Surat ur Rehman

Surah: 55

Verse: 31

سورة الرحمن

سَنَفۡرُغُ لَکُمۡ اَیُّہَ الثَّقَلٰنِ ﴿ۚ۳۱﴾

We will attend to you, O prominent beings.

۔ ( جنوں اور انسانوں کے گروہو! ) عنقریب ہم تمہاری طرف پوری طرح متوجہ ہو جائیں گے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

A Warning for Humans and Jinn Allay says, سَنَفْرُغُ لَكُمْ أَيُّهَا الثَّقَلَنِ We shall attend to you, O Thaqalan! Ibn Jurayj said that the Ayah, سَنَفْرُغُ لَكُمْ (We shall attend to you), means, `We shall judge you,' while Al-Bukhari said that it means, "We shall recompense you. Surely, nothing will busy Allah from attending to anything else." This type of speech pattern is common in the Arabic language. For example, one would say, "I will attend to you," even when one is not busy with anything else. Allah's saying; أَيُّهَا الثَّقَلَن (O you Thaqalan!), refers to the humans and the Jinns, as in the Hadith; يَسْمَعُهَا كُلُّ شَيْءٍ إِلاَّ الثَّقَلَيْن Everyone will be able to hear it, except the Thaqalayn. In another narration that explains it, the Prophet said, إِلاَّ الاِْنْسَ وَالْجِن ...except mankind and the Jinns. Allah said, فَبِأَيِّ الاَء رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ

فارغ ہونے کے یہ معنی نہیں کہ اب وہ کسی مشغولیت میں ہے بلکہ یہ بہ طور تنبیہہ کے فرمایا گیا ہے کہ صرف تمہاری طرف پوری توجہ فرمانے کا زمانہ قریب آگیا ہے اب کھرے کھرے فیصلے ہو جائیں گے اسے کوئی اور چیز مشغول نہ کرے گی بلکہ صرف تمہارا حساب ہی ہو گا ، محاورہ عرب کے مطابق یہ کلام کیا گیا ہے جیسے غصہ کے وقت کوئی کسی سے کہتا ہے اچھا فرصت میں تجھ سے نپٹ لوں گا ، تو یہ معنی نہیں کہ اس وقت مشغول ہوں بلکہ یہ مطلب ہے کہ ایک خاص وقت تجھ سے نمٹنے کا نکالوں گا اور تیری غفلت میں تجھے پکڑ لوں گا ۔ ( ثقلین ) سے مراد انسان اور جن ہیں جیسے ایک حدیث میں ہے اسے سوائے ثقلین کے ہر چیز سنتی ہے اور دوسری حدیث میں ہے سوائے انسانوں اور جنوں کے اور حدیث صور میں صاف ہے کہ ثقلین یعنی جن و انس پھر تم اپنے رب کی نعمتوں میں سے کس کس نعمت کا انکار کر سکتے ہو ؟ اے جنو اور انسانو! تم اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی مقرر کردہ تقدیر سے بھاگ کر بچ نہیں سکتے بلکہ وہ تم سب کو گھیرے میں لئے ہوئے ہے اس کا ہر ہر حکم تم پر بےروک جاری ہے جہاں جاؤ اسی کی سلطنت ہے حقیقتاً یہ میدان محشر میں واقع ہو گا کہ مخلوقات کو ہر طرف سے فرشتے احاطہ کئے ہوئے ہوں گے چاروں جانب ان کی سات سات صفیں ہوں گی کوئی شخص بغیر دلیل کے ادھر سے ادھر نہ ہو سکے گا اور دلیل سوائے امر الہٰی یعنی حکم اللہ کے اور کچھ نہیں انسان اس دن کہے گا کہ بھاگنے کی جگہ کدھر ہے ؟ لیکن جواب ملے گا کہ آج تو رب کے سامنے ہی کھڑا ہونے کی جگہ ہے اور آیت میں ہے ( وَالَّذِيْنَ كَسَبُوا السَّيِّاٰتِ جَزَاۗءُ سَـيِّئَةٍۢ بِمِثْلِهَا ۙ وَتَرْهَقُھُمْ ذِلَّةٌ 27؀ ) 10- یونس:27 ) ، یعنی بدیاں کرنے والوں کو ان کی برائیوں کے مانند سزا ملے گی ان پر ذلت سوار ہو گی اور اللہ کی پکڑ سے پناہ دینے والا کوئی نہ ہو گا ان کے منہ مثل اندھیری رات کے ٹکڑوں کے ہوں گے یہ جہنمی گروہ ہے جو ہمیشہ جہنم میں ہی رہے گا ۔ ( شواظ ) کے معنی آگ کے شعلے جو دھواں ملے ہوئے سبز رنگ کے جھلسا دینے والے ہوں ۔ بعض کہتے ہیں بےدھویں کا آگ کا اوپر کا شعلہ جو اس طرح لپکتا ہے کہ گویا پانی کی موج ہے ( نحاس ) کہتے ہیں دھویں کو ، یہ لفظ نون کے زبر سے بھی آتا ہے لیکن یہاں قرأت نون کے پیش سے ہی ہے ۔ نابغہ کے شعر میں بھی یہ لفظ اسی معنی میں ہے ہاں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ شواظ سے مراد وہ شعلہ ہے جس میں دھواں نہ ہو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی سند میں امیہ بن صلت کا شعر پڑھ کر سنایا ۔ اور نحاس کے معنی آپ نے کئے ہیں محض دھواں جس میں شعلہ نہ ہو اور اس کی شہادت میں بھی ایک عربی شعر نابغہ کا پڑھ کر سنایا ۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں نحاس سے مراد پیتل ہے جو پگھلایا جائے گا اور ان کے سروں پر بہایا جائے گا ۔ بہر صورت مطلب یہ ہے کہ اگر تم قیامت کے دن میدان محشر سے بھاگنا چاہو تو میرے فرشتے اور جہنم کے داروغے تم پر آگ برسا کر دھواں چھوڑ کر تمہارے سر پر پگھلا ہوا پیتل بہا کر تمہیں واپس لوٹا لائیں گے تم نہ ان کا مقابلہ کر سکتے ہو نہ انہیں دفع کر سکتے ہو نہ ان سے انتقام لے سکتے ہو ۔ پس تم اپنے رب کی کس کس نعمت سے انکار کرو گے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

