Surat un Nissa

Surah: 4

Verse: 40

سورة النساء

اِنَّ اللّٰہَ لَا یَظۡلِمُ مِثۡقَالَ ذَرَّۃٍ ۚ وَ اِنۡ تَکُ حَسَنَۃً یُّضٰعِفۡہَا وَ یُؤۡتِ مِنۡ لَّدُنۡہُ اَجۡرًا عَظِیۡمًا ﴿۴۰﴾

Indeed, Allah does not do injustice, [even] as much as an atom's weight; while if there is a good deed, He multiplies it and gives from Himself a great reward.

بیشک اللہ تعالٰی ایک ذرّہ برابر ظلم نہیں کرتا اور اگر نیکی ہو تو اسے دوگنی کر دیتا ہے اور خاص اپنے پاس سے بڑا ثواب دیتا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Allah Wrongs Not Even the Weight of a Speck of Dust Allah says; إِنَّ اللّهَ لاَ يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ ... Surely! Allah wrongs not even of the weight of a speck of dust, Allah states that He does not treat any of His servants with injustice on the Day of Resurrection, be it the weight of a mustard seed or a speck of dust. Rather, Allah shall reward them for this action and multiply it, if it were a good deed. For instance, Allah said, وَنَضَعُ الْمَوَزِينَ الْقِسْطَ And We shall set up balances of justice. (21:47) Allah said that Luqman said, يبُنَىَّ إِنَّهَأ إِن تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَكُنْ فِى صَخْرَةٍ أَوْ فِى السَّمَـوَتِ أَوْ فِى الاٌّرْضِ يَأْتِ بِهَا اللَّهُ O my son! If it be (anything) equal to the weight of a mustard seed, and though it be in a rock, or in the heavens or in the earth, Allah will bring it forth. (31:16) Allah said, يَوْمَيِذٍ يَصْدُرُ النَّاسُ أَشْتَاتاً لِّيُرَوْاْ أَعْمَـلَهُمْ فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْراً يَرَهُ وَمَن يَعْـمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرّاً يَرَهُ That Day mankind will proceed in scattered groups that they may be shown their deeds. So whosoever does good equal to the weight of a speck of dust shall see it. And whosoever does evil equal to the weight of a speck of dust shall see it. (99:6-8) The Two Sahihs recorded the long Hadith about the intercession that Abu Sa`id Al-Khudri narrated, and in which the Messenger of Allah said, فَيَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ ارْجِعُوا فَمَنْ وَجَدْتُمْ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ حَبَّةِ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ فَأَخْرِجُوهُ مِنَ النَّار Allah then says, "Go back, and take out of the Fire everyone in whose heart you find the weight of a mustard seed of faith" In another narration, Allah says, أَدْنَى أَدْنَى أَدْنَى مِثْقَالِ ذَرَّةٍ مِنْ إِيمَانٍ فَأَخْرِجُوهُ مِنَ النَّارِ فَيُخْرِجُونَ خَلْقًا كَثِيرًا "Whosoever had the least, least, least speck of faith, take him out of the Fire," and they will take out many people. Abu Sa`id then said, "Read, if you will, إِنَّ اللّهَ لاَ يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ (Surely! Allah wrongs not even of the weight of a speck of dust)." Will Punishment be Diminished for the Disbelievers Allah's statement, ... وَإِن تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا ... but if there is any good (done), He doubles it, Sa`id bin Jubayr commented about Allah's statement, "As for the disbeliever, his punishment will be lessened for him on the Day of Resurrection, but he will never depart the Fire." He used as evidence the authentic Hadith in which Al-Abbas said, "O Messenger of Allah! Your uncle Abu Talib used to protect and support you, did you benefit him at all?" The Messenger said, نَعَمْ هُوَ فِي ضَحْضَاحٍ مِنْ نَارٍ وَلَوْلاَ أَنَا لَكَانَ فِي الدَّرْكِ الاَْسْفَلِ مِنَ النَّار Yes. He is in a shallow area in Hell-fire, and were it not for me, he would have been in the deepest depths of the Fire. However, this Hadith only applies to Abu Talib, not the rest of the disbelievers. To support this, we mention what Abu Dawud At-Tayalisi recorded in his Musnad that Anas said that the Messenger of Allah said, إِنَّ اللهَ لاَ يَظْلِمُ الْمُوْمِنَ حَسَنَةً يُثَابُ عَلَيْهَا الرِّزْقَ فِي الدُّنْيَا وَيُجْزَى بِهَا فِي الاْخِرَةِ Allah does not wrong the faithful even concerning one good action, for he will be rewarded for it by provision in this life and awarded for it in the Hereafter. وَأَمَّا الْكَافِرُ فَيُطْعَمُ بِهَا فِي الدُّنْيَا فَإِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ لَمْ يَكُنْ لَهُ حَسَنَة As for the disbeliever, he will be provided provision in this life for his good action, and on the Day of Resurrection, he will not have any good deed. What Does `Great Reward' Mean Allah's statement, ... وَيُوْتِ مِن لَّدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا and gives from Him a great reward. Abu Hurayrah, Ikrimah, Sa`id bin Jubayr, Al-Hasan, Qatadah and Ad-Dahhak said about Allah's statement that, it refers to Paradise. We ask Allah for His pleasure and Paradise. Ibn Abi Hatim recorded that Abu Uthman An-Nahdi said, "No other person accompanied Abu Hurayrah more than I. One year, he went to Hajj before me, and I found the people of Al-Basra saying that he narrated that he heard the Messenger of Allah saying, إِنَّ اللهَ يُضَاعِفُ الْحَسَنَةَ أَلْفَ أَلْفِ حَسَنَة Allah rewards the good deed with a million deeds. So I said, `Woe to you! No person accompanied Abu Hurayrah more than I, and I never heard him narrate this Hadith!' When I wanted to meet him, I found that he had left for Hajj so I followed him to Hajj to ask him about this Hadith." Ibn Abi Hatim also recorded this Hadith using another chain of narration leading to Abu Uthman. In this narration, Abu Uthman said, "I said, `O Abu Hurayrah! I heard my brethren in Al-Basra claim that you narrated that you heard the Messenger of Allah saying, إِنَّ اللهَ يَجْزِي بِالْحَسَنَةِ أَلْفَ أَلْفِ حَسَنَة Allah rewards the good deed with a million deeds. Abu Hurayrah said, `By Allah! I heard the Messenger of Allah saying, إِنَّ اللهَ يَجْزِي بِالْحَسَنَةِ أَلْفَيْ أَلْفِ حَسَنَة Allah rewards the good deed with two million deeds. He then recited this Ayah, فَمَا مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا فِى الاٌّخِرَةِ إِلاَّ قَلِيلٌ But little is the enjoyment of the life of this world as compared to the Hereafter." (9:38) Our Prophet will be a Witness Against, or For his Ummah on the Day of Resurrection, When the Disbelievers Will Wish for Death Allah said, فَكَيْفَ إِذَا جِيْنَا مِن كُلِّ أمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِيْنَا بِكَ عَلَى هَـوُلاء شَهِيدًا

