Surat un Nissa

Surah: 4

Verse: 49

سورة النساء

اَلَمۡ تَرَ اِلَی الَّذِیۡنَ یُزَکُّوۡنَ اَنۡفُسَہُمۡ ؕ بَلِ اللّٰہُ یُزَکِّیۡ مَنۡ یَّشَآءُ وَ لَا یُظۡلَمُوۡنَ فَتِیۡلًا ﴿۴۹﴾

Have you not seen those who claim themselves to be pure? Rather, Allah purifies whom He wills, and injustice is not done to them, [even] as much as a thread [inside a date seed].

کیا آپ نے انہیں نہیں دیکھا جو اپنی پاکیزگی اور ستائش خود کرتے ہیں؟ بلکہ اللہ تعالٰی جسے چاہے پاکیزہ کرتا ہے ، کسی پر ایک دھاگے کے برابر ظلم نہ کیا جائے گا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Chastising and Cursing the Jews for Claiming Purity for Themselves and Believing in Jibt and Taghut Allah أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ يُزَكُّونَ أَنفُسَهُمْ ... Have you not seen those who claim sanctity for themselves! Al-Hasan and Qatadah said, "This Ayah, was revealed about the Jews and Christians when they said, `We are Allah's children and His loved ones."' Ibn Zayd also said, "This Ayah was revealed concerning their statement, نَحْنُ أَبْنَاء اللّهِ وَأَحِبَّاوُهُ (We are the children of Allah and His loved ones) (5:18) and their statement, لَن يَدْخُلَ الْجَنَّةَ إِلاَّ مَن كَانَ هُوداً أَوْ نَصَارَى (None shall enter Paradise unless he be a Jew or a Christian)." (2:111) This is why Allah said, ... بَلِ اللّهُ يُزَكِّي مَن يَشَاء ... Nay, but Allah sanctifies whom He wills, meaning, the decision in this matter is with Allah Alone, because He has perfect knowledge of the true reality and secrets of all things. Allah then said, ... وَلاَ يُظْلَمُونَ فَتِيلً And they will not be dealt with injustice even equal to the extent of a Fatil, meaning, He does no injustice with anyone's compensation in any part of his reward, even if it was the weight of a Fatil. Ibn Abbas, Mujahid, Ikrimah, Ata, Al-Hasan, Qatadah and others among the Salaf said that; Fatil means, "The scalish thread in the long slit of the date-stone." Allah said,

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

49۔ 1 یہود اپنے منہ میاں میٹھو بنتے تھے مثلًا ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے چہیتے ہیں وغیرہ، اللہ نے فرمایا تزکیہ کا اختیار بھی اللہ کو ہے اور اس کا علم بھی اسی کو ہے،" فتیل " کھجور کی گٹھلی کے کٹاؤ پر جو دھاگے یا سوت کی طرح نکلتا یا دکھائی دیتا ہے اس کو کہا جاتا ہے۔ یعنی اتنا سا ظلم بھی نہیں کیا جائے گا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٨١] سستی نجات کے عقیدے :۔ ان لوگوں سے مراد بھی علمائے یہود و نصاریٰ ہیں کہ جب انہیں ان کی بری کرتوتوں کو چھوڑنے اور ایمان لانے کی دعوت دی جاتی تو وہ شیخی میں آ کر کہتے (نَحْنُ اَبْنٰۗؤُا اللّٰهِ وَاَحِبَّاۗؤُهٗ 18؀) 5 ۔ المآئدہ :18) یعنی ہم تو اللہ کے بیٹے اور اس کے چہیتے ہیں۔ نیز چونکہ پیغمبروں کی اولاد ہیں لہذا پاکیزہ نفوس کے مالک ہیں۔ اور نصاریٰ نے کفارہ مسیح کا عقیدہ گھڑ لیا تھا جس کی رو سے سب عیسائیوں کے گناہ تو سیدنا عیسیٰ نے اپنی گردن پر اٹھائے اور سولی چڑھ گئے اور اس طرح ان کی سب امت پاک ہوگئی۔ اور جنت کی مستحق ٹھہری۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اپنے منہ میاں مٹھو بننے سے کچھ نہیں بنتا۔ پاکیزہ تو صرف وہ ہے جو اپنے آپ کو گناہوں سے پاک صاف رکھے اور اللہ اسے پاکیزہ قرار دے۔ یہود و نصاریٰ کی طرح مسلمانوں میں بھی یہ عقیدہ کسی نہ کسی شکل میں پایا جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے آپ کو سید اور آل رسول کہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہماری پشت ہی پاک ہے یعنی ہم پشت در پشت پاک لوگ ہیں اور یہی عقیدہ یہود کا تھا کہ ہم انبیاء کی اولاد ہیں۔ پھر کچھ لوگوں نے اس دنیا میں بہشتی دروازے بنا رکھے ہیں کہ جو شخص عرس کے دن اس دروازہ کے نیچے سے گزر جائے گا وہ مرنے کے بعد سیدھا بہشت میں چلا جائے گا۔ وغیرہ ذلک من الخرافات۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

” فَتِيْلًا “ اس پتلے دھاگے کو کہتے ہیں جو کھجور کی گٹھلی کے کٹاؤ میں نظر آتا ہے۔ یہ محاورہ ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ ان پر ذرہ برابر ظلم نہیں ہوگا۔ (طبری) یہود اپنے آپ کو پاک باز اور مقدس کہتے، کبھی کہتے جنت میں ہم ہی جائیں گے : ( لَنْ يَّدْخُلَ الْجَنَّةَ اِلَّا مَنْ كَانَ ھُوْدًا اَوْ نَصٰرٰى ۭ ) [ البقرۃ : ١١١ ] ” جنت میں ہرگز داخل نہیں ہوں گے مگر جو یہودی ہوں گے یا نصاریٰ ۔ “ کبھی اپنے آپ کو اللہ کے بیٹے اور اس کے محبوب بتاتے۔ (دیکھیے المائدۃ : ١٨) اللہ تعالیٰ نے ان کی تردید فرمائی کہ کسی کو پاک باز قرار دینا تو اللہ کا کام ہے، اپنی تعریف آپ کرنا انسان کے لیے مہلک ہے، چناچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ( فَلَا تُزَكُّوْٓا اَنْفُسَكُمْ ۭ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقٰى ) [ النجم : ٣٢ ] ” اپنے آپ کو پاک مت قرار دو ، وہ زیادہ جانتا ہے کون متقی ہے۔ “ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک دوسرے کی تعریف سے بھی، خصوصاً جب کوئی سامنے ہو یا مبالغہ کے ساتھ ہو منع فرمایا۔ مقداد بن اسود (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں حکم دیا : ( اَنْ نَحْثِیَ فِیْ وُجُوْہِ الْمَدَّاحِیْنَ التُّرَابَ ) [ مسلم، الزھد، باب النھی عن المدح۔۔ : ٣٠٠٢ ] ” ہم زیادہ تعریف کرنے والوں کے منہ میں مٹی ڈال دیں۔ “ اور فرمایا : ( اِیَّاکُمْ وَالتَّمَادُحَ فَاِنَّہُ ذَبْحٌ ) [ ابن ماجہ، الأدب، باب المدح : ٣٧٤٣ ] ” باہمی مدح گوئی سے بچو کیونکہ یہ ذبح کرنا ہے۔ “ ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک آدمی کو دوسرے کی تعریف کرتے ہوئے سنا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( وَیْحَکَ قَطَعْتَ عُنُقَ صَاحِبِکَ ) ” تجھ پر افسوس ! تو نے اپنے ساتھی کی گردن کاٹ دی۔ “ پھر فرمایا : ” اگر تم میں سے کسی کو کسی کی لا محالہ تعریف کرنی ہے تو اس طرح کہا کرے کہ میں اسے اس طرح گمان کرتا ہوں، اللہ پر کسی کا تزکیہ نہ کرے (پاک قرار نہ دے۔ “ [ بخاری، الشہادات والأدب، باب ما یکرہ من التمادح : ٦٠٦١]

