Surat un Najam

Surah: 53

Verse: 6

سورة النجم

ذُوۡ مِرَّۃٍ ؕ فَاسۡتَوٰی ۙ﴿۶﴾

One of soundness. And he rose to [his] true form

جو زور آور ہے پھر وہ سیدھا کھڑا ہوگیا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

ذُو مِرَّةٍ ... Dhu Mirrah, meaning, he is mighty in power, according to Mujahid, Al-Hasan and Ibn Zayd. In an authentic Hadith from Abdullah bin Umar and Abu Hurayrah, the Prophet said, لاَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيَ وَلاَا لِذِي مِرَّةٍ سَوِي Charity is not allowed for a rich person nor Dhu Mirrah (a strong person) of sound mind and body. Allah said; ... فَاسْتَوَى then he Istawa (rose). this refers to the angel Jibril, according to Al-Hasan, Mujahid, Qatadah and Ar-Rabi` bin Anas, وَهُوَ بِالاُْفُقِ الاَْعْلَى

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(١) ذومرۃ : طاقت، توانائی اور مضبوطی والا۔ ” مرۃ “ کا لفظ اصل میں رسی کو بٹنے اور بل دے کر مضبوط کرنے کے معنی میں آتا ہے۔ اس پر تنوین تعظیم کیلئے ہے ، اس لئے ترجمہ ” بڑی طاقت والا “ کیا گیا ہے۔ اس طاقت میں عملی اور علمی دونوں طاقتیں شامل ہیں۔” شدید القوی “ کے بعد ” ذومرۃ “ کے ساتھ ان کی طاقت اور توانائی کو مزید اجاگر فرمایا ہے۔ بعض مفسرین نے ” شدید القوی “ سے عملی قوتیں اور ” ذومرۃ “ سے علمی اور عقلی قوتیں مراد لی ہیں، مگر دونوں لفظ ہر قسم کی قوتوں پر ساتعملا ہوتے ہیں، اس لئے تاکید مراد لینا راجح معلوم ہوتا ہے۔ (٢) ” فاستوی “ برابر ہوا، بلند ہوا۔” افق “ دور سے نظر آنے والی وہ جگہ جہاں زمین و آسمان ملتے ہوئے نظر آتے ہیں اور آسمان نیلے گنبد کی طرح بلند ہوتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ ” افق اعلیٰ “ مشرقی کنارا، جہاں سے سورج طلوع کے وقت بلند ہوتا ہے۔ اسی کو دوسری جگہ ” الافق المبین “ فرمایا، جیسا کہ فرمایا :(ولقد راہ بالافق المبین) (الکتویر : ٢٣)” اور بلاشبہ یقیناً اس نے اس (جبریل) کو (آسمان کے) روشن کنارے پر دیکھا ہے۔ “ (٣) فتدلی : یہ ”’ لو “ سے مشتق ہے، سورة یوسف میں ہے۔ (فاذدلی دلوہ) (یوسف : ١٩)” تو اس نے اپنا ڈول لٹکایا۔ “” تدلی “ لٹک آیا، یعنی فضا میں رہتے ہوئے کچھ نیچے آگیا۔ ” قاب “ مقدار۔ ” او ادنی “ یا زیادہ قریب۔ یعنی اگر آدمی اس فاصلے کو دیکھے تو اسے یہ دو کمانوں کے برابر یا اس سے بھی کم نظر آئے۔ بعض اہل علم نے فرمایا، یہاں ” او “ ” بل “ کے معنی میں ہے، یعنی دو کمانوں کے برابر بلکہ اس سے بھی کم، یحساب کہی ونس علیہ السام کے متعلق فرمایا :(وارسلنہ الی مائۃ الف او یریدون) (الصافات :138)” اور ہم نے اسے ایک لاکھ کی طرف بھیجا، بلکہ وہ زیادہ ہوں گے۔ “ (٤) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی زندگی میں جبریل (علیہ السلام) کو دو بار ان کی اصل صورت میں دیکھا ہے۔ ان آیات میں پہلی بار دیکھنے کا ذکر ہے، جبریل (علیہ السلام) آسمان کے مشرقی کنارے پر نمودار ہوئے، تو زمین و آسمان کا درمیانی فاصلہ ان سے پر ہوگیا ، جیسا کہ جابر بن عبداللہ (رض) نے بیان کیا کہ انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا، آپ (پہلی وحی کے بعد) وحی کے وقفے کے متعلق بیان فرما رہے تھے :(فینا انا مشی اذ سمعت صوتاً من السمآء فرفعت بصری قبل السمآء فاذا الملک الذی جاء نبی بجراء فاعد علی کرسی بین السمآء والارض فجئت منہ حتی ھویت الی الارض فجنت اھلی ففک زملونی زماونی فرما ونی فانزل اللہ تعالیٰ (یا یھا المدثر، قم فانذر) (الی فاھجر) ثم حمی الوحی و تتابع) (بخاری، التفسیر، سورة المدثر ، باب :(والرجز فاھجر) (: ٣٩٢٦)” ایک دفعہ میں چلا جا رہا تھا، اچانک میں نے آسمان سے ایک آواز سنی تو میں نے اپنی نگاہ آسمان کی طرف اٹھئای تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہی فرشتہ جو میرے پاس حرا میں آیا تھا وہ آسمان و زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہے، تو میں اس سے ڈر گیا، یہاں تک کہ میں زمین پر گرگیا، پھر میں اپنے گھر والوں کے پاس آیا اور کہا، مجھے چادر اوڑھا دو ، مجھے چادر اوڑھا دو ، تو انہوں نے مجھے چادر اوڑھا دی۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں :(یایھا المدثر، قم فانذر ، وربک فکبر ، وثیابک فطھر، والرجز فاھجر) پھر وحی گرما گرم ہوگئی اور پے در پے آنے لگی۔ “ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے جبریل (علیہ السلام) کو ان کی اصل صورت میں دیکھنے کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے : (حدثنا الشیانی قال سمعت زرا عن عبداللہ (فکان قاب قوسین او ادنی، فاوحی الی عبدہ ما اوحی ) قال حدثنا ابن مسعود انہ رای جبریل لعہ ست مائۃ جناح) (بخاری، التفسیر، سورة النجم، باب :(فکان قاب قوسین او ادلی؛3856)” زر (بن حبیشن) نے عبداللہ بن مسعود (رض) سے (فکان قاب قوسین او ادنی ، فاوحی الی عبدہ ما اوحی) کی تفسیر روایت کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں عبداللہ بن مسعود (رض) نے بیان کیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جبریل کو دیکھا، ان کے چھ سو پر تھے۔ “ ان آیات کا مقصد کفار کے اس الزام کی تردید ہے جو وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر لگاتے تھے کہ کوئی عجمی آدمی اسے قرآن کی باتیں سکھا جاتا ہے اور یہ ہمیں سنا کر کہتا ہے کہ یہ اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہیں۔ اس کے جواب میں فرمایا گیا کہ کسی عجمی شخص نے نہیں، بلکہ ایک نہایت مضبوط قوتوں اور بڑی طاقتو الے فرشتے نے اسے اس قرآن کی تعلیم دی ہے۔ چناچہ ایک دفعہ ایسا ہوا کہ وہ شدید القوی فرشتہ مشرق افق پر بلند ہوا، اس وقت وہ آسمان و زمین کے درمیان ایک کسری پر بیٹھا ہوا تھا پھر وہ فضا ہی میں نیچے اترتا ہوا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اتنا قریب ہوا کہ آپ سے دو کمانوں سے بھی کم فاصلے پر آگیا۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

