Surat ur Rehman

Surah: 55

Verse: 29

سورة الرحمن

یَسۡئَلُہٗ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ کُلَّ یَوۡمٍ ہُوَ فِیۡ شَاۡنٍ ﴿ۚ۲۹﴾

Whoever is within the heavens and earth asks Him; every day He is bringing about a matter.

سب آسمان و زمین والے اسی سے مانگتے ہیں ہر روز وہ ایک شان میں ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Whosoever is in the heavens and on the earth begs of Him. Every day He is (engaged) in some affair. In this Ayah, Allah affirms that He is Rich, Free of all wants for anyone else and that all creatures stand in need of Him, in all conditions and situations. They all seek His help willingly or unwillingly. Everyday, He is engaged in some affair. Al-A`mash reported from Mujahid, from `Ubayd bin `Umayr, كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ (Every day He is (engaged) in some affair), He said, "Of His affairs is that He answers the supplicant, or gives to the one requesting, or removing adversity, or cures the one seeking to be cured." فَبِأَيِّ الاَء رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

29۔ 1 یعنی سب اس کے محتاج اور اس کے در کے سوالی ہیں۔ 29۔ 2 ہر روز کا مطلب، ہر وقت۔ شان کے معنی امر یا معاملہ، یعنی ہر وقت وہ کسی نہ کسی کام میں مصروف ہے، کسی کو بیمار کر رہا ہے، کسی کو شفایاب، کسی کو تونگر کسی کو فقیر، کسی کو گدا سے شاہ اور شاہ سے گدا، کسی کو بلندیوں پر فائز کر رہا ہے، کسی کو پستی میں گرا رہا ہے کسی کو ہست سے نیست اور نیست کو ہست کر رہا ہے وغیرہ۔ الغرض کائنات میں یہ سارے تصرف اسی کے امرو مشیت سے ہو رہے ہیں اور شب و روز کا کوئی لمحہ ایسا نہیں جو اس کی کارگزاری سے خالی ہو۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٩] اللہ تعالیٰ کے نت نئے کام :۔ بےنیاز فقط اللہ کی ذات ہے باقی تمام مخلوق اپنی حاجت روائی اور مشکل کشائی کے لیے اللہ کی محتاج ہے۔ کوئی اس سے کھانے کو مانگ رہا ہے کوئی پینے کو، کوئی تندرستی کے لیے دعا کرتا ہے اور کوئی اولاد کے لیے۔ کوئی گناہوں سے مغفرت اور ترقی درجات کے لیے اور وہ سب مخلوق کی فریاد سنتا اور ان کی فریاد رسی کر رہا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ ہر وقت اور ہر آن یہ کام کر رہا ہے۔ علاوہ ازیں ہر وقت نئی سے نئی مخلوق کو وجود میں لا رہا ہے جس طرح انسانوں کی پیدائش بڑھ رہی ہے اسی طرح ہر ذی حیات کی نسل میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پھر وہ کائنات میں نئے سے نئے سیارے اور کہکشائیں بھی وجود میں لا رہا ہے۔ غرض ہر روز اس کی ایک نئی آن اور نئی شان ہوتی ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

