Surat ut Toor
Surah: 52
Verse: 39
سورة الطور
اَمۡ لَہُ الۡبَنٰتُ وَ لَکُمُ الۡبَنُوۡنَ ﴿ؕ۳۹﴾
Or has He daughters while you have sons?
کیا اللہ کی تو سب لڑکیاں ہیں اور تمہارے ہاں لڑکے ہیں؟
اَمۡ لَہُ الۡبَنٰتُ وَ لَکُمُ الۡبَنُوۡنَ ﴿ؕ۳۹﴾
Or has He daughters while you have sons?
کیا اللہ کی تو سب لڑکیاں ہیں اور تمہارے ہاں لڑکے ہیں؟
Or has He only daughters and you have sons? Allah sends a strong warning and stern admonition to them in this Ayah and a sure promise. Allah said,
[٣٣] پھر جب انہیں عالم بالا تک رسائی بھی حاصل نہیں تو پھر انہیں کیسے معلوم ہوگیا کہ اللہ کو نظام کائنات چلانے کے لیے اولاد کی ضرورت ہے ؟ پھر ان بدبختوں نے اللہ کے لیے اولاد بنا ڈالی اور وہ بھی بیٹے نہیں بلکہ بیٹیاں جنہیں یہ خود سخت ناپسند کرتے ہیں۔
(ام لہ البنت ولکم البنون): پھر جب انہیں عالم بالا تک رسائی نہیں تو انہیں کیسے معلوم ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ کو کائنات کا نظام چلانے کے لئے اولاد کی ضرورت ہے اور انہوں نے یہ کیسے طے کردیا کہ اولاد بناتے وقت اس نے اپنے لئے بیٹوں کے بجائے بیٹیوں کا چناؤ کیا ہے اور انہیں بیٹوں کے لئے منتخب کیا ہے ؟ حالانکہ یہ لوگ اپنے لئے کبھی بیٹیاں پسند نہیں کرتے۔ دیکھیے سورة نحل (٥٧ تا ٦٠) اور سورة زخرف (١٦ تا ١٨) ۔
اَمْ لَہُ الْبَنٰتُ وَلَكُمُ الْبَنُوْنَ ٣٩ ۭ ( ابْنُ ) أصله : بنو، لقولهم في الجمع : أَبْنَاء، وفي التصغیر : بُنَيّ ، قال تعالی: يا بُنَيَّ لا تَقْصُصْ رُؤْياكَ عَلى إِخْوَتِكَ [يوسف/ 5] ، يا بُنَيَّ إِنِّي أَرى فِي الْمَنامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ [ الصافات/ 102] ، يا بُنَيَّ لا تُشْرِكْ بِاللَّهِ [ لقمان/ 13] ، يا بنيّ لا تعبد الشیطان، وسماه بذلک لکونه بناء للأب، فإنّ الأب هو الذي بناه وجعله اللہ بناء في إيجاده، ويقال لكلّ ما يحصل من جهة شيء أو من تربیته، أو بتفقده أو كثرة خدمته له أو قيامه بأمره : هو ابنه، نحو : فلان ابن الحرب، وابن السبیل للمسافر، وابن اللیل، وابن العلم، قال الشاعر أولاک بنو خير وشرّ كليهما وفلان ابن بطنه وابن فرجه : إذا کان همّه مصروفا إليهما، وابن يومه : إذا لم يتفكّر في غده . قال تعالی: وَقالَتِ الْيَهُودُ : عُزَيْرٌ ابْنُ اللَّهِ ، وَقالَتِ النَّصاری: الْمَسِيحُ ابْنُ اللَّهِ [ التوبة/ 30] وقال تعالی: إِنَّ ابْنِي مِنْ أَهْلِي [هود/ 45] ، إِنَّ ابْنَكَ سَرَقَ [يوسف/ 81] ، وجمع ابْن : أَبْنَاء وبَنُون، قال عزّ وجل : وَجَعَلَ لَكُمْ مِنْ أَزْواجِكُمْ بَنِينَ وَحَفَدَةً [ النحل/ 72] ، وقال عزّ وجلّ : يا بَنِيَّ لا تَدْخُلُوا مِنْ بابٍ واحِدٍ [يوسف/ 67] ، يا بَنِي آدَمَ خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ [ الأعراف/ 31] ، يا بَنِي آدَمَ لا يَفْتِنَنَّكُمُ الشَّيْطانُ [ الأعراف/ 27] ، ويقال في مؤنث ابن : ابْنَة وبِنْت، وقوله تعالی: هؤُلاءِ بَناتِي هُنَّ أَطْهَرُ لَكُمْ [هود/ 78] ، وقوله : لَقَدْ عَلِمْتَ ما لَنا فِي بَناتِكَ مِنْ حَقٍّ [هود/ 79] ، فقد قيل : خاطب بذلک أکابر القوم وعرض عليهم بناته «1» لا أهل قریته كلهم، فإنه محال أن يعرض بنات له قلیلة علی الجمّ الغفیر، وقیل : بل أشار بالبنات إلى نساء أمته، وسماهنّ بنات له لکون کلّ نبيّ بمنزلة الأب لأمته، بل لکونه أكبر وأجل الأبوین لهم كما تقدّم في ذکر الأب، وقوله تعالی: وَيَجْعَلُونَ لِلَّهِ الْبَناتِ [ النحل/ 57] ، هو قولهم عن اللہ : إنّ الملائكة بنات اللہ . الابن ۔ یہ اصل میں بنو ہے کیونکہ اس کی جمع ابناء اور تصغیر بنی آتی ہے ۔ قرآن میں ہے : يا بُنَيَّ لا تَقْصُصْ رُؤْياكَ عَلى إِخْوَتِكَ [يوسف/ 5] کہ بیٹا اپنے خواب کا ذکر اپنے بھائیوں سے نہ کرنا ۔ يا بُنَيَّ إِنِّي أَرى فِي الْمَنامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ [ الصافات/ 102] کہ بیٹا میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ ( گویا ) تم کو ذبح کررہاہوں ۔ يا بُنَيَّ لا تُشْرِكْ بِاللَّهِ [ لقمان/ 13] کہ بیٹا خدا کے ساتھ شریک نہ کرنا ۔ يا بنيّ لا تعبد الشیطانبیٹا شیطان کی عبادت نہ کرنا ۔ اور بیٹا بھی چونکہ اپنے باپ کی عمارت ہوتا ہے اس لئے اسے ابن کہا جاتا ہے ۔ کیونکہ باپ کو اللہ تعالٰٰ نے اس کا بانی بنایا ہے اور بیٹے کی تکلیف میں باپ بمنزلہ معمار کے ہوتا ہے اور ہر وہ چیز جو دوسرے کے سبب اس کی تربیت دیکھ بھال اور نگرانی سے حاصل ہو اسے اس کا ابن کہا جاتا ہے ۔ نیز جسے کسی چیز سے لگاؤ ہوا است بھی اس کا بن کہا جاتا جسے : فلان ابن حرب ۔ فلان جنگ جو ہے ۔ ابن السبیل مسافر ابن اللیل چور ۔ ابن العلم پروردگار وہ علم ۔ شاعر نے کہا ہے ع ( طویل ) یہ لوگ خیر وزر یعنی ہر حالت میں اچھے ہیں ۔ فلان ابن بطنہ پیٹ پرست فلان ابن فرجہ شہوت پرست ۔ ابن یومہ جو کل کی فکر نہ کرے ۔ قرآن میں ہے : وَقالَتِ الْيَهُودُ : عُزَيْرٌ ابْنُ اللَّهِ ، وَقالَتِ النَّصاری: الْمَسِيحُ ابْنُ اللَّهِ [ التوبة/ 30] اور یہود کہتے ہیں کہ عزیز خدا کے بیٹے ہیں اور عیسائی کہتے میں کہ مسیح خدا کے بیٹے ہیں ۔ إِنَّ ابْنِي مِنْ أَهْلِي [هود/ 45] میرا بیٹا بھی میرے گھر والوں میں ہے ۔ إِنَّ ابْنَكَ سَرَقَ [يوسف/ 81] کہ اب آپکے صاحبزادے نے ( وہاں جاکر ) چوری کی ۔ ابن کی جمع ابناء اور بنون آتی ہے قرآن میں ہے : ۔ وَجَعَلَ لَكُمْ مِنْ أَزْواجِكُمْ بَنِينَ وَحَفَدَةً [ النحل/ 72] اور عورتوں سے تمہارے بیٹے اور پوتے پیدا کئے يا بَنِيَّ لا تَدْخُلُوا مِنْ بابٍ واحِدٍ [يوسف/ 67] کہ بیٹا ایک ہی دروازے سے داخل نہ ہونا ۔ يا بَنِي آدَمَ خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ [ الأعراف/ 31] ( 3 ) اے نبی آدم ہر نماز کے وقت اپنے تیئں مزین کیا کرو ۔ يا بَنِي آدَمَ لا يَفْتِنَنَّكُمُ الشَّيْطانُ [ الأعراف/ 27] اے نبی آدم ( دیکھنا کہیں ) شیطان تمہیں بہکانہ دے ۔ اور ابن کی موئث ابنۃ وبنت اور ان کی جمع اور ابن کی موئث ابنۃ وبنت اور ان کی جمع بنات آتی ہے قرآن میں ہے : ۔ هؤُلاءِ بَناتِي هُنَّ أَطْهَرُ لَكُمْ [هود/ 78] ( جو ) میری ) قوم کی ) لڑکیاں ہیں تمہارے لئے جائز اور ) پاک ہیں ۔ لَقَدْ عَلِمْتَ ما لَنا فِي بَناتِكَ مِنْ حَقٍّ [هود/ 79] تمہاری ۃ قوم کی ) بیٹیوں کی ہمیں کچھ حاجت نہیں ۔ بعض کہتے ہیں کہ حضرت لوط (علیہ السلام) نے اکابر قوم خطاب کیا تھا اور ان کے سامنے اپنی بیٹیاں پیش کی تھیں ۔ مگر یہ ناممکن سی بات ہے کیونکہ نبی کی شان سے بعید ہے کہ وہ اپنی چند لڑکیاں مجمع کثیر کے سامنے پیش کرے اور بعض نے کہا ہے کہ بنات سے ان کی قوم کی عورتیں مراد ہیں اور ان کو بناتی اس لئے کہا ہے کہ ہر نبی اپنی قوم کے لئے بمنزلہ باپ کے ہوتا ہے بلکہ والدین سے بھی اس کا مرتبہ بڑا ہوتا ہے جیسا کہ اب کی تشریح میں گزر چکا ہے اور آیت کریمہ : وَيَجْعَلُونَ لِلَّهِ الْبَناتِ [ النحل/ 57] اور یہ لوگ خدا کے لئے تو بیٹیاں تجویز کرتے ہیں ۔ کے مونی یہ ہیں کہ وہ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتی ہیں ۔
لہذا یہ اپنے دعوے پر کوئی صاف دلیل پیش کریں کیا اللہ کے لیے بیٹیاں تجویز کی جائیں جبکہ خود اپنے لیے ان کا ہونا پسند نہیں کرتے ہو اور تمہارے لیے بیٹے تجویز ہوں۔
آیت ٣٩{ اَمْ لَہُ الْبَنٰتُ وَلَـکُمُ الْبَنُوْنَ ۔ } ” کیا اس کے لیے تو بیٹیاں ہیں اور تمہارے لیے بیٹے ؟ “
30 A detailed reasoning has been compressed into these brief sentences. It means to say "If you deny what the Prophet says, then what means have you got to know the reality? Has any of you had access to the heavens where he found out directly from Allah or His angels that the beliefs on which you have based your religion are absolutely in accord with the reality ? If someone makes this claim he should come forward and tell as to when and how he had access to the heavens and what knowledge he has brought from there. If you do not make any such claim, then consider how ridiculous is your crced that you assign children to AIIah, Lord of the worlds, and that too daughters, whore you regard as disgraceful for yourselves. Without knowledge you arc wandering in the darkness of such errors and turning hostile to the person who bring you the light of knowledge from God. "
سورة الطُّوْر حاشیہ نمبر :30 ان مختصر فقروں میں ایک بڑے مفصل استدلال کو سمو دیا گیا ہے ۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ اگر تمہیں رسول کی بات ماننے سے انکار ہے تو تمہارے پاس خود حقیقت کو جاننے کا آخر ذریعہ کیا ہے ؟ کیا تم میں سے کوئی شخص عالم بالا میں پہنچا ہے اور اللہ تعالیٰ ، یا اس کے فرشتوں سے اس نے براہ راست یہ معلوم کر لیا ہے کہ وہ عقائد بالکل حقیقت کے مطابق ہیں جن پر تم لوگ اپنے دین کی بنا رکھے ہوئے ہو؟ یہ دعویٰ اگر کسی کو ہے تو وہ سامنے آئے اور بتائے کہ اسے کب اور کیسے عالم بالا تک رسائی حاصل ہوئی ہے اور کیا علم وہ وہاں سے لے کر آیا ہے ۔ اور اگر یہ دعویٰ تم نہیں رکھتے تو پھر خود ہی غور کرو کہ اس سے زیادہ مضحکہ انگیز عقیدہ اور کیا ہو سکتا ہے کہ تم اللہ رب العالمین کے لیے اولاد تجویز کرتے ہو ، اور اولاد بھی لڑکیاں ، جنہیں تم خود اپنے لیے باعث ننگ و عار سمجھتے ہو؟ علم کے بغیر اس قسم کی صریح جہالتوں کے اندھیرے میں بھٹک رہے ہو ، اور خدا کی طرف سے جو شخص علم کی روشنی تمہارے سامنے پیش کرتا ہے اس کی جان کے دشمن ہوئے جاتے ہو ۔
(52:39) ام لکم البنت ولکم البنون : ام منقطہ انکار اور زجروتوبیخ کے لئے آیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی بےعقلی اور حماقت بیان فرماتا ہے اور فرماتا ہے کہ عقل کے اندھوں نے کیا بودی اور بےڈھبی تقسیم کر رکھی ہے کہ اپنے لئے تو بیٹے پسند کئے ہیں اور اللہ کے لئے بیٹیاں۔ حالانکہ اگر ان کے ہاں بیٹیاں پیدا ہوجائیں تو شرم کے مارے منہ نہیں دکھاتے عجب ذہنیت ہے کہ جسے اپنے لئے ناپسند کرتے ہیں وہ اللہ کے حصے میں ڈال دیتے ہیں۔ فائدہ : اوپر مشرکین کو صیغہ غائب سے خطاب کیا جارہا ہے اس آیت میں ام منقطعہ کے زجر و توبیخ کی شدت کے اظہار کے لئے صیغہ حاضر استعمال ہوا ہے یعنی اللہ کی طرف سے ان کی حماقت اور سفیہ العقلی کو ان کے ذہن نشین کرانے کے لئے سامنے لاکھڑا کرکے ان سے بلاواسطہ خطاب کیا کہ تم بڑے ہی بیوقوف ہو جو ایسی تقسیم کو اختیار کرتے ہو۔ اگلی ہی آیت میں پھر حاضر سے غیب کی طرف التفات مزید زجر و توبیخ میں۔ شدت پیدا کرنے کے لئے ہے کہ چلو ہٹو میری نظر سے دور ہوجاؤ۔ تم اس قابل ہی نہیں ہو کہ بالمواجہ تم سے کلام کیا جائے۔ لہ میں ضمیر واحد مذکر غائب اللہ تعالیٰ کی طرف راجع ہے۔
ف 1 یہ اس طرف اشارہ ہے کہ بہت مشرکین عرب فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں سمجھتے تھے جیسا کہ دوسری متعدد آیات میں ان کے اس عقیدے کا ذکر کر کے اس کا باطل ہونا ثابت کیا گیا ہے۔
