Surat un Najam

Surah: 53

Verse: 38

سورة النجم

اَلَّا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰی ﴿ۙ۳۸﴾

That no bearer of burdens will bear the burden of another

کہ کوئی شخص کسی دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

That no burdened person shall bear the burden of another. Meaning, every soul shall carry its own injustices, whether disbelief or sin, and none else shall carry its burden of sin, as Allah states وَإِن تَدْعُ مُثْقَلَةٌ إِلَى حِمْلِهَا لاَ يُحْمَلْ مِنْهُ شَىْءٌ وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَى And if one heavily laden calls another to (bear) his load, nothing of it will be lifted even though he be near of kin. (35:18) Allah said, وَأَن لَّيْسَ لِلْأِنسَانِ إِلاَّ مَا سَعَى

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

الا تزر وازرۃ وزر اخری :” الاتزر “ اصل میں ” ان لا تزر “ ہے : ” ان “ تفسیر یہ ہے یا ” انہ “ کی تخفیف ہے ۔ یہاں سے ابراہیم اور موسیٰ (علیہما السلام) کے صحیفوں میں سے چند احکام نقل فرمائے ہیں ، ان میں سے پہلا یہ ہے کہ کوئی بوجھ اٹھانے والی ( جان) کسی دوسری (جان) کا بوجھ نہیں اٹھائے گی۔ تفسیر کے لیے دیکھئے سورة ٔ انعام ( ١٦٤) بنی اسرائیل ( ١٥) اور فاطر (١٨) ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Scriptures of Musa and Ibrahim علیہما السلام Special Guidance and Teachings Whenever any command, statement, action or teaching of Allah is quoted in the Qur&an from the scriptures of the former Prophets (علیہم السلام) it means that it is obligatory for this &Ummah to act upon it, unless there is an explicit text abrogating the previous teachings. Forthcoming eighteen verses elaborate on the special teachings of the scriptures of Holy Prophets Musa and Ibrahim (علیہما السلام) . Of them only two of the previous teachings are concerned with practical life. The rest are meant to advise, warn and draw attention to the Signs of Allah. The two verses [ 38] and [ 39] concerned with prescriptive teachings are as follows: None shall carry the Burden of Any Other on the Day of Resurrection أَلَّا تَزِرُ‌ وَازِرَ‌ةٌ وِزْرَ‌ أُخْرَ‌ىٰ ﴿٣٨﴾ وَأَن لَّيْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَىٰ ﴿٣٩﴾ (It was) that no bearer of burden shall bear the burden of the other, [ 38] and that a man shall not deserve but (the reward of) his own effort, [ 39] The word wizr originally means a burden, and the verse purports to say that every man shall have to carry his own wrongdoings, whether disbelief or sin, and none else shall carry his burden of sin, as Allah states in [ 35:18]. وَإِن تَدْعُ مُثْقَلَةٌ إِلَىٰ حِمْلِهَا لَا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ And if a person carrying a heavy load calls (someone) to (share) his load, nothing from it shall be carried (by the latter), even though he be a near of kin [ 18] By load or burden is meant the load or burden of sin and its punishment, signifying that on the Day of Resurrection the punishment of one will not be given to another, nor will anyone have the choice to pay for another&s sin as the verse quoted above clearly indicates. This verse also refutes the thinking of the person which was narrated above as Background of Revelation: He had become a Muslim or was going to become one, and his friend rebuked him, saying that if any punishment is meted out to him, he guarantees him that no harm will come to him. The friend assured him that he would bear the burden of his punishment, and save him. This verse further clarifies that in matters, such as these, there is no possibility that one person may commit the sin and another is held accountable to pay the price. As for the Hadith of Ibn ` Umar (رض) ، as recorded in Sahihain, that the dead are punished because of the weeping and wailing of their families on his death, it relates to the person who himself used to weep and wail for the deceased and was wont to it, or who had advised his heirs to weep and wail for him after his death. (Mazhari). In this case he is punished for his own deed, not on account of other people&s deed.1 (1). It should be noted here that if one weeps on the death of a person in a way that he or she cannot control his or her emotions, it is not a sin in Shari&ah. The wailing that has been prohibited is a particular type of wailing that was customary in Pre-Islam Arab society, and is still in vogue in some areas, in which one would cry loudly, often in an artificial manner, and would invite others to weep, slapping his face, tearing his clothes and complaining of the destiny. It is this type of formal wailing that is meant here by the esteemed author. (Muhammad Taqi Usmani)