١۔ یَسْئَلُـہٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط : یہ ہر چیز کے فانی ہونے اور اللہ تعالیٰ کے باقی ہونے کی دلیل ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ ہمیشہ باقی ہے، کیونکہ وہ غنی ہے ، اپنے وجود یا بقایا کسی بھی چیز میں کسی دوسرے کا محتاج نہیں ، مگر اس کے سوا جو بھی ہے خواہ آسمان ہوں یا زمین یا جو ان دونوں میں ہے ، سب اپنے وجود ، اپنی بقاء اور اپنی ہر ضرورت کے لیے ہر لمحے اس کے محتاج ہیں ۔ اپنی ہر ضرورت اسی سے مانگ رہے ہیں ، کوئی زبان ِ قال سے مانگ رہا ہے ، کوئی زبان حال سے اور کوئی دونوں سے ۔ جس کی زندگی کا ہر لمحہ مانگنے پر موقوف ہے وہ کیا خاک باقی رہے گا ۔ ٢۔ کُلَّ یَوْمٍ ہُوَ فِیْ شَاْنٍ :” کل یوم “ سے مراد ہر وقت ہے۔” شان “ میں تنوین تنکیر کے لیے ہے ، یعنی وہ ہر لمحے ایک نئی سے نئی شان میں ہے ، کسی کو پیدا ک رہا ہے اور کسی کو مار رہا ہے ، کسی کو اٹھا رہا ہے اور کسی کو گرا رہا ہے ، کسی کو بیمار کر رہا ہے اور کسی کو شفاء بخش رہا ہے۔ ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :(ید اللہ ملاٰی لا تغیضھا نفقۃ سحاء اللیل والنھار وقال ارایتم ما انفق منذ خلق السماء والارض فانہ لم یغض ما فی یدہ و کان عرشہ علی الماء وبیدہ المیزان یخفض و یرفع) ( بخاری ، التفسیر ، سورة ھود، باب قولہ :(وکان عرشہ علی المائ): ٤٦٨٤)” اللہ کا ہاتھ بھرا ہوا ہے ، کسی قسم کا خرچ کرنا اس میں کمی نہیں لاتا ، رات دن بےحساب برسنے والا ہے۔ تم نے دیکھا اس نے جب سے آسمان و زمین پیدا کیے ، کیا کچھ خرچ کیا ، تو اس ( خرچ کرنے) نے اس میں کوئی کمی نہیں کی جو اس کے ہاتھ میں ہے اور اس کا عرش پانی پر تھا اور اس کے ہاتھ میں ترازو ہے۔ نیچے کرتا ہے اور اونچا کرتا ہے۔ “ اور ابو الدرداء (رض) نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ” کلی یوم ھو فی شان “ کی تفسیر کے بیان میں روایت کیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :(من شانہ ان یغفر ذنباو یفرج کر با ویرفع قوما و یخفض آخرین) (ابن ماجہ ، المقدمۃ ، باب فیما انکرت الجھمیۃ : ٢٠٢، وقال الالبانی حسن) ” اس کی شان سے ہے کہ وہ کوئی نہ کوئی گناہ بخش رہا ہے ، کوئی نہ کوئی مصیبت دور کر رہا ہے اور کسی اقوام کو اونچا کر رہا ہے اور کسی کو نیچا کر رہا ہے “۔ ٣۔ اس میں یہود کا بھی رد ہے جنہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے چھ دنوں میں زمین و آسمان پیدا فرمائے اور ہفتہ کے دن آرام کیا ۔ فرمایا وہ ہر دن ہی نئی شان میں سے ہے ، اسے نہ تھکاوٹ ہوتی ہے نہ آرام کی ضرورت ہے۔ ٤۔ یونان کے فلسفی آسمانی ہدایت سے محروم تھے ، انہوں نے اللہ تعالیٰ کا وجود ماننے کے باوجود اپنے دیوتاؤں کی گاجائش نکالنے کے لیے ایک قاعدہ وضع کیا ، جو یہ تھا کہ ” ہر محل حوارث حادث ہوتا ہے ۔ چونکہ اللہ تعالیٰ قدیم ہے ، ہمیشہ سے ہے ، اس لیے اس پر حوادث نہیں آسکتے ۔ “ افسوس ! بعض مسلمان متکلمین نے بھی ان کا یہ قاعدہ تسلیم کرلیا ۔ نتیجہ اس کا یہ نکلا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی صفات کا انکار کردیا ۔ بعض نے تاویل کی اور ایسی تاویل کی جو درحقیقت بدترین تحریف ہے ۔ مثلاً اللہ کی صفت کلام ہے ۔ جیسا کہ فرمایا :” وَکَلَّمَ اللہ ُ مُوْسٰی تَکْلِیْمًا “ ( النسائ : ١٦٤)” اور اللہ نے موسیٰ سے کلام کیا ، خود کلام کرنا “۔ اور فرمایا :(وَاِنْ اَحَدٌ مِّنَ الْمُشْرِکِیْنَ اسْتَجَارَکَ فَاَجِرْہُ حَتّٰی یَسْمَعَ کَلٰمَ اللہ ِ ) (التوبۃ : ٦) ” اور اگر مشرکوں میں سے کوئی تجھ سے پناہ مانگے تو اسے پناہ دے دے ، یہاں تک کہ وہ اللہ کا کلام سنے “ ۔ اور فرمایا :(اِنَّمَآ اَمْرُہٗٓ اِذَآ اَرَادَ شَیْئًا اَنْ یَّقُوْلَ لَہٗ کُنْ فَیَکُوْنُ ) (یٰسین : ٨٢)” اس کا حکم تو ، جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے ، اس کے سوا نہیں ہوتا کہ اسے کہتا ہے ” ہوجا “ تو وہ ہوجاتی ہے۔ “ یہ ساری کائنات اس کہ کلمہ کن سے وجود میں آئی ہے۔ ظاہر ہے کلام کا ہر لفظ حادث ہے ، پہلے موجود نہیں ہوتا ، پھر وجود میں آتا ہے، اس لیے متکلمین نے اللہ تعالیٰ کے کلام کا انکار کردیا ۔ اللہ تعالیٰ دیکھتا ہے ، سنتا ہے ، اترتا ہے ، بلند ہوتا ہے ، خوش ہوتا ہے ، ناراض ہوتا ہے۔ ظاہر ہے یہ صفات اور اس جیسی دوسری صفات اللہ تعالیٰ میں ہمیشہ سے ہیں ، ان کی انواع قدیم ہیں مگر افراد حادث ہیں ، ان کا اظہار مختلف اوقات میں ہوتا رہتا ہے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ جب چاہے کلام کرتا ہے ، نیچے اترتا ہے ، بلند ہوتا ہے ، پیدا کرتا ہے ، مارتا ہے ، ہر ایک کو ہر لمحے روزی بخشتا ہے ، ہر لمحے ہر ایک کو دیکھتا ہے، اس کی سنتا ہے ، اس کی ضرورت پوری کرتا ہے ، مگر یونانی فلسفیوں کی تقلید میں متکلمین نے اللہ تعالیٰ کو سننے ، یکھنے ، بولنے خوش ہونے ، ناراض ہونے ، غرض اس طرح کی تمام صفات سے عاری قرار دیا ۔ اس مقام بھی اللہ تعالیٰ نے اپنی یہ صفت بیان فرمائی ہے کہ وہ آسمان و زمین کی ہر چیز کے سوال کو سنتا ہے اور ہر لمحے نئی سے نئی شان میں ہے ؟ اب ہم یونان کے کافر فلاسفر اور ان کے مقلد بعض متکلمین کی بات مانیں کہ اللہ تعالیٰ پر کوئی نئی شان وارد نہیں ہوسکتی یا اللہ تعالیٰ کی بات پر ایمان رکھیں کہ وہ ہر لمحے ایک نئی سے نئی شان میں ہے ؟ ظاہر ہے جس کے دل میں ایمان ہے وہ تو اللہ تعالیٰ ہی کی بات مانے گا ، خواہ کوئی فلسفی اسے مانے یا نہ مانے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

يَسْأَلُهُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْ‌ضِ كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ (All those in the heavens and the earth beseech Him. Every day He is at some task...55:29). The verse signifies that all creatures stand in need of Allah, in all conditions and situations. They all seek His help willingly or unwillingly. The earthly creatures ask for their specific needs. In this world, they need sustenance, health and welfare, and comfort; and in the Hereafter, they need forgiveness, mercy and Paradise. The celestial creatures do not eat and drink, they do however need Allah&s mercy and grace. Allah&s grace, forgiveness and so on surround them all the time. The phrase کُلَّ یَومِ every day& is the adverb of time of the verb يَسْأَلُهُ &beseech&.(1) The &day& is not used in its popular sense, but in the sense of &time& in general. All His creation, in different regions, in different languages implore for their needs all the time. Obviously, each member of the earthly and celestial beings has countless needs. Who else besides the Absolutely Powerful Being, the Lord of Majesty, is able to respond to their needs every moment of the time? Therefore, &every day& is followed by the sentence هُوَ فِي شَأْنٍ &He is at some task&, that is, His Attributes know no limit or count, and keep finding their manifestations in diverse ways all the time. He gives life to some and causes others to die. He elevates some and others He abases. Some He (1) This is according to one construction of the sentence. Other exegetes have taken the phrase &every day& as relating to &He is at some task&. The translation of the verse given above is based on this latter construction, which is also adopted by Moulana Thanawi (رح) . (Muhammad Taqi Usmani). causes to become ill and others He cures. He alleviates the adversity of some; He causes the aggrieved ones to smile; He grants the requests of suppliants; He forgives the sins of the sinners and makes them deserving of Paradise; He gives power to some, and He snatches it away from others and abases them. In sum, every Attribute of Allah keeps finding its manifestation in diverse ways all the time

يَسْـَٔـلُهٗ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِيْ شَاْنٍ ، |" یعنی زمین و آسمان کی ساری مخلوقات حق تعالیٰ کی محتاج ہیں اور اسی سے اپنی حاجات مانگتی ہیں، زمین والے اپنے مناسب حاجات رزق اور صحت و عافیت اور آرام و راحت پھر آخرت کی مغفرت و راحت اور جنت مانگتے ہیں، آسمان والے اگرچہ کھاتے پیتے نہیں، مگر اللہ تعالیٰ کی رحمت و عنایت کے ہر وقت محتاج ہیں، وہ بھی رحمت و مغفرت وغیرہ اپنی حاجات کے طلب گار رہتے ہیں، آگے كُلَّ يَوْمٍ اسی يَسْـَٔـلُ کا ظرف ہے، یعنی ان کے سوالات اور درخواستیں حق تعالیٰ سے ہر روز رہتی ہیں اور یوم اور روز سے مراد بھی عرفی دن نہیں، بلکہ مطلقاً وقت مراد ہے، جس کا حاصل یہ ہے کہ ساری مخلوقات مختلف خطوں، مختلف زبانوں میں اس سے اپنی اپنی حاجات ہر وقت مانگتی رہتی ہیں اور یہ ظاہر ہے کہ پوری مخلوقات ارضی و سمائی اور ان کے ایک ایک فرد کی بیشمار حاجتیں اور وہ بھی ہر گھڑی ہر آن سوائے اس عظمت و جلال والے قادر مطلق کے کون سن سکتا ہے اور کون ان کو پورا کرسکتا ہے، اسی لئے كُلَّ يَوْمٍ کے ساتھ یہ بھی فرمایا هُوَ فِيْ شَاْنٍ یعنی ہر وقت ہر لحظہ حق تعالیٰ کی ایک خاص شان ہوتی ہے وہ کسی کو زندہ کرتا ہے، کسی کو موت دیتا ہے، کسی کو عزت دیتا ہے کسی کو ذلت دیتا ہے، کسی تندرست کو بیمار اور کسی بیمار کو تندرست کرتا ہے، کسی مصیبت زدہ کو مصیبت سے نجات دیتا ہے کسی غم زدہ رونے والے کو ہنسا دیتا ہے، کسی سائل کو اس کی مانگی ہوئی چیز عطا کردیتا ہے، کسی کا گناہ معاف کر کے جنت میں داخل ہونے کا مستحق بنا دیتا ہے، کسی قوم کو بلندو صاحب اقتدار بنا دیتا ہے کسی قوم کو پست و ذلیل کردیتا ہے، غرض ہر آن ہر لمحہ حق تعالیٰ جل شانہ کی ایک خاص شان ہوتی ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

