Surat us Shooaraa

Surah: 26

Verse: 90

سورة الشعراء

وَ اُزۡلِفَتِ الۡجَنَّۃُ لِلۡمُتَّقِیۡنَ ﴿ۙ۹۰﴾

And Paradise will be brought near [that Day] to the righteous.

اور پرہیزگاروں کے لئے جنت بالکل نزدیک لا دی جائے گی ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Those Who have Taqwa and the Astray on the Day of Resurrection, and the Arguments and Sorrow of the Erring Allah says: وَأُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ ... And Paradise will be brought near, means, it will be brought close to its people, adorned and decorated for them to behold it. ... لِلْمُتَّقِينَ to those who had Taqwa. Its people are the pious who preferred it to whatever was in this world, and strove for it in this world. وَبُرِّزَتِ الْجَحِيمُ لِلْغَاوِينَ

نیک لوگ اور جنت جن لوگوں نے نیکیاں کی تھیں برائیوں سے بچے تھے جنت اس دن ان کے پاس ہی ان کے سامنے ہی زیب وزینت کے ساتھ موجود ہوگی ۔ اور سرکشوں کے لئے اسی طرح جہنم ظاہر ہوگی اس میں سے ایک گردن نکل کھڑی ہوگی جو گنہگاروں کی طرف غضبناک تیوروں سے نظر ڈالے گی اور اس طرح شور مچائے گی کہ دل اڑ جائیں گے اور مشرکوں سے ڈانٹ ڈپت کے ساتھ فرمایا جائے گا کہ تمہارے معبودان باطل جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے تھے کہاں ہیں ۔ کیا وہ تمہاری کچھ مدد کرتے ہیں؟ یا خود اپنی مدد کرسکتے ہیں؟ نہیں نہیں بلکہ عابد و معبود سب دوزخ میں الٹے لٹک رہے ہیں اور جل بھن رہے ہیں ۔ تابع ومتبوع سب اوپر تلے جہنم میں جھونک دیئے جائیں گے ساتھ ہی ابلیس کے کل لشکری بھی اول سے لے کر آخر تک ۔ وہاں سفلے لوگ بڑے لوگوں سے جھگڑیں گے اور کہیں گے کہ ہم نے زندگی بھر تمہاری مانی ۔ آج تم ہمیں عذابوں سے کیوں نہیں چھڑاتے ۔ سچ تو یہ ہے کہ ہم ہی بالکل گمراہ تھے راہ سے دور ہوگئے تھے کہ تمہارے احکام کو اللہ کے احکام کے مثل سمجھ بیٹھے تھے اور رب العلیمن کے ساتھ ہی تمہاری بھی عبادت کرتے رہے گویا کہ تمہیں رب کے برابر سمجھے ہوئے تھے ۔ افسوس ہمیں اس غلط اور خطرناک راہ پر مجرموں نے لگائے رکھا ۔ اب تو ہماری کوئی سفارشی بھی نہیں رہا ۔ آپس میں پوچھیں گے کہ کیا کوئی ہمارا شفیع ہے جو ہماری شفاعت کرے ؟ یا ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ ہم دوبارہ دنیاکی طرف لوٹائے جائیں اور وہاں جاکر اب تک کئے ہوئے اعمال کے خلاف عمل کریں؟ جہاں ہمارا کوئی سفارشی ہمیں نظر نہیں آتا وہاں کوئی قریبی سچا دوست بھی نہیں دکھائی دیتا کہ وہی ہماری ہمدردی وغم خواری کرے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اگر کسی صالح شخص سے ہماری دوستی ہوتی تو وہ آج ضرور ہمیں نفع دیتا اور اگر کوئی ہمارا دلی محب ہوتا تو وہ ضرور ہماری شفاعت کے لئے آگے بڑھتا اور اگر ہمیں پھر سے دنیا میں جانا ملتا تو ہم آپ اپنے ان بد اعمال کا تدارک کرلیتے اپنے رب کی ہی مانتے اور اسی کی عبادتیں کرتے ۔ لیکن حق تو یہ ہے کہ یہ بدبخت ازلی اگر دوبارہ بھی لائیں جائیں تو وہی بد اعمالیاں پھر سے شروع کردیں ۔ سورۃ ص میں بھی ان دوزخیوں کے جھگڑے کا بیان کرکے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ان کا یہ جھگڑا یقینا ہوگا ۔ ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم سے جو کچھ فرمایا اور جو دلیلیں انہیں دیں اور ان پر توحید کی وضاحت کی اس میں یقینا اللہ کی الوہیت پر اور اس کی یکتائی پر صاف برہان موجود ہے لیکن پھر بھی اکثر لوگ ایمان سے محروم ہیں اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ تیرا پالنہار پروردگار پورے غلبے اور قوت والا ساتھ ہی بخشش و رحم والا ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَاُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِيْنَ ۔۔ : ابراہیم (علیہ السلام) نے ” یَوْمَ یَبْعَثُوْن “ کا مزید نقشہ بیان کیا ہے کہ جنت متقین کے قریب لائی جائے گی اور وہ اس کے نظارے سے لطف اندوز ہوں گے، اسی طرح جہنم گمراہوں کو میدان حشر ہی میں دکھائی دینے لگے گی جو ان کا ٹھکانا بننے والی ہے، تاکہ جلد از جلد ہر ایک کو اس کے اعمال کی جزا مل جائے۔ ” غَاوِیْنَ “ (گمراہوں) سے مراد یہاں مشرکین ہیں، جیسا کہ اگلی آیت میں صراحت آرہی ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاُزْلِفَتِ الْجَنَّۃُ لِلْمُتَّقِيْنَ۝ ٩٠ۙ زلف الزُّلْفَةُ : المنزلة والحظوة «2» ، وقوله تعالی: فَلَمَّا رَأَوْهُ زُلْفَةً [ الملک/ 27] وقیل لمنازل اللیل : زُلَفٌ قال : وَزُلَفاً مِنَ اللَّيْلِ [هود/ 114] ( ز ل ف ) الزلفۃ اس کے معنی قریب اور مرتبہ کے ہیں چناچہ آیت : ۔ فَلَمَّا رَأَوْهُ زُلْفَةً [ الملک/ 27] سو جب وہ قریب دیکھیں گے ۔ اور منازل لیل یعنی رات کے حصوں کو بھی زلف کہا گیا ہے جیسے فرمایا : ۔ وَزُلَفاً مِنَ اللَّيْلِ [هود/ 114] اور رات کے کچھ حصوں میں۔ وقی الوِقَايَةُ : حفظُ الشیءِ ممّا يؤذيه ويضرّه . يقال : وَقَيْتُ الشیءَ أَقِيهِ وِقَايَةً ووِقَاءً. قال تعالی: فَوَقاهُمُ اللَّهُ [ الإنسان/ 11] ، والتَّقْوَى جعل النّفس في وِقَايَةٍ مما يخاف، هذا تحقیقه، قال اللہ تعالی: فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35] ( و ق ی ) وقی ( ض ) وقایتہ ووقاء کے معنی کسی چیز کو مضر اور نقصان پہنچانے والی چیزوں سے بچانا کے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَوَقاهُمُ اللَّهُ [ الإنسان/ 11] تو خدا ان کو بچا لیگا ۔ التقویٰ اس کے اصل معنی نفس کو ہر اس چیز ست بچانے کے ہیں جس سے گزند پہنچنے کا اندیشہ ہو لیکن کبھی کبھی لفظ تقوٰی اور خوف ایک دوسرے کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35] جو شخص ان پر ایمان لا کر خدا سے ڈرتا رہے گا اور اپنی حالت درست رکھے گا ۔ ایسے لوگوں کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٩٠۔ ٩١) اور کفر وشرک اور برائیوں سے بچنے والوں کے لیے جنت نزدیک کردی جائے گی اور وہی ان کا ٹھکانا ہوجائے گی اور کافروں کے لیے دوزخ سامنے ظاہر کی جائے گی اور وہ ہی ان کا ٹھکانا ہوگی ،

