Surat un Nissa

Surah: 4

Verse: 24

سورة النساء

وَّ الۡمُحۡصَنٰتُ مِنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَا مَلَکَتۡ اَیۡمَانُکُمۡ ۚ کِتٰبَ اللّٰہِ عَلَیۡکُمۡ ۚ وَ اُحِلَّ لَکُمۡ مَّا وَرَآءَ ذٰلِکُمۡ اَنۡ تَبۡتَغُوۡا بِاَمۡوَالِکُمۡ مُّحۡصِنِیۡنَ غَیۡرَ مُسٰفِحِیۡنَ ؕ فَمَا اسۡتَمۡتَعۡتُمۡ بِہٖ مِنۡہُنَّ فَاٰتُوۡہُنَّ اُجُوۡرَہُنَّ فَرِیۡضَۃً ؕ وَ لَا جُنَاحَ عَلَیۡکُمۡ فِیۡمَا تَرٰضَیۡتُمۡ بِہٖ مِنۡۢ بَعۡدِ الۡفَرِیۡضَۃِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلِیۡمًا حَکِیۡمًا ﴿۲۴﴾

And [also prohibited to you are all] married women except those your right hands possess. [This is] the decree of Allah upon you. And lawful to you are [all others] beyond these, [provided] that you seek them [in marriage] with [gifts from] your property, desiring chastity, not unlawful sexual intercourse. So for whatever you enjoy [of marriage] from them, give them their due compensation as an obligation. And there is no blame upon you for what you mutually agree to beyond the obligation. Indeed, Allah is ever Knowing and Wise.

اور ( حرام کی گئیں ) شوہر والی عورتیں مگر وہ جو تمہاری ملکیت میں آجائیں ، اللہ تعالٰی نے یہ احکام تم پر فرض کر دئیے ہیں اور ان عورتوں کے سِوا اور عورتیں تمہارے لئے حلال کی گئیں کہ اپنے مال کے مہر سے تم ان سے نکاح کرنا چاہو برے کام سے بچنے کے لئے نہ کہ شہوت رانی کرنے کے لئے اس لئے جن سے تم فائدہ اُٹھاؤ انہیں ان کا مُقّرر کیا ہوا مہر دے دو ، اور مہر مُقّرر ہوجانے کے بعد تم آپس کی رضامندی سے جو طے کر لو اس میں تم پر کوئی گناہ نہیں ، بیشک اللہ تعالٰی علم والا حکمت والا ہے ۔

Word by Word by

Dr Farhat Hashmi

وَّالۡمُحۡصَنٰتُ
اور جو شادی شدہ ہیں
مِنَ النِّسَآءِ
عورتوں میں سے
اِلَّا
مگر
مَا
جن کے
مَلَکَتۡ
مالک ہوئے
اَیۡمَانُکُمۡ
دائیں ہاتھ تمہارے
کِتٰبَ
لکھا ہوا ہے
اللّٰہِ
اللہ کا
عَلَیۡکُمۡ
تم پر
وَاُحِلَّ
اور حلال کیا گیا ہے
لَکُمۡ
تمہارے لیے
مَّا
وہ جو
وَرَآءَ
علاوہ ہے
ذٰلِکُمۡ
ان کے
اَنۡ
کہ
تَبۡتَغُوۡا
تم تلاش کرو
بِاَمۡوَالِکُمۡ
ساتھ اپنے مالوں کے
مُّحۡصِنِیۡنَ
نکاح میں لانے والے ہو
غَیۡرَ
نہ کہ
مُسٰفِحِیۡنَ
نہ بدکاری کرنے والے
فَمَا
تو جو
اسۡتَمۡتَعۡتُمۡ
فائدہ اٹھایا تم نے
بِہٖ
ساتھ اس (نکاح)کے
مِنۡہُنَّ
ان سے
فَاٰتُوۡہُنَّ
تو دے دو انہیں
اُجُوۡرَہُنَّ
مہر ان کے
فَرِیۡضَۃً
مقرر کیے ہوئے
وَلَا
اور نہیں
جُنَاحَ
کوئی گناہ
عَلَیۡکُمۡ
تم پر
فِیۡمَا
اس میں جو
تَرٰضَیۡتُمۡ
تم باہم راضی ہو جاؤ
بِہٖ
جس پر
مِنۡۢ بَعۡدِ
بعد
الۡفَرِیۡضَۃِ
مہر ) مقرر کرنے کے
اِنَّ
بےشک
اللّٰہَ
اللہ تعالی
کَانَ
ہے
عَلِیۡمًا
بہت علم والا
حَکِیۡمًا
بہت حکمت والا
Word by Word by

