Surat un Najam
Surah: 53
Verse: 47
سورة النجم
وَ اَنَّ عَلَیۡہِ النَّشۡاَۃَ الۡاُخۡرٰی ﴿ۙ۴۷﴾
And that [incumbent] upon Him is the next creation
اور یہ کہ اسی کے ذمہ دوبارہ پیدا کرنا ہے ۔
وَ اَنَّ عَلَیۡہِ النَّشۡاَۃَ الۡاُخۡرٰی ﴿ۙ۴۷﴾
And that [incumbent] upon Him is the next creation
اور یہ کہ اسی کے ذمہ دوبارہ پیدا کرنا ہے ۔
And that upon Him is another bringing forth. meaning, just as He first originated creation, He is able to bring it back to life, resurrecting it for the Day of Judgement, وَأَنَّهُ هُوَ أَغْنَى وَأَقْنَى
وَاَنَّ عَلَيْہِ النَّشْاَۃَ الْاُخْرٰى ٤٧ ۙ نشأ النَّشْءُ والنَّشْأَةُ : إِحداثُ الشیءِ وتربیتُهُ. قال تعالی: وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ النَّشْأَةَ الْأُولی [ الواقعة/ 62] . يقال : نَشَأَ فلان، والنَّاشِئُ يراد به الشَّابُّ ، وقوله : إِنَّ ناشِئَةَ اللَّيْلِ هِيَ أَشَدُّ وَطْئاً [ المزمل/ 6] يريد القیامَ والانتصابَ للصلاة، ومنه : نَشَأَ السَّحابُ لحدوثه في الهواء، وتربیته شيئا فشيئا . قال تعالی: وَيُنْشِئُ السَّحابَ الثِّقالَ [ الرعد/ 12] والإنْشَاءُ : إيجادُ الشیءِ وتربیتُهُ ، وأكثرُ ما يقال ذلک في الحَيَوانِ. قال تعالی: قُلْ هُوَ الَّذِي أَنْشَأَكُمْ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصارَ [ الملک/ 23] ، وقال : هُوَ أَعْلَمُ بِكُمْ إِذْ أَنْشَأَكُمْ مِنَ الْأَرْضِ [ النجم/ 32] ، وقال : ثُمَّ أَنْشَأْنا مِنْ بَعْدِهِمْ قَرْناً آخَرِينَ [ المؤمنون/ 31] ، وقال : ثُمَّ أَنْشَأْناهُ خَلْقاً آخَرَ [ المؤمنون/ 14] ، وَنُنْشِئَكُمْ فِي ما لا تَعْلَمُونَ [ الواقعة/ 61] ، ويُنْشِئُ النَّشْأَةَالْآخِرَةَ [ العنکبوت/ 20] فهذه كلُّها في الإيجاد المختصِّ بالله، وقوله تعالی: أَفَرَأَيْتُمُ النَّارَ الَّتِي تُورُونَ أَأَنْتُمْ أَنْشَأْتُمْ شَجَرَتَها أَمْ نَحْنُ الْمُنْشِؤُنَ [ الواقعة/ 71- 72] فَلِتشبيه إيجادِ النَّارِ المستخرَجة بإيجادِ الإنسانِ ، وقوله : أَوَمَنْ يُنَشَّؤُا فِي الْحِلْيَةِ [ الزخرف/ 18] أي : يُرَبَّى تربيةً کتربيةِ النِّسَاء، وقرئ : يَنْشَأُ «1» أي : يَتَرَبَّى. ( ن ش ء) النشا والنشاۃ کسی چیز کو پیدا کرنا اور اس کی پرورش کرنا ۔ قرآن میں ہے : وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ النَّشْأَةَ الْأُولی[ الواقعة/ 62] اور تم نے پہلی پیدائش تو جان ہی لی ہے ۔ نشافلان کے معنی کے بچہ کے جوان ہونے کے ہیں ۔ اور نوجوان کو ناشی کہاجاتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : إِنَّ ناشِئَةَ اللَّيْلِ هِيَ أَشَدُّ وَطْئاً [ المزمل/ 6] کچھ نہیں کہ رات کا اٹھنا دنفس بہیمی کی سخت پامال کرتا ہے ۔ میں ناشئۃ کے معنی نماز کے لئے اٹھنے کے ہیں ۔ اسی سے نشاء السحاب کا محاورہ ہے جس کے معنی فضا میں بادل کے رونما ہونے اور آہستہ آہستہ بڑھنے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے َ : وَيُنْشِئُ السَّحابَ الثِّقالَ [ الرعد/ 12] اور بھاری بھاری بادل پیدا کرتا ہے ۔ الانشاء ۔ ( افعال ) اس کے معنی کسی چیز کی ایجاد اور تربیت کے ہیں ۔ عموما یہ لفظ زندہ چیز ۔۔ کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : قُلْ هُوَ الَّذِي أَنْشَأَكُمْ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصارَ [ الملک/ 23] وہ خدا ہی جس نے تمہیں پیدا کیا ۔ اور تمہاری کان اور آنکھیں اور دل بنائے ۔ نیز فرمایا : هُوَ أَعْلَمُ بِكُمْ إِذْ أَنْشَأَكُمْ مِنَ الْأَرْضِ [ النجم/ 32] وہ تم کو خوب جانتا ہے جسب اس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا ۔ ثُمَّ أَنْشَأْنا مِنْ بَعْدِهِمْ قَرْناً آخَرِينَ [ المؤمنون/ 31] پھر ان کے بعد ہم نے ایک اور جماعت پیدا کی ۔ وَنُنْشِئَكُمْ فِي ما لا تَعْلَمُونَ [ الواقعة/ 61] اور تم کو ایسے جہان میں جس کو تم نہیں جانتے پیدا کردیں ۔ ثُمَّ أَنْشَأْناهُ خَلْقاً آخَرَ [ المؤمنون/ 14] پھر اس کو نئی صورت میں بنا دیا ويُنْشِئُ النَّشْأَةَ الْآخِرَةَ [ العنکبوت/ 20] پھر خدا ہی پچھلی پیدائش پیدا کرے گا ۔ ان تمام آیات میں انسشاء بمعنی ایجاد استعمال ہوا ہے جو ذات باری تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہے ۔ اور آیت کریمہ : أَفَرَأَيْتُمُ النَّارَ الَّتِي تُورُونَ أَأَنْتُمْ أَنْشَأْتُمْ شَجَرَتَها أَمْ نَحْنُ الْمُنْشِؤُنَ [ الواقعة/ 71- 72] بھلا دیکھو جو آگ تم درخت سے نکالتے ہو کیا تم نے اس کے درخت کو پیدا کیا ہے یا ہم پیدا کرتے ہیں ۔ میں آگ کا درخت اگانے پر بطور تشبیہ انشاء کا لفظ بولا گیا ہے اور آیت کریمہ ) أَوَمَنْ يُنَشَّؤُا فِي الْحِلْيَةِ [ الزخرف/ 18] کیا وہ جوز یور میں پرورش پائے ۔ میں ینشا کے معنی تربیت پانے کے ہیں نفی عورت جو زبور میں تربیت ۔ ایک قرآت میں ينشاء ہے یعنی پھلے پھولے ۔
آیت ٤٧{ وَاَنَّ عَلَیْہِ النَّشْاَۃَ الْاُخْرٰی ۔ } ” اور یہ کہ اسی کے ذمے ہے دوبارہ اٹھانا۔ “ یہاں یہ نکتہ بہت اہم اور لائق توجہ ہے کہ انسانوں کو دوبارہ اٹھانا اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لیا ہے۔ گویا انسانوں کو دوبارہ زندہ کر کے ان کا احتساب کرنا اللہ کے انصاف کا لازمی تقاضا ہے۔ اگر وہ انسانوں کو دوبارہ نہیں اٹھاتا اور ان کو ان کے اچھے برے اعمال کا بدلہ نہیں دیتا تو نیکوکار لوگوں کے ساتھ بہت بڑا ظلم ہوجائے گا ۔ اس لیے کہ انہوں نے دنیا کی زندگی بھی آزمائشوں اور مصیبتوں میں گزاری ۔ ساری زندگی وہ پھونک پھونک کر قدم رکھتے رہے ‘ حرام خوریوں سے بچنے کے لیے روکھی سوکھی کھا کر گزارا کرتے رہے۔ اگر انہیں ان کی محنتوں اور قربانیوں کا صلہ نہیں ملتا تو اس سے بڑا ظلم اور کیا ہوگا ؟
42 When this verse is read with the two preceding verses, the sequence by itself seems to provide the argument for the life-after-death also. The God Who has the power to give death and grant lift and the God Who brings about a creature like man from an insignificant sperm-drop, rather brings about two separate sexes - malt and female - from the same substance and by the same method of creation, cannot be helpless to resurrect man once again.
