Surat un Nissa

Surah: 4

Verse: 112

سورة النساء

وَ مَنۡ یَّکۡسِبۡ خَطِیۡٓئَۃً اَوۡ اِثۡمًا ثُمَّ یَرۡمِ بِہٖ بَرِیۡٓـئًا فَقَدِ احۡتَمَلَ بُہۡتَانًا وَّ اِثۡمًا مُّبِیۡنًا ﴿۱۱۲﴾٪  13

But whoever earns an offense or a sin and then blames it on an innocent [person] has taken upon himself a slander and manifest sin.

اور جو شخص کوئی گناہ یا خطا کر کے کسی بے گناہ کے ذمہ تھوپ دے ، اس نے بڑا بہتان اٹھایا اور کھلا گناہ کیا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

And whoever earns a fault or a sin and then blames it on someone innocent, he has indeed burdened himself with falsehood and a manifest sin.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

112۔ 1 جس طرح بنو ابیرق نے کیا کہ چوری خود کی اور تہمت کسی اور پر دھری، جو ان کی سی بدخصلتوں کے حامل اور ان جیسے برے کاموں کے مرتکب ہونگے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٥٠] کیونکہ اس نے دو جرم کیے ہیں۔ ایک وہ جو خود گناہ کا کام کیا اور دوسرا گناہ اس سے بڑا ہے کہ اس گناہ کو کسی بےقصور کے سر تھوپ کر اسے مجرم بنا دینے کی کوشش کی جائے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

خَطِيْۗئَةً “ کا لفظ غیر ارادی گناہ پر بولا جاتا ہے اور اس کے برعکس ” اِثْمًا “ وہ گناہ ہے جو ارادی طور پر کیا جائے۔ مطلب یہ ہے کہ خود گناہ کا ارتکاب کرنے کے بعد کسی بےقصور آدمی کو اس میں ملوث کرنے کی کوشش کرنا بہت بڑا گناہ ہے اور کسی بےگناہ شخص پر تہمت لگانے کو بہتان کہا جاتا ہے۔ (قرطبی)

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

In the eighth verse (112), a general rule of conduct has been set forth. It stipulates that anyone who himself commits a crime, then goes on to put the blame on some innocent person (as in the episode cited above where the theft was committed by Banu Ubayriq themselves and they went on to put the blame on Sayyidna Labid or the Jew) has done something grave by levelling a false accusation of great magnitude against an innocent person plus an open sin weighing heavy on one&s shoulders.