31۔ 1 اس کا مطلب یہ نہیں کہ اللہ کو فراغت نہیں ہے بلکہ یہ محاورۃً بولا گیا ہے جس کا مقصد وعید و تہید ہے (جن و انس کو) اسلئے کہا گیا کہ ان کو تکلیف شرعیہ کا پابند کیا گیا ہے، اس پابندی یا بوجھ سے دوسری مخلوق مستشنٰی ہے

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢٠] ثَقَلاَنِ : ثقل بمعنی بوجھ، وزن، گرانباری اور ثقیل اور ثقال بمعنی بوجھل اور وزنی چیز اور ثقلان بمعنی زمین پر آباد جاندار مخلوق میں سے دو بھاری اور کثیر التعداد جماعتیں۔ دو بڑی انواع جن اور انسان جو مکلف ہیں۔ اور اس کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جنوں اور انسانوں کی اکثریت چونکہ مجرم، اللہ کی نافرمان اور اللہ کی زمین پر بوجھ ہی بنی رہی ہے اس لیے ان جماعتوں کو ثَقَلاَنِ کہا گیا ہے۔ [٢١] اللہ تعالیٰ کا لوگوں سے حساب لینا بھی نعمت ہے :۔ یعنی تمہارا حساب لینے کے لیے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس وقت ہم اتنے مشغول ہیں کہ تمہارا حساب کتاب لینے کی ہمیں فرصت نہیں۔ بلکہ اس کا یہ مطلب ہے کہ ابھی تمہارے حساب کتاب کا وقت نہیں آیا۔ تاہم وہ وقت بھی قریب آرہا ہے جب اس کائنات کا دوسرا دور شروع ہوگا اور وہ دور بھی بس آیا ہی چاہتا ہے۔ اس کی مثال یوں سمجھئے کہ جیسے کسی شخص نے اپنا نظام الاوقات یا ٹائم ٹیبل پہلے سے بنا رکھا ہو اور وہ کہہ دے کہ ابھی فلاں کام کے لیے ہمارے پاس فراغت نہیں اس کی باری ایک گھنٹہ بعد آنے والی ہے اور ان جماعتوں سے حساب لینا پھر انہیں اس کے موافق جزا و سزا دینا بھی اللہ کی بہت بڑی نعمت اور اس کے عدل کا تقاضا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