ذُو مِرَّ‌ةٍ فَاسْتَوَىٰ وَهُوَ بِالْأُفُقِ الْأَعْلَىٰ (one of vigour. So he stood poised, while he was on the upper horizon...53:6-7] The word mirrah means &strength& or &vigour&. This is another quality of Jibra&il (علیہ السلام) in that he is no weakling, but strong, mighty in power and firm, so that it may not be suspected that the devil may intercept the angel carrying the Divine revelation and snatch it away from him. Jibra&il (علیہ السلام) is so mighty in power and strength that the devil dare not come anywhere near him. The word اِسْتَوَىٰ istawa means to be or become straight or to level. The verse means that when he saw Jibra&il (علیہ السلام) the first time, the latter was descending from the heaven. Having descended, he sat or settled straight on the highest part of the horizon. Ufuq [ horizon ] is qualified by a&la [ the highest part or uppermost ] and it signifies that Jibra&il (علیہ السلام) was shown on the uppermost horizon, [ so that he could be seen clearly ] because the lower part of the horizon which seems to be adjacent to the earth is normally hidden from the sight [ as a result he would not have been visible to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) .

ذُوْ مِرَّةٍ ۭ فَاسْتَوٰى وَهُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى، مرہ کے معنی قوت کے ہیں، یہ بھی جبرئیل امین کی دوسری صفت قوت و طاقت کی زیادتی بیان کرنے کے لئے ہے، تاکہ کسی کو یہ وہم نہ ہو کہ وحی لانے والے فرشتے کے کام میں کوئی شیطان دخیل ہوسکتا ہے، کیونکہ جبرئیل امین اتنے قوی ہیں کہ شیطان ان کے پاس بھی نہیں پھٹک سکتا اور فاستویٰ کے معنی |" برابر ہو گئے |" مراد یہ ہے کہ اول جب جبرئیل امین کو دیکھا تو وہ آسمان سے اتر رہے تھے، اترنے کے بعد افق بلند پر مستوی ہو کر بیٹھ گئے، افق کے ساتھ اعلیٰ کی قید میں یہ حکمت ہے کہ افق کا وہ حصہ جو زمین کے ساتھ ملا ہوا نظر آتا ہے وہ عموماً نظروں سے مخفی رہتا ہے اس لئے افق بلند پر جبرئیل امین کو دکھلا یا گیا۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