صحف موسیٰ و ابراہیم (علیہما السلام) کی خاص ہدایات وتعلیمات : انبیائے سابقین میں سے جب کسی کا قول یا کوئی تعلیم قرآن میں ذکر کی جاتی ہے تو اس کا حاصل یہ ہوتا ہے کہ اس امت کے لئے بھی وہ واجب العمل ہے، جب تک اس کے خلاف کوئی نص شرعی نہ ہو، آگے اٹھارہ آیتوں میں ان خاص تعلیمات کا ذکر ہے جو حضرت موسیٰ و ابراہیم (علیہما السلام) کے صحیفوں میں تھیں، ان میں عملی احکام جن کا تعلق سابقہ آیات کے ساتھ ہے وہ صرف دو ہیں، باقی تعلیمات عبرت و نصیحت اور حق تعالیٰ کی آیات قدرت سے متعلق ہیں، وہ دو یہ ہیں :۔ اَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى اور وَاَنْ لَّيْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰى، وزر کے معنی دراصل بوجھ کے ہیں اور پہلی آیت کے معنی یہ ہیں کہ کوئی بوجھ اٹھانے والا اپنے سوا کسی دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا بوجھ سے مراد گناہ کا بوجھ اور اس کا عذاب ہے۔ مطلب یہ ہے کہ قیامت کے روز ایک شخص کا عذاب دوسرے پر نہیں ڈالا جائے گا، نہ کسی کو اس کا اختیار ہوگا کہ وہ دوسرے کا عذاب اپنے سر لے لے، قرآن کریم کی ایک دوسری آیت میں اس کا بیان اس طرح آیا ہے (وَاِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ اِلٰى حِمْلِهَا لَا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ) یعنی اگر کوئی گناہوں کے بوجھ سے لدا ہوا شخص لوگوں سے درخواست کرے گا کہ میرا کچھ بوجھ تم اٹھا لو تو کسی کی مجال نہیں ہوگی کہ اس کے بوجھ کا کوئی حصہ اٹھا سکے۔ ایک کے گناہ میں دوسرا نہیں پکڑا جائے گا : اس آیت میں اس شخص کے خیال کی بھی تردید ہوگئی جس کا ذکر شان نزول میں آیا ہے کہ وہ مسلمان ہوگیا تھا یا ہونے والا تھا، اس کے ساتھی نے ملامت کی اور اس کی ضمانت لی کہ قیامت میں تجھ پر کوئی عذاب ہوا تو وہ میں اپنے سر پر لے کر تجھے بچا دوں گا، اس آیت سے معلوم ہوا کہ ایسے معاملہ کا اللہ کے یہاں کوئی امکان نہیں کہ کسی کے گناہ میں کسی دوسرے کو پکڑ لیا جائے۔ اور ایک حدیث میں یہ آیا ہے کہ جس میت پر اس کے گھر والے ناجائز نوحہ و بکا کرتے ہیں تو ان کے اس فعل سے میت کو عذاب ہوتا ہے (کما ورد فی الصحیحین عن ابن عمر) تو یہ اس شخص کے بارے میں جو خود بھی میت پر نوحہ خوانی، گریہ زاری کا عادی ہو، یا جس نے اپنے وارثوں کو اس کی وصیت کی ہو کہ میرے بعد نوحہ و بکا کا انتظام کیا جائے (مظہری) اس صورت میں اس پر عذاب خود اس کے اپنے عمل کا ہوا، دوسروں کے عمل کا نہیں۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اَلَّا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰى۝ ٣٨ ۙ وزر الوَزَرُ : الملجأ الذي يلتجأ إليه من الجبل . قال تعالی: كَلَّا لا وَزَرَ إِلى رَبِّكَ [ القیامة/ 11] والوِزْرُ : الثّقلُ تشبيها بِوَزْرِ الجبلِ ، ويعبّر بذلک عن الإثم کما يعبّر عنه بالثقل . قال تعالی: لِيَحْمِلُوا أَوْزارَهُمْ كامِلَةً (يَوْمَ الْقِيامَةِ ) وَمِنْ أَوْزارِ الَّذِينَ يُضِلُّونَهُمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ أَلا ساءَ ما يَزِرُونَ [ النحل/ 25] ، کقوله : وَلَيَحْمِلُنَّ أَثْقالَهُمْ وَأَثْقالًا مَعَ أَثْقالِهِمْ [ العنکبوت/ 13] وحمل وِزْر الغیرِ في الحقیقة هو علی نحو ما أشار إليه صلّى اللہ عليه وسلم بقوله : «من سنّ سنّة حسنة کان له أجرها وأجر من عمل بها من غير أن ينقص من أجره شيء، ومن سنّ سنّة سيّئة کان له وِزْرُهَا ووِزْرُ من عمل بها» أي : مثل وِزْرِ مَن عمل بها . وقوله تعالی: وَلا تَزِرُ وازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرى[ الأنعام/ 164] أي : لا يحمل وِزْرَهُ من حيث يتعرّى المحمول عنه، وقوله : وَوَضَعْنا عَنْكَ وِزْرَكَ الَّذِي أَنْقَضَ ظَهْرَكَ [ الشرح/ 2- 3] ، أي : ما کنت فيه من أمر الجاهليّة، فأعفیت بما خصصت به عن تعاطي ما کان عليه قومک، والوَزِيرُ : المتحمِّلُ ثقل أميره وشغله، والوِزَارَةُ علی بناء الصّناعة . وأَوْزَارُ الحربِ واحدها وِزْرٌ: آلتُها من السّلاح، والمُوَازَرَةُ : المعاونةُ. يقال : وَازَرْتُ فلاناً مُوَازَرَةً : أعنته علی أمره . قال تعالی: وَاجْعَلْ لِي وَزِيراً مِنْ أَهْلِي[ طه/ 29] ، وَلكِنَّا حُمِّلْنا أَوْزاراً مِنْ زِينَةِ الْقَوْمِ [ طه/ 87] . ( و ز ر ) الوزر ۔ پہاڑ میں جائے پناہ ۔ قرآن میں ہے : ۔ كَلَّا لا وَزَرَ إِلى رَبِّكَ [ القیامة/ 11] بیشک کہیں پناہ نہیں اس روز پروردگار ہی کے پاس جانا ہے ۔ الوزر ۔ کے معنی بار گراں کے ہیں اور یہ معنی وزر سے لیا گیا ہے جس کے معنی پہاڑ میں جائے پناہ کے ہیں اور جس طرح مجازا اس کے معنی بوجھ کے آتے ہیں اسی طرح وزر بمعنی گناہ بھی آتا ہے ۔ ( اسی کی جمع اوزار ہے ) جیسے فرمایا : ۔ لِيَحْمِلُوا أَوْزارَهُمْ كامِلَةً (يَوْمَ الْقِيامَةِ ) وَمِنْ أَوْزارِ الَّذِينَ يُضِلُّونَهُمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ أَلا ساءَ ما يَزِرُونَ [ النحل/ 25]( اے پیغمبر ان کو بکنے دو ) یہ قیامت کے دن اپنے ( اعمال کے ) پورے سے بوجھ بھی اٹھائیں گے اور جن کو یہ بےتحقیق گمراہ کرتے ہیں ان کے بوجھ بھی ( اٹھائیں گے ) جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا : ۔ وَلَيَحْمِلُنَّ أَثْقالَهُمْ وَأَثْقالًا مَعَ أَثْقالِهِمْ [ العنکبوت/ 13] اور یہ اپنے بوجھ بھی اٹھائیں گے اور اپنے بوجھوں کے ساتھ اور بوجھ بھی ۔ اور دوسروں کو بوجھ اٹھانے کے حقیقت کیطرف آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا من سن سنتہ حسنتہ کان لہ اجرھا واجر من عمل بھا من غیران ینقض من اجرہ شیئ ومن سن سنتہ سیئتہ کان لہ وزرھا ووزر من عمل بھا کی جس شخص نے اچھا طریقہ جاری کیا اسے اس کا اجر ملے گا اور ان لوگوں کا بھی اجر ملے گا جو اس پر عمل کریں گے بدوں اس کے کہ ان کے اجر میں کسی قسم کی کمی ہو اور جس نے بری رسم جاری کی اس کا بوجھ ہوگا اور ان لوگوں کا بھی جو اس پر عمل کریں گے ۔ تویہاں ان لوگوں کے اجر یا بوجھ سے ان کی مثل اجر یا بوجھ مراد ہے۔ اور آیت کریمہ : ۔ میں بھی یہی معنی مراد ہیں اور آیت : ۔ وَلا تَزِرُ وازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرى[ الأنعام/ 164] اور کوئی شخص کسی ( کے گناہ ) کا بوجھ نہیں اٹھائیگا ۔ سے مراد یہ ہے کہ کوئی شخص دوسرے کا بوجھ اس طرح نہیں اٹھائے گا کہ محمول عنہ یعنی وہ دوسرا اس گناہ سے بری ہوجائے لہذا ان دونوں میں کوئی منافات نہیں ہے اور آیت : ۔ وَوَضَعْنا عَنْكَوِزْرَكَ الَّذِي أَنْقَضَ ظَهْرَكَ [ الشرح/ 2- 3] اور تم پر سے بوجھ بھی اتار دیا ۔ میں وزر سے مراد وہ لغزشیں ہیں جو جاہلی معاشرہ کے رواج کے مطابق قبل از نبوت آنحضرت سے سر زد ہوئی تھیں ۔ الوزیر وہ ہے جو امیر کا بوجھ اور اس کی ذمہ داریاں اٹھائے ہوئے ہو ۔ اور اس کے اس عہدہ کو وزارۃ کہا جاتا ہے قرآن پاک میں ہے : ۔ وَاجْعَلْ لِي وَزِيراً مِنْ أَهْلِي[ طه/ 29] اور میرے گھر والوں میں سے ( ایک کو ) میرا وزیر ( یعنی مدد گار امقر ر فرمایا ۔ ارزار الحرب اس کا مفرد ورر ہے اور اس سے مراد اسلحہ جنگ ہے اور آیت کریمہ : ۔ وَلكِنَّا حُمِّلْنا أَوْزاراً مِنْ زِينَةِ الْقَوْمِ [ طه/ 87] بلکہ ہم لوگوں کے زیوروں کا بوجھ اٹھائے ہوئے تھے ۔ میں زیورات کے بوجھ مراد ہیں ۔ الموزراۃ ( مفاعلۃ ) کے معنی ایک دوسرے کی مدد کرنے کے ہیں اور وازرت فلانا موازرۃ کے معنی ہیں میں نے اس کی مدد کی ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

