Surat us Shooaraa

Surah: 26

Verse: 92

سورة الشعراء

وَ قِیۡلَ لَہُمۡ اَیۡنَمَا کُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَ ﴿ۙ۹۲﴾

And it will be said to them, "Where are those you used to worship

اور ان سے پوچھا جائے گا کہ جن کی تم پوجا کرتے رہے وہ کہاں ہیں؟

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

مِن دُونِ اللَّهِ هَلْ يَنصُرُونَكُمْ أَوْ يَنتَصِرُونَ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَقِيْلَ لَهُمْ اَيْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْبُدُوْنَ ۔۔ : ” یَنْتَصِرُوْنَکُمْ “ ” اِنْتَصَرَ یَنْتَصِرُ “ (افتعال) کا معنی اپنا بچاؤ کرنا بھی ہے اور بدلا لینا بھی، یعنی ان گمراہوں سے کہا جائے گا کہ کہاں ہیں وہ جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے تھے، کیا وہ تمہاری مدد کرتے ہیں، یا تمہارا بدلا لیتے ہیں، یا کم از کم اپنا بچاؤ ہی کرتے ہیں ؟

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَقِيْلَ لَہُمْ اَيْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْبُدُوْنَ۝ ٩٢ۙ عبد العُبُودِيَّةُ : إظهار التّذلّل، والعِبَادَةُ أبلغُ منها، لأنها غاية التّذلّل، ولا يستحقّها إلا من له غاية الإفضال، وهو اللہ تعالی، ولهذا قال : أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] . ( ع ب د ) العبودیۃ کے معنی ہیں کسی کے سامنے ذلت اور انکساری ظاہر کرنا مگر العبادۃ کا لفظ انتہائی درجہ کی ذلت اور انکساری ظاہر کرنے بولا جاتا ہے اس سے ثابت ہوا کہ معنوی اعتبار سے العبادۃ کا لفظ العبودیۃ سے زیادہ بلیغ ہے لہذا عبادت کی مستحق بھی وہی ذات ہوسکتی ہے جو بےحد صاحب افضال وانعام ہو اور ایسی ذات صرف الہی ہی ہے اسی لئے فرمایا : أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٩٢۔ ٩٣) اور بتوں کے پجاریوں سے کہا جائے گا کہ دنیا میں تم جن بتوں کی عبادت کیا کرتے تھے وہ کہاں گئے کیا وہ تمہاری عذاب الہی سے حفاظت کرسکتے ہیں یا عذاب الہی سے خود کا ہی بچاؤ کرسکتے ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(26:92) اینما : این اور ما سے مرکب ہے این کہاں۔ ما موصولہ ہے کہاں ہیں (جن کی تم پوجا کیا کرتے تھے) ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : گمراہ لوگوں سے قیامت کے دن سوال۔ حساب و کتاب کا فیصلہ ہوجانے کے بعد گمراہ لوگوں سے سوال کیا جائے گا کہ جن کی تم عبادت کیا کرتے تھے آج وہ کہاں ہیں ؟ کیا اللہ تعالیٰ کے سوا وہ تمہاری مدد کرسکتے ہیں یا کسی قسم کا بدلہ لے سکتے ہیں ؟ قیامت کے دن گمراہ پیر اور ان کے مرید، عابد اور معبود لیڈر اور ان کے ور کروں کو ایک دوسرے کے سامنے کھڑا کر کے کہا جائے گا کہ ایک دوسرے کی مدد کرسکتے ہو تو کرو۔ لیکن کوئی کسی کی مدد نہیں کرسکے گا پھر عابد اور معبود تمام کو اوندھے منہ جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ جن کے ہاتھ پاؤں چومے جاتے تھے جن کے قول وعمل کو سند مانا جاتا تھا، جن کے حضور نذریں پیش کی جاتی تھیں۔ جب قیامت کے دن حقیقت سامنے آئے گی، ہر پیروی کرنے والوں کو معلوم ہوجائے گا۔ کہ ہمارے رہبر ہمیں کہاں لے آئے ہیں۔ ور کر اور مرید بدکردار پیروں اور لیڈروں کو مجرم ٹھہرائیں گے اور ان پر لعنت بھیجیں گے۔ قرآن مجید میں جگہ جگہ عالم آخرت کا یہ عبرت ناک نقشہ کھینچا گیا ہے تاکہ اندھی تقلید کرنے والے دنیا میں آنکھیں کھولیں اور کسی کے پیچھے چلنے سے پہلے دیکھ لیں کہ وہ ٹھیک بھی جا رہا ہے یا نہیں۔ (وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا رَبَّنَآ اَرِنَا الَّذَیْنِ اَضَلَّانَا مِنَ الْجِنِّ وَالْاِِنْسِ نَجْعَلْہُمَا تَحْتَ اَقْدَامِنَا لِیَکُوْنَا مِنَ الْاَسْفَلِیْنَ ) [ حٰم السجدہ : ٢٩] ” کافر اس وقت کہیں گے کہ اے پروردگار ان جنوں اور انسانوں کو ہمارے سامنے لا جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا تاکہ ہم انہیں پاؤں تلے روند ڈالیں وہ ذلیل ہو کر رہیں۔ “ (وَ قَالُوْا رَنَآ اِنَّآ اَطَعْنَا سَادَتَنَا وَ کُبَرَآءَ نَا فَاَضَلُّوْنَا السَّبِیْلَا۔ رَبَّنَآ اٰتِھِمْ ضِعْفَیْنِ مِنَ الْعَذَابِ وَ الْعَنْھُمْ لَعْنًا کَبِیْرًا) [ الاحزاب : ٦٧۔ ٦٨] ” وہ کہیں گے اے رب ہم نے اپنے سرداروں اور بڑوں کی اطاعت کی اور انہوں نے ہم کو سیدھے راستے سے بھٹکا دیا۔ اے رب ان کو دوگنا عذاب دے اور ان پر لعنت برسا۔ “ (کُلَّمَا دَخَلَتْ اُمَّۃٌ لَّعَنَتْ اُخْتَھَاحَتّآی اِذَا ادَّارَکُوْا فِیْھَا جَمِیْعًاقَالَتْ اُخْرٰیھُمْ لِاُوْلٰھُمْ رَبَّنَا ھآؤُلَآءِ اَضَلُّوْنَا فَاٰتِھِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ قَالَ لِکُلٍّ ضِعْفٌ وَّ لٰکِنْ لَّا تَعْلَمُوْن) [ الاعراف : ٣٨] ” ہر گروہ جب جہنم میں داخل ہوگا تو اپنے سے پہلے لوگوں پر لعنت کرے گا یہاں تک کہ جب سب وہاں جمع ہوجائیں گے تو بعد میں آنے والا گروہ پہلے گروہ کے متعلق کہے گا کہ اے ہمارے رب ! یہ ہیں وہ لوگ جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا۔ انہیں آگ کا دوہرا عذاب دیا جائے۔ رب تعالیٰ فرمائے گا سب کے لیے دوہرا عذاب ہے مگر تم جانتے نہیں ہو۔ “ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن غیروں کی عبادت کرنے والوں کو سوال کریں گے۔ ٢۔ کیا اللہ کے سوا کوئی تمہاری مدد کرسکتا ہے یا بدلہ لے سکتا ہے۔ ٣۔ گمراہ لوگوں کو شیطان اور ان کے معبودوں سمیت جہنم میں اوندھے منہ پھینکا جائے گا۔ تفسیر بالقرآن قیامت کے دن گمراہ پیروں اور مریدوں، لیڈروں اور ور کروں، مقتدی اور برے علماء کا آپس میں تکرار کرنا : ١۔ جہنم میں مرید، پیروں، ور کر، لیڈروں سے کہیں گے کہ ہم تمہارے تابع تھے کیا تم اللہ کے عذاب کا کچھ حصہ دور کرسکتے ہو۔ (ابراہیم : ٢١) ٢۔ جب جہنمی اپنے سے پہلے لوگوں کو دیکھیں گے تو کہیں گے انہوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا انہیں دوگنا عذاب دیا جائے۔ (الاعراف : ٣٨) ٣۔ قیامت کے دن وہ ایک دوسرے کا انکار کریں گے اور ایک دوسرے پر پھٹکار کریں گے۔ (العنکبوت : ٢٥) ٤۔ کاش آپ ظالموں کو اس وقت دیکھیں جب وہ اپنے رب کے سامنے کھڑے ہو نگے تو ایک دوسرے کے سامنے تکرار کرتے ہوئے کمزور اپنے بڑوں سے کہیں گے کہ اگر تم نہ ہوتے تو ہم مومن ہوتے جب کہ ان کے بڑے اس سے انکاری ہونگے (سبا : ٣٢۔ ٣١) ٥۔ قیامت کے دن پیروکار کہیں گے اگر دنیا میں جانا ہمارے لیے ممکن ہو تو ہم تم سے براءت کا اظھار کریں گے (البقرۃ : ١٦٥) ٦۔ قیامت کے دن پیشوا اپنے پیرو کاروں سے براءت کا اظہار کریں گے۔ (البقرۃ : ١٦٦) ٧۔ جہنم میں چھوٹے، بڑوں سے کہیں گے کہ ہم تمہارے تابع تھے کیا تم ہمارے عذاب سے کچھ کم کرسکتے ہو۔ بڑے کہیں گے کہ ہم سب جہنم میں رہیں گے۔ (المومن : ٤٧۔ ٤٨)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

