Every available translation of Surat Aal e Imran, verse 75, side by side - Urdu, English, Hindi and Roman - with the Arabic text above them.
|
وَمِنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ
اور اہل کتاب میں سے
|
مَنۡ
جو
|
اِنۡ
اگر
|
تَاۡمَنۡہُ
آپ امانت دیں اسے
|
بِقِنۡطَارٍ
ایک خزانہ
|
یُّؤَدِّہٖۤ
وہ ادا کردے گا اسے
|
اِلَیۡکَ
طرف آپ کے
|
وَمِنۡہُمۡ
اور کوئی وہ ہے
|
مَّنۡ
جو
|
اِنۡ
اگر
|
تَاۡمَنۡہُ
آپ امانت دے اسے
|
بِدِیۡنَارٍ
ایک دینار
|
لَّایُؤَدِّہٖۤ
نہیں ادا کرے گا اسے
|
اِلَیۡکَ
طرف آپ کے
|
اِلَّا
مگر
|
مَادُمۡتَ
جب تک آپ رہیں
|
عَلَیۡہِ
اس پر
|
قَآئِمًا
قائم / کھڑے
|
ذٰلِکَ
یہ
|
بِاَنَّہُمۡ
بوجہ اس کے وہ
|
قَالُوۡا
وہ کہتے ہیں
|
لَیۡسَ
نہیں ہے
|
عَلَیۡنَا
ہم پر
|
فِی الۡاُمِّیّٖنَ
امیوں کے بارے میں
|
سَبِیۡلٌ
کوئی راستہ( مواخذہ)
|
وَیَقُوۡلُوۡنَ
اور وہ کہتے ہیں
|
عَلَی اللّٰہِ
اللہ پر
|
الۡکَذِبَ
جھوٹ
|
وَہُمۡ
حالانکہ وہ
|
یَعۡلَمُوۡنَ
وہ جانتے ہیں
|
|
وَمِنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ
اور اہلِ کتاب میں سے ہے
|
مَنۡ
جو
|
اِنۡ
اگر
|
تَاۡمَنۡہُ
آپ امین بناؤ اس کو
|
بِقِنۡطَارٍ
ایک خزانے پر
|
یُّؤَدِّہٖۤ
وہ ادا کر دے گا اُس کو
|
اِلَیۡکَ
آپ کی طرف
|
وَمِنۡہُمۡ
اور اُن میں سے ہے
|
مَّنۡ
جو
|
اِنۡ
اگر
|
تَاۡمَنۡہُ
آپ امین بناؤ اس کو
|
بِدِیۡنَارٍ
ایک دینار پر
|
لَّایُؤَدِّہٖۤ
نہیں وہ ادا کرے گا اسے
|
اِلَیۡکَ
آپ کی طرف
|
اِلَّا
مگر
|
مَادُمۡتَ
جب تک رہو تم
|
عَلَیۡہِ
اس پر
|
قَآئِمًا
کھڑے ہوئے
|
ذٰلِکَ
یہ
|
بِاَنَّہُمۡ
اس وجہ سے ہے کہ یقیناً وہ
|
قَالُوۡا
انہوں نے کہا
|
لَیۡسَ
نہیں ہے
|
عَلَیۡنَا
ہم پر
|
فِی الۡاُمِّیّٖنَ
جاہلوں میں
|
سَبِیۡلٌ
کوئی راستہ
|
وَیَقُوۡلُوۡنَ
اور وہ کہتے ہیں
|
عَلَی
اُوپر
|
اللّٰہِ
اللہ تعالیٰ کے
|
الۡکَذِبَ
جھوٹ
|
وَہُمۡ
حالانکہ وہ
|
یَعۡلَمُوۡنَ
وہ جانتے ہیں
|
And among the People of the Scripture is he who, if you entrust him with a great amount [of wealth], he will return it to you. And among them is he who, if you entrust him with a [single] silver coin, he will not return it to you unless you are constantly standing over him [demanding it]. That is because they say, "There is no blame upon us concerning the unlearned." And they speak untruth about Allah while they know [it].