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Indulgence in self-praise Let us now turn to the word of Allah in: أَلَمْ تَرَ‌ إِلَى الَّذِينَ يُزَكُّونَ أَنفُسَهُم (Have you not seen those who claim sanctity for themselves?) Since the Jews claimed sanctity for themselves, Allah Almighty censures them in this verse as a strange lot attributing sanctity to themselves and then having the audacity to tell others that this is so. Amazing indeed! From here we learn that it is not permissible for anyone to claim and broadcast his or her sanctity, or that of others. This is forbidden on three counts: 1. The cause of self-praise is mostly pride and arrogance. So, in reality, what is forbidden is pride and arrogance. 2. As to the end of man, only Allah knows if it will come in a state of Taqwa and Taharah, that is, in a state when one is still God-fearing spiritually and free from major and minor impurities physically. Therefore, claiming sanctity for oneself is contrary to being God-fearing. As such, Sayyidah Zaynab (رض) daughter of Abi Salamah (رض) narrates that the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) asked her: &What is your name?& Since, at that time, her name was Barrah (which means pure from sins), so, that was what she told him. He, then, said: فلا تُزَکُّوا انفُسَکُم، اللہ اَعلَمُ بِاَھلِ البِرِّ منکُم، سَمُّوھَا زَینَب، (رواہ مسلم بحوالہ مشکوۃ) (Do not claim sanctity for yourselves (that is, do not claim purity and freedom from sins) because it is Allah alone who knows best as to who among you is of the righteous. He, then, named her Zaynab (instead of Barrah). (Mazhari) 3. The third reason for this prohibition is that such a claim gives people the false idea that the person making that claim is nearer to Allah because he is free of all faults, although this is a lie, for no mortal man is free of one or the other shortcoming. (Bayn al-Qur&an) Ruling: If impediments mentioned above do not exist, one can speak about one&s trait of character as an expression of gratitude for Allah&s blessing. (Bay an al-Qur&an)

اپنی مدح سرائی اور عیوب سے پاک ہونیکا دعویٰ جائز نہیں : قولہ تعالیٰ الم ترا الی الذین یزکون انفسھم یہود اپنے آپ کو مقدس بتلاتے تھے، جس پر اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ان کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا کہ ذرا ان لوگوں کو دیکھو جو اپنی پاکی بیان کر رہے ہیں، ان پر تعجب کرنا چاہئے۔ اس سے معلوم ہوا کہ کسی کو اپنی یا دوسروں کی پاکی بیان کرنا جائز نہیں ہے، یہ ممانعت تین وجہ سے ہے : (١) اپنی مدح کا سبب اکثر کبر ہوتا ہے، تو حقیقت میں ممانعت کبر سے ہوئی۔ (٢) یہ کہ خاتمہ کا حال اللہ کو معلوم ہے کہ تقوی و طہارت پر ہوگا یا نہیں، اس لئے اپنے آپ کو مقدس بتلانا خلاف خوف الٰہی ہے، چناچہ ایک روایت میں حضرت زینب بنت ابی سلمہ فرماتی ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے دریافت فرمایا کہ تمہارا نام کیا ہے ؟ اس وقت چونکہ میرا نام برہ تھا (جس کے معنی ہیں گناہوں سے پاک) میں نے وہی بتلایا، تو آپ نے فرمایا : لاتزکوا انفسکم، اللہ اعلم باھل البر منکم، سموھا زینب (رواہ مسلم بحوالہ مشکوة) ” یعنی تم اپنے آپ کی گناہوں سے پاکی بیان نہ کرو کیونکہ یہ علم صرف اللہ ہی کو کہ تم میں سے کون پاک ہے، پھر برہ کے بجائے آپ نے زینب نام رکھا۔ “ (مظہری) (٣) ممانعت کی تیسری وجہ یہ ہے کہ اکثر اوقات اس دعوے سے لوگوں کو یہ وہم ہونے لگتا ہے کہ یہ آدمی اللہ کے ہاں اس لئے مقبول ہے کہ یہ تمام نقائص اور عیوب سے پاک ہے، حالانکہ یہ جھوٹ ہے، کیونکہ بہت سے عیوب بندہ میں موجود ہوتے ہیں۔ (بیان القرآن) مسئلہ :۔ اگر مذکورہ عوارض نہ ہوں تو نعمت کے اظہار کے طور پر اپنی صفت بیان کرنے کی اجازت ہے۔ (بیان القرآن)