Nighat Hashmi

وَّالۡمُحۡصَنٰتُ
اور شوہر والی عورتیں
مِنَ النِّسَآءِ
عورتوں میں سے
اِلَّا
مگر
مَا
جن کے
مَلَکَتۡ
مالک ہوئے
اَیۡمَانُکُمۡ
دائیں ہاتھ تمہارے
کِتٰبَ
لکھ دیا ہے
اللّٰہِ
اللہ تعالیٰ نے
عَلَیۡکُمۡ
تم پر
وَاُحِلَّ
اور حلال کر دی گئیں
لَکُمۡ
تمہارے لیے
مَّا
جو
وَرَآءَ
علاوہ ہیں
ذٰلِکُمۡ
ان کے
اَنۡ
یہ کہ
تَبۡتَغُوۡا
تم طلب کرو
بِاَمۡوَالِکُمۡ
بدلے اپنے مالوں کے
مُّحۡصِنِیۡنَ
نکاح میں لانے والے
غَیۡرَ مُسٰفِحِیۡنَ
نہ بدکاری کرنے والے
فَمَا
پھر جو
اسۡتَمۡتَعۡتُمۡ
فائدہ اٹھاؤ تم
بِہٖ
جن سے
مِنۡہُنَّ
ان میں سے
فَاٰتُوۡہُنَّ
تو تم دے دو ان کو
اُجُوۡرَہُنَّ
مہر ان کے
فَرِیۡضَۃً
مقررہ
وَلَا
اور نہیں
جُنَاحَ
کوئی گناہ
عَلَیۡکُمۡ
تم پر
فِیۡمَا
اس میں جو
تَرٰضَیۡتُمۡ
تم باہم رضامند ہو جاؤ
بِہٖ
جس پر
مِنۡۢ بَعۡدِ
بعد
الۡفَرِیۡضَۃِ
۔(مہر) مقرر ہونے کے
اِنَّ
یقیناً
اللّٰہَ
اللہ تعالیٰ
کَانَ
۔(ہمیشہ سے)ہے
عَلِیۡمًا
سب کچھ جاننے والا
حَکِیۡمًا
کمال حکمت والا
Translated by

Juna Garhi

And [also prohibited to you are all] married women except those your right hands possess. [This is] the decree of Allah upon you. And lawful to you are [all others] beyond these, [provided] that you seek them [in marriage] with [gifts from] your property, desiring chastity, not unlawful sexual intercourse. So for whatever you enjoy [of marriage] from them, give them their due compensation as an obligation. And there is no blame upon you for what you mutually agree to beyond the obligation. Indeed, Allah is ever Knowing and Wise.

اور ( حرام کی گئیں ) شوہر والی عورتیں مگر وہ جو تمہاری ملکیت میں آجائیں ، اللہ تعالٰی نے یہ احکام تم پر فرض کر دئیے ہیں اور ان عورتوں کے سِوا اور عورتیں تمہارے لئے حلال کی گئیں کہ اپنے مال کے مہر سے تم ان سے نکاح کرنا چاہو برے کام سے بچنے کے لئے نہ کہ شہوت رانی کرنے کے لئے اس لئے جن سے تم فائدہ اُٹھاؤ انہیں ان کا مُقّرر کیا ہوا مہر دے دو ، اور مہر مُقّرر ہوجانے کے بعد تم آپس کی رضامندی سے جو طے کر لو اس میں تم پر کوئی گناہ نہیں ، بیشک اللہ تعالٰی علم والا حکمت والا ہے ۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

نیز تمام شوہروں والی عورتیں بھی (حرام ہیں) مگر وہ کنیزیں جو تمہارے قبضہ میں آجائیں۔ تمہارے لیے یہی اللہ کا قانون ہے۔ ان کے ماسوا جتنی بھی عورتیں ہیں انہیں اپنے مال کے ذریعہ حاصل کرنا تمہارے لیے جائز قرار دیا گیا ہے۔ بشرطیکہ اس سے تمہارا مقصد نکاح میں لانا ہو، محض شہوت رانی نہ ہو۔ پھر ان میں سے جن سے تم (نکاح کا) لطف اٹھاؤ انہیں ان کے مقررہ حق مہر ادا کرو۔ ہاں اگر مہر مقرر ہوجانے کے بعد زوجین میں باہمی رضا مندی سے کچھ سمجھوتہ ہوجائے تو پھر تم پر کوئی گناہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ یقینا سب کچھ جاننے والا اور حکمت والا ہے۔ اور جو شخص کسی آزاد عورت کو نکاح میں لانے کا مقدور نہ رکھتا ہو وہ کسی مومنہ کنیز سے نکاح کرلے جو تمہارے قبضہ میں ہوں۔ اور اللہ تمہارے ایمان کا حال خوب جانتا ہے

