Surat un Najam

Surah: 53

Verse: 50

سورة النجم

وَ اَنَّہٗۤ اَہۡلَکَ عَادَۨ ا الۡاُوۡلٰی ﴿ۙ۵۰﴾

And that He destroyed the first [people of] 'Aad

اور یہ کہ اسی نے عاد اول کو ہلاک کیا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

And that it is He Who destroyed the former `Ad, the people of Hud. They are the descendants of `Ad, son of Iram, son of Sam, son of Nuh. As Allah the Exalted said, أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ الَّتِى لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِى الْبِلَـدِ Saw you not how your Lord dealt with `Ad. Of Iram, with the lofty pillars, the like of which were not created in the land, (89:6-8) The people of `Ad were among the strongest, fiercest people and the most rebellious against Allah the Exalted and His Messenger. Allah destroyed them, بِرِيحٍ صَرْصَرٍ عَاتِيَةٍسَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَثَمَـنِيَةَ أَيَّامٍ حُسُوماً By a furious violent wind! Which Allah imposed in them for seven nights and eight days in succession. (69:6-7) Allah's statement, وَثَمُودَ فَمَا أَبْقَى

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

50۔ 1 قوم عاد اول اس لئے کہا کہ یہ ثمود سے پہلے ہوئی، یا اس لئے کہ قوم نوح کے بعد سب سے پہلے یہ قوم ہلاک کی گئی۔ بعض کہتے ہیں، عاد نامی دو قومیں گزری ہیں، یہ پہلی ہے جسے باد تند سے ہلاک کیا گیا جب کہ دوسری زمانے کی گردشوں کے ساتھ مختلف ناموں سے چلتی اور بکھرتی ہوئی موجود رہی۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وانہ اھلک عاد الاولی۔۔۔۔۔۔ ” عاد اولیٰ “ وہ قدیم قوم جس کی طرف ہو د (علیہ السلام) بھیجے گئے تھے ۔ انہیں ” اولیٰ “ یا تو ان کے قدیم ہونے کی وجہ سے کہا گیا ، جیسے فرمایا :( الا تبرجن تبرج الجاھلیۃ الاولیٰ ) ( الاحزاب : ٢٢)” پہلی جاہلیت کے زینت ظاہر کرنے کی طرح زینت ظاہر نہ کرو “ ۔ یا اس وجہ سے کہ ان پر عذاب آنے کے وت جو لوگ بچ گئے ان کی نسل کو عاد اخری ٰ یا عاد ثانیہ کہا گیا ۔ اکثر کے مطابق ہود (علیہ السلام) کی قوم کو عاد اولیٰ اور صالح (علیہ السلام) کی قوم ثمود کو عاد اخری کہا جاتا ہے۔ قوم عاد کی ہلاکت کی تفصیل کے لیے دیکھئے سورة ٔ اعراف ( ٧٢) حاقہ ( ٦ تا ٨) حم سجدہ (١٥، ١٦) قمر (١٨ تا ٢٠) ذاریات (٤١، ٤٢) اور احقاف (٢١ تا ٢٥) اور قوم ثمود کے تعارف کے لیے دیکھئے سورة ٔ اعراف (٧٣ تا ٧٩) ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

وَأَنَّهُ أَهْلَكَ عَادًا الْأُولَىٰ وَثَمُودَ فَمَا أَبْقَىٰ (and that He has destroyed the earlier ` Ad, and Thamud, so spared none,...53:50-51) The people of ` Ad were among the strongest, fiercest people and the most rebellious against Allah. There are two branches of this people: one of them is known as &ula [ the first ] and ` ukhra [ the latter or the second ]. Holy Prophet Hud (علیہ السلام) was sent to ` Ad, but they disobeyed him, as a result Allah annihilated the entire nation by a violently furious wind. This is the first nation that was destroyed in punishment after the destruction of the people of Holy Prophet Nuh علیہ السلام (Mazhari) Holy Prophet Salih (علیہ السلام) was sent to the tribe of Thamud, being the second ` Ad, but they too disobeyed their Prophet. Those who transgressed were caught by the awesome Cry of Jibra&il (علیہ السلام) and their hearts were burst by the horrific sound resulting in the mass destruction of those people. (See Ma` ariful Qur&an Vol. 4/p. 651 and the cross-reference given there. [ Tr.])