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ يُزَكُّوْنَ اَنْفُسَھُمْ۝ ٠ۭ بَلِ اللہُ يُزَكِّيْ مَنْ يَّشَاۗءُ وَلَا يُظْلَمُوْنَ فَتِيْلًا۝ ٤٩ زكا ( تزكية) وبِزَكَاءِ النّفس وطهارتها يصير الإنسان بحیث يستحقّ في الدّنيا الأوصاف المحمودة، وفي الآخرة الأجر والمثوبة . وهو أن يتحرّى الإنسان ما فيه تطهيره، وذلک ينسب تارة إلى العبد لکونه مکتسبا لذلک، نحو : قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّاها[ الشمس/ 9] ، وتارة ينسب إلى اللہ تعالی، لکونه فاعلا لذلک في الحقیقة نحو : بَلِ اللَّهُ يُزَكِّي مَنْ يَشاءُ [ النساء/ 49] ، وتارة إلى النّبيّ لکونه واسطة في وصول ذلک إليهم، نحو : تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِمْ بِها[ التوبة/ 103] ، يَتْلُوا عَلَيْكُمْ آياتِنا وَيُزَكِّيكُمْ [ البقرة/ 151] ، وتارة إلى العبادة التي هي آلة في ذلك، نحو : وَحَناناً مِنْ لَدُنَّا وَزَكاةً [ مریم/ 13] ، لِأَهَبَ لَكِ غُلاماً زَكِيًّا[ مریم/ 19] ، أي : مُزَكًّى بالخلقة، وذلک علی طریق ما ذکرنا من الاجتباء، وهو أن يجعل بعض عباده عالما وطاهر الخلق لا بالتّعلّم والممارسة بل بتوفیق إلهيّ ، كما يكون لجلّ الأنبیاء والرّسل . ويجوز أن يكون تسمیته بالمزکّى لما يكون عليه في الاستقبال لا في الحال، والمعنی: سَيَتَزَكَّى، وَالَّذِينَ هُمْ لِلزَّكاةِ فاعِلُونَ [ المؤمنون/ 4] ، أي : يفعلون ما يفعلون من العبادة ليزكّيهم الله، أو لِيُزَكُّوا أنفسهم، والمعنیان واحد . ولیس قوله : «للزّكاة» مفعولا لقوله : «فاعلون» ، بل اللام فيه للعلة والقصد . وتَزْكِيَةُ الإنسان نفسه ضربان : أحدهما : بالفعل، وهو محمود وإليه قصد بقوله : قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّاها [ الشمس/ 9] ، وقوله : قَدْ أَفْلَحَ مَنْ تَزَكَّى[ الأعلی/ 14] . والثاني : بالقول، كتزكية العدل غيره، وذلک مذموم أن يفعل الإنسان بنفسه، وقد نهى اللہ تعالیٰ عنه فقال : فَلا تُزَكُّوا أَنْفُسَكُمْ [ النجم/ 32] ، ونهيه عن ذلک تأديب لقبح مدح الإنسان نفسه عقلا وشرعا، ولهذا قيل لحكيم : ما الذي لا يحسن وإن کان حقّا ؟ فقال : مدح الرّجل نفسه . اور تزکیہ نفس سے ہی انسان دنیا میں اوصاف حمیدہ کا مستحق ہوتا ہے اور آخرت میں اجر وثواب بھی اسی کی بدولت حاصل ہوگا اور تزکیہ نفس کا طریق یہ ہے کہ انسان ان باتوں کی کوشش میں لگ جائے جن سے طہارت نفس حاصل ہوتی ہے اور فعل تزکیہ کی نسبت تو انسان کی طرف کی جاتی ہے کیونکہ وہ اس کا اکتساب کرتا ہے جیسے فرمایا : ۔ قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّاها [ الشمس/ 9] کہ جس نے اپنی روح کو پاک کیا ( وہ ضرور اپنی ) مراد کو پہنچا ۔ اور کبھی یہ اللہ تعالےٰ کی طرف منسوب ہوتا ہے کیونکہ فی الحقیقت وہی اس کا فاعل ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ بَلِ اللَّهُ يُزَكِّي مَنْ يَشاءُ [ النساء/ 49] بلکہ اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے پاک کردیتا ہے ۔ اور کبھی اس کی نسبت نبی کی طرف ہوتی ہے کیونکہ وہ لوگوں کو ان باتوں کی تعلیم دیتا ہے جن سے تزکیہ حاصل ہوتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِمْ بِها[ التوبة/ 103] کہ اس سے تم ان کو ( ظاہر میں بھی ) پاک اور ( باطن میں بھی ) پاکیزہ کرتے ہو ۔ يَتْلُوا عَلَيْكُمْ آياتِنا وَيُزَكِّيكُمْ [ البقرة/ 151] وہ پیغمبر انہیں ہماری آیات پڑھ کر سناتا ہے اور انہیں بذریعہ تعلیم ( اخلاق رذیلہ ) سے پاک کرتا ہے : ۔ اور کبھی اس کی نسبت عبادت کی طرف ہوتی ہے کیونکہ عبادت تزکیہ کے حاصل کرنے میں بمنزلہ آلہ کے ہے چناچہ یحیٰ (علیہ السلام) کے متعلق فرمایا : ۔ وَحَناناً مِنْ لَدُنَّا وَزَكاةً [ مریم/ 13] اور اپنی جناب سے رحمدلی اور پاگیزگی دی تھی ۔ لِأَهَبَ لَكِ غُلاماً زَكِيًّا [ مریم/ 19] تاکہ تجھے ایک پاکیزہ لڑکا بخشوں یعنی وہ فطرتا پاکیزہ ہوگا اور فطرتی پاکیزگی جیسا کہ بیان کرچکے ہیں ۔ بطریق اجتباء حاصل ہوتی ہے کہ حق تعالیٰ اپنے بعض بندوں کو عالم اور پاکیزہ اخلاق بنا دیتا ہے اور یہ پاکیزگی تعلیم وممارست سے نہیں بلکہ محض توفیق الہی سے حاصل ہوتی ہے جیسا کہ اکثر انبیاء اور رسل کے ساتھ ہوا ہے ۔ اور آیت کے یہ معنی ہوسکتے ہیں کہ وہ لڑکا آئندہ چل کر پاکیزہ اخلاق ہوگا لہذا زکیا کا تعلق زمانہ حال کے ساتھ نہیں بلکہ استقبال کے ساتھ ہے قرآن میں ہے : ۔ وَالَّذِينَ هُمْ لِلزَّكاةِ فاعِلُونَ [ المؤمنون/ 4] اور وہ جو زکوۃ دیا کرتے ہیں ۔ یعنی وہ عبادت اس غرض سے کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں پاک کر دے یا وہ اپنے نفوس کو پاک کرنے کی غرض سے عبادت کرتے ہیں والما ل واحد ۔ لہذا للزکوۃ میں لام تعلیل کے لیے ہے جسے لام علت و قصد کہتے ہیں اور لام تعدیہ نہیں ہے حتیٰ کہ یہ فاعلون کا مفعول ہو ۔ انسان کے تزکیہ نفس کی دو صورتیں ہیں ایک تزکیہ بالفعل یعنی اچھے اعمال کے ذریعہ اپنے نفس کی اصلاح کرنا یہ طریق محمود ہے چناچہ آیت کریمہ : ۔ قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّاها [ الشمس/ 9] اور آیت : ۔ قَدْ أَفْلَحَ مَنْ تَزَكَّى [ الأعلی/ 14] میں تزکیہ سے یہی مراد ہیں ۔ دوسرے تزکیہ بالقول ہے جیسا کہ ایک ثقہ شخص دوسرے کے اچھے ہونیکی شہادت دیتا ہے ۔ اگر انسان خود اپنے اچھا ہونے کا دعوے ٰ کرے اور خود ستائی سے کام لے تو یہ مذموم ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس قسم کے تزکیہ سے منع فرمایا ہے ۔ چناچہ ارشاد ہے ۔ فَلا تُزَكُّوا أَنْفُسَكُمْ [ النجم/ 32] اپنے آپ کو پاک نہ ٹھہراؤ ۔ اور یہ نہی تادیبی ہے کیونکہ انسان کا اپنے منہ آپ میاں مٹھو بننا نہ تو عقلا ہی درست ہے اور نہ ہی شرعا ۔ یہی وجہ ہے کہ جب ایک دانش مند سے پوچھا گیا کہ وہ کونسی بات ہے جو باوجود حق ہونے کے زیب نہیں دیتی تو اس نے جواب دیا مدح الانسان نفسہ کہ خود ستائی کرنا ۔ ظلم وَالظُّلْمُ عند أهل اللّغة وكثير من العلماء : وضع الشیء في غير موضعه المختصّ به، إمّا بنقصان أو بزیادة، وإمّا بعدول عن وقته أو مکانه، قال بعض الحکماء : الظُّلْمُ ثلاثةٌ: الأوّل : ظُلْمٌ بين الإنسان وبین اللہ تعالی، وأعظمه : الکفر والشّرک والنّفاق، ولذلک قال :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] والثاني : ظُلْمٌ بينه وبین الناس، وإيّاه قصد بقوله : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ وبقوله : إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ [ الشوری/ 42] والثالث : ظُلْمٌ بينه وبین نفسه، وإيّاه قصد بقوله : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] ، ( ظ ل م ) ۔ الظلم اہل لغت اور اکثر علماء کے نزدیک ظلم کے معنی ہیں کسی چیز کو اس کے مخصوص مقام پر نہ رکھنا خواہ کمی زیادتی کرکے یا اسے اس کی صحیح وقت یا اصلی جگہ سے ہٹاکر بعض حکماء نے کہا ہے کہ ظلم تین قسم پر ہے (1) وہ ظلم جو انسان اللہ تعالیٰ کے ساتھ کرتا ہے اس کی سب سے بڑی قسم کفر وشرک اور نفاق ہے ۔ چناچہ فرمایا :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] شرک تو بڑا بھاری ظلم ہے ۔ (2) دوسری قسم کا ظلم وہ ہے جو انسان ایک دوسرے پر کرتا ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ اور برائی کا بدلہ تو اسی طرح کی برائی ہے مگر جو درگزر کرے اور معاملے کو درست کرلے تو اس کا بدلہ خدا کے ذمہ ہے اس میں شک نہیں کہ وہ ظلم کرنیوالوں کو پسند نہیں کرتا ۔ میں ظالمین سے اسی قسم کے لوگ مراد ہیں ۔ ۔ (3) تیسری قسم کا ظلم وہ ہے جو ایک انسان خود اپنے نفس پر کرتا ہے ۔ چناچہ اسی معنی میں فرمایا : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] تو کچھ ان میں سے اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں فتل فَتَلْتُ الحبل فَتْلًا، والْفَتِيلُ : الْمَفْتُولُ ، وسمّي ما يكون في شقّ النّواة فتیلا لکونه علی هيئته . قال تعالی: وَلا يُظْلَمُونَ فَتِيلًا [ النساء/ 49] ، وهو ما تَفْتِلُهُ بين أصابعک من خيط أو وسخ، ويضرب به المثل في الشیء الحقیر . وناقة فَتْلَاءُ الذّراعین : محكمة . ( ف ت ل ) فتلت الحبل تفلا کے معنی رسی کو بل دینے کے ہیں اور بٹی ہوئی رسی کو مفتول کہا جاتا ہے ۔ اور کھجور کی گٹھلی کے شگاف میں جو بار یک سا ڈور اہوتا ہے اسے بھی فتیل کہا جاتا ہے کیونکہ وہ رسی کی شکل و صورت پر ہوتا ہے ( عربی زبان میں یہ حقیر شے کے لئے ضرب المثل ہے ) جیسے فرمایا : ۔ وَلا يُظْلَمُونَ فَتِيلًا [ النساء/ 49] اور ان پر ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کیا جائے گا ۔ فتیل اصل میں اس تاگے یا میل کو کہتے ہیں جو وہ انگلیوں میں پکڑ کر پٹی جاتی ہے اور یہ حقیر چیز کے لئے ضرب المثل ہے ۔ ناقۃ فتلاء الذراعین مضبوط بازؤں والی اونٹنی

