Surat us Shooaraa

Surah: 26

Verse: 96

سورة الشعراء

قَالُوۡا وَ ہُمۡ فِیۡہَا یَخۡتَصِمُوۡنَ ﴿ۙ۹۶﴾

They will say while they dispute therein,

آپس میں لڑتے جھگڑتے ہوئے کہیں گے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

تَاللَّهِ إِن كُنَّا لَفِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

قَالُوْا وَهُمْ فِيْهَا يَخْتَصِمُوْنَ ۔۔ : ” اِنْ كُنَّا لَفِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ “ اصل میں ”إِنَّا کُنَّا لَفِيْ ضَلاَلٍ مُّبِیْنٍ “ ہے۔ دلیل اس کی ” فِيْ “ پر آنے والا لام ہے۔ یعنی وہ جہنم میں اپنے معبودوں سے جھگڑتے ہوئے ان سے کہیں گے کہ اللہ کی قسم ! ہم یقیناً کھلی گمراہی میں تھے، جب ہم تمہیں رب العالمین کے برابر ٹھہراتے تھے، اس کے بعض اختیارات اور صفات تمہارے لیے بھی مانتے تھے، تمہارے لیے حلال و حرام کرنے کے اختیار کا عقیدہ رکھتے تھے، تمہیں بھی عالم الغیب اور مختار کل سمجھتے تھے، تمہیں بگڑی بنانے والے، فریاد کو پہنچنے والے، اولاد عطا کرنے والے اور شفا دینے والے سمجھتے تھے۔ 3 یاد رہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایسے الفاظ بولنے سے بھی منع فرمایا جن سے مخلوق کی خالق کے ساتھ کسی طرح بھی برابری ظاہر ہوتی ہو۔ حذیفہ (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( لَا تَقُوْلُوْا مَا شَاء اللّٰہُ وَ شَاءَ فُلَانٌ وَلٰکِنْ قُوْلُوْا مَا شَاء اللّٰہُ ثُمَّ شَاءَ فُلَانٌ ) [ أبوداوٗد، الأدب، باب لا یقال خبثت نفسي : ٤٩٨٠، قال الألباني صحیح ] ” یہ مت کہو کہ جو اللہ نے چاہا اور فلاں نے چاہا، بلکہ یوں کہو کہ جو اللہ نے چاہا، پھر فلاں نے چاہا۔ “ ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا : ( مَا شَاء اللّٰہُ وَ شِءْتَ ) ” جو اللہ چاہے اور آپ چاہیں۔ “ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( جَعَلْتَ لِلّٰہِ نِدًّا )” تم نے اللہ کا شریک بنادیا۔ “ یوں کہو : ( مَا شَاء اللّٰہُ وَحْدَہُ )” جو اللہ اکیلا چاہے۔ “ [ الأدب المفرد : ١؍٢٧٤، ح : ٧٨٣، وقال الألباني صحیح ]

