Surat Ha meem Assajdah

Surah: 41

Verse: 39

سورة حم السجدہ

وَ مِنۡ اٰیٰتِہٖۤ اَنَّکَ تَرَی الۡاَرۡضَ خَاشِعَۃً فَاِذَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلَیۡہَا الۡمَآءَ اہۡتَزَّتۡ وَ رَبَتۡ ؕ اِنَّ الَّذِیۡۤ اَحۡیَاہَا لَمُحۡیِ الۡمَوۡتٰی ؕ اِنَّہٗ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿۳۹﴾

And of His signs is that you see the earth stilled, but when We send down upon it rain, it quivers and grows. Indeed, He who has given it life is the Giver of Life to the dead. Indeed, He is over all things competent.

اس اللہ کی نشانیوں میں سے ( یہ بھی ) ہے کہ تو زمین کو دبی دبائی دیکھتا ہے پھر جب ہم اس پر مینہ برساتے ہیں تو وہ ترو تازہ ہو کر ابھرنے لگتی ہے جس نے اسے زندہ کیا وہ یقینی طور پر مردوں کو بھی زندہ کرنے والا ہے بیشک وہ ہر ( ہر ) چیز پر قادر ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَمِنْ ايَاتِهِ ... And among His signs, means, signs of His ability to bring the dead back to life. ... أَنَّكَ تَرَى الاَْرْضَ خَاشِعَةً ... that you see the earth barren, means, lifeless, with nothing growing in it; it is dead. ... فَإِذَا أَنزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَاء اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ ... but when We send down water (rain) to it, it is stirred to life and growth. means, it brings forth all kinds of crops and fruits. ... إِنَّ الَّذِي أَحْيَاهَا لَمُحْيِي الْمَوْتَى إِنَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ Verily, He Who gives it life, surely is able to give life to the dead. Indeed He is Able to do all things.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

39۔ 1 خَاشِعَۃً کا مطلب، خشک اور قحط زدہ یعنی مردہ۔ 39۔ 2 یعنی انوارع و اقسام کے خوش ذائقہ پھل اور غلے پیدا کرتی ہے۔ 39۔ 3 مردہ زمین کو بارش کے ذریعے سے اس طرح زندہ کردینا اور روئیدگی کے قابل بنادینا، اس بات کی دلیل ہے کہ وہ مردوں کو بھی یقینا زندہ کر دے گا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٤٨] زمین کی روئیدگی سے معاد پر دلیل :۔ اس قدر خشک ہوچکی تھی کہ اس کی اوپر کی سطح خشکی کی وجہ سے پتھر کی طرح بن چکی تھی۔ اوپر سے پانی برسا تو وہ پھولنے لگی۔ بارش کے پانی کی اس مٹی میں آمیزش سے اس میں روئیدگی کے آثار پیدا ہوگئے۔ اور وہ بیج جو کبھی کے زیر زمین پڑے ہوئے تھے۔ ان میں زندگی کے آثار پیدا ہوئے تو اس پھولی ہوئی زمین سے ان بیجوں کے پودوں کی کونپلیں زمین سے باہر نکل آئیں۔ حتیٰ کہ زمین نباتات سے لہلہا اٹھی اور اس پر جوبن آگیا پھر اس بارش سے کئی جانور مینڈک، پپی ہے اور حشرات الارض بھی پیدا ہوگئے۔ بالکل ایسی ہی صورت قیامت کے قریب واقع ہوگی آسمان سے ایک خاص قسم کی بارش برسے گی جس سے تمام مردوں میں زندگی کی لہر دوڑ جائے گی۔ پھر نفخہ صور ثانی کے وقت تمام مرے ہوئے انسان اپنی قبروں سے اس طرح نکل آئیں گے جیسے کونپل زمین سے نکل آتی ہے پھر وہ میدان محشر کی طرف چل کھڑے ہوں گے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

ومن ایتہ انک تری الارض خاشعۃ…: اس آیت کی تفسیر کے لئے دیکھیے سورة نحل (٦٥) اور سورة حج (٥ تا ٧) یہاں بنجر زمین کے لئے ” خاشعۃ “ (دبی ہوئی، عاجز) کا لفظ استعمال ہوا ہے، کیونکہ بات ایک اللہ کو سجدے کی ہو رہی ہے، یعنی خشوع کی ہو رہی ہے، جب کہ سورة حج میں اسی بنجر زمین کے لئے “ ھامدۃ “ (مردہ) کا لفظ استعمال ہوا ہے، کیونکہ وہاں مرنے کے بعد زندگی کی بات ہو رہی ہے۔ (طنطاوی)

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَمِنْ اٰيٰتِہٖٓ اَنَّكَ تَرَى الْاَرْضَ خَاشِعَۃً فَاِذَآ اَنْزَلْنَا عَلَيْہَا الْمَاۗءَ اہْتَزَّتْ وَرَبَتْ۝ ٠ ۭ اِنَّ الَّذِيْٓ اَحْيَاہَا لَمُحْىِ الْمَوْتٰى۝ ٠ ۭ اِنَّہٗ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ۝ ٣٩ الآية والآية : هي العلامة الظاهرة، وحقیقته لکل شيء ظاهر، وهو ملازم لشیء لا يظهر ظهوره، فمتی أدرک مدرک الظاهر منهما علم أنه أدرک الآخر الذي لم يدركه بذاته، إذ کان حكمهما سواء، وذلک ظاهر في المحسوسات والمعقولات، فمن علم ملازمة العلم للطریق المنهج ثم وجد العلم علم أنه وجد الطریق، وکذا إذا علم شيئا مصنوعا علم أنّه لا بدّ له من صانع . الایۃ ۔ اسی کے معنی علامت ظاہر ہ یعنی واضح علامت کے ہیں دراصل آیۃ ، ، ہر اس ظاہر شے کو کہتے ہیں جو دوسری ایسی شے کو لازم ہو جو اس کی طرح ظاہر نہ ہو مگر جب کوئی شخص اس ظاہر شے کا ادراک کرے گو اس دوسری ( اصل ) شے کا بذاتہ اس نے ادراک نہ کیا ہو مگر یقین کرلیاجائے کہ اس نے اصل شے کا بھی ادراک کرلیا کیونکہ دونوں کا حکم ایک ہے اور لزوم کا یہ سلسلہ محسوسات اور معقولات دونوں میں پایا جاتا ہے چناچہ کسی شخص کو معلوم ہو کہ فلاں راستے پر فلاں قسم کے نشانات ہیں اور پھر وہ نشان بھی مل جائے تو اسے یقین ہوجائیگا کہ اس نے راستہ پالیا ہے ۔ اسی طرح کسی مصنوع کے علم سے لامحالہ اس کے صانع کا علم ہوجاتا ہے ۔ رأى والرُّؤْيَةُ : إدراک الْمَرْئِيُّ ، وذلک أضرب بحسب قوی النّفس : والأوّل : بالحاسّة وما يجري مجراها، نحو : لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] ، والثاني : بالوهم والتّخيّل، نحو : أَرَى أنّ زيدا منطلق، ونحو قوله : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] . والثالث : بالتّفكّر، نحو : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] . والرابع : بالعقل، وعلی ذلک قوله : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى[ النجم/ 11] ، ( ر ء ی ) رای الرؤیتہ کے معنی کسی مرئی چیز کا ادراک کرلینا کے ہیں اور قوائے نفس ( قوائے مدر کہ ) کہ اعتبار سے رؤیتہ کی چند قسمیں ہیں ۔ ( 1) حاسئہ بصریا کسی ایسی چیز سے ادراک کرنا جو حاسہ بصر کے ہم معنی ہے جیسے قرآن میں ہے : لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] تم ضروری دوزخ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لوگے پھر ( اگر دیکھو گے بھی تو غیر مشتبہ ) یقینی دیکھنا دیکھو گے ۔ ۔ (2) وہم و خیال سے کسی چیز کا ادراک کرنا جیسے ۔ اری ٰ ان زیدا منطلق ۔ میرا خیال ہے کہ زید جا رہا ہوگا ۔ قرآن میں ہے : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] اور کاش اس وقت کی کیفیت خیال میں لاؤ جب ۔۔۔ کافروں کی جانیں نکالتے ہیں ۔ (3) کسی چیز کے متعلق تفکر اور اندیشہ محسوس کرنا جیسے فرمایا : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] میں دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے ۔ (4) عقل وبصیرت سے کسی چیز کا ادارک کرنا جیسے فرمایا : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى[ النجم/ 11] پیغمبر نے جو دیکھا تھا اس کے دل نے اس میں کوئی جھوٹ نہیں ملایا ۔ أرض الأرض : الجرم المقابل للسماء، وجمعه أرضون، ولا تجیء مجموعةً في القرآن «4» ، ويعبّر بها عن أسفل الشیء، كما يعبر بالسماء عن أعلاه . ( ا رض ) الارض ( زمین ) سماء ( آسمان ) کے بالمقابل ایک جرم کا نام ہے اس کی جمع ارضون ہے ۔ جس کا صیغہ قرآن میں نہیں ہے کبھی ارض کا لفظ بول کر کسی چیز کا نیچے کا حصہ مراد لے لیتے ہیں جس طرح سماء کا لفظ اعلی حصہ پر بولا جاتا ہے ۔ خشع الخُشُوع : الضّراعة، وأكثر ما يستعمل الخشوع فيما يوجد علی الجوارح . والضّراعة أكثر ما تستعمل فيما يوجد في القلب ولذلک قيل فيما روي : روي : «إذا ضرع القلب خَشِعَتِ الجوارح» «2» . قال تعالی: وَيَزِيدُهُمْ خُشُوعاً [ الإسراء/ 109] ، وقال : الَّذِينَ هُمْ فِي صَلاتِهِمْ خاشِعُونَ [ المؤمنون/ 2] ، وَكانُوا لَنا خاشِعِينَ [ الأنبیاء/ 90] ، وَخَشَعَتِ الْأَصْواتُ [ طه/ 108] ، خاشِعَةً أَبْصارُهُمْ [ القلم/ 43] ، أَبْصارُها خاشِعَةٌ [ النازعات/ 9] ، كناية عنها وتنبيها علی تزعزعها کقوله : إِذا رُجَّتِ الْأَرْضُ رَجًّا [ الواقعة/ 4] ، وإِذا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ زِلْزالَها [ الزلزلة/ 1] ، يَوْمَ تَمُورُ السَّماءُ مَوْراً وَتَسِيرُ الْجِبالُ سَيْراً [ الطور/ 9- 10] . ( خ ش ع ) الخشوع ۔ ( ان ) کے معنی ضواعۃ یعنی عاجزی کرنے اور جھک جانے کے ہیں ۔ مگر زیادہ تر خشوع کا لفظ جوارح اور ضراعت کا لفظ قلب کی عاجزی پر بولا جاتا ہے ۔ اسی لئے ایک روایت میں ہے :۔ (112) اذا ضرعت القلب خشعت الجوارح جب دل میں فروتنی ہو تو اسی کا اثر جوارح پر ظاہر ہوجاتا ہے قرآن میں ہے : وَيَزِيدُهُمْ خُشُوعاً [ الإسراء/ 109] اور اس سے ان کو اور زیادہ عاجزی پید اہوتی ہے ۔ الَّذِينَ هُمْ فِي صَلاتِهِمْ خاشِعُونَ [ المؤمنون/ 2] جو نماز میں عجز و نیاز کرتے ہیں ۔ وَكانُوا لَنا خاشِعِينَ [ الأنبیاء/ 90] اور ہمارے آگے عاجزی کیا کرتے تھے ۔ وَخَشَعَتِ الْأَصْواتُ [ طه/ 108] آوازیں پست ہوجائیں گے ۔ ان کی آنکھیں جھکی ہوئی ہوں گی ۔ أَبْصارُها خاشِعَةٌ [ النازعات/ 9] یہ ان کی نظروں کے مضطرب ہونے سے کنایہ ہے ۔ جیسا کہ زمین وآسمان کے متعلق بطور کنایہ کے فرمایا ۔ إِذا رُجَّتِ الْأَرْضُ رَجًّا [ الواقعة/ 4] جب زمین بھونچال سے لرزنے لگے ۔ وإِذا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ زِلْزالَها [ الزلزلة/ 1] جب زمین بھونچال سے ہلا دی جائے گی ۔ يَوْمَ تَمُورُ السَّماءُ مَوْراً وَتَسِيرُ الْجِبالُ سَيْراً [ الطور/ 9- 10] جس دن آسمان لرزنے لگے کپکپا کر۔ اور پہاڑ اڑانے لگیں ( اون ہوکر ) إذا إذا يعبّر به عن کلّ زمان مستقبل، وقد يضمّن معنی الشرط فيجزم به، وذلک في الشعر أكثر، و «إذ» يعبر به عن الزمان الماضي، ولا يجازی به إلا إذا ضمّ إليه «ما» نحو : 11-إذ ما أتيت علی الرّسول فقل له ( اذ ا ) اذ ا ۔ ( ظرف زماں ) زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے کبھی جب اس میں شرطیت کا مفہوم پایا جاتا ہے تو فعل مضارع کو جزم دیتا ہے اور یہ عام طور پر نظم میں آتا ہے اور اذ ( ظرف ) ماضی کیلئے آتا ہے اور جب ما کے ساتھ مرکب ہو ( اذما) تو معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے جیسا کہ شاعر نے کہا ع (11) اذمااتیت علی الرسول فقل لہ جب تو رسول اللہ کے پاس جائے تو ان سے کہنا ۔ نزل النُّزُولُ في الأصل هو انحِطَاطٌ من عُلْوّ. يقال : نَزَلَ عن دابَّته، والفَرْقُ بَيْنَ الإِنْزَالِ والتَّنْزِيلِ في وَصْفِ القُرآنِ والملائكةِ أنّ التَّنْزِيل يختصّ بالموضع الذي يُشِيرُ إليه إنزالُهُ مفرَّقاً ، ومرَّةً بعد أُخْرَى، والإنزالُ عَامٌّ ، فممَّا ذُكِرَ فيه التَّنزیلُ قولُه : نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] وقرئ : نزل وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106] ( ن ز ل ) النزول ( ض ) اصل میں اس کے معنی بلند جگہ سے نیچے اترنا کے ہیں چناچہ محاورہ ہے : ۔ نزل عن دابۃ وہ سواری سے اتر پڑا ۔ نزل فی مکان کذا کسی جگہ پر ٹھہر نا انزل وافعال ) اتارنا قرآن میں ہے ۔ عذاب کے متعلق انزال کا لفظ استعمال ہوا ہے قرآن اور فرشتوں کے نازل کرنے کے متعلق انزال اور تنزیل دونوں لفظ استعمال ہوئے ہیں ان دونوں میں معنوی فرق یہ ہے کہ تنزیل کے معنی ایک چیز کو مرۃ بعد اخریٰ اور متفرق طور نازل کرنے کے ہوتے ہیں ۔ اور انزال کا لفظ عام ہے جو ایک ہی دفعہ مکمل طور کیس چیز نازل کرنے پر بھی بولا جاتا ہے چناچہ وہ آیات ملا حضہ ہو جہاں تنزیل لا لفظ استعمال ہوا ہے ۔ نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] اس کو امانت دار فر شتہ لے کر اترا ۔ ایک قرات میں نزل ہے ۔ وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106] اور ہم نے اس کو آہستہ آہستہ اتارا ماء قال تعالی: وَجَعَلْنا مِنَ الْماءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍ [ الأنبیاء/ 30] ، وقال : وَأَنْزَلْنا مِنَ السَّماءِ ماءً طَهُوراً [ الفرقان/ 48] ، ويقال مَاهُ بني فلان، وأصل ماء مَوَهٌ ، بدلالة قولهم في جمعه : أَمْوَاهٌ ، ومِيَاهٌ. في تصغیره مُوَيْهٌ ، فحذف الهاء وقلب الواو، ( م ی ہ ) الماء کے معنی پانی کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَجَعَلْنا مِنَ الْماءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍ [ الأنبیاء/ 30] اور تمام جاندار چیزیں ہم نے پانی سے بنائیں ۔ وَأَنْزَلْنا مِنَ السَّماءِ ماءً طَهُوراً [ الفرقان/ 48] پاک ( اور نتھرا ہوا پانی اور محاورہ ہے : ۔ ماء بنی فلان فلاں قبیلے کا پانی یعنی ان کی آبادی ماء اصل میں موہ ہے کیونکہ اس کی جمع امراۃ اور میاہ آتی ہے ۔ اور تصغیر مویۃ پھر ہا کو حزف کر کے واؤ کو الف سے تبدیل کرلیا گیا ہے هزز الْهَزُّ : التّحريك الشّديد، يقال : هَزَزْتُ الرّمح فَاهْتَزَّ وهَزَزْتُ فلانا للعطاء . قال تعالی: وَهُزِّي إِلَيْكِ بِجِذْعِ النَّخْلَةِ [ مریم/ 25] ، فَلَمَّا رَآها تَهْتَزُّ [ النمل/ 10] ، واهْتَزَّ النّبات : إذا تحرّك لنضارته، قال تعالی: فَإِذا أَنْزَلْنا عَلَيْهَا الْماءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ [ الحج/ 5] واهْتَزَّ الكوكب في انقضاضه، وسیف هَزْهَازٌ ، وماء هُزَهِزٌ ورجل هُزَهِزٌ: خفیف . ( ھ ز ز ) الھز کے معنی کسی چیز کو زور سے ملانے کے ہیں جیسے ھززت الرمح میں نے نیزہ زور سے ہلا یا اھتز افتعال اس کا مط اور ہے اسی طرح ھززت فلانا للعطآء کے معنی ہیں میں نے فلاں کو بخشش کے لئے حرکت دی یعنی وہ خوشی سے جھومنے لگا قرآن میں ہے : ۔ وَهُزِّي إِلَيْكِ بِجِذْعِ النَّخْلَةِ [ مریم/ 25] اور کھجور کے تنے کو پکڑا کر اپنی طرف ہلاؤ ۔ فَلَمَّا رَآها تَهْتَزُّ [ النمل/ 10] جب اسے دیکھا تو اس طرح اہل رہی تھی گویا سانپ ہے اھتزت النبات نباتات ( سبزے کا لہلہا نا چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَإِذا أَنْزَلْنا عَلَيْهَا الْماءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ [ الحج/ 5] پھر جب ہم اس پر بارش بر ساتے ہیں تو وہ شاداب ہوجاتی ہے اور ابھر نے لگتی ہے ۔ اھتز الکواکب فی انقضا ضہ ستارے کا تیزی کے ساتھ ٹوٹنا اور سیف ھز ھا ز کے معنی لچکدار تلوار کے ہیں اور شفاف پانی کو ماء ھز ھز کہا جاتا ہے اسی طرح ھز ھز کے معنی سبک اور ہلکے پھلکے آدمی کے بھی آتے ہیں ۔ رَبَا : إذا زاد وعلا، قال تعالی: فَإِذا أَنْزَلْنا عَلَيْهَا الْماءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ [ الحج/ 5] ، أي : زادت زيادة المتربّي، فَاحْتَمَلَ السَّيْلُ زَبَداً رابِياً [ الرعد/ 17] ، فَأَخَذَهُمْ أَخْذَةً رابِيَةً [ الحاقة/ 10] ، وأربی عليه : أشرف عليه، ورَبَيْتُ الولد فَرَبَا من هذا، وقیل : أصله من المضاعف فقلب تخفیفا، نحو : تظنّيت في تظنّنت . اور اسی سے ربا ہے جس کے معنی بڑھنے اور بلند ہونے کے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَإِذا أَنْزَلْنا عَلَيْهَا الْماءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ [ الحج/ 5] پھر جب ہم اس پر پانی بر سادیتے ہیں تو وہ لہلانے اور ابھرنے لگتی ہے ۔ فَاحْتَمَلَ السَّيْلُ زَبَداً رابِياً [ الرعد/ 17] پھر نالے پر پھولا ہوا اجھاگ آگیا ۔ فَأَخَذَهُمْ أَخْذَةً رابِيَةً [ الحاقة/ 10] تو خدا نے بھی انہیں بڑا سخت پکڑا ۔ اربی علیہ کسی پر بلند ہونا یا کسی کی نگرانی کرنا ۔ ربیت الوالد فربا میں نے بچے کی تربیت کی چناچہ وہ بڑھ گیا ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ اصل میں ربیت ہے تخفیف کے لئے ایک باء حزف کردی گئی ہے ۔ جیسا کہ تظنیت کہ اصل میں تظننت ہے تحقیقا ایک نون کو یاء سے تبدیل کردیا ہے ۔ حيى الحیاة تستعمل علی أوجه : الأوّل : للقوّة النّامية الموجودة في النّبات والحیوان، ومنه قيل : نبات حَيٌّ ، قال عزّ وجلّ : اعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِها[ الحدید/ 17] ، الثانية : للقوّة الحسّاسة، وبه سمّي الحیوان حيوانا، قال عزّ وجلّ : وَما يَسْتَوِي الْأَحْياءُ وَلَا الْأَمْواتُ [ فاطر/ 22] ، الثالثة : للقوّة العاملة العاقلة، کقوله تعالی: أَوَمَنْ كانَ مَيْتاً فَأَحْيَيْناهُ [ الأنعام/ 122] والرابعة : عبارة عن ارتفاع الغمّ ، وعلی هذا قوله عزّ وجلّ : وَلا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْواتاً بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 169] ، أي : هم متلذّذون، لما روي في الأخبار الکثيرة في أرواح الشّهداء والخامسة : الحیاة الأخرويّة الأبديّة، وذلک يتوصّل إليه بالحیاة التي هي العقل والعلم، قال اللہ تعالی: اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذا دَعاكُمْ لِما يُحْيِيكُمْ [ الأنفال/ 24] والسادسة : الحیاة التي يوصف بها الباري، فإنه إذا قيل فيه تعالی: هو حيّ ، فمعناه : لا يصحّ عليه الموت، ولیس ذلک إلّا لله عزّ وجلّ. ( ح ی ی ) الحیاۃ ) زندگی ، جینا یہ اصل میں حیی ( س ) یحییٰ کا مصدر ہے ) کا استعمال مختلف وجوہ پر ہوتا ہے ۔ ( 1) قوت نامیہ جو حیوانات اور نباتات دونوں میں پائی جاتی ہے ۔ اسی معنی کے لحاظ سے نوبت کو حیہ یعنی زندہ کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ اعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِها[ الحدید/ 17] جان رکھو کہ خدا ہی زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ کرتا ہے ۔ ۔ ( 2 ) دوم حیاۃ کے معنی قوت احساس کے آتے ہیں اور اسی قوت کی بناء پر حیوان کو حیوان کہا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ وَما يَسْتَوِي الْأَحْياءُ وَلَا الْأَمْواتُ [ فاطر/ 22] اور زندے اور مردے برابر ہوسکتے ہیں ۔ ( 3 ) قوت عاملہ کا عطا کرنا مراد ہوتا ہے چنانچہ فرمایا : ۔ أَوَمَنْ كانَ مَيْتاً فَأَحْيَيْناهُ [ الأنعام/ 122] بھلا جو پہلے مردہ تھا پھر ہم نے اس کو زندہ کیا ۔ ( 4 ) غم کا دور ہونا مراد ہوتا ہے ۔ اس معنی میں شاعر نے کہا ہے ( خفیف ) جو شخص مرکر راحت کی نیند سوگیا وہ درحقیقت مردہ نہیں ہے حقیقتا مردے بنے ہوئے ہیں اور آیت کریمہ : ۔ وَلا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْواتاً بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 169] جو لوگ خدا کی راہ میں مارے گئے ان کو مرے ہوئے نہ سمجھنا وہ مرے ہوئے نہیں ہیں بلکہ خدا کے نزدیک زندہ ہیں ۔ میں شہداء کو اسی معنی میں احیاء یعنی زندے کہا ہے کیونکہ وہ لذت و راحت میں ہیں جیسا کہ ارواح شہداء کے متعلق بہت سی احادیث مروی ہیں ۔ ( 5 ) حیات سے آخرت کی دائمی زندگی مراد ہوتی ہے ۔ جو کہ علم کی زندگی کے ذریعے حاصل ہوسکتی ہے : قرآن میں ہے : ۔ اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذا دَعاكُمْ لِما يُحْيِيكُمْ [ الأنفال/ 24] خدا اور اس کے رسول کا حکم قبول کرو جب کہ رسول خدا تمہیں ایسے کام کے لئے بلاتے ہیں جو تم کو زندگی ( جادواں ) بخشتا ہے۔ ( 6 ) وہ حیات جس سے صرف ذات باری تعالیٰ متصف ہوتی ہے ۔ چناچہ جب اللہ تعالیٰ کی صفت میں حی کہا جاتا ہے تو اس سے مراد وہ ذات اقدس ہوئی ہے جس کے متعلق موت کا تصور بھی نہیں ہوسکتا ۔ پھر دنیا اور آخرت کے لحاظ بھی زندگی دو قسم پر ہے یعنی حیات دنیا اور حیات آخرت چناچہ فرمایا : ۔ فَأَمَّا مَنْ طَغى وَآثَرَ الْحَياةَ الدُّنْيا [ النازعات/ 38] تو جس نے سرکشی کی اور دنیا کی زندگی کو مقدم سمجھنا ۔ موت أنواع الموت بحسب أنواع الحیاة : فالأوّل : ما هو بإزاء القوَّة النامية الموجودة في الإنسان والحیوانات والنّبات . نحو قوله تعالی: يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِها[ الروم/ 19] ، وَأَحْيَيْنا بِهِ بَلْدَةً مَيْتاً [ ق/ 11] . الثاني : زوال القوّة الحاسَّة . قال : يا لَيْتَنِي مِتُّ قَبْلَ هذا [ مریم/ 23] ، أَإِذا ما مِتُّ لَسَوْفَ أُخْرَجُ حَيًّا [ مریم/ 66] . الثالث : زوال القوَّة العاقلة، وهي الجهالة . نحو : أَوَمَنْ كانَ مَيْتاً فَأَحْيَيْناهُ [ الأنعام/ 122] ، وإيّاه قصد بقوله : إِنَّكَ لا تُسْمِعُ الْمَوْتى[ النمل/ 80] . الرابع : الحزن المکدِّر للحیاة، وإيّاه قصد بقوله : وَيَأْتِيهِ الْمَوْتُ مِنْ كُلِّ مَكانٍ وَما هُوَ بِمَيِّتٍ [إبراهيم/ 17] . الخامس : المنامُ ، فقیل : النّوم مَوْتٌ خفیف، والموت نوم ثقیل، وعلی هذا النحو سمّاهما اللہ تعالیٰ توفِّيا . فقال : وَهُوَ الَّذِي يَتَوَفَّاكُمْ بِاللَّيْلِ [ الأنعام/ 60] ( م و ت ) الموت یہ حیات کی ضد ہے لہذا حیات کی طرح موت کی بھی کئی قسمیں ہیں ۔ اول قوت نامیہ ( جو کہ انسان حیوانات اور نباتات ( سب میں پائی جاتی ہے ) کے زوال کو موت کہتے ہیں جیسے فرمایا : ۔ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِها[ الروم/ 19] زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ کرتا ہے ۔ وَأَحْيَيْنا بِهِ بَلْدَةً مَيْتاً [ ق/ 11] اور اس پانی سے ہم نے شہر مردہ یعنی زمین افتادہ کو زندہ کیا ۔ دوم حس و شعور کے زائل ہوجانے کو موت کہتے ہیں ۔ چناچہ فرمایا ۔ يا لَيْتَنِي مِتُّ قَبْلَ هذا[ مریم/ 23] کاش میں اس سے پہلے مر چکتی ۔ أَإِذا ما مِتُّ لَسَوْفَ أُخْرَجُ حَيًّا [ مریم/ 66] کہ جب میں مرجاؤں گا تو کیا زندہ کر کے نکالا جاؤں گا ۔ سوم ۔ قوت عاقلہ کا زائل ہوجانا اور اسی کا نام جہالت ہے چناچہ فرمایا : ۔ أَوَمَنْ كانَ مَيْتاً فَأَحْيَيْناهُ [ الأنعام/ 122] بھلا جو پہلے مردہ تھا پھر ہم نے اس کو زندہ کیا ۔ اور آیت کریمہ : ۔ إِنَّكَ لا تُسْمِعُ الْمَوْتى[ النمل/ 80] کچھ شک نہیں کہ تم مردوں کو بات نہیں سنا سکتے ۔ چہارم ۔ غم جو زندگی کے چشمہ صافی کو مکدر کردیتا ہے چنانچہ آیت کریمہ : ۔ وَيَأْتِيهِ الْمَوْتُ مِنْ كُلِّ مَكانٍ وَما هُوَبِمَيِّتٍ [إبراهيم/ 17] اور ہر طرف سے اسے موت آرہی ہوگی ۔ مگر وہ مرنے میں نہیں آئے گا ۔ میں موت سے یہی معنی مراد ہیں ۔ پنجم ۔ موت بمعنی نیند ہوتا ہے اسی لئے کسی نے کہا ہے کہ النوم موت خفیف والموت نوم ثقیل کہ نیند کا نام ہے اسی بنا پر اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو توفی سے تعبیر فرمایا ۔ چناچہ ارشاد ہے : ۔ وَهُوَ الَّذِي يَتَوَفَّاكُمْ بِاللَّيْلِ [ الأنعام/ 60] اور وہی تو ہے جو ارت کو تمہاری روحیں قبض کرلیتا ہے شيء الشَّيْءُ قيل : هو الذي يصحّ أن يعلم ويخبر عنه، وعند کثير من المتکلّمين هو اسم مشترک المعنی إذ استعمل في اللہ وفي غيره، ويقع علی الموجود والمعدوم . ( ش ی ء ) الشئی بعض کے نزدیک شی وہ ہوتی ہے جس کا علم ہوسکے اور اس کے متعلق خبر دی جاسکے اور اس کے متعلق خبر دی جا سکے اور اکثر متکلمین کے نزدیک یہ اسم مشترکہ ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے ماسواپر بھی بولا جاتا ہے ۔ اور موجود ات اور معدہ سب کو شے کہہ دیتے ہیں ، قَدِيرُ : هو الفاعل لما يشاء علی قَدْرِ ما تقتضي الحکمة، لا زائدا عليه ولا ناقصا عنه، ولذلک لا يصحّ أن يوصف به إلا اللہ تعالی، قال : إِنَّ اللَّهَ عَلى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ [ البقرة/ 20] . والمُقْتَدِرُ يقاربه نحو : عِنْدَ مَلِيكٍ مُقْتَدِرٍ [ القمر/ 55] ، لکن قد يوصف به البشر، وإذا استعمل في اللہ تعالیٰ فمعناه القَدِيرُ ، وإذا استعمل في البشر فمعناه : المتکلّف والمکتسب للقدرة، يقال : قَدَرْتُ علی كذا قُدْرَةً. قال تعالی: لا يَقْدِرُونَ عَلى شَيْءٍ مِمَّا كَسَبُوا[ البقرة/ 264] . القدیر اسے کہتے ہیں جو اقتضائے حکمت کے مطابق جو چاہے کرسکے اور اس میں کمی بیشی نہ ہونے دے ۔ لہذا اللہ کے سوا کسی کو قدیر نہیں کہہ سکتے ۔ قرآن میں ہے : اور وہ جب چاہے ان کے جمع کرلینے پر ۔۔۔۔ قادر ہے ۔ اور یہی معنی تقریبا مقتقدر کے ہیں جیسے فرمایا : عِنْدَ مَلِيكٍ مُقْتَدِرٍ [ القمر/ 55] ہر طرح کی قدرت رکھنے والے بادشاہ کی بار گاہ میں ۔ فَإِنَّا عَلَيْهِمْ مُقْتَدِرُونَ [ الزخرف/ 42] ہم ان پر قابو رکھتے ہیں ۔ لیکن مقتدر کے ساتھ کبھی انسان بھی متصف ہوجاتا ہے ۔ اور جب اللہ تعالیٰ کے متعلق مقتدر کا لفظ استعمال ہو تو یہ قدیر کے ہم معنی ہوتا ہے اور جب انسان کا وصف واقع ہو تو اس کے معنی تکلیف سے قدرت حاصل کرنے والا کے ہوتے ہیں ۔ محاورہ ہے : قدرت علی کذا قدرۃ کہ میں نے فلاں چیز پر قدرت حاصل کرلی ۔ قرآن میں ہے : ( اسی طرح ) یہ ریا کار ) لوگ اپنے اعمال کا کچھ بھی صلہ نہیں لے سکیں گے۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اور اس کی قدرت اور توحید کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ تو زمین کو بنجر دیکھتا ہے پھر جب ہم اس بارش برساتے ہیں تو وہ اس سے پھولتی اور سبزیوں کے ساتھ ابھرتی اور اس میں کثرت کے ساتھ پیداوار ہوتی ہے یا یہ کہ وہ سبزیوں کے ساتھ پھولتی ہے۔ تو جس ذات نے زمین کے بنجر ہوجانے کے بعد پھر اس کو تروتازہ کردیا وہی حشر کے لیے مردوں کو زندہ کردے گا وہ مارنے اور جلانے پر پوری طرح قادر ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣٩{ وَمِنْ اٰیٰتِہٖٓ اَنَّکَ تَرَی الْاَرْضَ خَاشِعَۃً } ” اور اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ تم زمین کو دیکھتے ہو کہ وہ دبی پڑی ہے “ یعنی زمین کی وہ کیفیت کہ جب وہ بنجر اور ویران ہوتی ہے اور اس پر روئیدگی وغیرہ کا نام و نشان تک نہیں ہوتا۔ { فَاِذَآ اَنْزَلْنَا عَلَیْہَا الْمَآئَ اہْتَزَّتْ وَرَبَتْ } ” پھر جب ہم اس پر پانی برسادیتے ہیں تو اس میں حرکت پیدا ہوتی ہے اور وہ ابھر آتی ہے۔ “ بارش کے برستے ہی زمین سے طرح طرح کے نباتات اگنے لگتے ہیں جیسے کہ مردہ زمین میں جان پڑگئی ہو۔ { اِنَّ الَّذِیْٓ اَحْیَاہَا لَمُحْیِ الْمَوْتٰیط اِنَّہٗ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ} ” یقینا وہ (اللہ) جس نے اس کو زندہ کیا ہے وہی ُ مردوں کو بھی زندہ کرے گا۔ یقینا وہ ہرچیز پر قادر ہے۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