وَاَنَّهٗٓ اَهْلَكَ عَادَۨا الْاُوْلٰى، وَثَمُوْدَا۟ فَمَآ اَبْقٰى، قوم عاد دنیا کی قوی اور سخت ترین قوم ہے، ان کے دو طبقے یکے بعد دیگرے اولیٰ اور اخریٰ کے نام سے موسوم ہیں، ان کی طرف حضرت ہود (علیہ السلام) کو رسول بنا کر بھیجا گیا، نافرمانی پر ہوا کے طوفان کا عذاب آیا، پوری قوم ہلاک ہوئی، قوم نوح (علیہ السلام) کے بعد عذاب سے ہلاک ہونے والی یہ پہلی قوم ہے (مظہری) اور ثمود بھی انہی کی نظیر دوسری شاخ ہے، جن کی طرف حضرت صالح (علیہ السلام) کو بھیجا گیا، ان کی نافرمانی کرنے والوں پر سخت آواز کا عذاب آیا، جس سے ان کے کلیجے پھٹ کر ہلاک ہوگئے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاَنَّہٗٓ اَہْلَكَ عَادَۨا الْاُوْلٰى۝ ٥٠ ۙ هلك الْهَلَاكُ علی ثلاثة أوجه : افتقاد الشیء عنك، وهو عند غيرک موجود کقوله تعالی: هَلَكَ عَنِّي سُلْطانِيَهْ [ الحاقة/ 29] - وهَلَاكِ الشیء باستحالة و فساد کقوله : وَيُهْلِكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ [ البقرة/ 205] ويقال : هَلَكَ الطعام . والثالث : الموت کقوله : إِنِ امْرُؤٌ هَلَكَ [ النساء/ 176] وقال تعالیٰ مخبرا عن الکفّار : وَما يُهْلِكُنا إِلَّا الدَّهْرُ [ الجاثية/ 24] . ( ھ ل ک ) الھلاک یہ کئی طرح پر استعمال ہوتا ہے ایک یہ کہ کسی چیز کا اپنے پاس سے جاتے رہنا خواہ وہ دوسرے کے پاس موجود ہو جیسے فرمایا : هَلَكَ عَنِّي سُلْطانِيَهْ [ الحاقة/ 29] ہائے میری سلطنت خاک میں مل گئی ۔ دوسرے یہ کہ کسی چیز میں خرابی اور تغیر پیدا ہوجانا جیسا کہ طعام ( کھانا ) کے خراب ہونے پر ھلک الطعام بولا جاتا ہے قرآن میں ہے : ۔ وَيُهْلِكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ [ البقرة/ 205] اور کھیتی کو بر باد اور انسانوں اور حیوانوں کی نسل کو نابود کردی ۔ موت کے معنی میں جیسے فرمایا : ۔ إِنِ امْرُؤٌ هَلَكَ [ النساء/ 176] اگر کوئی ایسا مرد جائے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٥٠۔ ٥٢) اور یہ کہ اسی نے قوم ہود کو ہلاک کیا اور قوم صالح کو بھی کہ ان میں سے کسی کو بھی باقی نہ چھوڑا اور قوم صالح سے پہلے قوم نوح کو ہلاک کیا بیشک قوم نوح اپنے کفر و سرکشی و نافرمانی میں سب سے بڑھ کر تھے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٥٠{ وَاَنَّہٓٗ اَہْلَکَ عَادَا نِ الْاُوْلٰی ۔ } ” اور یہ کہ اسی نے ہلاک کیا تھا عاد اولیٰ کو۔ “ ” عادِ اولیٰ “ سے مراد قدیم قوم عاد ہے ‘ جس کی طرف حضرت ہود (علیہ السلام) مبعوث کیے گئے۔ یہ قوم احقاف کے علاقے میں آباد ہوئی۔ اس قوم پر جب عذاب بھیجنے کا فیصلہ ہوا تو حضرت ہود (علیہ السلام) اپنے اہل ایمان ساتھیوں کے ہمراہ اس علاقے سے ہجرت کر گئے۔ ان لوگوں کی نسل سے جو قوم وجود میں آئی وہ ” ثمود “ کہلائی۔ لیکن وہ لوگ چونکہ قوم عاد ہی کی نسل سے تھے اس لیے انہیں ” عادِ ثانیہ “ بھی کہا جاتا ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