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اور شوہر والی عورتیں(بھی حرام کی گئی ہیں)مگروہ( لونڈیاں)جن کے تمہارے دائیں ہاتھ مالک ہوں یہ تم پر اللہ تعالیٰ نے لکھ دیا ہے اور ان کے علاوہ تمہارے لیے سب عورتیں حلال کر دی گئی ہیں یہ کہ تم اپنے مالوں کے بدلے میں طلب کرو اس حال میں کہ نکاح میں لانے والے ہو نہ کہ بدکاری کرنے والے ہو پھر ان میں سے جن عورتوں سے تم فائدہ اٹھاؤ اُن کو ان کے مقررہ مہر دے دو اور تم پر کوئی گنا ہ نہیں اس میں جس پر تم مہر مقرر ہونے کے بعد باہم رضامند ہوجاؤیقیناً اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے سب کچھ جاننے والا ، کمال حکمت والا ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

(And also prohibited are) the women already bound in marriage, except the bondwomen you come to own. It has been written by Allah for you. All except them have been permitted for you to seek (to marry) through your wealth, binding yourself, (in marriage) and not only for lust. So, whoever of them you have benefited from, give them their due as obligated. And there is no sin on you in what you mutually consent to after the (initial} settlement. Surely, Allah is All-Knowing, All-Wise.

اور خاوند والی عورتیں مگر جن کے مالک ہوجائیں تمہارے ہاتھ حکم ہوا اللہ کا تم پر اور حلال ہیں تم کو سب عورتیں ان کے سوا بشرطیکہ طلب کرو ان کو اپنے مال کے بدلے قید میں لانے کو نہ مستی نکالنے کو پھر جس کو کام میں لائے تم ان عورتوں میں سے تو ان کو دو ان کے حق میں جو مقرر ہوئے اور گناہ نہیں تم کو اس بات میں کہ ٹھہرالو تم دونوں آپس کی رضا سے مقرر کئے پیچھے بیشک اللہ ہے خبردار حکمت والا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

اور وہ عورتیں (بھی تم پر حرام ہیں) جو کسی اور کے نکاح میں ہوں سوائے اس کے کہ جو تمہاری ملک یمین بن جائیں یہ تم پر اللہ کا لکھا ہوا فریضہ ہے ان کے سوا جو عورتیں ہیں وہ تمہارے لیے حلال ہیں کہ تم اپنے مال کے ذریعے ان کے طالب بنو بشرطیکہ حصار نکاح میں ان کو محفوظ کرو نہ یہ کہ آزاد شہوت رانی کرنے لگو پس جو بھی تم نے ان سے تمتع کیا ہو تو اس کے بدلے ان کے مہر ادا کرو جو مقرر ہوئے تھے البتہ اس کا تم پر کوئی گناہ نہیں ہے کہ مہر مقرر ہونے کے بعد باہمی رضامندی سے کوئی کمی بیشی کرلو یقیناً اللہ تعالیٰ علیم اور حکیم ہے

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

And also forbidden to you are all married women (muhsanat) except those women whom your right hands have come to possess (as a result of war). This is Allah's decree and it is binding upon you. But it is lawful for you to seek out all women except these, offering them your wealth and the protection of wedlock rather than using them for the unfettered satisfaction of lust. And in exchange of what you enjoy by marrying them pay their bridal-due as an obligation. But there is no blame on you if you mutually agree to alter the settlement after it has been made. Surely Allah is All-Knowing, All-Wise.

اور وہ عورتیں بھی تم پر حرام ہیں جو کسی دوسرے کے نکاح میں ہوں ﴿محْصَنَات﴾ البتہ ایسی عورتیں اس سے مستثنٰی ہیں جو ﴿جنگ میں﴾ تمہارے ہاتھ آئیں ۔ 44 یہ اللہ کا قانون ہے جس کی پابندی تم پر لازم کر دی گئی ہے ۔ ان کے ما سوا جتنی عورتیں ہیں انہیں اپنے اموال کے ذریعہ سے حاصل کرنا تمہارے لیے حلال کر دیا گیا ہے ، بشرطیکہ حصارِ نکاح میں ان کو محفوظ کرو ، نہ یہ کہ آزاد شہوت رانی کرنے لگو ۔ پھر جو ازدواجی زندگی کا لطف تم ان سے اٹھاؤ اس کے بدلے ان کے مَہر بطور فرض کے ادا کرو ، البتّہ مَہر کی قرار داد ہو جانے کے بعد آپس کی رضامندی سے تمہارے درمیان اگر کوئی سمجھوتہ ہو جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ، اللہ علیم اور دانا ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

