Surat ur Rehman

Surah: 55

Verse: 12

سورة الرحمن

وَ الۡحَبُّ ذُو الۡعَصۡفِ وَ الرَّیۡحَانُ ﴿ۚ۱۲﴾

And grain having husks and scented plants.

اور بھس والا اناج ہے اور خوشبودار پھول ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

And also corn, with (its) `Asf, and Rayhan. Ali bin Abi Talhah said that Ibn Abbas said that in, وَالْحَبُّ ذُو الْعَصْفِ (And also corn, with (its) `Asf), `Asf means straw." Al-Awfi reported from Ibn Abbas, "`Asf is green leaves cut from the stem, so it is called `Asf when it dries out." Similarly, Qatadah, Ad-Dahhak and Abu Malik said that `Asfmeans straw. Ibn Abbas, Mujahid and others said that Rayhan means leaves, while Al-Hasan said that it means sweet-scented plants. Ali bin Abi Talhah reported that Ibn Abbas said that Rayhan means green leaves. The meanings here, and Allah knows best, are the various crops that produce straw, such as wheat and barley, and Rayhan are the leaves that grow on the stems. Mankind is surrounded by Allah's Favors Allah said, فَبِأَيِّ الاَء رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

12۔ 1 حب سے مراد وہ خوراک ہے جو انسان اور جانور کھاتے ہیں۔ خشک ہو کر اس کا پودا بھی بھس بن جاتا ہے جو جانوروں کے کام آتا ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٠] یعنی اناج یا دانے تو انسان کی خوراک بنتے ہیں اور بھوسی جانوروں کی۔ ان کے علاوہ ایسی چیزیں بھی پیدا ہوتی ہیں جو کھانے کے کام نہیں آتیں تاہم ان کی خوشبو وغیرہ سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَالْحَبُّ ذُوالْعَصْفِ وَالرَّیْحَانُ :” الحب “ دانے ، جیسے گندم ، چنے ، چاول وغیرہ یعنی غلہ جو انسان کی خوراک بنتا ہے۔” العصف “ دانوں کے اوپر کا چھلکا ، بھوسا ، جو جانوروں کی خوراک بنتا ہے، سورة ٔ فیل میں ہے :( کعصف ما کول) (الفیل : ٥)” کھائے ہوئے بھوسے کی طرح “۔” الریحان “ خوشبو دار پودے اور پھول جو آدمی کے دماغ کو معطر کرتے ہیں ۔ ” فاکھۃ “ سے وہ پھل مراد ہیں جو صرف لذت کے لیے کھائے جاتے ہیں اور ” النحل “ سے وہ پھل مراد ہے جو لذت اور خوراک دونوں کے لیے استعمال ہوتے ہیں اور ” الحب “ سے مراد غلے وغیرہ ہیں جو خوراک کے لیے استعمال ہوتے ہیں اور ” الریحان “ سے مراد جو خوشبو کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

وَالْحَبُّ ذُو الْعَصْفِ (and the grain having chaff, ....55:12). The word حَبُّ habb means grain, as for instance &wheat&, &gram&, &rice&, &a kind of vetch&, &lentil& and so on. The word عَصْفِ ` asf is the outer cover of some type of grains, like rice or wheat husk, which Allah creates with His power and consummate wisdom. Man&s attention is drawn to the fact that each grain of the food he eats several times a day has been created by Allah, out of His unbounded grace and beneficence, from soil and water in inconceivably wonderful ways. He protected every grain against insects with the outer cover until maturity, so that it was prepared as a morsel of food. The current verse, thus, briefly points to all those natural things that are so essential for the physical development of man. The mention of ` asf [ husk ] is to remind that it is the fodder for your animals. This is another bounty of Allah because man needs the milk of the animals for nourishment. Furthermore, animals are used as a means of transportation to convey human beings from place to place as well as to carry load, cargo and luggage. وَالرَّ‌يْحَانُ (...and fragrant flowers....55:12). The popular meaning of the word رَّ‌يْحَانُ raihan is fragrance or fragrant plant or sweet-scented plants. Ibn Zaid has interpreted the word thus in the current verse. Allah has produced a variety of fragrances and sweet-smelling flowers on plants and trees. Sometimes the word raihan is used in the sense of livelihood and sustenance. It is said in Arabic: خَرَجتُ اَطلُبَ رَیحَانَ اللہِ (I came out looking for sustenance provided by Allah.) Sayyidna Ibn ` Abbas (رض) interprets it in this strain.

وَالْحَبُّ ذو الْعَصْفِ ، لفظ حب بفتح حاء و تشدید باء دانے یعنی غلے کو کہا جاتا ہے، جیسے گندم، چنا، چاول، ماش، مسور وغیرہ اور عصف اس بھوسے کو کہتے ہیں جس کے اندر پیک کیا ہوا دانہ بقدرت خداوندی و حکمت بالغہ پیدا کیا جاتا ہے، عصف یعنی بھوسے کے غلاف میں پیک ہو کر خراب ہواؤں اور مکھی مچھر وغیرہ سے پاک و صاف رہتا ہے، دانے کی پیدائش کے ساتھ ذو الْعَصْفِ کا لفظ بڑھا کر غافل انسان کو اس طرف بھی متوجہ کیا گیا ہے کہ یہ روٹی، دال وغیرہ جو وہ دن میں کئی کئی مرتبہ کھاتا ہے اس کا ایک ایک دانہ مالک و خالق نے کیسی کیسی صنعت عجیبہ کے ساتھ مٹی اور پانی سے پیدا کیا اور پھر کس طرح اس کو حشرات الارض سے محفوظ رکھنے کے لئے ایک ایک دانہ پر غلاف چڑھایا، جب وہ تمہارا لقمہ تر بنا، اس کے ساتھ شاید عصف کو ذکر کرنے سے ایک دوسری نعمت کی طرف بھی اشارہ ہو کہ یہ عصف (بھوسہ) تمہارے مویشی کی غذا بنتا ہے، جن کا تم دودھ پیتے ہو اور سواری و بار برداری کی خدمت ان سے لیتے ہو۔ وَالرَّيْحَانُ ، ریحان کے مشہور معنی خوشبو کے ہیں اور ابن زید نے یہی معنی آیت میں مراد لئے ہیں کہ اس نے زمین سے پیدا ہونے والے درختوں سے طرح طرح کی خوشبوئیں اور خوشبو دار پھول پیدا فرمائے اور کبھی لفظ ریحان بمعنی مغز اور رزق بھی استعمال کیا جاتا ہے، خرجت اطلب ریحان اللہ، ” یعنی میں نکلا اللہ کا رزق تلاش کرنے کے لئے “ حضرت ابن عباس نے اس آیت میں ریحان کی تفسیر رزق ہی سے کی ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَالْحَبُّ ذُو الْعَصْفِ وَالرَّيْحَانُ۝ ١٢ ۚ حب ( دانه) الحَبُّ والحَبَّة يقال في الحنطة والشعیر ونحوهما من المطعومات، والحبّ والحبّة في بزور الریاحین، قال اللہ تعالی: كَمَثَلِ حَبَّةٍ أَنْبَتَتْ سَبْعَ سَنابِلَ فِي كُلِّ سُنْبُلَةٍ مِائَةُ حَبَّةٍ [ البقرة/ 261] ، وقال : وَلا حَبَّةٍ فِي ظُلُماتِ الْأَرْضِ [ الأنعام/ 59] ، وقال تعالی: إِنَّ اللَّهَ فالِقُ الْحَبِّ وَالنَّوى [ الأنعام/ 95] ، وقوله تعالی: فَأَنْبَتْنا بِهِ جَنَّاتٍ وَحَبَّ الْحَصِيدِ [ ق/ 9] ، أي : الحنطة وما يجري مجراها ممّا يحصد، وفي الحدیث : «كما تنبت الحبّة في حمیل السیل» ( ج ب ب ) الحب والحبۃ ( فتحہ حاء ) گندم ۔ جو وغیرہ مطعومات کے دانہ کو کہتے ہیں ۔ اور خوشبو دار پودوں اور پھولوں کے بیج کو حب وحبۃ کہا جاتا ہے قرآن میں ہے :۔ كَمَثَلِ حَبَّةٍ أَنْبَتَتْ سَبْعَ سَنابِلَ فِي كُلِّ سُنْبُلَةٍ مِائَةُ حَبَّةٍ [ البقرة/ 261]( ان کے دلوں ) کی مثال اس دانے کی سی ہے جس سے سات بالیں اگیں اور ہر ایک بالی میں سو سودانے ہوں ۔ وَلا حَبَّةٍ فِي ظُلُماتِ الْأَرْضِ [ الأنعام/ 59] اور زمین کے اندھیروں میں کوئی دانہ ایسا نہیں ہے ۔ إِنَّ اللَّهَ فالِقُ الْحَبِّ وَالنَّوى [ الأنعام/ 95] بیشک خدا ہی دانے اور گھٹلی کو پھاڑ کر ( ان سے درخت اگاتا ہے ۔ ) اور آیت کریمۃ ؛۔ فَأَنْبَتْنا بِهِ جَنَّاتٍ وَحَبَّ الْحَصِيدِ [ ق/ 9] اور اس باغ سے دلبستان اگائے اور اناج ۔ میں حب الحصید سے گندم وغیرہ مراد ہے جو کاٹا جاتا ہے اور حدیث میں ہے ۔ کما تنبت الحبۃ فی جمیل السیل ۔ جیسے گھاس پات کے بیج جو سیلاب کے بہاؤ میں آگ آتے ہیں ۔ ذو ذو علی وجهين : أحدهما : يتوصّل به إلى الوصف بأسماء الأجناس والأنواع، ويضاف إلى الظاهر دون المضمر، ويثنّى ويجمع، ويقال في المؤنّث : ذات، وفي التثنية : ذواتا، وفي الجمع : ذوات، ولا يستعمل شيء منها إلّا مضافا، قال : وَلكِنَّ اللَّهَ ذُو فَضْلٍ [ البقرة/ 251] ، وقال : ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوى [ النجم/ 6] ، وَذِي الْقُرْبى [ البقرة/ 83] ، وَيُؤْتِ كُلَّ ذِي فَضْلٍ فَضْلَهُ [هود/ 3] ، ذَوِي الْقُرْبى وَالْيَتامی [ البقرة/ 177] ، إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذاتِ الصُّدُورِ [ الأنفال/ 43] ، وَنُقَلِّبُهُمْ ذاتَ الْيَمِينِ وَذاتَ الشِّمالِ [ الكهف/ 18] ، وَتَوَدُّونَ أَنَّ غَيْرَ ذاتِ الشَّوْكَةِ تَكُونُ لَكُمْ [ الأنفال/ 7] ، وقال : ذَواتا أَفْنانٍ [ الرحمن/ 48] ، وقد استعار أصحاب المعاني الذّات، فجعلوها عبارة عن عين الشیء، جو هرا کان أو عرضا، واستعملوها مفردة ومضافة إلى المضمر بالألف واللام، وأجروها مجری النّفس والخاصّة، فقالوا : ذاته، ونفسه وخاصّته، ولیس ذلک من کلام العرب . والثاني في لفظ ذو : لغة لطيّئ، يستعملونه استعمال الذي، ويجعل في الرفع، والنصب والجرّ ، والجمع، والتأنيث علی لفظ واحد نحو : وبئري ذو حفرت وذو طویت ( ذ و ) ذو ( والا ۔ صاحب ) یہ دو طرح پر استعمال ہوتا ہے ( 1) اول یہ کہ اسماء اجناس وانوع کے ساتھ توصیف کے لئے اسے ذریعہ بنایا جاتا ہے ۔ اس صورت میں اسم ضمیر کیطرف مضاف نہیں ہوتا بلکہ ہمیشہ اسم ظاہر کی طرف مضاف ہوتا ہے اور اس کا تنثیہ جمع بھی آتا ہے ۔ اور مونث کے لئے ذات کا صیغہ استعمال ہوتا ہے اس کا تثنیہ ذواتا اور جمع ذوات آتی ہے ۔ اور یہ تمام الفاظ مضاف ہوکر استعمال ہوتے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ وَلكِنَّ اللَّهَ ذُو فَضْلٍ [ البقرة/ 251] لیکن خدا اہل عالم پر بڑا مہرابان ہے ۔ ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوى [ النجم/ 6] ( یعنی جبرئیل ) طاقتور نے پھر وہ پورے نظر آئے ۔ وَذِي الْقُرْبى [ البقرة/ 83] اور رشتہ داروں ۔ وَيُؤْتِ كُلَّ ذِي فَضْلٍ فَضْلَهُ [هود/ 3] اور ہر ساحب فضل کو اسکی بزرگی ( کی داو ) دیگا ۔ ذَوِي الْقُرْبى وَالْيَتامی [ البقرة/ 177] رشتہ داروں اور یتیموں ۔ إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذاتِ الصُّدُورِ [ الأنفال/ 43] تو دلوں تک کی باتوں سے آگاہ ہے ۔ وَنُقَلِّبُهُمْ ذاتَ الْيَمِينِ وَذاتَ الشِّمالِ [ الكهف/ 18] اور ہم ان کو دائیں اور بائیں کروٹ بدلاتے ہیں ۔ وَتَوَدُّونَ أَنَّ غَيْرَ ذاتِ الشَّوْكَةِ تَكُونُ لَكُمْ [ الأنفال/ 7] اور تم چاہتے تھے کہ جو قافلہ بےشان و شوکت ( یعنی بےہتھیار ) ہے وہ تمہارے ہاتھ آجائے ۔ ذَواتا أَفْنانٍ [ الرحمن/ 48] ان دونوں میں بہت سے شاخیں یعنی قسم قسم کے میووں کے درخت ہیں ۔ علمائے معانی ( منطق وفلسفہ ) ذات کے لفظ کو بطور استعارہ عین شے کے معنی میں استعمال کرتے ہیں اور یہ جو ہر اور عرض دونوں پر بولاجاتا ہے اور پھر کبھی یہ مفرد یعنی بدون اضافت کت استعمال ہوتا ہے ۔ اور کبھی اسم ضمیر کی طرف مضاف ہو کر اور کبھی معرف بلالم ہوکر ۔ اور یہ لفظ بمنزلہ نفس اور خاصہ کے بولا جاتا ہے ۔ اور نفسہ وخاصتہ کی طرح ذاتہ بھی کہاجاتا ہے ۔ مگر یہ عربی زبان کے محاورات سے نہیں ہے ( 2 ) دوم بنی طیی ذوبمعنی الذی استعمال کرتے ہیں اور یہ رفعی نصبی جری جمع اور تانیث کی صورت میں ایک ہی حالت پر رہتا ہے جیسا کہ شاعر نے کہا ہے ع ( الوافر ) یعنی کنواں جسے میں نے کھودا اور صاف کیا ہے ۔ عصف العَصْفُ والعَصِيفَةُ : الذي يُعْصَفُ من الزّرعِ ، ويقال لحطام النّبت المتکسّر : عَصْفٌ. قال تعالی: وَالْحَبُّ ذُو الْعَصْفِ [ الرحمن/ 12] ، كَعَصْفٍ مَأْكُولٍ [ الفیل/ 5] ، ورِيحٌ عاصِفٌ [يونس/ 22] ، وعَاصِفَةٌ ومُعْصِفَةٌ: تَكْسِرُ الشیءَ فتجعله كَعَصْفٍ ، وعَصَفَتْ بهم الرّيحُ تشبيها بذلک . ( ع ص ف ) العصف واعصیفتہ کھیتی کے پتے جو کاٹ لئے جاتے ہیں نیز خشک نباتات جو ٹوٹ کر چور چور ہوجائے ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَالْحَبُّ ذُو الْعَصْفِ [ الرحمن/ 12] اور اناج چھلکے کے اندر ہوتا ہے ۔ ، كَعَصْفٍ مَأْكُولٍ [ الفیل/ 5] جیسے کھا یا ہوا بھس ہو ۔ ورِيحٌ عاصِفٌ [يونس/ 22] ریح عاصف وعاصفتہ ومعصفتہ تند ہوا جو ہر چیز کو توڑ کر بھس کی طرح بنادے اور مجازا عصفت بھم الریح کے معنی ہیں وہ ہلاک اور برباد ہوگئے ۔ رَّيْحَانُ : ما له رائحة، وقیل : رزق، ثمّ يقال للحبّ المأكول رَيْحَانٌ في قوله : وَالْحَبُّ ذُو الْعَصْفِ وَالرَّيْحانُ [ الرحمن/ 12] ، وقیل لأعرابيّ : إلى أين ؟ فقال : أطلب من رَيْحَانِ الله، أي : من رزقه، والأصل ما ذکرنا . وروي : «الولد من رَيْحَانِ الله» وذلک کنحو ما قال الشاعر : يا حبّذا ريح الولد ريح الخزامی في البلد أو لأنّ الولد من رزق اللہ تعالیٰ ۔ میں ریحان سے خوشبودار چیزیں مراد ہیں اور بعض نے رزق مراد لیا ہے ۔ اور کھانے کے اناج کو بھی ریحان کہا گیا ہے ۔ جیسے فرمایا : وَالْحَبُّ ذُو الْعَصْفِ وَالرَّيْحانُ [ الرحمن/ 12] اور ہر طرح کے اناج جو ( بھوسی کے ) خول کے اندر ہوتے ہیں اور کھانے کا اناج ۔ ایک اعرابی سے پوچھا گیا کہ کہاں جا رہے ہو ۔ تو اس نے جواب دیا۔ أطلب من رَيْحَانِ اللہ : کہ میں اللہ کے رزق کی تلاش میں ہوں لیکن اصل معنی وہی ہیں ۔ جو ہم پہلے بیان کر آئے ہیں ( یعنی خوشبودار چیز ) ایک حدیث میں ہے ۔ ( 162) الولد من ریحان اللہ کہ اولاد بھی اللہ کے ریحان سے ہے اور یہ ایسے ہی ہے ۔ جیسا کہ کسی شاعر نے کہا ہے ۔ يا حبّذا ريح الولد ... ريح الخزامی في البلداولاد کی خوشبو کیسی پیاری ہے ۔ یہ خزامی گھاس کی خوشبو ہے جو شہر میں مہکتی ہے ۔ اولاد کو ریحان اس لئے کہا ہے کہ وہ بھی اللہ تعالیٰ کا دیا ہوا رزق ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