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

66 Verses 90-102 do not seem to be a part of Prophet Abraham's speech, but they are Allah's words.

سورة الشُّعَرَآء حاشیہ نمبر :66 یہاں سے آخر پیرا گراف تک کی پوری عبارت حضرت ابراہیم علیہ السلام کے کلام کا جز نہیں معلوم ہوتی بلکہ اس کا مضمون صاف ظاہر کر رہا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا اپنا ارشاد ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

(٩٠ تا ١٠١) دنیا میں جن لوگوں نے جنت میں داخل ہونے کے لائق کام کئے جنت کو سنوار کر ان پرہیز گاروں کے روبرو لایا جائے گا اور دوزخ کو گمراہوں کے سامنے کیا جائے گا اور نکلے گی دوزخ میں سے ایک گردن پھر اس طرح چیخے گی کہ دل ہل جاویں گے یہ جھڑکی کے طور پر دوزخیوں سے وہ آگ کی گردن کہے گی کہ کہاں ہیں وہ جن کو تم پوجتے تھے اللہ کو چھوڑ کر پھر اوندھے ڈالے جاویں گے دوزخ میں سب گمراہ اور تمام لشکر شیطان کا جب وہ اس دوزخ میں جھگڑیں گے تو بہکنے والے بہکانے والوں سے کہیں گے قسم خدا کی ہم کھلی گمراہی میں تھے جبکہ برابر کرتے تھے ہم تم کو رب العالمین کے ساتھ اور کہیں گے نہیں بہکایا ہم کو راہ نیک سے مگر انہیں مجرموں نے اب کوئی نہیں ہماری سفارش کرنے والا اور نہیں کوئی دوست ہمارا محبت کرنے والا۔ حیم سے مطلب قریب کا رشتہ دار ہے پل صراط اس پل کا نام ہے جو جنت اور دوزخ کے درمیان میں ہے جو کوئی جنت میں داخل ہوگا اس کو اس پل پر سے گزرنا پڑے گا صحیح مسلم میں حذیفہ (رض) اور ابوہریرہ (رض) سے جو ١ ؎ روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ اپنے اپنے اعمال کے موافق نیک لوگ اس پل پر سے گزریں گے کچھ لوگ بجلی کی طرح اور کچھ ہوا کی طرح اور کچھ کی پرواز جانوروں کی طرح۔ حاصل کلام یہ ہے کہ ان آیتوں میں جنت کو پرہیزگاروں کے پاس لائے جانے کا جو ذکر ہے یہ روایتیں گویا اس کی تفسیر ہیں جس کا حاصل یہ ہے کہ پل صراط پر جیسے جس کی چال ہوگی ویسی اس کو جنت پاس معلوم ہوگی صحیح مسلم کے حوالہ ٢ ؎ عبد اللہ مسعود (رض) کی ایک حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ستر ہزار نکیلیں لگا کر دوزخ کو میدان حشر میں لایا جائے گا۔ ان آیتوں میں دوزخ کے سامنے لائے جانے کا جو ذکر ہے یہ حدیث گویا اس کی تفسیر ہے دوزخ کی گردن کے نکلنے کا ذکر ترمذی میں ابوہریرہ (رض) کی معتبر حدیث میں آیا ہے۔ (١ ؎ الترغیب والترہیب ص ٤٢٧ ج باب الحوض والمیزان والصراط ‘ ) (٢ ؎ جامع ترمذی باب ماجاء فی صفۃ اہل النار )

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(26:90) ازلفت۔ ماضی مجہول واحد مؤنث غائب۔ ازلاف (افعال مصدر۔ وہ قریب لائی گئی ۔ یہاں مستقبل کے معنی میں استعمال ہوا ہے بمعنی وہ قریب لائی جائے گی۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

4۔ تاکہ اس کو دیکھیں اور یہ معلوم کر کے کہ ہم اس میں جاویں گے خوش ہوں۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