نیز وہ عورتیں ( تم پر حرام ہیں ) جو دوسرے شوہروں کے نکاح میں ہوں ، البتہ جو کنیزیں تمہاری ملکیت میں آجائیں ( وہ مستثنی ہیں ) ( ٢٠ ) اللہ نے یہ احکام تم پر فرض کردیئے ہیں ۔ ان عورتوں کو چھوڑ کر تمام عورتوں کے بارے میں یہ حلال کردیا گیا ہے کہ تم اپنا مال ( بطور مہر ) خرچ کر کے انہیں ( اپنے نکاح میں لانا ) چاہو ، بشرطیکہ تم ان سے باقاعدہ نکاح کا رشتہ قائم کر کے عفت حاصل کرو ، صرف شہوت نکالنا مقصود نہ ہو ۔ ( ٢١ ) چنانچہ جن عورتوں سے ( نکاح کر کے ) تم نے لطف اٹھایا ہو ، ان کو ان کا وہ مہر ادا کرو جو مقرر کیا گیا ہو ۔ البتہ مہر مقرر کرنے کے بعد بھی جس ( کمی بیشی ) پر تم آپس میں راضی ہوجاؤ ، اس میں تم پر کوئی گناہ نہیں ۔ یقین رکھو کہ اللہ ہر بات کا علم بھی رکھتا ہے ، حکمت کا بھی مالک ہے ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

اور حرام ہیں تم پر خاوند والی عورتیں مگر جن کے تم مالک ہوجا و 1 یہ حکم ہے اللہ کا تم کو 2 ان کے سوا اور عورتیں تم کو حلال ہیں 3 اس طرح کہ تم ان کو اپنے مال کے بدلے مہر یا قیمت دے کرلینا چاہو اور تمہاری نیت نکاح 4 یا لونڈی بنانے کی ہو نہ زنا کرنے کی پھر جن عورتوں سے تم مزے اٹھاؤ یعنی صحبت کرو ان کا حق جو ٹھہرا تھا وہ ان کو دے دو 5 اور ٹھہر انے کے بعد اگر آپس میں راضی ہوجاؤ تو اس میں کچھ گناہ نہیں تم پر 6 بیشک اللہ تعالیٰ خبر دار ہے حکمت والا

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

اور شوہروں والی عورتیں (بھی حرام ہیں) مگر وہ جو تمہارے قبضے میں آجائیں (اسیر ہو کر ، لونڈی بن کر) اللہ نے تم پر فرض کردیا ہے اور ان کے علاوہ تمہارے لئے سب حلال ہیں کہ تم اپنے مال (حق مہر) کے ذریعہ طلب کرو بیوی بنانے کے لئے صرف مستی نکالنے کے لئے نہیں پھر جس طرح تم نے ان عورتوں سے فائدہ اٹھایا سو ان کو ان کے مہر دو جو مقرر ہوچکے ہیں اور مقرر ہونے کے بعد تم جس بات پر باہم رضامند ہوجاؤ اس میں تم پر گناہ نہیں یقینا اللہ جاننے والے حکمت والے ہیں

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

شوہر والی عورتیں تم پر حرام کردی گئی ہیں۔ سوائے ان کے جو تمہارے داہنے ہاتھ کی ملکیت ہوں (جنگ میں ہاتھ آئیں اور تمہارے حصہ میں لونڈی بنا کر دے دی جائیں) یہ احکام تم پر فرض کر دئیے گئے ہیں۔ ان کے علاوہ تمام عورتیں تم پر حلال کردی گئی ہیں بشرطیکہ تم ان کو اپنے مال (مہر) کے بدلے ان سے نکاح کرو۔ باضابطہ بیوی بنا کر گھر میں رکھنے کے لئے۔ مقصد صرف شہوت رانی نہ ہو۔ بیوی بنا کر جو فائدہ تم اٹھاؤ تو ان کا حق مہر جو تم پر فریضہ ہے اسے خوش دلی سے ادا کرو۔ اور تم دونوں پر کوئی الزام نہیں اگر آپس کی خوشدلی کے ساتھ ٹھہرائے ہوئے مہر کی کمی و بیشی پر سمجھوتہ کرلو۔ کوئی شک نہیں کہ اللہ علم بھی رکھتا ہے اور حکمت بھی۔