بعض اہل کتاب تو ایسے ہیں کہ اگر انہیں تُو خزانے کا امین بنا دے تو بھی وہ تجھے واپس کر دیں اور ان میں سے بعض ایسے بھی ہیں کہ اگر تُو انہیں ایک دینار بھی امانت دے تو تجھے ادا نہ کریں ۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ تو اس کے سر پر ہی کھڑا رہے یہ اس لئے کہ انہوں نے کہہ رکھا ہے کہ ہم پر ان جاہلوں ( غیر یہودی ) کے حق کا کوئی گناہ نہیں ، یہ لوگ باوجود جاننے کے اللہ تعالٰی پر جھوٹ کہتے ہیں ۔
اور اہل کتاب میں کچھ تو ایسے ہیں کہ اگر آپ ان پر اعتماد کرتے ہوئے ایک خزانہ بھر مال دے دیں تو وہ آپ کو واپس کردیں اور کچھ ایسے ہیں کہ اگر آپ انہیں ایک دینار بھی دے بیٹھیں تو وہ ادا نہ کریں الا یہ کہ تم ہر وقت ان کے سر پر سوار رہو۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ (ان کا عقیدہ یہ بن گیا ہے) کہ ان پڑھوں (غیر یہود) کے بارے میں ان پر کچھ گرفت نہ ہوگی۔ یہ لوگ دیدہ دانستہ اللہ کی طرف جھوٹی باتیں منسوب کر رہے ہیں
اوراہلِ کتاب میں سے ایسے بھی ہیں کہ آپ اگراس کوایک خزانے کا امین بنا دوتو بھی وہ اس کواداکردے گااوراُن میں ایسے بھی ہیں کہ آپ اگر اس کوایک دینار بھی امانت دووہ بھی آپ کو اُس وقت تک ادا نہیں کرے گا مگرجب تک آپ اُن کے سر پرکھڑے رہو،اس کی وجہ یہ ہے کہ یقیناانہوں نے کہا کہ اَن پڑھوں کے بارے میں ہم پرکوئی راستہ نہیں اوروہ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ کہتے ہیں حالانکہ وہ جانتے ہیں۔
And among the people of the Book there is one who, if you entrust him with a heap (of-gold or silver), will give it back to you; and among them there is one who, if you entrust him with a single dinar, he will not give it back to you unless you keep standing over him. This is be-cause they have said, |"There is no way we can be blamed in the matter of the unlettered.|" And they tell lies about Allah knowingly.
اور بعضے اہل کتاب میں وہ ہیں کہ اگر تو ان کے پاس امانت رکھے ڈھیر مال کا تو ادا کردیں تجھ کو اور بعضے ان میں وہ ہیں کہ اگر تو ان کے پاس امانت رکھے ایک اشرفی تو ادا نہ کریں تجھ کو مگر جب تک کہ تو رہے اس کے سر پر کھڑا یہ اس واسطے کہ انہوں نے کہہ رکھا ہے کہ نہیں ہے ہم پر ان لوگوں کے حق لینے میں کچھ گناہ اور جھوٹ بولتے ہیں اللہ پر اور وہ جانتے ہیں۔
اور اہل کتاب میں سے ایسے لوگ بھی ہیں کہ اگر تم ان کے پاس امانت رکھوا دو ڈھیروں مال تو وہ تمہیں پورا پورا واپس لوٹا دیں گے اور ان میں ایسے بھی ہیں کہ اگر تم ان کے پاس ایک دینار بھی امانت رکھوا دو تو وہ تمہیں واپس نہیں کریں گے مگر جب تک کہ تم اس کے سر پر کھڑے رہو یہ اس لیے کہ وہ کہتے ہیں کہ ان امیین کے معاملے میں ہم پر کوئی ملامت نہیں ہے۔
And among the People of the Book there are some who would restore you even if you were to entrust a treasure of gold, and of them there are some whom were you to entrust with one gold piece, will not restore it unless you stand over them. That is because they say: 'We will not be taken to task for whatever we may do to non-Jews (ummls). Thus they falsely fix a lie upon Allah, and do so wittingly.