سَنَفْرُغُ لَکُمْ اَیُّہَا الثَّقَـلٰـنِ :” الثقلین “ ” ثقل “ کی جمع ہے ، بھاری اور وزنی چیز ، مراد زمین پر آباد جاندار مخلوق میں سے دو بھاری اور کثیر التعداد جماعتیں جن و انس ہیں۔ مخلوقات میں سے شرعی احکام کی تکالیف ان دونوں ہی کو دی گئی ہے ، اس لیے انہی کو مخاطب فرمایا ۔ طبری نے کہا علی بن ابی طلحہ کی معتبر سند کے ساتھ ” سھفرع لکم ایۃ الثقلین “ کے بارے میں ابن عباس (رض) کی تفسیر نقل کی ہے :” وعید من اللہ للعباد ولیس باللہ شغل وھو فارغ ‘ ‘ یعنی ” یہ الفظا اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندوں کے لیے وعید ہیں ، ورنہ اللہ تعالیٰ کو دوسرے کسی کام سے روکنے والی کوئی مشغولیت نہیں اور وہ فارغ ہے “۔ امام بخاری نے فرمایا :” سنفرع لکم سنحاسبکم لا یشغلۃ شی عن شی وھو معروف فی کلام العرب یقال لا تفرعن لک وما بہ شغل یقول لا خذنک علی غرتک “ ( بخاری ، التفسیر ، سورة الرحمن ، قبل الحدیث : ٤٨٧٨) یعنی ” سنقرع لکم “ ( ہم جلد ہی تمہارے لیے فارغ ہوں گے) کا مطلب یہ ہے کہ ہم جلد ہی تمہارا حساب لیں گے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی چیز دوسری چیز سے رکاوٹ نہیں بنتی اور یہ کلام عرب میں معروف ہے ۔ کہا جاتا ہے، میں تمہارے لیے فارغ ہوں گا ، حالانکہ اسے کوئی مشغولیت نہیں ہوتی ۔ مطلب یہ ہوتا ہے کہ میں تمہاری غفلت میں تمہیں پکڑوں گا “۔” سنفرغ لکم “ کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ اے جنو اور انسانو ! ہم نے تمہارے لیے ایک نظام الاوقات طے کردیا ہے ، دنیا میں تمہارے پاس عمل کی مہلت ہے ، یہاں ہم ہر لمحے تمہاری ضرورتیں پوری کررہے ہیں ، جو مانگتے ہودے رہے ہیں، بہت جلد ہم اس مرحلے سے فارغ ہوں گے ، پھر قیامت قائم ہوگی اور تمہارے محاسبے کا مرحلہ شروع ہوجائے گا ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

