Surat un Najam
Surah: 53
Verse: 7
سورة النجم
وَ ہُوَ بِالۡاُفُقِ الۡاَعۡلٰی ؕ﴿۷﴾
While he was in the higher [part of the] horizon.
اور وہ بلند آسمان کے کناروں پر تھا ۔
وَ ہُوَ بِالۡاُفُقِ الۡاَعۡلٰی ؕ﴿۷﴾
While he was in the higher [part of the] horizon.
اور وہ بلند آسمان کے کناروں پر تھا ۔
While he was in the highest part of the horizon. meaning, Jibril rose to the highest part of the horizon, according to Ikrimah and several others; Ikrimah said, "The highest horizon where the morning comes from." Mujahid said, "It is (the place of) sunrise." Qatadah said, "That from which the day comes." Ibn Zayd and several others said similarly. Imam Ahmad recorded that Abdullah bin Mas`ud said, "The Messenger of Allah saw Jibril in his original shape having six hundred wings, each wing filling the side of the horizon, with a colorful array, and pearls and rubies falling from each wing as much as only Allah knows." Only Imam Ahmad collected this Hadith. Imam Ahmad recorded that Abdullah bin Abbas said, "The Prophet asked Jibril to appear himself to him in his original shape and Jibril said to him, `Invoke your Lord.' The Prophet invoked his Lord the Exalted and Most Honored, and a great huge figure appeared to him from the east and kept rising and spreading. When the Prophet saw Jibril in his original shape, he was knocked unconscious. Jibril came down and revived the Prophet and wiped the saliva off of his cheeks."' Only Ahmad collected this Hadith. Meaning of "at a distance of two bows' length or less Allah's statement, ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّى
وَہُوَبِالْاُفُقِ الْاَعْلٰى ٧ ۭ أفق قال تعالی: سَنُرِيهِمْ آياتِنا فِي الْآفاقِ [ فصلت/ 53] أي : في النواحي، والواحد : أُفُق وأفق ويقال في النسبة إليه : أُفُقِيّ ، وقد أَفَقَ فلان : إذا ذهب في الآفاق، وقیل : الآفِقُ للذي يبلغ النهاية في الکرم تشبيها بالأفق الذاهب في الآفاق . ( ا ف ق ) الافق ۔ کنارہ جمع آفاق ۔ قرآن میں ہے :{ سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ } [ فصلت : 53] ہم عنقریب ان کو اطراف ( عالم میں بھی ۔۔ نشانیاں دکھائینگے آفاق کے معنی اطراف کے ہیں اس کا واحد افق وافق ہے اور نسبت کے وقت افقی کہا جاتا ہے اور افق فلان کے معنی آفاق ( اطراف عالم ) میں جانے کے ہیں اور افق کے اطراف میں انتہائی بعد اور وسعت سے تشبیہ کے طور پر اٰفق کا لفظ انتہائی سخی پر بولا جاتا ہے ۔ علي العُلْوُ : ضدّ السُّفْل، والعَليُّ : هو الرّفيع القدر من : عَلِيَ ، وإذا وصف اللہ تعالیٰ به في قوله : أَنَّ اللَّهَ هُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ [ الحج/ 62] ، إِنَّ اللَّهَ كانَ عَلِيًّا كَبِيراً [ النساء/ 34] ، فمعناه : يعلو أن يحيط به وصف الواصفین بل علم العارفین . وعلی ذلك يقال : تَعَالَى، نحو : تَعالَى اللَّهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ [ النمل/ 63] ( ع ل و ) العلو العلی کے معنی بلند اور بر تر کے ہیں یہ علی ( مکسر اللام سے مشتق ہے جب یہ لفظ اللہ تعالیٰ کی صفت واقع ہو جیسے : ۔ أَنَّ اللَّهَ هُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ [ الحج/ 62] إِنَّ اللَّهَ كانَ عَلِيًّا كَبِيراً [ النساء/ 34] تو اس کے معنی ہوتے ہیں وہ ذات اس سے بلند وبالا تر ہے کوئی شخص اس کا وصف بیان کرسکے بلکہ عارفین کا علم بھی وہاں تک نہیں پہچ سکتا ۔