اہل کتاب میں کوئی تو ایسا ہے کہ اگر تم اس کے اعتماد پر مال و دولت کا ایک ڈھیر بھی دے دو تو وہ تمہارا مال تمہیں ادا کر دے گا ، اور کسی کا حال یہ ہے کہ اگر تم ایک دینار کے معاملہ میں بھی اس پر بھروسہ کرو تو وہ ادا نہ کرے گا اِلّا یہ کہ تم اس کے سر پر سوار ہو جاؤ ۔ ان کی اس اخلاقی حالت کا سبب یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں امّیوں ﴿غیر یہودی لوگوں﴾ کے معاملہ میں ہم پر کوئی مواخذہ نہیں ہے ۔ 64 اور یہ بات وہ محض جھوٹ گھڑ کر اللہ کی طرف منسوب کرتے ہیں ، حالانکہ انہیں معلوم ہے کہ اللہ نے ایسی کوئی بات نہیں فرمائی ہے ،
اہل کتاب میں کچھ لوگ تو ایسے ہیں کہ اگر تم ان کے پاس دولت کا ایک ڈھیر بھی امانت کے طور پر رکھوا دو تو وہ تمہیں واپس کردیں گے ، اور انہی میں سے کچھ ایسے ہیں کہ اگر ایک دینار کی امانت بھی ان کے پاس رکھواؤ تو وہ تمہیں واپس نہیں دیں گے ، الا یہ کہ تم ان کے سر پر کھڑے رہو ۔ ان کا یہ طرز عمل اس لیے ہے کہ انہوں نے یہ کہہ رکھا ہے کہ : امیوں ( یعنی غیر یہودی عربوں ) کے ساتھ معاملہ کرنے میں ہماری کوئی پکڑ ہیں ہوگی ۔ اور ( اس طرح ) وہ اللہ پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھتے ہیں ۔
اور کتاب والوں میں کوئی تو ایسا ہے کہا گر چاندی سونے کے ڈھیر اس کے پاس امانت دکھادے تو وہ مانگنے کے ساتھ ہی ادا کردے اور کوئی ان میں ایسا ہے کہ اگر ایک اشرفی اس کے پاس امانت رکھا دے تو پھر تجھ کو نہ دے مگر جب سدا اس کے سر کھڑا رہے یہ بےایمانی اس لیے کرے ت ہیں وہ صاف صاف کہتے ہیں کہ جاہلوں کا عرب کے لوگوں کا جو اہل کتاب نہ تھے مال مار لیں تو ہم پر کوئی گناہ نہ ہوگا اور جان بوجھ کر الہ پر جھوٹ باندھتے ہیں 1
اور اہل کتاب میں کوئی ایسا بھی ہے کہ اگر تم اسے ایک خزانہ امانت کے طور پر دو تو وہ تم کو لوٹا دے اور کوئی ایسا ہے کہ اگر اس کو ایک دینار امانت دو تو وہ تم کو واپس نہ کرے مگر یہ کہ تم ہر وقت کے سر پر کھڑے رہو یہ اس لئے کہ وہ کہتے ہیں ان پڑھوں کے بارے ہم پر کوئی الزام نہ ہوگا اور وہ اللہ پر جھوٹ بولتے ہیں اور وہ جانتے ہیں
اہل کتاب میں سے بعض تو وہ ہیں جن کو اعتماد کرتے ہوئے اگر ما ل و دولت کا ڈھیر بھی دے دیا جائے تو وہ تمہارا مال واپس کردیں گے۔ لیکن بعض لوگ وہ ہیں کہ اگر تم ان کو ایک دینار بھی ان پر اعتماد کرتے ہوئے دے دو تو وہ اس کو اس وقت تک ادا نہ کریں جب تک تم ان کے سر پر سوار ہی نہ ہوجاؤ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ لوگ کہتے ہیں کہ امیوں (یعنی غیر یہودیوں کے ) معاملے میں ہم پر کوئی گرفت یا مواخذہ نہیں ہے۔ یہ اللہ پر بالکل جھوٹ گھڑ رہے ہیں حالانکہ وہ بھی اس بات کو اچھی طرح جانتے ہیں۔
اور اہلِ کتاب میں سے کوئی تو ایسا ہے کہ اگر تم اس کے پاس (روپوں کا) ڈھیر امانت رکھ دو تو تم کو (فوراً) واپس دے دے اور کوئی اس طرح کا ہے کہ اگر اس کے پاس ایک دینار بھی امانت رکھو تو جب تک اس کے سر پر ہر وقت کھڑے نہ رہو تمہیں دے ہی نہیں یہ اس لیے کہ وہ کہتے ہیں کہ امیوں کے بارے میں ہم سے مواخذہ نہیں ہوگا یہ خدا پر محض جھوٹ بولتے ہیں اور (اس بات کو) جانتے بھی ہیں
And of the people of the Book is he whom if thou trustest with a talent, he will restore it unto thee, and among them is he whom if thou trustest with a dinar, he will not restore it unto thee except thou art ever standing over him that is because they say there is in the matter of the illiterates no call on us. And they forge a lie against Allah while they know.