Translated by

Fateh Muhammad Jalandhari

اور شوہر والی عورتیں بھی (تم پر حرام ہیں) مگر وہ جو (اسیر ہو کر لونڈیوں کے طور پر) تمہارے قبضے میں آجائیں (یہ حکم) خدا نے تم کو لکھ دیا ہے اور ان (محرمات) کے سوا اور عورتیں تم کو حلال ہیں اس طرح سے کہ مال خرچ کر کے ان سے نکاح کرلو بشرطیکہ (نکاح سے) مقصود عفت قائم رکھنا ہو نہ شہوت رانی تو جن عورتوں سے تم فائدہ حاصل کرو ان کا مہر جو مقرر کیا ہو ادا کردو اور اگر مقرر کرنے کے بعد آپس کی رضامندی سے مہر میں کمی بیشی کرلو تو تم پر کچھ گناہ نہیں بےشک خدا سب کچھ جاننے والا (اور) حکمت والا ہے

Translated by

Abdul Majid Daryabadi

And also forbidden are the wedded among women, save those whom your right hands own Allah's rescript for you. And allowed unto you is whatsoever is beyond that, so that ye may seek them with your substances as properly wedded men, not as fornicators. Then whomsoever of them ye have enjoyed, give them their dowers stipulated. And there will be no blame on you in regard to aught on which ye mutually agree after the stipulation; verily Allah is Knowing, Wise.

اور وہ عورتیں بھی (حرام کی گئی ہیں) جو قید نکاح میں ہوں بجز ان کے جو تمہاری ملک میں آجائیں ۔ اللہ نے فرض کردیا ہے (ان احکام کو) تم پر اور جو ان کے علاوہ ہیں وہ تمہارے لئے حلال کردی گئی ہیں ۔ یعنی تم انہیں اپنے مال کے ذریعہ سے تلاش کرو (اس طور پر کہ) قید نکاح میں لانے والے ہو نہ کہ مستی نکالنے والے ۔ پھر جس طریقہ سے تم نے ان عورتوں سے لذت لی ہے سو انہیں ان کے مقرر شدہ مہر دے دو اور تم پر اس (مقدار) کے بارے میں کوئی گناہ نہیں جس پر تم لوگ مہر کے طے ہوجانے کے بعدباہم رضامند ہوجاؤ ۔ بیشک اللہ بڑا جاننے والا ہے بڑا حکمت والا ہے ۔

Translated by

Amin Ahsan Islahi

اور وہ عورتیں بھی حرام ہیں ، جو قید نکاح میں ہوں مگر یہ کہ وہ تمہاری ملک یمین بن جائیں ۔ یہ تم پر اللہ کا لکھا ہوا فریضہ ہے ۔ اس کے ماسوا جو عورتیں ہیں ، وہ تمہارے لئے حلال ہیں ، اس طرح کہ تم اپنے مال کے ذریعہ سے ان کے طالب بنو ، ان کو قید نکاح میں لے کر ، نہ بدکاری کے طور پر ۔ پس ان میں سے جن سے تم نے تمتع کیا ہو تو ان کو ان کے مہر دو ، فریضہ کی حیثیت سے ۔ مہر کے ٹھہرانے کے بعد جو تم نے آپس میں راضی نامہ کیا ہو تو اس میں کوئی گناہ نہیں ۔ بیشک اللہ ہی علم اور حکمت والا ہے ۔

Translated by

Mufti Naeem

اور ( حرام کی گئی ہیں ) وہ عورتیں جو دوسروں کے نکاح میں ہوں مگر وہ باندیاں جو تمہاری ملک میں آچکی ہوں اﷲ تعالیٰ نے ( ان احکام کو ) تم پر فرض کردیا ہے اور ان کے علاوہ کی عورتیں تمہارے لئے حلال کردی گئی ہیں اس طرح کہ تم اپنے مال کے ذریعے انہں اپنے نکاح میں لانے والے ہو نہ کہ ( بغیر نکاح کے ) محض شہوت پوری کرنے کے لئے ہو ۔ پس جس طرح تم نے ان عورتوں سے لذت حاصل کی ہے تو تم انہیں ان کے طے شدہ مہر دے دو اور مہر مقرر ہوجانے کے بعد تم آ پس میں مہر کی ( کمی بیشی ) پر راضی ہوجاؤ تو تم پر کوئی گناہ نہیں ۔ بیشک اﷲ تعالیٰ جاننے والے حکمت والے ہیں ۔

Translated by

Muhtrama Riffat Ijaz

اور وہ عورتیں بھی تم پر حرام ہیں جو کسی دوسرے کے نکاح میں ہوں، البتہ ایسی عورتیں اس سے مستثنیٰ ہیں جو (جنگ میں) تمہارے ہاتھ آئیں، یہ اللہ کا قانون ہے جس کی پابندی تم پر لازم کردی گئی ہے۔ ان کے ماسوا جتنی عورتیں ہیں انہیں اپنے اموال کے ذریعے سے حاصل کرنا تمہارے لئے حلال کردیا گیا ہے، بشرطیکہ حصار نکاح میں ان کو محفوظ کرو، نہ یہ کہ آزاد شہوت رانی کرنے لگو پھر جو ازدواجی زندگی کا لطف تم ان سے اٹھاؤ اس کے بدلے ان کے مہر بطورفرض کے ادا کرو، البتہ مہر کی قرارداد ہوجانے کے بعد آپس کی رضا مندی سے تمہارے درمیان اگر کوئی سمجھوتہ ہوجائے تو اس میں کوئی حرج نہیں، یقینا اللہ علیم اور دانا ہے

