپ نے سلامتی قلب کی دعا اس لئے مانگی تھی کہ جب دل سلامت ہوتا ہے تو تمام اعضاء وجوارح بگاڑ سے بچ جاتے ہیں کیونکہ اعضا میں بگاڑ اور فساد اس وقت پیدا ہوتا ہے جب دل میں بگاڑ کا ارادہ جنم لیتا ہے۔ اگر اس کے ساتھ جہالت بھی شامل ہوجائے تو دل دو طرفہ طور پر سلامتی سے محروم ہوجاتا ہے۔ حضرت نعمان بن بشیر (رض) نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا (الی لا علم مضغۃ اذا صلحت صلح البدن کلہ واذا فسدت فسد المجسد کلہ الاوھی القلب۔ مجھے گوشت کے ایک ایسے لوتھڑے کا علم ہے کہ اگر وہ درست رہے تو سارا جسم انسانی درست رہتا ہے۔ اور اگر اس میں بگاڑ پیدا ہوجائے تو سارا جسم بگاڑ کا شکار ہوجاتا ہے۔ سن لو ! وہ گوشت کا لوتھڑا دل ہے) ۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٨٩ (اِلَّا مَنْ اَتَی اللّٰہَ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍ ) ” سلیم کے معنی ہیں : سلامتی والا۔ قلب سلیم یا فطرت سلیمہ سے ایسا دل ‘ ایسی فطرت یا ایسی روح مراد ہے جو ہر قسم کی آلودگی سے پاک یعنی اپنی اصلی حالت پر ہو۔ قیامت کے دن جو شخص ایسے پاکیزہ دل کے ساتھ اللہ کے حضور حاضر ہوگا اسے اس دن کی ہولناکیوں سے بچالیا جائے گا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

65 It cannot be said with certainty whether vv. 88, 89 are a part of Prophet Abraham's prayer, or they are an addition by AIlah. In the first case, they will mean that Prophet Abraham while praying for his father had a full realization of these facts. In the second case, they will be a comment by Allah on Abraham's prayer, as if to say, "On the Day of Judgement, only a sound heart, sound in faith and free from disobedience and sin, will be of any avail to man and not wealth and children, for wealth and children can be useful only if one possesses a sound heart. Wealth will be useful if one would have spent it sincerely and faithfully for the sake of Allah, otherwise even a millionaire will be a poor man there. Children also will he of help only to the extent that a person might have educated them in Faith and good conduct to the best of his ability; otherwise even if the son is a Prophet, his father will not escape punishment, if he died in the state of unbelief, because such a father will have no share in the goodness of his children. "

سورة الشُّعَرَآء حاشیہ نمبر :65 ان دو فقروں کے متعلق یہ بات یقین کے ساتھ نہیں کہی جا سکتی کہ یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا کا حصہ ہیں یا انہیں اللہ تعالیٰ نے ان کے قول پر اضافہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے ۔ اگر پہلی بات مانی جائے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے باپ کے لیے یہ دعا کرتے وقت خود بھی ان حقائق کا احساس رکھتے تھے ۔ اور دوسری بات تسلیم کی جائے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ ان کی دعا پر تبصرہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ یہ فرما رہا ہے کہ قیامت کے دن آدمی کے کام اگر کوئی چیز آ سکتی ہے تو وہ مال اور اولاد نہیں بلکہ صرف قلب سلیم ہے ، ایسا دل جو کفر و شرک و نافرمانی اور فسق و فجور سے پاک ہو ۔ مال اور اولاد بھی قلب سلیم ہی کے ساتھ نافع ہو سکتے ہیں ، اس کے بغیر نہیں ۔ مال صرف اس صورت میں وہاں مفید ہو گا جبکہ آدمی نے دنیا میں ایمان و اخلاص کے ساتھ اسے اللہ کی راہ میں صرف کیا ہو ، ورنہ کروڑ پتی اور ارب پتی آدمی بھی وہاں کنگال ہو گا ۔ اولاد بھی صرف اسی حالت میں وہاں کام آ سکے گی جبکہ آدمی نے دنیا میں اسے اپنی حد تک ایمان اور حسن عمل کی تعلیم دی ہو ، ورنہ بیٹا اگر نبی بھی ہو تو وہ باپ سزا پانے سے نہیں بچ سکتا جس کا اپنا خاتمہ کفر و معصیت پر ہوا ہو اور اولاد کی نیکی میں جس کا اپنا کوئی حصہ نہ ہو ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(26:89) الا من اتی اللہ بقلب سلیم ۔ مگر وہ شخص جو لے آیا اللہ تعالیٰ کے حضور قلب سلیم۔ قلب سلیم سے مراد مومن کا دل ہے کیونکہ وہ کفر و نفاق کی بیماریوں سے محفوظ ہوتا ہے اور کافر کا دل مریض ہوتا ہے۔ جیسے ارشاد ہے فی قلوبھم مرض۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ کافر نے نیک کاموں میں جتنا روپیہ بھی صرف کیا ہوا ہے اسے اس سے کوئی فائدہ نہ پہنچے گا۔ اسی طرح اگر کسی کافر کی اولاد مومن اور صالح بھی ہو تو بھی اس کی شفاعت اس کافر کے حق میں مقبول نہ ہوگی۔ لیکن جس شخص کا دل کفر و نفاق کی بیماری سے محفوظ رہا اس نے راہ حق میں جو مال خرچ کیا ہوگا اس کا کئی گنا اجر روز قیامت اسے دیا جائے گا نیز اس کی نیک اور صالح اولاد کی دعائیں اس کے گناہوں کی بخشش اور اس کے درجات کی بلندی کا باعث ہوں گی۔ اور قیامت کے دن ان کی شفاعت اپنے والدین کے حق میں مقبول ہوگی اور انہیں نفع پہنچائے گی۔ واما المؤمن فینفعہ مالہ الذی انفقہ فی الطاعۃ وولدہ بالشفاعۃ والاستغفار۔ (مظہری، ضیاء القرآن)

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

5 ۔ پاک دل سے مراد ایسا دل ہے جو کفر و شرک سے پاک ہو۔ اکثر مفسرین نے یہی لکھا ہے اور بعض نے بدعت و جہالت اور اخلاق رذینہ سے پاک ہونا بھی مراد لیا ہے۔ مال اور اولاد بھی گر کام آسکتے ہیں تو پاک دل کے ساتھ ہی کام آسکتے ہیں۔ (کذا فی شوکانی و الکبیر)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

89۔ مگر ہاں اس کو نجات نصیب ہوگی جو اللہ تعالیٰ کے پاس صحیح وسالم دل لے کر حاضر ہوگا۔ یعنی کفر و شرک سے پاک دل اور امراض باطنی سے جو شخص نر و گا دل لیکرحاضر ہوگا وہی نجات کا مستحق ہوگا۔