اور اہل کتاب میں سے کوئی ایسا بھی ہے کہ اگر تو اس کے پاس ایک ڈھیر (کا ڈھیر) امانت رکھا دے تو وہ (بھی) تجھے ادا کردے ۔ اور ان میں سے کوئی ایسا بھی ہے کہ اگر تو اس کے پاس ایک دینار امانت رکھا دے تو وہ تجھے اس کو واپس نہ کرے بجز اس صورت کے کہ تو اس (کے سر) پر کھڑا رہے ۔ یہ اس لئے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہمارے اوپر امیوں کے باب میں کوئی ذمہ داری ہی نہیں یہ لوگ اللہ کے اوپر جھوٹ گڑھ رہے ہیں درآنحالیکہ خوب جان رہے ہیں ۔
اور اہلِ کتاب میں ایسے لوگ بھی ہیں کہ اگر ان کے پاس امانت کا ڈھیر بھی رکھو تو مانگنے پر لوٹادیں گے اور ان میں وہ بھی ہیں کہ اگر تم ان کی امانت میں ایک دینار بھی رکھو تو وہ اس وقت تک اس کو تمہیں لوٹانے والے نہیں ہیں ، جب تک تم ان کے سر پر سوار نہ ہوجاؤ ۔ یہ اس وجہ سے کہ وہ کہتے ہیں کہ ان امیوں کے معاملے میں ہمارے اوپر کوئی الزام نہیں اور یہ جانتے بوجھتے اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں ۔
اور بعض اہل کتاب ایسے ہیں کہ اگر آپ ان کے پاس بہت سارا مال رکھوا دیں تو وہ آپ کو واپس کر دیں اور ان میں سے بعض ایسے بھی ہیں کہ اگر آپ ان کے پاس ایک دینار ( بھی ) امانت رکھوائیں تو وہ آپ کو اس وقت تک واپس نہ کریں جب تک کہ آپ ان کے سر پر کھڑے نہ رہیں ۔ اس ( بددیانتی ) کی وجہ یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم پر ان پڑھوں کے بارے میں کوئی مواخذہ نہیں اور یہ لوگ جاننے کے باوجود اللہ ( تعالیٰ ) پر جھوٹ بولتے ہیں ۔
اہل کتاب میں سے کوئی تو ایسا ہے کہ اگر تم اس کے اعتبار پر مال و دولت کا ایک ڈھیر بھی دے دو تو وہ تمہارا مال تمہیں ادا کر دے گا اور کسی کا حال یہ ہے کہ اگر تم ایک دینار کے معاملہ میں بھی اس پر بھروسہ کرو تو وہ ادا نہ کرے گا۔ سوائے اس کے کہ تم اس کے سر پر سوار ہوجاؤ (یہ ان کی اس اخلاقی حالت کا سبب) اس لیے ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ امیوں (غیر یہودی) کے معاملہ میں ہم پر کوئی مواخذہ نہیں ہے اور یہ بات وہ محض جھوٹ گھڑ کر اللہ کی طرف منسوب کرتے ہیں، حالانکہ انہیں معلوم ہے کہ اللہ نے ایسی کوئی بات نہیں فرمائی۔
اور اہل کتاب میں سے کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جن کے پاس ایک دینار بھی رکھ دو تو وہ تمہیں واپس نہیں دیں گے، الا یہ کہ تم ان کے سروں پر سوار رہو، یہ (گراوٹ اور اخلاقی پستی) اس بناء پر ہے کہ ان کا کہنا یہ ہے کہ ہم امیوں (غیر اہل کتاب اور ان کا مال مار کھانے) کے بارے میں کوئی مواخذہ (و الزام) نہیں، اور (اس طرح) یہ لوگ دیدہ و دانستہ (اور جانتے بو جھتے) اللہ پر جھوٹ بولتے ہیں
اوراہل کتاب میں سے کچھ ایسے ہیں کہ اگرآپ ا ن پر اعتمادکرتے ہوئے ایک خزانہ بھرمال دے دیں تووہ آپ کو واپس کردینگے اور کچھ ایسے ہیں کہ اگر آپ انہیں ایک دینار بھی دے بیٹھیں تو ادا نہ کرینگے سوائے یہ کہ تم ہروقت ان کے سر پر سوار رہو کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ اَن پڑھوں ( غیریہود ) کے بارے میں ہم پر پوچھ گچھ نہیں ہوگی یہ جان بوجھ کراللہ کی طرف جھوٹی باتیں منسوب کر رہے ہیں
اور کتابیوں میں کوئی وہ ہے کہ اگر تو اس کے پاس ایک ڈھیر امانت رکھے تو وہ تجھے ادا کردے گا ( ف۱٤۲ ) اور ان میں کوئی وہ ہے کہ اگر ایک اشرفی اس کے پاس امانت رکھے تو وہ تجھے پھیر کر نہ دے گا مگر جب تک تو اس کے سر پر کھڑا رہے ( ف۱٤۳ ) یہ اس لئے کہ وہ کہتے ہیں کہ اَن پڑھوں ( ف۱٤٤ ) کے معاملہ میں ہم پر کوئی مؤاخذہ نہیں اور اللہ پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھتے ہیں ( ف۱٤۵ )