47 For explanation, see An--Nahl: 65, Ai-Hijr: 5-7, Ar-Rum:19 and E.N. 19 of Al-Fatir.

سورة حٰمٓ السَّجْدَة حاشیہ نمبر :47 تشریح کے لیے ملاحظہ تفہیم القرآن ، جلد دوم ، النحل ، حاشیہ ۵۳ ، جلد سوم ، الحج ، حواشی ۸ ۔ ۹ ، الروم ، حاشیہ ۲۸ ۔ جلد چہارم ، فاطر ، حاشیہ 19 ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٣٩۔ آسمان پر کی قدرت کی نشانیوں کے بعد یہ زمین پر کی قدرت کی نشانیوں کا ذکر ہے حاصل مطلب آیت کا یہ ہے کہ ان منکرین حشر کی آنکھوں کے سامنے مینہ برسنے سے پہلے زمین کیسی سوکھی پڑی ہوتی ہے پھر مینہ برستے ہی اس میں کس طرح کی سرسبزی آجاتی ہے دوسرے صور سے پہلے اسی طرح ایک مینہ برسے گا جس کی ثاثیر سے مرے ہوئے لوگوں کے سب جسم تیار ہوجائیں گے اور ان جسموں میں روحیں پھونک دی جائیں گی حاصل کلام یہ ہے کہ ان منکرین حشر کے نزدیک حشر بڑی چیز ہے اللہ تعالیٰ کی قدرت کے آگے ہر سال کی کھیتی اور حشر کا ایک سا حال ہے صحیح بخاری ٢ ؎ و مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ (رض) کی حدیث کئی جگہ گزر چکی جس میں کھیتی کی مشابہت دی جا کر دوسرے صور سے پہلے مینہ کے برسنے اور جسموں کے تیار ہوجانے کا ذکر تفصیل سے ہے یہی حدیث گویا اس آیت کی تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اسی مشابہت کے سبب سے قرآن میں کئی جگہ کھیتی کے ذکر کے ساتھ حشر کا ذکر آیا ہے۔ (٢ ؎ صحیح مسلم باب مابین النفختین ص ٤٠٦ ج ٢)

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(41:39) ومن ایتہ : من تبعیضیہ ہے۔ خاشعۃ اسم فاعل واحد مؤنث خشوع مصدر (باب نصر) عاجزی کرنا۔ نگاہ یا آواز کا پست ہونا۔ (زمین کا) خشک کونا۔ بےآب وگیاہ ہونا۔ زمین کا بارش نہ ہونے سے خشک ہوجانا۔ زمین کا بغیر پانی کے خشک اور دبا ہوا ہونا۔ المائ : ای المطر۔ بارش۔ اھتزت : ماضی واحد مؤنث غائب اھتزاز (افتعال) اس نے تروتازہ ہوکر حرکت کی۔ الھز کے معنی کسی چیز کو زور سے ہلانے کے ہیں۔ مثلا قرآن مجید میں ہے وھزی الیک بجذع النخلۃ (19:25) اور کھجور کے تنے کو پکڑ کر اپنی طرف بلاؤ۔ اور باب افتعال سے خوش و شاداب ہوکر ہلنا۔ ربت : ماضی واحد مؤنث غائب ربو مصدر (باب نصر) جس کے معنی بڑھنے بھولنے اور بلند ہونے کے ہیں۔ وہ بڑھی۔ وہ پھولی۔ وہ ابھری۔ اھتزت وربت وہ جھومنے لگتی ہے اور کھل اٹھتی ہے۔ احیاھا : احیا ماضی واحد مذکر غائب احیاء (افعال) مصدر۔ اس نے زندہ کیا اس نے زندہ کردیا۔ ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب (الارض کی طرف راجع ہے) ۔ الذی احیاھا : وہ (قادر مطلق) جس نے بےآب وگیاہ اور بنجر زمین کو زندہ کردیا ۔ زندگی بخشی اور سرسبز و شاداب کردیا۔ لمحی الموتی : لام تاکید کا ہے محی احیاء (افعال) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر ہے۔ مضاف : الموتی میت کی جمع (مردے) مضاف الیہ۔ وہی مردوں کو زندہ کرنے والا ہے۔ قدیر : قدرۃ سے صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ قدیر اس کو کہتے ہیں جو اپنی حکمت کے مطابق جو چاہے کرے۔ اسی لئے اللہ کے سوا قدیر کسی مخلوق کو نہیں کہہ سکتے۔ البتہ قادر عام ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 8 یعنی اس میں کھیتی گھاس وغیرہ کچھ نہیں ہوتا۔ زمین کی اسی حالت کو دوسری آیات میں موت سے تعبیر کیا ہے۔9 یعنی اس میں کھیتیاں لہلہانے لگتی ہیں، گھاس اگتی ہے۔ الغرض زندگی کی لہر دوڑ جاتی ہے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

2۔ اس سے علاوہ دلالت علی التوحید کے دلالت علی امکان البعث بھی حاصل ہوئی۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : ” اللہ “ کی قدرت کی ایک اور نشانی۔ جس ذات کبریا نے سورج اور چاند پیدا کیے، رات اور دن بنائے۔ اس کی نشانیوں میں ایک نشانی بارش بھی ہے ہر کوئی دیکھتا ہے کہ زمین خشک اور ویران ہوچکی ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس پر بارش برساتا ہے اور جو بیج اس میں پڑے ہوتے ہیں وہ اگ آتے ہیں۔ جس سے زمین سبز لباس پہن لیتی ہے۔ جس زمین پر ویرانی کی وجہ سے نظر نہیں ٹکتی تھی آج ہریالی کی وجہ سے اس قدر پُر کشش ہوچکی ہے کہ نظر کو سکون اور دل کو قرار حاصل ہوتا اور نظر اس سے اٹھنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ زمین سے نباتات کا اگنا اس بات کی دلیل ہے کہ جس ذات کبریا نے بارش سے مردہ زمین کو زندہ کیا اور اس میں مدت سے دبے ہوئے بیج اگائے ہیں۔ وہی ذات قیامت کے دن مردوں کو زندہ کرے گی۔ وہ دنیا کی ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے اور قیامت کے دن بھی وہی ہر چیز پر قادر ہوگا۔ (عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مَا بَیْنَ النَّفْخَتَیْنِ اَرْبَعُوْنَ قَالُوْ یَا اَبَا ھُرَیْرۃَ اَرْبَعُوْنَ یَوْمًا قَالَ اَبَیْتُ قَالُوْا اَرْبَعُوْنَ شَھْرًا قَالَ اَبَیْتُ قَالُوْا اَرْبَعُوْنَ سَنَۃً قَالَ اَبَیْتُ ثُمَّ یُنْزِلُ اللّٰہُ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَیُنْبَتُوْ نَ کَمَآ یَنْبُتُ الْبَقْلُ قَالَ وَلَیْسَ مِنَ الْاِنْسَانِ شَیْءٌ لَا یَبْلٰی اِلَّاعَظْمًا وَاحِدًا وَّھُوَ عَجْبُ الذَّنَبِ وَمِنْہُ یُرَکَّبُ الْخَلْقُ یَوْمَ الْقِیَا مَۃِ )[ متفق علیہ ] وَفِیْ رِوَایَۃٍ لِمُسْلِمِ قَالَ کُلُّ اِبْنِ اٰدَمَ یَاکُلُہٗ التُّرَاب الاَّ عَجْبَ الذَّنَبِ مِنْہُ خُلِقَ وَفِیْہِ یُرَکَّبُ [ متفق علیہ ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا دو صور پھونکنے کا عرصہ چالیس ہوگا۔ حضرت ابوہریرہ (رض) سے ان کے شاگردوں نے پوچھا کہ چالیس دن ؟ حضرت ابوہریرہ (رض) نے فرمایا کہ میں یہ نہیں کہتا انہوں نے استفسار کیا چالیس ماہ ہیں ؟ حضرت ابوہریرہ (رض) نے جواباً فرمایا میں یہ نہیں کہتا انہوں نے پھر پوچھا چالیس سال ہیں ؟ ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں میں یہ بھی نہیں کہتا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ بارش نازل فرمائے گا۔ لوگ یوں اگیں گے جس طرح انگوری اگتی ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا، انسان کی دمچی کے علاوہ ہر چیز ختم ہوجائے گی۔ قیامت کے دن انسان کی دمچی سے تمام اعضاء کو جوڑا جائے گا۔ (بخاری و مسلم) اور مسلم کی ایک روایت میں ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا انسان کے تمام اعضاء کو مٹی کھاجائے گی۔ لیکن دمچی کو نہیں کھائے گی انسان اسی سے پیدا اور جوڑا جائے گا۔ “ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ بارش کے بعد مردہ زمین کو زندہ کرتا ہے۔ ٢۔ جس طرح زمین سے بیج اگتا اور نکلتا ہے اسی طرح قیامت کے دن مردوں کو زندہ کر کے نکال لیاجائے گا۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ مردوں کو زندہ کرے گا کیونکہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ قیامت کے دن لوگوں کو زندہ کرے گا : ١۔ آپ فرما دیں کہ تم ضرور اٹھائے جاؤ گے۔ (التغابن : ٧) ٢۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کو اٹھائے گا تاکہ ان کے درمیان فیصلہ صادر فرمائے۔ (الانعام : ٦٠) ٣۔ اللہ تعالیٰ تمام مردوں کو اٹھائے گا پھر اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔ (الانعام : ٣٦) ٤۔ قیامت کے دن اللہ سب کو اٹھائے گا پھر ان کے اعمال کی انھیں خبر دے گا۔ (المجادلۃ : ٦ تا ١٨) ٥۔ موت کے بعد تمہیں ضرور اٹھایا جائے گا۔ (ھود : ٧) ٦۔ یقیناً قیامت کے دن اللہ تمہیں جمع کرے گا جس میں کوئی شک نہیں۔ (الانعام : ١٢) ٧۔ آپ فرما دیں تمہارے پہلے اور آخر والے سب کو ضرور اکٹھا کیا جائے گا۔ (الواقعۃ : ٤٧ تا ٥٠) ٨۔ پھر ہم تمہیں تمہاری موت کے بعد اٹھائیں گے۔ (البقرۃ : ٥٦) ٩۔ جس دن تم سب کو جمع ہونے والے دن اللہ جمع کرے گا۔ (التغابن : ٩) ١٠۔ جس دن اللہ رسولوں کو جمع کرے گا۔ (المائدۃ : ١٠٩) ١١۔ یہ فیصلہ کا دن ہے ہم نے تمہیں اور پہلوں کو بھی جمع کردیا ہے۔ (المرسلات : ٣٨)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ہر مقام پر قرآن کا انداز تعبیر قابل ملاحظہ ہے۔ زمین کا ” خشوع “ کی حالت میں ہونا سے مراد یہ ہے کہ بارش سے پہلے وہ سوئی ہوئی اور مردہ حالت میں تھی۔ جب بارش برسی تو وہ پھبک اٹھی ، سر سبز و شاداب ہوگئی ، گویا اس نے شکر ادا کیا اور سجدے میں گر گئی کہ اسے زندگی مل گئی۔ جس سیاق میں یہ مثال آرہی ہے وہاں عبادت خشوع و خضوع اور حمد و ثنا اور تسبیح کا مضمون چل رہا ہے۔ چناچہ زمین کی بھی ایسی کیفیت دکھائی گئی ، گویا وہ بھی زندہ ہے اور اللہ کے حوالے سے وہ بھی شعور رکھتی ہے۔ مناسب ہے کہ میں اپنی ہی کتاب التصویر الفنی فی القرآن سے ایک صفحہ یہاں نقل کر دوں : ” قرآن نے بارش ہونے سے قبل زمین کی حالت کو بعض جگہ خاشعہ ( سوئی ہوئی ، مردہ اور سہمی ہوئی ) اور بعض جگہ ھامدہ (سوکھی ، بجھی ہوئی ، مردہ) کہا ہے۔ بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ محض طرز تعبیر کا تنوع ہے ، لیکن دیکھنا یہ ہے کہ دونوں لفظ کس سیاق میں کس طرح استعمال ہوئے ہیں ، یہ الفاظ قرآن نے دو مختلف سیاق وسباق میں استعمال کئے ہیں : لفظ ھامدہ سورة حج میں آیا ہے۔ یایھا الناس ۔۔۔۔۔ زوج بھیج (٢٢ : ٥) ” لوگو ، اگر تمہیں زندگی بعد موت کے بارے میں کچھ شک ہے تو تمہیں معلوم ہو کہ ہم نے تم کو مٹی سے پیدا کیا ہے ، پھر نطفے سے ، پھر خون کے لوتھڑے سے ، پھر گوشت کی بوٹی سے ، جو شکل والی بھی ہوتی ہے اور بےشکل بھی تا کہ تم پر حقیقت واضح کریں ۔ ہم جس کو چاہتے ہیں ایک وقت خاص تک رحموں میں ٹھہرائے رکھتے ہیں ، پھر تم کو ایک بچے کی صورت میں نکال لاتے ہیں تا کہ تم اپنی جوانی کو پہنچو۔ اور تم میں سے کوئی پہلے بلا لیا جاتا ہے اور کوئی بدترین عمر کو پھیر دیا جاتا ہے تا کہ سب کچھ جاننے کے بعد پھر کچھ نہ جانے اور تم دیکھتے ہو کہ زمین سوکھی پڑی ہے ، پھر جہاں ہم نے اس پر مینہ برسایا کہ یکایک وہ پھبک اٹھی اور پھول گئی اور اس نے ہر قسم کی خوش منظر نباتا اگلنی شروع کردی “۔ اور لفظ خاشعہ اس سیاق وسباق میں آیا ہے : ومن ایتہ الیل والنھار ۔۔۔۔۔ ایاہ تعبدون (٤١ : ٣٧) فان استکبروا ۔۔۔۔۔ لا یسئمون (٤١ : ٣٨) ومن ایتہ ۔۔۔۔۔۔ کل شیء قدیر (٤١ : ٣٩) ” اور اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں یہ رات اور دن اور سورج اور چاند۔ سورج اور چاند کو سجدہ نہ کرو بلکہ اس خدا کو سجدہ کرو جس نے انہیں پیدا کیا ہے ، اگر فی الواقعہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو ، لیکن اگر یہ لوگ غرور میں آکر اپنی ہی بات پر اڑے رہیں تو پرواہ نہیں ، جو فرشتے ترے رب کے مقرب ہیں وہ شب و روز اس کی تسبیح کر رہے ہیں اور کبھی نہیں تھکتے اور اللہ کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ دیکھتے ہو زمین سونی پڑی ہوئی ہے ! پھر جونہی کہ ہم نے اس پر پانی برسایا ، یکایک وہ پھبک اٹھتی ہے اور پھول جاتی ہے “۔ ان دونوں سیاق وسباق پر ایک سر سری نظر ڈالنے ہی سے ھامدہ اور خاشعہ کا ربط ظاہر ہوجاتا ہے۔ پہلے سیاق وسباق میں فضا اٹھانے ، زندہ کرنے اور نکالنے کی ہے۔ تو اس کے ساتھ زمین کی حالت مردہ (ھامدہ) زیادہ مناسب ہے۔ مردنی کے بعد وہ حرکت میں آتی ہے ، پھولتی ہے ، اور ہر قسم کے کوش منظر نباتات کے جوڑے پیدا کرتی ہے (میں کہوں گا کہ لفظ زوج بھی یہاں نہایت معنی خیز ہے ) دوسرے سیاق وسباق میں مضمون عبادت ، خضوع وخشوع کا ہے ، لہٰذا اس کے ساتھ زمین کی تصویر خامشہ اور سہمی ہوئی زیادہ مناسب ہے۔ اور جب بارش ہوتی ہے تو وہ پھول اٹھتی ہے۔ یہاں اس دوسرے سیاق میں زمین کے پھبک اٹھنے اور پھول جانے کے بعد نباتات کے اگنے کا ذکر نہیں جبکہ پہلے سیاق میں ذکر ہے ، کیونکہ یہاں عبادت کا موضوع ہے اور عبادت کے ساتھ نباتات کے اگنے کی کوئی مناسبت نہیں ہے کیونکہ اھتزت وربت (٤١ : ٣٩) کے لفظ کے بھی دونوں جگہ دو الگ مقاصد ہیں ، یہاں دوسرے سیاق میں مطلب یہ ہے کہ زمین حرکت میں آئی جس طرح اس منظر میں تمام متحرک چیزیں عبادت کے لئے حرکت میں آتی ہے۔ لہٰذا زمین کو بھی خشوع اور مردنی کی حالت میں نہ چھوڑا جائے۔ اس لیے یہاں وہ حرکت میں آئی کہ وہ دوسرے عبادت گزاروں کے ساتھ عبادت میں شریک ہو ، اور منظر کے تمام اجزاء اس میں شریک ہوجائیں۔ یوں انداز بیان کی نہایت ہی باریک جزئیات کے تناسق کو بھی پیش نظر رکھتا ہے جبکہ پہلے سیاق میں اھتذت وربت (٤١ : ٣٩) پیدائشی عمل کی حرکت کے لئے ہے “۔ اب ہم پھر سیاق کلام کی طرف آتے ہیں ، اسی زمین کے احیاء کے استدلال سے یہ نتیجہ کہ اسی طرح اللہ تعالیٰ قیامت کے دن مردوں کو نکال لائے گا۔ ان الذی احیاھا لمحی الموتی انہ علی کل شیء قدیر (٤١ : ٣٩) ” یقیناً جو خدا اس مری ہوئی زمین کو جلا اٹھاتا ہے وہ مردوں کو بھی زندگی بخشنے والا ہے۔ یقیناً وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے “۔ اس قسم کے مناظر سے قران میں بار بار یہ استدلال کیا جاتا ہے کہ قیامت کے دن اللہ اسی طرح مردوں کو اٹھا لے گا اور اس سے اللہ کی بےپناہ قدرت پر بھی استدلال قرآن کریم میں بارہا کیا جاتا ہے۔ زمین کے اندر نباتاتی اور دوسری زندگیوں کے مناظر کو انسان بڑے قریب سے مشاہدہ کرتا ہے۔ عقل سے بھی پہلے یہ بو قلمونیاں دل کو متاثر کرتی ہیں۔ جب موت سے زندگی نمودار ہوتی ہے تو انسان اس قدرت کے کرشمے کو بڑی حیرت سے دیکھتا ہے اور انسان کے شعور میں اس کے اثرات بیٹھتے ہیں اور قرآن کا انداز یہ ہے کہ وہ عقل کی بجائے فطری شعور سے مخاطب ہوتا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اس کے بعد ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ شانہٗ کی نشانیوں میں سے زمین بھی ہے جس پر یہ لوگ رہتے ہیں اور اس پر جن تغیرات کا ظہور ہوتا رہتا ہے انہیں یہ لوگ دیکھتے رہتے ہیں انہی تغیرات میں سے ایک یہ ہے کہ زمین خشک ہوجاتی ہے سبزی بالکل نہیں رہتی سوکھی ہوئی حالت میں پڑی رہتی ہے پھر اللہ تعالیٰ بارش بھیجتا ہے بارش برستی ہے زمین پر پانی پڑتا ہے اور اندر پہنچتا ہے جیسے ہی یہ زمین پانی سے متاثر ہوتی ہے اس میں تازگی آجاتی ہے زمین پھولتی ہے اندر سے پودے زور لگاتے ہیں باہر نکلتے ہیں تھوڑا ہی سا وقت گزرتا ہے کہ زمین ہری بھری ہوجاتی ہے اس میں کھیتیاں بھی ہوتی ہیں جن سے انسانوں کو غذائیں ملتی ہیں بڑے بڑے درخت بھی ہوتے ہیں جن پر کچھ عرصے کے بعد پھل آتے ہیں ان میں سے انسان کھاتے ہیں اور گھاس بھی نکلتی ہے جو مویشیوں کی غذا بنتی ہے اس میں کئی طرح سے اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں ہیں اللہ تعالیٰ کی قدرت بھی ظاہر ہوتی ہے اور توحید بھی ثابت ہوتی ہے کیونکہ ان تصرفات کا کرنے والا صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور اس سے وقوع قیامت کا استبعاد بھی دور ہوجاتا ہے قیامت قائم ہونے اور زندہ ہو کر قبروں سے نکلنے اور دوبارہ زندگی حاصل ہونے کو جو لوگ بعید اور عجیب سمجھتے ہیں ان کے لیے زمین کی حالت بدلنا خشک زمین کا ترو تازہ ہوجانا اس میں پودے نکل آنا یہ اس بات کی نظیر ہے کہ انسان بھی مر کھپ کر اسی طرح زندہ ہو کر قبروں سے باہر آجائیں گے اسی کو فرمایا (اِِنَّ الَّذِیْ اَحْیَاھَا لَمُحْیِ الْمَوْتٰی) (بلاشبہ جس نے اس زمین کو زندگی بخشی وہی مردوں کو زندہ فرمانے والا ہے) (اِِنَّہٗ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ) اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

37:۔ ” ومن ایتہ “ یہ دوسری دلیل عقلی کا دوسرا حصہ ہے جو پہلی عقلی دلیل کے پہلے حصے سے متعلق ہے اس میں تھا کہ اللہ نے زمین کو پیدا فرمایا اور اس میں تمام خاصیتیں رکھ دیں۔ اور یہاں اس کی بعض خاصیتوں کا ذکر کیا گیا اس کی قدرت اور وحدانیت کے دلائل میں سے یہ بھی ہے کہ وہ خشک اور دبی ہوئی زمین کو مینہ برسا کر اس میں نرمی اور نشوونما کے آثار پیدا فرما دیتا ہے اور اس میں سرسبز و شاداب اور لہلہاتے کھیت پیدا کردیتا ہے۔ ” ان الذی احیاھا۔ الایۃ “ یہ جملہ معترضہ ہے جس ذات پاک میں مردہ اور بنجر زمین کو تری و تازگی عطا فرمانے کی قدرت ہے وہ مردوں کو بھی دوبارہ زندہ کرنے پر قادر ہے۔ کیوں کہ اس کی قدرت کاملہ ہر چیز پر حاوی ہے اور کوئی چیز اس کی قدرت سے باہر نہیں۔ دنیا میں ہر کام کا اس کی قدرت کے تحت ہونا اس بات پر شاہد ہے کہ وہ انسانوں کو دوبارہ پیدا کرنے پر قادر ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(39) اور منجملہ اس کے نشانہائے قدرت اور دلائل توحید کے یہ بات بھی ہے کہ اے مخاطب تو زمین کو دیکھتا ہے کہ وہ دبی پڑی ہے پھر جب ہم اس پر پانی برساتے ہیں تو وہ تروتازہ ہوتی اور ابھرنے لگتی ہے بیشک جس اللہ تعالیٰ نے اس دبی ہوئی زمین کو زندہ کیا وہی مردوں کو بھی زندہ کرے والا ہے اور بلا شبہ وہ ہرچیز پر پوری طرح قادر اور قدرت رکھنے والا ہے۔ یعنی گرمی کے موسم میں جب زمین خشک ہوجاتی ہے اس کو فرمایا کہ دبی پڑی ہوتی ہے اور ایسی ہوتی ہے جیسے مردہ کہ اس میں نمو ہی نہیں اور کسی چیز کو اگانے کی صلاحیت ہی نہیں لیکن جہاں بارش کا چھینٹا پڑا اور زمین میں ایک حرکت اور ابھار پیدا ہوا۔ زمین کی فصل کٹ جانے کے بعد اس کی موت اور بارش سے اس میں دوبارآثار حیات پیدا ہونا یہ ہر سال کا مشاہدہ ہے پھر جو خدا اتنی بڑی زمین کو خشک ہونے کے بعد از سرنو زندہ اور تروتازہ کردیتا ہے وہی خدا انسان کو بھی اس کے مرے پیچھے زندہ کرنے والا ہے یہ اللہ تعالیٰ کی وحادنیت کی بہت بڑی دلیل ہے اور جس طرح توحید کی دلیل ہے اسی طرح اس زمین کا مرنا اور زندہ ہونا قیامت کے قائم ہونے اور مردوں کے زندہ ہونے کی بھی دلیل ہے اور اللہ تعالیٰ کا ہر چیز پر قادر ہونا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ وہ مردوں کے زندہ کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