TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Root words of Surat un Nissa 4:24, word 1

The root of this word, its grammatical form, and every other place in the Quran where the same root is used - with each of those verses one click away.

Verse 4:24 word by word

Open the verse
ConjunctionDeterminerNoun

And (prohibited are) the ones who are married

اور جو شادی شدہ ہیں

Tap any part above to see where else it appears

Verb form 4

حصن
حَصَّنَ
Perfect
يُحَصِّنُ
Imperfect
حَصِّنْ
Imperative
مُحَصِّن
Active participle
مُحَصَّن
Passive participle
تَحْصِیْن
Verbal noun

Mufradat ul Quran

Imam Raghib Isfahani

اَلْحِصْنُ: (قلعہ) اس کی جمع حُصُوْنٌ آتی ہے قرآن پاک میں ہے: (مَّانِعَتُہُمۡ حُصُوۡنُہُمۡ مِّنَ اللّٰہِ ) (۵۹:۲) کہ ان کے قلعے ان کو خدا (کے عذاب) سے بچالیں گے۔ اور آیت کریمہ: (لَا یُقَاتِلُوۡنَکُمۡ جَمِیۡعًا اِلَّا فِیۡ قُرًی مُّحَصَّنَۃٍ ) (۵۹:۱۴) یہ سب جمع ہوکر بھی تم سے (بالمواجھہ) نہیں لڑسکیں گے۔ مگر بستیوں کے قلعوں میں۔ میں مُحَصَّنَۃ سے مراد وہ بستیاں ہیں جو قلعوں کی طرح محفوظ اور محکم بنائی گئی ہوں۔ تَحَصَّنَ کے اصل معنیٰ تو قلعہ کو مسکن بنالینے کے ہیں مگر مجازاً ہر قسم کا بچاؤ حاصل کرنے پر یہ لفظ بولا جاتا ہے۔ اسی سے دِرْعٌ حَصِیْنَۃٌ (زرہ محکم) اور فَرَسٌ حِصَانٌ (اسپ نرونجیب) کا محاورہ ہے۔ کیونکہ زرہ بدن کے لئے اور گھوڑا اپنے سوار کے لئے ایک طرح سے بمنزلہ قلعہ کے ہوتا ہے۔ اس بنا پر شاعر نے کہا ہے (1) ع (الکامل) (۱۱۱) اِنَّ الْحَصُوْنَ الخَیْلُ لاَمُدْنَ الْقُریٰ کہ حقیقی قلعے تو نجیب گھوڑے ہیں نہ کہ شہر اور قصبے اور آیت کریمہ: (اِلَّا قَلِیۡلًا مِّمَّا تُحۡصِنُوۡنَ) (۱۲:۴۸) صرف وہی تھوڑا (سارہ جائے گا جو تم احتیاط سے رکھ چھوڑو گے۔) میں تُحصِنُوْنَ سے مراد یہ ہے کہ جو کچھ قلعے جیسی محفوظ جگہوں میں حفاظت سے رکھ چھوڑو۔ کہا جاتا ہے۔ اِمْرَئَ ۃٌ حَصَانٌ وَحَاصِنٌ: (عفیفہ عورت) حَصَانٌ کی جمع حُصُنٌ اور حَاصِنٌ کی جمع حَوَاصِنٌ آتی ہے اور حَصَانٌ کے معنیٰ پاکدامن یا معزز عورت کے ہوتے ہیں (2) قرآن پاک میں ہے: (وَ مَرۡیَمَ ابۡنَتَ عِمۡرٰنَ الَّتِیۡۤ اَحۡصَنَتۡ فَرۡجَہَا) (۶۶:۱۲) اور (دوسری) عمران کی بیٹی مریم کی جنہوں نے اپنی شرم گاہ کو محفوظ رکھا۔ اَحْصَنَتْ وَحَصَّنَتْ کے ایک ہی معنیٰ ہیں۔ (فَاِذَاۤ اُحۡصِنَّ ) (۴:۲۵) یعنی جب نکاح کرلیں اور اُحْصِنَّ (مجہول) ہو تو نکاح کردی جائیں۔ اَلْحِصَانِ کے معنیٰ مُحصنَۃ عورت کے ہیں خواہ وہ اِحْصَان پاک دامنی کی وجہ سے ہو یا کسی کے ساتھ نکاح کرلینے کی وجہ سے اور یا اپنے شرف اور حریت کی وجہ سے محفوظ ہو اور عورت کو مُحْصِنْ (بصیغہ فاعل) بھی کہا جاتا ہے اور مُحْصَن (بصیغہ مفعول) بھی اوّل یعنی صیغہ فاعل اس تصور کی بنا پر ہے کہ وہ خود اپنی ذات کی حفاظت کرتی ہے اور اسم مفعول دوسرے کی جانب سے حفاظت کی وجہ سے ہے اور آیت کریمہ: (وَ اٰتُوۡہُنَّ اُجُوۡرَہُنَّ بِالۡمَعۡرُوۡفِ مُحۡصَنٰتٍ غَیۡرَ مُسٰفِحٰتٍ …… فَاِذَاۤ اُحۡصِنَّ فَاِنۡ اَتَیۡنَ بِفَاحِشَۃٍ فَعَلَیۡہِنَّ نِصۡفُ مَا عَلَی الۡمُحۡصَنٰتِ مِنَ الۡعَذَابِ ) (۴:۲۵…) اور دستور کے مطابق ان کا مہر بھی ادا کردو۔ بشرطیکہ عفیفہ ہوں نہ ایسی کھلم کھلا بدکاری کریں … پھر اگر نکاح میں آکر بدکاری کا ارتکاب کر بیٹھیں تو جو سزا آزاد عورتوں (یعنی بیبیوں) کے لئے ہے اس کی آدھی ان کو دی جائے۔ میں اوّل مُحْصَنات سے شوہر والی عورتیں مراد ہیں گویا خاوند ان کی حفاظت کرتے ہیں اور قرآن پاک میں جہاں کہیں بھی مُحصنات کا لفظ آیا ہے وہاں فتحہ اور کسرہ دونوں طرح پڑھنا صحیح ہے لیکن جہاں حُرِّمَت کے بعد آیا ہے وہاں صرف فتحہ صاد کے ساتھ ہی پڑھا جائے گا کیونکہ شوہردار عورتوں کے ساتھ ہی نکاح حرام ہے نہ کہ عفیفہ کے ساتھ۔

Lemma / Derivative

8 results

مُحْصَنَ
4:24
اور جو شادی شدہ ہیں
And (prohibited are) the ones who are married
وَّالْمُحْصَنٰتُ
4:25
عورتوں سے جو آزاد ہیں۔ خاندانی عورتوں سے
the free chaste
الْمُحْصَنٰتِ
4:25
وہ پاکدامن ہوں
(They should be) chaste
مُحْصَنٰتٍ
4:25
پاکدامن عورتوں کے ہے
the free chaste women
الْمُحْصَنٰتِ
5:5
اور پاک دامن عورتیں
And the chaste women
وَالْمُحْصَنٰتُ
5:5
اور پاک دامن عورتیں
and the chaste women
وَالْمُحْصَنٰتُ
24:4
پاک دامن عورتوں پر
the chaste women
الْمُحْصَنٰتِ
24:23
عورتوں پر
the chaste women
الْمُحْصَنٰتِ