دوزخ میں گمراہوں کا پچھتانا اور آپس میں جھگڑنا نیز دنیا میں واپس آنے کی آرزو کرنا ان آیات میں اولاً تو قیامت کے دن کا ایک منظر بیان فرمایا ہے اور وہ یہ کہ اس دن متقیوں کے لیے جنت قریب کردی جائے گی اور گمراہ لوگوں کے لیے دوزخ ظاہر کردی جائے گی جس کی وجہ سے اہل ایمان خوش ہوجائیں گے اور اہل کفر ڈر جائیں گے ثانیاً یوں فرمایا کہ کافروں سے سوال کیا جائے گا کہ اللہ کے سوا جو تم نے معبود بنا رکھے ہیں وہ کہاں ہیں ؟ تمہیں تو ان سے بڑی امیدیں وابستہ تھیں، وہ یہاں تمہاری مدد نہیں کرسکتے تمہاری تو کیا مدد کرتے عذاب میں خودمبتلا ہونے والے ہیں اس سے اپنے کو بچا نہیں سکتے اس گفتگو کے بعد ان مشرکوں کو اور ان کے علاوہ دوسرے تمام گمراہوں کو اوندھے منہ کر کے دوزخ میں ڈال دیا جائے گا ثالثاً یہ فرمایا کہ جب وہ لوگ دوزخ میں ڈال دیئے جائیں گے تو آپس میں جھگڑا کریں گے غیر اللہ کی عبادت کرنے والے مشرکین اول تو اس بات کو تسلیم کریں گے کہ واقعی ہم کھلی گمراہی میں تھے اور اس بات کو اللہ کی قسم کھا کر بیان کریں گے اور اپنے معبودوں سے کہیں گے ہم نے جو تمہیں رب العالمین کے برابر قرار دیا یہ صریح گمراہی تھی وہاں تو ہم مجرموں کی بات مانتے تھے جو گمراہی کے بانی اور داعی تھے آج معلوم ہوا کہ انہیں مجرموں نے ہمارا ناس کھویا اور ہمیں بہکایا اب یہاں مصیبت میں گرفتار ہوگئے عذاب سے چھٹکارے کا کوئی راستہ نہیں یہاں نہ کوئی سفارشی ہے نہ مخلص دوست ہے بہکانے والوں نے ہمیں بہکایا اور ہمارا ناس کھویا کاش اگر ہمیں دنیا میں واپس جانا نصیب ہوجاتا تو ہم ایمان والوں میں شامل ہوجاتے اور کسی کے سمجھانے بجھانے سے کفر و شرک اختیار نہ کرتے (لیکن وہاں سے واپس آنے کا کوئی راستہ نہیں ہے ہمیشہ کے لیے عذاب ہی عذاب ہے) ۔ (اِِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لاآیَۃً ) (بلاشبہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے واقعہ میں مشرکین کے مبتلائے عذاب ہونے کی سچی خبر میں ایک بڑی عبرت ہے) ۔ (وَّمَا کَانَ اَکْثَرُھُمْ مُؤْمِنِیْنَ ) (اور ان عبرت کی باتوں کے باو جود مشرکین میں سے اکثر ایمان لانے والے نہیں ہیں) (وَاِِنَّ رَبَّکَ لَہُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ ) (اور بلاشبہ آپ کا رب عزیز ہے رحیم ہے بڑا زبردست ہے) ۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(92) اور ان منکروں اور گمراہوں سے کہاجائے گا کہ جن کو تم اللہ کے سوا پوجا کرتے تھے وہ کہاں ہیں یعنی بتائو و ہ تمہارے معبودان باطلہ کہاں ہیں۔