بے مثال خریدار؟ باری تعالیٰ رب العالمین فرماتا ہے کہ میں کسی پر ظلم نہیں کرتا ، کسی کی نیکی کو ضائع نہیں کرتا ، بلکہ بڑھا چڑھا کر قیامت کے روز اس کا اجر و ثواب عطا فرماؤں گا جیسے اور آیت میں ہے ( وَنَضَعُ الْمَوَازِيْنَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَـيْــــــًٔا ) 21 ۔ الانبیآء:47 ) ہم عدل کی ترازو رکھیں گے ۔ اور فرمایا کہ حضرت لقمان نے اپنے صاحبزادے سے فرمایا تھا ( يٰبُنَيَّ اِنَّهَآ اِنْ تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَكُنْ فِيْ صَخْـرَةٍ اَوْ فِي السَّمٰوٰتِ اَوْ فِي الْاَرْضِ يَاْتِ بِهَا اللّٰهُ ۭ اِنَّ اللّٰهَ لَطِيْفٌ خَبِيْرٌ ) 31 ۔ لقمان:16 ) اے بیٹے اگر کوئی چیز رائی کے دانے برابر ہو گو وہ کسی پتھر میں یا آسمانوں میں ہو یا زمین کے اندر ہو اللہ سے اسے لا حاضر کرے گا ، بیشک اللہ تعالیٰ باریک بین خریدار ہے ۔ اور جگہ فرمایا ( يَوْمَىِٕذٍ يَّصْدُرُ النَّاسُ اَشْتَاتًا ڏ لِّيُرَوْا اَعْمَالَهُم ) 99 ۔ الزلزال:6 ) اس دن لوگ اپنے مختلف احوال پر لوٹیں گے تاکہ انہیں ان کے اعمال دکھائے جائیں پس جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہو گی وہ اسے دیکھ لے گا اور جس نے ذرہ برابر برائی کی ہو گی وہ اسے دیکھ لے گا ، بخاری و مسلم کی شفاعت کے ذکر والی مطول حدیث میں ہے کہ پھر اللہ فرمائے گا لوٹ کر جاؤ اور جس کے دل میں رائی کے دانے برابر ایمان دیکھو اسے جہنم سے نکال لاؤ ۔ پس بہت سی مخلوق جہنم سے آزاد ہو گی حضرت ابو سعید یہ حدیث بیان فرما کر فرماتے اگر تم چاہو تو آیت قرآنی کے اس جملے کو پڑ ھ لو ( اِنَّ اللّٰهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ ۚ وَاِنْ تَكُ حَسَنَةً يُّضٰعِفْھَا وَيُؤْتِ مِنْ لَّدُنْهُ اَجْرًا عَظِيْمًا ) 4 ۔ النسآء:40 ) ابن ابی حاتم میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا فرمان مروی ہے کہ قیامت کے دن کسی اللہ کے بندے یا بندی کو لایا جائے گا اور ایک پکارنے والا سب اہل محشر کو با آواز بلند سنا کر کہے گا یہ فلاں کا بیٹا یا بیٹی ہے اس کا نام یہ ہے جس کسی کا کوئی حق اس کے ذمہ باقی ہو یا آئے اور لے جائے اس وقت یہ حالت ہو گی کہ عورت چاہے گی کہ اس کا کوئی حق اس کے باپ پر یا ماں پر یا بھائی پر یا شوہر پر ہو تو دوڑ کر آئے اور لے رشتے ناتے کٹ جائیں گے کوئی کسی کا پر سان حال نہ ہو گا اللہ تعالیٰ اپنا جو حق چاہے معاف فرما دے گا لیکن لوگوں کے حقوق میں سے کوئی حق معاف نہ فرمائے گا اسی طرح جب کوئی حقدار آئے گا تو فریق ثانی سے کہا جائے گا کہ ان کے حق ادا کر یہ کہے گا دنیا تو ختم ہو چکی آج میرے ہاتھ میں کیا ہے جو میں دوں ؟ پس اس کے نیک اعمال لئے جائیں گے اور حقداروں کو دئیے جائیں گے اور ہر ایک کا حق اسی طرح ادا کیا جائے گا اب یہ شخص اگر اللہ کا دوست ہے تو اس کے پاس ایک رائی کے دانے برابر نیکی بچ رہے گی جسے بڑھا چڑھا کر صرف اسی کی بنا پر اللہ تعالیٰ اسے جنت میں لے جائے گا پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت کی اور اگر وہ بندہ اللہ کا دوست نہیں ہے بلکہ بد بخت اور سرکش ہے تو یہ حال ہو گا کہ فرشتہ کہے گا کہ باری تعالیٰ اس کی سب نیکیاں ختم ہوگئیں اور ابھی حقدار باقی رہ گئے حکم ہو گا کہ ان کی برائیاں لے کر اس پر لاد دو پھر اسے جہنم واصل کرو اعاذنا اللہ منہا ۔ اس موقوف اثر کے بعض شواہد مرفوع احادیث میں بھی موجود ہیں ۔ ابن ابی حاتم میں ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا فرمان ہے کہ ( آیت من جاء بالحسنۃ فلہ عشر امثالھا ) اعراب کے بارے میں اتری ہے اس پر ان سے سوال ہوا کہ پھر مہاجرین کے بارے میں کیا ہے آپ نے فرمایا اس سے بہت ہی اچھی ( اِنَّ اللّٰهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ ۚ وَاِنْ تَكُ حَسَنَةً يُّضٰعِفْھَا وَيُؤْتِ مِنْ لَّدُنْهُ اَجْرًا عَظِيْمًا ) 4 ۔ النسآء:40 ) حضرت سعید بن جبیر رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں مشرک کے بھی عذابوں میں اس کے باعث کمی کر دی جاتی ہے ہاں جہنم سے نکلے گا تو نہیں ، چنانچہ صحیح حدیث میں ہے کہ حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ کے چچا ابو طالب کی پشت پناہ بنے ہوئے تھے آپ کو لوگوں کی ایذاؤں سے بچاتے رہتے تھے آپ کی طرف سے ان سے لڑتے تھے تو کیا انہیں کچھ نفع بھی پہنچے گا آپ نے فرمایا ہاں وہ بہت تھوڑی سی آگ میں ہے اور اگر میرا یہ تعلق نہ ہوتا تو جہنم کے نیچے کے طبقے میں ہوتا ۔ لیکن یہ بہت ممکن ہے کہ یہ فائدہ صرف ابو طالب کے لئے ہی ہو یعنی اور کفار اس حکم میں نہ ہوں اس لئے کہ مسند طیالسی کی حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ مومن کی کسی نیکی پر ظلم نہیں کرتا دنیا میں روزی وغیرہ کی صورت میں اس کے پاس کوئی نیکی نہ ہو گی اجر عظیم سے مراد اس آیت میں جنت ہے ۔ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم لطف و رحم سے اپنی رضامندی عطا فرمائے اور جنت نصیب کرے ۔ آمین مسند احمد کی ایک غریب حدیث میں ہے حضرت ابو عثمان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں مجھے خبر ملی کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا ہے اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندے کو ایک نیکی کے بدلے ایک لاکھ نیکی کا ثواب دے گا مجھے بڑا تعجب ہوا اور میں نے کہا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مل کر ان سے خود پوچھ آؤں چنانچہ میں نے سامان سفر درست کیا اور اس روایت کی چھان بین کے لئے روانہ ہوا معلوم ہوا کہ وہ تو حج کو گئے ہیں تو میں بھی حج کی نیت سے وہاں پہنچا ملاقات ہوئی تو میں نے کہا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں نے سنا آپ نے ایسی حدیث بیان کی ہے ؟ کیا یہ سچ ہے؟ آپ نے فرمایا کیا تمہیں تعجب معلوم ہوتا ہے ؟ تم نے قرآن میں نہیں پڑھا ؟ کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جو شخص اللہ کو اچھا قرض دے اللہ اسے بہت بہت بڑھا کر عنایت فرماتا ہے اور دوسری آیت میں ساری دنیا کو کم کہا گیا ہے اللہ تعالیٰ کی قسم میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے کہ ایک نیکی کو بڑھا کر اس کے بدلے دو لاکھ ملیں گی ۔ یہ حدیث اور طریقوں سے بھی مروی ہے ، پھر قیامت کے دن کی سختی اور ہولناکی بیان فرما رہا ہے کہ اس دن انبیاء علیہ السلام کو بطور گواہ کے پیش کیا جائے گا جیسے اور آیت میں ہے ( وَاَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّهَا وَوُضِعَ الْكِتٰبُ وَجِايْۗءَ بِالنَّـبِيّٖنَ وَالشُّهَدَاۗءِ وَقُضِيَ بَيْنَهُمْ بِالْحَــقِّ وَهُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ ) 39 ۔ الزمر:69 ) زمین اپنے رب کے نور سے چمکنے لگے گی نامہ اعمال دئیے جائیں گے اور نبیوں اور گواہوں کو لاکھڑا کریں گے ، صحیح بخاری شریف میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا مجھے کچھ قرآن پڑھ کر سناؤ حضرت عبداللہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں آپ کو پڑھ کر سناؤں گا آپ پر تو اترا ہی ہے فرمایا ہاں لیکن میرا جی چاہتا ہے کہ دوسرے سے سنوں پس میں نے سورہ نساء کی تلاوت شروع کی پڑھتے پڑھتے جب میں نے اس آیت فکیف کی تلاوت کی تو آپ نے فرمایا بس کرو میں نے دیکھا کہ آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے ۔ حضرت محمد بن فضالہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتے ہیں کہ قبیلہ بنی ظفر کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آئے اور اس چٹان پر بیٹھ گئے جواب تک انکے محلے میں ہے آپ کے ساتھ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور دیگر صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی تھے آپ نے ایک قاری سے فرمایا قرآن پڑھو پڑھتے پڑھتے جب اس آیت فکیف تک پہنچا تو آپ اس قدر روئے کہ دونوں رخسار اور داڑھی تر ہو گئی اور عرض کرنے لگے یا رب جو موجود ہیں ان پر تو خیر میری گواہی ہو گی لیکن جن لوگوں کو میں نے دیکھا ہی نہیں ان کی بابت کیسے؟ ( ابن ابی حاتم ) ابن جریر میں ہے کہ آپ نے فرمایا میں ان پر گواہ ہوں جب تک کہ ان میں ہوں پس جب تو مجھے فوت کرے گا تب تو تو ہی ان پر نگہبان ہے ، ابو عبداللہ قرطبی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی کتاب تذکرہ میں باب باندھا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اپنی امت پر شہادت کے بارے میں کیا آیا ہے؟ اس میں حضرت سعید بن مسیب رحمتہ اللہ علیہ کا یہ قول لائے ہیں کہ ہر دن صبح شام نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر آپ کی امت کے اعمال پیش کئے جاتے ہیں مع ناموں کے پاس آپس قیامت کے دن ان سب پر گواہی دیں گے پھر یہی آیت تلاوت فرمائی لیکن اولاً تو یہ حضرت سعید کا خود کا قول ہے ، دوسرے یہ کہ اس کی سند میں انقطاع ہے ، اس میں ایک راوی مبہم ہے جس کا نام ہی نہیں تیسرے یہ حدیث مرضوع کے بیان ہی نہیں کرتے ہاں امام قرطبی رحمتہ اللہ علیہ اسے قبول کرتے ہیں وہ اس کے لانے کے بعد فرماتے ہیں کہ پہلے گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے ہر چیز اور ہر جمعرات کو اعمال پیش کئے جاتے ہیں پس وہ انبیاء پر اور ماں باپ پر ہر جمعہ کو پیش کئے جاتے ہیں اور اس میں کوئی تعارض نہیں ممکن ہے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ہر جمعہ کو بھی پیش ہوتے ہوں اور ہر دن بھی ( ٹھیک یہی ہے کہ یہ بات صحت کے ساتھ ثابت نہیں واللہ اعلم ۔ مترجم ) پھر فرماتا ہے کہ اس دن کافر کہے گا کاش میں کسی زمین میں سما جاؤں پھر زمین برابر ہو جائے گی ۔ کافر ناقابل برداشت ہولناکیوں رسوائیوں اور ڈانٹ ڈپٹ سے گھبرا اٹھے گا ، جیسے اور آیت میں ہے ( يَّوْمَ يَنْظُرُ الْمَرْءُ مَا قَدَّمَتْ يَدٰهُ وَيَقُوْلُ الْكٰفِرُ يٰلَيْتَــنِيْ كُنْتُ تُرٰبًا ) 78 ۔ النبأ:40 ) جس دن انسان اپنے آگے بھیجے ہوئے اعمال اپنی آنکھوں دیکھ لے گا اور کافر کہے گا کاش کہ میں مٹی ہو گیا ہوتا ۔ پھر فرمایا یہ ان تمام بد افعالیوں کا اس دن اقرار کریں گے جو انہوں نے کی تھیں اور ایک چیز بھی پوشیدہ نہ رکھیں گے ایک شخص نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے کہا حضرت ایک جگہ تو قرآن میں ہے کہ مشرکین قیامت کے دن کہیں گے ( وَاللّٰهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِيْنَ ) 6 ۔ الانعام:23 ) کی قسم رب کی قسم ہم نے شرک نہیں کیا اور دوسری جگہ ہے کہ ( وَلَا يَكْتُمُوْنَ اللّٰهَ حَدِيْثًا ) 4 ۔ النسآء:42 ) اللہ سے بات بھی نہ چھپائیں گے پھر ان دونوں آیتوں کا کیا مطلب ہے؟ آپ نے فرمایا اس کا اور وقت ہے اس کا وقت اور ہے اور جب موحدوں کو جنت میں جاتے ہوئے دیکھیں گے تو کہیں گے آؤ تم بھی اپنے شرک کا انکار کرو کیا عجب کام چل جائے ۔ پھر ان کے منہ پر مہریں لگ جائیں گی اور ہاتھ پاؤں بولنے لگیں گے اب اللہ تعالیٰ سے ایک بات بھی نہ چھپائیں گے ( ابن جریر ) مسند عبدالزاق میں ہے کہ اس شخص نے آن کر کہا تھا بہت سی چیزیں مجھ پر قرآن میں مختلف نظر آ رہا ہے ، آپ نے فرمایا کیا مطلب تجھے کیا قرآن میں شک ہے؟ اس نے کہا شک تو نہیں ہاں میری سمجھ میں اختلاف نظر آ رہا ہے ، آپ نے فرمایا جہاں جہاں اختلاف تجھے نظر آیا ہو ان مقامات کو پیش کر تو اس نے یہ دو آیتیں کی تطبیق سمجھا دی ۔ ایک اور روایت میں سائل کا نام بھی آیا ہے کہ وہ حضرت نافع بن ارزق تھے یہ بھی ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے یہ بھی فرمایا کہ شاید تم کسی ایسی مجلس سے آ رہے ہو جہاں ان کا تذکرہ ہو رہا ہو گا یا تم نے کیا ہو گا کہ میں جاتا ہوں اور ابن عباس سے دریافت کرتا ہوں اگر میرا یہ گمان صحیح ہے تو تمہیں لازم ہے کہ جواب سن کر انہیں بھی جا کر سنادو پھر یہی جواب دیا ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

The text, then, says: إِنَّ اللَّـهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّ‌ةٍ , (40), that is, Allah Almighty does not allow the reward of good deeds from anyone be reduced in any manner or quantity whatsoever. In fact, He adds extra rewards, in multiples, in special Divine favours, and the life of Akhirah will witness this supreme mercy of the Lord. With Allah, the least human measure of thawab or reward is that one good deed gets recorded as ten. Then, this does not stop at that; through sheer mercy and grace, Allah bestows manifold increase into this treasure of good deeds. Some hadith narrations tell us that there are deeds the reward for which rises as high as two million times. The truth of the matter is that Allah is al-Karim, the most-noble, the most-generous - He Himself, in His limitless mercy and grace, so increases the quantum of his blessing on His servants that it simply cannot be counted or measured in our human terms. The extents of His gene¬rosity and the dimensions of His very Being are beyond human concep¬tualization - who can dare calculate the incalculable? Incidentally, the word, ذَرَّ‌ةٍ : dharrah|" appearing in this verse has been translated here as &particle& following the generally recognized meaning it carries. However, some commentators have pointed out that &dharrah& is the name of the smallest kind of red ant which the people of Arabia used to cite as an example of something very light and insignificantly small.