45 'Ad Ula signifies the ancient 'Ad to whom the Prophet Hud (peace be upon him) had been appointed a Prophet. When those people were inflicted with the torment in consequence of denying the Prophet Hud, the believers only escaped the punishment. Their descendants are called `Ad Ukhra, or the latter 'Ad, in history.

سورة النَّجْم حاشیہ نمبر :45 عاد اُولیٰ سے مراد ہے قدیم قوم عاد جس کی طرف حضرت ہود علیہ السلام بھیجے گئے تھے ۔ یہ قوم جب حضرت ہود کو جھٹلانے کی پاداش میں مبتلائے عذاب ہوئی تو صرف وہ لوگ باقی بچے جو ان پر ایمان لائے تھے ۔ ان کی نسل کو تاریخ میں عاد اُخریٰ یا عاد ثانیہ کہتے ہیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 5 یعنی حضرت ہود (علیہ السلام) کی قوم اسے ” پہلے عاد “ اس لئے کہا گیا کہ وہ ثمود سے پہلے تھی۔ یا وہ پہلی قوم تھی جو قوم نوح کے بعد تباہ کی گئی ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ قوم عاد دو ہیں پہلی حضرت ہود کی قوم اور دوسری ارم کی قوم جس کا ذکر سورة فجر میں آئے گا اور جو ان لوگوں کی نسل سے تھی جو حضرت ہود پر ایمان لائے تھے اور عذاب سے بچ گئے تھے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : ” اَلشِّعْریٰ “ اور علم نجوم پر یقین رکھنے والوں کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ ستاروں کی گردش کی وجہ سے کائنات میں تبدیلیاں ناگزیر ہوجاتی ہے اور اسی وجہ سے ہلاکتیں رونما ہوتی ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے سورج، چاند اور ستاروں کو ایک محدود حد تک موسم اور فضا میں تبدیلی لانے کا ذریعہ بنایا ہے لیکن اس کا یہ معنٰی نہیں کہ سورج، چاند اور ستارے ازخود اپنے وجود میں یہ طاقت رکھتے ہیں۔ مسلمان کا یہ عقیدہ ہے اور ہونا چاہیے کہ ہر چیز میں جو قوت اور تاثیر ہے وہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ہے۔ اگر ” اللہ “ اس قوت کو ضبط کرلے تو اس چیز میں یہ طاقت نہیں کہ وہ اثر انداز ہو سکے۔ جس کی واضح مثال ابراہیم (علیہ السلام) کے حوالے سے قرآن مجید میں موجود ہے کہ جب ابراہیم (علیہ السلام) کو بھڑکتی ہوئی آگ میں پھینکا گیا تو اللہ تعالیٰ نے آگ کو حکم دیا کہ وہ ابراہیم (علیہ السلام) کے لیے ٹھنڈی ہوجائے۔ آگ بظاہر اسی طرح بھڑکتی رہی لیکن اس کی تاثیر ختم کردی گئی۔ ابراہیم (علیہ السلام) باسلامت باہر تشریف لے آئے۔ لہٰذا یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ اصل قوت ” اللہ “ کے اختیار میں ہے۔ ” اَلشِّعْریٰ “ کے ذکر کے بعد قوم نوح، قوم عاد، قوم ثمود اور قوم لوط کی ہلاکت کے ذکر کو اللہ تعالیٰ نے بطور نعمت بیان فرمایا ہے۔ مذکورہ بالا اقوام کی ہلاکت کو اس لیے نعمت کے طور پر ذکر کیا ہے کیونکہ لوگوں نے ظالموں سے نجات پائی اور مظلوموں کو پھلنے پھولنے کا موقع نصیب ہوا۔ ” تَتَمَاریٰ “ کا معنٰی ہے آپس میں جھگڑنا، آپس میں اختلاف کرنا شک کرنا وغیرہ۔ اس لیے فرمایا ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی کس کس نعمت کے بارے میں تکرار یا شک کرو گے۔ قوم عاد کو آندھی نے گھیر لیا، قوم ثمود کو دھماکے نے آلیا، قوم نوح پر سیلاب عذاب آیا اور قوم لوط کو پتھروں کی بارش کے ساتھ ملیا میٹ کردیا گیا۔ قوم لوط کے بارے میں یہاں صرف اتناہی فرمایا ہے کہ الٹ جانے والی بستی پر چھایا جو چھایا۔ قوم نوح، عاد، ثمود اور لوط کی تفصیل جاننے کے لیے سورة الذاریات کی آیت ٤١ تا ٤٦ کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں ! عاد اولیٰ سے مراد قدیم قوم عاد ہے جس طرف ہود (علیہ السلام) بھیجے گئے تھے۔ یہ قوم جب حضرت ہود (علیہ السلام) کو جھٹلانے کی پاداش میں عذاب میں مبتلا ہوئی تو صرف وہ لوگ باقی بچے جو ان پر ایمان لائے تھے۔ ان کی نسل کو تاریخ میں عاد اخریٰ یا عاد ثانیہ بھی کہتے ہیں۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

