Surat Aal e Imran

Surah: 3

Verse: 185

سورة آل عمران

کُلُّ نَفۡسٍ ذَآئِقَۃُ الۡمَوۡتِ ؕ وَ اِنَّمَا تُوَفَّوۡنَ اُجُوۡرَکُمۡ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ ؕ فَمَنۡ زُحۡزِحَ عَنِ النَّارِ وَ اُدۡخِلَ الۡجَنَّۃَ فَقَدۡ فَازَ ؕ وَ مَا الۡحَیٰوۃُ الدُّنۡیَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الۡغُرُوۡرِ ﴿۱۸۵﴾

Every soul will taste death, and you will only be given your [full] compensation on the Day of Resurrection. So he who is drawn away from the Fire and admitted to Paradise has attained [his desire]. And what is the life of this world except the enjoyment of delusion.

ہر جان موت کا مزہ چکھنے والی ہے اور قیامت کے دن تم اپنے بدلے پورے پورے دیئے جاؤ گے پس جو شخص آگ سے ہٹا دیا جائے اور جنّت میں داخل کر دیا جائے بیشک وہ کامیاب ہوگیا اور دنیا کی زندگی تو صرف دھوکے کی جنس ہے

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Every Soul Shall Taste Death Allah says; كُلُّ نَفْسٍ ذَايِقَةُ الْمَوْتِ ... Everyone shall taste death. Allah issues a general and encompassing statement that every living soul shall taste death. In another statement, Allah said, كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ وَيَبْقَى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلْـلِ وَالاِكْرَامِ Whatsoever is on it (the earth) will perish. And the Face of your Lord full of majesty and honor will remain forever. (55:26-27) Therefore, Allah Alone is the Ever-Living Who never dies, while the Jinn, mankind and angels, including those who carry Allah's Throne, shall die. The Irresistible One and Only, will alone remain for ever and ever, remaining Last, as He was the First. This Ayah comforts all creation, since every soul that exists on the earth shall die. When the term of this life comes to an end and the sons of Adam no longer have any new generations, and thus this world ends, Allah will command that the Day of Resurrection commence. Allah will then recompense the creation for their deeds, whether minor or major, many or few, big or small. Surely, Allah will not deal unjustly with anyone, even the weight of an atom, and this is why He said, ... وَإِنَّمَا تُوَفَّوْنَ أُجُورَكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ... And only on the Day of Resurrection shall you be paid your wages in full. Who Shall Gain Ultimate Victory Allah said, ... فَمَن زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ ... And whoever is moved away from the Fire and admitted to Paradise, he indeed is successful. meaning, whoever is kept away from the Fire, saved from it and entered into Paradise, will have achieved the ultimate success. Ibn Abi Hatim recorded that Abu Hurayrah said that the Messenger of Allah said, مَوْضِعُ سَوْطٍ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا اقْرَأُوا إِنْ شِيْتُمْ A place in Paradise as small as that which is occupied by a whip is better than the world and whatever is on its surface. Read if you will, فَمَن زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ (And whoever is removed away from the Fire and admitted to Paradise, he indeed is successful). This was collected in the Two Sahihs, but using another chain of narration and without the addition of Ayah. Abu Hatim Ibn Hibban recorded it in his Sahih without the addition as did Al-Hakim in his Mustadrak. Allah said, ... وَما الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلاَّ مَتَاعُ الْغُرُورِ The life of this world is only the enjoyment of deception. belittling the value of this life and degrading its importance. This life is short, little and finite, just as Allah said, بَلْ تُوْثِرُونَ الْحَيَوةَ الدُّنْيَا وَالاٌّخِرَةُ خَيْرٌ وَأَبْقَى (Nay, you prefer the life of this world. Although the Hereafter is better and more lasting. (87:16-17) and, وَمَأ أُوتِيتُم مِّن شَىْءٍ فَمَتَـعُ الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَزِينَتُهَا وَمَا عِندَ اللَّهِ خَيْرٌ وَأَبْقَى And whatever you have been given is an enjoyment of the life of (this) world and its adornment, and that (Hereafter) which is with Allah is better and will remain forever. (28:60) A Hadith states, وَاللهِ مَا الدُّنْيَا فِي الاْاخِرَةِ إِلاَّ كَمَا يَغْمِسُ أَحَدُكُمْ أُصْبُعَهُ فِي الْيَمِّ فَلْيَنْظُرْ بِمَ تَرْجِعُ إِلَيْه By Allah! This life, compared to the Hereafter, is just as insignificant as when one of you dips his finger in the sea; let him contemplate what his finger will come back with. Qatadah commented on Allah's statement, وَما الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلاَّ مَتَاعُ الْغُرُورِ (The life of this world is only the enjoyment of deception). "Life is a delight. By Allah, other than Whom there is no deity, it will soon fade away from its people. Therefore, take obedience to Allah from this delight, if you can. Verily, there is no power except from Allah." The Believer is Tested and Hears Grieving Statements from the Enemy Allah said,