عصف اور ریحان کی تشریح قول باری ہے (والحب ذوالعصف والریحان۔ طرح طرح کے غلے ہیں جن میں بھوسا بھی ہوتا ہے اور دانہ بھی) حضرت ابن عباس (رض) ، قتادہ اور ضحاک سے مروی ہے کہ عصف بھوسے کو کہتے ہیں۔ حضرت ابن عباس (رض) ، مجاہد اور ضحاک سے منقول ہے کہ ریحان ورق یعنی پتے کو کہتے ہیں۔ حضرت ابن عباس (رض) سے یہ بھی مروی ہے کہ ریحان غذائی دانوں کو کہتے ہیں۔ حسن کا قول ہے کہ ریحان پھول کو کہتے ہیں جسے سونگھا جاتا ہے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اگر یہ تمام معانی مراد لئے جائیں تو اس میں کوئی امتناع نہیں ہے کیونکہ ریحان کا اسم ان سب پر واقع ہوتا ہے۔ تاہم ریحان کے ظاہری معنی اس پھول کے ہیں جس کی خوشبو سونگھی جاتی ہے۔ جب ریحان کو (الحب ذوالعصف) پر عطف کیا گیا اور عصف پودے کے تنے کو کہتے ہیں تو اس سے یہ دلالت حاصل ہوئی کہ ریحان اس چیز کو کہیں گے جو زمین میں اگ آئے اور تنا بننے سے پہلے اس میں بھینی بھینی خوشبو موجود ہو۔ مثلاً ضیمران جو ایک قسم کی خوشبودار گھاس ہوتی ہے…یا تمام جو ایک خوشبودار نباتات ہے یا آس (ایک پودا جو ریحان کے نام سے مشہور ہے) ان پودوں کی پتیاں زمین کے اندر سے ہی خوشبو دار بن کر پھوٹتی ہیں جبکہ ابھی ان پودوں کے تنے نہیں بنے ہوتے ہیں۔ اس لئے کہ عطف ظاہری طور پر اس امر کا مقتضی ہے کہ معطوف اور معطوف علیہ دو مختلف چیزیں ہوں۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٢ { وَالْحَبُّ ذُو الْعَصْفِ وَالرَّیْحَانُ ۔ } ” اور ُ بھس والا اناج بھی ہے اور خوشبودار پھول بھی۔ “ بعض مترجمین ” الرَّیْحَان “ سے مختلف النوع غذائیں بھی مراد لیتے ہیں۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