ہر ایک اپنے ہی افعال کا جواب دہ ہے قول باری ہے (الا تزروازرۃ وزراخری، کہ کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا) یہ اس قول باری کی طرح ہے (ومن یکسب اثما فانما یکسبہ علی نفسہ اور جو شخص گناہ کماتا ہے وہ اسے اپنی ذات پر کماتا ہے) نیز ارشاد ہے (ولا تکسب کل نفس الا علیھا، اور ہر شخص جو کمائی کرتا ہے اس کا بوجھ اسی پر ہوتا ہے)

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اور وہ مضمون یہ ہے کہ کوئی شخص کسی کا گناہ اپنے اوپر نہیں لے سکتا یا یہ کہ کسی کو دوسرے کے بدلے عذاب نہیں دیا جاسکتا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣٨{ اَلَّا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰی ۔ } ” کہ نہیں اٹھائے گی کوئی جان کسی دوسری جان کے بوجھ کو۔ “ قیامت کے دن ہر شخص اپنی ذمہ داریوں کے لیے خود جواب دہ ہوگا۔ وہاں کوئی کسی کی مدد کو نہیں آئے گا ‘ جیسا کہ سورة مریم کی اس آیت میں واضح طور پر بتادیا گیا ہے : { وَکُلُّھُمْ اٰتِیْہِ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ فَرْدًا ۔ } کہ اس دن ہر شخص اکیلا حاضر ہوگا۔ ماں باپ ‘ اولاد ‘ عزیز و اقارب میں سے کوئی اس کے ساتھ نہیں ہوگا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

37 From this verse three cardinal principles are derived: (1) That every person is himself responsible for what he does; (2) that the responsibility of one man's act cannot be transferred to another unless he has a share in the commission of the act; and (3) that even if a person wishes he cannot take on himself the responsibility of another man's act, nor can the actual culprit be Iet off on the ground that another person is willing to suffer the punishment on his behalf.