موت و حیات اور یوم حساب تمام مخلوق کو عام اطلاع ہے کہ ہر جاندار مرنے والا ہے جیسے فرمایا آیت ( كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ 26۝ښ وَّيَبْقٰى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلٰلِ وَالْاِكْرَامِ 27۝ۚ ) 55 ۔ الرحمن:26-27 ) یعنی اس زمین پر جتنے ہیں سب فانی ہیں صرف رب کا چہرہ باقی ہے جو بزرگی اور انعام والا ہے ، پس صرف وہی اللہ وحدہ لا شریک ہمیشہ کی زندگی والا ہے جو کبھی فنا نہ ہو گا ، جن انسان کل کے کل مرنے والے ہیں اسی طرح فرشتے اور حاملان عرش بھی مر جائیں گے اور صرف اللہ وحدہ لا شریک دوام اور بقاء والا باقی رہ جائے گا پہلے بھی وہی تھا اور آخر بھی وہی رہے گا ، جب سب مر جائیں گے مدت ختم ہو جائے گی صلب آدم سے جتنی اولاد ہونے والی تھی ہو چکی اور پھر سب موت کے گھاٹ اتر گئے مخلوقات کا خاتمہ ہو گیا اس وقت اللہ تعالیٰ قیامت قائم کرے گا اور مخلوق کو ان کے کل اعمال کے چوٹے بڑے چھپے کھلے صغیرہ کبیرہ سب کی جزا سزا ملے گی کسی پر ذرہ برابر ظلم نہ ہو گا یہی اس کے بعد کے جملہ میں فرمایا جا رہا ہے ، حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کے بعد ہمیں ایسا محسوس ہوا کہ گویا کوئی آرہا ہے ہمیں پاؤں کی چاپ سنائی دیتی تھی لیکن کوئی شخص دکھائی نہیں دیتا تھا اس نے آکر کہا اے اہل بیت تم پر سلام ہو اور اللہ کی رحمت و برکت ، ہر جان موت کا مزہ چکھنے والی ہے تم سب کو تمہارے اعمال کا بدلہ پورا پورا قیامت کے دن دیا جائے گا ۔ ہر مصیبت کی تلافی اللہ کے پاس ہے ، ہر مرنے والے کا بدلہ ہے اور ہر فوت ہونے والے کا اپنی گم شدہ چیز کو پا لینا ہے اللہ ہی پر بھروسہ رکھو اسی سے بھلی امیدیں رکھو سمجھ لو کہ سچ مچ مصیبت زدہ وہ شخص جو ثواب سے محروم رہ جائے تم پر اللہ کی طرف سے سلامتی نازل ہو اور اس کی رحمتیں اور برکتیں ( ابن ابی حاتم ) حضرت علی کا خیال ہے کہ یہ خضر علیہ السلام تھے حقیقت یہ ہے کہ پورا کامیاب وہ انسان ہے جو جہنم سے نجات پا لے اور جنت میں چلا جائے ، حضور علیہ السلام فرماتے ہیں جنت میں ایک کوڑے جتنی جگہ مل جانا دنیا وما فیہا سے بہتر ہے اگر تم چاہو تو پڑھو آیت ( فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَاُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ ) 3 ۔ آل عمران:185 ) آخری ٹکڑے کے بغیر یہ حدیث بخاری و مسلم وغیرہ میں بھی ہے اور کچھ زیادہ الفاظ کے ساتھ ابن ابی حاتم میں ہے اور ابن مردویہ میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے جس کی خواہش آگ سے بچ جانے اور جنت میں داخل ہو جانیکی ہو اسے چاہئے کہ مرتے دم تک اللہ پر اور قیامت پر ایمان رکھے اور لوگوں سے وہ سلوک کرے جسے خود اپنے پسند کرتا ہو ، یہ حدیث پہلے آیت ( وَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَاَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ ) 3 ۔ آل عمران:102 ) کی تفسیر میں گذر چکی ہے ، مسند احمد میں بھی اور وکیع بن جراح کی تفسیر میں بھی یہی حدیث ہے ۔ اس کے بعد دنیا کی حقارت اور ذلت بیان ہو رہی ہے کہ یہ نہایت ذلیل فانی اور زوال پذیر چیز ہے ارشاد ہے آیت ( بَلْ تُـؤْثِرُوْنَ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا 16۝ڮ وَالْاٰخِرَةُ خَيْرٌ وَّاَبْقٰى 17۝ۭ ) 87 ۔ الاعلیٰ:16 ) یعنی تم تو دنیا کی زندگی پر ریجھے جاتے ہو حالانکہ دراصل بہتری اور بقاء والی چیز آخرت ہے ، دوسری آیت میں ہے تمہیں جو کچھ دیا گیا ہے یہ تو حیات دنیا کا فائدہ ہے اور اس کی بہترین زینت اور باقی رہنے والی تو وہ زندگی ہے جو اللہ کے پاس ہے ، حدیث شریف میں ہے اللہ کی قسم دنیا آخرت کے مقابلہ میں صرف ایسی ہی ہے جیسے کوئی شخص اپنی انگلی سمندر میں ڈبو لے اس انگلی کے پانی کو سمندر کے پانی کے مقابلہ میں کیا نسبت ہے آخرت کے مقابلہ میں دنیا ایسی ہی ہے ، حضرت قتادہ کا ارشاد ہے دنیا کیا ہے ایک یونہی دھوکے کی جگہ ہے جسے چھوڑ چھاڑ کر تمہیں چل دینا ہے اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں کہ یہ تو عنقریب تم سے جدا ہونے والی اور برباد ہونے والی چیز ہے پس تمہیں چاہئے کہ ہوش مندی برتو اور یہاں اللہ کی اطاعت کر لو اور طاقت بھر نیکیاں کما لو اللہ کی دی ہوئی طاقت کے بغیر کوئی کام نہیں بنتا ۔ آزمائش لازمی ہے صبرو ضبط بھی ضروری پھر انسانی آزمائش کا ذکر ہو رہا ہے جیسے ارشاد ہے آیت ( وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوْعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَالْاَنْفُسِ وَالثَّمَرٰتِ ۭ وَبَشِّرِ الصّٰبِرِيْنَ ) 2 ۔ البقرۃ:155 ) مطلب یہ ہے کہ مومن کا امتحان ضرور ہوتا ہے کبھی جانی کبھی مالی کبھی اہل و عیال میں کبھی اور کسی طرح یہ آزمائش دینداری کے انداز کے مطابق ہوتی ہے ، سخت دیندار کی ابتلاء بھی سخت اور کمزور دین والے کا امتحان بھی کمزور ، پھر پروردگار جل شانہ صحابہ کرام کو خبر دیتا ہے کہ بدر سے پہلے مدینہ میں تمہیں اہل کتاب سے اور مشرکوں سے دکھ دینے والی باتیں اور سرزنش سننی پڑے گی ، پھر تسلی دیتا ہوا طریقہ سکھاتا ہے کہ تم صبرو ضبط کر لیا کرو اور پرہیز گاری پر تو یہ بڑا بھاری کام ہے ، حضرت اسامہ بن زید فرماتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب مشرکین سے اور اہل کتاب سے بہت کچھ درگذر فرمایا کرتے تھے اور ان کی ایذاؤں کو برداشت کر لیا کرتے تھے اور رب کریم کے اس فرمان پر عامل تھے یہاں تک کہ جہاد کی آیتیں اتریں ، صحیح بخاری شریف میں اس آیت کی تفسیر کے موقعہ پر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گدھے پر سوار ہو کر حضرت اسامہ کو اپنے بھتیجے بٹھا کر حضرت سعد بن عباد کی عیادت کے لئے بنو حارث بن خزرج کے قبیلے میں تشریف لے چلے یہ واقعہ جنگ بدر سے پہلے کا ہے راستہ میں ایک مخلوط مجلس بیٹھی ہوئی ملی جس میں مسلمان بھی تھے یہودی بھی تھی ۔ مشرکین بھی تھے اور عبداللہ بن ابی بن سلول بھی تھا یہ بھی اب تک کفر کے کھلے رنگ میں تھا مسلمانوں میں حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی تھے ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری سے گردوغبار جو اڑا تو عبداللہ بن ابی سلول نے ناک پر کپڑا رکھ لیا اور کہنے لگا غبار نہ اڑاؤ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پاس پہنچ ہی چکے تھے سواری سے اتر آئے سلام کیا اور انہیں اسلام کی دعوت دی اور قرآن کی چند آیتیں سنائیں تو عبداللہ بول پڑا سنئے صاحب آپ کا یہ طریقہ ہمیں پسند نہیں آپ کی باتیں حق ہی سہی لیکن اس کی کیا وجہ کہ آپ ہماری مجلسوں میں آ کر ہمیں ایذاء دیں اپنے گھر جائیے جو آپ کے پاس آئے اسے سنائیے ۔ یہ سن کر حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا حضور صلی اللہ علیہ وسلم بیشک آپ ہماری مجلسوں میں تشریف لایا کریں ہمیں تو اس کی عین چاہت ہے اب ان کی آپس میں خوب جھڑپ ہوئی ایک دوسرے کو برا بھلا کہنے لگا اور قریب تھا کہ کھڑے ہو کر لڑنے لگیں لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سمجھانے بجھانے سے آخر امن و امان ہو گیا اور سب خاموش ہو گئے ۔ آپ اپنی سواری پر سوار ہو کر حضرت سعد کے ہاں تشریف لے گئے اور وہاں جا کر حضرت سعد سے فرمایا کہ ابو حباب عبداللہ بن ابی سلول نے آج تو اس طرح کیا حضرت سعد نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ جانے دیجئے معاف کیجئے اور درگذر کیجئے قسم اللہ کی جس نے آپ پر قرآن اتارا اسے آپ سے اس لئے بیحد دشمنی ہے اور ہونی چاہئے کہ یہاں کے لوگوں نے اسے سردار بنانا چاہا تھا اسے چودراہٹ کی پگڑی بندھوانے کا فیصلہ ہو چکا تھا ادھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنا نبی برحق بنا کر بھیجا لوگوں نے آپ کو نبی مانا اس کی سرداری جاتی رہی جس کا اسے رنج ہے اسی باعث یہ اپنے جلے دل کے پھپولے پھوڑ رہا ہے جو کہدیا کہدیا آپ اسے اہمیت نہ دیں چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے درذگر کر لیا اور یہی آپ کی عادت تھی اور آپ کے اصحاب کی بھی ، یہودیوں سے مشرکوں سے درذگر فرماتے سنی ان سنی کر دیا کرتے اور اس فرمان پر عمل کرتے ، یہی حکم آیت ( ودکثیر ) میں ہے جو حکم عفو و درگزر کا اس آیت ( ولتسمعن ) میں ہے ۔ بعد ازاں آپ کو جہاں کی اجازت دی گئی اور پہلا غزوہ بدر کا ہوا جس میں لشکر کفار کے سرداران قتل و غارت ہوئے یہ حالت اور شوکت اسلام دیکھ کر اب عبداللہ بن ابی بن سلول اور اس کے ساتھی گھبرائے بجز اس کے کوئی چارہ کار انہیں نظر نہ آیا کہ بیعت کرلیں اور بظاہر مسلمان جائیں ۔ پس یہ کلیہ قاعدہ یاد رکھنا چاہئے کہ ہر حق والے پر جو نیکی اور بھلائی کا حکم کرتا رہے اور جو برائی اور خلاف شرع کام سے روکتا رہے اس پر ضرور مصیبتیں اور آفتیں آتی ہیں اسے چاہئے کہ ان تمام تکلیفوں کو جھیلے اور اللہ کی راہ میں صبر و ضبط سے کام لے اسی کی پاک ذات پر بھروسہ رکھے اسی سے مدد طلب کرتا رہے اور اپنی کامل توجہ اور پورا رجوع اسی کی طرف رکھے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

185۔ 1 اس آیت میں ایک تو اس اٹل حقیقت کا بیان ہے کہ موت سے مفر نہیں۔ دوسرا یہ کہ دنیا میں جس نے اچھا یا برا جو کچھ کیا اس کو اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا، تیسرا کامیابی کا معیار بتایا گیا کہ کامیاب اصل میں وہ ہے جس نے دنیا میں رہ کر اپنے رب کو راضی کرلیا جس کے نتیجے میں جہنم سے دور اور جنت میں داخل کردیا گیا، چوتھا یہ کہ دنیا کی زندگی سامان فریب ہے، جو اس سے دامن بچا کر نکل گیا، وہ خوش نصیب ہے اور جو اس کے فریب میں پھنس گیا وہ ناکام اور نامراد ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٨٣] یعنی موت تو ہر ایک کو آ کے رہے گی اور قیامت کے دن ان یہود کو ان کے اعمال کا بدلہ مل کے رہے گا اور ایک حدیث ہے & من مات فقد قامت قیامتہ & یعنی جو مرگیا اس کی قیامت قائم ہوگئی۔ اس لحاظ سے عذاب وثواب مرنے کے ساتھ ہی عالم برزخ میں شروع ہوجاتا ہے اور کامیابی کا معیار یہ ہے کہ انسان دوزخ کے عذاب سے بچ جائے اور جنت میں داخل ہوجائے۔ اس آیت میں ان متصوفین کا رد موجود ہے، جو یہ کہتے ہیں کہ ہمیں نہ دوزخ کے عذاب سے ڈرنا چاہئے اور نہ جنت کی طلب رکھنی چاہئے۔ بلکہ محض اللہ کی رضا کو ملحوظ رکھ کر اس کی عبادت کرنا چاہئے۔ حالانکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خود اپنے لیے قبر کے عذاب اور دوزخ کے عذاب سے پناہ مانگا کرتے اور جنت کے لیے دعا فرماتے رہے۔ [١٨٤] یعنی دنیا میں کسی پر نعمتوں کی بارش ہونا اس بات کی دلیل نہیں بن سکتا کہ وہ حق پر ہے اور اللہ کے ہاں مقبول بندہ ہے۔ اسی طرح کسی کا مصائب و مشکلات میں مبتلا ہونا بھی اس بات کی دلیل نہیں ہوسکتا کہ اللہ اس سے ناراض ہے یا وہ باطل پر ہے۔ بلکہ بسا اوقات اخری نتائج ان کے برعکس ہوتے ہیں۔ لہذا کسی کو اس دھوکہ میں نہ رہنا چاہئے اور اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ دنیا کی عارضی بہار اور ظاہری زیب وزینت میں اتنی کشش ہے اور اتنی پرفریب ہے جس میں مگن ہو کر انسان بسا اوقات آخرت سے غافل ہوجاتا ہے اور غافل رہتا ہے۔ تاآنکہ جب موت آجاتی ہے تب اس کی آنکھیں کھلتی ہیں کہ مجھے دنیا میں رہ کر کرنا کیا چاہئے تھے اور میں کرتا کیا رہا۔ چناچہ اسی مضمون کی ایک حدیث ہے کہ & الناس نیام اذا ماتوا انتبھوا & (یعنی لوگ سوئے پڑے ہیں جب مریں گے تب ہوشیار ہوں گے) یہ تو دنیا کے دھوکے کا پہلو ہے اور اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ یہ دنیا ہر شخص کے لئے دارالامتحان ہے۔ اس کی زندگی عیش و عشرت میں گزر رہی ہو یا تنگی ترشی میں، وہ خود صحت مند ہو یا بیمار ہو، عالم ہو یا نادان۔ غرضیکہ انسان کی کوئی بھی حالت ہو وہ امتحانی دور سے گزر رہا ہے۔ اس امتحانی دور یا امتحانی پرچے کا آخری وقت اس کی موت ہے۔ موت کے ساتھ ہی اسے یہ از خود معلوم ہوجائے گا کہ وہ اس امتحان میں کامیاب رہا ہے یا ناکام ؟ ساتھ ہی اس کی کامیابی اور ناکامی کے اس پر اثرات مرتب ہونا شروع ہوجائیں گے۔ اور آخرت میں اسے اس کے اعمال کے مطابق اچھا یا برا بدلہ مل کے رہے گا۔ اس لحاظ سے دنیا اور اس کی زندگی بلکہ اس کا ایک ایک لمحہ نہایت قیمتی ہے۔ اور ہر شخص کو اپنی زندگی کے لمحات سے پورا پورا فائدہ اٹھانا چاہئے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