اس کے بعد فرمایا ان اللہ لایظلم مثقال ذرة یعنی اللہ تعالیٰ کسی کے اعمال حسنہ کا ثواب اور جزائے خیر میں ذرہ برابر بھی کمی نہیں فرماتے بلکہ اپنی طرف سے اس میں اور اضافہ فرما دیتے ہیں اور آخرت میں چند در چند ثواب بڑھا کر نوازیں گے اور اپنی طرف سے ثواب عظیم عطا فرمائیں گے۔ اللہ تعالیٰ کے یہاں ثواب کا کم سے کم معیار یہ ہے کہ ایک نیکی کی دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور اس کے علاوہ مختلف بہانوں سے اضافہ در اضافہ ہوتا رہتا ہے، بعض روایات حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ کچھ اعمال ایسے ہیں جن کا ثواب بیس لاکھ گنا تک زیادہ ہوجاتا ہے اور اللہ کی ذات تو کریم ذات ہے وہ اپنی بےپایاں رحمت سے اتنا بڑھا کر دیدیتے ہیں کہ حساب و شمار میں بھی نہیں آتا، واللہ یضعف من لمن یشآئ، اس اجر عظیم کا کیا تصور کیا جاسکتا ہے جو بار گاہ رب العزت سے ملتا ہے۔ ویوت من لدنہ اجراً عظیماً : آیت میں جو لفظ ذرة آیا ہے اس کا ایک ترجمہ تو معروف ہی ہے، جو ماقبل میں گذر چکا اور بعض حضرات نے کہا ہے کہ ذرة لال رنگ کی سب سے چھوٹی چیونٹی کو کہا جاتا ہے، اہل عرب کم وزن اور حقیر ہونے میں اس کو بطور مثال پیش کیا کرتے تھے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اِنَّ اللہَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ۝ ٠ۚ وَاِنْ تَكُ حَسَـنَۃً يُّضٰعِفْھَا وَيُؤْتِ مِنْ لَّدُنْہُ اَجْرًا عَظِيْمًا۝ ٤٠ ظلم وَالظُّلْمُ عند أهل اللّغة وكثير من العلماء : وضع الشیء في غير موضعه المختصّ به، إمّا بنقصان أو بزیادة، وإمّا بعدول عن وقته أو مکانه، قال بعض الحکماء : الظُّلْمُ ثلاثةٌ: الأوّل : ظُلْمٌ بين الإنسان وبین اللہ تعالی، وأعظمه : الکفر والشّرک والنّفاق، ولذلک قال :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] والثاني : ظُلْمٌ بينه وبین الناس، وإيّاه قصد بقوله : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ وبقوله : إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ [ الشوری/ 42] والثالث : ظُلْمٌ بينه وبین نفسه، وإيّاه قصد بقوله : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] ، ( ظ ل م ) ۔ الظلم اہل لغت اور اکثر علماء کے نزدیک ظلم کے معنی ہیں کسی چیز کو اس کے مخصوص مقام پر نہ رکھنا خواہ کمی زیادتی کرکے یا اسے اس کی صحیح وقت یا اصلی جگہ سے ہٹاکر بعض حکماء نے کہا ہے کہ ظلم تین قسم پر ہے (1) وہ ظلم جو انسان اللہ تعالیٰ کے ساتھ کرتا ہے اس کی سب سے بڑی قسم کفر وشرک اور نفاق ہے ۔ چناچہ فرمایا :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] شرک تو بڑا بھاری ظلم ہے ۔ (2) دوسری قسم کا ظلم وہ ہے جو انسان ایک دوسرے پر کرتا ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ اور برائی کا بدلہ تو اسی طرح کی برائی ہے مگر جو درگزر کرے اور معاملے کو درست کرلے تو اس کا بدلہ خدا کے ذمہ ہے اس میں شک نہیں کہ وہ ظلم کرنیوالوں کو پسند نہیں کرتا ۔ میں ظالمین سے اسی قسم کے لوگ مراد ہیں ۔ ۔ (3) تیسری قسم کا ظلم وہ ہے جو ایک انسان خود اپنے نفس پر کرتا ہے ۔ چناچہ اسی معنی میں فرمایا : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] تو کچھ ان میں سے اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں مِثْقَال : ما يوزن به، وهو من الثّقل، وذلک اسم لکل سنج قال تعالی: وَإِنْ كانَ مِثْقالَ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ أَتَيْنا بِها وَكَفى بِنا حاسِبِينَ [ الأنبیاء/ 47] ، وقال تعالی: فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقالَ ذَرَّةٍ خَيْراً يَرَهُ وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ [ الزلزلة/ 7- 8] ، وقوله تعالی: فَأَمَّا مَنْ ثَقُلَتْ مَوازِينُهُ فَهُوَ فِي عِيشَةٍ راضِيَةٍ [ القارعة/ 6- 7] ، فإشارة إلى كثرة الخیرات، وقوله تعالی: وَأَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوازِينُهُ [ القارعة/ 8] ، فإشارة إلى قلّة الخیرات . والثقیل والخفیف يستعمل علی وجهين : أحدهما علی سبیل المضایفة، وهو أن لا يقال لشیء ثقیل أو خفیف إلا باعتباره بغیره، ولهذا يصحّ للشیء الواحد أن يقال خفیف إذا اعتبرته بما هو أثقل منه، و ثقیل إذا اعتبرته بما هو أخفّ منه، وعلی هذه الآية المتقدمة آنفا . والثاني أن يستعمل الثقیل في الأجسام المرجّحة إلى أسفل، کالحجر والمدر، والخفیف يقال في الأجسام المائلة إلى الصعود کالنار والدخان، ومن هذا الثقل قوله تعالی: اثَّاقَلْتُمْ إِلَى الْأَرْضِ [ التوبة/ 38] . المثقال ہر اس چیز کو کہا جاتا ہے جس سے کسی چیز کا وزن کیا جائے چناچہ ہر باٹ کو مثقال کہہ سکتے ہیں قرآن میں ہے ؛۔ فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقالَ ذَرَّةٍ خَيْراً يَرَهُ وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ [ الزلزلة/ 7- 8] ، وقوله تعالی: فَأَمَّا مَنْ ثَقُلَتْ مَوازِينُهُ فَهُوَ فِي عِيشَةٍ راضِيَةٍ [ القارعة/ 6- 7] تو جس نے ذرہ بھر نیکی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لیگا تو جس نے ذرہ بھر برائی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا اور آیت کریمہ :۔ وَأَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوازِينُهُ [ القارعة/ 8] اور جس کے وزن ہلکے نکلیں گے ۔ میں وزن کے ہلکا نکلنے سے اعمال حسنہ کے کم ہونے کی طرف اشارہ ہے ۔ ثقیل اور خفیف کے الفاظ دو طرح استعمال ہوتے ہیں ایک بطور مقابلہ کے یعنی ایک چیز کو دوسری چیز کے اعتبار سے ثقیل یا خفیف کہہ دیا جاتا ہے چناچہ مذکورہ بالاآیت میں نہی معنی مراد ہیں اور دوسرے یہ کہ جو چیزیں ( طبعا) نیچے کی طرف مائل ہوتی ہیں انہیں ثقیل کہا جاتا ہے جیسے حجر مدر وغیرہ اور جو چیزیں ( طبعا) اوپر کو چڑھتی ہیں جیسے آگ اور دہواں انہیں حفیف کہا جاتا ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ ؛ اثَّاقَلْتُمْ إِلَى الْأَرْضِ [ التوبة/ 38] تو تم زمین پر گر سے جاتے ہو ۔ میں زمین پر گرنا دوسرے معنی کے اعتبار سے ہے ۔ ذرة الذّرّيّة، قال تعالی: وَمِنْ ذُرِّيَّتِي [ البقرة/ 124] ، وقال : وَمِنْ ذُرِّيَّتِنا أُمَّةً مُسْلِمَةً لَكَ [ البقرة/ 128] ، وقال : إِنَّ اللَّهَ لا يَظْلِمُ مِثْقالَ ذَرَّةٍ [ النساء/ 40] ، وقد قيل : أصله الهمز، وقد تذکر بعد في بابه . ( ذ ر ر) الذریۃ ۔ نسل اولاد ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَمِنْ ذُرِّيَّتِي [ البقرة/ 124] اور میری اولاد میں سے بھی وَمِنْ ذُرِّيَّتِنا أُمَّةً مُسْلِمَةً لَكَ [ البقرة/ 128] اور ہماری اولاد میں سے بھی ایک گروہ کو اپنا مطیع بناتے رہیو ۔ إِنَّ اللَّهَ لا يَظْلِمُ مِثْقالَ ذَرَّةٍ [ النساء/ 40] خدا کسی کو ذرا بھی حق تلفی نہیں کرتا ۔ اور کہا گیا ہے کہ ذریۃ آصل میں مہموز اللام ہے اور ( ذرء ) میں اس پر بحث آرہی ہے ۔ حسنة والحسنةُ يعبّر عنها عن کلّ ما يسرّ من نعمة تنال الإنسان في نفسه وبدنه وأحواله، والسيئة تضادّها . وهما من الألفاظ المشترکة، کالحیوان، الواقع علی أنواع مختلفة کالفرس والإنسان وغیرهما، فقوله تعالی: وَإِنْ تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌ يَقُولُوا : هذِهِ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ [ النساء/ 78] ، أي : خصب وسعة وظفر، وَإِنْ تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ أي : جدب وضیق وخیبة «1» ، يَقُولُوا : هذِهِ مِنْ عِنْدِكَ قُلْ : كُلٌّ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ [ النساء/ 78] والفرق بين الحسن والحسنة والحسنی أنّ الحَسَنَ يقال في الأعيان والأحداث، وکذلک الحَسَنَة إذا کانت وصفا، وإذا کانت اسما فمتعارف في الأحداث، والحُسْنَى لا يقال إلا في الأحداث دون الأعيان، والحسن أكثر ما يقال في تعارف العامة في المستحسن بالبصر، يقال : رجل حَسَنٌ وحُسَّان، وامرأة حَسْنَاء وحُسَّانَة، وأكثر ما جاء في القرآن من الحسن فللمستحسن من جهة البصیرة، وقوله تعالی: الَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُ [ الزمر/ 18] ، أي : الأ بعد عن الشبهة، ( ح س ن ) الحسن الحسنتہ ہر وہ نعمت جو انسان کو اس کے نفس یا بدن یا اس کی کسی حالت میں حاصل ہو کر اس کے لئے مسرت کا سبب بنے حسنتہ کہلاتی ہے اس کی ضد سیئتہ ہے اور یہ دونوں الفاظ مشترکہ کے قبیل سے ہیں اور لفظ حیوان کی طرح مختلف الواع کو شامل ہیں چناچہ آیت کریمہ ۔ وَإِنْ تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌ يَقُولُوا : هذِهِ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ [ النساء/ 78] اور ان لوگوں کو اگر کوئی فائدہ پہنچتا ہے تو کہتے ہیں کہ یہ خدا کی طرف سے ہے اور اگر کوئی گزند پہنچتا ہے ۔ میں حسنتہ سے مراد فراخ سالی وسعت اور نا کامی مراد ہے الحسن والحسنتہ اور الحسنی یہ تین لفظ ہیں ۔ اور ان میں فرق یہ ہے کہ حسن اعیان واغراض دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے اسی طرح حسنتہ جب بطور صفت استعمال ہو تو دونوں پر بولا جاتا ہے اور اسم ہوکر استعمال ہو تو زیادہ تر احدث ( احوال ) میں استعمال ہوتا ہے اور حسنی کا لفظ صرف احداث کے متعلق بو لاجاتا ہے ۔ اعیان کے لئے استعمال نہیں ہوتا ۔ اور الحسن کا لفظ عرف عام میں اس چیز کے متعلق استعمال ہوتا ہے جو بظاہر دیکھنے میں بھلی معلوم ہو جیسے کہا جاتا ہے رجل حسن حسان وامرءۃ حسنتہ وحسانتہ لیکن قرآن میں حسن کا لفظ زیادہ تر اس چیز کے متعلق استعمال ہوا ہے جو عقل وبصیرت کی رو سے اچھی ہو اور آیت کریمہ : الَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُ [ الزمر/ 18] جو بات کو سنتے اور اچھی باتوں کی پیروی کرتے ہیں ۔ ضعف ( دوگنا) ضِّعْفُ هو من الألفاظ المتضایفة التي يقتضي وجود أحدهما وجود الآخر، کالنّصف والزّوج، وهو تركّب قدرین متساويين، ويختصّ بالعدد، فإذا قيل : أَضْعَفْتُ الشیءَ ، وضَعَّفْتُهُ ، وضَاعَفْتُهُ : ضممت إليه مثله فصاعدا . قال بعضهم : ضَاعَفْتُ أبلغ من ضَعَّفْتُ ولهذا قرأ أكثرهم : يُضاعَفْ لَهَا الْعَذابُ ضِعْفَيْنِ [ الأحزاب/ 30] ، وَإِنْ تَكُ حَسَنَةً يُضاعِفْها[ النساء/ 40] ( ض ع ف ) الضعف الضعف ۔ یہ اسمائے متضایقہ سے ہے یعنی وہ الفاظ جو اپنے مفہوم ومعنی کے تحقیق میں ایک دوسرے پر موقوف ہوتے ہیں جیسے نصف وزوج اور ضعف ( دوگنا) کے معنی ہیں ایک چیز کے ساتھ اس کے مثل کامل جانا اور یہ اسم عدد کے ساتھ مخصوص ہے ۔ اور اضعفت الشئی وضعتہ وضاعفتہ کے معنی ہیں کسی چیز کو دو چند کردینا بعض نے کہا ہے کہ ضاعفت ( مفاعلۃ ) میں ضعفت ( تفعیل ) سے زیادہ مبالغہ پایا جاتا ہے آیت کریمہ : ۔ يُضاعَفْ لَهَا الْعَذابُ ضِعْفَيْنِ [ الأحزاب/ 30] ان کو دگنی سزادی جائے گی ۔ اور آیت : ۔ وَإِنْ تَكُ حَسَنَةً يُضاعِفْها[ النساء/ 40] اور اگر نیکی ( رکی ) ہوگی تو اس کو دو چند کر دیگا ۔ میں یضاعف ( مفاعلۃ پڑھا ہے اور کہا ہے کہ اس سے نیکیوں کے دس گناہ ہونے کی طرف اشارہ ہے لدن لَدُنْ أخصّ من «عند» ، لأنه يدلّ علی ابتداء نهاية . نحو : أقمت عنده من لدن طلوع الشمس إلى غروبها، فيوضع لدن موضع نهاية الفعل . قال تعالی: فَلا تُصاحِبْنِي قَدْ بَلَغْتَ مِنْ لَدُنِّي عُذْراً [ الكهف/ 76] ( ل دن ) لدن ۔ یہ عند سے اخص ہے کیونکہ یہ کسی فعل کی انتہاء کے آغاز پر دلالت کرتا ہے ۔ جیسے قمت عند ہ من لدن طلوع الشمس الیٰ غروبھا آغاز طلوع شمس سے غروب آفتاب اس کے پاس ٹھہرا رہا ۔ قرآن میں ہے : فَلا تُصاحِبْنِي قَدْ بَلَغْتَ مِنْ لَدُنِّي عُذْراً [ الكهف/ 76] تو مجھے اپنے ساتھ نہ رکھئے گا کہ آپ کو مجھے ساتھ نہ رکھنے کے بارے میں میری طرف سے عذر حاصل ہوگا ۔ أجر الأجر والأجرة : ما يعود من ثواب العمل دنیویاً کان أو أخرویاً ، نحو قوله تعالی: إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى اللَّهِ [يونس/ 72] ، وَآتَيْناهُ أَجْرَهُ فِي الدُّنْيا وَإِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ [ العنکبوت/ 27] ، وَلَأَجْرُ الْآخِرَةِ خَيْرٌ لِلَّذِينَ آمَنُوا [يوسف/ 57] . والأُجرة في الثواب الدنیوي، وجمع الأجر أجور، وقوله تعالی: وَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ [ النساء/ 25] كناية عن المهور، والأجر والأجرة يقال فيما کان عن عقد وما يجري مجری العقد، ولا يقال إلا في النفع دون الضر، نحو قوله تعالی: لَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 199] ، وقوله تعالی: فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ [ الشوری/ 40] . والجزاء يقال فيما کان عن عقدٍ وغیر عقد، ويقال في النافع والضار، نحو قوله تعالی: وَجَزاهُمْ بِما صَبَرُوا جَنَّةً وَحَرِيراً [ الإنسان/ 12] ، وقوله تعالی: فَجَزاؤُهُ جَهَنَّمُ [ النساء/ 93] . يقال : أَجَر زيد عمراً يأجره أجراً : أعطاه الشیء بأجرة، وآجَرَ عمرو زيداً : أعطاه الأجرة، قال تعالی: عَلى أَنْ تَأْجُرَنِي ثَمانِيَ حِجَجٍ [ القصص/ 27] ، وآجر کذلک، والفرق بينهما أنّ أجرته يقال إذا اعتبر فعل أحدهما، وآجرته يقال إذا اعتبر فعلاهما «1» ، وکلاهما يرجعان إلى معنی واحدٍ ، ويقال : آجره اللہ وأجره اللہ . والأجير : فعیل بمعنی فاعل أو مفاعل، والاستئجارُ : طلب الشیء بالأجرة، ثم يعبّر به عن تناوله بالأجرة، نحو : الاستیجاب في استعارته الإيجاب، وعلی هذا قوله تعالی: اسْتَأْجِرْهُ إِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْتَأْجَرْتَ الْقَوِيُّ الْأَمِينُ [ القصص/ 26] . ( ا ج ر ) الاجر والاجرۃ کے معنی جزائے عمل کے ہیں خواہ وہ بدلہ دنیوی ہو یا اخروی ۔ چناچہ فرمایا : ۔ {إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى اللَّهِ } [هود : 29] میرا اجر تو خدا کے ذمے ہے ۔ { وَآتَيْنَاهُ أَجْرَهُ فِي الدُّنْيَا وَإِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ } [ العنکبوت : 27] اور ان کو دنیا میں بھی ان کا صلہ عنایت کیا اور وہ آخرت میں بھی نیک لوگوں میں سے ہوں گے ۔ { وَلَأَجْرُ الْآخِرَةِ خَيْرٌ لِلَّذِينَ آمَنُوا } [يوسف : 57] اور جو لوگ ایمان لائے ۔ ۔۔۔ ان کے لئے آخرت کا اجر بہت بہتر ہے ۔ الاجرۃ ( مزدوری ) یہ لفظ خاص کر دنیوی بدلہ پر بولا جاتا ہے اجر کی جمع اجور ہے اور آیت کریمہ : { وَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ } [ النساء : 25] اور ان کے مہر بھی انہیں ادا کردو میں کنایہ عورتوں کے مہر کو اجور کہا گیا ہے پھر اجر اور اجرۃ کا لفظ ہر اس بدلہ پر بولاجاتا ہے جو کسی عہد و پیمان یا تقریبا اسی قسم کے عقد کی وجہ سے دیا جائے ۔ اور یہ ہمیشہ نفع مند بدلہ پر بولا جاتا ہے ۔ ضرر رساں اور نقصان دہ بدلہ کو اجر نہیں کہتے جیسے فرمایا { لَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ } [ البقرة : 277] ان کو ان کے کاموں کا صلہ خدا کے ہاں ملے گا ۔ { فَأَجْرُهُ عَلَى اللهِ } ( سورة الشوری 40) تو اس کا بدلہ خدا کے ذمے ہے الجزاء ہر بدلہ کو کہتے ہیں خواہ وہ کسی عہد کی وجہ سے ہو یا بغیر عہد کے اچھا ہو یا برا دونوں پر بولا جاتا ہے ۔ چناچہ فرمایا ۔ { وَجَزَاهُمْ بِمَا صَبَرُوا جَنَّةً وَحَرِيرًا } [ الإنسان : 12] اور ان کے صبر کے بدلے ان کو بہشت کے باغات اور ریشم ( کے ملبوسات) عطا کریں گے ۔ { فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ } ( سورة النساء 93) اس کی سزا دوزخ ہے ۔ محاورہ میں ہے اجر ( ن ) زید عمرا یا جرہ اجرا کے معنی میں زید نے عمر کو اجرت پر کوئی چیز دی اور اجر عمر زیدا کے معنی ہوں گے عمرو نے زید کو اجرت دی قرآن میں ہے :۔ { عَلَى أَنْ تَأْجُرَنِي ثَمَانِيَ حِجَجٍ } [ القصص : 27] کہ تم اس کے عوض آٹھ برس میری خدمت کرو ۔ اور یہی معنی اجر ( مفاعلہ ) کے ہیں لیکن اس میں معنی مشارکت کا اعتبار ہوتا ہے اور مجرد ( اجرتہ ) میں مشارکت کے معنی ملحوظ نہیں ہوتے ہاں مال کے لحاظ سے دونوں ایک ہی ہیں ۔ محاورہ ہی ۔ اجرہ اللہ واجرہ دونوں طرح بولا جاتا ہے یعنی خدا اسے بدلہ دے ۔ الاجیرہ بروزن فعیل بمعنی فاعل یا مفاعل ہے یعنی معاوضہ یا اجرت کا پر کام کرنے والا ۔ الاستیجار کے اصل معنی کسی چیز کو اجرت پر طلب کرنا پھر یہ اجرت پر رکھ لینے کے معنی میں بولا جاتا ہے جس طرح کہ استیجاب ( استفعال ) بمعنی اجاب آجاتا ہے چناچہ آیت کریمہ : { اسْتَأْجِرْهُ إِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْتَأْجَرْتَ الْقَوِيُّ الْأَمِينُ } [ القصص : 26] اسے اجرت پر ملازم رکھ لیجئے کیونکہ بہتر ملازم جو آپ رکھیں وہ ہے جو توانا اور امانت دار ہو میں ( استئجار کا لفظ ) ملازم رکھنے کے معنی میں استعمال ہوا ہے ۔ عظیم وعَظُمَ الشیء أصله : كبر عظمه، ثم استعیر لكلّ كبير، فأجري مجراه محسوسا کان أو معقولا، عينا کان أو معنی. قال : عَذابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ [ الزمر/ 13] ، قُلْ هُوَ نَبَأٌ عَظِيمٌ [ ص/ 67] ، ( ع ظ م ) العظم عظم الشئی کے اصل معنی کسی چیز کی ہڈی کے بڑا ہونے کے ہیں مجازا ہر چیز کے بڑا ہونے پر بولا جاتا ہے خواہ اس کا تعلق حس سے یو یا عقل سے اور عام اس سے کہ وہ مادی چیز ہو یا مونے ی قرآن میں ہے : ۔ عَذابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ [ الزمر/ 13] بڑے سخت دن کا عذاب ) تھا ۔ قُلْ هُوَ نَبَأٌ عَظِيمٌ [ ص/ 67] کہہ دو کہ وہ ایک سخت حادثہ ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٤٠) اور وہ کافر کے اعمال میں سے ایک ذرہ کے برابر بھی نہیں چھوڑیں گے تاکہ آخرت میں وہ کام آئے یا اس کے دشمن خوش ہوں۔ اور مومن مخلص کو اس کے دشمنوں کا منہ بھر دینے کے بعد ایک نیکی پر دس گنا ثواب ملے گا اور اس کے بعد اللہ تعالیٰ اپنے پاس سے جنت میں اجر عظیم عطا فرمائے گا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٤٠ (اِنَّ اللّٰہَ لاَ یَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ ج) (وَاِنْ تَکُ حَسَنَۃً یُّضٰعِفْہَا) (وَیُؤْتِ مِنْ لَّدُنْہُ اَجْرًا عَظِیْمًا ) اس سورة مبارکہ کی اگلی آیت بڑی اہم ہے۔ یہ اس شہادت علی الناس سے متعلق ہے جو مضمون سورة البقرۃ (آیت ١٤٣) میں آیا تھا کہ اے مسلمانو ! تمہیں اب شہداء علی الناس بنایا گیا ہے ‘ جیسے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تم پر شہادت دی ہے۔ نبی مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قیامت کے دن کھڑے ہو کر کہیں گے کہ اے اللہ میرے پاس جو دین آیا تھا میں نے انہیں پہنچا دیا تھا ‘ اب یہ اپنے طرز عمل کے خود ذمہ دار ہیں۔ یہی بات قیامت کے دن کھڑے ہو کر تمہیں کہنی ہے کہ اے اللہ ہم نے اپنے زمانے کے لوگوں تک تیرا دین پہنچا دیا تھا ‘ اب اس کے بعد اپنے طرز عمل کے یہ خود جواب دہ ہیں۔ ایسا نہ ہو کہ الٹا وہ ہمارے اوپر مقدمہ کریں کہ اے اللہ ان بدبختوں نے ہمیں تیرا دین نہیں پہنچایا ‘ یہ خزانے کے سانپ بن کر بیٹھے رہے۔ یہ تو شہادت کا ایک رخ ہے ‘ لیکن جس کے کاندھوں پر یہ ذمہ داری ڈال دی گئی ہو ‘ واقعہ یہ ہے کہ اس کے لیے تو یہ ایک بہت بھاری بوجھ ہے۔ یہاں اس کا نقشہ کھینچا جا رہا ہے کہ قیامت کے دن کیا ہوگا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

اوپر کی دونوں آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے بخل اور ریاکاری کی مذمت فرما کر ایمان اور خیرات کی جو ترغیب فرمائی تھی یہ ٹکڑا آیت کا اس ترغیب کی تائید میں ہے۔ حاصل معنی یہ ہیں کہ جب ذرہ ذرہ بھر کا قیامت میں اللہ تعالیٰ ان کو اجر دوگنا چوگنا دینے کا وعدہ فرماتا ہے۔ تو پھر کیوں لوگ نیک کاموں سے رک کر اپنے اتنے بڑے اجر کو ضائع کرتے ہیں اور دکھاوے کے عمل کیوں کرتے ہیں کیا جن لوگوں کے دکھانے کی غرض سے کوئی عمل کیا جاتا ہے وہ لوگ ان کو اللہ کا سا اجر دے سکتے ہیں۔ صحیحین میں حضرت ابو سعید خدری (رض) سے شفاعت کی جو بڑی حدیث ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اچھے لوگ اللہ تعالیٰ سے گنہگاروں کی سفارش کریں گے اور ان کی سفارش قبول ہو کر جس کے دل میں ذرا برابر بھی ایمان ہوگا اس کی نجات کا ذکر فرما کر حضرت ابو سعید خدری (رض) اس آیت کو پڑھا کرتے تھے ١۔ جس سے ان کا مطلب یہ تھا کہ اس حالت کی تصدیق میں جن کا ذکر حدیث میں ہے یہ آیت نازل ہوئی ہے۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(4:40) مثقال ۔ وزن۔ مثقال ذرۃ۔ ایک ذرہ کے وزن کے برابر۔ ثقل مادہ۔ باب کرم سے اسم آلہ ہے۔ تک۔ اصل میں تکون تھا۔ ان کے عمل سے واؤ حرف علت حذف ہوگیا۔ اور نون کو بھی خلاف قیاس حرف عطف کے مشابہ مان کر کثرت استعمال کے سبب تخفیف کے لئے حذف کردیا گیا کون سے مضارع معروف۔ مجزوم بوجہ جواب شرط۔ مضاعفۃ (مفاعلۃ) مصدر ۔ ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب جو حسنۃً کی طرف راجع ہے۔ وہ اس کو بڑھا دیگا۔ دو چند کر دے گا۔ من لدنہ۔ اس کی طرف سے (یہاں) اپنی طرف سے۔ لذن۔ ظرف مکان (ربنا اتنا من لدنک رحمۃ) ات رب ہمارے ہمیں اپنی طرف سے رحمت عطا فرما۔ اور ظرف زمان۔ اقمت عندہ من لدن طلوع الشمس الی غروبھا۔ میں اس کے پاس طلوع آفتاب سے غروب آفتاب تک مقیم رہا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