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

قول باری ہے (الم تر الی الذین یزکون انفسھم، کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھاجوبہت اپنی پاکیزگی نفس کا دم بھرتے ہیں) حسن ، قتادہ، اور ضحاک کا قول ہے کہ اس سے مراد یہود ونصاری کا وہ قول ہے جس کے الفاظ یہ ہیں ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں۔ نیز یہ کہ جنت میں صرف وہی لوگ جائیں گے جو یہود ی انصاری ہوں گے، حضرت عبداللہ بن مسعود سے مروی ہے کہ ا س سے مراد لوگوں کا ایک دوسرے کی پاکیزگی متنفس کا ظہار ہے تاکہ اس کے ذریعے کوئی دنیاوی مفاد حاصل ہوجائے۔ ابوبکرجصاص کہتے ہیں یہ چیز اس پر دلالت کرتی ہے کہ اس نقطہ نظر سے پاکیزگی نفس کا دم بھرنا ممنوع ہے اللہ تعالیٰ کا بھی ارشاد ہے ، (فلاتزکوا انفسکم) تم اپنی پاکیزگی نفس کا دم نہ بھرو) حضور سے بھی مروی ہے آپ نے فرمایا، (اذارائیتم المداحین فاحثوا فی وجوھھم التراب، جب تم تعریفیں کرنے والوں کو دیکھو تو ان کے منہ پر مٹی دے مارو) ۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٤٩۔ ٥٠) یعنی بحیر ابن عمرو اور مرحب بن زید اپنے آپ کو مقدس بتاتے ہیں حالانکہ جو شخص اس کا اہل ہوگا اللہ تعالیٰ اس کو گناہوں سے پاک کردے گا، اور کھجور کی گٹھلی میں جو لیکر ہے یا انگلی کے درمیان جو میل کی دھاری سے پڑجاتی ہے، اس کے برابر بھی ان کے گناہوں میں کمی نہیں کی جائے گی۔ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ذرا ان کا جھوٹ تو دیکھیے کہ کہتے ہیں کہ ہم دن میں جو گناہ کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ رات کو ان کی مغفرت فرما دیتے ہیں اور جو رات کو کرتے ہیں تو دن میں ان کو معاف کردیتا ہے ان کا اللہ پر یہ غلط گمان ان کے مجرم ہونے کے لیے کافی ہے۔ شان نزول : (آیت) ” الم تر الی الذین یزکون “۔ (الخ) ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس (رض) سے روایت یا کہ کچھ یہود اپنے بچوں کو لائے کہ وہ ان کی طرف سے نمازیں پڑھیں اور قربانی دیں اور یہ سمجھتے تھے کہ ان پر چھوٹے اور بڑے گناہ میں سے کوئی گناہ نہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ ان لوگوں کو بھی دیکھو جو اپنے مقدس سمجھتے ہیں اور پھر یہ خلاف دین کام بھی کرتے ہیں۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح )

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٤٩ (اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ یُزَکُّوْنَ اَنْفُسَہُمْ ط) یہاں یہود کے اسی فلسفے کی طرف اشارہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو بہت پاک باز اور اعلیٰ وارفع سمجھتے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ We are the chosen people of the Lord “۔ سورة المائدۃ میں ان کا یہ قول نقل ہوا ہے : (نَحْنُ اَبْنآؤُا اللّٰہِ وَاَحِبَّاؤُہٗ ) (آیت ١٨) یعنی ہم تو اللہ کے بیٹوں کی طرح ہیں بلکہ اس کے بہت ہی چہیتے اور لاڈلے ہیں۔ ان کے نزدیک دوسرے تمام لوگ Goyems اور Gentiles ہیں ‘ جو دیکھنے میں انسان نظر آتے ہیں ‘ حقیقت میں حیوان ہیں۔ ان کو تو جس طرح چاہو لوٹ کر کھا جاؤ ‘ جس طرح سے چاہو ان کو دھوکہ دو ‘ ان کا استحاصل کرو ‘ ہم پر کوئی گرفت نہیں ہے۔ سورة آل عمران میں ہم ان کا قول پڑھ چکے ہیں : (لَیْسَ عَلَیْنَا فِی الْاُمِّیّٖنَ سَبِیْلٌ ج) (آیت ٧٥) انّ اُمیوں کے معاملے میں ہم پر کوئی گرفت نہیں ہے “۔ ہم سے ان کے بارے میں کوئی محاسبہ اور کوئی مؤاخذہ نہیں ہوگا۔ جیسے آپ نے گھوڑے کو ٹانگے میں جوت لیا یا ہرن کا شکار کر کے کھالیا تو آپ سے اس پر کون مؤاخذہ کرے گا ؟ (بَلِ اللّٰہُ یُزَکِّیْ مَنْ یَّشَآءُ ) (وَلاَ یُظْلَمُوْنَ فَتِیْلاً ) ان کو اگر پاکیزگی نہیں ملتی تو اس کا سبب ان کے اپنے کرتوت ہیں ‘ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تو ان پر ذرا بھی ظلم نہیں کیا جاتا۔ فَتِیل دراصل اس دھاگے کو کہتے ہیں جو کھجور کے اندر گٹھلی کے ساتھ لگا ہوا ہوتا ہے۔ نزول قرآن کے زمانے میں جو چھوٹی سے چھوٹی چیزیں لوگوں کے مشاہدے میں آتی تھیں ظاہر ہے کہ وہیں سے کسی چیز کے چھوٹا ہونے کے لیے مثال پیش کی جاسکتی تھی۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