سورة النَّجْم حاشیہ نمبر :42 اوپر کی دونوں آیتوں کے ساتھ ملا کر اس آیت کو دیکھا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ ترتیب کلام سے خود بخود حیات بعد الموت کی دلیل بھی برآمد ہو رہی ہے ۔ جو خدا موت دینے اور زندگی بخشنے پر قدرت رکھتا ہے ۔ اور جو خدا نطفے کی حقیر سی بوند سے انسان جیسی مخلوق پیدا کرتا ہے ، بلکہ ایک ہی مادہ تخلیق و طریق پیدائش عورت اور مرد کی دو الگ صنفیں پیدا کر دکھاتا ہے ، اس کے لیے انسان کو دوبارہ پیدا کرنا کچھ دشوار نہیں ہے ۔
(53:47) (8) وان علیہ النشاۃ الاخری۔ اور تحقیق یہ کہ اسی کے ذمہ دوسری بار پیدا کرنا ہے۔ علیہ جار مفرور۔ اس کے ذمہ۔ علی کا لفظ وجوب ولزوم کے معنی پر دلالت کر رہا ہے ۔ اور اللہ پر کوئی بات لازم نہیں ہے اس لئے علی کا حقیقی معنی مراد نہیں ہے بلکہ وعدے کو پختہ کرنا مراد ہے۔ اللہ تعالیٰ ضرور ضرور دوباہ تخلیق کریگا۔ النشاۃ الاخری۔ موصوف و صفت۔ دوسری بار مردہ سے زندہ کرنا۔ دوسری تخلیق، قیامت کے روز مردوں کو دوبارہ زندہ کرکے اٹھایا جانا۔
وان ........ الاخری (٣٥ : ٧٤) ” اور یہ کہ دوسری زندگی بخشنا بھی اس کے ذمہ ہے۔ “ دوسری زندی تو ایک غیب ہے لیکن پہلی زندگی دوسری پر دلیل ہے۔ دلیل یوں ہے کہ جب پہلی بار ایک قوت نے انسان کو پیدا کیا تو دوسری بار بھی وہ پیدا کرسکتی ہے۔ وہ ذات جس نے زوجین کو ایک نطفے سے پیدا کیا اور یہ تمہارا مشاہدہ ہے۔ اس بات پر قادر ہے کہ ان ہڈیوں اور مٹی کو دوبارہ جمع کرکے تمہیں اٹھا دے کیونکہ ہڈیوں اور مٹی کو جمع کرنا نطفے کے پانی کے اندر موجود ایک خلیے سے بڑھا کر پیدا کرنے سے مشکل نہیں ہے۔ یہ کام دوبارہ بھی واقع ہوسکتا ہے مثلاً وہ تدبیر جس کے نتیجے میں ایک نطفہ نہایت ہی چھوٹے جرثومے سے ایک طویل راہ سے گزر کر ایک مکمل مرد اور عورت کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ اسی تدبیر کے ذریعے سے اللہ قیامت میں سب کو اٹھائے گا تاکہ ہر کسی کو اس کے کئے کے مطابق جزا وسزا دے۔ کیونکہ دوبارہ اٹھانے کا مقصد زندگی کی تکمیل ہے جو یہاں مکمل نہ تھی۔ عالم آخرت میں ہر چیز اپنے کمال کو پہنچے گی لہٰذا ضروری ہے کہ اس میں تخلیق کی ٹیکنالوجی بھی اس دنیا کی تخلیق سے زیادہ پیچیدہ ہو۔ لہٰذا پہلی تخلیق کی دلالت دوسری تخلیق پر دو طرح کی ہے ایک یہ کہ دوسری تخلیق ممکن ہے اور دوسری یہ ہے کہ وہ ضروری ہے کہ وہاں مکمل جزا وسزا مل سکے اور ادھوری زندگی مکمل ہو۔ اور اس زندگی میں اور دوسری زندگی دونوں میں اللہ جسے چاہے غنی اور مالدار بنادے۔