بخیلوں کا حال اور ان کا کفر بیان کرنے کے بعد یہاں بتایا کہ دنیا کے جس مال و متاع کے جمع کرنے کے لیے انسان بخل کرتا ہے، یہ سب کچھ فانی ہے اور باقی نہ رہنے والا ہے اور آخرت کی زندگی ہی باقی اور ابدی ہے۔ لہٰذا انسان کو چاہیے کہ آخرت کی فکر کرے اور اس میں کامیابی کی کوشش کرتا رہے۔ اور یہ جو فرمایا : ” تمہیں تمہارے اجر قیامت کے دن ہی پورے دیے جائیں گے “ تو اس کے معنی یہ ہیں کہ انسان کو دنیا یا برزخ میں بھی کچھ نہ کچھ اعمال کا بدلہ ملتا ہے، مگر پورا بدلہ یعنی پورا ثواب و عقاب قیامت کے دن ہی ملے گا، اس سے پہلے ممکن نہیں۔ اور دنیا کی زندگی محض ” َمَتَاعُ الْغُرُوْر ‘ (دھوکے کا سامان) ہے، اس کی ظاہری زیب و زینت سے دھوکا نہیں کھانا چاہیے، اصل کامیابی تو آخرت کی کامیابی ہے۔ ( لاَ عَیْشَ الاَّ عَیْشَ الْآخِرَہْ )

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Thoughts of the Hereafter heal all sorrows and remove all doubts The sixth verse (185) puts a sharp focus on the ultimate reality of things in a situation when sometime somewhere disbelievers come to enjoy ascendency one way or the other and they have all the luxury they can think of in this world. Contrary to this, Muslims have to face some hardships, some difficulties and a certain paucity of worldly means. There is nothing surprising about it and certainly no occasion to be grieved, for no follower of a faith or philosophy can ignore the reality of life that sorrow and happiness in this world are both short-lived. No living creature can escape death. As for the comfort and discomfort experienced in this world, they vanish, more than often, right there with relevant changes in circumstances - or, just in case, no change takes place during the life of this world, it is certain that everything will end with the knock of death. Therefore, worrying about this short-lived cycle of comfort and discomfort should not become the chronic concern of a wise person. One should, rather, have concern for what would happen after death. So, the verse (185) tells us that every living being shall taste death and once in the Hereafter, there shall come the reward and punish¬ment of deeds which will be severe and long drawn as well. This is what a wise person should worry about and prepare for. Given this rule of conduct, one who stays away from Hell and finds entry into the Paradise is really the successful one. May be this happens at the very beginning as would be the case with the most righteous servants of Allah. Or, it may come to pass after having faced some punishment as would be the case with sinning Muslims. But, Muslims - all of them - will finally have their deliverance from Hell and the blessings of Para¬dise will become theirs for ever. This will be contrary to what happens to disbelievers - Hell will their eternal resting place. If they wax proud over their short-lived worldly gains, they are terribly deceived. That is why it was said at the end of the verse: &And the worldly life is nothing but an asset, full of illusion.& Strange is the anatomy of this deception, for reckless material enjoyments here become the source of great hardships in the Hereafter and conversely, most of the hardships faced here become the treasure of the Hereafter. People of Falsehood hurting people of Truth is a natural phenomena: Patience (Sabr) and piety (Taqwa) cure everything The seventh verse (186) was revealed in the background of a partic¬ular event which has been briefly referred to a little earlier in verse (181). According to relevant details, when verse 245 of Surah al-Baqarah: مَّن ذَا الَّذِي يُقْرِ‌ضُ اللَّـهَ قَرْ‌ضًا حَسَنًا (who is the one who would give Allah a good loan) was revealed, it eloquently equated the giving of charities to the giving of loan to Allah thereby indicating that all givings in charity in the life of this world will be recompensed with a certainty like that of someone returning a loan taken. An ignorant or hostile Jew reacted by commenting in the following words: إِنَّ اللَّـهَ فَقِيرٌ‌ وَنَحْنُ أَغْنِيَاءُ (Allah is poor and we are rich). Sayyidna Abu Bakr (رض) was angry at his effrontery and slapped him. The Jew complained to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . Thereupon, the verse لَتُبْلَوُنَّ فِي أَمْوَالِكُمْ وَأَنفُسِكُمْ (Of course, you shall be tested in your wealth and yourselves) was revealed. This verse instructs Muslims that they should not show weakness when called to stake their wealth and life in the defence of their Faith or when they are hurt by the vituperations of the disbelievers, the polytheists and the people of the Book. All this is nothing but a trial for them. The best course for them is to observe restraint, be patient and keep to their real objective in life which is the achievement of the perfect state of Taqwa, (a state in which one fears Allah and remains answerable to Him all the time). In such a state Muslims should not worry about replying to the effrontery by antogonists.

فکر آخرت سارے غموں کا علاج اور شبہات کا جواب ہے :۔ چھٹی آیت میں اس حقیقت کو واضح کیا گیا ہے کہ اگر کبھی کسی جگہ کافروں کو غلبہ ہی ہوجائے اور دنیا کی عیش و عشرت پوری پوری مل جائے اور مسلمانوں کو اس کے برعکس کچھ مصائب و مشکلات اور اسباب دنیا کی تنگی بھی پیش آجائے، تو یہ کوئی تعجب کی بات ہے نہ غمگین ہونے کی، کیونکہ اس حقیقت سے کسی مذہب و مشرب والے کو اور کسی فلسفہ والے کو انکار نہیں ہوسکتا کہ دنیا کے رنج و راحت دونوں چند روزہ ہیں، کوئی جاندار موت سے نہیں بچ سکتا، اور دنیا کی راحت و مصیبت اکثر تو دنیا ہی میں حالات بدل کر ختم ہوجاتی ہیں اور بالفرض دنیا میں نہ بدلی تو موت پر سب کا خاتمہ ہوجانا یقینی ہے عقلمند کا کام اس چند روزہ راحت و رنج کی فکر میں پڑے رہنا نہیں، بلکہ مابعد الموت کی فکر کرنا ہے کہ وبال کیا ہوگا ؟ دوران بقاء چوباد صحرا بگذشت تلخی و خوشی و زشت وزیبا بگذشت اسی لئے اس آیت میں بتلایا گیا ہے کہ ہر جاندار موت کا مزہ چکھے گا اور پھر آخرت میں اپنے عمل کی جزاء و سزا پائے گا، جو شدید بھی ہوگی اور مدید بھی، تو عقلمند کو فکر اس کی کرنی چاہئے اس کی رو سے کامیاب صرف وہ شخص ہے جس کو دوزخ سے چھٹکارا مل جائے اور جنت میں داخل ہوجائے خواہ ابتداً ہی جیسا کہ صلحاً و عباد کے ساتھ معاملہ ہوگا یا کچھ سزا بھگتنے کے بعد جیسا کہ گنگہار مسلمانوں کے ساتھ ہوگا، مگر مسلمان سب کے سب آخر کار جہنم سے نجات پا کر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جنت کی راحتوں اور نعمتوں کے مالک بن جائیں گے، بخلاف کفار کے کہ ان کا دائمی ٹھکانا جہنم ہے، وہ اگر دنیا کی چند روزہ راحت پر مغرور ہوں، تو دھوکا ہی دھوکا ہے، اسی لئے آخر آیت میں فرمایا کہ دنیا کی زندگی تو دھوکہ کا سامان ہے، کیونکہ عموماً یہاں کی لذت آخرت کی شدید کلفتوں کا ذریعہ ہوتی ہیں اور یہاں کی تکالیف بیشتر آخرت کے لئے ذخیرہ ہوجاتی ہیں۔ اہل حق کو اہل باطل سے ایذائیں پہنچنا ایک قدرتی امر ہے اور سب کا علاج صبر وتقوی ہے :۔ ساتویں آیت ایک خاص واقعہ میں نازل ہوئی ہے، جس کا ذکر اجمالی ابھی مذکور الصدر دوسری آیت میں آ چکا ہے، تفصیل اس کی یہ ہے کہ قرآن کریم میں جب آیت من ذا الذین یقرض اللہ قرضا حسناً ط (٢: ٥٤٢) نازل ہوئی، جس میں ایک بلیغ عنوان میں صدقہ و خیرات اللہ کو قرض دینے سے تعبیر کیا ہے اور اس بلیغ عنوان میں اس طرف اشارہ ہے کہ جو کچھ یہاں دو گے اس کا بدلہ آخرت میں ایسا یقینی ہو کر ملے گا جیسے کا قرض ادا کیا جاتا ہے۔ ایک جاہل یا معاند یہودی نے اس کو سن کر یہ الفاظ کہے ان اللہ فقیر و نحن اغنیاء حضرت صدیق اکبر کو اس کی گستاخی پر غصہ آیا اور یہودی کے ایک طمانچہ رسید کیا، یہودی نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے شکایت کی، اس پر یہ آیت نازل ہوئی، لتبلون فی اموالکم و انفسکم الایتہ جس میں مسلمانوں کو بتلایا گیا ہے کہ دین کے لئے جان و مال کی قربانیوں سے اور آزمائش ہے اور اس میں ان کے لئے بہتر یہی ہے کہ صبر سے کام لینا اور اپنے اصل مقصد تقوی کی تکمیل میں مصروف رہیں ان کی جواب دہی میں کفر میں نہ پڑیں۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