آٹھویں آیت (یعنی ٢١١) میں ایک عام ضابطہ کی صورت ارشاد فرمایا کہ جو شخص خود کو کوئی جرم کرے اور پھر یہ جرم کسی بےقصور انسان کے ذمہ لگائے (جیسا کہ اس واقعہ میں بنو ابیرق نے چوری خود کی اور الزام حضرت لبید یا یہودی پر لگا دیا) تو اس نے بہت بڑا بہتان اور صریح گناہ اپنے اوپر لاد لیا۔ اپنے گناہ کا الزام دوسرے پر لگانا دوگنے عذاب کا سبب ہے :۔ اور آیت نمبر ٢١١ یعنی ومن یکسب خطیئة اواثما ثم یرم بہ الخ سے معلوم ہوا کہ وہ شخص گناہ خود کرے اور اس کا الزام دوسرے بےگناہ آدمی پر لگا دے، تو اس نے اپنے گناہ کو دوگنا اور نہایت سخت کردیا اور عذاب شدید کا مستحق ہوگیا، ایک تو خود اصل گناہ کا عذاب، دوسرے افتراء اور بہتان کا شدید عذاب۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَمَنْ يَّكْسِبْ خَطِيْۗــئَۃً اَوْ اِثْمًا ثُمَّ يَرْمِ بِہٖ بَرِيْۗــــــًٔـا فَقَدِ احْتَمَلَ بُہْتَانًا وَّاِثْمًا مُّبِيْنًا۝ ١١٢ۧ خطأ الخَطَأ : العدول عن الجهة، وذلک أضرب : أحدها : أن ترید غير ما تحسن إرادته فتفعله، وهذا هو الخطأ التامّ المأخوذ به الإنسان، يقال : خَطِئَ يَخْطَأُ ، خِطْأً ، وخِطْأَةً ، قال تعالی: إِنَّ قَتْلَهُمْ كانَ خِطْأً كَبِيراً [ الإسراء/ 31] ، وقال : وَإِنْ كُنَّا لَخاطِئِينَ [يوسف/ 91] . والثاني : أن يريد ما يحسن فعله، ولکن يقع منه خلاف ما يريد فيقال : أَخْطَأَ إِخْطَاءً فهو مُخْطِئٌ ، وهذا قد أصاب في الإرادة وأخطأ في الفعل، وهذا المعنيّ بقوله عليه السلام : «رفع عن أمّتي الخَطَأ والنسیان» «3» وبقوله : «من اجتهد فأخطأ فله أجر» «4» ، وقوله عزّ وجلّ : وَمَنْ قَتَلَ مُؤْمِناً خَطَأً فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ [ النساء/ 92] . والثّالث : أن يريد ما لا يحسن فعله ويتّفق منه خلافه، فهذا مخطئ في الإرادة ومصیب في الفعل، فهو مذموم بقصده وغیر محمود علی فعله، والخَطِيئَةُ والسّيّئة يتقاربان، لکن الخطيئة أكثر ما تقال فيما لا يكون مقصودا إليه في نفسه، بل يكون القصد سببا لتولّد ذلک الفعل منه ( خ ط ء ) الخطاء والخطاء ۃ کے معنی صحیح جہت سے عدول کرنے کے ہیں اس کی مختلف صورتیں ہیں ۔ ( 1 ) کوئی ایسا کام بالا رادہ کرے جس کا ارادہ بھی مناسب نہ ہو ۔ یہ خطا تام ہے جس پر مواخزہ ہوگا ا س معنی میں فعل خطئی یخطاء خطاء وخطاء بولا جا تا ہے قرآن میں ہے : ۔ إِنَّ قَتْلَهُمْ كانَ خِطْأً كَبِيراً [ الإسراء/ 31] کچھ شک نہیں کہ ان کا مار ڈالنا بڑا سخت جرم ہے ۔ وَإِنْ كُنَّا لَخاطِئِينَ [يوسف/ 91] اور بلا شبہ ہم خطا کار تھے ۔ ( 2 ) ارادہ تو اچھا کام کرنے کا ہو لیکن غلطی سے برا کام سرزد ہوجائے ۔ کہا جاتا ہے : ۔ اس میں اس کا ارادہ وہ تو درست ہوتا ہے مگر اس کا فعل غلط ہوتا ہے اسی قسم کی خطا کے متعلق آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے کہ : «رفع عن أمّتي الخَطَأ والنسیان» میری امت سے خطا سے خطا اور نسیان اٹھائے گئے ہیں ۔ نیز فرمایا : وبقوله : «من اجتهد فأخطأ فله أجر» جس نے اجتہاد کیا ۔ لیکن اس سے غلطی ہوگئی اسے پھر بھی اجر ملے گا قرآن میں ہے : ۔ اور جو غلطی سے مومن کو مار ڈالے تو ایک تو غلام کو ازاد کردے ۔ ( 3 ) غیر مستحن فعل کا ارادہ کرے لیکن اتفاق سے مستحن فعل سرزد ہوجائے ۔ اس صورت میں اس کا فعل تو درست ہے مگر ارادہ غلط ہے لہذا اس کا قصد مذموم ہوگا مگر فعل ہے لہذا اس کا قصد مذموم ہوگا مگر فعل بھی قابل ستائس نہیں ہوگا ۔ الخطیتۃ یہ قریب قریب سیئۃ کے ہم معنی ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَأَحاطَتْ بِهِ خَطِيئَتُهُ [ البقرة/ 81] اور اسکے گناہ ہر طرف سے اس کو گھیر لیں گے ۔ لیکن زیادہ تر خطئۃ کا استعمال اس فعل کے متعلق ہوتا ہے جو بزات خود مقصود نہ ہو بلکہ کسی دوسری چیز کا ارادہ اس کے صدر کا سبب بن جائے رمی الرَّمْيُ يقال في الأعيان کالسّهم والحجر، نحو : وَما رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلكِنَّ اللَّهَ رَمى [ الأنفال/ 17] ، ويقال في المقال، كناية عن الشّتم کالقذف، نحو : وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْواجَهُمْ [ النور/ 6] ، يَرْمُونَ الْمُحْصَناتِ [ النور/ 4] ، وأَرْمَى فلان علی مائة، استعارة للزّيادة، وخرج يَتَرَمَّى: إذا رمی في الغرض . ( ر م ی ) الرمی ( ض ) کے معنی پھینکنے کے ہیں یہ اجسام ( مادی چیزیں ) جیسے تیر وغیرہ کے متعلق استعمال ہوتا ہے جیسے فرمایا : ۔ وَما رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلكِنَّ اللَّهَ رَمى [ الأنفال/ 17] اے پیغمبر جب تو نے تیر چلائے تو تم نے تیر نہیں چلائے بلکہ اللہ تعالیٰ نے تیر چلائے ۔ اوراقوال کے متعلق استعمال ہو تو |" قذف |" کی طرح اس کے معنی سب و شتم اور تہمت طرازی کے ہوتے ہیں ۔ جیسے فرمایا : ۔ وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْواجَهُمْ [ النور/ 6] جو لوگ اپنی بیبیوں پر ( زنا کا ) عیب لگائیں ۔ وَالَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَناتِ [ النور/ 4] جو لوگ پاکدامن عورتوں پر زنا کی تہمت لگائیں ۔ محاورہ ہے ارمیٰ علٰی مائۃ : وہ سو سے زائد ہیں ۔ خرج یترمٰی : وہ نکل کر نشانہ بازی کرنے لگا ۔ برأ أصل البُرْءِ والبَرَاءِ والتَبَرِّي : التقصّي مما يكره مجاورته، ولذلک قيل : بَرَأْتُ من المرض وبَرِئْتُ من فلان وتَبَرَّأْتُ وأَبْرَأْتُهُ من کذا، وبَرَّأْتُهُ ، ورجل بَرِيءٌ ، وقوم بُرَآء وبَرِيئُون . قال عزّ وجلّ : بَراءَةٌ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ [ التوبة/ 1] ( ب ر ء ) البرء والبراء والتبری کے اصل معنی کسی مکردہ امر سے نجات حاصل کرتا کے ہیں ۔ اس لئے کہا جاتا ہے ۔ برءت من المریض میں تندرست ہوا ۔ برءت من فلان وتبرءت میں فلاں سے بیزار ہوں ۔ ابررتہ من کذا وبرء تہ میں نے اس کو تہمت یا مرض سے بری کردیا ۔ رجل بریء پاک اور بےگناہ آدمی ج برآء بریئوں قرآن میں ہے ؛۔ { بَرَاءَةٌ مِنَ اللهِ وَرَسُولِهِ } ( سورة التوبة 1) اور اس کے رسول کی طرف سے بیزاری کا اعلان ہے ۔ حمل الحَمْل معنی واحد اعتبر في أشياء کثيرة، فسوّي بين لفظه في فعل، وفرّق بين كثير منها في مصادرها، فقیل في الأثقال المحمولة في الظاهر کا لشیء المحمول علی الظّهر : حِمْل . وفي الأثقال المحمولة في الباطن : حَمْل، کالولد في البطن، والماء في السحاب، والثّمرة في الشجرة تشبيها بحمل المرأة، قال تعالی: وَإِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ إِلى حِمْلِها لا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ [ فاطر/ 18] ، ( ح م ل ) الحمل ( ض ) کے معنی بوجھ اٹھانے یا لادنے کے ہیں اس کا استعمال بہت سی چیزوں کے متعلق ہوتا ہے اس لئے گو صیغہ فعل یکساں رہتا ہے مگر بہت سے استعمالات میں بلحاظ مصاد رکے فرق کیا جاتا ہے ۔ چناچہ وہ بوجھ جو حسی طور پر اٹھائے جاتے ہیں ۔ جیسا کہ کوئی چیز پیٹھ لادی جائے اس پر حمل ( بکسرالحا) کا لفظ بولا جاتا ہے اور جو بوجھ باطن یعنی کوئی چیز اپنے اندر اٹھا ہے ہوئے ہوتی ہے اس پر حمل کا لفظ بولا جاتا ہے جیسے پیٹ میں بچہ ۔ بادل میں پانی اور عورت کے حمل کے ساتھ تشبیہ دے کر درخت کے پھل کو بھی حمل کہہ دیاجاتا ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ وَإِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ إِلى حِمْلِها لا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ [ فاطر/ 18] اور کوئی بوجھ میں دبا ہوا پنا بوجھ ہٹانے کو کسی کو بلائے تو اس میں سے کچھ نہ اٹھائے گا ۔ بهت قال اللہ عزّ وجل : فَبُهِتَ الَّذِي كَفَرَ [ البقرة/ 258] ، أي : دهش وتحيّر، وقد بَهَتَهُ. قال عزّ وجل : هذا بُهْتانٌ عَظِيمٌ [ النور/ 16] أي : كذب يبهت سامعه لفظاعته . قال تعالی: وَلا يَأْتِينَ بِبُهْتانٍ يَفْتَرِينَهُ بَيْنَ أَيْدِيهِنَّ وَأَرْجُلِهِنَّ [ الممتحنة/ 12] ، كناية عن الزنا «2» ، وقیل : بل ذلک لکل فعل مستبشع يتعاطینه بالید والرّجل من تناول ما لا يجوز والمشي إلى ما يقبح، ويقال : جاء بالبَهِيتَةِ ، أي : بالکذب . ( ب ھ ت ) بھت ( س ) حیران وششدرہ جانا نا سے مبہوث کردیا : قرآن میں ہے فَبُهِتَ الَّذِي كَفَرَ [ البقرة/ 258] یہ سن کر کافر حیران رہ گیا ۔ اور آیت کریمہ : ۔ هذا بُهْتانٌ عَظِيمٌ [ النور/ 16] یہ تو ( بہت ) بڑا بہتان ہے ۔ میں بہتان کے معنی ایسے الزام کے ہیں جسے سن کر انسان ششد ر و حیرانوی جائے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَلا يَأْتِينَ بِبُهْتانٍ يَفْتَرِينَهُ بَيْنَ أَيْدِيهِنَّ وَأَرْجُلِهِنَّ [ الممتحنة/ 12] نہ اپنے ہاتھ پاؤں میں کوئی بہتان باندھ لائیں گی ۔ میں بہتان زنا سے کنایہ ہے ۔ بعض نے کہا ہے نہیں بلکہ اس سے ہر وہ عمل شنیع مراد ہے جسے ہا اور پاؤں سے سر انجام دیا جائے ۔ مثلا ہاتھ سے کسی نادا چیز کو پکڑنا یا کسی عمل شنیع کا ارتکاب کرنے کے لئے اس کی طرف چل کر جانا اس نے جھوٹ بولا ۔ إثم الإثم والأثام : اسم للأفعال المبطئة عن الثواب وجمعه آثام، ولتضمنه لمعنی البطء قال الشاعرجماليّةٍ تغتلي بالرّادفإذا کذّب الآثمات الهجير وقوله تعالی: فِيهِما إِثْمٌ كَبِيرٌ وَمَنافِعُ لِلنَّاسِ [ البقرة/ 219] أي : في تناولهما إبطاء عن الخیرات . ( ا ث م ) الاثم والاثام ۔ وہ اعمال وافعال جو ثواب سے روکتے اور پیچھے رکھنے والے ہوں اس کی جمع آثام آتی ہے چونکہ اس لفظ میں تاخیر اور بطء ( دیرلگانا ) کا مفہوم پایا جاتا ہے اس لئے شاعر نے اونٹنی کے متعلق کہا ہے ۔ ( المتقارب ) (6) جمالیۃ تغتلی بالرادف اذا کذب الآثمات الھجیرا وہ اونٹ کی طرح مضبوط ہے جب سست رفتار اونٹنیاں دوپہر کے وقت چلنے سے عاجز ہوجاتی ہیں تو یہ ردیف کو لے کر تیز رفتاری کے ساتھ چلتی ہے اور آیت کریمہ { فِيهِمَا إِثْمٌ كَبِيرٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ } ( سورة البقرة 219) میں خمر اور میسر میں اثم کبیر کے یہ معنی ہیں کہ ان کا تناول ( اور ارتکاب ) انسان کو ہر قسم کے افعال خیر سے روک لیتا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١١٢) اور جو شخص چوری کرے یا اس پر جھوٹی قسم کھائے اور لبید بن سہل ایسے نیک اور بےگناہ پر ایسا الزام لگائے تو اس نے خود اپنے اوپر ایک بہتان عظیم اور اس گناہ کی سزا لادلی ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١١٢ (وَمَنْ یَّکْسِبْ خَطِیْٓءَۃً اَوْ اِثْمًا ثُمَّ یَرْمِ بِہٖ بَرِیْٓءًا) (فَقَدِ احْتَمَلَ بُہْتَانًا وَّاِثْمًا مُّبِیْنًا ) کسی نے کوئی گناہ کمایا ‘ کوئی خطا کی ‘ کوئی غلطی کی ‘ کوئی جرم کیا ‘ پھر اس کی تہمت کسی بےقصور شخص پر لگا دی تو بہت بڑے بہتان اور کھلم کھلا گناہ کا بار سمیٹ لیا۔ مذکورہ معاملے میں یہودی تو بےقصور تھا ‘ جو لوگ اس کو سزا دلوانے کے لیے تل گئے تو ان کا یہ فعل یَرْمِ بِہٖ بَرِیْٓءًا کے زمرے میں آگیا۔ کسی بےگناہ پر اس طرح کا بہتان لگانا اللہ کے نزدیک بہت سنجیدہ معاملہ ہے۔ اس کے بعد اب اس یہودی اور منافق کے مقدمے کے کچھ مزید پہلوؤں کے بارے میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خطاب ہو رہا ہے ۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(4:112) یرم بہ۔ رمی یرمی (ضرب) سے مضارع واحد مذکر غائب۔ رمی مصدر، اس کی تہمت لگائے۔ الزام لگائے۔ بہ میں ہ ضمیر خطیئۃ اور اثم کی طرف راجع ہے۔ یرم اصل میں یرمی تھا۔ من شرطیہ کی وجہ سے ی حذف ہوگئی۔ بریئا۔ بےتعلق ۔ بےگنا۔ ثم یوم بہ بریئا۔ پھر اس گناہ کا الزام کسی بےگناہ کے سر تھوپ دیتا ہے۔ احتمل۔ اس نے اٹھالیا احتمال سے بمعنی برداشت کرنا۔ اٹھانا۔ فقد احتمل بھتانا واثما مبینا۔ تو اس نے بہتان اور ایک صریغ گناہ کا بوجھ اپنے سر اٹھالیا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 9 خطیئتہ کا لفظ غیر ارادی گناہ پر بھی بولا جاتا ہے اور اس کے کے بر عکس اثم وہ ہے جو ارادی طور پر کیا جائے مطلب یہ ہے کہ خود گناہ کا ارتکاب کرنے کے بعد کسی بےقصوی آدمی کو اس سے ملوث کرنے ی کوشش کرنا بہت بڑا گنا ہے کسی نے گناہ شخص پر تہمت لگانے کو بہتان کہا جاتا ہے (قرطبی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