يَسْـَٔـلُہٗ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۝ ٠ ۭ كُلَّ يَوْمٍ ہُوَفِيْ شَاْنٍ۝ ٢٩ ۚ سأل السُّؤَالُ : استدعاء معرفة، أو ما يؤدّي إلى المعرفة، واستدعاء مال، أو ما يؤدّي إلى المال، فاستدعاء المعرفة جو ابه علی اللّسان، والید خلیفة له بالکتابة، أو الإشارة، واستدعاء المال جو ابه علی الید، واللّسان خلیفة لها إمّا بوعد، أو بردّ. ( س ء ل ) السؤال ( س ء ل ) السوال کے معنی کسی چیز کی معرفت حاصل کرنے کی استد عایا اس چیز کی استز عا کرنے کے ہیں ۔ جو مودی الی المعرفۃ ہو نیز مال کی استدعا یا اس چیز کی استدعا کرنے کو بھی سوال کہا جاتا ہے جو مودی الی المال ہو پھر کس چیز کی معرفت کی استدعا کا جواب اصل مٰن تو زبان سے دیا جاتا ہے لیکن کتابت یا اشارہ اس کا قائم مقام بن سکتا ہے اور مال کی استدعا کا جواب اصل میں تو ہاتھ سے ہوتا ہے لیکن زبان سے وعدہ یا انکار اس کے قائم مقام ہوجاتا ہے ۔ سما سَمَاءُ كلّ شيء : أعلاه، قال بعضهم : كلّ سماء بالإضافة إلى ما دونها فسماء، وبالإضافة إلى ما فوقها فأرض إلّا السّماء العلیا فإنها سماء بلا أرض، وحمل علی هذا قوله : اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَماواتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ [ الطلاق/ 12] ، ( س م و ) سماء ہر شے کے بالائی حصہ کو سماء کہا جاتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے ( کہ یہ اسماء نسبیہ سے ہے ) کہ ہر سماء اپنے ماتحت کے لحاظ سے سماء ہے لیکن اپنے مافوق کے لحاظ سے ارض کہلاتا ہے ۔ بجز سماء علیا ( فلک الافلاک ) کے کہ وہ ہر لحاظ سے سماء ہی ہے اور کسی کے لئے ارض نہیں بنتا ۔ اور آیت : اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَماواتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ [ الطلاق/ 12] خدا ہی تو ہے جس نے سات آسمان پیدا کئے اور ویسی ہی زمنینیں ۔ کو اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔ أرض الأرض : الجرم المقابل للسماء، وجمعه أرضون، ولا تجیء مجموعةً في القرآن «4» ، ويعبّر بها عن أسفل الشیء، كما يعبر بالسماء عن أعلاه . ( ا رض ) الارض ( زمین ) سماء ( آسمان ) کے بالمقابل ایک جرم کا نام ہے اس کی جمع ارضون ہے ۔ جس کا صیغہ قرآن میں نہیں ہے کبھی ارض کا لفظ بول کر کسی چیز کا نیچے کا حصہ مراد لے لیتے ہیں جس طرح سماء کا لفظ اعلی حصہ پر بولا جاتا ہے ۔ يوم اليَوْمُ يعبّر به عن وقت طلوع الشمس إلى غروبها . وقد يعبّر به عن مدّة من الزمان أيّ مدّة کانت، قال تعالی: إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعانِ [ آل عمران/ 155] ، ( ی و م ) الیوم ( ن ) ی طلوع آفتاب سے غروب آفتاب تک کی مدت اور وقت پر بولا جاتا ہے اور عربی زبان میں مطلقا وقت اور زمانہ کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔ خواہ وہ زمانہ ( ایک دن کا ہو یا ایک سال اور صدی کا یا ہزار سال کا ہو ) کتنا ہی دراز کیوں نہ ہو ۔ قرآن میں ہے :إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعانِ [ آل عمران/ 155] جو لوگ تم سے ( احد کے دن ) جب کہہ دوجماعتیں ایک دوسرے سے گتھ ہوگئیں ( جنگ سے بھاگ گئے ۔ شأن الشَّأْنُ : الحال والأمر الذي يتّفق ويصلح، ولا يقال إلّا فيما يعظم من الأحوال والأمور . قال اللہ تعالی: كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ [ الرحمن/ 29] ، وشَأْنُ الرّأس جمعه : شَئُونٌ ، وهو الوصلة بين متقابلاته التي بها قوام الإنسان . ( ش ء ن ) شان کے معنی حالت اور اس اتفاقی معاملہ کے ہیں جو کسی کے مناسب حال ہو ۔ اسکا اطلاق صرف اہم امور اور حالات پر ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ [ الرحمن/ 29] ہر روز کام میں مصروف رہتا ہے شان الراس کھوپڑی کی چھوٹی چھوٹی ہڈیوں کے ملنے کی جگہ جس سے انسان کا قوام ہے اسکی جمع شؤون آتی ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٢٩۔ ٣٠) اسی سے تمام فرشتے اور مومنین مانگتے ہیں، چناچہ زمین والے اس سے مغفرت کی توفیق عصمت و کرامت اور رزق مانگتے ہیں۔ وہ ہر وقت کسی نہ کسی کام میں رہتا ہے تمام امور اسی کے قبضہ قدرت میں ہیں جو کہ احاطہ اور شمار سے باہر ہیں چناچہ وہ ہی جلاتا اور مارتا ہے اور وہ ہی عزت و ذلت دیتا ہے وہی لوگوں کو اولاد عطا کرتا ہے اور وہی غلاموں کو رہا کراتا ہے، سو اے جن و انس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کا انکار کرو گے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٩{ یَسْئَلُہٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط } ” اسی سے مانگتا ہے جو کوئی بھی آسمانوں اور زمین میں ہے۔ “ اللہ تعالیٰ کی تمام مخلوق اپنی ضرورتوں اور حاجتوں کے لیے اللہ ہی کے در کی سوالی ہے۔ ہر کسی کو وجود بھی اللہ تعالیٰ نے عطا کیا ہے۔ ہر زندہ وجود کی زندگی بھی اسی کی دین ہے ‘ کسی مخلوق میں اگر کوئی صلاحیت ہے تو وہ بھی اسی کی بخشی ہوئی ہے اور تمام مخلوقات کے ایک ایک فرد کی ضرورتوں کا خبرگیر ونگہبان بھی وہی ہے ۔ اس حوالے سے سورة محمد کی آیت ٣٨ کے یہ الفاظ بہت واضح ہیں : { وَاللّٰہُ الْغَنِیُّ وَاَنْتُمُ الْفُقَرَآئُج } کہ اللہ غنی اور بےنیاز ہے اور تم سب اس کے محتاج ہو۔ یعنی تمہارا وجود ‘ تمہاری زندگی ‘ تمہاری صلاحیتیں ‘ غرض تمہارا سب کچھ اسی کا عطا کردہ ہے۔ تم اپنے تمام تر وسائل سے بس وہی کچھ کرسکتے ہو جس کی وہ اجازت دیتا ہے اور صرف اسی قدر جان سکتے ہو جس قدر وہ چاہتا ہے۔ اس کی مخلوق کے تمام افراد پر یہ حقیقت واضح ہونی چاہیے : { وَلَا یُحِیْطُوْنَ بِشَیْئٍ مِّنْ عِلْمِہٖٓ اِلاَّ بِمَا شَآئَج } (البقرۃ : ٢٥٥) کہ وہ سب کے سب اس کے احاطہ علم میں مقید و محصور ہیں اور وہ اس کی معلومات میں سے کسی چیز تک رسائی حاصل نہیں کرسکتے ‘ مگر اسی قدر جس قدر وہ چاہتا ہے۔ { کُلَّ یَوْمٍ ہُوَ فِیْ شَاْنٍ ۔ } ” ہر دن وہ ایک نئی شان میں ہے۔ “ ہر دن اس کی ایک نئی شان کا ظہور ہوتا ہے۔ میرے نزدیک اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی تدبیر امر کی طرف اشارہ ہے جس کا ذکر سورة السجدۃ میں بایں الفاظ آیا ہے : { یُدَبِّرُ الْاَمْرَ مِنَ السَّمَآئِ اِلَی الْاَرْضِ ثُمَّ یَعْرُجُ اِلَـیْہِ فِیْ یَوْمٍ کَانَ مِقْدَارُہٓٗ اَلْفَ سَنَۃٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ ۔ } ” وہ تدبیر کرتا ہے اپنے امر کی آسمان سے زمین کی طرف ‘ پھر وہ (امر) چڑھتا ہے اس کی طرف ‘ (یہ سارا معاملہ طے پاتا ہے) ایک دن میں جس کی مقدار تمہارے شمار کے مطابق ایک ہزار برس ہے “۔ یعنی کائنات اور مخلوق کو پیدا کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ فارغ ہو کر نہیں بیٹھ گیا ‘ بلکہ اس کائنات کے نظام اور ارض و سماء میں پھیلی ہوئی مخلوقات سے متعلق تمام امور کو وہ لمحہ بہ لمحہ اپنی تدبیر سے چلا رہا ہے۔ اس تدبیر کی منصوبہ بندی کے لیے اس کا ایک دن ہمارے ایک ہزار سال کے برابر ہے۔ چناچہ اس کے ہاں ایک ایک دن کی منصوبہ بندی ہوتی ہے ‘ اہم فیصلے کیے جاتے ہیں ‘ احکام جاری ہوتے ہیں ‘ ان احکام کی تعمیل و تنفیذ عمل میں لائی جاتی ہے اور پھر جائزہ رپورٹیں اسے پیش کی جاتی ہیں۔ اس طرح ہر دن کے لیے اس کی نئی شان ہے اور نئی مصروفیات !