Translated by

Mulana Ishaq Madni

اور (حرام کردی گئیں تم پر) نکاح والی عورتیں، مگر تمہاری وہ باندیاں جن کے مالک ہوں تمہارے داہنے ہاتھ لکھ دیا یہ اللہ نے یہ تمہارے ذمے، اور حلال کردی گئیں تمہارے لئے ان کے سوا سب (بشرطیکہ) تم انہیں طلب کرو اپنے مالوں کے بدلے میں، قید نکاح میں لانے کو، نہ کہ صرف مستی نکالنے کے لئے (ف ) پھر جن عورتوں سے تم فائدہ حاصل کرو، تو ان کو دے دیا کرو ان کے وہ مہر جو مقرر کئے گئے ہوں اور تم پر کوئی گناہ نہیں اس (مقدار مہر) کے بارے میں جو تم لوگ باہمی رضامندی سے طے کرلو، مقرر کئے گئے کے بعد، بیشک اللہ بڑا ہی علم والا، اور نہایت ہی حکمت والا ہے،

Translated by

Noor ul Amin

نیزتمام شوہروں والی عورتیں ( یعنی شادی شدہ ) بھی ( حرام ہیں ) مگر و ہ عورتیں جو ( جنگ کے بعد ) تمہارے قبضے میں آجائیں ( نکاح کے لئے جائزہیں ) یہی اللہ کاقانون ہے اور تمہارے لئے ان کے علاوہ عورتوں سے مہردے کرشادی کرناحلال کردیاگیا ہے بشرطیکہ نیت نکاح کی ہو ، زنا کی نہیں ، پھران میں سے جن سے تم لطف اٹھائو تو انہیں ان کے مقرر شدہ مہراداکرو ، اور مہر مقرر ہوجانے کے بعد تم آپس کی رضامندی سےجو طے کرلواس میں تم پر کوئی گناہ نہیں اللہ یقینا سب کچھ جاننے والاحکیم ہے

Kanzul Eman by

Ahmad Raza Khan

اور حرام ہیں شوہر دار عورتیں مگر کافروں کی عورتیں جو تمہاری ملک میں آجائیں ( ف۷۳ ) یہ اللہ کا نوشتہ ہے تم پر اور ان ( ف۷٤ ) کے سوا جو رہیں وہ تمہیں حلال ہیں کہ اپنے مالوں کے عوض تلاش کرو قید لاتے ( ف۷۵ ) نہ پانی گراتے ( ف۷٦ ) تو جن عورتوں کو نکاح میں لانا چاہو ان کے بندھے ہوئے مہر انہیں دو ، اور قرار داد کے بعد اگر تمہارے آپس میں کچھ رضامندی ہوجاوے تو اس میں گناہ نہیں ( ف۷۷ ) بیشک اللہ علم و حکمت والا ہے ،

Translated by

Tahir ul Qadri

اور شوہر والی عورتیں ( بھی تم پرحرام ہیں ) سوائے ان ( جنگی قیدی عورتوں ) کے جو تمہاری مِلک میں آجائیں ، ( ان احکامِ حرمت کو ) اللہ نے تم پر فرض کر دیا ہے ، اور ان کے سوا ( سب عورتیں ) تمہارے لئے حلال کر دی گئی ہیں تاکہ تم اپنے اموال کے ذریعے طلبِ نکاح کرو پاک دامن رہتے ہوئے نہ کہ شہوت رانی کرتے ہوئے ، پھر ان میں سے جن سے تم نے اس ( مال ) کے عوض فائدہ اٹھایا ہے انہیں ان کا مقرر شدہ مَہر ادا کر دو ، اور تم پر اس مال کے بارے میں کوئی گناہ نہیں جس پر تم مَہر مقرر کرنے کے بعد باہم رضا مند ہو جاؤ ، بیشک اللہ خوب جاننے والا بڑی حکمت والا ہے

