Surat un Najam

Surah: 53

Verse: 59

سورة النجم

اَفَمِنۡ ہٰذَا الۡحَدِیۡثِ تَعۡجَبُوۡنَ ﴿ۙ۵۹﴾

Then at this statement do you wonder?

پس کیا تم اس بات سے تعجب کرتے ہو؟

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Do you then wonder at this recitation, تَعْجَبُونَ (wonder) doubting that it is true. وَتَضْحَكُونَ وَلاَ تَبْكُونَ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

59۔ 1 بات سے مراد قرآن کریم ہے، یعنی اس سے تم تعجب کرتے اور اس کا مذاق کرتے ہو، حالانکہ اس میں نہ تعجب والی کوئی بات ہے نہ مذاق اور جھٹلانے والی۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٤٢] یعنی تم تعجب تو ایسے کرتے ہو جیسے دوبارہ مر کر جی اٹھنے کی بات آج پہلی بار سنی ہے۔ حالانکہ تمام انبیاء یہی بات کہتے آئے ہیں۔ اب چاہئے تو یہ تھا کہ تم اپنے انجام سے ڈر جاتے اور اللہ کے خوف سے رونے لگتے۔ مگر تم اس کے برعکس ان باتوں کا مذاق اڑاتے ہو اور انجام سے غافل رہ کر کھیل کود میں وقت گزار رہے ہو۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اَفَمِنْ ھٰذَا الْحَدِیْثِ تَعْجَبُوْنَ :” ھذا الحدیث “ سے مراد رسولوں کو جھٹلانے والی اقوام کے عبرتناک انجام کی اور قیامت قریب ہونے کی بات ہے جو ابھی بیان ہوئی ہے۔ فرمایا بھلا یہ کوئی انوکھی اور ناقابل یقین بات ہے جس پر تم تعجب کر رہے ہو ؟

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

أَفَمِنْ هَـٰذَا الْحَدِيثِ تَعْجَبُونَ وَتَضْحَكُونَ وَلَا تَبْكُونَ (Do you then wonder at this discourse, and laugh [ at it ], and not weep....53:59-60). The phrase this discourse& refers to the Qur&an. That is, the Qur&an, the Divine Discourse, which is itself a miracle, has already come to them. They are surprised at it and laugh in jest and mock at it, and do not weep at their sins and shortcomings.