6۔ اوپر جن امور کی ترغیب تھی آگے ان کے نہ کرنے پر ترہیب ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اللہ تعالیٰ ذرہ بھر بھی ظلم نہ کرے گا : پھر فرمایا (اِنَّ اللّٰہَ لَا یَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ ) (بلاشبہ اللہ تعالیٰ ذرہ کے برابر بھی ظلم نہیں فرماتا۔ ) مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کو نافرمانی کے بغیر عذاب نہیں دے گا اور کسی کی کوئی نیکی ضائع نہیں فرمائے گا۔ اگر ذرہ برابر بھی کسی کی نیکی ہوگی اس کا ثواب بھی عطا فرمائے گا بلکہ وہ اس نیکی کو چند در چند بڑھا دے گا اور اپنے پاس سے اجرعظیم عطا فرمائے گا۔ ایک نیکی کم از کم دس نیکی کے برابر تو کردی ہی جاتی ہے جیسا کہ سورة انعام وغیرہ میں فرمایا (مَنْ جَآء بالْحَسَنَۃِ فَلَہٗ عَشْرُ اَمْثَالِھَا) اور اس کے بعدسات سو تک اور سات لاکھ تک اور اس سے بھی بڑھ کر جہاں تک اللہ چاہے ایک نیکی کا ثواب عطا کردیا جاتا ہے۔ کوئی اللہ تعالیٰ کی طرف بڑھ کر دیکھے اور گناہ چھوڑے نیکیوں میں لگے پھر دیکھے کیسا مالا مال ہوتا ہے۔ حقیر دنیا چونکہ نظر کے سامنے ہے اس لیے اس کے لیے گناہ بھی کرلیتے ہیں۔ اور نیکیوں سے بھی محروم رہتے ہیں۔ جعلنا اللہ من السابقین الی الخیرات والمبادرین الی الحسنات۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

30 یہاں احسان کرنے کی ترغیب دی گئی ہے کہ اب وقت ہے مال خرچ کرلو۔ اب احکام خداوندی کے مطابق خرچ کرنے کا اجر وثواب آخرت میں کئی گنا ملیگا اس لیے اس موقع کو ہاتھ سے مت جانے دو ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 2 اور ان کا کیا بگڑ جاتا اور ان پر کو سنی آفت نازل ہوجاتی اگر یہ لوگ اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آتے اور یوم آخرت کے واقع ہونے کا اعتقاد رکھتے اور اللہ تعالیٰ نے جو کچھ ان کو دیا ہے اس میں سے کچھ خیرات کیا کرتے اور اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی حالت کو خوب جانتا ہے۔ یقین جانو ! کہ اللہ تعالیٰ کسی پر ذرہ برابر بھی ظلم نیں کرے گا بلکہ وہ تو ایسا کریم ہے کہ اگر ایک چھوٹی سی نیکی ہوگی تو اپنی مہربانی سے اس کو کئی گنا کر کے اس کا ثواب عنایت کرے گا اور اس ثواب کے علاوہ اپنے پاس سے بطور اپنے انعام کے اور اجر عظیم عطا فرمائے گا یعنی نیکی کو بڑھا کر ثواب ملے اور اپنے پاس سے اور مزید ثواب عظیم عطا فرمائے۔ (تیسیر) اللہ پر ایمان اور آخرت پر ایمان کا مطلب یہ ہے کہ شریعت اسلامیہ کو تسلیم کرلیتے اور خدا کے دیئے ہوئے مال میں سے کچھ خیرات کرتے رہتے تو ان کا کیا نقصا نہو جاتا مگر محض اپنی ہٹ دھرمی اور ضد کی وجہ سے اسلامی احکام کو قبول نہیں کرتے اور اپنے مالوں میں بخیل بنے بیٹھے ہیں اسلام تو ایک ایسا مذہب ہے کہ ہر اعتبار سے مفید ہی مفید ہے۔ پھر فرمایا اللہ تعالیٰ تو ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا نہ کسی کے ثواب کو کم کرتا ہے اور نہ کسی کو بلاوجہ عذاب کرتا ہے بلکہ اس کی شان تو ایسی ہے کہ چھوٹی سی نیکی کو بھی کم از کم دس گناہ کر کے اس کا ثواب دیتا ہے اور بلا معاوضہ جو کچھ اپنے پاس سے محض اپنے فضل سے بطور انعام دیتا ہے اس کا تو ٹھکانا ہی کیا ہے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں ینی اللہ کی راہ میں خرچ کرنا کسی طرح نقصان دہ نہیں آخرت کا ثواب بیشمار ہے دنیا میں بھی عوض پاتا ہے اس پر رسول خدا نے قسم کھائی ہے۔ (موضح القرآن) ابو دائود طیالسی نے حضرت انس سے مرفوعاً روایت کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ظلم نہیں کرتا کسی مئومن پر جو وہ نیکی کرتا ہے اس کا بدلہ اس کو دنیا میں رزق دیتا ہے اور آخرت میں اس کا صلہ عطا فرماتا ہے اور کافر کو دنیا میں کھلاتا ہے لیکن قیامت کے دن اس کی کوئی نیکی نہ ہوگی۔ حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں۔ جھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ اللہ تعالیٰ بندئہ مومن کو ایک نیکی کے بدلے میں ایک لاکھ نیکیاں دیتا ہے ابو عثمان کہتے ہیں کہ میں حج یا عمرے کو گیا تھا تو میں نے حضرت ابوہریرہ سے ملاقات کر کے ان سے اس روایت کو دریافت کیا تو انہوں نے اس کی تصدیقف کی اور قسم کھا کر فرمایا کہ میں نے رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خود سنا ہے۔ اس واقعہ کو امام احمد اور ابن ابی حاتم نے نقل کیا ہے ۔ اب آگے تتمہ کے طور پر قیامت میں ان منکرین کا جو حشر ہونے والا ہے اس کا بیان فرماتے ہیں اور چونکہ ایمان باللہ رسول پر ایمان لانے کو مستلزم ہے اس لئے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ذکر بھی صراحتہ مذکور ہے۔ (تسہیل)