. A Warning for Humans and Jinn سَنَفْرُ‌غُ لَكُمْ أَيُّهَ الثَّقَلَانِ (Soon We are going to spare Ourselves for you [ to reckon your deeds ], 0 two heavy species! ...55:31) The word jam& thaqalan is the dual of thaqal which denotes &burden or load&. Thus the word ath-haqalan [ the dual form ] denotes &the two heavy or weighty things&, and signifies &the men& and &the Jinn& as the context shows. In Arabic, the word thaqal refers to anything the weight or value of which is well-known. It is in this sense that the word has occurred in the following Prophetic Tradition: اِنِّی تَارِکُ فِیکُمُ الثَّقَلَین (Indeed I leave amongst you two weighty and valuable things... which will continue to guide you.) Some versions of the Tradition state that those two weighty and valuable things are: کِتَابُ اللہ وَ عِترَتِی |"Allah&s Book and my family|" and others state: کِتَابُ اللہ وَ سُنَّتِی & Allah&s Book and my normative Sunnah [ practices ] |". The end result of both the versions amount to the same thing because ` itrah refers to both types of family, lineal or spiritual. Therefore, it refers to all the noble Companions (رض) . The end result of the Tradition is that after the Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) there are two things that will serve to guide and set aright the Muslims: [ 1] the Book of Allah; and [ 2] the example of the blessed Companions in all their mutual dealings and transactions. The version that uses ` itrah instead of Sunnah means the teachings of the Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) that reached the Muslims through the noble Companions (رض) . Be that as it may, the word ثَّقَلینِ thaqalain in the Tradition refers to the two weighty and valuable things. From this point of view, Ath-thaqalan, in the current verse, refers to the two species of Allah&s creation, Jinn and human beings, because they are the weightiest and most valuable beings [ possessed of soul ] dwelling on earth. Then the verse says, &Soon We are going to spare Ourselves for you& The verb سَنَفْرُ‌غُ sanafrughu is derived from فَرَاغ faragh, which means to be free from occupation. The antonym of faragh is شُغُل shughl [ to occupy ]. The word faragh informs us of two things: [ 1] that one was occupied with something; and [ 2] now he has become free from that occupation. This type of faragh is common in human beings. However, neither of these senses apply to Allah. He is above them. Surely, nothing will occupy Allah from attending to anything else, nor does He become free or unoccupied like human beings do. Therefore, the verb sanafrughu [ We are going to spare Ourselves to you ] is employed as a metaphor. This metaphorical use of the word is common in human speech. This expression is used to show the importance of some work: &We are now free to attend to you, being fully focused on you&. Anyone who fully focuses attention on any work, idiomatically it is said that &he has no other work or he has nothing else to do&. In a verse preceding this [ 29], it was mentioned that the earthly beings ask for their specific needs, such as sustenance, health and welfare, and comfort; and forgiveness, mercy and Paradise. The celestial beings need Allah&s mercy, grace and forgiveness which surround them all the time. From this point of view, Allah is, every moment, in a state of characteristic manifestation of His Divinity and Divine Attributes. The verse sanafrughu [ We are going to spare Ourselves for you...] indicates that on the Day of Judgment all petitions, their acceptance and acting on them will come to an end. Of all the manifestations, there shall remain only one manifestation and that is taking account of deeds and passing judgment with absolute justice and equity. [ Ruh ]