وانہ ............ تتماری (٥٥) (٣٥ : ٠٥ تا ٥٥) ” یہ کہ اسی نے عاد اولی کو ہلاک کیا اور ثمود کو ایسا تباہ کیا کہ اس میں سے کسی کو نہ چھوڑا اور ان سے پہلے قوم نوح کو تباہ کیا کہ وہ تھے ہی سخت ظالم اور سرکش لوگ اور اوندھی گرنے والی بستیوں کو اٹھا کر پھینکا پھر چھا دیا ان پر وہ جو (تم جانتے ہو کہ) کیا چھا دیا۔ پس اے انسان اپنے رب کی کن کن نعمتوں میں تو شک کرے گا۔ “ یہ ایک سرسری نظر ہے جس میں ایک ایک امت پر مختصر نگاہ ڈالی جاتی ہے اور اس کے انجام کو دکھا کر انسانی شعور کو چن کی دی جاتی ہے کہ وہ بیدار ہو۔ عاد ، ثمود اور قوم نوح کو تو قرآن کے قاری جانتے ہیں اور کئی جگہ یہ قصص مذکور ہیں۔ موتفکہ کا لفظ افک بمعنی بہتان اور ضلالت سے ہے۔ ( وہ بستیاں جو الٹ دی گئیں ، لوط کی قوم کی بستیاں تھیں۔ ) ان بستیوں کے بارے میں یہ کہ ان بستیوں پر چھا گیا جو چھا گیا اس میں عذاب کو زیادہ خوفناک اور عظیم دکھانے کے لئے نام نہیں لیا گیا یعنی بربادی ، آتش فشانی کے ذریعے جو بربادی بھی آپ تصور کرسکتے ہیں وہ ان پر چھا گئی لہٰذا بیان کی ضرورت نہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اللہ تعالیٰ ہی نے عاد اولیٰ اور ثمود کو ہلاک فرمایا اور لوط (علیہ السلام) کی بستیوں کو الٹ دیا ﴿وَ اَنَّهٗۤ اَهْلَكَ عَادَا ا۟لْاُوْلٰى ۙ٠٠٥٠ ﴾ (اور بیشک اس نے عاد اولیٰ کو ہلاک فرمایا) ﴿ وَ ثَمُوْدَاۡ فَمَاۤ اَبْقٰى ۙ٠٠٥١ ﴾ (اور ثمود کو بھی ہلاک کیا سو ان کو باقی نہ چھوڑا) ۔ ان دونوں آیتوں میں قوم عاد اور قوم ثمود کی ہلاکت اور بربادی کا ذکر فرمایا ہے قوم عاد کے لوگ کہتے تھے کہ ہم سے بڑھ کر کون طاقتور ہے اور قوم ثمود کے لوگ پہاڑوں کو تراش کر گھر بنا لیتے تھے ان دونوں قوموں کی قوت اور طاقت کچھ بھی کام نہ آئی کفر کی سزا میں ہلاک اور برباد کردیئے گئے۔ ﴿ وَ قَوْمَ نُوْحٍ مِّنْ قَبْلُ ﴾ اور ان سے قبل نوح (علیہ السلام) کی قوم کو ہلاک کیا۔ ﴿ اِنَّهُمْ كَانُوْا هُمْ اَظْلَمَ وَ اَطْغٰىؕ٠٠٥٢﴾ (بیشک یہ لوگ بڑے ہی ظالم اور بڑے ہی سرکش تھے۔ ﴿ وَ الْمُؤْتَفِكَةَ اَهْوٰىۙ٠٠٥٣﴾ (اور اللہ تعالیٰ نے الٹی ہوئی بستیوں کو پھینک مارا) اس سے حضرت لوط (علیہ السلام) کی بستیاں مراد ہیں ان کی قوم کے لوگ کافر بھی تھے اور بدکاری میں بہت زیادہ مبتلا تھے مرد مردوں سے شہوت پوری کرتے تھے اللہ تعالیٰ نے ان کی زمین کا تختہ الٹ دیا جس کی وجہ سے سب کافر ہلاک ہوگئے چونکہ یہ بہت سخت عذاب تھا تختہ الٹے جانے کے ساتھ ساتھ پتھروں کی بارش بھیج دی گئی اس لیے فرمایا ﴿فَغَشّٰىهَا مَا غَشّٰىۚ٠٠٥٤ ﴾ (انہیں اس چیز نے ڈھانپ لیا جس نے ڈھانپا) اس میں عذاب کی سختی اور وحشت کو بیان فرمایا ہے جیسا کہ فرعون اور اس کے لشکروں کی ہلاکت کا تذکرہ فرماتے ہوئے ﴿ فَغَشِيَهُمْ مِّنَ الْيَمِّ مَا غَشِيَهُمْؕ٠٠٧٨﴾ فرمایا ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

