12 The word alaa' in the refrain as repeated over and over again in the subsequent verses has been translated differently at different places. Therefore, it would be useful to understand at the outset how vast this word is in meaning and what different shades of meaning it contains. The lexicographers and commentators generally have explained alaa' to mean "blessings" and "bounties". The translators also have given this same meaning of this word, and the same has been reported from Ibn 'Abbas, Qatadah and Hasan Basri. The major argument that supports this meaning is the Holy Prophet's own statement that the jinn on hearing this verse being recited would respond to it, saying La bi-shai in-min-ni maatika Rabba-na nukadhdhib: "O our Lord, we do not deny any of Your blessings." Therefore, we do not subscribe to the view of some present-day scholars, who say that alaa' is never used in the meaning of the blessing. Another meaning of this word is power and wonders of power, or excellent manifestations of power. Ibn Jarir Tabari has reported that Ibn Zaid took the words fa-bi-ayyi alaa i Rabbi kuma in the meaning of fa bi-ayyi qudrat-Allah. Ibn Jarir himself has taken alaa' in the meaning of power and might in his commentary of vv. 37-38. Imam Razi also has made this observation in his commentary of vv.14-16: "These verses do not describe the blessings but the powers of AIIah, and in the commentary of vv. 22-23, this; "These describe the wonders of power and not the blessings." Its third meaning is virtue, praiseworthy qualities, and prefections. Though this meaning has not been mentioned by the lexicographers and commentators, this word has often been used in this meaning in Arabic poetry. ( Examples omitted). Thus, we have taken this word in its vastest meaning and translated it suitably keeping in view the context in which it occurs. However, at some places the word alaa ' may have several senses in one and the same place, but due to limitations of translation we have had to adopt only one meaning. For example, in this verse after making mention of the creation of the earth and of making the best arrangements for the supply of provisions to the creatures, it has been said: 'Which of the alaa' of your Lord will you deny?" Here, alaa' has not been used in the meaning of the blessings only but also in the meaning of the manifestations of AIIah Almighty's power and His praiseworthy attributes. It is a wonder of His might that He fashioned this earth in such a marvellous manner that countless species of creatures live here and an endless variety of fruits and grain are grown on it. And it is due to His praiseworthy qualities that He not only created these creatures but also made arrangements for their sustenance and the supply of provisions for them; and the arrangements also so perfect that their food is not only nutritious but also pleasing to the taste and sight. In this connection, reference has been made to only one excellence of AIlah Almighty's workmanship for the sake of example, viz., the creation of the date-palm fruit in sheaths. Keeping this one example in view one may consider what excellences of art have been devised and shown in the packing of banana, pomegranates, orange, coconut and other fruits, and how each of the different sorts of the grains and pulses which we so thoughtlessly cook and eat, are produced hotly packed and covered in ears and pods and clusters.
13 "Denying" implies the several attitudes that the people adopt in respect of AIlah Almighty's blessings and manifestations of His might and His praiseworthy attributes. For example, some people do not at all admit that the Creator of aII things is Allah Almighty. They think that aII this is a mere byproduct of the matter, or an accidental happening, which is un-related with any wisdom and skill and workmanship. This is open denial. Some other people do admit that the Creator of these things is Allah, but regard others beside Him also as associates in Godhead: they render thanks to others for His blessings: they adore others although they eat His provisions. This is another form of denial. Obviously, it would be the height of ingratitude if a person while admitting that a certain person had done him a favour rendered thanks to another, who had not in fact dent him that favour, for this act of his would be an express proof that he regarded the other person as his benefactor whom he was rendering the thanks. There are still others. who acknowledge Allah alone as the Creator of all things and the Bestower of all blessings, but do not admit that they should obey the Commands of their Creator and Sustainer and follow His injunctions. This is another form of ingratitude and denial of the blessings, for the person who behaves so denies the right of the Bestower of the blessing although he acknowledges the blessing itself. Some other people neither disavow the blessing nor deny the right of the Bestower of the blessing, but in practice there is no appreciable difference between their conduct and the conduct of a denier. This is not verbal denial but denial in practice.