كُلُّ نَفْسٍ ذَاۗىِٕقَۃُ الْمَوْتِ۝ ٠ ۭ وَاِنَّمَا تُوَفَّوْنَ اُجُوْرَكُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَۃِ۝ ٠ ۭ فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَاُدْخِلَ الْجَنَّۃَ فَقَدْ فَازَ۝ ٠ ۭ وَمَا الْحَيٰوۃُ الدُّنْيَآ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ۝ ١٨٥ نفس الَّنْفُس : الرُّوحُ في قوله تعالی: أَخْرِجُوا أَنْفُسَكُمُ [ الأنعام/ 93] قال : وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ ما فِي أَنْفُسِكُمْ فَاحْذَرُوهُ [ البقرة/ 235] ، وقوله : تَعْلَمُ ما فِي نَفْسِي وَلا أَعْلَمُ ما فِي نَفْسِكَ [ المائدة/ 116] ، وقوله : وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ [ آل عمران/ 30] فَنَفْسُهُ : ذَاتُهُ ، وهذا۔ وإن کان قد حَصَلَ من حَيْثُ اللَّفْظُ مضافٌ ومضافٌ إليه يقتضي المغایرةَ ، وإثباتَ شيئين من حيث العبارةُ- فلا شيءَ من حيث المعنی سِوَاهُ تعالیٰ عن الاثْنَوِيَّة من کلِّ وجهٍ. وقال بعض الناس : إن إضافَةَ النَّفْسِ إليه تعالیٰ إضافةُ المِلْك، ويعني بنفسه نُفُوسَنا الأَمَّارَةَ بالسُّوء، وأضاف إليه علی سبیل المِلْك . ( ن ف س ) النفس کے معنی روح کے آتے ہیں چناچہ فرمایا : ۔ أَخْرِجُوا أَنْفُسَكُمُ [ الأنعام/ 93] کہ نکال لو اپنی جانیں ۔ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ ما فِي أَنْفُسِكُمْ فَاحْذَرُوهُ [ البقرة/ 235] اور جان رکھو جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے خدا کو سب معلوم ہے ۔ اور ذیل کی دونوں آیتوں ۔ تَعْلَمُ ما فِي نَفْسِي وَلا أَعْلَمُ ما فِي نَفْسِكَ [ المائدة/ 116] اور جو بات میرے دل میں ہے تو اسے جانتا ہے اور جو تیرے ضمیر میں ہے میں اسے نہیں جنتا ہوں ۔ وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ [ آل عمران/ 30] اور خدا تم کو اپنے ( غضب سے ڈراتا ہے ۔ میں نفس بمعنی ذات ہے اور یہاں نفسہ کی اضافت اگر چہ لفظی لحاظ سے مضاف اور مضاف الیہ میں مغایرۃ کو چاہتی ہے لیکن من حیث المعنی دونوں سے ایک ہی ذات مراد ہے کیونکہ ذات باری تعالیٰ ہر قسم کی دوائی سے پاک ہے بعض کا قول ہے کہ ذات باری تعالیٰ کی طرف نفس کی اضافت اضافت ملک ہے اور اس سے ہمارے نفوس امارہ مراد ہیں جو ہر وقت برائی پر ابھارتے رہتے ہیں ۔ ذوق الذّوق : وجود الطعم بالفم، وأصله فيما يقلّ تناوله دون ما يكثر، فإنّ ما يكثر منه يقال له : الأكل، واختیر في القرآن لفظ الذّوق في العذاب، لأنّ ذلك۔ وإن کان في التّعارف للقلیل۔ فهو مستصلح للکثير، فخصّه بالذّكر ليعمّ الأمرین، وکثر استعماله في العذاب، نحو : لِيَذُوقُوا الْعَذابَ [ النساء/ 56] ( ذ و ق ) الذاق ( ن ) کے معنی سیکھنے کے ہیں ۔ اصل میں ذوق کے معنی تھوڑی چیز کھانے کے ہیں ۔ کیونکہ کسی چیز کو مقدار میں کھانے پر اکل کا لفظ بولا جاتا ہے ۔ قرآن نے عذاب کے متعلق ذوق کا لفظ اختیار کیا ہے اس لئے کہ عرف میں اگرچہ یہ قلیل چیز کھانے کے لئے استعمال ہوتا ہے مگر لغوی معنی کے اعتبار سے اس میں معنی کثرت کی صلاحیت موجود ہے ۔ لہذا معنی عموم کثرت کی صلاحیت موجود ہے ۔ لہذا منعی عموم کے پیش نظر عذاب کے لئے یہ لفظ اختیار کیا ہے ۔ تاکہ قلیل وکثیر ہر قسم کے عذاب کو شامل ہوجائے قرآن میں بالعموم یہ لفظ عذاب کے ساتھ آیا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ لِيَذُوقُوا الْعَذابَ [ النساء/ 56] تاکہ ( ہمیشہ ) عذاب کا مزہ چکھتے رہیں ۔ موت أنواع الموت بحسب أنواع الحیاة : فالأوّل : ما هو بإزاء القوَّة النامية الموجودة في الإنسان والحیوانات والنّبات . نحو قوله تعالی: يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِها[ الروم/ 19] ، وَأَحْيَيْنا بِهِ بَلْدَةً مَيْتاً [ ق/ 11] . الثاني : زوال القوّة الحاسَّة . قال : يا لَيْتَنِي مِتُّ قَبْلَ هذا [ مریم/ 23] ، أَإِذا ما مِتُّ لَسَوْفَ أُخْرَجُ حَيًّا [ مریم/ 66] . الثالث : زوال القوَّة العاقلة، وهي الجهالة . نحو : أَوَمَنْ كانَ مَيْتاً فَأَحْيَيْناهُ [ الأنعام/ 122] ، وإيّاه قصد بقوله : إِنَّكَ لا تُسْمِعُ الْمَوْتى[ النمل/ 80] . الرابع : الحزن المکدِّر للحیاة، وإيّاه قصد بقوله : وَيَأْتِيهِ الْمَوْتُ مِنْ كُلِّ مَكانٍ وَما هُوَ بِمَيِّتٍ [إبراهيم/ 17] . الخامس : المنامُ ، فقیل : النّوم مَوْتٌ خفیف، والموت نوم ثقیل، وعلی هذا النحو سمّاهما اللہ تعالیٰ توفِّيا . فقال : وَهُوَ الَّذِي يَتَوَفَّاكُمْ بِاللَّيْلِ [ الأنعام/ 60] ( م و ت ) الموت یہ حیات کی ضد ہے لہذا حیات کی طرح موت کی بھی کئی قسمیں ہیں ۔ اول قوت نامیہ ( جو کہ انسان حیوانات اور نباتات ( سب میں پائی جاتی ہے ) کے زوال کو موت کہتے ہیں جیسے فرمایا : ۔ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِها[ الروم/ 19] زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ کرتا ہے ۔ وَأَحْيَيْنا بِهِ بَلْدَةً مَيْتاً [ ق/ 11] اور اس پانی سے ہم نے شہر مردہ یعنی زمین افتادہ کو زندہ کیا ۔ دوم حس و شعور کے زائل ہوجانے کو موت کہتے ہیں ۔ چناچہ فرمایا ۔ يا لَيْتَنِي مِتُّ قَبْلَ هذا[ مریم/ 23] کاش میں اس سے پہلے مر چکتی ۔ أَإِذا ما مِتُّ لَسَوْفَ أُخْرَجُ حَيًّا [ مریم/ 66] کہ جب میں مرجاؤں گا تو کیا زندہ کر کے نکالا جاؤں گا ۔ سوم ۔ قوت عاقلہ کا زائل ہوجانا اور اسی کا نام جہالت ہے چناچہ فرمایا : ۔ أَوَمَنْ كانَ مَيْتاً فَأَحْيَيْناهُ [ الأنعام/ 122] بھلا جو پہلے مردہ تھا پھر ہم نے اس کو زندہ کیا ۔ اور آیت کریمہ : ۔ إِنَّكَ لا تُسْمِعُ الْمَوْتى[ النمل/ 80] کچھ شک نہیں کہ تم مردوں کو بات نہیں سنا سکتے ۔ چہارم ۔ غم جو زندگی کے چشمہ صافی کو مکدر کردیتا ہے چنانچہ آیت کریمہ : ۔ وَيَأْتِيهِ الْمَوْتُ مِنْ كُلِّ مَكانٍ وَما هُوَبِمَيِّتٍ [إبراهيم/ 17] اور ہر طرف سے اسے موت آرہی ہوگی ۔ مگر وہ مرنے میں نہیں آئے گا ۔ میں موت سے یہی معنی مراد ہیں ۔ پنجم ۔ موت بمعنی نیند ہوتا ہے اسی لئے کسی نے کہا ہے کہ النوم موت خفیف والموت نوم ثقیل کہ نیند کا نام ہے اسی بنا پر اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو توفی سے تعبیر فرمایا ۔ چناچہ ارشاد ہے : ۔ وَهُوَ الَّذِي يَتَوَفَّاكُمْ بِاللَّيْلِ [ الأنعام/ 60] اور وہی تو ہے جو ارت کو تمہاری روحیں قبض کرلیتا ہے وفی پورا الوَافِي : الذي بلغ التّمام . يقال : درهم وَافٍ ، وكيل وَافٍ ، وأَوْفَيْتُ الكيلَ والوزنَ. قال تعالی: وَأَوْفُوا الْكَيْلَ إِذا كِلْتُمْ [ الإسراء/ 35] ( و ف ی) الوافی ۔ مکمل اور پوری چیز کو کہتے ہیں جیسے : درھم واف کیل واف وغیرہ ذالک اوفیت الکیل والوزن میں نے ناپ یا تول کر پورا پورا دیا ۔ قرآن میں ہے : وَأَوْفُوا الْكَيْلَ إِذا كِلْتُمْ [ الإسراء/ 35] اور جب کوئی چیز ناپ کردینے لگو تو پیمانہ پورا پھرا کرو ۔ قِيامَةُ : عبارة عن قيام الساعة المذکور في قوله : وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ [ الروم/ 12] ، يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعالَمِينَ [ المطففین/ 6] ، وَما أَظُنُّ السَّاعَةَ قائِمَةً [ الكهف/ 36] ، والْقِيَامَةُ أصلها ما يكون من الإنسان من القیام دُفْعَةً واحدة، أدخل فيها الهاء تنبيها علی وقوعها دُفْعَة، القیامت سے مراد وہ ساعت ( گھڑی ) ہے جس کا ذکر کہ وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ [ الروم/ 12] اور جس روز قیامت برپا ہوگی ۔ يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعالَمِينَ [ المطففین/ 6] جس دن لوگ رب العلمین کے سامنے کھڑے ہوں گے ۔ وَما أَظُنُّ السَّاعَةَ قائِمَةً [ الكهف/ 36] اور نہ خیال کرتا ہوں کہ قیامت برپا ہو۔ وغیرہ آیات میں پایاجاتا ہے ۔ اصل میں قیامتہ کے معنی انسان یکبارگی قیام یعنی کھڑا ہونے کے ہیں اور قیامت کے یکبارگی وقوع پذیر ہونے پر تنبیہ کرنے کے لئے لفظ قیام کے آخر میں ھاء ( ۃ ) کا اضافہ کیا گیا ہے زحح فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ [ آل عمران/ 185] ، أي : أزيل عن مقرّه فيها . ( زح زح ) الزحزحۃ کے معنی ہیں دور ہٹانا اور بر طرف کرنا ۔ قرآن میں ہے :۔ فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ [ آل عمران/ 185] پس جو شخص آگ سے دور رکھا گیا ۔ دخل الدّخول : نقیض الخروج، ويستعمل ذلک في المکان، والزمان، والأعمال، يقال : دخل مکان کذا، قال تعالی: ادْخُلُوا هذِهِ الْقَرْيَةَ [ البقرة/ 58] ( دخ ل ) الدخول ( ن ) یہ خروج کی ضد ہے ۔ اور مکان وزمان اور اعمال سب کے متعلق استعمال ہوتا ہے کہا جاتا ہے ( فلاں جگہ میں داخل ہوا ۔ قرآن میں ہے : ادْخُلُوا هذِهِ الْقَرْيَةَ [ البقرة/ 58] کہ اس گاؤں میں داخل ہوجاؤ ۔ جَنَّةُ : كلّ بستان ذي شجر يستر بأشجاره الأرض، قال عزّ وجل : لَقَدْ كانَ لِسَبَإٍ فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ جَنَّتانِ عَنْ يَمِينٍ وَشِمالٍ [ سبأ/ 15] الجنۃ ہر وہ باغ جس کی زمین درختوں کیوجہ سے نظر نہ آئے جنت کہلاتا ہے ۔ قرآن میں ہے ؛ لَقَدْ كانَ لِسَبَإٍ فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ جَنَّتانِ عَنْ يَمِينٍ وَشِمالٍ [ سبأ/ 15]( اہل ) سبا کے لئے ان کے مقام بود باش میں ایک نشانی تھی ( یعنی دو باغ ایک دائیں طرف اور ایک ) بائیں طرف ۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ جنات جمع لانے کی وجہ یہ ہے کہ بہشت سات ہیں ۔ (1) جنۃ الفردوس (2) جنۃ عدن (3) جنۃ النعیم (4) دار الخلد (5) جنۃ المآوٰی (6) دار السلام (7) علیین ۔ فوز الْفَوْزُ : الظّفر بالخیر مع حصول السّلامة . قال تعالی: ذلِكَ الْفَوْزُ الْكَبِيرُ [ البروج/ 11] ، فازَ فَوْزاً عَظِيماً [ الأحزاب/ 71] ، ( ف و ز ) الفوز کے معنی سلامتی کے ساتھ خیر حاصل کرلینے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے ۔ ذلِكَ الْفَوْزُ الْكَبِيرُ [ البروج/ 11] یہی بڑی کامیابی ہے ۔ فازَ فَوْزاً عَظِيماً [ الأحزاب/ 71] تو بیشک بڑی مراد پایئکا ۔ یہی صریح کامیابی ہے ۔ دنا الدّنوّ : القرب بالذّات، أو بالحکم، ويستعمل في المکان والزّمان والمنزلة . قال تعالی: وَمِنَ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِها قِنْوانٌ دانِيَةٌ [ الأنعام/ 99] ، وقال تعالی: ثُمَّ دَنا فَتَدَلَّى[ النجم/ 8] ، هذا بالحکم . ويعبّر بالأدنی تارة عن الأصغر، فيقابل بالأكبر نحو : وَلا أَدْنى مِنْ ذلِكَ وَلا أَكْثَرَ وعن الأوّل فيقابل بالآخر، نحو : خَسِرَ الدُّنْيا وَالْآخِرَةَ [ الحج/ 11] دنا ( دن و ) الدنو ( ن) کے معنی قریب ہونے کے ہیں اور یہ قرب ذاتی ، حکمی ، مکانی ، زمانی اور قرب بلحاظ مرتبہ سب کو شامل ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ وَمِنَ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِها قِنْوانٌ دانِيَةٌ [ الأنعام/ 99] اور کھجور کے گابھے میں سے قریب جھکے ہوئے خوشے کو ۔ اور آیت کریمہ :۔ ثُمَّ دَنا فَتَدَلَّى[ النجم/ 8] پھر قریب ہوئے اور آگے بڑھے ۔ میں قرب حکمی مراد ہے ۔ اور لفظ ادنیٰ کبھی معنی اصغر ( آنا ہے۔ اس صورت میں اکبر کے بالمقابل استعمال ہوتا هے۔ جیسے فرمایا :۔ وَلا أَدْنى مِنْ ذلِكَ وَلا أَكْثَرَاور نہ اس سے کم نہ زیادہ ۔ اور کبھی ادنیٰ بمعنی ( ارذل استعمال ہوتا ہے اس وقت یہ خبر کے مقابلہ میں استعمال ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا :۔ أَتَسْتَبْدِلُونَ الَّذِي هُوَ أَدْنى بِالَّذِي هُوَ خَيْرٌ [ البقرة/ 61] بھلا عمدہ چیزیں چھوڑ کر ان کے عوض ناقص چیزیں کیوں چاہتے ہو۔ اور کبھی بمعنی اول ( نشاۃ اولٰی ) استعمال ہوتا ہے اور الآخر ( نشاۃ ثانیہ) کے مقابلہ میں بولا جاتا ہے جیسے فرمایا :۔ کہ اگر اس کے پاس ایک دینا بھی امانت رکھو ۔ خَسِرَ الدُّنْيا وَالْآخِرَةَ [ الحج/ 11] اس نے دنیا میں بھی نقصان اٹھایا اور آخرت میں بھی متع ( سامان) وكلّ ما ينتفع به علی وجه ما فهو مَتَاعٌ ومُتْعَةٌ ، وعلی هذا قوله : وَلَمَّا فَتَحُوا مَتاعَهُمْ [يوسف/ 65] أي : طعامهم، فسمّاه مَتَاعاً ، وقیل : وعاء هم، وکلاهما متاع، وهما متلازمان، فإنّ الطّعام کان في الوعاء . ( م ت ع ) المتوع ہر وہ چیز جس سے کسی قسم کا نفع حاصل کیا جائے اسے متاع ومتعۃ کہا جاتا ہے اس معنی کے لحاظ آیت کریمہ : وَلَمَّا فَتَحُوا مَتاعَهُمْ [يوسف/ 65] جب انہوں نے اپنا اسباب کھولا ۔ میں غلہ کو متاع کہا ہے اور بعض نے غلہ کے تھیلے بابور یاں مراد لئے ہیں اور یہ دونوں متاع میں داخل اور باہم متلا زم ہیں کیونکہ غلہ ہمیشہ تھیلوں ہی میں ڈالا جاتا ہے غرر يقال : غَررْتُ فلانا : أصبت غِرَّتَهُ ونلت منه ما أريده، والغِرَّةُ : غفلة في الیقظة، والْغِرَارُ : غفلة مع غفوة، وأصل ذلک من الْغُرِّ ، وهو الأثر الظاهر من الشیء، ومنه : غُرَّةُ الفرس . وغِرَارُ السّيف أي : حدّه، وغَرُّ الثّوب : أثر کسره، وقیل : اطوه علی غَرِّهِ وغَرَّهُ كذا غُرُوراً كأنما طواه علی غَرِّهِ. قال تعالی: ما غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيمِ [ الانفطار/ 6] ، لا يَغُرَّنَّكَ تَقَلُّبُ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي الْبِلادِ [ آل عمران/ 196] ، وقال : وَما يَعِدُهُمُ الشَّيْطانُ إِلَّا غُرُوراً [ النساء/ 120] ، وقال : بَلْ إِنْ يَعِدُ الظَّالِمُونَ بَعْضُهُمْ بَعْضاً إِلَّا غُرُوراً [ فاطر/ 40] ، وقال : يُوحِي بَعْضُهُمْ إِلى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوراً [ الأنعام/ 112] ، وقال : وَمَا الْحَياةُ الدُّنْيا إِلَّا مَتاعُ الْغُرُورِ [ آل عمران/ 185] ، وَغَرَّتْهُمُ الْحَياةُ الدُّنْيا[ الأنعام/ 70] ، ما وَعَدَنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ إِلَّا غُرُوراً [ الأحزاب/ 12] ، وَلا يَغُرَّنَّكُمْ بِاللَّهِ الْغَرُورُ [ لقمان/ 33] ، فَالْغَرُورُ : كلّ ما يَغُرُّ الإنسان من مال وجاه وشهوة وشیطان، وقد فسّر بالشیطان إذ هو أخبث الْغَارِّينَ ، وبالدّنيا لما قيل : الدّنيا تَغُرُّ وتضرّ وتمرّ والْغَرَرُ : الخطر، وهو من الْغَرِّ ، «ونهي عن بيع الْغَرَرِ». والْغَرِيرُ : الخلق الحسن اعتبارا بأنّه يَغُرُّ ، وقیل : فلان أدبر غَرِيرُهُ وأقبل هريرة فباعتبار غُرَّةِ الفرس وشهرته بها قيل : فلان أَغَرُّ إذا کان مشهورا کريما، وقیل : الْغُرَرُ لثلاث ليال من أوّل الشّهر لکون ذلک منه كالْغُرَّةِ من الفرس، وغِرَارُ السّيفِ : حدّه، والْغِرَارُ : لَبَنٌ قلیل، وغَارَتِ النّاقةُ : قلّ لبنها بعد أن ظنّ أن لا يقلّ ، فكأنّها غَرَّتْ صاحبها . ( غ ر ر ) غررت ( ن ) فلانا ( فریب دینا ) کسی کو غافل پاکر اس سے اپنا مقصد حاصل کرنا غرۃ بیداری کی حالت میں غفلت غرار اونکھ کے ساتھ غفلت اصل میں یہ غر سے ہے جس کے معنی کسی شے پر ظاہری نشان کے ہیں ۔ اسی سے غرۃ الفرس ( کگوڑے کی پیشانی کی سفیدی ہے اور غر ار السیف کے معنی تلوار کی دھار کے ہیں غر الثواب کپڑے کی تہ اسی سے محاورہ ہے : ۔ اطوہ علی غرہ کپڑے کو اس کی تہ پر لپیٹ دو یعنی اس معاملہ کو جوں توں رہنے دو غرہ کذا غرورا سے فریب دیا گویا اسے اس کی نہ پر لپیٹ دیا ۔ قرآن میں ہے ؛ما غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيمِ [ الانفطار/ 6] ای انسان تجھ کو اپنے پروردگار کرم گستر کے باب میں کس چیز نے دہو کا دیا ۔ لا يَغُرَّنَّكَ تَقَلُّبُ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي الْبِلادِ [ آل عمران/ 196]( اے پیغمبر ) کافروں کا شہروں میں چلنا پھر تمہیں دھوکا نہ دے ۔ وَما يَعِدُهُمُ الشَّيْطانُ إِلَّا غُرُوراً [ النساء/ 120] اور شیطان جو وعدہ ان سے کرتا ہے سب دھوکا ہے ۔ بَلْ إِنْ يَعِدُ الظَّالِمُونَ بَعْضُهُمْ بَعْضاً إِلَّا غُرُوراً [ فاطر/ 40] بلکہ ظالم جو ایک دوسرے کو وعدہ دیتے ہیں محض فریب ہے ۔ يُوحِي بَعْضُهُمْ إِلى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوراً [ الأنعام/ 112] وہ دھوکا دینے کے لئے ایک دوسرے کے دل میں ملمع کی باتیں ڈالنتے رہتے ہیں ۔ وَمَا الْحَياةُ الدُّنْيا إِلَّا مَتاعُ الْغُرُورِ [ آل عمران/ 185] اور دنیا کی زندگی تو دھوکے کا سامان ہے ۔ وَغَرَّتْهُمُ الْحَياةُ الدُّنْيا[ الأنعام/ 70] اور دنیا کی نے ان کو دھوکے میں ڈال رکھا ہے ۔ ما وَعَدَنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ إِلَّا غُرُوراً [ الأحزاب/ 12] کہ خدا اور اس کے رسول نے ہم سے دھوکے کا وعدہ کیا تھا ۔ وَلا يَغُرَّنَّكُمْ بِاللَّهِ الْغَرُورُ [ لقمان/ 33] اور نہ فریب دینے والا شیطان ) تمہیں خدا کے بارے میں کسی طرح کا فریب دے ۔ پس غرور سے مال وجاہ خواہش نفسانی ، شیطان اور ہر وہ چیز مراد ہے جو انسان کو فریب میں مبتلا کرے بعض نے غرور سے مراد صرف شیطان لیا ہے کیونکہ چو چیزیں انسان کو فریب میں مبتلا کرتی ہیں شیطان ان سب سے زیادہ خبیث اور بعض نے اس کی تفسیر دنیا کی ہے کیونکہ دنیا بھی انسان سے فریب کھیلتی ہے دھوکا دیتی ہے نقصان پہنچاتی ہے اور گزر جاتی ہے ۔ الغرور دھوکا ۔ یہ غر سے ہے اور ( حدیث میں ) بیع الغرر سے منع کیا گیا ہے (57) الغریر اچھا خلق ۔ کیونکہ وہ بھی دھوکے میں ڈال دیتا ہے ۔ چناچہ ( بوڑھے شخص کے متعلق محاورہ ہے ۔ فلان ادبر غریرہ واقبل ہریرہ ( اس سے حسن خلق جاتارہا اور چڑ چڑاپن آگیا ۔ اور غرہ الفرس سے تشبیہ کے طور پر مشہور معروف آدمی کو اغر کہاجاتا ہے اور مہینے کی ابتدائی تین راتوں کو غرر کہتے ہیں کیونکہ مہینہ میں ان کی حیثیت غرۃ الفرس کی وہوتی ہے غرار السیف تلوار کی دھار اور غرار کے معنی تھوڑا سا دودھ کے بھی آتے ہیں اور غارت الناقۃ کے معنی ہیں اونٹنی کا دودھ کم ہوگیا حالانکہ اس کے متعلق یہ گہان نہ تھا کہ اسکا دودھ کم ہوجائیگا گویا کہ اس اونٹنی نے مالک کو دھوکا دیا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٨٥) سنیے کہ مرنے کے وقت اور ان کے بعد ان کا کیا انجام ہوگا یقیناً ہر جاندار کو موت کا مزہ چکھنا ہوگا اور پھر تمہارے اعمال کی پوری جزا ملے گی سو جو شخص توحید اور عمل صالح کی وجہ سے دوزخ سے بچالیا گیا، سو وہ جنت اور اس کی نعمتیں اور دوزخ اور اس کے عذاب سے نجات ملنے کی بنا پر حقیقتا کامیاب ہوگیا۔ دنیا میں کسی قسم کی کوئی نعمت نہیں دنیا کی مثال، صرف گھر کے سامان اور اس کے سنگریزوں کی طرح ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٨٥ (کُلُّ نَفْسٍ ذَآءِقَۃُ الْمَوْتِ ط) موت تو ایک دن آکر رہنی ہے۔ (وَاِنَّمَا تُوَفَّوْنَ اُجُوْرَکُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ ط) (فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَاُدْخِلَ الْجَنَّۃَ فَقَدْ فَازَ ط) اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا اجْعَلْنَا مِنْھُمْ اے اللہ ! ہمیں بھی ان لوگوں میں شامل فرمانا !