11 That is, grain for men and husk for the animals.

سورة الرَّحْمٰن حاشیہ نمبر :11 یعنی آدمیوں کے لیے دانہ اور جانوروں کے لیے چارہ ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(55:12) والحب : اس کا عطف فاکھۃ پر ہے اور اس (زمین) میں اناج ہے۔ الحب۔ اناج کے دانہ کو حب یا حبہ کہتے ہیں۔ مثلاً گندم ، جو ۔ یا دیگر انان اور غلہ کے دانے۔ یہ موصوف ہے اور ذوالعصف اس کی صفت ہے۔ ذوالعصف مضاف مضاف الیہ۔ العصف بمعنی بھس۔ بھوسا ۔ چھلکا۔ جو دانے کے اوپر لپٹا ہوتا ہے۔ کھیت کے پتے۔ تفسیر کبیر میں اس کے حسب ذیل معانی لکھے ہیں :۔ (1) بھوسہ جو ہمارے مویشی کھاتے ہیں۔ (2) اس پودے کے پتے جس کے ڈنٹھل ہوں اور اس ڈنٹھل کے اطراف و جوانب میں پتے ہوں َ جیسے کہ خوشے کے اوپر کے پتے ہوتے ہیں۔ (3) کھائے ہوئے پھل کا چھلکا۔ (ملاحظہ ہو سورة الفیل) عصف جمع ہے اس کا واحد عصفۃ وعصافۃ ہے۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے :۔ والعصفت عصفا : (77:2) پھر زور پکڑ کر جھکڑ ہوجاتی ہیں۔ یہاں عصف (باب ضرب) مصدر بمعنی جھکڑ کے ہے۔ جو اس روز سے چلتا ہے کہ چیزوں کو توڑ پھوڑ کر بھوسہ بنا دے۔ والحب ذوالعصف : اور اناج جس کے ساتھ بھس ہوتا ہے۔ الریحان : روح ۔ یا ر ی ح مادہ سے ہے ۔ جو اس کو اجوف وادی (روح) خیال کرتے ہیں ان کے نزدیک اس کی اصل ریوحان ہے۔ اس میں ادغام کرکے تخفیف کی گئی ہے۔ بایں دلیل کہ اس کی تصغیر رویحین پر ہے۔ اور جو اسے جوف یائی (ریح) سے لیتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ یہ شیطان کے وزن پر ہے اور اس میں کوئی تغیر نہیں ہوا۔ بایں دلیل کہ س کی جمع ریاحین پر ہے جیسے شیطان اور شیاطین ہیں۔ ریحان ہر اگنے والی خوشبودار چیز کو کہتے ہیں۔ رزق (روزی) کے معنی بھی ہیں یعنی کھانے کا اناج، ایک اعرابی سے پوچھا گیا کہ کہاں جا رہے ہو۔ تو اس نے جواب دیا کہ اطلب من ریحان اللہ میں اللہ کے رزق کی تلاش میں ہوں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 9 یعنی آدمیوں کے لئے دانہ اور جانوروں کے لئے بھوسا۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(12) اور اس میں اناج اور غلہ ہے جس میں چھلکا اور بھوسا ہوتا ہے اور خوشبودار پھول ہیں۔