سَنَفْرُغُ لَكُمْ اَيُّهَا الثَّقَلٰنِ ، ثقلان ثقل کا تثنیہ ہے جس کے معنی وزن اور بوجھ کے ہیں، ثقلان دو بوجھ، مراد اس سے انسان اور جنات ہیں، لفظ ثقل عربی زبان میں ہر ایسی چیز کے لئے بولا جاتا ہے جس کا وزن اور قدر و قیمت معروف ہو، اسی لئے حدیث میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے، انی تارک فیکم الثقلین الخ یعنی میں اپنے بعد دو وزن دار قابل قدر چیزیں چھوڑتا ہوں، جو تمہاری ہدایت و اصلاح کا کام دیتی رہیں گی، ان دونوں چیزوں کا بیان بعض روایات میں کتاب اللہ و عترتی آیا ہے، بعض میں کتاب اللہ و سنتی اور حاصل دونوں کا ایک ہی ہے کیونکہ عترت سے مراد اپنی اولاد ہے جس میں نسبی اور روحانی دونوں قسم کی اولاد شامل ہے، اس لئے مراد سب صحابہ کرام ہوئے اور معنی حدیث کے یہ ہوئے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد دو چیزیں مسلمانوں کی ہدایت و اصلاح کا ذریعہ ہوں گی، ایک اللہ کی کتاب دوسرے آپ کے صحابہ کرام اور معاملات و احکام میں ان کا تعامل اور جس روایت میں عترت کی جگہ سنت آیا ہے، اس کا حاصل یہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تعلیمات جو صحابہ کرام کے واسطے سے مسلمانوں کو پہنچی ہیں۔ بہر حال اس حدیث میں ثقلین سے مراد دو وزن دار قابل قدر چیزیں ہیں، آیت مذکورہ میں جن وانس کی دونوں نوعوں کو ثقلین اسی مفہوم کے اعتبار سے کہا گیا ہے کہ زمین پر بسنے رہنے والی سب ذی روح چیزوں میں جن وانس سب سے زیادہ وزن دار اور قابل قدر ہیں اور سنفرغ، فراغ سے مشتق ہے، جس کے معنی کسی شغل سے فارغ اور خالی ہونے کے ہیں، فراغ کا مقابل لغت میں شغل ہے اور لفظ فراغ دو چیزوں کی خبر دیتا ہے اول یہ کہ کسی شغل میں مشغول تھا، دوسرے یہ کہ اب اس شغل کو ختم کر کے فارغ ہوگیا، یہ دونوں باتیں مخلوقات میں تو معروف و مشہور ہیں، انسان کبھی ایک شغل میں لگا ہوا ہوتا ہے پھر اس سے فارغ ہوجاتا ہے مگر حق تعالیٰ جل شانہ ان دونوں سے بری ہیں، نہ ان کو ایک شغل دوسرے شغل سے مانع ہوتا ہے نہ وہ کبھی اس طرح فارغ ہوتے ہیں جس طرح انسان فارغ ہوا کرتا ہے۔ اس لئے آیت مذکورہ میں سنفرغ کا لفظ ایک تشبیہ و استعارہ کے طور پر لایا گیا ہے جو عام انسانوں میں رائج ہے کہ کسی کام کی اہمیت بتلانے کے لئے کہا جاتا ہے کہ ہم اس کام کے لئے فارغ ہوگئے یعنی اب پوری توجہ اسی کام پر ہے اور جو آدمی کسی کام پر اپنی پوری توجہ خرچ کرتا ہے اس کے لئے محاورہ میں کہا جاتا ہے کہ اس کو تو اس کے سوا کوئی کام نہیں۔ اس سے پہلی آیت میں جو یہ مذکور تھا کہ آسمان و زمین کی ساری مخلوقات اور ان کا ایک ایک فرد حق تعالیٰ سے اپنی حاجات مانگتا رہا ہے اور اللہ تعالیٰ ہر وقت ہر حال میں ان کی درخواست پورا کرنے کے لحاظ سے ایک خاص شان میں ہوتے ہیں، آیت سنفرغ لکم الخ میں یہ بتلایا گیا ہے کہ قیامت کے روز درخواستوں اور ان کے قبول اور ان پر عمل کا سب سلسلہ بند ہوجائے گا اس وقت کام صرف ایک رہ جائے گا اور شیون مختلفہ میں سے صرف ایک شان ہوگی، یعنی حساب و کتاب اور عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ (روح)