36: یعنی پاکیزگی اور تقدس اللہ تعالیٰ انہی کو عطا فرماتا ہے جو اپنے اختیاری عمل سے ایسا چاہتے ہیں، جن کو پاکیزگی اور تقدس نہیں ملتا وہ ایسے لوگ ہوتے ہیں جو اپنے اختیاری اعمال کے ذریعے خود نا اہل بن جاتے ہیں، لہذا اگر اللہ انہیں تقدس عطا نہیں فرماتا تو اس میں ان پر کوئی ظلم نہیں ہے ؛ کیونکہ انہوں نے خود اپنے اختیار سے اپنے آپ کو نا اہل بنادیا ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

(49 ۔ 50) ۔ ابن ابی حاتم وغیرہ نے اللہ حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) سے روایت کی ہے کہ یہود ایک دفعہ کچھ اپنے چھوٹے بچوں کو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لائے اور پوچھا کیا لڑکے گنہگار ہیں۔ آپ نے فرمایا نہیں پھر یہود نے کہا ہم بھی ان لڑکوں کی مانند ہیں۔ جو گناہ ہم دن کو کرتے تھے ہیں وہ تورات کو اور جو رات کرتے ہیں وہ دن کو معاف ہوجاتے ہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ١ اور فرمایا غیب کا علم اللہ کو ہے کہ مرنے کے بعد کس کا کیا انجام ہونے والا ہے۔ یہ لوگ جو زبردستی اپنے آپ کو بےگناہ بچوں کی طرح سے عذاب آخرت سے بری بتاتے ہیں یہ اللہ کی شان میں ان کا ایک صریح جھوٹ ہے عقبٰی میں ایک ذرہ بھر بھی ظلم نہ ہوگا۔ کہ نیکیوں کی جزا بدوں کو یا بدوں کی سزا نیکوں کو مل جائے۔ بلکہ وہاں تو جیسا کوئی کرے گا ویسا پائے گا اور گناہ تو درکنار ان لوگوں نے اللہ کی شان میں یہ ایک جھوٹ بات کہی ہے کہ باوجود طرح طرح کے گناہوں کے ان سے عقبیٰ میں مواخذہ نہ ہوگا۔ یہی ایک یسا بڑا گناہ ہے کہ وہ ان کی گرفت کے لئے کافی ہے فتیل اس پتلے سے چھلکے کو کہتے ہیں جو کھجور کی گٹھلی پر تاگے کی طرح باریک ہوتا ہے تزکیہ کے معنی اپنے نفس کی بڑائی کرنا۔ صحیح حدیثوں میں شیخی کے طور پر اپنے آپ کو جو آدمی اچھا کہنے لگتا ہے اس کی اور خوشامد کے طور پر دوسرے کی جو زبر دستی تعریف کرتا ہے اس کی ممانعت آئی ہے ٢۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 4 فتیل دراصل اس پتلے سے دھاگے کو کہتے ہیں جو کھجور کی کٹھلی کے کٹاو پر نظرآتا ہے۔ یہ محاورہ ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ ان پر ذرہ و معصوم سمجھتے اور اللہ تعالیٰ کے بیٹے اور محبوب ہونے کا دعویٰ کرتے۔ ان کی تردید فرمائی کہ کسی کو پاکباز انسان قرار دینا تو اللہ تعالیٰ کا کام ہے اپنی طرف آپ کرنا انسان کے لیے مہلک ہے حدیث میں ایاکم واتما دح فانہ الذحج کہ خود پسندی اور اپنی تعریف سے بچو یہ تو اپنے آپ کو ذبح کرنے دینے کے مترادف ہے۔ نیز حضرت عمر (رض) سے مروی ہے وہ اپنی ہی رائے کو پسند کرنا ہے۔ (ابن کثیر )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : یہودیوں کا زعم ہے کہ ہم انبیاء (علیہ السلام) کی اولاد ہونے کی بنا پر پوری دنیا سے ممتاز اور پاک لوگ ہیں اور عیسائی سمجھتے ہیں کہ عیسیٰ (علیہ السلام) سولی پر لٹک کر ہمارے گناہوں کا کفارہ بن چکے ہیں۔ یہاں یہود و نصاریٰ کے حوالے سے ہر آدمی کو سمجھایا گیا ہے کہ کوئی بزرگوں سے نسبت کی بنیاد یا کسی کو اپنے گناہوں کا کفارہ سمجھ کر اپنی پاک دامنی کا دعویٰ نہ کرے کیونکہ ہر آدمی اپنے اعمال کا ذمہ دار ہے۔ انبیاء کی اولاد ہونے یا کسی کے ساتھ عقیدت و محبت کی بنیاد پر آدمی پاک دامن نہیں ہوجاتا۔ جب تک وہ عقیدے کے اعتبار سے موحّد اور عمل کے لحاظ سے نبی آخرالزمان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پیروی کرنے والا نہ ہو۔ اس کے ساتھ ہی آدمی کا یہ عقیدہ بھی ہونا چاہیے کہ صرف ظاہری نیکی کی بنیاد پر انسان کا دل پاک نہیں ہوسکتا جب تک وہ نیکی کی روح کو حاصل کرنے کی کوشش نہ کرے۔ جس کا نام اخلاص اور تقو ٰی ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کی عنایت اور توفیق کے بغیر حاصل نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک پاک وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے گناہوں سے پاک کرکے جہنم سے محفوظ فرمادیاہو۔ اس کے باوجود لوگ یہ ذہن رکھتے ہیں کہ ہم بزرگوں سے نسبت اور ان کے طفیل جہنم سے بچ جائیں گے۔ یہودی تورات سے، عیسائی انجیل سے، بد عقیدہ مسلمان قرآن وسنت سے غلط استدلال کرتے ہیں۔ گویا کہ یہ بالواسطہ طور پر اللہ تعالیٰ پر کذب بیانی کرتے ہیں۔ یہ گناہ انہیں جہنم میں لے جانے کے لیے کافی ہے۔ رسول محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مصنوعی تقویٰ اور ایسے نام رکھنے سے منع فرمایا ہے جس سے خواہ مخواہ پاکدامنی کا اظہار ہوتا ہو۔ (عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ قَالَ سَمَّیْتُ ابْنَتِيْ بَرَّۃَ فَقَالَتْ لِيْ زَیْنَبُ بِنْتُ أَبِيْ سَلَمَۃَ (رض) إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نَھٰی عَنْ ھٰذَا الْإِسْمِ وَسُمِّیْتُ بَرَّۃَ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لَاتُزَکُّوْا أَنْفُسَکُمْ اَللّٰہُ أَعْلَمُ بِأَھْلِ الْبِرِّ مِنْکُمْ فَقَالُوْا بِمَ نُسَمِّیْھَا قَالَ سَمُّوْھَا زَیْنَبَ ) [ رواہ مسلم : کتاب الآداب ] ” محمد بن عمرو بن عطاء (رح) کہتے ہیں میں نے اپنی بیٹی کا نام برہ رکھا۔ مجھے زینب بنت ابوسلمہ (رض) نے کہا کہ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ نام رکھنے سے منع کیا ہے۔ میرا نام بھی برہ رکھا گیا تھا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اپنے آپ کو پاک نہ گردانو۔ اللہ جانتا ہے تم میں سے کون پاک ہے۔ انہوں نے پوچھاہم اس کا کیا نام رکھیں ؟ آپ نے فرمایا اس کا نام زینب رکھو۔ “ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی بَکْرَۃَ عَنْ أَبِیہِ (رض) قَالَ أَثْنَی رَجُلٌ عَلَی رَجُلٍ عِنْدَ النَّبِی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فَقَالَ وَیْلَکَ قَطَعْتَ عُنُقَ صَاحِبِکَ ، قَطَعْتَ عُنَقَ صَاحِبِکَ مِرَارًا ثُمَّ قَالَ مَنْ کَانَ مِنْکُمْ مَادِحًا أَخَاہُ لا مَحَالَۃَ فَلْیَقُلْ أَحْسِبُ فُلاَنًا، وَاللَّہُ حَسِیبُہُ ، وَلاَ أُزَکِّی عَلَی اللَّہِ أَحَدًا، أَحْسِبُہُ کَذَا وَکَذَا إِنْ کَانَ یَعْلَمُ ذَلِکَ مِنْہُ [ رواہ البخاری : کتاب الشھادات، باب إذازکی رجل کفاہ ] حضرت عبد الرحمن بن ابی بکرۃ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک آدمی نے آکر کسی کی تعریف کی۔ آپ نے فرمایا تو نے اپنے بھائی کی گردن کاٹ کر رکھ دی۔ آپ نے یہ کلمات تین دفعہ دہرا کر فرمایا اگر کوئی ضرور کسی کی تعریف کرنا چاہتا ہے تو یہ کہے کہ فلاں آدمی کے بارے میں میرا یہ خیال ہے اللہ تعالیٰ اس کی حقیقت خوب جانتا ہے اور وہ یہ الفاظ تبھی کہہ سکتا ہے جب حقیقتاً اس شخص کو ایسا پائے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں تم کسی کی گارنٹی نہیں دے سکتے۔ مسائل ١۔ آدمی کو اپنی پاکدامنی کا دعو ٰی نہیں کرنا چاہیے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ کی توفیق کے بغیر آدمی پاک اور نیک نہیں ہوسکتا۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولنے والے کو بس یہی گناہ کافی ہے۔ تفسیر بالقرآن اہل کتاب کی کذب بیانی : ١۔ آگ میں تھوڑی دیر رہنے کا دعو ٰی۔ (البقرۃ : ٨٠) ٢۔ جنت کے ٹھیکیدار بننا۔ (البقرۃ : ١١١) ٣۔ ” اللہ کے محبوب “ ہونے کا دعو ٰی۔ (المائدۃ : ١٨) ٤۔ من گھڑت باتیں اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرنا۔ (آل عمران : ٧٨) ٥۔ اپنے لیے جنت مخصوص سمجھنا۔ (البقرۃ : ١١١) ٦۔ ہدایت کو اپنے تک محدود کرنا۔ (البقرۃ : ١٣٥) ٧۔ نبوت کو تسلیم کرنے کے لیے قربانی کی شرط لگانا۔ (آل عمران : ١٨٤) ٨۔ اللہ تعالیٰ کی گستاخی کرنا۔ (المائدۃ : ٦٤) ٩۔ بشر کی نبوت کا انکار کرنا۔ (الانعام : ٩١)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

