Surat un Najam

Surah: 53

Verse: 8

سورة النجم

ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰی ۙ﴿۸﴾

Then he approached and descended

پھر نزدیک ہوا اور اتر آیا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Then he approached and came closer, فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٤] آپ کا سیدنا جبرئیل کو پہلی بار اصل شکل میں دیکھنا :۔ ان آیات میں سیدنا جبرئیل (علیہ السلام) کا ذکر ہے جو بڑی قوتوں کے مالک ہیں۔ قوی قوۃ کی جمع ہے اور ذومرۃ کا لفظ بڑے وسیع مفہوم میں استعمال ہوتا ہے۔ اس کا معنی زور آور، طاقتور، صاحب حکمت اور خوش شکل بھی ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی زندگی میں سیدنا جبرئیل (علیہ السلام) کو دو بار اپنی اصل شکل میں دیکھا تھا۔ ان آیات میں اس واقعہ کا ذکر ہے جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پہلی بار دیکھا تھا۔ سیدنا جبرئیل مشرقی افق پر نمودار ہوئے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایسے معلوم ہوا کہ زمین و آسمان کا درمیانی فاصلہ انہیں سے پر ہوگیا ہے جیسا کہ درج ذیل حدیث سے معلوم ہوتا ہے : سیدنا جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا۔ آپ وحی بند رہنے کا تذکرہ کرتے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ ایک بار میں نے (رستہ میں) چلتے چلتے آسمان سے ایک آواز سنی۔ نگاہ اٹھائی تو آسمان کی طرف اسی فرشتے کو دیکھا جو حرا میں میرے پاس آیا تھا۔ وہ زمین و آسمان کے درمیان ایک کرسی پر (معلق) تھا۔ میں اتنا ڈر گیا کہ ڈر کے مارے زمین پر گرگیا ۔ پھر میں اپنے گھر آیا اور گھر والوں سے کہا : && مجھے کمبل اڑھا دو ، کمبل اڑھا دو && چناچہ انہوں نے مجھے کمبل اڑھا دیا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں۔ (یٰاَیُّھَا الْمُدَّثِرْ ) سے (فَاھْجُرْ ) تک۔ اس کے بعد وحی گرم ہوگئی، برابر لگاتار آنے لگی۔ (بخاری۔ کتاب التفسیر، تفسیر سورة ئمدثر) کفار مکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر الزام لگاتے تھے کہ کوئی عجمی شخص اسے قرآن کی باتیں سکھا جاتا ہے۔ پھر یہ ہم کو سنا کر کہتا ہے کہ یہ اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہیں۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ عجمی شخص نہیں بلکہ اسے کئی قوتوں اور خوبیوں کا مالک فرشتہ یہ قرآن سکھاتا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّىٰ (Then he drew near, and came down,... 53:8). The word dana means to draw near and tadalla means to hang or to come down. The verse means that Jibra&il علیہ السلام drew nearby coming down.

ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى، دنی کے معنی |" قریب ہوگیا |" اور تدلی کے لفظی معنی |" لٹک گیا |" مراد جھک کر قریب ہوجاتا ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى۝ ٨ ۙ دنا الدّنوّ : القرب بالذّات، أو بالحکم، ويستعمل في المکان والزّمان والمنزلة . قال تعالی: وَمِنَ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِها قِنْوانٌ دانِيَةٌ [ الأنعام/ 99] ، وقال تعالی: ثُمَّ دَنا فَتَدَلَّى[ النجم/ 8] ، هذا بالحکم . ويعبّر بالأدنی تارة عن الأصغر، فيقابل بالأكبر نحو : وَلا أَدْنى مِنْ ذلِكَ وَلا أَكْثَرَ «1» ، وتارة عن الأرذل فيقابل بالخیر، نحو : أَتَسْتَبْدِلُونَ الَّذِي هُوَ أَدْنى بِالَّذِي هُوَ خَيْرٌ [ البقرة/ 61] ، دنا اور یہ قرب ذاتی ، حکمی ، مکانی ، زمانی اور قرب بلحاظ مرتبہ سب کو شامل ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ وَمِنَ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِها قِنْوانٌ دانِيَةٌ [ الأنعام/ 99] اور کھجور کے گابھے میں سے قریب جھکے ہوئے خوشے کو ۔ اور آیت کریمہ :۔ ثُمَّ دَنا فَتَدَلَّى[ النجم/ 8] پھر قریب ہوئے اور آگے بڑھے ۔ میں قرب حکمی مراد ہے ۔ اور لفظ ادنیٰ کبھی معنی اصغر ( آنا ہے۔ اس صورت میں اکبر کے بالمقابل استعمال ہوتا ہ ۔ جیسے فرمایا :۔ وَلا أَدْنى مِنْ ذلِكَ وَلا أَكْثَرَاور نہ اس سے کم نہ زیادہ ۔ اور کبھی ادنیٰ بمعنی ( ارذل استعمال ہوتا ہے اس وقت یہ خبر کے مقابلہ میں استعمال ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا :۔ أَتَسْتَبْدِلُونَ الَّذِي هُوَ أَدْنى بِالَّذِي هُوَ خَيْرٌ [ البقرة/ 61] بھلا عمدہ چیزیں چھوڑ کر ان کے عوض ناقص چیزیں کیوں چاہتے ہو۔ فَتَدَلَّى والتَّدَلِّي : الدّنوّ والاسترسال، قال تعالی: ثُمَّ دَنا فَتَدَلَّى[ النجم/ 8] . تدلی ( تفعل ) قریب ہونا اور اترانا قرآن میں ہے :۔ ثُمَّ دَنا فَتَدَلَّى[ النجم/ 8] پھر قریب ہوئے اور آگے بڑھے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٨{ ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰی ۔ } ” پھر وہ قریب آیا اور جھک پڑا۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(53:8) ثم : التراخی فی الوقت کے لئے ہے۔ یعنی پھر۔ دنا : ماضی واحد مذکر غائب دنو (باب نصر) مصدر۔ وہ نزدیک ہوا۔ وہ قریب ہوا اسی سے ہے دنیا۔ یعنی عالم دنیا ۔ جو افضل التفضیل کا صیغہ واحد مؤنث ہے۔ بہت نزدیک ہے۔ دنا کا فاعل جبرائیل ہے۔ فتدلی۔ ف عاطفہ۔ تدلی : ماضی واحد مذکر غائب۔ تدلی تفعل، مصدر وہ اتر آیا۔ وہ نزدیک ہوا۔ تدلی کا معنی کسی بلند چیز کا نیچے کی طرف اس طرح لٹکنا کہ اس کا تعلق اپنی اصلی جگہ سے بھی قائم رہے۔ جب ڈول کو کنویں میں لٹکایا جاتا ہے اور اس کی رسی لٹکانے والے نے پکڑ رکھی ہو تو کہتے ہیں ادلی دلوا۔ علامہ قرطبی (رح) تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں :۔ اصل التدلی : النزول الی الشی حتی یقورب منہ۔ کہ اس کا اصل معنی ہے کسی چیز کی طرف اترنا یہاں تک کہ اس کے نزدیک ہوجائے۔ اس صورت میں آیت کا مفہوم ہوگا :۔ کہ جبرائیل جو اپنی اصلی صورت میں اپنے چھ سو پروں سمیت شرقی افق پر نمودار ہوئے تھے وہ حضور علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کے بالکل قریب ہوگئے۔ دنی کی طرح تدلیکا فاعل بھی جبریل ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 5 یعنی پھر نیچے زمین پر اترے اور آپ سے قریب ہوئے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(8) پھر وہ فرشتہ نزدیک ہوا اترآیا۔