اَفَمِنْ ھٰذَا الْحَدِيْثِ تَعْجَبُوْنَ وَتَضْحَكُوْنَ وَلَا تَبْكُوْنَ ، ہذا الحدیث سے مراد قرآن کریم ہے معنی آیت کے یہ ہیں کہ قرآن کریم جیسا کلام الٰہی جو خود ایک معجزہ ہے تمہارے سامنے آ چکا کیا اس پر بھی تم تعجب کرتے ہو اور بطور استہزاء کے ہنستے ہو اور اپنی معصیت یا عمل کوتاہی پر روتے نہیں۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اَفَمِنْ ھٰذَا الْحَدِيْثِ تَعْجَبُوْنَ۝ ٥٩ ۙ هذا ( ذَاكَ ذلك) وأما ( ذا) في (هذا) فإشارة إلى شيء محسوس، أو معقول، ويقال في المؤنّث : ذه وذي وتا، فيقال : هذه وهذي، وهاتا، ولا تثنّى منهنّ إلّا هاتا، فيقال : هاتان . قال تعالی: أَرَأَيْتَكَ هذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ [ الإسراء/ 62] ، هذا ما تُوعَدُونَ [ ص/ 53] ، هذَا الَّذِي كُنْتُمْ بِهِ تَسْتَعْجِلُونَ [ الذاریات/ 14] ، إِنْ هذانِ لَساحِرانِ [ طه/ 63] ، إلى غير ذلك هذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنْتُمْ بِها تُكَذِّبُونَ [ الطور/ 14] ، هذِهِ جَهَنَّمُ الَّتِي يُكَذِّبُ بِهَا الْمُجْرِمُونَ [ الرحمن/ 43] ، ويقال بإزاء هذا في المستبعد بالشخص أو بالمنزلة : ( ذَاكَ ) و ( ذلك) قال تعالی: الم ذلِكَ الْكِتابُ [ البقرة/ 1- 2] ، ذلِكَ مِنْ آياتِ اللَّهِ [ الكهف/ 17] ، ذلِكَ أَنْ لَمْ يَكُنْ رَبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرى [ الأنعام/ 131] ، إلى غير ذلك . ( ذ ا ) ہاں ھذا میں ذا کا لفظ اسم اشارہ ہے جو محسوس اور معقول چیز کی طرف اشارہ کے لئے آتا ہے ۔ چناچہ کہا جاتا ہے ۔ ھذہ وھذی وھاتا ۔ ان میں سے سرف ھاتا کا تژنیہ ھاتان آتا ہے ۔ ھذہٰ اور ھٰذی کا تثنیہ استعمال نہیں ہوتا قرآن میں ہے : أَرَأَيْتَكَ هذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ [ الإسراء/ 62] کہ دیکھ تو یہی وہ ہے جسے تونے مجھ پر فضیلت دی ہے ۔ هذا ما تُوعَدُونَ [ ص/ 53] یہ وہ چیزیں ہیں جن کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا ۔ هذَا الَّذِي كُنْتُمْ بِهِ تَسْتَعْجِلُونَ [ الذاریات/ 14] یہ وہی ہے جس کے لئے تم جلدی مچایا کرتے تھے ۔ إِنْ هذانِ لَساحِرانِ [ طه/ 63] کہ یہ دونوں جادوگر ہیں ۔ هذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنْتُمْ بِها تُكَذِّبُونَ [ الطور/ 14] یہی وہ جہنم ہے جس کو تم جھوٹ سمجھتے تھے ۔ هذِهِ جَهَنَّمُ الَّتِي يُكَذِّبُ بِهَا الْمُجْرِمُونَ [ الرحمن/ 43] یہی وہ جہنم ہے جسے گنہگار لوگ جھٹلاتے تھے ۔ ھذا کے بالمقابل جو چیز اپنی ذات کے اعتبار سے دور ہو یا باعتبار مرتبہ بلند ہو ۔ اس کے لئے ذاک اور ذالک استعمال ہوتا ہے ۔ چناچہ فرمایا الم ذلِكَ الْكِتابُ [ البقرة/ 1- 2] یہ کتاب یہ خدا کی نشانیوں میں سے ہے ۔ ذلِكَ مِنْ آياتِ اللَّهِ [ الكهف/ 17] یہ اس لئے کہ تمہارا پروردگار ایسا نہیں ہے کہ بستیوں کو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہلاک کردے ۔ حدیث وكلّ کلام يبلغ الإنسان من جهة السمع أو الوحي في يقظته أو منامه يقال له : حدیث، قال عزّ وجلّ : وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلى بَعْضِ أَزْواجِهِ حَدِيثاً [ التحریم/ 3] ، وقال تعالی: هَلْ أَتاكَ حَدِيثُ الْغاشِيَةِ [ الغاشية/ 1] ، وقال عزّ وجلّ : وَعَلَّمْتَنِي مِنْ تَأْوِيلِ الْأَحادِيثِ [يوسف/ 101] ، أي : ما يحدّث به الإنسان في نومه، حدیث ہر وہ بات جو انسان تک سماع یا وحی کے ذریعہ پہنچے اسے حدیث کہا جاتا ہے عام اس سے کہ وہ وحی خواب میں ہو یا بحالت بیداری قرآن میں ہے ؛وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلى بَعْضِ أَزْواجِهِ حَدِيثاً [ التحریم/ 3] اور ( یاد کرو ) جب پیغمبر نے اپنی ایک بی بی سے ایک بھید کی بات کہی ۔ أَتاكَ حَدِيثُ الْغاشِيَةِ [ الغاشية/ 1] بھلا ترکو ڈھانپ لینے والی ( یعنی قیامت کا ) حال معلوم ہوا ہے ۔ اور آیت کریمہ :۔ وَعَلَّمْتَنِي مِنْ تَأْوِيلِ الْأَحادِيثِ [يوسف/ 101] اور خوابوں کی تعبیر کا علم بخشا۔ میں احادیث سے رویا مراد ہیں عجب العَجَبُ والتَّعَجُّبُ : حالةٌ تعرض للإنسان عند الجهل بسبب الشیء، ولهذا قال بعض الحکماء : العَجَبُ ما لا يُعرف سببه، ولهذا قيل : لا يصحّ علی اللہ التَّعَجُّبُ ، إذ هو علّام الغیوب لا تخفی عليه خافية . يقال : عَجِبْتُ عَجَباً ، ويقال للشیء الذي يُتَعَجَّبُ منه : عَجَبٌ ، ولما لم يعهد مثله عَجِيبٌ. قال تعالی: أَكانَ لِلنَّاسِ عَجَباً أَنْ أَوْحَيْنا [يونس/ 2] ، تنبيها أنهم قد عهدوا مثل ذلک قبله، وقوله : بَلْ عَجِبُوا أَنْ جاءَهُمْ [ ق/ 2] ، وَإِنْ تَعْجَبْ فَعَجَبٌ قَوْلُهُمْ [ الرعد/ 5] ، ( ع ج ب ) العجب اور التعجب اس حیرت کو کہتے ہیں جو کسی چیز کا سبب معلوم نہ ہونے کی وجہ سے انسان کو لاحق ہوجاتی ہے اسی بنا پر حکماء نے کہا ہے کہ عجب اس حیرت کو کہتے ہیں جس کا سبب معلوم نہ ہو اس لئے اللہ تعالیٰ پر تعجب کا اطلاق جائز نہیں ہے کیونکہ ذات باری تعالیٰ تو علام الغیوب ہے اس بنا پر کوئی چیز بھی مخفی نہیں ہے عجبت عجبا ( س ) میں نے تعجب کیا عجب ہر وہ بات جس سے تعجب پیدا ہوا اور جس جیسی چیز عام طور نہ دیکھی جاتی ہوا ہے عجیب کہا جاتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ أَكانَ لِلنَّاسِ عَجَباً أَنْ أَوْحَيْنا[يونس/ 2] کیا لوگوں کو اس بات پر حیرت ہے کہ ہم نے وحی بھیجی ۔ میں تنبیہ کی ہے کہ آنحضرت کی طرف وحی بھیجنا کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کیونکہ یہ لوگ پہلے سے سلسلہ وحی کو جانتے ہیں نیز فرمایا : ۔ بَلْ عَجِبُوا أَنْ جاءَهُمْ [ ق/ 2] بلکہ ان لوگوں نے تعجب کیا ہے کہ انہی میں سے ایک ہدایت کرنے والا ان کے پاس آیا ۔ وَإِنْ تَعْجَبْ فَعَجَبٌ قَوْلُهُمْ [ الرعد/ 5] اور اگر تم عجیب بات سننی چاہو تو کافروں کا یہ کہنا عجیب ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٥٩۔ ٦٢) سو کیا اے مکہ والو تم اس قرآن کریم کا جو تم کو رسول اکرم پڑھ کر سناتے ہیں مذاق کرتے ہو یا یہ کہ جھٹلاتے ہو اور بطور مذاق ہنستے ہو۔ اور اس میں خوف و عذاب کے جو مضامین ہیں ان سے روتے نہیں ہو اور تم اس سے تکبر کرتے ہو اور اس پر ایمان نہیں لاتے۔ سو اللہ کے سامنے توحید کے قائل ہو کر اور توبہ کر کے جھک جاؤ اور اس کی بغیر کسی شریک کے عبادت کرو۔ شان نزول : وَاَنْتُمْ سٰمِدُوْنَ (الخ) اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ کفار رسول اکرم کے پاس سے مذاق اڑاتے اور تکبر کرتے ہوئے گزرتے تھے حالانکہ آپ نماز پڑھ رہے ہوتے تھے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٥٩{ اَفَمِنْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ تَعْجَبُوْنَ ۔ } ” تو کیا تم لوگوں کو اس کلام کے بارے میں تعجب ہورہا ہے ؟ “ ہٰذَا الْحَدِیْثِ سے مراد یہاں قرآن مجید ہے ‘ یعنی کیا تم لوگ قرآن کے بارے میں تعجب کر رہے ہو ؟