(آیت) ” نمبر ٤٩ تا ٥٠۔ یہودیوں کا یہ قدیمی دعوی ہے کہ وہ اللہ کے مختار اور برگزیدہ لوگ ہیں ۔ ایک وقت تھا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس امانت کے اٹھانے اور فرائض رسالت اور دعوت کے لئے چنا تھا اور اللہ تعالیٰ نے ان کی خاطر فرعون اور ان کے ساتھیوں کو ہلاک کیا تھا ۔ بنی اسرائیل کو ارض مقدس کا وارث بنایا تھا ‘ لیکن اس کے بعد آنے والے ادوار میں انہوں نے سرے سے اسلامی نظام ہی کو ترک کردیا ۔ اور انہوں نے اس کرہ ارض پر عظیم نافرمانیوں اور کبیرہ گناہوں کا ارتکاب شروع کردیا ۔ ان گناہوں سے زمین بھی کانپنے لگی ۔ ان کے لئے ان کے احبار ‘ علماء نے ان چیزوں کو حلال کردیا جسے اللہ نے حرام کیا تھا ‘ اور ان پر ان چیزوں کو حرام کردیا جو اللہ تعالیٰ نے حلال قرار دیا تھیں ۔ انہوں نے ان غلط کاموں میں ان احبار کی پیروی شروع کردی تھی اور ان احبار نے اس طرح جو خدائی کا دعوی کیا تھا ‘ اس کا انہوں نے انکار نہ کیا حالانکہ حلال و حرام کا تعین تو اللہ کا کام تھا ۔ ان احبار نے اللہ کی شریعت میں تبدیلیاں کردیں تاکہ بادشاہوں اور شرفاء کو خوش کریں اور جمہور عوام کے رجحانات اور میلانات کی پیروی وچاپلوسی کریں ۔ یہی وجہ تھی کہ انہوں نے گویا ان کو اپنا رب بنا لیا تھا ۔ پھر انہوں نے سود کھانا شروع کردیا ۔ ان کا تعلق اپنے دین اور اپنے رب کے ساتھ کمزور ہوگیا ‘ ان جرائم اور ان کے ساتھ بیشمار دوسرے جرائم کے باوجود وہ بدستور اس زعم میں مبتلا ہیں کہ وہ اللہ کی برگزیدہ قوم ہیں ‘ اور یہ کہ ان کو آگ فقط چند دن تک چھوئے گی اور یہ کہ اللہ کے نزدیک صرف یہودی ہی نجات کے مستحق ہیں ۔ گویا دین صرف رشتہ داری تک محدود ہوگیا ہے یا دین میں بھی ذاتی تعلقات اور دوستیاں کام کرتی ہیں جن سے اللہ تعالیٰ بہت ہی بلند ہے ۔ اس لئے کہ اللہ کو اپنے بندوں میں سے کسی کے ساتھ نہ قرابت داری ہے اور نہ نسبت ہے۔ اللہ کے بندوں کا تعلق صرف درست عقائد کی وجہ سے قائم رہ سکتا ہے ۔ عمل صالح کے ساتھ قائم رہ سکتا ہے اور اسلامی نظام حیات پر ثابت قدمی سے رہ سکتا ہے ۔ جس شخص نے اس تعلق میں خلل ڈالا ‘ اس پر اللہ کا غضب نازل ہوا ۔ اور اللہ کا غضب اس وقت بہت ہی جوش میں آتا ہے جب اللہ ایک گمراہ قوم کو ہدایت بخشے مگر وہ قوم ہدایت کے مقابلے میں انحراف کی راہ اختیار کرلے ۔ ان یہودیوں کے حالات آج کے نام نہاد مسلمانوں سے مختلف نہیں ہیں ۔ ‘ جو یہ سمجھتے ہیں کہ وہ امت محمدیہ میں سے ہیں اور یہ کہ اللہ تعالیٰ لازما ان کی مدد کرے گا اور یہودیوں کو ان کی سرزمین سے نکالے گا ‘ جبکہ وہ مکمل طور پر اسلام سے نکل گئے ہیں ‘ حالانکہ اسلام ان کا دین اور نظام زندگی ہے ۔ لیکن انہوں نے اسے اپنی زندگیوں سے نکال دیا ہے اور وہ اللہ کی کتاب کے مطابق کوئی فیصلہ نہیں کرتے ۔ نہ اپنے مقدمات میں نہ اپنے اقتصادی مسائل میں ۔ نہ اپنے اجتماعی معاملات میں اور نہ اپنے آداب و عادات میں ۔ ان کا اسلام صرف مسلمانوں جیسے نام رکھنے تک محدود رہ گیا ہے ۔ اور یہ کہ وہ مسلمانوں کے ملک میں پیدا ہوئے ہیں جس میں وہ کبھی زندہ رہ رہے تھے اور کبھی انہوں نے اس میں دین اسلام قائم کیا تھا اور اسلامی نظام کے مطابق تمام فیصلے کیا کرتے تھے ۔ اللہ تعالیٰ رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے تعجب کا اظہار فرما رہے ہیں کہ یہ یہودی بھی عجیب ہیں کہ وہ اپنے آپ کو بہت ہی پاک قوم سمجھتے ہیں ۔ لیکن آج کے مسلمانوں کا معاملہ تو اس تعجب انگیز صورت حالات سے بھی زیادہ تعجب انگیز ہے کیوں کہ ان کی اخلاقی حالت اس زمانے کے یہودیوں سے بھی زیادہ پست ہوچکی ہے ۔ یہ لوگوں کا کام نہیں ہے کہ وہ میاں مٹھو بن کر اپنی پاک دامنی کا ڈھنڈورا پیٹیں اور یہ شہادت کود اپنے حق میں دیں کہ وہ نیک ہیں ‘ اللہ کے قریبی ہیں اور شعب مختار ہیں ۔ بلکہ یہ اللہ کا کام ہے کہ وہ فیصلہ دے کہ اللہ کے نزدیک پاک اور برگزیدہ کون ہے ۔ اس لئے کہ وہ دلوں اور عملوں کو خوب جانتا ہے اور لوگوں پر ذرہ برابر ظلم نہیں کرتا ۔ اگر وہ اللہ کی طرف صحیح معنوں میں متوجہ ہوجائیں نیک عمل کریں اور یہ تیر تکے چلانا چھوڑ دیں ۔ اگر وہ ادعاء چھوڑ دیں اور عمل کرتے ہیں نہایت ہی ادب اور حیاء کے ساتھ اور بغیر پاکی دامن کے پروپیگنڈے کے اور بغیر فخر و غرور کے تو اللہ کے ہاں ان کے کسی عمل کا غبن نہ ہوگا ‘ کوئی عمل بھول چوک کی وجہ سے حساب سے ساقط نہ ہوگا اور نہ ان کا کوئی حق مارا جائے گا ۔ اللہ تعالیٰ خود یہودیوں کے خلاف شہادت دیتے ہیں کہ وہ جو دعوے کر رہے ہیں کہ وہ برگزیدہ لوگ ہیں اور ان سے اللہ بہرحال راضی ہے تو یہ لوگ اللہ پر بہت بڑا افتراء باندھ رہے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے اس دعوائے باطل کی مذمت کرتے ہوئے اس طرح اسے لوگوں کی نظروں میں ساقط گردانتے ہیں ۔ (آیت) ” انظر کیف یفترون علی اللہ الکذب وکفی بہ اثما مبینا (٤ : ٥٠) ” دیکھو تو سہی ‘ یہ اللہ پر بھی جھوٹے افتراء گھڑنے سے نہیں چوکتے اور ان کے صریحا گناہ گار ہونے کے لئے یہی ایک گناہ کافی ہے ۔ ذرا سوچئے تو سہی ‘ ہم لوگ جو اسلام کا دعوی کرتے ہیں ‘ اس لئے کہ ہمارے نام مسلمانوں جیسے ہیں اور ہم ایسی سرزمینوں میں بستے ہیں جہاں کبھی مسلمان بسا کرتے تھے تو یہ کتنا بڑا جھوٹ ہے ۔ ہم لوگ اسلام کو اپنی زندگی کے کسی بھی شعبے میں نافذ نہیں کرتے لیکن اسلام کا دعوی کرتے ہیں ۔ اپنی سیرت اور صورت میں ہم اسلام کی شکل کو مسخ کررہے ہیں اور اپنی عملی زندگی سے اسلام کے خلاف شہادت دے رہے ہیں اور پھر بھی ہم دعوی کرتے ہیں کہ ہم برگزیدہ لوگ ہیں اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے امتی ہیں اگرچہ ہم نے اپنی عملی زندگی سے اسلام کو مکمل طور پر بےدخل کردیا ہے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہماری صورت حال بھی اس صورت حالات سے مختلف نہیں ہے جس کی طرف اللہ تعالیٰ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تعجب کے ساتھ متوجہ فرماتے ہیں اور ایسے دعوے کرنے والوں کے بارے میں فرماتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ پر افتراء باندھتے ہیں اور ایک عظیم گناہ کا ارتکاب کر رہے ہیں نعوذ باللہ ۔ یاد رکھئے کہ اللہ کا دین ایک نظام حیات ہے ۔ اور اللہ کی اطاعت کے معنی یہ ہیں کہ پوری زندگی میں اس نظام کی حکمرانی قائم کی جائے ۔ اللہ کا قرب اس وقت نصیب ہوگا جب اللہ کی اطاعت کی جائے ۔ ذرا غور کیجئے کہ ہم اللہ ‘ اس کے دین اور اس کے نظام زندگی سے کس قدر دور ہیں ۔ پھر یہ بھی غور کیجئے کہ ہمارا اور یہودیوں کا حال بالکل ایک جیسا ہے جن کے حال پر اللہ اور رسول تعجب کرتے ہیں ۔ ان کے بےبنیاد دعوے کو اللہ پر افتراء سے تعبیر کیا گیا ہے ۔ اس لئے یہودیوں کے خلاف ضابطہ ہمارے خلاف ضابطہ ہوگا ۔ ان کا حال اور ہمارا حال ایک جیسا ہوگا ۔ اور یاد رکھئے کہ اللہ کی کسی کے ساتھ کوئی رشتہ داری نہیں ہے اور نہ کسی کے ساتھ دوستی ہے ۔ سلسلہ کلام بدستور انہی لوگوں کے بارے میں جاری ہے جو لوگ اپنے آپ کو برگزیدہ سمجھتے ہیں حالانکہ وہ حق کے مقابلے میں باطل پر ایمان لاتے ہیں ۔ ایسے احکام کو تسلیم کرتے ہیں جو از روئے شریعت مستند نہیں ہیں اور ان احکام کے لئے کوئی ایسا ضابطہ نہیں ہے جو ان کو ظلم اور زیادتی سے باز رکھ سکے ۔ یہ ہے ایمان بالجبت والطاغوت جبکہ وہ شرک اور مشرکین کے حق میں یہ گواہی بھی دے رہے ہیں کہ یہ لوگ مسلمانوں سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں حالانکہ اہل ایمان اللہ کی کتاب اللہ کی شریعت اور اس کے نظام حیات پر یقین رکھتے ہیں ۔ ان کے حال پر اس تعجب خیزی اور ان کی ذلالتوں کے ذکر کے بعد اللہ تعالیٰ ان لوگوں پر شدید تنقید فرماتے ہیں اور ان کو ذلیل و خوار دیتے ہیں ۔ ان کے مزاج کے خفیہ گوشے کھولتے ہیں کہ وہ سخت حاسد اور بخیل ہیں ۔ ان کے طرف سے دین ابراہیمی سے منحرف ہو کر موجودہ موقف اپنانے کے اسباب بتائے جاتے ہیں ‘ حالانکہ وہ دین ابراہیمی پر بےحد فخر کرتے تھے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر اپنے شجرہ نسب ختم ہونے پر بھی وہ نہایت ہی فخر کرتے تھے ۔ یہ تنقید اسی حتمی فیصلے پر اختتام پذیر ہوتی ہے کہ ان کے لئے جہنم کی دہکتی ہوئی آگ کافی ہے ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