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

27 That is, "He is continuously and endlessly fimctioning in this Universe and creating countless new things with new and yet new forms and designs and qualities, He is giving death to one and life to another, exalting one and debasing another, causing one to recover and another to remain ill, rescuing a drowning one and drowning a floating one. He is providing sustenance to countless creatures in a variety of ways, His world never stays In the same state: it is changing every moment and its Creator arranges it in a new state and fashion every time, which is different from every previous form and fashion and state, "

سورة الرَّحْمٰن حاشیہ نمبر :27 یعنی ہر وقت اس کار گاہ عالم میں اس کی کارفرمائی کا ایک لا متناہی سلسلہ جاری ہے ، کسی کو مار رہا ہے اور کسی کو جلا رہا ہے ۔ کسی کو اٹھا رہا ہے اور کسی کو گرا رہا ہے ۔ کسی کو شفا دے رہا ہے اور کسی کو بیماری میں مبتلا کر رہا ہے ۔ کسی ڈوبتے کو بچا رہا ہے اور کسی تیرتے کو ڈبو رہا ہے ۔ بے شمار مخلوقات کو طرح طرح سے رزق دے رہا ہے ۔ بے حد و حساب چیزیں نئی سے نئی وضع اور شکل اور اوصاف کے ساتھ پیدا کر رہا ہے ۔ اس کی دنیا کبھی ایک حال پر نہیں رہتی ۔ ہر لمحہ اس کے حالات بدلتے رہتے ہیں اور اس کا خالق ہر بار اسے ایک نئی صورت سے ترتیب دیتا ہے جو پچھلی تمام صورتوں سے مختلف ہوتی ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

5: یعنی ہر رواز اور ہر آن وہ اپنی کائنات کی تدبیر اور اپنی مخلوقات کی حاجت روائی میں اپنی کسی نہ کسی شان یا صفت کا مظاہرہ فرماتا رہتا ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(55:29) یسئلہ من فی السموت والارض جو کوئی آسمانوں میں ہے یا زمین میں اسی کا سوالی ہے۔ یعنی فرشتے ، جنات، اور انسان سب اپنی اپنی حاجتیں اللہ سے ہی مانگتے ہیں۔ رزق، صحت، عافیت، توفیق ، عبادت ، مغفرت اور نزول تجلیات و برکات کے اسی سے طلب گار ہوتے ہیں۔ اگر من فی السموت والارض سے سب مخلوق مراد لی جائے تو اس صورت میں سوال سے مراد وہ حالت و کیفیت ہوگی جو احتیاج پر دلالت کرتی ہے خواہ زبان سے اس کا اظہار کیا جائے یا نہ کیا جائے۔ کل یوم ھو فی شانجملہ مستانفہ ہے کل یوم مضاف مضاف الیہ بمعنی کل وقت من الاوقات ولحظۃ من الاحظات ہر وقت، ہر لحاظ۔ کل یوم منصوب بوجہ ظرفیت کے ہے۔ تقدیر کلام ہے ھو ثابت فی شان کل یوم وہ ہر وقت کسی نہ کسی دھندے میں لگا رہتا ہے۔ شان۔ دھندا، فکر، حال۔ کسی اہم معاملہ یا حال کو خواہ برا ہو یا بھلا۔ شان کہتے ہیں۔ اس کی جمع شؤون، ش و ن حروف مادہ