سورة النَّجْم حاشیہ نمبر :37 اس آیت سے تین بڑے اصول مستنبط ہوتے ہیں ۔ ایک یہ کہ ہر شخص خود اپنے فعل کا ذمہ دار ہے ۔ دوسرے یہ کہ ایک شخص کے فعل کی ذمہ داری دوسرے پر نہیں ڈالی جا سکتی الا یہ کہ اس فعل کے صدور میں اس کا اپنا کوئی حصہ ہو ۔ تیسرے یہ کہ کوئی شخص اگر چاہے بھی تو کسی دوسرے شخص کے فعل کی ذمہ داری اپنے اوپر نہیں لے سکتا ، نہ اصل مجرم کو اس بنا پر چھوڑا جا سکتا ہے کہ اس کی جگہ سزا بھگتنے کے لیے کوئی اور آدمی اپنے آپ کو پیش کر رہا ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

20: چنانچہ آج بھی بائبل کی کتاب حزقیل میں یہ اصول وضاحت کے ساتھ موجود ہے۔ (دیکھئے حزقی ایل :20)۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(53:38) آیت سے قبل عبارت مقدرہ ہے، وقیل ماذا فی صحف موسیٰ و ابراہیم ؟ فقیل ھو ! ۔۔ اور سوال ہے کہ (حضرت) موسیٰ و ابراہیم (علیہما السلام کے صحیفوں میں کیا ہے ؟ جواب ہے : یہ کہ ۔۔ الا تزر وازرۃ وزراخری کوئی بوجھ اٹھانے والا شخص دوسرے (کے گناہ) کا بوجھ نہیں اٹھائے گا : الا ان اور لا سے مرکب ہے۔ ان کی دوسری صورتوں کے علاوہ ایک صورت یہ بھی ہے کہ یہ ان مخففہ ہے جو شروع میں ثقیلہ تھا پھر خفیفہ کرلیا گیا یہ کسی شے کی تحقیق اور ثبوت کے معنی دیتا ہے۔ ہ ضمیر شان جو ان کا اسم ہے محذوف ہے کلام ہوگا :۔ انہ لاتزروا وازر اخری۔ تحقیق شان یہ ہے کہ کوئی بوجھ اٹھانے والا شخص۔۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 1 یعنی کسی دوسرے کا عمل فائدہ نہیں دے سکتا۔ ہوسکتا ہے کہ حضرت ابراہیم اور حضرت موسیٰ کی شریعت میں یہ حکم عام ہو لیکن ہماری شریعت میں اس میں کچھ مستثنیات ہیں مثلاً گنہگاروں کے لئے انبیاء اور فرشتوں کی شفاعت مردوں کے لئے زندوں کی دعا اور باپ کے عمل سے اولاد کے درجوں کا بلند ہوناتو قرآن سے ثابت ہے اور میت کی طرف سے صدقہ خیرات اور حج کرنا وغیرہ کا نافع ہونا صحیح احادیث سے ثابت ہے۔ اب رہی نماز اور قرآن خوانی تو اس کے متعلق چونکہ قرآن یا کسی صحیح حدیث میں صراحت نہیں ہے اس لئے یہ اس آیت کے عام حکم کے تحت رہینگے اور انسان کی اولاد بھی چونکہ اس کی سعی کا نتیجہ ہے اس لئے اس کے نیک عمل کا ثواب پہنچنا اس آیت کے تحت داخل ہے۔ (قرطبی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

الاتزرو ............ اخری (٣٥ : ٨٣) ” یہ کہ کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا “ کوئی شخص دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھا سکے گا نہ اپنے نفس کا بوجھ ہو ہاں ہلکا کیا جاسکے گا اور نہ دوسرے کا بوجھ لے کر اسے بری الذمہ کیا جاسکے گا۔ لہٰذا کوئی نہ کسی دوسرے کا بوجھ اٹھا سکتا ہے اور نہ دوسرے پر ڈال سکتا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