یہودیوں کی مذمت جو اپنے کو پاکیزہ بتاتے تھے گزشتہ آیت میں یہودیوں کی بعض بد حرکتوں کا ذکر تھا اس میں بھی ان کے ایک فعل بد کا ذکر ہے۔ صاحب روح المعانی بحوالہ ابن جریر حضرت حسن سے نقل فرماتے ہیں کہ یہ آیت یہود و نصاریٰ دونوں فریق کے بارے میں نازل ہوئی۔ کیونکہ ان لوگوں نے یہ کہا تھا کہ (نَحْنُ اَبْنَآء اللّٰہِ وَ اَحِبَّاءُ ہٗ ) (کہ ہم اللہ کے بیٹے ہیں اور اس کے محبوب بندے ہیں) اور انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ (لَنْ یَّدْخُلَ الْجَنَّۃَ الاَّ مَنْ کَانَ ھُوْداً اَوْ نَصَاریٰ ) (ہرگز جنت میں داخل نہ ہوگا مگر جو یہودی ہو یا نصرانی ہو) اس طرح انہوں نے اپنے نفسوں کا تزکیہ کیا یعنی اپنے کو نیک اور صالح اور مستحق جنت بتایا اور اللہ کا محبوب ہونے کا دعویٰ کیا، باوجود کفر میں مبتلا ہونے کے اپنے نفسوں کی تعریف کی اور اپنے کو اچھا بتایا، اور اپنے بارے میں عقیدہ بھی اچھا رکھا۔ اللہ تعالیٰ شانہ نے فرمایا کہ اے مخاطب کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو اپنی جانوں کا تزکیہ کرتے ہیں یعنی اپنے کو پاک بتاتے ہیں، حالانکہ وہ پاک نہیں ہیں، خود اپنی تعریف کرنے سے انسان نہ پاک ہوتا ہے اور نہ مستحق نجات ہوتا ہے خود اپنا تزکیہ حماقت ہے بلکہ وبال ہے، اللہ تعالیٰ شانہ کو سب کے عقائد اور اعمال کی خبر ہے اور انجام کی بھی خبر ہے وہ جس کا تزکیہ فرما دے وہی پاک ہے جو لوگ کفر میں مبتلا ہوتے ہوئے اپنے کو پاکباز بتا رہے ہیں اللہ تعالیٰ شانہ ان کی بد کرداری کی سزا دے گا، اور ان کو جو عذاب دیا جائے گا وہ ان کے اعمال بد کے اعتبار سے مناسب اور موافق ہوگا ان پر ذرہ بھر بھی ظلم نہ کیا جائے گا، ایسا نہ ہوگا کہ جتنا جرم کیا ہے اس سے زیادہ سزا دی جائے۔ حقیر اور صغیر چیز کی مثال دینے کے لیے اہل عرب لفظ نقیر اور فتیل اور قطمیر استعمال کیا کرتے تھے۔ کھجور کی گٹھلی میں جو گڑھا ہے اسے نقیر اور اسے گڑھے میں جوتا گا ہوتا ہے اسے فتیل اور گٹھلی پر جو ہلکا سا چھلکا ہوتا ہے اسے قطمیر کہا جاتا ہے۔ یہ بتاتے ہوئے ان پر ذرا سا بھی ظلم نہ ہوگا، یہاں لفظ فتیل استعمال فرمایا ہے اسی سورت کے آئندہ رکوع میں اور چند رکوع کے بعد لفظ نَقِیْر آیا ہے اور سورة فاطر میں فرمایا مَا یَمْلِکُوْنَ مِنْ قِطْمِیْرِ (کہ وہ کھجور کی گٹھلی کے چھلکے کے برابر بھی مالک نہیں) پھر فرمایا مَا یَمْلِکُوْنَ مِنْ قِطْمِیْرٍ کہ دیکھ لو یہ لوگ اللہ پر کیسے جھوٹ باندھتے ہیں ان کا یہ کہنا کہ ہم اللہ کے مقبول بندے ہیں۔ اس کا معنی یہ ہے کہ العیاذ باللہ اللہ کے نزدیک کفر پسندیدہ چیز ہے۔ اور یہ اللہ تعالیٰ پر بڑی تہمت ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