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

130. Whoever considers the effects of his actions in this earthly life to be of crucial significance, and sees in them the criteria of right and wrong, the criteria of that which leads either to one's ultimate salvation or to one's doom, falls prey to a serious misconception. The fact that a person is outstandingly successful in life does not necessarily prove that he is either not prove that he has either strayed from the right way or is out of favour with God. The earthly results of a man's actions are often quite different from the ones he will see in the Next Life. What is of true importance is what will happen in that eternal life rather than in this transient one.

سورة اٰلِ عِمْرٰن حاشیہ نمبر :130 یعنی اس دنیا کی زندگی میں جو نتائج رونما ہوتے ہیں انہی کو اگر کوئی شخص اصلی اور آخری نتائج سمجھ بیٹھے اور انہی پر حق و باطل اور فلاح و خسران کے فیصلے کا مدار رکھے تو درحقیقت وہ سخت دھوکہ میں مبتلا ہو جائے گا ۔ یہاں کسی پر نعمتوں کی بارش ہونا اس بات کا ثبوت نہیں ہے کہ وہی حق پر بھی ہے اور اسی کو اللہ کی بارگاہ میں قبولیت بھی حاصل ہے ۔ اور اسی طرح یہاں کسی کا مصائب و مشکلات میں مبتلا ہونا بھی لازمی طور پر یہ معنی نہیں رکھتا کہ وہ باطل پر ہے اور مرد ود بارگاہ الہٰی ہے ۔ اکثر اوقات اس ابتدائی مرحلہ کے نتائج ان آخری نتائج کے برعکس ہوتے ہیں جو حیات ابدی کے مرحلہ میں پیش آنے والے ہیں ۔ اور اصل اعتبار انہی نتائج کا ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

(185 ۔ 186) ۔ اوپر کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کی ہٹ دہرمی پر صبر اور درگذر کی ہدایت فرمائی تھی اور یہ فرمایا تھا کہ ان کی ہٹ دہرمی کچھ نئی ہے۔ بلکہ ان کے بڑوں سے بھی ہوتی آئی ہے یہ آیتیں اس ہدایت کی تکمیل میں نازل فرما کر فرمایا کہ یہ تو آخر سب کی آنکھوں کے سامنے کی بات ہے کہ دنیا میں اچھے اور بڑے کسی کو قیام نہیں موت سب کے پیچھے لگی ہوئی ہے اچھے برے جو مرگئے ان کو تو دنیا کی بھلائی برائی کا نتیجہ معلوم ہوگیا جو رہ گئے ہیں ان کو بھی یہی موقع پیش آنے والا ہے۔ فقط آنکھ بند ہونے کی دیر ہے اور آنکھ کا بند ہونا کچھ دور نہیں۔ کوئی اس میں آگے ہے کوئی پیچھے اور جب بھلائی برائی کا نتیجہ وقت مقرر پر سامنے آنے والا ہے تو بھلوں کو ہر طرح کی آزمائش کو موجب اجر جاننا اور اس پر صبر کرنا چاہیے کہ دنیا میں یہ بڑی ہمت اور عقبیٰ میں بڑے اجر کا کام ہے۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(3:185) توفون۔ مضارع مجہول ۔ جمع مذکر حاضر۔ توفیۃ سے تم کو پورا دیا جائے گا۔ زحزح۔ ماضی مجہول واحد مذکر غائب۔ وہ ہٹا دیا گیا۔ وہ بچالیا گیا۔ زحزحۃ رباعی مجرد بروزن زلزلۃ (باب فعلۃ) جس کا وزن کبھی فعلال کے وزن پر آتا ہے۔ جیسے زلزال اور کبھی فعللی کے وزن پر جیسے قھقری (پچھلے پاؤں چلنا) الغرور۔ یہاں اسم فعل آیا ہے مصدر بھی ہے غریغر (نصر) فریب دینا۔ کسی کو غافل پاکر اس سے اپنا مقصد حاصل کرنا۔ قرآن مجید میں ہے ماغرک بربک الکریم (82:6) اے انسان تجھ کو کس چیز نے اپنے رب کریم کے متعلق دھوکہ دیا۔ وما بعدھم الشیطان الا غرور (17:64) اور شیطان ان سے جو وعدے کرتا ہے وہ سب دھوکہ ہے۔ ولا یغرنکم باللہ الغرور اور دھوکہ دینے والا (اسم فاعل۔ شیطان) تمہیں خدا کے بارے میں کسی طرح کا فریب نہ دے۔ بس غرور مال و جاہ۔ خواہش نفسانی۔ شیطان اور ہر وہ چیز مراد ہے جو انسان کو فریب میں مبتلا کر دے۔ غرور۔ مصدر۔ دھوکہ دینا۔ فریب دینا۔ متاع الغرور۔ دھوکہ کا سامان۔ مغرور ۔ بروزن مفعول دھوکہ کھایا ہوا۔ فریب خودرہ۔ غر بھی بمعنی بھولا ۔ فریب خوردہ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 5 بخلیوں کا حال اور ان کا کفر بیان کرنے کے بعد یہاں بتایا کہ دنیا کے جس مال ومتاع کے جمع کرنے کے لیے انسان بخل کرتا ہے۔ یہ سب کچھ فانی اور نہ باقی رہنے والی چیز ہے اور آخرت کی زندگی ہی باقی اور ابدی ہے لہذا انسان کو چاہیے کہ آخرت کی فکر کرے اور اس میں کامیابی کے لیے کوشاں رہے۔ (قرطبی) اور یہ جو فرمایا کہ قیامت ہی کے دن پورے پورے بدلے دیئے گائیں گے۔ تو اس کے معنی یہ ہیں کہ انسان کو دنیا یا برزخ میں بھی کچھ نہ کچھ اعمال کا بدلہ ملتا ہے مگر پورا پورا بدلہ، ثواب و عقاب۔ قیامت کے دن ہی ملے گا۔ اس پہلے ممکن نہیں۔ (قرطبی۔ کبیر) اور دنیا کی زندگی متاع الغرور ہے اس کی ظاہر زیب وزینت سے دھوکا نہیں کھانا چاہیے۔ اصل کامیابی آخرت کی کامیابی ہے لا عیش الا عیش الا خرۃ (ابن کثیر)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

