Surat un Najam
Surah: 53
Verse: 41
سورة النجم
ثُمَّ یُجۡزٰىہُ الۡجَزَآءَ الۡاَوۡفٰی ﴿ۙ۴۱﴾
Then he will be recompensed for it with the fullest recompense
پھر اسے پورا پورا بدلہ دیا جائے گا ۔
ثُمَّ یُجۡزٰىہُ الۡجَزَآءَ الۡاَوۡفٰی ﴿ۙ۴۱﴾
Then he will be recompensed for it with the fullest recompense
پھر اسے پورا پورا بدلہ دیا جائے گا ۔
Then he will be recompensed with a full and the best recompense.
ثم یحزہٗ الجزاء الاوفی : اس کی تفصیل کے لیے دیکھئے سورة ٔ نحل ( ١١١) اور سورة ٔ آل عمران (٢٥) کی تفسیر۔
ثُمَّ يُجْزٰىہُ الْجَزَاۗءَ الْاَوْفٰى ٤١ ۙ ثمَ ثُمَّ حرف عطف يقتضي تأخر ما بعده عمّا قبله، إمّا تأخيرا بالذات، أو بالمرتبة، أو بالوضع حسبما ذکر في ( قبل) وفي (أول) . قال تعالی: أَثُمَّ إِذا ما وَقَعَ آمَنْتُمْ بِهِ آلْآنَ وَقَدْ كُنْتُمْ بِهِ تَسْتَعْجِلُونَ ثُمَّ قِيلَ لِلَّذِينَ ظَلَمُوا، [يونس/ 51- 52] ، وقال عزّ وجلّ : ثُمَّ عَفَوْنا عَنْكُمْ مِنْ بَعْدِ ذلِكَ [ البقرة/ 52] ، وأشباهه . وثُمَامَة : شجر، وثَمَّتِ الشاة : إذا رعتها ، نحو : شجّرت : إذا رعت الشجر، ثم يقال في غيرها من النبات . وثَمَمْتُ الشیء : جمعته، ومنه قيل : كنّا أَهْلَ ثُمِّهِ ورُمِّهِ ، والثُّمَّة : جمعة من حشیش . و : ثَمَّ إشارة إلى المتبعّد من المکان، و «هنالک» للتقرب، وهما ظرفان في الأصل، وقوله تعالی: وَإِذا رَأَيْتَ ثَمَّ رَأَيْتَ [ الإنسان/ 20] فهو في موضع المفعول ث م م ) ثم یہ حرف عطف ہے اور پہلی چیز سے دوسری کے متاخر ہونے دلالت کرتا ہے خواہ یہ تاخیر بالذات ہو یا باعتبار مرتبہ اور یا باعتبار وضع کے ہو جیسا کہ قبل اور اول کی بحث میں بیان ہپوچکا ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ أَثُمَّ إِذا ما وَقَعَ آمَنْتُمْ بِهِ آلْآنَ وَقَدْ كُنْتُمْ بِهِ تَسْتَعْجِلُونَ ثُمَّ قِيلَ لِلَّذِينَ ظَلَمُوا، [يونس/ 51- 52] کیا جب وہ آو اقع ہوگا تب اس پر ایمان لاؤگے ( اس وقت کہا جائے گا کہ ) اور اب ( ایمان لائے ) اس کے لئے تم جلدی مچایا کرتے تھے ۔ ثُمَّ قِيلَ لِلَّذِينَ ظَلَمُوا، [يونس/ 51- 52] پھر ظالم لوگوں سے کہا جائے گا ۔ ثُمَّ عَفَوْنا عَنْكُمْ مِنْ بَعْدِ ذلِكَ [ البقرة/ 52] پھر اس کے بعد ہم نے تم کو معاف کردیا ۔ ثمامۃ ایک قسم کی گھاس جو نہایت چھوٹی ہوتی ہے اور ثمت الشاۃ کے اصل معنی بکری کے ثمامۃ گھاس چرنا کے ہیں جیسے درخت چرنے کے لئے شجرت کا محاورہ استعمال ہوتا ہے پھر ہر قسم کی گھاس چرنے پر یہ لفظ بولا جاتا ہے ثمت الشئی اس چیز کو اکٹھا اور دوست کیا ۔ اسی سے محاورہ ہے ۔ کنا اھل ثمہ ورمہ ہم اس کی اصلاح و مرمت کے اہل تھے ۔ الثمۃ خشک گھاس کا مٹھا ۔ ثم ۔ ( وہاں ) اسم اشارہ بعید کے لئے آتا ہے اور اس کے بالمقابل ھنالک اسم اشارہ قریب کے لئے استعمال ہوتا ہے اور یہ دونوں لفظ دراصل اسم ظرف اور آیت کریمہ :۔ وَإِذا رَأَيْتَ ثَمَّ رَأَيْتَ [ الإنسان/ 20] اور بہشت میں ( جہاں آنکھ اٹھاؤ گے کثرت سے نعمت ۔۔۔ دیکھوگے ۔ میں ثم مفعول واقع ہوا ہے ۔ جزا الجَزَاء : الغناء والکفاية، وقال تعالی: لا يَجْزِي والِدٌ عَنْ وَلَدِهِ وَلا مَوْلُودٌ هُوَ جازٍ عَنْ والِدِهِ شَيْئاً [ لقمان/ 33] ، والجَزَاء : ما فيه الکفاية من المقابلة، إن خيرا فخیر، وإن شرا فشر . يقال : جَزَيْتُهُ كذا وبکذا . قال اللہ تعالی: وَذلِكَ جَزاءُ مَنْ تَزَكَّى [ طه/ 76] ، ( ج ز ی ) الجزاء ( ض ) کافی ہونا ۔ قرآن میں ہے :۔ { لَا تَجْزِي نَفْسٌ عَنْ نَفْسٍ شَيْئًا } ( سورة البقرة 48 - 123) کوئی کسی کے کچھ کام نہ آئے گا ۔ کہ نہ تو باپ اپنے بیٹے کے کچھ کام آئے اور نہ بیٹا اپنے باپ کے کچھ کام آسکیگا ۔ الجزاء ( اسم ) کسی چیز کا بدلہ جو کافی ہو جیسے خیر کا بدلہ خیر سے اور شر کا بدلہ شر سے دیا جائے ۔ کہا جاتا ہے ۔ جزیتہ کذا بکذا میں نے فلاں کو اس ک عمل کا ایسا بدلہ دیا قرآن میں ہے :۔ وَذلِكَ جَزاءُ مَنْ تَزَكَّى [ طه/ 76] ، اور یہ آں شخص کا بدلہ ہے چو پاک ہوا ۔ وفی پورا الوَافِي : الذي بلغ التّمام . يقال : درهم وَافٍ ، وكيل وَافٍ ، وأَوْفَيْتُ الكيلَ والوزنَ. قال تعالی: وَأَوْفُوا الْكَيْلَ إِذا كِلْتُمْ [ الإسراء/ 35] ( و ف ی) الوافی ۔ مکمل اور پوری چیز کو کہتے ہیں جیسے : درھم واف کیل واف وغیرہ ذالک اوفیت الکیل والوزن میں نے ناپ یا تول کر پورا پورا دیا ۔ قرآن میں ہے : وَأَوْفُوا الْكَيْلَ إِذا كِلْتُمْ [ الإسراء/ 35] اور جب کوئی چیز ناپ کردینے لگو تو پیمانہ پورا پھرا کرو ۔
(٤١۔ ٤٢) پھر اس کو پورا پورا بدلہ دیا جائے گا نیکی ہوگی تو اچھا اور برائی ہوگی تو برا بدلہ ملے گا اور یہ کہ مرنے کے بعد آخرت میں سب کو آپ کے پروردگار ہی کے پاس پہنچنا ہے۔ شان نزول : ثُمَّ يُجْزٰىهُ الْجَزَاۗءَ الْاَوْفٰى (الخ) اور دراج ابی اسمح سے روایت کی گئی ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ میں ایک لشکر میں نکلا تو ایک شخص نے رسول اکرم سے سواری کی درخواست کی آپ نے فرمایا میں تو کوئی ایسی چیز نہیں پاتا جس پر تجھ کو سوار کردوں وہ شخص آپ کے پاس سے غمگین ہو کر لوٹا، چناچہ اس کا گزر ایک شخص پر سے ہوا کہ اس کی سواری اس کے سامنے بیٹھی ہوئی تھی اس نے اس سے اپنی فرمائش کی وہ شخص کہنے لگا کیا تجھے یہ منظور ہے کہ میں تجھ کو سوار کرادوں اس شرط پر کہ تو لشکر میں اپنی نیکیوں کے ساتھ مل جائے اس نے منظور کرلیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
آیت ٤١{ ثُمَّ یُجْزٰٹہُ الْجَزَآئَ الْاَوْفٰی ۔ } ” پھر اس کو بدلہ دیا جائے گا پورا پورا بدلہ۔ “