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

52 The word hadh-al-Hadith as used in the original, signifies the whole teaching that was . being presented in the Qur'an through the Holy Prophet Muhammad (upon whom be Allah's peace and blessings) and "marvel" implies the marvel that man expresses on hearing a novel and incredible thing. The verse means this: "That to which Muhammad (upon whom be Allah's peace and blessings) is inviting you is the same that you have already heard. Now, is it this very thing at which you marvel and feel alarmed, and express wonder as if something very strange and novel was being presented before you?"

سورة النَّجْم حاشیہ نمبر :52 اصل میں لفظ ھٰذَا الْحَدِیْث استعمال ہوا ہے جس سے مراد وہ ساری تعلیم ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے قرآن مجید میں پیش کی جا رہی تھی ۔ اور تعجب سے مراد وہ تعجب ہے جس کا اظہار آدمی کسی انوکھی اور ناقابل یقین بات کو سن کر کیا کرتا ہے ۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم جس چیز کی طرف دعوت دے رہے ہیں وہ یہی کچھ تو ہے جو تم نے سن لی ۔ اب کیا یہی وہ باتیں ہیں جن پر تم کان کھڑے کرتے ہو اور حیرت سے اس طرح منہ تکتے ہو کہ گویا کوئی بڑی عجیب اور نرالی باتیں تمہیں سنائی جا رہی ہیں؟