38 یہ اہل کتاب کو زجر ہے جو اپنی صفائی اور پاکیزگی کے دعوے کرتے تھے۔ حضرت قتادہ اور حسن فرماتے ہیں یہ آیت ان یہود و نصاریٰ کے حق میں نازل ہوئی جو کہتے تھے نَحْنُ اَبْنَاءُ اللہِ وَ اَحِبَّاءہ یعنی ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے محبوب ہیں نیز کہتے تھے لَنْ یَّدْخُلَ الْجَنَّۃَ اِلَّا مَنْ کَانَ ھُوْداً اَوْ نصَاریٰ یعنی جنت میں یہود و نصاریٰ کے بغیر کوئی نہیں جائیگا (قرطبی ج 5 ص 246 و روح ج 5 ص 54) اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کے دعوے کا ابطال فرمایا کہ ان کے اپنی پاکیزگی اور طہارت کے یہ دعوے سب غلط ہیں۔ پاک و طاہر تو وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ اس کے ایمان وعمل کی بنا پر پاک فرمائے۔ اُنْظُرْ کَیْفَ یَفْتَرُوْنَ عَلیَ اللہِ الْکَذِبَ ۔ لیکن ان کے یہ دونوں دعوے اللہ پر صریح بہتان ہے کیونکہ ان دعو وں کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے ان کو اپنا محبوب منتخب کیا ہے اور ان سے وعدہ کیا ہے کہ جنت ان کے لیے مخصوص اور ریزرو ہے حالانکہ یہ سراسر غلط اور خلاف واقع ہے۔ وافترائھم علی اللہ ھو قولھم نحن ابناء اللہ و احباءہ و قولھم لن یدخل الجنۃ الا من کان ھودا او نصاری (کبیر ج 3 ص 345) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi