Surat ut Toor

Surah: 52

Verse: 46

سورة الطور

یَوۡمَ لَا یُغۡنِیۡ عَنۡہُمۡ کَیۡدُہُمۡ شَیۡئًا وَّ لَا ہُمۡ یُنۡصَرُوۡنَ ﴿ؕ۴۶﴾

The Day their plan will not avail them at all, nor will they be helped.

جس دن انہیں ان کا مکر کچھ کام نہ دے گا اور نہ وہ مدد کئے جائیں گے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

يَوْمَ لاَ يُغْنِي عَنْهُمْ كَيْدُهُمْ شَيْيًا ... The Day when their plotting shall not avail them at all, meaning, on the Day of Resurrection, their deceit and plots they planned in this life shall not help them in the least, ... وَلاَ هُمْ يُنصَرُونَ nor will they be helped. Allah the Exalted said,

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(١) وان للذین ظلموا عذاباً دون ذلک : یعنی کفار کے لئے قیامت سے پہلے بھی ایک عذاب ہے ۔ اس سے مراد دنیا میں آنے والے عذاب ہیں۔ دیکھیے سورة توبہ (١٢٦) اور سورة سجدہ (٢١) کی تفسیر۔ (٢) ولکن اکثرھم لایعلمون : یعنی دنیا میں ان پر مختلف مصیبتیں اور عذب آتے ہیں، جن کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ پلٹ آئیں اور توبہ کرلیں، مگر ان میں سے زیادہ تر لوگ نہیں جانتے کہ ہم پر یہ مصیبتیں کیوں آئیں۔ اس لئے جیسے ہی گرفت ڈھیلی ہوتی ہے پہلے کی طرح بلکہ اس سے بھی زیادہ نافرمان بن جاتے ہیں اور عذاب کو نہ عذاب سمجھتے ہیں نہ تنبیہ، بلکہ وہ عذاب کا کوئی سائنسی سبب اور نافرمانی پر جمے رہنے کا کوئی نہ کوئی بہانہ ڈھونڈ لیتے ہیں۔ بعض اہل علم نے یہاں ”” ون ذلک “ (قیامت سے پہلے) کے الفاظ میں دنیا کے عذابوں کے علاوہ موت کے فرشتوں کی مار کو اور عذاب قبر کو بھی شامل فرمایا ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

يَوْمَ لَا يُغْنِيْ عَنْہُمْ كَيْدُہُمْ شَيْــــًٔا وَّلَا ہُمْ يُنْصَرُوْنَ۝ ٤٦ ۭ غنی( فایدة) أَغْنَانِي كذا، وأغْنَى عنه كذا : إذا کفاه . قال تعالی: ما أَغْنى عَنِّي مالِيَهْ [ الحاقة/ 28] ، ما أَغْنى عَنْهُ مالُهُ [ المسد/ 2] ، لَنْ تُغْنِيَ عَنْهُمْ أَمْوالُهُمْ وَلا أَوْلادُهُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئاً [ آل عمران/ 10] ، ( غ ن ی ) الغنیٰ اور اغنانی کذا اور اغنی کذا عنہ کذا کسی چیز کا کا فی ہونا اور فائدہ بخشنا ۔ قر آں میں ہے : ما أَغْنى عَنِّي مالِيَهْ [ الحاقة/ 28] میرا مال میرے کچھ کام نہ آیا ما أَغْنى عَنْهُ مالُهُ [ المسد/ 2] تو اس کا مال ہی اس کے کچھ کام آیا ۔۔۔۔ لَنْ تُغْنِيَ عَنْهُمْ أَمْوالُهُمْ وَلا أَوْلادُهُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئاً [ آل عمران/ 10] نہ تو ان کا مال ہی خدا کے عذاب سے انہیں بچا سکے گا اور نہ ان کی اولاد ہی کچھ کام آئیگی كيد الْكَيْدُ : ضرب من الاحتیال، وقد يكون مذموما وممدوحا، وإن کان يستعمل في المذموم أكثر، وکذلک الاستدراج والمکر، ويكون بعض ذلک محمودا، قال : كَذلِكَ كِدْنا لِيُوسُفَ [يوسف/ 76] ( ک ی د ) الکید ( خفیہ تدبیر ) کے معنی ایک قسم کی حیلہ جوئی کے ہیں یہ اچھے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے اور برے معنوں میں بھی مگر عام طور پر برے معنوں میں استعمال ہوتا ہے اسی طرح لفظ استد راج اور مکر بھی کبھی اچھے معنوں میں فرمایا : ۔ كَذلِكَ كِدْنا لِيُوسُفَ [يوسف/ 76] اسی طرح ہم نے یوسف کے لئے تدبیر کردی ۔ نصر النَّصْرُ والنُّصْرَةُ : العَوْنُ. قال تعالی: نَصْرٌ مِنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ [ الصف/ 13] وَما لَهُمْ فِي الْأَرْضِ مِنْ وَلِيٍّ وَلا نَصِيرٍ [ التوبة/ 74] ، وَكَفى بِاللَّهِ وَلِيًّا وَكَفى بِاللَّهِ نَصِيراً [ النساء/ 45] ، ما لَكُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ مِنْ وَلِيٍّ وَلا نَصِيرٍ [ التوبة/ 116] ( ن ص ر ) النصر والنصر کے معنی کسی کی مدد کرنے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ نَصْرٌ مِنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ [ الصف/ 13] خدا کی طرف سے مدد نصیب ہوگی اور فتح عنقریب ہوگی إِذا جاءَ نَصْرُ اللَّهِ [ النصر/ 1] جب اللہ کی مدد آپہنچی