اور اہلِ کتاب میں ایسے بھی ہیں کہ اگر آپ اس کے پاس مال کا ڈھیر امانت رکھ دیں تو وہ آپ کو لوٹا دے گا اور انہی میں ایسے بھی ہیں کہ اگر اس کے پاس ایک دینار امانت رکھ دیں تو آپ کو وہ بھی نہیں لوٹائے گا سوائے اس کے کہ آپ اس کے سر پر کھڑے رہیں ، یہ اس لئے کہ وہ کہتے ہیں کہ اَن پڑھوں کے معاملہ میں ہم پر کوئی مؤاخذہ نہیں ، اور اﷲ پر جھوٹ باندھتے ہیں اور انہیں خود ( بھی ) معلوم ہے
اور اہل کتاب میں سے کوئی تو ایسا ہے ۔ کہ اگر تم ڈھیر بھر روپیہ بھی بطور امانت اس کے پاس رکھو تو وہ تمہیں ادا کر دے گا ۔ اور ان میں کوئی ایسا بھی ہے کہ اگر اس کے پاس ایک دینار ( اشرفی ) بھی بطور امانت رکھو تو جب تک تم اس کے سر پر کھڑے نہ رہو وہ تمہیں واپس نہیں کرے گا ( یہ بدمعاملگی ) اس وجہ سے ہے کہ ان کا قول ہے کہ ہم پر امیّون ( ان پڑھ عربوں جوکہ اہل کتاب نہیں ) کے بارے میں کوئی پابندی نہیں ہے ۔ اور وہ جان بوجھ کر اللہ پر جھوٹ منڈھتے ہیں ۔
Among the People of the Book are some who, if entrusted with a hoard of gold, will (readily) pay it back; others, who, if entrusted with a single silver coin, will not repay it unless thou constantly stoodest demanding, because, they say, "there is no call on us (to keep faith) with these ignorant (Pagans)." but they tell a lie against Allah, and (well) they know it.
If you entrust some of the People of the Book, with a large quantity of gold, they will return it to you while if you entrust others among them with a small quantity of gold, they will not give it back to you unless you keep insisting on its return. For they say, "We are not bound to keep our words with the illiterate people," and they themselves knowingly ascribe false statements to God.
Among the People of the Scripture is he who, if entrusted with a Qintar (a great amount of wealth), will readily pay it back; and among them there is he who, if entrusted with a single silver coin, will not repay it unless you constantly stand demanding, because they say: "There is no blame on us to betray and take the properties of the illiterates (Arabs)." But they tell a lie against Allah while they know it.
And among the followers of the Book there are some such that if you entrust one (of them) with a heap of wealth, he shall pay it back to you; and among them there are some such that if you entrust one (of them) with a dinar he shall not pay it back to you except so long as you remain firm in demanding it; this is because they say: There is not upon us in the matter of the unlearned people any way (to reproach); and they tell a lie against Allah while they know.
Among the People of the Scripture there is he who, if thou trust him with a weight of treasure, will return it to thee. And among them there is he who, if thou trust him with a piece of gold, will not return it to thee unless thou keep standing over him. That is because they say: We have no duty to the Gentiles. They speak a lie concerning Allah knowingly.