ذُوْ مِرَّۃٍ۝ ٠ ۭ فَاسْتَوٰى۝ ٦ ۙ ذو ذو علی وجهين : أحدهما : يتوصّل به إلى الوصف بأسماء الأجناس والأنواع، ويضاف إلى الظاهر دون المضمر، ويثنّى ويجمع۔ وَلكِنَّ اللَّهَ ذُو فَضْلٍ [ البقرة/ 251] والثاني في لفظ ذو : لغة لطيّئ، يستعملونه استعمال الذي، ويجعل في الرفع، والنصب والجرّ ، والجمع، والتأنيث علی لفظ واحد ( ذ و ) ذو ( والا ۔ صاحب ) یہ دو طرح پر استعمال ہوتا ہے ( 1) اول یہ کہ اسماء اجناس وانوع کے ساتھ توصیف کے لئے اسے ذریعہ بنایا جاتا ہے ۔ اس صورت میں اسم ضمیر کیطرف مضاف نہیں ہوتا بلکہ ہمیشہ اسم ظاہر کی طرف مضاف ہوتا ہے اور اس کا تنثیہ جمع بھی آتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ وَلكِنَّ اللَّهَ ذُو فَضْلٍ [ البقرة/ 251] لیکن خدا اہل عالم پر بڑا مہرابان ہے ۔ ( 2 ) دوم بنی طیی ذوبمعنی الذی استعمال کرتے ہیں اور یہ رفعی نصبی جری جمع اور تانیث کی صورت میں ایک ہی حالت پر رہتا ہے مرر المُرُورُ : المضيّ والاجتیاز بالشیء . قال تعالی: وَإِذا مَرُّوا بِهِمْ يَتَغامَزُونَ [ المطففین/ 30] ، وَإِذا مَرُّوا بِاللَّغْوِ مَرُّوا كِراماً [ الفرقان/ 72] تنبيها أنّهم إذا دفعوا إلى التّفوّه باللغو کنّوا عنه، وإذا سمعوه تصامموا عنه، وإذا شاهدوه أعرضوا عنه، وقوله : فَلَمَّا كَشَفْنا عَنْهُ ضُرَّهُ مَرَّ كَأَنْ لَمْ يَدْعُنا [يونس/ 12] فقوله : مَرَّ هاهنا کقوله : وَإِذا أَنْعَمْنا عَلَى الْإِنْسانِ أَعْرَضَ وَنَأى بِجانِبِهِ [ الإسراء/ 83] وأمْرَرْتُ الحبلَ : إذا فتلته، والمَرِيرُ والمُمَرُّ : المفتولُ ، ومنه : فلان ذو مِرَّةٍ ، كأنه محکم الفتل . قال : ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوى [ النجم/ 6] . ويقال : مَرَّ الشیءُ ، وأَمَرَّ : إذا صار مُرّاً ، ومنه ( م ر ر ) المرور ( م ر ر ) المرور کے معنی کسی چیز کے پاس سے گزر جانے کے ہیں ۔ قرآن پاک میں ہے : وَإِذا مَرُّوا بِهِمْ يَتَغامَزُونَ [ المطففین/ 30] اور جب ان کے پاس سے گزرتے تو باہم آنکھوں سے اشارہ کرتے ۔ وَإِذا مَرُّوا بِاللَّغْوِ مَرُّوا كِراماً [ الفرقان/ 72] اور جب ان کو بیہودہ چیزوں کے پاس سے گزرنے کا اتفاق ہو تو شریفانہ انداز سے گزرجاتے ہیں ۔ نیز آیت کریمہ میں اس بات پر بھی متنبہ کیا ہے کہ اگر انہیں بیہودہ بات کہنے پر مجبوری بھی کیا جائے تو کنایہ سے بات کرتے ہیں اور لغوبات سن کر اس سے بہرے بن جاتے ہیں اور مشاہدہ کرتے ہیں تو اعراض کرلیتے ہیں ۔ اور آیت کریمہ : فَلَمَّا كَشَفْنا عَنْهُ ضُرَّهُ مَرَّ كَأَنْ لَمْ يَدْعُنا[يونس/ 12] پھر جب ہم اس تکلیف کو اس سے دور کردیتے ہیں ( تو بےلحاظ ہوجاتا اور ) اس طرح گزرجاتا ہے کہ گویا تکلیف پہنچنے پر ہمیں کبھی پکارا ہی نہیں تھا ۔ میں مربمعنی اعرض ہے ۔ جیسے فرمایا : وَإِذا أَنْعَمْنا عَلَى الْإِنْسانِ أَعْرَضَ وَنَأى بِجانِبِهِ [ الإسراء/ 83] اور جب ہم انسان کو نعمت بخشتے ہیں تو روگردان ہوجاتا اور پہلو پھیر لیتا ہے ۔ امررت الحبل کے معنی رسی بٹنے کے ہیں ۔ اور بٹی ہوئی رسی کو مریر یاممر کہاجاتا ہے اسی سے فلان ذومرکہاجاتا ہے اسی سے فلان ذومرۃ کا محاورہ ہے جس کے معنی طاقت ور اور توانا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوى[ النجم/ 6] طاقتور نے ۔ مرالشئی وامر کسی چیز کا تلخ ہونا ۔ اسی سے محاورہ ہے۔ فلان مایمر سو مایحلی کہ فلاں نہ تو کڑوا ہے اور نہ میٹھا ۔ یعنی نہ تو اس سے کسی کو فائدہ پہنچتا ہے اور نہ ہی نقصان ۔ اور آیت کریمہ حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِيفاً فَمَرَّتْ بِهِ [ الأعراف/ 189]( تو ) اسے ہلکا ساحمل رہ جاتا ہے ۔ اور وہ اس کے ساتھ چلتی پھرتی ہے ۔ میں مرت بمعنی استمرت ہے ۔ یعنی وہ اسے اٹھائے چلتی پھرتی رہتی ہے ۔ مرۃ ( فعلۃ ) ایک بار مرتان ض ( تثنیہ ) دو بار قرآن میں ہے : يَنْقُضُونَ عَهْدَهُمْ فِي كُلِّ مَرَّةٍ [ الأنفال/ 56] پھر وہ ہر بار اپنے عہد کو توڑ ڈالتے ہیں ۔ وَهُمْ بَدَؤُكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ [ التوبة/ 13] اور انہوں نے تم سے پہلی بار ( عہد شکنی کی ) ابتداء کی ۔إِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً [ التوبة/ 80] اگر آپ ان کے لئے ستربار بخشیں طلب فرمائیں ۔ إِنَّكُمْ رَضِيتُمْ بِالْقُعُودِ أَوَّلَ مَرَّةٍ [ التوبة/ 83] تم پہلی مرتبہ بیٹھ رہنے پر رضامند ہوگئے ۔ سَنُعَذِّبُهُمْ مَرَّتَيْنِ [ التوبة/ 101] ہم ان کو دو بار عذاب دیں گے ۔ ثَلاثَ مَرَّاتٍ [ النور/ 58] تین دفعہ ( یعنی تین اوقات ہیں ۔ استوا أن يقال لاعتدال الشیء في ذاته، نحو : ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوى[ النجم/ 6] ( س و ی ) المسا واۃ کسی چیز کے اپنی ذات کے اعتبار سے حالت اعتدال پر ہونے کے لئے بولا جاتا ہے جیسے فرمایا : ۔ ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوى[ النجم/ 6] یعنی جبرائیل ) طاقتور نے پھر وہ پورے نظر آئے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٦۔ ٩) پھر جبریل امین اپنی اصلی حالت پر نمودار ہوئے یا یہ کہ بہترین شکل و صورت میں نمودار ہوئے اس حالت میں کہ وہ افق شرقی پر تھے یا یہ کہ ساتویں آسمان کے کنارہ پر تھے پھر جبریل امین رسول اکرم کے قریب آئے یا یہ کہ حضور اکرم پروردگار کے قریب ہوئے۔ اور پھر اور نزدیک ہوئے کہ قرب کی وجہ سے دو کمانوں کے برابر فاصلہ رہ گیا بلکہ آدھے کمان سے کم فاصلہ رہ گیا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٦{ ذُوْ مِرَّۃٍط فَاسْتَوٰی ۔ } ” جو بڑا زور آور ہے۔ وہ سیدھا ہوا۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