آیت ٧{ وَہُوَ بِالْاُفُقِ الْاَعْلٰی ۔ } ” اور وہ افق اعلیٰ پر تھا۔ “ یعنی حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو افق پر اپنی اصلی شکل میں دیکھا۔
7 The horizon means the eastern edge of the sky where the sun rises and the day dawns. The same has been referred to as ufuq mubin (bright horizon) in Surah Takvir: 23. Both the verses make it explicit that when the Holy Prophet (upon whom be peace) saw Gabriel (peace be upon him) for the first time, he had appeared on the eastern horizon of the sky; and there are several authentic Traditions which show that at that time he was in his real shape in which Allah has created him. We shall quote all such Traditions below. -
سورة النَّجْم حاشیہ نمبر :7 اُفق سے مراد ہے آسمان کا مشرقی کنارا جہاں سے سورج طلوع ہوتا ہے اور دن کی روشنی پھیلتی ہے ۔ اسی کو سورۃ تکویر کی آیت 23 میں اُفق مبین کہا گیا ہے ۔ دونوں آیتیں صراحت کرتی ہیں کہ پہلی مرتبہ جبریل علیہ السلام جب نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو نظر آئے اس وقت وہ آسمان کے مشرقی کنارے سے نمودار ہوئے تھے ۔ اور متعدد و معتبر روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت وہ اپنی اصلی صورت میں تھے جس میں اللہ تعالیٰ نے ان کو پیدا کیا ہے ۔ آ گے چل کر ہم وہ تمام روایات نقل کریں گے جن میں یہ بات بیان کی گئی ہے ۔
4: کافروں کا ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جو فرشتہ وحی لاتا ہے وہ انسان ہی کی شکل میں آتا ہے، اس لئے آپ کو یہ کیسے پتہ چلا کہ وہ فرشتہ ہی ہے، ان آیتوں میں اس کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس فرشتے کو کم از کم دو مرتبہ اپنی اصل صورت میں بھی دیکھا ہے، ان میں سے ایک واقعے کا اس آیت میں تذکرہ فرمایا گیا ہے، اور وہ واقعہ یہ ہے کہ ایک مرتبہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت جبرئیل (علیہ السلام) سے یہ فرمائش کی تھی کہ وہ اپنی اصلی صورت میں آپ کے سامنے آئیں، چنانچہ وہ اپنی اصلی صورت میں افق پر ظاہر ہوئے، اور آپ نے انہیں دیکھا۔
(53:7) وھو بالافق الاعلی واؤ حالیہ ہے ھو کا مرجع جبرائیل ہے۔ افق الاعلی موصوف وصفت افق اس کنارے کو کہتے ہیں جہاں زمین اور آسمان آپس میں ملے ہوئے معلوم ہوتے ہیں۔ اعلی بمعنی بلند، مطلب یہ کہ :۔ پھر وہ سیدھا بیٹھا اور وہ آسمان کے اونچے کنارے پر تھا۔ (یہاں اونچا کنارہ وہ ہوگا جہاں سے سورج طلوع ہوتا ہے)
ف 4 یعنی آنحضرت تک وحی پہنچا کہ جبرئیل آسمان کیطرف چلے گئے۔ ترجمہ کے مطابق یہ تفسیر سعید بن المسیب اور ابن جبیر سے منقول ہے۔ شاہ صاحب نے فاستوی کا ترجمہ پس سیدھا بیٹھا کیا ہے اور فوائد میں لکھا ہے کہ یہ ابتدائی نبوت کا واقعہ ہے کہ حضرت جبرئیل آنحضرت کو اپنی اصل شکل میں نظر آئے کہ آسمان ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک ان کے وجود سے بھرا ہوا دکھائی دیا۔ یہ دیکھ کر آنحضرت گھبرا گئے تو سورة مدثر نازل ہوئی۔ (موضع) حضرت عبداللہ بن سعود فرماتے ہیں کہ آنحضرت نے دو مرتبہ حضرت جبرئیل کو ان کی اصلی شکل میں دیکھا ہے۔ یعنی ایک مرتبہ ابتدائے نبوت میں جس کی طرف ان آشات میں اشارہ ہے اور دوسری مرتبہ معراج کے موقع پر جس کا ذکر آگے آیت 13 سے شروع ہو رہا ہے۔ (ابن کثیر)