1۔ جیسا بشیر نے کیا کہ خود تو چوری کی اور ایک نیک بخت بزرگ آدمی لبید کے ذمہ رکھ دی۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اپنا جرم کسی دوسرے پر ڈالنے کی مذمت اور اس پر وعید : پھر فرمایا (وَ مَنْ یَّکْسِبْ خَطِیْءَۃً اَوْ اِثْمًا ثُمَّ یَرْمِ بِہٖ بَرِیْٓءًا فَقَدِ احْتَمَلَ بُھْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا) (کہ جس شخص نے کوئی چھوٹا یا بڑا گناہ کیا پھر اس کو کسی دوسرے پر پھینک مارا جو اس سے بری ہے تو اس نے بہت بڑا بہتان اور صریح گناہ اپنے اوپر لاد دیا) ۔ چونکہ اس میں دو ہرا گناہ ہے ایک تو وہ گناہ جس کا ارتکاب کیا اور اوپر سے دوسرا گناہ کہ کسی ایسے شخص پر ڈال دیا جو اس سے بری ہے، اس کو صریح گناہ بتایا جو ظاہر ہے اور بڑا بہتان اس لیے فرمایا کہ اس نے جانتے بوجھتے ہوئے خود گھڑا ہے کسی غلط فہمی کی بنیاد پر یا کسی دوسرے سے سن کر نہیں کیا۔ لہٰذا یہ بہتان عظیم ہے اس کی سزا ظاہر ہے خوب زیادہ ہوگی جو لوگ ایسی حرکتیں کرتے رہتے ہیں وہ غور و فکر کریں۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi