Every available translation of Surat ul Maeeda, verse 107, side by side - Urdu, English, Hindi and Roman - with the Arabic text above them.
|
فَاِنۡ
پھر اگر
|
عُثِرَ
اطلاع ہو جائے
|
عَلٰۤی
اس پر
|
اَنَّہُمَا
کہ بےشک وہ دونوں
|
اسۡتَحَقَّاۤ
وہ دونوںمستحق ہوئے ہیں
|
اِثۡمًا
گناہ کے
|
فَاٰخَرٰنِ
پس دو دوسرے
|
یَقُوۡمٰنِ
دونوں کھڑے ہوں گے
|
مَقَامَہُمَا
ان دونوں کی جگہ
|
مِنَ الَّذِیۡنَ
ان لوگوں میں سے
|
اسۡتَحَقَّ
حق ثابت ہوا
|
عَلَیۡہِمُ
جن پر
|
الۡاَوۡلَیٰنِ
دو قریب ترین
|
فَیُقۡسِمٰنِ
پھر وہ دونوں قسمیں کھائیں گے
|
بِاللّٰہِ
اللہ کی
|
لَشَہَادَتُنَاۤ
البتہ گواہی ہماری
|
اَحَقُّ
زیادہ سچی ہے
|
مِنۡ شَہَادَتِہِمَا
ان دونوں کی گواہی سے
|
وَمَا
اور نہیں
|
اعۡتَدَیۡنَاۤ
زیادتی کی ہم نے
|
اِنَّاۤ
بےشک ہم
|
اِذًا
تب
|
لَّمِنَ الظّٰلِمِیۡنَ
البتہ ظالموں میں سے ہوں گے
|
|
فَاِنۡ
پھر اگر
|
عُثِرَ
معلو م ہو جا ئے
|
عَلٰۤی
اِس پر
|
اَنَّہُمَا
وا قعتا ًوہ دونو ں
|
اسۡتَحَقَّاۤ
مر تکب ہو ئے ہیں وہ دونو ں
|
اِثۡمًا
گنا ہ کے
|
فَاٰخَرٰنِ
پھر دو دوسرے
|
یَقُوۡمٰنِ
وہ دونوں کھڑے ہو ں گے
|
مَقَامَہُمَا
اُن دونو ں کی جگہ
|
مِنَ الَّذِیۡنَ
اُن لو گوں میں سے
|
اسۡتَحَقَّ
جن کا حق مارا ہے
|
عَلَیۡہِمُ
ان پر
|
الۡاَوۡلَیٰنِ
دونوں قریب ترین
|
فَیُقۡسِمٰنِ
پھر وہ دونو ں قسمیں کھا ئیں
|
بِاللّٰہِ
اللہ تعالیٰ کی
|
لَشَہَادَتُنَاۤ
البتہ گواہی ہماری
|
اَحَقُّ
زیادہ مبنی برحق ہے
|
مِنۡ شَہَادَتِہِمَا
اُن دونوں کی گواہی سے
|
وَمَا
اور نہیں
|
اعۡتَدَیۡنَاۤ
زیادتی کی ہم نے
|
اِنَّاۤ
بلا شبہ ہم
|
اِذًا
تب
|
لَّمِنَ الظّٰلِمِیۡنَ
یقیناً ظالموں میں سے ہوں گے
|
But if it is found that those two were guilty of perjury, let two others stand in their place [who are] foremost [in claim] from those who have a lawful right. And let them swear by Allah , "Our testimony is truer than their testimony, and we have not transgressed. Indeed, we would then be of the wrongdoers."
پھر اگر اس کی اطلاع ہو کہ وہ دونوں گواہ کسی گناہ کے مرتکب ہوئے ہیں تو ان لوگوں میں سے جن کے مقابلہ میں گناہ کا ارتکاب ہوا تھا اور دو شخص جو سب میں قریب تر ہیں جہاں وہ دونوں کھڑے ہوئے تھے یہ دونوں کھڑے ہوں پھر دونوں اللہ کی قسم کھائیں کہ بالیقین ہماری یہ قسم ان دونوں کی اس قسم سے زیادہ راست ہے اور ہم نے ذرا تجاوز نہیں کیا ، ہم اس حالت میں سخت ظالم ہونگے ۔
پھر اگر یہ پتہ چل جائے کہ وہ دونوں گناہ میں ملوث ہو کر حق بات کو دبا گئے ہیں تو ان کی جگہ دو اور گواہ کھڑے ہوں جو پہلے دونوں (غیر مسلم) گواہوں سے اہل تر ہوں اور ان لوگوں کی طرف سے ہوں جن کی حق تلفی ہوئی ہے۔ وہ اللہ کی قسم اٹھا کر کہیں کہ ہماری شہادت ان پہلے گواہوں کی شہادت سے زیادہ سچی ہے اور ہم نے کوئی زیادتی نہیں کی۔ اگر ہم نے ایسا کیا تو بلاشبہ ہم ظالم ہیں
پھراگرمعلوم ہوکہ وہ دونوں واقعتاگناہ کے مرتکب ہوئے ہیں تو جن کاحق مارا گیاہے ان میں سے دوسرے دو افراد جووصیت کرنے والے کے قریب ترین ہوں، ان کی جگہ کھڑے ہوں،پھروہ دونوں اﷲ تعالیٰ کی قسم کھا کر کہیں گے کہ ہماری گواہی ان دونوں کی گواہی سے زیادہ مبنی برحق ہے اورہم نے کوئی زیادتی نہیں کی، بلاشبہ اس وقت ہم یقیناظالموں میں سے ہوں گے۔
Then, if it is discovered that the two had rendered themselves liable to a sin, then. in their place shall stand two others closest of those whose right has been taken away, and they shall swear by Allah, |"Our evi¬dence is more truthful than their evidence, and we have not transgressed, in which case we should be among the unjust.|"
پھر اگر خبر ہوجاوے کہ وہ دونوں حق بات دبا گئے تو دو گواہ اور کھڑے ہوں ان کی جگہ ان میں سے کہ جن کا حق دبا ہے جو سب سے زیادہ قریب ہوں میت کے پھر قسم کھاویں اللہ کی کہ ہماری گواہی تحقیقی ہے پہلوں کی گواہی سے اور ہم نے زیادتی نہیں کی، نہیں تو ہم بیشک ظالم ہیں
پھر اگر معلوم ہوجائے کہ ان دونوں نے (جھوٹ بول کر) گناہ کمایا ہے تو اب دو اور لوگ ان کی جگہ پر کھڑے ہوں ان لوگوں میں سے جن کی حق تلفی کی ہے ان پہلے دو لوگوں نے پس وہ دونوں اللہ کی قسم کھائیں کہ ہماری گواہی زیادہ برحق ہے ان دونوں کی گواہی سے اور ہم نے کوئی زیادتی نہیں کی ہے اگر ایسا ہو تو یقیناً ہم ظالموں میں سے ہوں گے
Then if it is discovered later that the two are guilty of such sin, then two others shall stand in their place from among those against whom the two had sinfully deposed, and swear by Allah: 'Our testimony is truer than the testimony of the other two, and we have not transgressed in our statement; for then indeed we would become wrong-doers.'
لیکن اگر پتہ چل جائے کہ ان دونوں نے اپنے آپ کو گناہ میں مبتلا کیا ہے تو پھر ان کی جگہ دو اور شخص جو ان کی بانسبت شہادت دینے کے لیے اہل تر ہوں ان لوگوں میں سے کھڑے ہوں جن کی حق تلفی ہوئی ہو ، اور وہ خدا کی قسم کھا کر کہیں کہ “ ہماری شہادت ان کی شہادت سے زیادہ برحق ہے اور ہم نے اپنی گواہی میں کوئی زیادتی نہیں کی ہے ، اگر ہم ایسا کریں تو ظالموں میں سے ہوں گے ” ۔
پھر بعد میں اگر یہ پتہ چلے کہ انہوں نے ( جھوٹ بول کر ) اپنے اوپر گناہ کا بوجھ اٹھا لیا ہے تو ان لوگوں میں سے دو آدمی ان کی جگہ ( گواہی کے لیے ) کھڑے ہوجائیں جن کے خلاف ان پہلے دو آدمیوں نے گناہ اپنے سر لیا تھا ( ٧٤ ) اور وہ اللہ کی قسم کھائیں کہ ہماری گواہی ان پہلے دو آدمیوں کی گواہی کے مقابلے میں زیادہ سچی ہے ، اور ہم نے ( اس گواہی میں ) کوئی زیادتی نہیں کی ہے ، ورنہ ہم ظالموں میں شمار ہوں گے ۔
پھر اگر معلوم ہو کہ انہوں نے اپنے تئیں گنہگار کیا تو وہ 6 دو گواہ ان کی جگہ کھڑے ہوں جن کو (میت کے) بہت نزدیک کے دو رشتہ داروں نے گواہی کے لائق سمجھا ہو 7 اور وہ اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر کہیں کہ ہماری گواہی پہلے دونون گواہوں کی گواہی سے زیادہ معتبر ہے اور ہم نے کوئی ناحق بات نہیں کہی۔ ایسا کیا ہو تو بیشک ہم گنہگار ہیں
پھر اگر ثابت ہوجائے کہ ان دونوں نے گناہ کرکے (جھوٹ بول کر) حق ثابت کیا ہے تو جن لوگوں کا انہوں نے حق مارنا چاہا تو ان میں سے دو گواہ ان کی جگہ کھڑے ہوں جو (میت سے) قرابت رکھنے والے ہوں پھر وہ اللہ کی قسمیں کھائیں کہ ہماری شہادت ان دونوں کی شہادت سے بہت سچی ہے اور ہم نے زیادتی نہیں کی اگر ایسا کریں تو ہم ظلم کرنے والوں میں ہوں گے
لیکن اگر معلوم ہوجائے کہ ان دونوں نے اپنے آپ کو گناہ میں مبتلا کیا ہے تو پھر ان کے بدلے دوسرے دو اشخاص مقرر کئے جائیں جو پہلے دونوں کے مقابلے میں گواہی دینے کیلئے زیادہ قابل اعتماد ہوں اور ان لوگوں میں سے ہوں جنہیں حق تلفی کی شکایت ہے۔ یہ دونوں اللہ کی قسم کھا کر کہیں کہ ہماری گواہی پہلے گواہوں کی گواہی سے زیادہ درست ہے۔ اور ہم نے اپنی گواہی میں کوئی گڑ بڑ نہیں کی ہے۔ اگر ہم ایسا کریں گے تو ہم ظالموں میں شامل ہوں گے۔
پھر اگر معلوم ہو جائے کہ ان دونوں نے (جھوٹ بول کر) گناہ حاصل کیا ہے تو جن لوگوں کا انہوں نے حق مارنا چاہا تھا ان میں سے ان کی جگہ اور دو گواہ کھڑے ہوں جو (میت سے) قرابت قریبہ رکھتے ہوں پھر وہ خدا کی قسمیں کھائیں کہ ہماری شہادت ان کی شہادت سے بہت اچھی ہے اور ہم نے کوئی زیادتی نہیں کی ایسا کیا ہو تو ہم بےانصاف ہیں
If then it be lit upon that the twain had been guilty of a sin, then two othershall take their place from among those who were sinned against, the two nearest of kin, and they shall swear by Allah affirming: our testimony is worthier of credit than their testimony and we have not trespassed, for then verily we shall be of the wrong-doers.
پھر اگر خبر ہوجائے کہ وہ دونوں (وصی) حق بات دباگئے ۔ تو دو گواہ ان کی جگہ اور مقرر ہوں ان لوگوں میں سے جن کا حق دبا ہے (میت کے) قریب ترلوگوں میں سے ۔ اور یہ دونوں اللہ کی قسم کھائیں کہ ہماری گواہی ان دونوں کی گواہی سے زیادہ درست ہے اور ہم نے زیادتی نہیں کی ہے ورنہ بیشک ہم ہی ظالم ٹھیریں گے ۔
پس اگر پتا چلے کہ یہ دونوں کسی حق تلفی کے مرتکب ہوئے ہیں تو ان کی جگہ دوسرے دو ان میں سے کھڑے ہوں ، جن کی مقدم گواہوں نے حق تلفی کی ہے ۔ پس وہ اللہ کی قسم کھائیں کہ ہماری گواہی ان دونوں کی گواہی سے زیادہ راست ہے اور ہم نے کوئی تجاوز نہیں کیا ہے ۔ اگر ہم نے ایسا کیا ہے تو ہم ظالم ٹھہرائیں ۔
پھر اگر یہ معلوم ہو جائے کہ یہ دونوں گواہ حق دبا کے گناہ کا مرتکب ہوئے ہیں تو جن کا حق دبا ہے ان میں سے دو گواہ اور کھڑے ہو جائیں ان کی جگہ وہ دونوں سب سے زیادہ قریب ہوں مرنے والے سے پھر یہ دونوں اﷲتعالیٰ کی قسم کھائیں کہ ہماری گواہی ان دونوں کی گواہی سے زیادہ سچی ہے اور ہم نے حد سے تجاوز نہیں کیا ( اگر ہم ایسا کریں تو بلاشبہ اس وقت ہم ظالموں میں سے ہوںگے ۔
لیکن اگر معلوم ہوجائے کہ وہ دونوں سچ بات کو دبا گئے ہیں تو پھر ان کی جگہ دو اور گواہ میت کے قریب ترین لوگوں میں سے مقرر کئے جائیں جن کی حق تلفی ہوئی ہے، اور وہ اللہ کی قسم کھا کر کہیں کہ ہماری گواہی ان کی گواہی سے زیادہ سچی ہے اور ہم نے اپنی گواہی میں کوئی زیادتی نہیں کی ہے، اگر ہم ایسا کریں تو ہم ظالموں میں سے ہوں گے۔
پھر اگر (کسی طرح) پتہ چل جائے کہ وہ دونوں کسی گناہ کے مرتکب ہوئے ہیں، تو ان کی جگہ اور دو گواہ کھڑے ہوجائیں، ان لوگوں میں سے جن کی حق تلفی ہوئی ہو، جو سب سے زیادہ قریبی ہوں میت کے، پھر وہ دونوں اللہ (کے نام) کی قسم کھا کر کہیں کہ ہماری گواہی ان دونوں کی گواہی سے زیادہ سچی ہے، اور ہم نے زیادتی نہیں کی، ورنہ ہم یقینی طور پر ظالموں میں شمار ہوں گے،
پھراگریہ معلوم ہو کہ دونوں اپنی ( گواہی میں ) گناہ گاربنے ہیں تو ( میت کے ) دو قریب ترین رشتہ دار ان لوگوں میں سے جن کے حق میں گناہ ہوا ہے گزشہ دونوں آدمیوں کی جگہ پر کھڑے ہوں گے اور اللہ کی قسم کھائیں گے کہ ہماری شہادت ان پہلے گواہوں کی شہادت سے زیادہ سچی ہے اور ہم نے کوئی زیادتی نہیں کی اگرہم نے ایسا کیا توبلاشبہ ہم ظالم ہیں
پھر اگر پتہ چلے کہ وہ کسی گناہ کے سزاوار ہوئے ( ف۲۵۷ ) تو ان کی جگہ دو اور کھڑے ہوں ان میں سے کہ اس گناہ یعنی جھوٹی گواہی نے ان کا حق لے کر ان کو نقصان پہنچایا ( ف۲۵۸ ) جو میت سے زیادہ قریب ہوں تو اللہ کی قسم کھائیں کہ ہماری گواہی زیادہ ٹھیک ہے ان دو کی گواہی سے اور ہم حد سے نہ بڑھے ( ف۲۵۹ ) ایسا ہو تو ہم ظالموں میں ہوں ،
پھر اگر اس ( بات ) کی اطلاع ہو جائے کہ وہ دونوں ( صحیح گواہی چھپانے کے باعث ) گناہ کے سزاوار ہو گئے ہیں تو ان کی جگہ دو اور ( گواہ ) ان لوگوں میں سے کھڑے ہو جائیں جن کا حق پہلے دو ( گواہوں ) نے دبایا ہے ( وہ میت کے زیادہ قرابت دار ہوں ) پھر وہ اللہ کی قَسم کھائیں کہ بیشک ہماری گواہی ان دونوں کی گواہی سے زیادہ سچی ہے اور ہم ( حق سے ) تجاوز نہیں کر رہے ، ( اگر ایسا کریں تو ) ہم اسی وقت ظالموں میں سے ہو جائیں گے
اور اگر بعد میں پتہ چلے کہ وہ ( جھوٹی گواہی دے کر ) گناہ کے مستوجب ہوئے ہیں تو پھر ان کی جگہ دو اور گواہ کھڑے ہوں ( جو مرنے والے کے زیادہ ) قریبی رشتہ دار ہوں جن کی حق تلفی ہوئی ہے اور اللہ کی قَسم کھائیں کہ ہماری گواہی ان ( پہلے ) دونوں کی گواہی سے زیادہ برحق ہے اور ہم نے کوئی زیادتی نہیں کی ورنہ ہم ظالموں میں سے ہوں گے ۔
But if it gets known that these two were guilty of the sin (of perjury), let two others stand forth in their places,- nearest in kin from among those who claim a lawful right: let them swear by Allah: "We affirm that our witness is truer than that of those two, and that we have not trespassed (beyond the truth): if we did, behold! the wrong be upon us!"
If their honesty is challenged, two others from the relatives of the deceased should swear in the same way and testify to the bequest saying, "We swear by God that our testimony is the true one. We do not transgress in the matter lest we become unjust ones."
If it then becomes known that these two had been guilty of sin, let two others stand forth in their places, nearest in kin from among those who claim a lawful right. Let them swear by Allah (saying): "We affirm that our testimony is truer than that of both of them, and that we have not trespassed (the truth), for then indeed we should be of the wrongdoers."
Then if it becomes known that they both have been guilty of a sin, two others shall stand up in their place from among those who have a claim against them, the two nearest in kin; so they two should swear by Allah: Certainly our testimony is truer than the testimony of those two, and we have not exceeded the limit, for then most surely we should be of the unjust.
But then, if it is afterwards ascertained that both of them merit (the suspicion of) sin, let two others take their place of those nearly concerned, and let them swear by Allah, (saying): Verily our testimony is truer than their testimony and we have not transgressed (the bounds of duty), for them indeed we should be of the evil-doers.
फिर अगर पता चले कि उन दोनों ने कोई हक़-तलफ़ी की है तो उनकी जगह दूसरे दो शख़्स उन लोगों में से खड़े हों जिनका हक़ पिछले दो गवाहों ने मारना चाहा था, वे अल्लाह की क़सम खाएं कि हमारी गवाही उन दोनों की गवाही से ज़्यादा सच्ची है और हमने ज़्यादती नहीं की, अगर हम ऐसा करें तो हम ज़ालिमों में से होंगे।
پھر اگر اس کی اطلاع ہو کہ وہ دونوں وصی کسی گناہ کے مرتکب ہوئے ہیں تو ان لوگوں میں سے جن کے مقابلہ میں گناہ کا ارتکاب ہوا تھا اور دو شخص جو سب میں قریب تر ہیں جہاں وہ دونوں کھڑے ہوئے تھے یہ دونوں کھڑے ہوں پھر دونوں خدا کی قسمیں کھاویں کہ بالیقین ہماری یہ قسم ان دونون کی اس قسم سے زیادہ راست ہے اور ہم نے ذرا تجاوز نہیں کیا ہم اس حالت میں سخت ظالم ہونگے۔ (2) (107)
پھر اگر اطلاع پائی جائے کہ وہ دونوں کسی گناہ کے مرتکب ہوئے ہیں تو دو اور ان کی جگہ کھڑے ہوں ان میں سے جن کے خلاف گناہ کا ارتکاب ہوا ہے جو زیادہ قریب ہوں تو دونوں اللہ کی قسم کھائیں کہ یقیناً ہماری گواہی ان کی گواہی سے زیادہ سچی ہے اور ہم نے زیادتی نہیں کی اگر زیادتی کریں بیشک ہم اس وقت ظالموں میں سے ہوں گے۔ “ (١٠٧)
لیکن اگر پتہ چل جائے کہ ان دونوں نے اپنے آپ کو گناہ میں مبتلا کیا ہے تو پھر ان کی جگہ جو ان کی بہ نسبت شہادت دینے کے لئے اہل تر ہوں ان لوگوں میں سے کھڑے ہوں جن کی حق تلفی ہوئی ہو ‘ اور وہ خدا کی قسم کھا کر کہیں کہ ہماری شہادت ان شہادت سے زیادہ برحق ہے اور ہم نے اپنی گواہی میں کوئی زیادتی نہیں کی ہے ‘ اگر ہم ایسا کریں تو ظالموں میں سے ہوں گے ۔
پھر اگر اس کی اطلاع ملے کہ وہ دونوں گناہ کے مرتکب ہوگئے تو ان کی جگہ ایسے دو آدمی کھڑے ہوں جو ان لوگوں میں سے ہوں جن کے بارے میں پہلے دو شخصوں نے گناہ کا ارتکاب کیا۔ یہ بعد والے دو شخص ہوں جو قریب تر ہوں، سو یہ دونوں اللہ کی قسم کھائیں کہ واقعی ہماری گواہی ان دونوں کی گواہی کے مقابلہ میں زیادہ درست ہے۔ اور ہم نے تجاوز نہیں کیا۔ اگر ہم ایسا کریں تو بیشک ہم ظلم کرنے والوں میں شمار ہو نگے۔
پھر اگر خبر ہوجاوے کہ وہ دونوں حق بات دبا گئے تو دو گواہ اور کھڑے ہوں ان کی جگہ ان میں سے کہ جن کا حق دبا ہے جو سب سے زیادہ قریب ہوں میت کے پھر قسم کھاویں اللہ کی کہ ہماری گواہی تحقیقی ہے پہلوں کی گواہی سے اور ہم نے زیادتی نہیں کی نہیں تو ہم بیشک ظالم ہیں
پھر اگر ان دونوں وصیوں کے متعلق یہ پتہ لگ جائے کہ وہ کسی حق کو دبا کر گناہ کے مرتکب ہوئے ہیں تو پھر جن کا حق دبایا گیا ہے ان میں سے دو ایسے شخص جو باعتبار میراث میت سے قریب تر ہوں وہ ان کی جگہ کھڑے ہو کر اللہ کے نام کی قسم کھا کر اس طرح کہیں کہ یقینا ہماری گواہی ان دونوں وصیوں کی گواہی سے زیادہ پہنچی ہے اور ہم نے گواہی دینے میں بالکل زیادتی نہیں کی اگر ہم نے ایسا کیا ہو تو ہم یقینا ظالم ہوں گے۔