In the eighth verse (112), a general rule of conduct has been set forth. It stipulates that anyone who himself commits a crime, then goes on to put the blame on some innocent person (as in the episode cited above where the theft was committed by Banu Ubayriq themselves and they went on to put the blame on Sayyidna Labid or the Jew) has done something grave by levelling a false accusation of great magnitude against an innocent person plus an open sin weighing heavy on one&s shoulders.
آٹھویں آیت (یعنی ٢١١) میں ایک عام ضابطہ کی صورت ارشاد فرمایا کہ جو شخص خود کو کوئی جرم کرے اور پھر یہ جرم کسی بےقصور انسان کے ذمہ لگائے (جیسا کہ اس واقعہ میں بنو ابیرق نے چوری خود کی اور الزام حضرت لبید یا یہودی پر لگا دیا) تو اس نے بہت بڑا بہتان اور صریح گناہ اپنے اوپر لاد لیا۔ اپنے گناہ کا الزام دوسرے پر لگانا دوگنے عذاب کا سبب ہے :۔ اور آیت نمبر ٢١١ یعنی ومن یکسب خطیئة اواثما ثم یرم بہ الخ سے معلوم ہوا کہ وہ شخص گناہ خود کرے اور اس کا الزام دوسرے بےگناہ آدمی پر لگا دے، تو اس نے اپنے گناہ کو دوگنا اور نہایت سخت کردیا اور عذاب شدید کا مستحق ہوگیا، ایک تو خود اصل گناہ کا عذاب، دوسرے افتراء اور بہتان کا شدید عذاب۔