Surat ut Toor
Surah: 52
Verse: 7
سورة الطور
اِنَّ عَذَابَ رَبِّکَ لَوَاقِعٌ ۙ﴿۷﴾
Indeed, the punishment of your Lord will occur.
بیشک آپ کے رب کا عذاب ہو کر رہنے والا ہے ۔
اِنَّ عَذَابَ رَبِّکَ لَوَاقِعٌ ۙ﴿۷﴾
Indeed, the punishment of your Lord will occur.
بیشک آپ کے رب کا عذاب ہو کر رہنے والا ہے ۔
Verily, the torment of your Lord will surely come to pass. contains the subject of the vow, indicating that His torment will surely strike the disbelievers, as Allah stated in another Ayah; مَا لَهُ مِن دَافِعٍ
[٦] پانچ قسموں کی تفصیل :۔ مذکورہ بالا پانچ چیزوں کی قسم کھاتے ہوئے یا انہیں بطور شہادت پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ قیامت اور اس کا عذاب واقع ہو کے رہے گا جس کا مطلب یہ ہے کہ پانچوں چیزیں کسی اہم مفید اور قدرت کاملہ پر دلالت کرتی ہیں۔ پھر اسی قدرت کاملہ سے انسان کو یہ یقین حاصل ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ فی الواقع قیامت بپا کرنے پر قادر ہے۔ (١) طور وہ مقام ہے جہاں سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو نبوت عطا ہوئی اور اسی رات اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ صادر کردیا تھا کہ بنی اسرائیل کو فرعون جیسے جابر بادشاہ کی غلامی سے آزاد کیا جائے گا۔ چناچہ یہ آزادی انہیں نصیب ہوئی اور ان کا دشمن غرق ہوا۔ (٢) تمام کتب سماویہ جو اہل کتاب کے ہاں موجود تھیں سب میں صراحت کے ساتھ آخرت کے یقینی ہونے کا ذکر موجود تھا (٣) کعبہ کی رونق اور آبادی، کعبہ کی ابرہہ یا اصحاب الفیل سے حفاظت، کعبہ کی تولیت کی بنا پر قریش مکہ کا عرب بھر میں عزت و احترام اور سیاسی برتری سب چیزیں اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ اس کی پشت پر کوئی زبردست قوت موجود ہے (٤) اسی اونچی چھت کو دوسرے مقام پر محفوظ چھت بھی کہا گیا ہے یعنی فضائے بسیط میں لاتعداد شہاب ہر وقت ٹوٹتے اور گرتے رہتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ ایسا انتظام کردیا ہے کہ زمین پر گرنے سے پہلے ہی ختم ہوجاتے ہیں اور انسان ایسی بلاؤں سے محفوظ رہتے ہیں، (٥) اس بھرے ہوئے سمندر کو اللہ نے کس طرح روک اور باندھ رکھا ہے۔ یہ ممکن تھا کہ سمندر کا سارا پانی زمین میں جذب ہوجاتا پھر نہ بخارات بنتے نہ بارش ہوتی اور نہ پیداوار۔ اس طرح تمام جاندار مخلوق کو کھانا تو درکنار پانی بھی پینے کو نہ ملتا۔ نیز اللہ تعالیٰ نے سمندر کو اس بات سے بھی روک رکھا ہے کہ وہ جوش میں آکر روئے زمین پر پھیل جائے اور سطح زمین کو غرقاب کردے۔ ان سب چیزوں کو شہادت کے طور پر پیش کرکے فرمایا کہ وہ عذاب واقع ہو کر رہے گا۔
(ان عذاب ربک لواقع) یہ جواب قسم ہے، جس کا یقین دلانے کے لئے پانچوں قسمیں کھائی گی ہیں۔
إِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ لَوَاقِعٌ مَّا لَهُ مِن دَافِعٍ (the punishment of your Lord is sure to fall. There is nothing to push it back,....52:7-8) Verses 1-6 constituted swearing of an oath, and the present verse is jawab-ul-qasam or the fact for which the oath is sworn, assuring that the torment of Allah will come to pass, and none will be able to avert it. The Incident of Sayyidna ` Umar (رض) Sayyidna ` Umar (رض) one day recited Surah Tur. When he came to these verses, he heaved a cool sigh after which he fell ill for about twenty days. During his illness the people would visit him, not knowing what caused his illness. (Ibn Kathir) Sayyidna Jubair Ibn Mut&im (رض) says that before embracing Islam, he once went to the holy city of Madinah to negotiate regarding the prisoners of the battle of Badr. When he arrived there, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was reciting Surah Tur in Maghrib salah and his voice could be heard outside the mosque. When he recited verses [ 7] and [ 81: &The punishment of your Lord is sure to fall. There is nothing to push it back,& He suddenly felt that his heart would burst through fear. He instantly embraced Islam. He felt at the time that he would not be able to move unless the torment would descend on him. (Qurtubi)
اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ لَوَاقِعٌ مَّا لَهٗ مِنْ دَافِعٍ (بیشک آپ کے رب کا عذاب واقع ہو کر رہے گا اس کو کوئی دفع کرنے والا نہیں) یہ جواب قسم ہے اور طور، صحائف، اعمال، بیت المعمور، آسمان، سمندر کی جس مضمون کے لئے قسم کھائی ہے اس کا یہ بیان ہے کہ کفار کے اوپر اللہ کا عذاب ضرور واقع ہوگا۔ واقعہ فاروق اعظم : حضرت فاروق اعظم نے ایک روز سورة طور پڑھی جب اس آیت پر پہنچے تو ایک آہ سرد بھری، جس کے بعد بیس روز تک بیمار رہے، لوگ عیادت کو آتے، مگر یہ کسی کو معلوم نہ ہوسکا کہ بیماری کیا ہے (ابن کثیر) حضرت جبیر بن مطعم فرماتے ہیں کہ میں مسلمان ہونے سے پہلے ایک مرتبہ مدینہ طیبہ اس لئے آیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بدر کے قیدیوں کے متعلق گفتگو کروں، میں پہنچا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مغرب کی نماز میں سورة طور پڑھ رہے تھے اور آواز مسجد سے باہر تک پہنچ رہی تھی، جب یہ آیت پڑھی اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ لَوَاقِعٌ مَّا لَهٗ مِنْ دَافِعٍ ، اچانک میری یہ حالت ہوئی کہ گویا میرا دل خوف سے پھٹ جائے گا، میں نے فوراً اسلام قبول کیا، مجھے اس وقت یہ محسوس ہو رہا تھا کہ میں اس جگہ سے ہٹ نہیں سکوں گا کہ مجھ پر عذاب آجائے گا (قرطبی)
اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ لَوَاقِعٌ ٧ ۙ عذب والعَذَابُ : هو الإيجاع الشّديد، وقد عَذَّبَهُ تَعْذِيباً : أكثر حبسه في العَذَابِ. قال : لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذاباً شَدِيداً [ النمل/ 21] واختلف في أصله، فقال بعضهم : هو من قولهم : عَذَبَ الرّجلُ : إذا ترک المأكل والنّوم فهو عَاذِبٌ وعَذُوبٌ ، فَالتَّعْذِيبُ في الأصل هو حمل الإنسان أن يُعَذَّبَ ، أي : يجوع ويسهر، ( ع ذ ب ) العذاب سخت تکلیف دینا عذبہ تعذیبا اسے عرصہ دراز تک عذاب میں مبتلا رکھا ۔ قرآن میں ہے ۔ لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذاباً شَدِيداً [ النمل/ 21] میں اسے سخت عذاب دوں گا ۔ لفظ عذاب کی اصل میں اختلاف پا یا جاتا ہے ۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ عذب ( ض ) الرجل کے محاورہ سے مشتق ہے یعنی اس نے ( پیاس کی شدت کی وجہ سے ) کھانا اور نیند چھوڑدی اور جو شخص اس طرح کھانا اور سونا چھوڑ دیتا ہے اسے عاذب وعذوب کہا جاتا ہے لہذا تعذیب کے اصل معنی ہیں کسی کو بھوکا اور بیدار رہنے پر اکسانا رب الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] ( ر ب ب ) الرب ( ن ) کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ کسی نے کہا ہے ۔ لان یربنی رجل من قریش احب الی من ان یربنی رجل من ھوازن ۔ کہ کسی قریشی کا سردار ہونا مجھے اس سے زیادہ عزیز ہے کہ بنی ہوازن کا کوئی آدمی مجھ پر حکمرانی کرے ۔ رب کا لفظ اصل میں مصدر ہے اور استعارۃ بمعنی فاعل استعمال ہوتا ہے اور مطلق ( یعنی اصافت اور لام تعریف سے خالی ) ہونے کی صورت میں سوائے اللہ تعالیٰ کے ، جو جملہ موجودات کے مصالح کا کفیل ہے ، اور کسی پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا چناچہ ارشاد ہے :۔ بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] عمدہ شہر اور ( آخرت میں ) گنا ه بخشنے والا پروردگار ،۔ وقع الوُقُوعُ : ثبوتُ الشیءِ وسقوطُهُ. يقال : وَقَعَ الطائرُ وُقُوعاً ، والوَاقِعَةُ لا تقال إلّا في الشّدّة والمکروه، وأكثر ما جاء في القرآن من لفظ «وَقَعَ» جاء في العذاب والشّدائد نحو : إِذا وَقَعَتِ الْواقِعَةُ لَيْسَ لِوَقْعَتِها كاذِبَةٌ [ الواقعة/ 1- 2] ، ( و ق ع ) الوقوع کے معنی کیس چیز کے ثابت ہونے اور نیچے گر نے کے ہیں چناچہ محاورہ ہے : ۔ وقع الطیر وقوعا پر ندا نیچے گر پڑا ۔ الواقعۃ اس واقعہ کو کہتے ہیں جس میں سختی ہو اور قرآن پاک میں اس مادہ سے جس قدر مشتقات استعمال ہوئے ہیں وہ زیادہ تر عذاب اور شدائد کے واقع ہونے کے متعلق استعمال ہوئے ہیں چناچہ فرمایا ۔ إِذا وَقَعَتِ الْواقِعَةُ لَيْسَ لِوَقْعَتِها كاذِبَةٌ [ الواقعة/ 1- 2] جب واقع ہونے والی واقع ہوجائے اس کے واقع ہونے میں کچھ جھوٹ نہیں ۔
(٧۔ ١٢) غرض کہ ان تمام قسموں کے بعد ارشاد ہوا کہ قیامت کے دن بالخصوص قریش پر آپ کے رب کا عذاب ضرور ہوگا کوئی اس عذاب کو ٹال نہیں سکتا جس روز آسمان اور آسمان والوں کو لے کرچکی کی طرح گردش کرنے لگے گا اور تمام مخلوق کانپ ٹھے گی اور پہاڑ زمین پر سے ہٹ کر بادلوں کی طرح فضا میں لچنے لگیں گے۔ سو جو لوگ خصوصا ابو جہل وغیرہ رسالت اور قرآن کریم کا انکار کرنے والے ہیں ان کو قیامت میں سخت ترین عذاب ہوگا اور جو کہ تکذیب کے مشغلہ میں بےہودگی کے ساتھ لگے رہے ہیں۔