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

قَالُوْا وَہُمْ فِيْہَا يَخْتَصِمُوْنَ۝ ٩٦ۙ خصم الخَصْمُ مصدر خَصَمْتُهُ ، أي : نازعته خَصْماً ، يقال : خاصمته وخَصَمْتُهُ مُخَاصَمَةً وخِصَاماً ، قال تعالی: وَهُوَ أَلَدُّ الْخِصامِ [ البقرة/ 204] ، وَهُوَ فِي الْخِصامِ غَيْرُ مُبِينٍ [ الزخرف/ 18] ، ثم سمّي المُخَاصِم خصما، واستعمل للواحد والجمع، وربّما ثنّي، وأصل المُخَاصَمَة : أن يتعلّق كلّ واحد بخصم الآخر، أي جانبه وأن يجذب کلّ واحد خصم الجوالق من جانب، وروي : ( نسیته في خصم فراشي) «1» والجمع خُصُوم وأخصام، وقوله : خَصْمانِ اخْتَصَمُوا [ الحج/ 19] ، أي : فریقان، ولذلک قال : اخْتَصَمُوا وقال : لا تَخْتَصِمُوا لَدَيَّ [ ق/ 28] ، وقال : وَهُمْ فِيها يَخْتَصِمُونَ [ الشعراء/ 96] ، والخَصِيمُ : الكثير المخاصمة، قال : هُوَ خَصِيمٌ مُبِينٌ [ النحل/ 4] ، والخَصِمُ : المختصّ بالخصومة، قال : بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُونَ [ الزخرف/ 58] . ( خ ص م ) الخصم ۔ یہ خصمتہ کا مصدر ہے جس کے معنی جھگڑنے کے ہیں کہاجاتا ہے خصمتہ وخاصمتہ مخاصمۃ وخصاما کسی سے جھگڑا کر نا قرآن میں ہے :۔ وَهُوَ أَلَدُّ الْخِصامِ [ البقرة/ 204] اور وہ حالانکہ سخت جھگڑا لو ہے ۔ وَهُوَ فِي الْخِصامِ غَيْرُ مُبِينٍ [ الزخرف/ 18] اور جھگڑنے کے وقت بات نہ کرسکے ۔ اور مخاصم کو خصم کہا جات ہے ، اور خصم کا لفظ واحد جمع دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے مگر کبھی تثنیہ بھی آجاتا ہے۔ اصل میں خصم کے معنی کنارہ کے ہیں ۔ اور مخاصمت کے معنی ایک دوسرے سے کو کنارہ سے پکڑنے کے ہیں ۔ اور بوری کو کونے سے پکڑکر کھینچنے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے ۔ ایک حدیث میں ہے :۔ (114) نسی تھا فی خصم فراشی کہ میں اسے اپنے بسترہ کے کونے میں بھول آیا ہوں خصم کی جمع خصوم واخصام آتی ہے اور آیت کریمہ ؛۔ اخْتَصَمُوا[ الحج/ 19] دوفریق جھگڑتے ہیں ۔ میں خصما ن سے دو فریق مراد ہیں اسی لئے اختصموا آیا ہے ۔ الاختصام ( افتعال ) ایک دوسرے سے جھگڑنا ۔ قرآن میں ہے :۔ لا تَخْتَصِمُوا لَدَيَّ [ ق/ 28] ہمارے حضور رد کد نہ کرو ۔ وَهُمْ فِيها يَخْتَصِمُونَ [ الشعراء/ 96] ۔۔۔۔ وہ آپس میں جھگڑیں گے ۔ الخصیم ۔ جھگڑا لو بہت زیادہ جھگڑا کرنے والا جیسے فرمایا :۔ هُوَ خَصِيمٌ مُبِينٌ [ النحل/ 4] مگر وہ ( اس بارے میں ) علانیہ جھگڑنے لگا ۔ الخصم سخٹ جھگڑالو جس کا شیوہ ہ جھگڑنا ہو ۔ قرآن میں ہے :َ بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُونَ [ الزخرف/ 58] حقیقت یہ ہے ۔ یہ لوگ ہیں ہی جھگڑا لو، لو ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٩٦۔ ٩٧) اور دوزخ میں کفار اپنے معبودوں اور رؤساء اور ابلیس کے لشکر سے کہیں گے خدا کی قسم بیشک ہم دنیا میں کھلی گمراہی میں تھے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(26:96) قالوا : ای الغاو ون ضمیر کا مرجع گمراہ پجاری ہیں جو معبود ان باطل کی پوجا کرتے رہے تھے۔ وھم فیہا یختصمون۔ میں واؤ حالیہ ہے فیہا میں ھا ضمیر جحیم کی طرف راجع ہے اور ہم ضمیر جمع مذکر غائب گمراہ پجاریوں اور شیاطین کی طرف راجع ہے۔ یا گمراہ پجاریوں اور معبوان باطل کی طرف راجع ہے ۔ یا ان تینوں گروہوں کے لئے ہے ۔ یختصمون مضارع جمع مذکر غائب وہ جھگڑا کرتے ہوں گے اختصام (افتعال) سے یہ جملہ حالیہ ہے یعنی جب یہ اصنام اور ان کے پجاری اور شیاطین دوزخ اوندھے بل گرادیئے جائیں گے تو وہ آپس میں جھگڑ رہے ہوں گے ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : جہنمیوں کا آپس میں جھگڑا کرنا۔ جہنمی جب جہنم میں داخل کیے جائیں گے تو ان کی ذلت و رسوائی میں اضافہ کرنے اور ایک حقیقت کا اعتراف کروانے اور ایک دوسرے کے ساتھ جھگڑنے کے لیے انہیں آمنے سامنے کھڑا کیا جائے گا۔ مرید اپنے پیروں سے، ور کر اپنے لیڈروں سے، مقتدی اپنے اماموں سے قسمیں اٹھا اٹھا کر کہیں گے کہ ہم تمہاری وجہ سے گمراہ ہوئے کیونکہ ہم تمہیں رب العالمین کے برابر سمجھ بیٹھے تھے۔ اللہ تعالیٰ کے برابر سمجھنے کی کئی صورتیں ہیں بڑوں کے سامنے جھکنا، سجدہ کرنا دینوی مفاد کی خاطر ان کے غیر شرعی حکم ماننا اور عقیدت میں ان کی ایسی تعظیم کرنا جس سے شریعت نے منع کر رکھا ہے۔ جہنمی کھلے الفاظ میں ان باتوں کا اقرار کرینگے اس کے ساتھ ہی وہ اپنے رب سے فریاد کریں گے کہ اے رب ! ہمارے بڑوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا۔ جہنمیوں کا سب سے بڑا اقرار شرک کے بارے میں ہوگا جو دنیا میں اپنے بڑوں کے بارے میں عقیدہ رکھتے تھے اور ان کے بڑے بھی انھیں کہا کرتے تھے کہ ہم تمہیں اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے بچالیں گے۔ جہنمی صاف طور پر اعتراف کریں گے کہ ہم اپنے معبودوں کو رب العالمین کے برابر سمجھا کرتے تھے۔ جس بنا پر وہ کسی کو داتا کہتے اور سمجھتے تھے، کسی کو دستگیر کہتے، کسی کو حاجت روا مشکل کشا جان کر اس کے حضور نذرانے پیش کرتے یہاں تک کہ فوت شدگان کے ساتھ بھی وہ اس قسم کا عقیدہ اور عقیدت رکھتے تھے۔ مسائل ١۔ جہنم میں جہنمی ایک دوسرے سے جھگڑا کریں گے۔ ٢۔ جہنمی قسمیں اٹھا اٹھا کر کہیں گے کہ ہمارے بڑوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا۔ ٣۔ مشرک اس بات کا اقرار کریں گے کہ ہم زندہ اور مردہ بزرگوں کو رب العالمین کے برابر سمجھتے تھے۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(96) جہنم میں جانے کے بعدیہ گمراہ مشرک ان فرضی معبودوں سے جھگڑا کرتے ہوئے کہیں گے ۔