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

سَنَفْرُغُ لَكُمْ اَيُّہَ الثَّقَلٰنِ۝ ٣١ ۚ فرغ الفَرَاغُ : خلاف الشّغل، وقد فَرَغَ فَرَاغاً وفُرُوغاً ، وهو فَارِغٌ. قال تعالی: سَنَفْرُغُ لَكُمْ أَيُّهَ الثَّقَلانِ [ الرحمن/ 31] ، وقوله تعالی: وَأَصْبَحَ فُؤادُ أُمِّ مُوسی فارِغاً [ القصص/ 10] ، أي : كأنّما فَرَغَ من لبّها لما تداخلها من الخوف وذلک کما قال الشاعر : كأنّ جؤجؤه هواء «1» وقیل : فَارِغاً من ذكره، أي أنسیناها ذكره حتی سکنت واحتملت أن تلقيه في الیمّ ، وقیل : فَارِغاً ، أي : خالیا إلّا من ذكره، لأنه قال : إِنْ كادَتْ لَتُبْدِي بِهِ لَوْلا أَنْ رَبَطْنا عَلى قَلْبِها [ القصص/ 10] ، ومنه قوله تعالی: فَإِذا فَرَغْتَ فَانْصَبْ [ الشرح/ 7] ، وأَفْرَغْتُ الدّلو : صببت ما فيه، ومنه استعیر : أَفْرِغْ عَلَيْنا صَبْراً [ الأعراف/ 126] ، وذهب دمه فِرْغاً «2» ، أي : مصبوبا . ومعناه : باطلا لم يطلب به، وفرس فَرِيغٌ: واسع العدو كأنّما يُفْرِغُ العدو إِفْرَاغاً ، وضربة فَرِيغَةٌ: واسعة ينصبّ منها الدّم . ( ف ر غ ) الفراغ یہ شغل کی ضد ہے ۔ اور فرغ ( ن ) فروغا خالی ہونا فارغ خالی ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَأَصْبَحَ فُؤادُ أُمِّ مُوسی فارِغاً [ القصص/ 10] اور موسٰی کی ماں کا دل بےصبر ہوگیا ۔ یعنی خوف کی وجہ سے گویا عقل سے خالی ہوچکا تھا جیسا کہ شاعر نے کہا ہے کان جو جو ہ ھواء گویا اس کا سینہ ہوا ہو رہا تھا ۔ اور بعض نے فارغا کے معنی موسیٰ (علیہ السلام) کے خیال سے خالی ہونا کئے ہیں یعنی ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کا خیال ان کے دل سے بھلا دیا حتی کہ وہ مطمئن ہوگئیں اور موسیٰ (علیہ السلام) کو دریامیں ڈال دینا انہوں نے گوارا کرلیا بعض نے فارغا کا معنی اس کی یاد کے سوا باقی چیزوں سے خالی ہونا بھی کئے ہیں ۔ جیسا کہ اس کے بعد کی آیت : ۔ إِنْ كادَتْ لَتُبْدِي بِهِ لَوْلا أَنْ رَبَطْنا عَلى قَلْبِها [ القصص/ 10] اگر ہم ان کے دل کو مضبوط نہ کرتے تو قریب تھا کہ وہ اس قصے کو ظاہر کردیں سے معلوم ہوتا ہے اور اسی سے فرمایا : ۔ فَإِذا فَرَغْتَ فَانْصَبْ [ الشرح/ 7] تو جب فارغ ہوا کرو عبادت میں محنت کیا کروں سَنَفْرُغُ لَكُمْ أَيُّهَ الثَّقَلانِ [ الرحمن/ 31] اے دونوں جماعتوں ہم عنقریب تمہاری طرف متوجہ ہوتے ہیں ۔ اور افرغت الدلو کے معنی ڈول سے پانی بہا کر اسے خالی کردینا کے ہیں چناچہ آیت کریمہ : ۔ أَفْرِغْ عَلَيْنا صَبْراً [ الأعراف/ 126] ہم پر صبر کے دہانے کھول دے بھی اسی سے مستعار ہے ذھب دمہ فرغا اس کا خون رائیگاں گیا ۔ فرس فریغ وسیع قدم اور تیز رفتار گھوڑا گویا وہ دوڑ کر پانی کی طرح بہہ ر ہا ہے ۔ ضربۃ فریغۃ وسیع زخم جس سے خون زور سے بہہ رہا ہو ۔ أيا أَيُّ في الاستخبار موضوع للبحث عن بعض الجنس والنوع وعن تعيينه، ويستعمل ذلک في الخبر والجزاء، نحو : أَيًّا ما تَدْعُوا فَلَهُ الْأَسْماءُ الْحُسْنى [ الإسراء/ 110] ، وأَيَّمَا الْأَجَلَيْنِ قَضَيْتُ فَلا عُدْوانَ عَلَيَّ [ القصص/ 28] ( ا ی ی ) ای ۔ جب استفہام کیلئے ہو تو جنس یا نوع کی تعیین اور تحقیق کے متعلق سوال کے لئے آتا ہے اور یہ خبر اور جزا کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے چناچہ فرمایا :۔ { أَيًّا مَا تَدْعُوا فَلَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى } ( سورة الإسراء 110) جس نام سے اسے پکارا اس کے سب نام اچھے ہیں { أَيَّمَا الْأَجَلَيْنِ قَضَيْتُ فَلَا عُدْوَانَ عَلَيَّ } ( سورة القصص 28) کہ میں جونسی مدت ( چاہو ) پوری کردوں پھر مجھ پر کوئی زیادتی نہ ہو ۔ الثقلان : مادہ ثقل سے مشتق ہے ثقل کے معنی بوجھ کے ہیں۔ اور ثقل اس بوجھ کو کہتے ہیں جو سواری پر لدا ہوا ہو۔ سو ثقلان کا لفظی ترجمہ ہوگا : دو لدے ہوئے بوجھ ۔ دو بھاری چیزیں ۔ دو بوجھل خلقیتں ( مراد جن و انسان) جن اور انسان کو ثقلان اس لئے کہا گیا ہے کہ یہ زمین پر بھاری بوجھ ہیں۔ (2) یا اس لئے کہ گراں قدر وگراں منزلت ہیں (3) یا اس لئے کہ یہی خود تکلیف ترعیہ سے گراں بار ہیں ثقل الثِّقْل والخفّة متقابلان، فکل ما يترجح علی ما يوزن به أو يقدّر به يقال : هو ثَقِيل، وأصله في الأجسام ثم يقال في المعاني، نحو : أَثْقَلَه الغرم والوزر . قال اللہ تعالی: أَمْ تَسْئَلُهُمْ أَجْراً فَهُمْ مِنْ مَغْرَمٍ مُثْقَلُونَ [ الطور/ 40] ، والثقیل في الإنسان يستعمل تارة في الذم، وهو أكثر في التعارف، وتارة في المدح ( ث ق ل ) الثقل یہ خفۃ کی ضد ہے اور اس کے معنی بھاری اور انبار ہونا کے ہیں اور ہر وہ چیز جو وزن یا اندازہ میں دوسری پر بھاری ہو اسے ثقیل کہا جاتا ہے اصل ( وضع ) کے اعتبار سے تو یہ اجسام کے بھاری ہونے پر بولا جاتا ہے لیکن ( مجاز ) معانی کے متعلق بھی استعمال ہوتا ہے چناچہ کہا جاتا ہے : ۔ اسے تادان یا گناہ کے بوجھ نے دبالیا ۔ قرآن میں ہے : ۔ أَمْ تَسْئَلُهُمْ أَجْراً فَهُمْ مِنْ مَغْرَمٍ مُثْقَلُونَ [ الطور/ 40] اے پیغمبر ) کیا تم ان سے صلہ مانگتے ہو کہ ان پر تادان کا بوجھ پڑرہا ہے ، اور عرف میں انسان کے متعلق ثقیل کا لفظ عام طور تو بطور مذمت کے استعمال ہوتا ہے اور کبھی بطور مدح بھی آجاتا ہے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٣١۔ ٣٢) سو اے جن و انس ہم تمہارے دنیاوی کاموں کو محفوظ کرا لیتے ہیں اور عنقریب قیامت میں تم سے ان اعمال پر حساب و کتاب لیں گے سو اے جن و انس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کا انکار کرو گے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣١{ سَنَفْرُغُ لَـکُمْ اَیُّـہَ الثَّقَلٰنِ ۔ } ” ہم جلد ہی فارغ ہوجائیں گے تمہارے لیے ‘ اے دو بھاری قافلو ! “ اس آیت میں اشارۃً اور آگے آیت ٣٣ میں باقاعدہ نام لے کر تثنیہ (تُکَذِّبٰن) کے صیغے کی وضاحت کردی گئی کہ اے جن وانس کے قافلوں کے افراد ! ہم تم سے مخاطب ہیں۔ یاد رکھو ! تم دونوں گروہ اپنے اعمال کے لیے ہمارے سامنے جواب دہ ہو ۔ یاد رکھو ! ہم اس کائنات کو ” مہلت “ کے اصول پر چلا رہے ہیں۔ اس کے لیے ہم نے کائنات کی ایک عمر { اِلٰی اَجَلٍ مُّسَمًّی } مقرر کر رکھی ہے ‘ اسی اصول کے تحت ہر قوم کو بھی ہم ایک وقت معین تک مہلت دیتے ہیں : { لِکُلِّ اُمَّۃٍ اَجَلٌج } (الاعراف : ٣٤) اور ہر فرد کو بھی ۔ چناچہ ہماری عطا کردہ مہلت سے تم یہ مت سمجھو کہ تمہارا احتساب نہیں ہوگا ‘ بلکہ ہم عنقریب تم سب لوگوں کو اپنے حضور حاضر کرنے والے ہیں ‘ جہاں تمہیں اپنے ایک ایک عمل کا حساب دینا ہوگا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