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 4 چاہے زبان قابل سے اور چاہنے زبان حال سے مطلب یہ ہے کہ سب اسی کے محتاج ہیں۔ وہ کسی کا محتاج نہیں ہے۔ 5 یعنی کسی کو مارتا ہے کسی کو جلاتا ہے کسی کو مالدار کرتا ہے اور کسی کو محتاج کسی کو عزت بخشتا ہے اور کسی کو ذلت الغرض ہر آن اور ہر وقت اسکی ایک نئی شان کا ظہور ہوتا رہتا ہے۔ شوون الہیہ کی یہ تاویل بعض صحابہ سے مروی ہے جن میں ابوالددردہ اور حضرت عبداللہ بن عمر بھی شامل ہیں۔ (قرطبی شوکانی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

3۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ صدور افعال کا اس کے لوازم ذات سے ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ جتنے تصرفات عالم میں واقع ہورہے ہیں وہ اسی کے تصرفات ہیں۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی ذات اس وقت بھی تھی جب کچھ نہیں تھا اور اس وقت بھی ہوگی جب کچھ نہیں ہوگا ہر چیز اسی کی محتاج ہے۔ اس لیے پوری مخلوق اسی سے مانگتی ہے اور سب کو اسی سے مانگنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اے لوگو ! تم سب کے سب اللہ کی بارگاہ کے محتاج ہو اور اللہ تعالیٰ ہر اعتبار سے غنی ہے، وہ چاہے تو تمہیں ختم کردے اور تمہاری جگہ نئی مخلوق لے آئے، ایسا کرنا اللہ تعالیٰ کے لیے مشکل نہیں ہے۔ (فاطر : ١٥ تا ١٧) اللہ ہی خالق، مالک، رازق اور بادشاہ ہے اس لیے جو کچھ زمین و آسمانوں میں ہے ہر کوئی اسی سے مانگتا ہے۔ ہر دن ہر آن رب ذوالجلال کی نئی شان ہوتی ہے۔ لیکن اس کے باوجود بیشمار جن اور انسان ایسے ہیں جو اس کے حکم کے مطابق اس سے مانگنے کے لیے تیار نہیں وہ ادھر ادھر کے واسطوں اور مختلف قسم کے وسیلوں کو درمیان میں لاتے ہیں حالانکہ اس کا حکم ہے کہ مجھ سے بلاواسطہ مانگا جائے۔ ” تمہارے رب کا فرمان ہے کہ مجھے ہی پکارو میں ہی تمہاری دعائیں قبول کروں گا، جو لوگ تکبر کرتے ہوئے اور میری عبادت سے منہ موڑتے ہیں وہ ضرور ذلیل و خوار ہو کر جہنم میں داخل کیے جائیں گے۔ “ (المومن : ٦٠) اس کا فرمان ہے کہ صرف مجھے ہی پکارا جائے اور اطاعت بھی اسی کی ہونی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کے انعامات میں سے یہ بہت بڑا انعام ہے کہ وہ انسان کو ہر کسی کے سامنے جھکنے اور ان سے مانگنے کا حکم دینے کی بجائے صرف اپنے سامنے جھکنے اور مانگنے کا حکم دیتا ہے جو جن اور انسان اس کے حکم کے مطابق اس سے نہیں مانگتے ان کے لیے اس کا ارشاد ہے کہ اے جنو اور انسانو ! تم اپنے رب کی شان اور فرمان کو کس طرح جھٹلاؤ گے۔ اس کا فرمان ہے کہ ہر دن اس کی نئی شان ہے یعنی وہ ہر آن اپنی مخلوق بالخصوص جنوں اور انسانوں پر اپنی رحمت اور کرم نوازیوں میں اضافہ کیے جاتا ہے۔ اس کی رحمت کی شان کا تذکرہ کرتے ہوئے سرور دو عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : (یَا عِبَادِی لَوْ أَنَّ أَوَّلَکُمْ وَآخِرَکُمْ وَإِنْسَکُمْ وَجِنَّکُمْ قَامُوا فِی صَعِیدٍ وَاحِدٍ فَسَأَلُونِی فَأَعْطَیْتُ کُلَّ إِنْسَانٍ مَسْأَلَتَہُ مَا نَقَصَ ذَلِکَ مِمَّا عِنْدِی إِلاَّ کَمَا یَنْقُصُ الْمِخْیَطُ إِذَا أُدْخِلَ الْبَحْرَ یَا عِبَادِی إِنَّمَا ہِیَ أَعْمَالُکُمْ أُحْصِیہَا لَکُمْ ثُمَّ أُوَفِّیکُمْ إِیَّاہَا فَمَنْ وَجَدَ خَیْرًا فَلْیَحْمَدِ اللَّہَ وَمَنْ وَجَدَ غَیْرَ ذَلِکَ فَلاَ یَلُومَنَّ إِلاَّ نَفْسَہُ قَالَ سَعِیدٌ کَانَ أَبُو إِدْرِیسَ الْخَوْلاَنِیُّ إِذَا حَدَّثَ بِہَذَا الْحَدِیثِ جَثَا عَلَی رُکْبَتَیْہِ ) (رواہ مسلم : کتاب البروالصلۃ والاداب، باب تحریم الظلم) ” میرے بندو ! تمہارے اگلے پچھلے اگر جن وانس سب مل کر کھلے میدان میں اکٹھے ہوجائیں پھر وہ مجھ سے مانگنے لگیں اور میں ہر کسی کو اس کی منہ مانگی مرادیں دے دوں تو میرے خزانوں میں اتنی کمی بھی واقع نہیں کرسکتے جتنی سوئی کو سمندر میں ڈبونے سے ہوتی ہے۔ “ مسائل ١۔ زمین و آسمانوں میں بسنے والا ہر جاندار اپنے رب سے مانگتا ہے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ مجھ سے ہی مانگا جائے۔ ٣۔ مشرک اور کافر کے سوا ہر کوئی ایک رب سے مانگتا ہے۔ ٤۔ بیشمار جن اور انسان اللہ کے حکم اور اس کی نعمتوں کی تکذیب کرتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن تمام انبیاء بغیر کسی واسطے اور کسی کے وسیلے کے بغیر ایک ” رب “ سے ہی مانگا کرتے تھے : ١۔ حضرت آدم (علیہ السلام) نے کہا ہمارے رب ! ہم نے اپنے آپ پر ظلم کیا اگر تو ہمیں معاف نہیں کرے گا اور رحم نہیں فرمائے گا تو یقیناً ہم نقصان اٹھائیں گے۔ (الاعراف : ٢٣) ٢۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے بدعا کی کہ الٰہی زمین پر ایک کافر نہیں بچنا چاہیے۔ (نوح : ٢٦) ٣۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے کہا میں اپنی بےقراری اور غم کی شکایت صرف ” اللہ “ کے حضور پیش کرتا ہوں۔ (یوسف : ٨٦) ٤۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) نے دعا کی اے میرے پروردگار ! میں بیمار ہوگیا ہوں اور تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔ (الانبیاء : ٨٣) ٥۔ حضرت یونس (علیہ السلام) نے اندھیروں میں اللہ تعالیٰ کو پکارا۔ تیرے سوا کوئی الٰہ نہیں تو پاک ہے اور میں ہی قصور وار ہوں۔ (الانبیاء : ٨٧) ٦۔ حضرت زکریا (علیہ السلام) نے کہا اے میرے پروردگار ! مجھے تنہا نہ چھوڑ اور تو ہی بہترین وارث ہے۔ (الانبیاء : ٨٩) ٧۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) نے دعا کی اے میرے پروردگار ! میں بیمار ہوگیا ہوں تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔ (الانبیاء : ٨٣) ٨۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعا اے میرے رب ! میرا علم زیادہ کر دے۔ (طٰہٰ : ١١٤) ٩۔ اے اللہ ! فساد کرنے والی قوم کے مقابلہ میں میری مدد فرما۔ (حضرت لوط (علیہ السلام) کی دعا) (العنکبوت : ٣٠) ١٠۔ اے ہمارے رب ! تو ہمارے درمیان اور ہماری قوم کے درمیان فیصلہ فرما دے (حضرت شعیب کی دعا) (الاعراف : ٨٩) ١١۔ اے ہمارے پروردگار ! ان کے اموال کو ختم کردے۔ (حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بددعا) ۔ (یونس : ٨٨)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