6 Ibn `Abbas and Qatadah take dhu mirra-tin of the Text in the meaning of beautiful and grand. Mujahid, Hasan Basri, Ibn Zaid and Sufyan Thauri say that it mean: strong and powerful. Said bin Musayyab has expressed the opinion that it means wise. In a Hadith the Holy Prophet has used this word in the sense of healthy and sound. In Arabic usage this word is used in the meaning of sound in judgement, wise and learned also. Allah has chosen this word for Gabriel (peace be upon him) here because he possesses both intellectual and physical powers to the highest degree. We have adopted only one of these meanings in the translation, for his physical powers have been mentioned in the preceding sentence.

سورة النَّجْم حاشیہ نمبر :6 اصل میں لفظ ذُوْ مِرَّۃٍ استعمال فرمایا گیا ہے ۔ ابن عباس اور قتادہ اس کو خوبصورت اور شاندار کے معنی میں لیتے ہیں ۔ مجاہد ، حسن بصری ، ابن زید اور سفیان ثوری کہتے ہیں کہ اس کے معنی طاقتور کے ہیں ۔ سعید بن مُسَیَّب کے نزدیک اس سے مراد صاحب حکمت ہے ۔ حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا رشاد ہے : لا تحل الصدقۃ لغنی ولا لذی مِرَّۃٍ سَوِیٍّ ۔ اس ارشاد میں ذو مرہ کو آپ نے تندرست اور صحیح القویٰ کے معنی میں استعمال فرمایا ہے ۔ عربی محاورے میں یہ لفظ نہایت صائب الرائے اور عاقل و دانا کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں جبریل علیہ السلام کے لیے یہ جامع لفظ اسی لیے منتخب فرمایا ہے کہ ان میں عقلی اور جسمانی ، دونوں طرح کی قوتوں کا کمال لیا جاتا ہے ۔ اردو زبان میں کوئی لفظ ان تمام معنوں کا جامع نہیں ہے ۔ اس وجہ سے ہم نے ترجمے میں اس کے صرف ایک معنی کو اختیار کیا ہے ، کیونکہ جسمانی قوتوں کے کمال کا ذکر اس سے پہلے کے فقرے میں آ چکا ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