24:۔ ” ان لا تزر “ ان صحیفوں کا مضمون یہ ہے کہ کوئی نفس کسی دوسرے کے گناہوں کا بوجھ نہیں اٹھائیگا۔ جس طرح ہر انسان کو اپنی ہی کمائی کی نیکیوں کا ثواب ملے گا اور دوسرے شخص کی نیکیاں اس کے اعمالنامے میں درج نہیں ہوں گی۔ قیامت کے دن ہر آدمی کی سعی و کوشش کا نتیجہ سامنے ہوگا اور ہر شخص کو اس کے اپنے ہی اعمال کے مطابق پوری پوری جزاء وسزا دی جائے گی۔ اور قیامت کے دن سب کا منتہاء اللہ کی ذات ہوگی اور سب اس کے سامنے حاضر ہوں گے۔ اس آیت سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ ایک انسان کی دعاء بھی دوسرے کے حق میں فائدہ مند نہیں ہوسکتی حالانکہ قرآن اور حدیث سے دوسروں کے دلیے دعا کرنے کی ترغیب ثابت ہے۔ حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں یہ حکم پہلی امتوں میں تھا اب امت محمدیہ کے حق میں منسوخ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ” الحقنا بہم ذریتہم۔ الایۃ “ (الطور رکوع 1) ۔ یعنی باپ دادا کی نیکی سے ان کی اولاد کو ان کے درجات عطا ہوں گے۔ قال ابن عباس (رض) ھذا منسوخ الحکم فی ھذہ الشریعۃ بقولہ (الحقنا بہم ذریتہم) ۔ قال عکرمۃ کان ذالک لقوم و ابراہیم وموسی فاما ھذہ الامۃ فلہم ما سعوا وما سعی لھم غیرہم۔ (معالم و خازن ج 6 ص 268) ۔ اور اگر ” ما سعی “ سے مراد ایمان ہو جیسا کہ سیاق وسباق سے معلوم ہوتا ہے تو اس صورت میں منسوخ ماننے کی ضرور نہیں۔ یعنی کسی انسان کو اس کے ایمان کے بغیر کسی چیز کا کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا۔ ایمان کے بغیر کسی چیز کا کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا۔ ایمان کے بغیر کسی کی نہ دعا مفید ہے نہ اپنی کوئی نیک عمل۔ تحقیق یہ ہے کہ ایک شخص کے دعا و استغفار کے دوسرے مومن کے حق میں کوئی نزاع واختلاف نہیں یہ سب کے نزدیک جائز اور مفید ہے اور قرآن سے ثابت ہے (1) وصل علیہم ان صلوتک سکن لھم۔ (2) ربنا اغفرلنا ولاخواننا الذین سبقونا بالایمان (حشر رکوع 2) ۔ اختلاف اس میں ہے کہ ایک شخص کے عمل کا ثواب دوسرے شخص کو ملتا ہے یا نہیں۔ چناچہ معتزلہ اور شوافع اس کے قائل نہیں، علامہ ابن قیم نے اس حدیث کا جواب دیتے ہوئے جس میں دوسرے شخص کی طرف سے غلام آزاد کرنے کا ذکر ہے، لکھا ہے کہ اس کا یہ مطلب یہ کہ دوسرے شخص کی طرف سے غلام آزاد کر کے اس کیلئے دعاء کی جائے۔ البتہ عبادتِ مالیہ کا ثواب احناف، شوافع وغیرہ سب کے نزدیک دوسرے کو بخشنا جائز ہے۔ باقی رہا تلاوتِ قرآن کا ثواب توحنفیہ کے نزدیک اس کا ہبہ جائز ہے لیکن شافعیہ کے نزدیک جائز نہیں۔ امام ابن ہمام نے فتح القدیر میں اس پر متعدد حدیثیں پیش کی ہیں باقی رہا یہ شبہہ کہ مال مویشی کا ثواب کسی میت کو ہبہ کرنا ” وجعلوا للہ مما ذرا من الحرث والانعام نصیبا فقالوا ھذا للہ بزعمہم وھذا لشرکائنا۔ الایۃ “ (رکوع 16، سورة انعام) کے خلاف ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس آیت کا ایصال ثواب سے کوئی ٹکراؤ نہیں کیونکہ اس کا مطلب تو یہ ہے کہ مشرکین اپنے معبودانِ باطلہ کو حاجت روا، کارساز اور مافوق الاسباب نافع و ضار سمجھ کر ان کی خوشنودی اور انکا تقرب حاصل کرنے کے لیے جانوروں میں ان کے حصے مقرر کرتے تھے جو صریح شرک ہے لیکن ایصال ثواب میں یہ چیز نہیں پائی جاتی۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(38) وہ یہ کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کے گناہ کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ یعنی ان دونوں اولوالعزم پیغمبروں کے صحائف میں یہ مضمون موجود ہے کہ کوئی گنہگار دوسرے گنہگار کا بوجھ نہ اٹھائے گا۔ یعنی ایسا نہیں ہوگا کہ ایک بالکل اٹھالے اور دوسرا سبکدوش ہوجائے اور دوسرے پر کوئی بار نہ رہے جیسا کہ تفصیل سورة عنکبوت میں گزر چکی ہے بعض حضرات نے وفی کو وفا سے لیا ہے اور یہ معنی کئے ہیں کہ وہ ابراہیم (علیہ السلام) جو بڑا پابند وفا تھا۔