(53:41) ثم یجزہ الجزاء الاوفی۔ پھر اس کو اس کا پورا بدلہ دیا جائے گا ثم حرف عطف ہے۔ ماقبل سے مابعد کے متاخر ہونے پر دلالت کرتا ہے۔ پھر، ازاں بعد یعنی پہلے اس کی سعی کو دیکھا جائے گا اس کی نیت اور ارادہ کو معلوم کیا جائے گا۔ پھر اس پر مترتب جزوسزا پوری پوری دی جائے گی۔ یجزی مضارع مجہول واحد مذکر غائب ۔ اس کا نائب فاعل الانسان ہے ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع سعی ہے۔ ای لسعیہ اس کی کوشش کے عوض۔ الجزاء الاوفی۔ موصوف وصفت مل کر یجزی کا مفعول ۔ الاوفی وفاء سے اسم تفضیل کا صیغہ واحد مذکر ہے بہت پورا۔ بالکل پورا۔ ترجمہ : ۔ پھر (اس) انسان کی اس سعی کے عوض بالکل پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ اور دوسری جگہ قرآن مجید میں آیا ہے :۔ ونضع الموازین القسط لیوم القیامۃ فلا تظلم نفس شیئا وان کان مثقال حبۃ من خردل اتینا بھا وکفی بنا حسبین (21:47) ۔ ” اور ہم قیامت کے دن انصاف کی ترازو کھڑی کریں گے تو کسی کی ذرا بھی حق تلفی نہ کی جائے گی۔ اور اگر رائی کے دانے کے برابر بھی (کسی کا عمل) ہوگا تو ہم اس کو لاموجود کریں گے اور ہم حساب کرنے کو کافی ہیں “۔
(41) پھر اس کو اس کمائی اور سعی کا پورا پورا بدلا دیا جائے گا۔ یعنی ہر انسان نے جو سعی اور کمائی کی ہے اس کا پھل اس کو ملے گا یعنی کسی شخص کے ایمان کا پھل اسی کو ملے گا جس کا وہ ایمان ہوگا یعنی ہر ایمان والے کو اسی کے ایمان کا فائدہ پہنچے گا اور عنقریب اس کی سعی اور کمائی دیکھی جائے گی پھر ہر شخص کو اپنی کمائی کا پورا پورا بدلا دیاجائے گا۔ وان لیس للانسان الا ماسعی میں جن لوگوں نے اعمال کو بھی داخل کیا ہے اور صرف ایمان نہیں لیا ہے ان پر یہ شبہ کیا گیا ہے کہ اس طرح ایصال ثواب کا دروازہ بالکل بند ہوگیا جیسا کہ معتزلہ نے کہا ہے کہ کسی ایک مسلمان کا ثواب دوسرے مسلمان کی طرف منتقل ہی نہیں ہوسکتا۔ بہرحال یہ ایک بڑی طویل بحث ہے اہل سنت اور اہل سنت میں سے حنفیہ کا مسلک بالکل صاف ہے کہ زندوں کی جانب مردوں کو ایصال ثواب ہوتا ہے اور مالی اور بدنی دونوں قسم کی عبادتوں کا ثواب پہنچایا جاسکتا ہے یہ ظاہر ہے کہ فرض و واجبات کے علاوہ نفلی عبادتوں کے ثواب کا یہ حکم ہے جیسے کوئی نفلی صدقہ یا حج یا روزے یا نماز یا قربانی کا ثواب کسی اپنے بزرگ کو پہنچائے۔ یہ سب صورتیں حنفیہ کے نزدیک جائز ہیں کمائی دیکھی جائے گی کا مطلب یہ ہے کہ کمائی والے کو اس کی کمائی دکھائی جائے گی اور جو کچھ اس نے کیا ہے وہ اس کے روبرو رکھ دیا جائے گا ایصال ثواب کی بحث میں اگر الاماسعی کا ترجمہ ایمان سے کیا جائے ، جیسا کہ بعض نے کہا ہے تو پھر اس آیت میں ایصال ثواب کی بحث کے لئے گنجائش نہیں ۔ واللہ اعلم