6۔ یعنی اپنے لئے تو وہ چیز پسند کرتے ہو جس کو اعلی درجہ کا سمجھتے ہو، اور خدا کے لئے وہ چیز تجویز کرتے ہو جس کو ادنی درجہ کا سمجھتے ہو۔
ام لہ ........ البنون (٢٥ : ٩٣) ” کیا اللہ کے لئے تو بیٹیاں ہیں اور تم لوگوں کے لئے ہیں بیٹے “ ان کے خیال میں بیٹیاں بیٹوں سے کم درجے کی مخلوق تھیں۔ یہاں تک کہ جب کسی کو بتایا جاتا کہ اس کے ہاں بیٹی پیدا ہوئی ہے تو وہ غم پریشانی اور ناپسندیدگی کی وجہ سے سیاہ رو ہوجاتا تھا لیکن اپنے ان خیالات کے باوجود وہ اللہ کی طرف بیٹیوں کی نسبت میں شرم محسوس نہ کرتے تھے۔ یہاں اللہ خود ان کے رواج اور رسم کے مطابق ان پر اعتراض کرتا ہے تاکہ وہ ذرا اپنے اس دعویٰ پر شرم محسوس کریں حالانکہ ان کا یہ خیال بھی غلط اور قابل اصلاح تھا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو اسلام کی دعوت دیتے تھے۔ اسے وہ ایک بڑا بوجھ محسوس کرتے تھے حالانکہ آپدعوت خالص فی سبیل اللہ دیتے تھے۔ کوئی اجر طلب نہ فرماتے تھے نہ ان پر کوئی ٹیکس لگانا چاہتے تھے۔ ان کو چاہئے تو یہ تھا کہ اس مفت تعلیم کی وجہ سے حضور کے ساتھ احسان کرتے اور اگر قبول نہ کرتے تھے تو بھی شریفانہ انداز میں اسے قبول نہ کرتے۔ لہٰذا ان کا رویہ بالکل بےجواز ہے۔
پھر فرمایا ﴿ اَمْ لَهُ الْبَنٰتُ وَ لَكُمُ الْبَنُوْنَؕ٠٠٣٩﴾ (کیا س کے لیے بیٹیاں اور تمہارے لیے بیٹے ہیں) قریش مکہ اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد تجویز کرتے تھے اور فرشتوں کو بنات اللہ کہتے تھے اور جب ان کے سامنے ان کے اپنے ہاں بیٹیاں پیدا ہونے کی بات آتی تھی تو اس کو برا مانتے تھے، اس آیت میں ان کی بیوقوفی بتادی کہ جس چیز کو اپنے لیے ناپسند کرتے ہو اسے اللہ کے لیے تجویز کرتے ہو، جن لوگوں کی سمجھ کا یہ حال ہے کیا انہیں یہ حق ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ پر اعتراض کریں کہ ہماری سمجھ کے مطابق کسی کو نبی کیوں نہیں بنایا گیا، نیز یہ لوگ وقوع قیامت کا انکار کرتے ہیں یہ بھی ان کی بیوقوفی ہے۔ علامہ قرطبی رحمتہ اللہ فرماتے ہیں : سفہ احلامھم توبیخالھم وتقریعا ای اتضیفون الی اللّٰہ البنات مع انفتکم منھن ومن کان عقلہ ھکذا خلا یستعدمنہ انکالی البعث۔
19:۔ ” ام لہ البنات۔ الایۃ “ یہ ان کی جہالت و حماقت کا بیان ہے کہ بیٹیوں کو اپنے لیے تو پسند نہیں کرتے، لیکن فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہتے ہیں اور ان کو خدا کی بارگاہ میں سفارشی سمجھ کر پکارتے ہیں۔ ” ام تسئلہم اجرا۔ الایۃ “ کیا ان کے انکار کی وجہ یہ ہے کہ آپ تعلیم وتبلیغ اور وعظ و نصیحت پر ان سے تنخواہ یا کوئی معاوضہ مانگتے ہیں ؟ اور انہیں اس تاوان کے بوجھ تلے دب جانے کا اندیشہ ہے کہ اگر مان لیا تو تنخواہ دینی پڑے گی۔ بات اصل وہی ہے کہ عناد و طغیان کی وجہ سے نہیں مانتے۔