سورة الرَّحْمٰن حاشیہ نمبر :12
اصل میں لفظ آلاء استعمال ہوا ہے جسے آگے کی آیتوں میں بار بار دہرایا گیا ہے اور ہم نے مختلف مقامات پر اس کا مفہوم مختلف الفاظ میں ادا کیا ہے ۔ اس لیے آغاز ہی میں یہ سمجھ لینا چاہئے کہ اس لفظ میں معنی کی کتنی وسعت ہے اور اس میں کیا کیا مفہومات شامل ہیں ۔
آلاء کے معنی اہل لغت اور اہل تفسیر نے بالعموم نعمتوں کے بیان کیے ہیں ۔ تمام مترجمین نے بھی یہی اس لفظ کا ترجمہ کیا ہے ۔ اور یہی معنی ابن عباس ، قتادہ اور حسن بصری سے منقول ہیں ۔ سب سے بڑی دلیل اس معنی کے صحیح ہونے کی یہ ہے کہ خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جنوں کے اس قول کو نقل فرمایا ہے کہ وہ اس آیت کو سن کر بار بار لا بشیء من نعمک ربنا نکذب کہتے تھے ۔ لہذا زمانۂ حال کے بعض محققین کی اس رائے سے ہمیں اتفاق نہیں ہے کہ آلاء نعمتوں کے معنی میں سرے سے استعمال ہی نہیں ہوتا ۔
دوسرے معنی اس لفظ کے قدرت اور عجائب قدرت یا کمالات قدرت ہیں ۔ ابن جریر طبری نے ابن زید کا قول نقل کیا ہے کہ فبای الاء ربکما کے معنی ہیں فبای قدرۃ اللہ ۔ ابن جریر نے خود بھی آیات 37 ۔ 38 کی تفسیر میں آلاء کو قدرت کے معنی میں لیا ہے ۔ امام رازی نے بھی آیات 14 ۔ 15 ۔ 16 کی تفسیر میں لکھا ہے ۔ ان آیات بیان نعمت کے لیے نہیں بلکہ بیان قدرت کے لیے ہیں ۔ اور آیات 22 ۔ 23 کی تفسیر میں وہ فرماتے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کے عجائب قدرت کے بیان میں ہے نہ کہ نعمتوں کے بیان میں ۔
اس کے تیسرے معنی ہیں خوبیاں ، اوصاف حمیدہ اور کمالات و فضائل ۔ اس معنی کو اہل لغت اور تفسیر نے بیان نہیں کیا ہے ، مگر اشعار عرب میں یہ لفظ کثرت سے اس معنی میں استعمال ہوا ہے ۔ نابغہ کہتا ہے :
ھم الملوک وابناء الملوک لھم فضل علی الناس فی الالاء والنعم
وہ بادشاہ اور شاہزادے ہیں ان کو لوگوں پر اپنی خوبیوں ور نعمتوں میں فضیلت حاصل ہے ۔
مہلہل اپنے بھائی کلیب کے مرثیہ میں کہتا ہے :
الحزم والعزم کانا من طبائعہ ما کل اٰلائہ یا قوم احصیھا
حزم اور عزم اس کے اوصاف میں سے تھے ۔ لوگوں میں اس کی ساری خوبیاں شمار نہیں کر رہا ہوں ۔
فضالہ بن زید المعدوانی غریبی کی برائیاں بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ غریب اچھا کام بھی کرے تو برا بنتا ہے اور:
وتحمد اٰلاء البخیل المدرھم مالدار بخیل کے کمالات کی تعریف کی جاتی ہے
اجدع ہمدانی اپنے گھوڑے کمیت کی تعریف میں کہتا ہے :
ورضیت اٰلاء الکمیت فمن یبع فرسا فلیس جوادنا بمباع
مجھے کُمیت کے عمدہ اوصاف پسند ہیں ۔ اگر کوئی شخص کسی گھوڑے کو بیچتا ہے بیچے ، ہمارا گھوڑا بکنے والا نہیں ہے ۔
حماسہ کا ایک شاعر جس کا نام ابو تمام نے نہیں لیا ہے ، اپنے ممدوح ولید بن ادھم کے اقتدار کا مرثیہ کہتا ہے :
اذا ما امرؤ اثنی بالاء میت فلا یبعد اللہ الولید بن ادھما
جب بھی کوئی شخص کسی مرنے والے کی خوبیاں بیان کرے تو خدا نہ کرے کہ ولید بن ادھم اس موقع پر فراموش ہو ۔
فما کان مفراحا اذا الخیر مسہ ولا کان منانا اذا ھوا نعما
اس پر اچھے حالات آتے تو پھولتا نہ تھا اور کسی پر احسان کرتا تو جتاتا نہ تھا
طرفہ ایک شخص کی تعریف میں کہتا ہے :
کامل یجمع اٰلاء الفتیٰ نبہ سید سادات خضم
”وہ کامل اور جوانمردی کے اوصاف کا جامع ہے ۔ شریف ہے ، سرداروں کا سردار ، دریا دل “