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٤٦{ یَوْمَ لَا یُغْنِیْ عَنْہُمْ کَیْدُہُمْ شَیْئًا وَّلَا ہُمْ یُنْصَرُوْنَ ۔ } ” جس دن ان کی چالیں ان کے کسی کام نہ آسکیں گی اور نہ ہی ان کی کوئی مدد ہی ہوگی۔ “ ان کی ساری چالیں ناکام ہوجائیں گی اور کوئی مددگار ان کی مدد کو نہ پہنچ سکے گا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(52:46) یوم لا یغنی : بدل ہے یومہم سے۔ یعنی وہ دن جب ان کی فریب کاری ان کے کسی کام نہ آئے گی۔ لایغنی مضارع منفی واحد مذکر غائب اغناء (افعال) مصدر ۔ کام نہ آئیگا۔ فائدہ نہیں پہنچائے گا، دفع نہیں کرے گا۔ کیدہم : مضاف مضاف الیہ ۔ ان کی چال۔ ان کی تدبیر، ان کی فریب کاری۔ شیئا : یہ مفعول مطلق ہے یعنی کسی قسم کا فائدہ۔ (مفعول بہٖ نہیں ہے) ولاہم ینصرون : اور نہ ان کی مدد کی جائے گی۔ ینصرون مضارع مجہول جمع مذکر غائب۔ نصر (باب نصر) مصدر سے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

3۔ یعنی نہ تو مخلوق کی طرف سے مدد ملے گی کہ اس کا امکان ہی نہیں، اور نہ خالق کی طرف سے کہ اس کا وقوع نہیں، یعنی اس روز کو حقیقت معلوم ہوجائے گا۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

﴿ يَوْمَ لَا يُغْنِيْ عَنْهُمْ كَيْدُهُمْ شَيْـًٔا ﴾ (جس دن ان کی کوئی تدبیر ان کے کوئی کام نہ آئے گی) ﴿ وَّ لَا هُمْ يُنْصَرُوْنَؕ٠٠٤٦﴾ (اور نہ ان کی کوئی مدد کی جائے گی) ۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(46) اس دن ان کو ان کا مکرو فریب اور چالیں چلنی ان کو کچھ بھی فائدہ نہ پہنچا سکیں گی اور ان کے ذرا بھی کام نہآئیں گی اور نہ کہیں سے ان کو مدد پہنچے گی۔ یعنی جب ان کی سرکشی کی یہ حالت ہے تو ان سے کوئی توقع نہ رکھیئے اور ان کو ان کی حالت پر چھوڑ دیجئے یہاں تک کہ ان پر قیامت آجائے آگے قیامت کا ذکر فرمایا کہ اس دن ہوش و حواس صحیح نہ رہیں گے یا قبروں سے اٹھتے وقت اس دن کی ہولناکی کو دیکھ کر بےہوش ہوجائیں گے جیسا کہ سورة زمر کے آخر میں گزرچکا ہے اس دن ان کی چالیں بھی بیکار ہوجائیں گی اور مدد کی بھی کوئی شکل نہ ہوگی۔