6۔ یہ جو فرمایا کہ دھوکے کا سودا تو اس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ دنیوی زندگی سب کے لیے مضر ہے مطلب تشبیہ سے صرف یہ ہے کہ یہ اصلی مقصود بنانے کے قابل نہیں۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : موت اور فکر آخرت کے ذریعے نصیحت کی گئی ہے کہ دنیا کے جس جاہ و جلال اور مال پر اترا کر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کا انکار اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں خرافات بکتے ہو یہ تو ختم ہونے والی ہے۔ منکرین توحید و رسالت کا کردار بتلانے کے بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دیتے ہوئے موت کا ذکر اس لیے کیا گیا ہے کہ اے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کے مخالفوں نے دنیا میں ہمیشہ نہیں بیٹھے رہنا بالآخر ہر کسی نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے اور پھر قیامت کے دن تمہارے اعمال کے مطابق تمہیں مکمل جزا اور ان کے کردار کی انہیں پوری پوری سزا دی جائے گی۔ جسے جہنم کی ہولناکیوں سے بچا کر جنت میں داخل کردیا گیا یقیناً وہ کامیاب ہوا۔ یہ دنیا کی زندگانی محض نظر کا فریب اور دماغ کا غرور ہے۔ اسی وجہ سے یہ آپ کی ذات اور اللہ تعالیٰ کی آیات جھٹلا رہے ہیں حالانکہ یہ کرّ وفرّ اور سازو سامان عارضی ہے۔ اس کے مقابلے میں آخرت کی جزا وسزا مستقل اور دائمی ہے۔ جب دنیا عارضی اور موت یقینی ہے تو عقل و دانش کا تقاضا ہے کہ ہمیشہ رہنے والی زندگی کی فکر کرنی چاہیے۔ مسائل ١۔ ہر کسی کو موت آکر رہے گی۔ ٢۔ یہ دنیا مکرو فریب کا سامان ہے۔ ٣۔ قیامت کے دن ہر کسی کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ ٤۔ جہنم کی آگ سے بچ کر جنت میں داخل ہونے والا ہی کامیاب ہے۔ تفسیر بالقرآن نیکی کا پورا پورا اجر ملے گا : ١۔ اللہ مومنوں کا اجر ضائع نہیں کرے گا۔ (آل عمران : ١٧١) ٢۔ اللہ تعالیٰ محسنین کا اجر ضائع نہیں کرتا۔ (ھود : ١١٥) ٣۔ سب کو پورا پورا اجر دیا جائے گا۔ (النساء : ١٧٣)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اس حقیقت کا نفس انسانی کے اندر پوری طرح بیٹھ جانا ضروری ہے کہ اس دنیا کی زندگی بہرحال محدود ‘ وقتی اور ایک متعین تاریخ تک ہے ۔ اور اس کا خاتمہ لازمی ہے ‘ یہاں اچھے لوگ بھی مرتے ہیں اور برے بھی رحلت کرتے ہیں ۔ یہاں جہاد میں حصہ لینے والے بھی مرتے ہیں اور جو لوگ گھر میں بیٹھے رہتے ہیں وہ بھی مرتے ہیں ۔ جو لوگ اپنے نظریات کی وجہ سے سربلند ہوتے ہیں وہ بھی مرتے ہیں جو کبھی ذلت برداشت نہیں کرتے اور وہ بزدل بھی مرتے ہیں جو ہر قیمت پر زندہ رہنا چاہتے ہیں ۔ وہ لوگ بھی رحلت کرتے ہیں جن کے عزائم بلند ہوتے ہیں اور جن کے مقاصد پاکیزہ ہوتے ہیں اور وہ مفاد پرست بھی مرتے ہیں جن کے پیش نظر دنیا کی حقیر چیزیں ہوتی ہیں ۔ سب مرتے ہیں۔ كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ……………” ہر نفس نے موت کا مزہ چکھنا ہے۔ “ یہ جام ہر کسی نے منہ سے لگانا ہے ۔ ایک دن اسے اس زندگی کو خیر آباد کہنا ہے ۔ اس سلسلے میں کسی ایک شخص اور ایک شخص کے درمیان کوئی امتیاز نہیں ہے ۔ جام اجل باری باری ہر ایک کے سامنے آتا ہے اور ہر شخص اس کے ساتھ منہ لگاتا ہے ۔ فرق اگر ہے تو ایک دوسرے زاویے سے ہے ۔ فرق صرف اقدار میں ہے اور فرق انجام میں ہے ۔ وَإِنَّمَا تُوَفَّوْنَ أُجُورَكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ……………” اور تم سب اپنے اپنے پورے اجر قیامت کے روز پانے والے ہو۔ کامیاب دراصل وہ ہے جو وہاں آتش دوزخ سے سے بچ جائے اور جنت میں داخل کردیا جائے ۔ “ یہ ہے ایک موت اور موت کے درمیان فرق ۔ یہ انجام ہے جس کے ذریعے فلاں اور فلاں کے درمیان فرق ہوجاتا ہے ۔ یہ ہے وہ قیمت جو باقی رہتی ہے اور جس کے لئے سعی اور جدوجہد ضروری ہے ۔ اور وہ برا انجام جس سے بچنے کے لئے رات اور دن فکر کرنا چاہئے۔ فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ……………” جو آتش دوزخ سے بچ جائے اور جنت میں داخل کردیا جائے تو وہ کامیاب ہے ۔ “ زحزح کا لفظ اپنے زمزمہ ہی سے اپنے مفہوم کو ظاہر کردیتا ہے ۔ وہ ایک صورت حال کا نقشہ نظروں کے سامنے لاتا ہے۔ اس کا ایک خاص پرتو ہے ۔ گویا آگ کے اندر کشش ہے ‘ جو بھی اس کے قریب پھٹکے وہ اس میں داخل ہوجاتا ہے ۔ اس کے دائرے میں آجاتا ہے ۔ اس لئے اس کو اس بات کی ضرورت ہوتی ہے کہ کوئی اسے اس جاذبیت سے آہستہ آہستہ چھڑائے تاکہ وہ اس کشش کے دائرے سے باہر آجائے ۔ اس لئے جس کے لئے یہ ممکن ہو کہ اسے اس دائرے سے کھینچ کر دور کردیا گیا اور اس آگ کے دائرہ جاذبیت سے ہٹادیا گیا اور وہ جنت میں داخل ہوگیا تو گویا وہ کامیاب ہوگیا۔ یہ ایک واضح تصویر کشی ہے ‘ ایک زندہ منظر ہے ۔ اس میں حرکت ہے اور کھینچاتانی ہے ۔ اور حقیقت کے اعتبار سے بھی صورت حال یہی ہوتی ہے ۔ آگ میں جاذبیت ہوتی ہے ؟ کیا گناہ میں جاذبیت اور لذت نہیں ہوتی ؟ کیا نفس انسانی کسی ایسے راہنما کا محتاج نہیں ہے جو اسے آہستہ آہستہ آگ کے دائرے جاذبیت سے دو رکردے ۔ ہاں ضرور ہے اور یہ اسے آگ سے بچاتا ہے۔ کیا انسان ‘ مسلسل کوششوں کے باوجود ‘ ہمیشہ عمل میں قصور وار نہیں رہتا ۔ الا یہ کہ اس پر اللہ کا فضل وکرم ہو۔ ہاں یہ فضل باری تعالیٰ ہی ہے جو اسے آگ سے دور کردیتا ہے ۔ فضل خداوندی اسے آہستہ آہستہ آگ کے دائرے سے کھینچ لیتا ہے۔ وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلا مَتَاعُ الْغُرُورِ……………” اس دنیا کا متاع تو ایک ظاہر فریب چیز ہے ۔ “ دنیا کا سامان تو بہرحال سامان ہی ہے ۔ لیکن یہ حقیقی سامان نہیں ہے ۔ یہ حالت بیداری اور ہوشیاری کا سامان نہیں ۔ یہ دھوکے میں ڈالنے والا سامان ہے ۔ انسان اس کے فریب میں آکر متاع سمجھتا ہے۔ یہ ایسا سامان ہے جو فریب اور دھوکہ پیدا کرتا ہے ۔ رہاوہ سامان جو سچائی پر مبنی ہے اور حقیقی سامان ہے ‘ اور جس کے لئے حقیقتاً جدوجہد کرنا چاہئے ‘ وہ آخرت کا سامان ہے اور آخرت کی کامیابی ہے یہ ہے کہ انسان دوزخ سے ہٹادیاجائے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

ہر نفس کو موت کا مزہ چکھنا ہے اس آیت شریفہ میں اول تو یہ ارشاد فرمایا کہ ہر شخص کو مرنا ہے اور موت کا مزہ چکھنا ہے مومن ہو یا کافر سب کو یہاں سے چلا جانا ہے اور زندگی کا مرحلہ موت پر ختم نہیں ہوجاتا۔ بلکہ زندگی میں جو اچھے یا برے کام کیے موت کے بعد ان کا بدلہ ملے گا اور پورا پورا بدلہ دیا جائے گا، حساب ہوگا اعمال کی پیشی ہوگی قاضی روز جزا جل مجدہ فیصلے فرمائے گا، جو شخص دوزخ سے بچا دیا گا اور جنت میں داخل کردیا گیا اصل کامیاب وہی ہے۔ کامیاب کون ہے ؟ لوگوں نے دنیا میں اپنی کامیابی کے لیے بہت سے معیار تجویز کر رکھے ہیں، حکومتوں والے سمجھتے ہیں کہ ہم کامیاب ہیں، سیٹھ اور مہاجن اس دھوکہ میں مبتلا ہیں کہ ہم کامیاب ہیں، بڑے بڑے عہدوں پر پہنچنے والے اپنی کامیابی کے گھمنڈ میں ہیں بڑے بڑے محلوں میں رہنے والے گمان کر رہے ہیں کہ ہم کامیاب ہیں، ان لوگوں کو آخرت کی کامیابی اور نا کامی کا ذرا بھی دھیان نہیں ہے۔ اللہ جل شانہٗ نے فرمایا کہ جو دوزخ سے بچا دیا گیا اور جنت میں داخل کردیا گیا وہ کامیاب ہے، اس میں یہودیوں کو بھی نصیحت ہوگئی جو اپنے احوال اور اموال میں مست ہیں اور کفر کو اختیار کرنے کے باو جود اپنے کو کامیاب سمجھ رہے ہیں، یہ لوگ بہت بڑی گمراہی میں ہیں۔ اور اپنی جانوں کو دوزخ میں دھکیل رہے ہیں یہاں کی عارضی زندگی کو کامیابی سمجھ رہے ہیں، اور دوزخ کے داخلے کی صورت میں جو ناکامی سامنے آئے گی اور جو جنت سے محرومی ہوگی اس بات کی طرف ذرا دھیان نہیں ہے۔ مسلمانوں کو بھی اس میں تعلیم دی گئی کہ دنیا میں کسی قوم یا فرد کی مال اور دولت والی زندگی دیکھ کر اپنے کو نا کام نہ سمجھیں، جب مومن ہو اور جنت اور دوزخ کو مانتے ہو اور یہ بھی سمجھتے ہوں کہ مومن جنت میں اور کافر دوزخ میں داخل ہوں گے تو اپنی وہاں کی کامیابی پر نظر رکھو اور اسی پر خوش رہو۔ دنیا دھوکہ کا سامان ہے : آخر میں فرمایا (وَ مَا الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَآ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ ) (اور دنیا والی زندگی دھوکے کے سامان کے سوا کچھ بھی نہیں) اس جملے کی تشریح ہزاروں صفحات میں ہوسکتی ہے دنیا اور احوال دنیا اور اصحاب دنیا اور ان کے احوال پر نظر ڈالیں تاریخ کا مطالعہ کریں، بادشاہوں کی تاریخ دیکھیں، دولت مندوں کے واقعات سنیں، اپنے سامنے جو دنیا میں حوادث پیش آ رہے ہیں، ان کو دیکھیں انقلابات پر نظر ڈالیں تو واضح طور پر معلوم ہوجائے گا کہ دنیا والی زندگی صرف دھوکہ ہے جس کی مثال کھیتی کی طرح ہے آج لہلہا رہی ہے۔ کل کو سوکھ گئی کسانوں نے کاٹ پیٹ کر برابر کردی (فَاَصْبَحَ ھَشِیْمًا تَذْرُوْہُ الرِّیَاحَ ) لوگوں کے سامنے انقلابات ہیں، حوادث ہیں، قرون اولیٰ کی تاریخ ہے اور یہ بھی پتہ ہے کہ مریں گے۔ پھر بھی دنیا ہی سے دل لگائے ہوئے ہیں اسی کے لیے سوچتے ہیں، اسی کے لیے جیتے ہیں اسی کے لیے مرتے ہیں اور آخرت کی دائمی اور عظیم نعمتوں کے حاصل کرنے کی طرف ذرا بھی توجہ نہیں کرتے اور دوزخ کے عذاب سے بچنے کا ذرا دھیان نہیں کرتے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