3: اس سے مراد حضرت جبرئیل علیہ السلام ہیں جو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے پاس وحی لے کر تشریف لاتے تھے۔ اُن کی اطاعت کا خاص طور سے ذکر فرماکر اس بات کی تردید کی گئی ہے جو کافروں کے دل میں آسکتی تھی کہ اگر کوئی فرشتہ ہی وحی لاتا ہے تو اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ درمیان میں کوئی شیطانی تصرف نہیں ہوا ؟ آیت نے بتادیا کہ وحی لانے والافرشتہ اتنا طاقت ور ہے کہ کوئی دوسرا اسے اپنے مشن سے نہیں ہٹاسکتا۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(53:6) ذو مرۃ۔ مضاف مضاف الیہ، صاحب مرۃ۔ مرۃ خوش منظری خوبصورتی و بزرگی، اس سے مراد حضرت جبرائیل (علیہ السلام) ہیں اور جس طرح رسول بشری (جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ) اعلیٰ انسانی قوتوں کے حامل، انتہائی حسین و جمیل اور بہترین علوم و کمالات کے ساتھ متصف تھے، اسی طرح اس آیت میں رسول ملکی (حضرت جبرائیل) کو بھی ایسی صفات کا حامل فرمایا گیا ہے کہ وہ خوش منظر، خوبصورت و بزرگ اور شدید القویٰ فرشتہ ہے جس نے بحکم الٰہی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تعلیم دی۔ (کما حقق ابن القیم (رح) تعالیٰ ۔۔ (قاموس القرآن) امررت الحبل کے معنی رسی بٹنے کے ہیں اور بٹی ہوئی رسی کو مریر یا ممر کہا جاتا ہے اسی سے فلان ذو مرۃ کا محاورہ ہے جس کے معنی طاقت ور اور توانا کے ہیں ذو مرۃ یعنی طاقتور۔ (راغب) مرۃ اصل میں رسی کو بٹنے اور بل دے کر پختہ کرنے اور مضبوط بنانے کے ہیں اس لئے ذومرۃ کا معنی طاقت ور اور زور آور کیا گیا ہے۔ یہ لفظ ذہنی اور جسمانی دونوں قوتوں کے لئے استعمال ہوتا ہے اسی لئے حکیم اور دانان کو بھی ذرمرۃ کہتے ہیں۔ قرطبی (رح) لکھتے ہیں :۔ وقال : قطرب : تقول العرب لکل جزل الرای حصیف العقل ذومرۃ عرب ہر عمدہ رائے والے اور پختہ عقل والے کو ذومرۃ بولتے ہیں۔ شدید القوی سے حضرت جبرائیل کی جسمانی قوتوں کا بیان ہے اور ذومرۃ سے ان کی دانشمندی اور عقل کا بیان ہے۔ فاستوی : ف عاطفہ، استوی ماضی واحد مذکر غائب ۔ اس نے قصد کیا اس نے قرار پکڑا۔ وہ سنبھل گیا۔ وہ چڑھا۔ وہ سیدھا بیٹھا۔ استواء (افتعال) مصدر۔ یہاں بمعنی سیدھا بیٹھا۔ اللہ تعالیٰ کے استوار علی العرش کے سلسلہ میں ۔ استواء کا ترجمہ اکثر محققین نے تمکن واستقراء ۔ یعنی قرار پکڑنے اور قائم ہونے سے کیا ہے۔ مطلب یہ کہ تخت حکومت پر اس طرح قابض ہونا کہ اس کا کوئی حصہ اور کوئی گوشہ حیطہ اقتدار سے باہر نہ ہو۔ اور نہ قبضہ و تسلط میں کسی قسم کی کوئی مزاحمت اور گڑبڑ ہو۔ غرض سب کام اور انتظام درست ہو۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