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(53:59) افمن : استفہام انکاری ہے۔ ا استفہامیہ ف حرف عطف، اس کا عطف محذوف پر ہے۔ من حرف جار۔ یا افمن سوال بطور زجر ہے۔ ھذا الحدیث : ای القران ھذا اسم اشارہ الحدیث (بات ، کلام) مشار الیہ۔ اشارہ اور مشار الیہ مل کر مجرور۔ من حرف جر۔ من ھذا الحدیث یہ قرآن اور اس کی تعلیمات۔ تعجبون : مضارع جمع مذکر حاضر، عجب (باب سمع) مصدر۔ تم تعجب کرتے ہو ۔ تم اچنبھا کرتے ہو۔ افمن ھذا الحدیث تعجبون : کیا تم اس قرآن وحی الٰہی ، کلام الٰہی سے اور اس میں مشمولہ پندو نصائح سے انکار کرتے ہوئے تعجب کرتے ہو ۔ (تعجبون انکارا۔ دوح المعانی)

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

افمن ................ سمدون (١٦) (٣٥ : ٩٥ تا ١٦) ” اب کیا یہی باتیں ہیں جن پر تم اظہار تعجب کرتے ہو ، ہنستے ہو اور روتے نہیں ہو ؟ اور گا بجا کر انہیں ٹالتے ہو۔ “ یہ تو ایک سنجیدہ گفتگو ہے اور لوگوں پر عظیم فرائض عائد کرتی ہے اور یہ گفتگو ایک مکمل نظام حیات کی گفتگو ہے تو تمہیں اس پر تعجب کیا ہورہا ہے اور تم ہنستے کیوں ہو۔ یہ تو دو ٹوک سنجیدہ بات ہے اور جس کے یہ عظیم نتائج وذمہ داریاں ہیں۔ اس زمین پر لوگوں کی جو زندگی ہے اس پر ان کو جواب دینا ہے۔ تمہیں تو اس کی فکر کرنی چاہئے۔ ہنسنے کا مقام نہیں رونے کا مقام ہے۔ ایک ہولناک اور خوفناک موقع آنے والا ہے جہاں کرب عظیم ہوگا۔ اب ایک آخری چیخ۔ ایک پوری آواز سے پکار جو دلوں کو ہلا دیتی اور کانوں کو پھاڑ دیتی ہے کہ لوگو ، جہنم سے بچو ، تدارک کرو اپنے آپ کو بچاؤ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

﴿اَفَمِنْ هٰذَا الْحَدِيْثِ تَعْجَبُوْنَۙ٠٠٥٩﴾ (کیا تم اس بات سے تعجب کرتے ہو) ﴿ وَ تَضْحَكُوْنَ وَ لَا تَبْكُوْنَۙ٠٠٦٠ ﴾ (اور ہنستے ہو اور روتے نہیں ہو) ﴿ وَ اَنْتُمْ سٰمِدُوْنَ ٠٠٦١﴾ (اور تم تکبر کرتے ہو) ۔ یہ قرآن اور اس کا ڈرانا اور وقوع قیامت کی خبر دینا کیا تم اس سے تعجب کرتے ہو اور ساتھ ہی ہنستے بھی ہو اور روتے نہیں تمہیں تو کفر چھوڑ کر ایمان لانا لازم ہے سابقہ زندگی پر روؤ اور کفر سے توبہ کرو، ایمان اور قرآن کے نام سے ہنستے ہو یہ چیز تمہارے لیے دنیا و آخرت میں بربادی کا سبب ہے تکبر تمہیں لے ڈوبے گا۔ تکبر کی وجہ سے تم اپنے کفر پر جمے ہوئے ہو اور ایمان لانے میں اپنی بےآبروئی محسوس کرتے ہو تمہارا یہ انکار اور ہنسنا اور تکبر کرنا، دنیا اور آخرت میں عذاب لانے کا سبب ہے۔ سمدون کا ترجمہ متکبرون کیا گیا ہے۔ مفسرین نے اس کے دوسرے معانی بھی لکھے ہیں۔ اس کا مصدر سمود ہے جس کا معنی تکبر کی وجہ سے سر اٹھانا ہے۔ گانا، لہو و لعب میں مشغول ہونا، غصے میں پھول جانا وغیرہ معانی بھی لکھے ہیں۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

31:۔ یہ منکرین کیلئے زجر ہے۔ اے قریش مکہ ! تم اس قرآن پر متحیر اور کج فہمی کی وجہ سے اس کا انکار کرتے اور اس کا مذاق اڑاتے ہو، لیکن اس میں آیات و وعد و وعید سن کر اپنی سرکشی پر اور بدعنوانیوں پر تمہیں کبھی رونا نہیں آیا اور تم حق سے منہ پھیرے سراسر غفلت میں پڑے ہو (افمن ھذا الحدیث) ای القران (تعجبون) انکارا (وتضحکون) استہزاء (ولا تبکون) تحزنا علی ما فرطتم (بیضاوی) ۔ ولا تبکون لسماع وعدہ ووعیدہ (جلالین) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(59) کیا تم اس بات پر تعجب اور اچنبھا کرتے ہو۔