Translated by

Hussain Najfi

اور وہ عورتیں بھی تم پر حرام ہیں ، جو شوہردار ہوں ۔ مگر وہ ایسی عورتیں جو ( شرعی جہاد میں ) تمہاری ملکیت میں آئیں ۔ یہ آئین ہے ، اللہ کا جو تم پر لازم ہے ۔ اور ان کے علاوہ جو عورتیں ہیں وہ تمہارے لئے حلال ہیں کہ اپنے مال ( حق مہر ) کے عوض ان سے شادی کرلو ۔ بدکاری سے بچنے اور پاکدامنی کو قائم رکھنے کے لیے اور ان عورتوں میں سے جن سے تم متعہ کرو ۔ تو ان کی مقررہ اجرتیں ادا کر دو ۔ اور اگر زرِ مہر مقرر کرنے کے بعد تم آپس میں ( کم و بیش پر ) راضی ہو جاؤ تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ بے شک اللہ بہت جاننے والا اور بڑی رحمت والا ہے ۔

Translated by

Abdullah Yousuf Ali

Also (prohibited are) women already married, except those whom your right hands possess: Thus hath Allah ordained (Prohibitions) against you: Except for these, all others are lawful, provided ye seek (them in marriage) with gifts from your property,- desiring chastity, not lust, seeing that ye derive benefit from them, give them their dowers (at least) as prescribed; but if, after a dower is prescribed, agree Mutually (to vary it), there is no blame on you, and Allah is All-knowing, All-wise.

Translated by

Muhammad Sarwar

You are forbidden to marry married women except your slave-girls. This is the decree of God. Besides these, it is lawful for you to marry other women if you pay their dower, maintain chastity and do not commit indecency. If you marry them for the appointed time you must pay their dowries. There is no harm if you reach an understanding among yourselves about the dowry, God is All-knowing and All-wise.

Translated by

Safi ur Rehman Mubarakpuri

Also (forbidden are) women already married, except those (slaves) whom your right hands possess. Thus has Allah ordained for you. All others are lawful, provided you seek them (with a dowry) from your property, desiring chastity, not fornication. So with those among them whom you have enjoyed, give them their required due, but if you agree mutually (to give more) after the requirement (has been determined), there is no sin on you. Surely, Allah is Ever All-Knowing, All-Wise.

Translated by

Muhammad Habib Shakir

And all married women except those whom your right hands possess (this is) Allah's ordinance to you, and lawful for you are (all women) besides those, provided that you seek (them) with your property, taking (them) in marriage not committing fornication. Then as to those whom you profit by, give them their dowries as appointed; and there is no blame on you about what you mutually agree after what is appointed; surely Allah is Knowing, Wise.

Translated by

William Pickthall

And all married women (are forbidden unto you) save those (captives) whom your right hands possess. It is a decree of Allah for you. Lawful unto you are all beyond those mentioned, so that ye seek them with your wealth in honest wedlock, not debauchery. And those of whom ye seek content (by marrying them), give unto them their portions as a duty. And there is no sin for you in what ye do by mutual agreement after the duty (hath been done). Lo! Allah is ever Knower, Wise.

Translated by

Moulana Younas Palanpuri

और वे औरतें भी हराम हैं जो किसी और के निकाह में हों मगर यह कि वे जंग में तुम्हारे हाथ आएं, यह अल्लाह का हुक्म है तुम्हारे ऊपर, उनके अलावा जो औरतें हैं वे सब तुम्हारे लिए हलाल हैं बशर्ते कि तुम अपने माल के ज़रिए उनके तालिब बनो उनसे निकाह करके न कि बदकारी की नीयत से, फिर उन औरतों में से जिन से तुम ने फायदा उठाया उनको उनका तय-शुदा महर दे दो, और महर के ठहराने के बाद जिस पर तुम आपस में राज़ी हो गए हो तो उसमें कोई गुनाह नहीं, बेशक अल्लाह जानने वाला, हिकमत वाला है।

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

اور وہ عورتیں جو کہ شوہر والیاں ہیں مگر جو کہ تمہاری مملوک ہوجاویں اللہ تعالیٰ نے ان احکام کو تم پر فرض کردیا ہے (2) اور ان (عورتوں) کے سوا ( اور عورتیں) تمہارے لئے حلال کی گئیں ہیں (یعنی یہ) کہ تم ان کو اپنے مالوں کے ذریعہ سے چاہو (3) اس طرح سے کہ تم بیوی بناؤ صرف مستی ہی نکالنا نہ ہو (4) پھر جس طریق سے تم ان عورتوں سے منتفع ہوئے ہو سو ان کو ان کے مہر دو جو کچھ مقرر ہوچکے ہیں اور مقرر ہوئے بعد بھی جس پر تم باہم رضامند ہوجاو ٴاس میں تم پر کوئی گناہ نہیں بلاشبہ اللہ تعالیٰ بڑے جاننے والے ہیں بڑے حکمت والے ہیں۔ (24)