فہم القرآن ربط کلام : جبریل امین کی شخصیت اور وحی کا بیان جاری ہے۔ جبریل امین افق اعلیٰ پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے آکھڑئے ہوئے پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قریب ہوئے یہاں تک کہ دو کمانوں یا اس سے بھی زیادہ قریب آگئے پھر اس نے اللہ کے بندے کو وحی پہنچائی جو بھی اس تک پہنچائی۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی آنکھوں سے جو دیکھا اس کی دل نے پوری طرح تصدیق کی۔ اہل تفسیر نے ” فَاَوْحٰی الیٰ عَبْدِہٖ مَا اَوْحیٰ “ کا یہ بھی ترجمہ کیا ہے کہ اللہ نے جبریل امین کے ذریعے اپنے بندے پر وحی فرمائی جو اسے وحی کرنا تھی۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس مقام پر جو کچھ دیکھا آپ کے دل نے اس کی تصدیق فرمائی۔ انسانی فطرت میں یہ کمزوری ہے کہ جب وہ ما فوق الفطرت یا خرق عادت واقعہ دیکھتا ہے تو اس کی نظر اور دل میں مطابقت نہیں رہتی۔ آنکھ منظر دیکھ رہی ہوتی ہے لیکن دل اس منظر پر پوری طرح یقین نہیں کرتا کیونکہ ایسا واقعہ یا منظر اس سے پہلے اس نے دیکھا نہیں ہوتا۔ اس لیے اس کے احاطہ خیال میں وہ چیز پوری طرح سما نہیں پاتی۔ جس بنا پر آنکھ اور دل میں یگانگت باقی نہیں رہتی۔ بعض دفعہ بےانتہا جمال یا ہیبت ناک جلال دیکھ کر آنکھیں چندھیا جاتی ہیں۔ یہاں اسی حالت کی نفی کی گئی ہے کہ نبی معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جبریل امین کو اپنے پاس دو کمانوں سے بھی قریب دیکھا اور آپ کے دل نے اس کی پوری طرح تصدیق کی کہ واقعی ملائکہ کے سردار جبریل امین ہیں۔ اس حالت میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر وحی کی گئی جو اللہ نے وحی کرنا تھی۔ جس وحی کا امت کے ساتھ تعلق تھا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے امت تک پہنچایا۔ اس موقع پر آپ پر جو وحی کی گئی اس میں سب سے نمایاں تین ارشادات تھے۔ ١۔ پچاس نمازیں فرض ہونا جنہیں بعد میں پانچ کردیا گیا۔ (رواہ البخاری : باب المعراج) ٢۔ جو شرک سے بچا رہا اللہ تعالیٰ اس کے باقی گناہ معاف کر دے گا۔ (النساء : ٤٨) ٣۔ سورة البقرہ کی آخری دو آیات۔
5:۔ ” فاستوی “ یہ غار حراء کے پاس پیش آنے والے واقعہ کی طرف اشارہ ہے ” الافق الاعلی “ آسمان کا وہ حصہ جو دور سے زمین کے ساتھ ملا ہوا نظر آتا ہے۔ ” قاب “ وہ فاصلہ جو کمان کے وسط سے وتر تک ہوتا ہے اس طرح ہر کمان میں صرف ایک قاب ہوا۔ اس لیے ترکیب میں قلب ماننے کی ضرورت نہیں جیسا کہ بعض نے کہا ہے کہ یہ اصل میں قابی قوس تھا۔ عن مجاھد و الحسن ان قاب القوس ما بین وترھا و مقبحہا، ولا حاجۃ الی القلب (روح ج 27 ص 48) ۔ حضرت شیخ (رح) فرماتے ہیں یہ اصل میں ” قاب قوس “ تھا پھر اس کو تثنیہ کیا گیا اور جب مرکب کا تثنیہ بنایا جائے تو علامت تثنیہ کبھی صرف ایک حرف کے ساتھ اور کبھی دونوں جزؤوں کے ساتھ لگائی جاتی ہے یہاں علامت تثنیہ دوسرے جزء کے ساتھ لگائی جاتی ہے یہاں علامت تثنیہ دوسرے جزء کے ساتھ لگائی گئی ہے (رضی) ۔ اس طرح اس کا اصل ” قابی قوسین “ ماننے کی ضرورت نہیں اہل عرب کا طریقہ تھا کہ جب دو آدمی آپس میں دوستی اور بھائی چارہ بناتے تو اپنی اپنی کمانوں کو ایک دوسرے کے ساتھ ملا دیتے اس طرح کہ ایک کا قاب دوسرے کے قاب پر منطبق ہوجاتا اور پھر ان کو جدا کرکے ان سے ایک ایک تیر چلاتے جس سے ان کا مقصد یہ ہوتا کہ آج وہ دونوں بھابی ہیں اور ایک کی رضا دوسرے کی رضا ہے اور ایک کی ناراضی دوسرے کی ناراضی ہے۔ (روح) ۔ ” او “ بمعنی ” بل “ ہے (مدارک، روح) ۔ یعنی جبریل (علیہ السلام) اپنی اصلی اور حقیقی صورت میں افق آسمانی پر سیدھے کھڑے ہوئے نمودار ہوئے۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب ان کو دیکھا تو بےہوش ہوگئے۔ جبریل (علیہ السلام) نے انسانی شکل میں آگے بڑھے اور آپ کے قریب سے قریب تر ہوتے چلے گئے یہاں تک کہ دو کمانوں کی مقدار، بلکہ اس سے بھی زیادہ قریب ہوگئے اور آپ کو سینے سے لگا کر دبایا جب آپ ہوش میں آئے تو فرمایا اے جبریل ! میرے تو خیال میں بھی نہیں تھا کہ اللہ کی کوئی مخلوق ایسی شکل و صورت پر بھی ہے۔ یہ پہلی وحی کے بعد کا واقعہ ہے۔ وکانت ھذہ الرویۃ الاولی فی اوائل البعثۃ بعد ماجاءہ جبریل (علیہ السلام) اول مرۃ فاوحی اللہ الیہ صدر سورة (اقرا) ثم فتر الوحی۔ حتی تبدی لہ جبریل ور سول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بالابطح فی صورتہ التی خلقہ اللہ علیہا (ابن کثیر ج 4 ص 248) ۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جبریل (علیہ السلام) کو اپنی زندگی میں دو بار اس کی اصلی صورت میں دیکھا ہے ایک بار زمین میں جس کا زیر تفسیر آیتوں میں ذکر ہے اور ایک بار آسمان میں جس کا ذکر آگے ” ولقد راہ نزلۃ اخری “ میں آرہا ہے آپ کے علاوہ کسی پیغمبر نے جبریل (علیہ السلام) کو اصلی صورت میں نہیں دیکھا۔ قیل ما راٰہ احد من الانبیاء فی صورتہ غیر محمد علیہ الصلوۃ والسالم مرتین، مرۃ فی السماء و مرۃ فی الارض (بیضاوی) ۔
(7) دراں حالانکہ وہ آسمان کے بلند کنارے پر تھا۔ ھرۃ کے معنی بھی مضبوط کے ہیں۔ مریرہ اس رسی کو کہتے ہیں جو بہت ہی مضبوط بٹی ہوئی ہو۔ استحکام عقل اور مضبوطی رائے اور دین کی متانت کے لئے بھی بولا جاتا ہے صاحب حسن اور وجیہ کو بھی کہتے ہیں فلاں ذومرہ کانہ محکم الفتل۔ حضرت شاہ ولی اللہ صاحب (رح) نے صاحب حسن ترجمہ کیا ہے اس لئے ہم نے خوش منظر کردیا ہے بہرحال شدید القوی کے بعد پھر ذومرۃ فرمایا تو یا تو حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کی روحانی اور جسمانی طاقت کو ظاہر کرنا ہے یا یہ مطلب ہے کہ وہ بڑی قوت والا پیدائشی طاقت ور اور زور آور ہے بہرحال حضرت جبرئیل کی کمال طاقت اور کمال زور کا اظہار ہے حضرت جبرئیل (علیہ السلام) ہمیشہ آپ کی خدمت میں انسانی شکل و صورت کے ساتھ آیا کرتے تھے۔ جیسا کہ مشہور ہے کہ حضرت وحیہ کلبی (رض) کی شکل میں آتے تھے اور ان کا قاعدہ بھی یہی ہے کہ ہر پیغمبر کے پاس انسانی صورت میں آتے رہے ہیں۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو ان کی اصلی شکل میں دیکھنے کی خواہش کی چناچہ وہ افق اعلیٰ میں اپنی اصلی صورت میں حضور کو نظرآئے یہ اس زمانے کا ذکر ہے جب آپ غارحرا میں خلوت کی زندگی بسر فرمایا کرتے تھے اور کئی کئی دن بعد گھر آیا کرتے تھے اور عام طریقے سے جو خواب آپ شب میں دیکھتے تھے وہ دوسرے دن صبح کی روشنی کی مانند ظاہرہوجاتا تھا اور دوسرے ہی دن وہ واقعہ اسی طرح ظہور پذیر ہوجاتا تھا یہ ان ہی دنوں کی بات ہے وحی کا سلسلہ شروع ہوچکا تھا چناچہ جبرئیل آسمان کے کنارے کی بلندی پر نظر آئے ان کی چھ سو پر تھے جن کی لمبائی چوڑائی سے مشرق سے لے کر مغرب تک کی تمام فضا پر نظر آئی حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ شکل و صورت دیکھ کر گھبرا گئے اور آپ پر بےہوشی طاری ہوگئی اسی وقت حضرت جبرئیل نے انسانی شکل اختیار کی اور آپ کے قریب آکر آپ کو اٹھایا چناچہ اسی کو آگے بیان فرمایا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) بیان فرماتے ہیں حضرت کو اول نبوت میں حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نظر آئے اصل صورت پر ایک کرسی پر بیٹھے ہوئے آسمان سے بھر رہا کنارے سے کنارے تک یہ دیکھ کر گھبرائے تو سورت مدثر اتری شدید القوی ذومرہ کی صفتیں سورة کورت میں حضرت جبرئیل کی کہی ہیں۔