और अहले-किताब में कोई ऐसा भी है कि अगर तुम उसके पास अमानत का ढेर रखो तो वह उसको तुम्हें अदा कर दे, और उनमें कोई ऐसा है कि अगर तुम उसके पास एक दीनार अमानत रख दो तो वह तुमको अदा न करे, मगर यह कि तुम उसके सर पर खड़े हो जाओ, यह इस सबब से कि वह कहते हैं कि ग़ैर अहले-किताब के बारे में हम पर कोई इल्ज़ाम नहीं, और वह अल्लाह के ऊपर झूठ लगाते हैं; हालाँकि वे जानते हैं।
اور اہل کتاب میں سے بعض شخص ایسا ہے کہ (اے مخاطب) اگر تم اس کے پاس انبار کا انبار مال بھی امانت رکھ دو تو وہ (مانگنے کے ساتھ ہی) اسکو تمہارے پاس لارکھے۔ اور ان ہی میں سے بعض وہ شخص ہے کہ اگر تم اس کے پاس ایک دینار بھی امانت رکھ دو تو وہ بھی تم کو ادا نہ کرے مگر جب تک کہ تم اس کے سر پر کھٹے نہ رہو۔ یہ (امانت کا ادا نہ کرنا) اس سبب سے ہے کہ وہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم پر غیر اہل کتاب کے ( مال کے) بارے میں کسی طرح کا الزام نہیں (4) اور وہ لوگ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ لگاتے ہیں اور (دل میں) وہ بھی جانتے ہیں۔ (5) (75)
بعض اہل کتاب تو ایسے ہیں کہ اگر انہیں خزانے کا امین بنا دیں تو وہ تمہیں واپس کردیں گے اور ان میں سے بعض ایسے ہیں اگر انہیں ایک دینار بھی امانت دیں تو وہ تمہیں نہیں لوٹائیں گے الا یہ کہ تم اس کے سر پر سوار ہوجاؤ۔ یہ اس لیے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم پر جاہلوں کے بارے میں کوئی گناہ نہیں یہ جاننے کے باوجود اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولتے ہیں
اہل کتاب میں سے کوئی تو ایسا ہے کہ اگر تم اس کے اعتماد پر مال و دولت کا ایک ڈھیر بھی دے دو تو وہ تمہارا مال تمہیں ادا کردے گا ‘ اور کسی کا حال یہ ہے کہ اگر تم ایک دینار کے معاملے میں بھی اس پر بھروسہ کرو تو وہ ادا نہ کرے گا الّا یہ کہ تم اس کے سر پر سوار ہوجاؤ۔ ان کی اس اخلاقی حالت کا سبب یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں ۔ امیوں کے معاملے میں ہم پر کوئی موأخذہ نہیں ہے۔ اور یہ بات وہ محض جھوٹ گھڑکر اللہ کی طرف منسوب کرتے ہیں ‘ حالانکہ انہیں معلوم ہے کہ اللہ نے ایسی کوئی بات نہیں فرمائی ہے ۔
اور اہل کتاب میں بعض ایسے ہیں کہ ان کے پاس اگر بہت مال امانت رکھ دو گے تو وہ تمہاری طرف ادا کردیں گے اور ان میں ایسے ہیں کہ اگر تم ان کے پاس ایک دینار امانت رکھ دو گے تو وہ تمہاری طرف ادا نہیں کریں گے مگر یہ کہ تم برابر سر پر کھڑے رہو۔ یہ اس لیے کہ انہوں نے کہا کہ ان پڑھوں کے بارے میں ہم پر کوئی مواخذہ نہیں ہے اور وہ اللہ پر جھوٹ بولتے ہیں حالانکہ وہ جانتے ہیں۔
اور بعضے اہل کتاب میں وہ ہیں کہ اگر تو ان کے پاس امانت رکھے ڈھیر مال کا تو ادا کردیں تجھ کو اور بعضے ان میں وہ ہیں کہ اگر تو ان کے پاس امانت رکھے ایک اشرفی تو ادا نہ کریں تجھ کو مگر جب تک کہ تو رہے اس کے سر پر کھڑا یہ اس واسطے کہ انہوں نے کہہ رکھا ہے کہ نہیں ہے ہم پر امی لوگوں کے حق لینے میں کچھ گناہ اور جھوٹ بولتے ہیں اللہ پر اور وہ جانتے ہیں
اور اہل کتاب میں سے کوئی شخص تو ایسا ہے کہ اگر اے مخاطب تو اس کو مال و دولت کے ڈھیرکا امین بنا دے تو وہ اے تجھ کو ادا کر دے اور ان ہی میں سے کوئی شخص ایسا بھی ہے کہ اگر تو اس کو ایک دینار کا امین بنادے تو وہ تجھ کو وہ دینار بھی ادا نہ کرے الا یہ کہ تو اس کے سرپر ہر وقت کھڑا رہے ان کا اس خیانت کا سبب یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ان پڑھ یعنی غیر اہل کتاب کا حق دبا لینے میں ہم پر کوئی مواخذہ نہیں ان کی حالت یہ ہے کہ وہ جان بوجھ کر اللہ پر جھوٹ بولت ہیں