آیت ٧{ اِنَّ عَذَابَ رَبِّکَ لَوَاقِعٌ ۔ } ” تیرے رب کا عذاب یقینا واقع ہو کر رہے گا ۔ “ اس سے قیامت کا سخت دن مراد ہے جس کے اٹل ہونے کی حقیقت کو سورة الشوریٰ کی آیت ٤٧ میں { یَوْمٌ لاَّ مَرَدَّ لَـہٗ } ” وہ دن جسے لوٹایا نہ جاسکے گا “ کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔
1: پچھلی سورت کے شروع میں قرآنِ کریم کی قسموں پر جو حاشیہ ہم نے دیا ہے، اُسے یہاں بھی ملاحظہ فرمالیا جائے۔ یہاں اﷲ تعالیٰ نے پانچ چیزوں کی قسم کھائی ہے، پہلے کوہِ طور کی جس پر حضرت موسیٰ علیہ السلام اﷲ تعالیٰ سے ہم کلام ہوئے، اور اﷲ تعالیٰ نے اُنہیں تورات عطا فرمائی۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ آخرت میں نافرمانوں کو عذاب ہونا کوئی نئی بات نہیں ہے، بلکہ کوہ طور پر جو کتاب حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دی گئی تھی، وہ بھی اس بات کی گواہ ہے، دوسری قسم ایک کتاب کی کھائی گئی ہے جو ایک صحیفے میں لکھی ہوئی ہے۔ اس سے مراد بعض مفسرین کے نزدیک تورات ہے، اُس صورت میں اس قسم کا بھی آخرت کے عذاب سے وہی تعلق ہے جو کوہ طور کا عرض کیا گیا۔ البتہ بعض مفسرین نے اس سے مراد نامۂ اعمال لیا ہے۔ اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ اِنسانوں کا جو نامۂ اعمال ہر آن لکھا جارہا ہے، وہ اس بات کی دلیل ہے کہ کسی وقت حساب و کتاب ہوگا، اور نافرمانوں کو ان کے اعمال کی سزا ملے گی۔ تیسری قسم بیتِ معمور کی کھائی گئی ہے۔ یہ عالمِ بالا میں ایک ایسا ہی گھر ہے جیسا دُنیا میں بیت اللہ ہے۔ عالمِ بالا کا یہ گھر فرشتوں کی عبادت گاہ ہے۔ اس کی قسم کھاکر اشارہ فرمایا گیا ہے کہ فرشتے اگرچہ اِنسانوں کی طرح مکلف نہیں، لیکن وہ پھر بھی عبادت میں لگے ہوئے ہیں۔ اِنسان تو مکلف اسی لئے بنایا گیا ہے کہ وہ اﷲ تعالیٰ کی عبادت کرے، اور اگر نہیں کرے گا تو سزا کے لائق ہوگا۔ چوتھی قسم اُونچی چھت یعنی آسمان کی اور پانچویں قسم بھرے ہوئے سمندر کی کھائی گئی ہے۔ اس میں یہ اشارہ ہے کہ اگر جزا وسزا نہ ہو تو اس کائنات کا جس کے اُوپر آسمان اور نیچے سمندر اﷲ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں ہیں، پیدا کرنے کا کوئی مقصد نہیں رہتا، نیز یہ کہ جو ذات اتنی عظیم چیزیں پیدا کرنے پر قادر ہے، وہ یقینا اِنسانوں کو دُوسری زندگی دینے پر بھی قادر ہے۔
(52:7) ان عذاب ربک لواقع۔ یہ جملہ جواب قسم ہے ان حرف مشبہ بالفعل عذاب اسم ان عذاب مضاف۔ ربک مضاف مضاف الیہ مل کر مضاف الیہ عذاب کا ۔ لام تاکید کا واقع خبر۔ قسم ہے طور کی۔ قسم ہے کتاب مسطور کی۔ قسم ہے البیت المعمور کی، قسم ہے سقف مرفوع کی، قسم ہے البحر المسجور کی، کہ آپ کے رب کا عذاب یقینا آکر رہے گا۔
فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے پانچ قسمیں اٹھا کر ثابت کیا ہے کہ قیامت کے منکرین کو قیامت کے دن ضرور عذاب دیا جائے گا اور اسے کوئی نہیں ٹال سکے گا۔ اللہ تعالیٰ نے جس طرح ہر قسم کے دلائل سے یہ ثابت کیا ہے کہ قیامت ہر صورت قائم ہوگی۔ اسی طرح اس نے یہ بات بھی واضح کردی ہے کہ قیامت کے دن کفار، مشرکین اور بھاری مجرموں کو ہر صورت عذاب دیا جائے گا اور اس عذاب کو کوئی ٹال نہیں سکے گا۔ جس دن مجرموں کو عذاب دیا جائے گا اس کا آغاز اس طرح ہوگا کہ آسمان کپکپانے لگے گا اور پہاڑ اپنی جگہ سے ہلنا شروع ہوجائیں گے۔ جو اس دن کو جھٹلاتا ہے اس کے لیے ہلاکت ہوگی۔ قیامت کے دن جونہی اسرافیل صور پھونکیں گے تو زمین میں زلزلے رونما ہوں گے اور پہاڑ اپنی جگہ سے ہلنا شروع ہوجائیں گے اور آسمان اس طرح تیزی کے ساتھ ہلنا اور جھولنا شروع ہوگا کہ بالآخر نیچے گرپڑے گا۔ سورة التکویر، الانفطار اور سورة الانشقاق کی ابتدائی آیات میں اس کی اہمیت بیان کی گئی ہے۔ قیامت کے دن پہاڑوں کی جو حالت ہوگی اس کا ایک منظر اسی آیت کی تفسیر بالقرآن کے حوالوں میں ملاحظہ فرمائیں۔ مسائل ١۔ قیامت کا عذاب ضرور واقع ہوگا اور اسے کوئی ٹال نہیں سکے گا۔ ٢۔ قیامت کے دن آسمان کپکپانا شروع ہوجائے گا۔ ٣۔ قیامت کے دن پہاڑ اپنی جگہ سے ہلنا شروع ہوجائیں گے۔ ٤۔ قیامت کو جھٹلانے والوں کے لیے اس دن ہلاکت ہوگی۔ تفسیر بالقرآن قیامت کے دن پہاڑوں کی کیا حالت ہوگی : (الکہف : ٤٧) (المزمل : ١٤) (القارعہ : ٥) (التکویر : ١ تا ٣) (القیامہ : ٦ تا ٨)
ان عذاب ربک لواقع (٢٥ : ٧) مالہ من دافع (٢٥ : ٨) ” کہ تیرے رب کا عذاب ضرور واقع ہونے والا ہے جسے کوئی دفع کرنے والا نہیں ہے۔ “ یہ عذاب یقینا ہونے والا ہے اور اسے کوئی طاقت روک نہیں سکتی۔ ان دونوں آیات کا اثر اور ان کا سجع دونوں فیصلہ کن ہیں۔ الفاظ کے ترنم سے بھی یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ یہ واقع ہونے والا ہے اور اس میں کوئی دوسری بات ممکن نہیں ہے اور اس سے کوئی بچانے والا نہیں ہے۔ جب یہ اثر انسان کے پردہ احساس پر پڑتا ہے اور براہ راست پڑتا ہے تو یہ دل کو ہلا کر رکھ دیتا ہے اور اس کے ساتھ اس کی حالت بدل کر رکھ دیتا ہے۔ حافظ ابوبکر ابن ابی الدنیا نے نقل کیا ہے اپنے باپ سے انہوں نے موسیٰ ابن داؤد سے ، انہوں نے صالح مری سے ، انہوں نے جعفر ابن زید عبدی سے وہ کہتے ہیں حضرت عمر ایک رات مدینہ میں گشت کے لئے نکلے ، وہ مسلمانوں کے گھروں میں سے ایک گھر کے پاس سے گزرے ، دیکھا تو ایک شخص نماز میں کھڑا ہے۔ حضرت عمر (رض) کھڑے ہوگئے اور اس کی تلاوت سننے لگے۔ اس شخص نے سورة طور پڑھنا شروع کی۔ جب یہاں تک پہنچا۔ ان عذاب ربک لواقع (٢٥ : ٧) مالہ من دافع (٢٥ : ٨) ” کہ تیرے رب کا عذاب واقع ہونے والا ہے جسے کوئی دفع کرنے والا نہیں۔ “ تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا رب کعبہ کی قسم یہ حق ہے حضرت عمر (رض) اپنے گدھے سے اتر گئے اور ایک دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گئے اور کچھ دیر بیٹھے رہے۔ پھر وہ اپنے گھر کی طرف لوٹ گئے۔ پورا ایک ماہ لیٹ گئے۔ لوگ ان کی عیادت کرتے لیکن معلوم نہ تھا کہ آپ کو کیا بیماری لاحق ہے۔ حضرت عمر (رض) نے تو یہ سورة اس سے پہلے بھی سنی تھی اور بار بار سنی تھی۔ انہوں نے خودبھی اسے پڑھا تھا۔ نماز میں پڑھایا تھا۔ رسول اللہ ہمیشہ مغرب کی نماز میں اسے پڑھا کرتے تھے اور حضرت عمر (رض) اسی بات کو جانتے تھے اور اس طرح آپ بھی مغرب میں اس سورة کو پڑھتے۔ اسوہ رسول پر عمل کرتے ہوئے لیکن اس دن ان پر اس کا بہت اثر ہوگیا کیونکہ ان کا دل اس تاثر کے لئے کھلا تھا۔ ان کے احساسات اس دن اثرات قبول کرنے کے لئے تیار ہوں گے اس لئے ان معانی نے ان کے دل میں نفوذ کرلیا اور ان پر اس طرح اثر انداز ہوئے جس طرح اس روایت سے معلوم ہوتا ہے۔ جب یہ آیات اپنے پورے وزن ، پوری شدت اور پوری حقیقت کے ساتھ براہ راست ان کے دل میں اتریں۔ بعض اوقات دلوں پر ایسے اثرات پڑا کرتے ہیں۔ یہ دراصل وقت کی بات ہوتی ہے۔ ایک خاص وقت میں یہ اثرات دلوں کی گہرائیوں میں اتر جاتے ہیں اور یہ اس وقت اترتے ہیں جب وہ براہ راست دلوں کو مس کرلیں۔ ان لمحات میں دل ان آیات کو اپنے اصل سرچشمے سے لے لیتے ہیں جس طرح قلب رسول پر ان کا الہامی اثر تھا اس طرح سننے والے کے دل پر اثر ہوجاتا ہے۔ قلب رسول پر تو ہر بار یہ ہوتا تھا اور اللہ نے قلب رسول کو یہ صلاحیت دی تھی بعض اوقات دوسرے لوگوں پر بھی یہ معجزانہ اثر ہوجاتا ہے جس طرح حضرت عمر (رض) پر ہوگیا۔
ان قسموں کے بعد فرمایا ﴿ اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ لَوَاقِعٌۙ٠٠٧﴾ (بےشک آپ کے رب کا عذاب واقع ہونے والا ہے) ﴿ مَّا لَهٗ مِنْ دَافِعٍۙ٠٠٨﴾ (اسے کوئی دفع کرنے والا نہیں) یہ جواب قسم ہے اور مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان چیزوں کو پیدا فرمایا ہے جو عظیم الشان ہیں اور کائنات میں بڑی چیزیں ہیں اس کی قدرت سے یہ باہر نہیں ہے کہ صالحین کو ثواب اور منکرین کو عذاب دینے کے لیے قیامت قائم کرے، جب قیامت قائم ہوگی تو اسے کوئی بھی دفع کرنے والا نہیں ہوگا۔ حضرت جبیربن معطم (رض) نے بیان کیا کہ میں مدینہ منورہ حاضر ہوا تاکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بدر کے قیدیوں کے بارے میں گفتگو کروں ( اس وقت یہ مسلمان نہیں ہوئے تھے) میں آپ کے قریب پہنچا تو آپ مغرب کی نماز پڑھا رہے تھے اور مسجد کے باہر آپ کی آواز آرہی تھی میں نے وَ الطُّوْرِ سے لے کر ﴿ مَّا لَهٗ مِنْ دَافِعٍۙ٠٠٨﴾ تک آپ کی قرات سنی تو ایسا معلوم ہوا کہ جیسے میرا دل پھٹا جا رہا ہے، میں عذاب نازل ہونے کے ڈر سے مسلمان ہوگیا۔ ؛ میں ایسا خوفزدہ ہوا کہ یوں سمجھنے لگا کہ گویا یہاں سے اٹھنے سے پہلے ہی عذاب میں مبتلا ہوجاؤں گا۔ (معالم التنزیل ٣٣٧ ج ٤)
4:۔ ” ان عذاب “ یہ مذکورہ بالا پانچ شواہد بصورت اقسام کا جواب ہے یعنی حشر نشر کے بعد جزاء و سزا بھی ہوگی اور اللہ کے عذاب سے کوئی بھاگ نہیں سکے اور نہ کوئی کسی سے عذاب کو ہٹا ہی سکے گا۔