281 یہاں دوبارہ مضمون جہاد کا اعادہ ہے اور جہاد کرنے کی ترغیب فرمائی ہے کہ جہاد میں شریک نہ ہونے کی وجہ تو یہی ہوسکتی ہے کہ اس میں موت کا ڈر ہے کہ کہیں مارے نہ جائیں لیکن یاد رکھو موت کا مزہ تو ہر کسی کو چکھنا ہے اور موت ہر حال میں آئے گی خواہ تم گھروں میں بیٹھے رہو یا قتال میں شرکت کرو اس لیے تمہارے لیے بہتر یہی ہے کہ تم جہاد کرو کیونکہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنا بہت بڑی نیکی اور اعلیٰ درجہ کا نیک عمل ہے اس کے دنیوی فوائد مثلاً اپنے مال و جان، عزت و آبرو اور ملک و ملت کی حفاظت اور مال غنیمت وغیرہ کے علاوہ آخرت میں بھی تمہیں اس کا پورا پورا اجر وثواب ملے گا۔ فمن زحزح عن النار الخ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اگر اللہ کی راہ میں لڑتے لڑتے شہید ہوگئے تو سیدھے جنت میں داخل ہوجاؤ گے۔ 282 یہ مضمون انفاق کا دوسری بار اعادہ ہے یعنی دولت دنیا تمہیں اس قدر محبوب ہے کہ تم اسے اللہ کی راہ میں بھی خرچ نہیں کرتے ہو اور سمجھتے ہو کہ یہ دولت تم کو کچھ فائدہ دے گی۔ لیکن سن لو یہ دنیا کی زندگی اور اس کا سازوسامان اور مال و متاع بالکل عارضی اور فانی ہے اجر آخرت پر جو تمہیں اللہ کی راہ میں مال و جان دینے سے حاصل ہوگا۔ اس چند روزہ دنیوی عیش و عشرت کو کیوں ترجیح دیتے ہو یہ سراسر دھوکے کا سودا ہے جو اپنی ظاہری خوب صورتی سے تم کو آخرت سے غافل کر رہا ہے۔ وما نفع الحیاۃ الدنیا الا نفع الغرور ای نفع یغفل عن النفع الحقیقی لدوامہ وھو النفع فی الحیاۃ الاخرویۃ (بحر ج 3 ص 134) ای تغر المومن و تخدعہ فیظن طول البقاء وھی فانیۃ (قرطبی ج 4 ص 302) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 2 اے پیغمبر اگر یہ معاندین اس پر بھی آپ کی تکذیب کریں تو آپ آزردہ خاطر نہ ہوں کیونکہ آپ سے پہلے بھی بکثرت رسولوں کی تکذیب کی جاچکی ہے اور بہت سے ایسے رسول جھٹلائے جاچکے ہیں جو دلائل و معجزات لیکر آئے تھے اور چھوٹے چھوٹے صحیفے لیکر اور روشن کتاب لیکر آئے تھے جب ان کی تکذیب سے بھی یہ معاندین باز نہ آئے تو آپ ان کی تکذیب سے ملول نہ ہوں۔ ہر جاندار تم میں سے موت کا مزہ چکھنے والا ہے اور بس مرنے کے بعد تم میں سے ہر ایک کو اپنے اپنے اعمال کی پوری پاداش قیامت کے دن ملے گی اور تم اپنے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیئے جائوگے۔ پھر جو شخص اس دن دوزخ سے دور رکھا گیا اور بچالیا گیا اور جنت میں داخل کردیا گیا تو بلاشبہ وہ کامیاب اور فائز المرام ہوا اور دنیاوی زندگی تو سوائے اس کے کچھ بھی نہیں کہ ایک دھوکے کا سامان اور ایک دھوکے کا سودا ہے۔ (تیسیر) مطلب یہ ہے کہ معاندین ایک قسم کے عادی مجرم اور تکذیب پیشہ لوگ ہیں ان کا دستور ہمیشہ یہی رہا ہے اور اپنے اپنے زمانے میں ہر پیغمبر کے ساتھ ان کا یہی سلوک رہا ہے خواہ وہ پیغمبر بڑے بڑے معجزات لیکر آیا خواہ چھوٹے چھوٹے صحائف لایا یا کوئی بڑی کتاب جیسے توریت انجیل اور زبور لیکر آیا۔ بڑی کتاب کو اس کی شان اور مضامین کے اعتبار سے منیر اور روشن فرمایا جب ان کی عادت ہی یہ ہے اور ہر پیغمبر صاحب کتاب اور صاحب معجزات کے ساتھ ان کا سلوک ہی یہ ہے تومرگ انبوہ جشن دارد آپ کیوں ملول خاطر ہوں۔ رہی یہ بات کہ ایسے عادی مجرموں کو اور تحمل و برداشت کرنے والو اور ایمان لانے والوں کو یوں ہی چھوڑ دیا جائے گا تو یہ بات نہیں ہے بلکہ تم سب کو مرنا اور موت کا مزہ چکھنا ضرور ہے اور قیامت کے دن ہر ایک کو تم میں سے اپنے اپنے کئے کا پھل بھگتنا اور اجر حاصل کرنا ہے اور اس دن کامیابی کا سب سے بڑا راز یہ ہے کہ کوئی شخص دوزخ سے بچاکر جنت میں داخل کردیا جائے۔ یہی حقیقی کامیابی ہے۔ زخزح کے معنی ہیں جلدی سے کسی چیزکو ہٹا لینا۔ ظاہرتو یہی ہے کہ اس سے وہ کامل مومن مراد ہیں جو دوزخ سے بالکل محفوظ رہیں اور جنت میں چلے جائیں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کچھ دنوں معاصی کی پاداش بھگت کر نکال لئے جائیں یہ شکل بھی جلدی سے ہٹا لینے کی ہے۔ اگر یہ معنی کئے جائیں تو اس طرح سب مسلمان مراد ہوں گے اور ہمیشہ جہنم میں رہنے والوں کے مقابلے میں جس عرصہ میں بھی کوئی جہنم سے نکال کر جنت میں داخل کردیا جائے وہ کامیاب اور فائز المرام ہی ہے۔ البتہ اس کی کامیابی ان حضرات مخلصین سے کم ہے جو جہنم سے پرے ہی پرے جنت میں داخل کردیئے جائیں۔ دھوکے کا سامان اور دھوکے کا سودا دنیوی زندگی کو اس لئے فرمایا کہ اس کی ظاہری رونق کو دیکھ کر آدمی اس میں پھنس جاتا ہے اور چند دن کے بعدکھوٹے مال کی حقیقت اور اس کی قلعی کھل جاتی ہے اور چونکہ عارضی چیز ہے اس لئے اس میں انہماک کی اور اس کی مقصود بالذات بنانے کی مذمت کی گئی ہے۔ سورئہ قصص میں ہے۔ وما اوتیتم میں شئی فمتاع الحیٰوۃ الدنی وزینتھا وما عنداللہ خیر وابقی۔ یعنی جو کچھ تم کو دیا گیا ہے وہ دنیوی زندگی کا سامان اور یہاں کی رونق ہے اور اللہ کے ہاں جو کچھ ملنے والا ہے وہ بہت بہتر اور پائیدار ہے۔ یہاں دنیوی زندگی کو دھوکے کی ٹٹی اور دھوکے کا سودا کہنے سے یہی مطلب ہے کہ اس زندگی کو اصل مطلوب نہ بنائو اور اس کو مقصود بالذات نہ سمجھو اور اس سے محبت نہ کرو بلکہ اس کو حصول آخرت کا ذریعہ بنائو۔ غرور مصدر بھی ہوسکتا ہے اور غار کی جمع بھی ہوسکتی ہے۔ حضرت قتادہ کا قول ہے یہ دنیا ایسا سامان ہے جو چھوڑ دیا جائے گا اور اپنے لوگوں ک مضمحل کردے گا تم اس سامان سے جس قدر ہوسکے اللہ تعالیٰ کی طاعت حاصل کرلو۔ حضرت علی (رض) نے فرمایا ہے یہ ہاتھ لگانے میں بڑی نرم ہے مگر اس کا زہر قاتل اور جان لیوا ہے بعض حضرات نے فرمایا ہے یہ تشبیہ آخرت کے مقابلہ میں ہے اور اس شخص کی تشبیہ ہے جو آخرت کے مقابلہ میں دنیا کو ترجیح دے ورنہ اگر کوئی دنیا کو آخرت کے حصول کا ذریعہ بنائے تو اس کے لئے نعم المال الصالح للرجل الصالح آیا ہے۔ مطلب یہ کہ مقصود بالذات خیال کرو تو بری چیز ہے اور نیکیاں کمائو اور جان و مال دیکر جنت خرید لو تو اچھی چیز ہے۔ (واللہ اعلم) ملاحظہ ہو۔ روح المعانی۔ حضرت ابن عمرو سے امام احمد نے مرفوعاً نقل کیا ہے فرمایا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو شخص یہ چاہتا ہے کہ دوزخ سے الگ تھلگ رہے اور جنت میں داخل کردیا جائے تو اس کو ایسی حالت میں موت آئے کہ وہ اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اور اس کو چاہئے کہ وہ لوگوں سے ایسا برتائو کرے جیسا برتائو اپنے ساتھ کرتا ہے۔ ایک اور حدیث شریف میں ہے خدا کی قسم دنیا آخرت کے مقابلے میں اس سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی جیسے کوئی اپنی انگلی کو دریا میں ڈال کر نکال لے اور پھر دیکھے کہ وہ انگلی کیا لیکر نکلی۔ اب آگے مسلمانوں کو صبر و استقامت کی تلقین ہے اور مشرکین و یہود کی ایذا رسانی کا تذکرہ ہے اور جان و مال کے امتحان کا ذکر ہے۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)