وازلفت ……من المومنین (٩٨) جنت کو ایسے لوگوں کے بالکل قریب کر دیاج ائے گا جو خدا کے عذاب سے ڈرتے تھے اور جہنم پرت بھی پردہ اٹھا دیا جائے گا بہکے ہوئے سرکش گمراہوں کے لئے بالکل صاف صاف نظر آئے گی ، وہ لوگ جنہوں نے راستہ گم کردیا تھا اور اس دن کو جھٹلاتے تھے۔ اب وہ اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ یہاں اب ان پر لعنت و ملامت ہوگی اور قبل اس کے کہ انہیں اس میں اوپر نیچے گرا دیا جائے۔ ان سے پوچھا جائے گا کہ یہ لوگ جن معبودوں کی بندگی کرتے تھے ، وہ کہاں ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قصے کی مناسبت سے یہاں یہ سوال لایا گیا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے ساتھ ایسا ہی مکالمہ کیا تھا کہ آیا یہ بت سنتے بھی ہیں یا نفع و نقصان ہی دے سکتے ہیں۔ اب قیامت میں ان سے کہا جائے گا۔ اینما کنتم تعبدون (٢٦ : ٩٢) من دون اللہ (٢٦ : ٩٣) ” کہ اللہ کے سوا تم جن کی پوجا کرتے تھے وہ کہاں ہیں۔ “ ھل ینصرونکم او ینتصرون (٢٦ : ٩٣) ” کیا وہ تمہارے کچھ مدد کرسکتے ہیں یا اپنا بچائو کرسکتے ہیں۔ “ اس کے بعد ان کا کوئی جواب سامنے نہیں آتا نہ ان کے جواب کا انتظار کیا جاتا ہے۔ یہاں تو محض سوال کرنا ہی مطلوب تھا ، صرف سوال ہی سے سرکوبی اور ملامت مطلوب تھی۔ فکبکبوا فیھا ھم والغاون (٢٦ : ٩٣) وجنود ابلیس اجمعون (٢٦ : ٩٥) ” پھر وہ معبود ، یہ بہکے ہوئے لوگ اور ابلیس کے لشکر سب کے سب اس میں اوپرتلے دھکیل دیئے جائیں گے۔ ‘ لفظ کمبکبوا کے تلفظ ہی سے اور اس کی صوتی شوکت سے ہی یہ تاثر ملتا ہے کس طرح انہیں دفع کیا جاتا ہے ، کس طرح جہنم کے دھانے سے نیچے بےرحمی کے ساتھ گرایا جاتا ہے ، بغیر کسی ترتیب اور رعایت کے یہ لوگ اوپر تلے کرتے ہیں اور اس پورے عمل سے ایک کبکبہ اور ایک غلفلہ بلند ہوتا ہے۔ جس طرح دریا کا کوئی بلند کنارہ گرتا ہے اور اس کے کرنے کی ڈوبی ہوئی آواز بلند ہوتی ہے۔ کبکبوا ایسا ہی لفظ ہے جس کے تلفظ ہی سے مفہوم ذہن کی طرف دوڑتا ہے۔ یہ چونکہ گمراہ اور سرکش تھے اس لئے ان کے ساتھ سب سرکش گرائے گئے اور شیطان کے لشکر کے لشکر لائے جاتے ہیں اور گرائے جاتے ہیں اور ان کے گرنے سے کبکبہ اور غلغلہ بلند ہوتا ہے۔ یہاں مخصوص مجرمین کو پہلے خصوصیت کے ساتھ گرایا جائے اور بعد میں عام گرانی شروع ہوگی۔ اب یہ لوگ جہنم میں پڑے ہیں مگر مکالمہ بھی سنائی دیتا ہے۔ یہ اپنے بتوں اور الموں کے بارے میں اب یوں تبصرے کرتے ہیں۔ تاللہ ان کنا لفی ضلل مبین (٢٦ : ٩٨) اذنسوبکم برب العلمین (٢٦ : ٩٨) ” یہ بہکے ہوئے لوگ ان مبعودوں سے کہیں گے خدا کی قسم ہم تو تصریح گمرایہ میں مبتلا تھے جبکہ تم کو رب العالمین کی برابری کا درجہ دے رہے تھے۔ “ تمہاری عبادت بھی رب العالمین کی عبادت کی طرح کرتے تھے۔ یا تو رب العالمین کے ساتھ تمہاری عبادت کرتے تھے یا اس سے الگ۔ اب تو یہ لوگ جہنم میں یہ بات کہہ رہے ہیں لیکن اس کا فائدہ کیا ہے ؟ یہ تو سب ذمہ داری ان لوگوں پر ڈال رہے ہیں جنہوں نے ان کو گمراہ کیا تھا۔ جنہوں نے ان کو گمراہ کیا اور راہ راست کی طرف آنے سے روک دیا لیکن جب یہ جہنم میں قرار پکڑیں گے تو ہوش آئے گا کہ اب تو وقت گزر گیا ہے ۔ اور یہ واویلا بعد از وقت ہے۔ اب اگر ہم ذمہ داریاں تقسیم بھی کردیں تو فائدہ کیا ہوگا۔ فما لنا من شافعین (٢٦ : ١٠٠) ولا صدیق حمیم (٢٦ : ١٠١) ” اب نہ ہمارا کوئی سفارشی ہے اور نہ کوئی جگری دوست۔ “ اب نہ الہ ہیں جو سفارش کریں۔ نہ دوست ہیں جو کام آئیں۔ اگر سفارش نہیں ہے تو کیا ہم دنیا کی طرف لوٹ نہیں سکتے کہ وہاں دوبارہ جا کر درست رویہ اختیار کریں۔ فلو ان لنا کرہ فنکون من المومنین (٢٦ : ١٠٢) ” کاش ہمیں ایک دفعہ پھر پلٹنے کا موقعہ مل جائے تو ہم مومن ہوں “۔ مگر یہ تو تمناہی تمنا ہوگی۔ نہ واپسی ہوگی ، نہ سفارش ہوگی۔ یہ ہوگا یوم الدین۔ اب آخری تبصرہ !

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

90۔ اور پرہیز گاروں اور متقیوں کے لئے جنت قریب کردی جائے گی یعنی وہ دن ایسا ہوگا کہ جنت متقیوں کے لئے یعنی جو لوگ شرک سے پرہیز کرتے ہیں مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں سے جنت قریب کردی جائے گی تاکہ ان کو خوشی ہو۔