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

اور شوہر والی عورتیں (بھی تم پر حرام ہیں) مگر وہ جو تمہاری ملکیت میں آجائیں اللہ تعالیٰ نے یہ احکام تم پر فرض کردیے ہیں اور ان عورتوں کے سوا باقی عورتیں تمہارے لیے حلال کی گئیں ہیں کہ اپنے مال سے تم ان سے نکاح کرنا چاہو برے کام سے بچنے کے لیے نہ کہ شہوت رانی کرنے کے لیے۔ اس لیے جن سے تم فائدہ اٹھاؤ انہیں ان کا مقرر کیا ہوا مہر ادا کرو۔ اور مقرر ہوجانے کے بعد تم آپس کی رضا مندی سے جو طے کرلو اس میں تم پر کوئی گناہ نہیں یقیناً اللہ تعالیٰ علم و حکمت والا ہے

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اور وہ عورتیں بھی تم پر حرام ہیں جو کسی دوسرے کے نکاح میں ہوں ، البتہ ایسی عورتیں اس سے مستثنی ہیں جو جنگ میں تمہارے ہاتھ آجائیں ، یہ اللہ کا قانون ہے جس کی پابندی تم پر لازم کردی گئی ہے ۔ ان کے سوا جتنی عورتیں ہیں انہیں اپنے اموال کے ذریعے سے حاصل کرنا تمہارے لئے حلال کردیا گیا ہے ، بشرطیکہ حصار نکاح میں ان کو محفوظ کرو ‘ نہ یہ کہ آزاد شہوت رانی کرنے لگو ، پھر جو ازدواجی زندگی کا لطف تم ان سے اٹھاؤ اس کے بدلے انکے مہر بطور فرض کے ادا کرو ‘ البتہ مہر کی قرار داد ہوجانے کے بعد آپس کی رضا مندی سے تمہارے درمیان اگر کوئی سمجھوتہ ہوجائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ‘ اللہ علیم ودانا ہے ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اور حرام ہیں وہ عورتیں جو کسی مرد کے نکاح میں ہوں سوائے ان عورتوں کے جن کے تم مالک ہوجاؤ۔ اللہ نے ان احکام کو تم پر فرض فرما دیا ہے، اور تمہارے لیے حلال کی گئیں ہیں وہ عورتیں جو ان کے علاوہ ہیں کہ تم اپنے مالوں کے بدلے طلب کرو اس حال میں کہ تم پاک دامنی اختیار کرنے والے ہو، پانی بہانے والے نہ ہو، سو ان میں سے جن عورتوں سے نفع حاصل کرلو ان کے مہر دے دو جو مقرر ہوچکے ہیں اور تم پر اس بات میں کوئی گناہ نہیں کہ مقرر مہر کے بعد آپس کی رضا مندی سے کسی بات پر راضی ہوجاؤ بلاشبہ اللہ علیم ہے حکیم ہے

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

اور خاوند والی عورتیں مگر جن کے مالک ہوجائیں تمہارے ہاتھ حکم ہو اللہ کا تم پر اور حلال ہیں تم کو سب عورتیں ان کے سواء بشرطیکہ طلب کرو ان کو اپنے مال کے بدلے قید میں لانے کو نہ مستی نکالنے کو پھر جس کو کام میں لائے تم ان عورتوں میں سے تو ان کو دو ان کے حق جو مقرر ہوئے اور گناہ نہیں تم کو اس بات میں کہ ٹھرا لو تم دونوں آپس کی رضا سے مقرر کئے پیچھے بیشک اللہ ہے خبردار حکمت والا

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

اور وہ عورتیں بھی تم پر حرام ہیں جو دوسروں کے نکاح میں ہوں مگر ہاں وہ جو تمہاری ملک میں آجائیں یعنی دارالحرب سے قید ہوکر آنے والی یہ تحریم کے احکام تم پر اللہ کی جانب سے فرض ہوئے ہیں اور ان محرمات مذکورہ کے علاوہ اور باقی عورتوں کو تمہارے لئے اس طور پر حلال کردیا گیا ہے کہ تم اپنے اموال یعنی مہر کے بدلے ان کو حاصل کرو بشرطیکہ تمہارا مقصد ان کو حبالہ نکاح میں لانا ہو محض شہوت رانی نہ ہو پھر نکاح کے بعد تم نے ان سے جس طرح بھی فائدہ اٹھایا ہو اس کے بدلے ان کو ان کے مقررہ مہر ادا کردو اور مہر مقرر کرنے کے بعد تم آپس میں کسی کمی بیشی پر رضامند ہوجائو تو تم پر کچھ گناہ نہیں بیشک اللہ تعالیٰ بڑا صاحب علم و حکمت ہے