ان شواہد و نظائر کو نگاہ میں رکھ کر ہم نے لفظ آلاء کو اس کے وسیع معنی میں لیا ہے اور ہر جگہ موقع و محل کے لحاظ سے اسکے جو معنی مناسب تر نظر آئے ہیں وہی ترجمے میں درج کر دیے ہیں ۔ لیکن بعض مقامات پر ایک ہی جگہ آلاء کے کئی مفہوم ہو سکتے ہیں ، اور ترجمے کی مجبوریوں سے ہم کو اس کے ایک ہی معنی اختیار کرنے پڑے ہیں ، کیونکہ اردو زبان میں کوئی لفظ اتنا جامع نہیں ہے کہ ان سارے مفہومات کو بیک وقت ادا کر سکے ۔ مثلاً اس آیت میں زمین کی تخلیق اور اس میں مخلوقات کی رزق رسانی کے بہترین انتظامات کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا گیا ہے کہ تم اپنے رب کے کن کن آلاء کو جھٹلاؤ گے ۔ اس موقع پر آلاء صرف نعمتوں کے معنی ہی میں نہیں ہے ، بلکہ اللہ جل شانہ کی قدرت کے کمالات اور اس کی صفات حمیدہ کے معنی میں بھی ہے ۔ یہ اس کی قدرت کا کمال ہے کہ اس نے اس کرۂ خاکی کو اس عجیب طریقے سے بنایا کہ اس میں بے شمار اقسام کی زندہ مخلوقات رہتی ہیں اور طرح طرح کے پھل اور غلے اس کے اندر پیدا ہوتے ہیں ۔ اور یہ اس کی صفات حمیدہ ہی ہیں کہ اس نے ان مخلوقات کو پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ یہاں ان کی پرورش اور رزق رسانی کا بھی انتظام کیا ، اور انتظام بھی اس شان کا کہ ان کی خوراک میں نری غذائیت ہی نہیں ہے بلکہ لذت کام و دہن اور ذوق فطرت کی بھی ان گنت رعایتیں ہیں ۔ اس سلسلہ میں اللہ تعالیٰ کی کاریگری کے صرف ایک کمال کی طرف بطور نمونہ اشارہ کیا گیا ہے کہ کھجور کے درختوں میں پھل کس طرح غلافوں میں لپیٹ کر پیدا کیا جاتا ہے ۔ اس ایک مال کو نگاہ میں رکھ کر ذرا دیکھیے کہ کیلے ، انار ، سنترے ، ناریل اور دوسرے پھلوں کے پیکنگ میں آرٹ کے کیسے کیسے کمالات دکھائے گیے ہیں ، اور یہ طرح طرح کے غلے اور دالیں اور جوب ، جو ہم بے فکر کے ساتھ پکا پکا کر کھاتے ہیں ، ان میں سے ہر ایک کو کیسی کیسی نفیس بالوں اور خوشوں کی شکل میں پیک کر کے اور نازک چھلکوں میں لپیٹ کر پیدا کیا جاتا ہے ۔
سورة الرَّحْمٰن حاشیہ نمبر :13
جھٹلانے سے مراد وہ متعدد رویے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اس کی قدرت کے کرشموں اور اس کی صفات حمیدہ کے معاملہ میں لوگ اختیار کرتے ہیں ، مثلاً :
بعض لوگ سرے سے یہی نہیں مانتے کہ ان ساری چیزوں کا خالق اللہ تعالیٰ ہے ۔ ان کا خیال ہے کہ یہ سب کچھ محض مادے کے اتفاقی ہیجان کا نتیجہ ہے ، یا ایک حادثہ ہے جس میں کسی حکمت اور صناعی کا کوئی دخل نہیں ۔ یہ کھلی کھلی تکذیب ہے ۔
بعض دوسرے لوگ یہ تو تسلیم کرتے ہیں کہ ان چیزوں کا پیدا کرنے والا اللہ ہی ہے مگر اس کے ساتھ دوسروں کو خدائی میں شریک ٹھہراتے ہیں ، اس کی نعمتوں کا شکریہ دوسروں کو ادا کرتے ہیں ، اور اس کا رزق کھا کر دوسروں کے گن گاتے ہیں ۔ یہ تکذیب کی ایک اور شکل ہے ۔ ایک آدمی جب تسلیم کرے کہ آپ نے اس پر فلاں احسان کیا ہے اور پھر اسی وقت آپ کے سامنے کسی ایسے شخص کا شکریہ ادا کرنے لگے جس نے در حقیقت اس پر وہ احسان نہیں کیا ہے تو آپ خود کہہ دیں گے کہ اس نے بدترین احسان فراموشی کا ارتکاب کیا ہے ، کیونکہ اس کی یہ حرکت اس بات کا صریح ثبوت ہے کہ وہ آپ کو نہیں بلکہ اس شخص کو اپنا محسن مان رہا ہے جس کا وہ شکریہ ادا کر رہا ہے ۔
کچھ اور لوگ ہیں جو ساری چیزوں کا خالق اور تمام نعمتوں کا دینے والا اللہ تعالیٰ ہی کو مانتے ہیں ، مگر اس بات کو نہیں مانتے کہ انہیں اپنے خالق و پروردگار کے احکام کی اطاعت اور اس کی ہدایات کی پیروی کرنی چاہئے ۔ یہ احسان فراموشی اور انکار نعمت کی ایک اور صورت ہے ، کیونکہ جو شخص یہ حرکت کرتا ہے وہ نعمت کو ماننے کے باوجود نعمت دینے والے کے حق کو جھٹلاتا ہے ۔
کچھ اور لوگ زبان سے نہ نعمت کا انکار کرتے ہیں نہ نعمت دینے والے کے حق کو جھٹلاتے ہیں ، مگر عملاً ان کی زندگی اور ایک منکر و مکذب کی زندگی میں کوئی قابل ذکر فرق نہیں ہوتا ۔ یہ تکذیب بالقول نہیں بلکہ تکذیب بالفعل ہے ۔