27:۔ ” وانہ ھلک “ عاد اولی سے قوم ہود (علیہ السلام) مراد ہے، کیونکہ وہ قوم نوح کے بعد باقی تمام سرکش قوموں سے پہلے ہلاک ہوئی۔ اسی لیے اسے الاولی کہا گیا۔ یا یہ صفت عاد ثانیہ سے ممتاز کرنے کے لیے ہے جس سے یا تو قوم ثمود مراد ہے یا عمالقہ کا قبیلہ بنو سقیم بن ہزال (روح) یعنی گذشتہ سرکش اور کافر قوموں مثلا عاد وثمود اور ان سے پہلے قوم نوح کو اللہ تعالیٰ ہی نے ہلاک کیا ہے اور ان میں سے کسی کو بھی نہیں چھوڑا اس لیے کہ وہ بڑے بےانصاف اور حد سے تجاوز کرنے والے تھے ان کی بےانصافی یہ تھی کہ وہ خدا کی عاجز مخلوق کو خدائے قادر وقیوم کا شریک بناتے اور خدا کے سوا ان کو پکارتے تھے اور ان کے عناد و طغیان کا یہ حال تھا کہ حق کو سمجھ لینے کے باوجود محض ضد و حسد کی وجہ سے ٹھکراتے تھے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(50) اور یہ کہ اس نے عاد اولی یعنی قدیم عاد کو ہلاک کیا۔