پہلی بار رویت : اس کے بعد ارشاد فرمایا ﴿ فَاسْتَوٰى ۙ٠٠٦ وَ هُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى ؕ٠٠٧﴾ (کہ وہ فرشتہ ایک مرتبہ افق اعلیٰ میں نمودار ہوا) یعنی نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے آیا اور آپ نے اس کو اصلی صورت میں دیکھ لیا۔ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) انسانی صورت میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا کرتے تھے اور وحی سنا دیتے تھے ایک مرتبہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فرمائش کی کہ آپ مجھے اپنی اصل صورت دکھادیں جبرائیل (علیہ السلام) ایسے وقت اپنی اصل صورت میں ظاہر ہوئے جبکہ آپ حراء پہاڑ پر تھے (اور بعض روایات میں ہے کہ مکہ معظمہ کے محلہ اجیاد میں تشریف فرما تھے) آپ نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو مشرقی افق میں دیکھا ان کے چھ سو بازو تھے اور اس قدر پھیلے ہوئے تھے کہ مغربی افق تک کو گھیر رکھا تھا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو دیکھ کر بیہوش ہو کر گرپڑے اسی وقت حضرت جبرائیل (علیہ السلام) انسانی شکل میں آپ کے پاس پہنچے اور آپ کو لپٹا لیا اور آپ کے چہرہٴ انور سے غبار صاف کردیا۔ اس نزدیک آنے کو ﴿ ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى ۙ٠٠٨﴾ میں بیان فرمایا ہے۔ (پھر وہ قریب آیا پھر وہ نیچے آیا) ﴿ فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ ﴾ (اور اتنا قریب ہوگیا جیسا دو کمانوں کے درمیان قرب ہوتا ہے) اہل عرب کا طریقہ تھا کہ جب آپس میں معاہدہ کرتے تھے تو دونوں کمانوں کی تانت کو خوب اچھی طرح ملا دیتے تھے اور اس طرح سے ایک دوسرے کو باور کراتے تھے اور یقین دلاتے تھے کہ اب تم ایک ہوگئے آپس میں کوئی بعد نہیں رہا۔ ﴿اَوْ اَدْنٰىۚ٠٠٩﴾ اس میں یہ بتادیا کہ دو کمانوں کے درمیان جو نزدیکی ہوتی ہے قرب کے اعتبار سے اس سے بھی کم فاصلہ رہ گیا جو اتحاد روحانی اور قلبی پر دلالت کرتا ہے۔ پھر جب آپ کو افاقہ ہوگیا تو اللہ تعالیٰ نے وحی بھیجی جسے ﴿ فَاَوْحٰۤى اِلٰى عَبْدِهٖ مَاۤ اَوْحٰىؕ٠٠١٠﴾میں بیان فرمایا ہے۔ معالم التنزیل میں لکھا ہے کہ اس موقعہ پر جو وحی فرمائی تھی وہ ﴿ اَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيْمًا فَاٰوٰى٠٠٦﴾ سے لے کر ﴿وَ رَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَؕ٠٠٤﴾ تک تھی، یہ حضرت سعید بن جبیر (رض) کا قول ہے اور ایک قول یہ ہے کہ اس وقت یہ وحی فرمائی کہ جب تک آپ جنت میں داخل نہ ہوں گے کوئی نبی داخل نہ ہوگا اور جب تک آپ کی امت اس میں داخل نہ ہوگی کسی امت کو داخلہ نہ ملے گا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(6) جو خوش منظر صاحب حسن اور زور آور ہے پھر وہ فرشتہ اپنی اصل شکل میں سیدھا کھڑا ہوا۔