زمین اور آسمانوں میں جو مخلوقات ہیں وہ اس بقائے دوام کے سوالی ہیں کیونکہ سوال کی جگہ ہی وہ ہے۔ اس کے سوا دوسری کوئی درگاہ نہیں ہے اور اس کے سوا کسی سے کوئی سوال اس لئے عبث ہے کہ غیر خود محتاج ہے محتاج محتاج کی کیا مدد کرسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ہر آن کئی شان ہے۔ یہ وجود جو لاحدود ہے۔ سب کا سب اس کی مشیت ، اس کی تصویر اور اس کی تدبیر سے چل رہا ہے۔ یہ تدبیر پوری کائنات میں رواں دواں ہے اور ہر فرد علیحدہ علیحدہ بھی اس تقدیر اور مشیت میں پرویا ہوا ہے۔ پھر انسانی فرد کے اندر اس کا ایک ایک رواں بھی اس تقدیر کے دائرہ میں مقدر ہے۔ ہر چیز کو اللہ تخلیق عطا کرتا ہے۔ اسے اس کا مقصد تخلیق دیتا ہے اور پھر وہ دیکھتا ہے کہ وہ اپنا فریضہ ادا کررہی ہے یا نہیں۔ یہ تقدیر ہر آنے والے پودے اور گرنے والے پتے کا پیچھا کرتی ہے۔ زمین کی تاریکیوں میں دور کہیں کوئی دانہ پڑا ہے تو وہ بھی مقدر ہے۔ خشک ویا بس ، سمندر اور ان کی مچھلیاں ، کیڑے اور ان کے سوراخ ، حشرات اور ان کے ٹھکانے یہ تمام جانور ان کے مقامات رہائش غاروں میں ، گھونسلوں میں ، ہر انڈا اور ہر بچہ اور ہر پر اور ہر پر کا ایک ایک ریشہ اور ہر جسم کا ہر خلیہ مقدر ہے۔ اور صاحب تدبیر کسی ایک ہی کے اندر مصروف نہیں ہوتا اور نہ ایک کی تدبیر دوسرے سے غافل کرلیتی ہے۔ وہ بیک وقت سب کا مدبر ہے اور ان ہی حالات میں زمین کے معاملات جس میں جن وانس بھی ہیں کہ ہر وقت اس کی تم پر نظر ہے اور یہ بھی بڑی نعمت ہے۔ تقدیر بھی ایک نعمت ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

ان آیات میں اللہ تعالیٰ شانہٗ کی صفات عالیہ اور انسان اور جنات کی عاجزی بیان فرمائی ہے اور یہ بھی بیان فرمایا کہ اس دنیا میں جو کچھ کرتے ہو یہ نہ سمجھو کہ عمل کرنے میں آزاد ہو، اعمال کی پوچھ گچھ ہوگی۔ جزا و سزا کا دن آنے والا ہے، تمہارے حساب و کتاب کے لیے ہم عنقریب فارغ ہوں گے یعنی تمہارا محاسبہ کریں گے مخلوق کے سمجھانے کے لیے مجازاً ایسا فرمایا ورنہ حق تعالیٰ شانہٗ کو کوئی بھی فعل دوسرے فعل سے مانع نہیں ہوسکتا كُلَّ يَوْمٍ کا ترجمہ کل وقت اس لیے کیا گیا کہ مخلوق میں ہر وقت اللہ تعالیٰ کے تصرفات جاری رہتے ہیں۔ حساب و کتاب کی خبر دے کر پہلے سے آگاہ فرمانا یہ اللہ کی عظیم نعمت ہے اسی لیے فرمایا کہ اے جن و انس اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔ اس کے بعد انسانوں اور جنوں کی عاجزی بیان فرمائی کہ تم دونوں جماعتوں کو اگر یہ قدرت حاصل ہے کہ آسمانوں اور زمین کی حدود سے نکل سکو تو نکل جاؤ اور یاد رکھو کہ یہ نکل جانا بغیر طاقت و قوت اور زور کے نہیں ہوسکتا اور تم میں یہ طاقت نہیں ہے جس طرح وقوع قیامت سے پہلے عاجز ہو اسی طرح قیامت قائم ہونے کے وقت بھی عاجز ہو گے یہ نہ سمجھنا کہ قیامت قائم ہوئی تو ہم گرفت سے بچ جائیں گے اور خالق اور مالک جل مجدہ کے ملک کی حدود سے باہر چلے جائیں گے، اس بات کو جانتے ہوئے کیسے کفر اختیار کرتے ہو اور گناہوں پر کیوں تلے ہوئے ہو، تمہیں پہلے بتادیا گیا ہے کہ قیامت قائم ہوگی اور حساب ہوگا، یہ پیشگی بتادینا بھی انعام عظیم ہے، اس نعمت کا شکر ادا کرو، سو تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

12:۔ ” یسئلہ۔ الایۃ “ یہ توحید کی نویں عقلی دلیل ہے۔ زمین و آسمان کی ساری مخلوق فرشتے، پیغمبر اولیاء اللہ، جن اور ان کے علاوہ سب اپنے وجود وبقاء میں اللہ کے محتاج ہیں اور ہر حاجت اسی سے مانگتے ہیں اور وہ ہر لمحہ کسی نہ کسی شان میں ہوتا ہے۔ ساری کائنات کا نظام اسی کے ہاتھ میں ہے اور یہ نظم و نسق مسلسل بلا انقطاع چل رہا ہے اس طرح ہر لمحہ بیشمار شئون و افعال اس کی ذات سے وابستہ ہیں۔ جس ذات بےچون و چگون کے سب محتاج وسائل ہیں اور جس کی بےپایاں نعمتوں کے بوجھ کے نیچے سب دبے پڑے ہیں وہی سب کا کارساز اور وہی برکات کا سرچشمہ ہے۔ یوم سے مراد مطلق وقت ہے۔ ای کل وقت وحین یحدث امورا ویجدد احوالا کما روی انہ (علیہ السلام) تلا ھا فقیل لہ وما ذلک الشان فقال من شانہ ان یغفر ذنبا ویفرج کر با ویرفع قوما ویضع آخرین (مدارک ج 4 ص 109) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(29) سب آسمان و زمین ووالے اسی سے مانگتے ہیں وہ ہر روز ایک نہ ایک شان یعنی کام میں ہے۔ یعنی آسمان و زمین کی تمام مخلوق اسی کی محتاج اور اسی کی دست نگر ہے۔ کل یوم ھوفی شان ککا مطلب یہ ہے کہ عالم میں جملہ تصرفات اس کے ہم حکم سے ہوتے ہیں اور وہ کسی وقت بھی اپنی مخلوقات سے بیخبر اور غافل نہیں ہے۔ یہ مطلب نہیں کہ صدور افعال اس سے ہوتا ہے، یا صدور افعال اس کی ذات کے لوازم سے ہے۔ بعض نے کہا یہود کے ایک اعتراض کا جواب ہے وہ کہتے تھے ایک روز اللہ تعالیٰ کے آرام کرنے کا ہے اس کا جواب ہے کل یوم ہونی شان۔ خلاصہ : یہ کہ اس کی شونات بےحدوحساب ہیں کسی کو جلانا کسی کو مارنا ، کسی کو فقیر بنانا کسی کو مالدار کرنا کسی کو پست کسی کو بلند کرنا اور یہی اس کے شیئون ہیں وہ کسی وقت بھی معطل اور بےکار نہیں ہے آسمان و زمین کی مخلوقات کے سوال کرنے کا مطلب یہ ہے کہ تمام مخلوقات زبان حال یا زبان قال سے اس کی محتاج ہے اور ہر ایک کا حاجت روا اور مشکل کشاوہی ہے۔