29 Thaqalan is derived from thiql which means a burden, and thaqal is the burden loaded on a conveyance. Thaqalan (dual) therefore would mean: "two loaded burdens". Here this word refers to the jinn and then; who are both loaded on the earth. As the addressees here are those jinn and men who have turned away from the service and obedience of their Lord and Sustainer, they have been addressed as: "0 burdens of the earth," In other words, the Creator is warning these two unworthy groups of His creation, saying; "® you who have become a burden for My earth, I am soon going to take you to task," 30 This dces not mean that AIIah at this time is too busy to call the disobedient servants to account, but it means that AIIah has arranged a special time-table according to which He will first bring into existence generation after generation of the jinn and men in the world till an appointed time, and will provide theist with an opportunity to work in this examination centre of the world; then at a specific Hour the examination will be suddenly brought to a close, and alI the jinn and men living at that time will be given death simultaneously. Then at another time which is preordained with Allah for calling the jinn and men to account, all the former and the latter generations of both the species will be resurrected and mustered at one and the same time. In view of this time-table the two species have been warned, as if to say: `We are yet busy with the work of the first period, and the time for the second period has not yet come, not to speak of embarking on the work of the third period. But you may rest assured. The time is fast approaching when We shall be free to take you to task." This lack of leisure does not mean that AIIah is too occupied with one kind of work to attend to another kind of work. But its nature is analogous to the occupation of a person who has set a time-table for different sorts of the works and in respect of a work whose time has not yet arrived according to the time-table, he may say that he at the moment is not free for it.

سورة الرَّحْمٰن حاشیہ نمبر :29 اصل میں لفظ ثَقَلَان استعمال ہوا ہے جس کا مادہ ثقل ہے ۔ ثقل کے معنی بوجھ کے ہیں ، اور ثَقَل اس بار کو کہتے ہیں جو سواری پر لدا ہوا ہو ۔ ثَقَلین کا لفظی ترجمہ ہو گا دو لدے ہوئے بوجھ ۔ اس جگہ یہ لفظ جن و انس کے لیے استعمال کیا گیا ہے کیونکہ یہ دونوں زمین پر لدے ہوئے ہیں ، اور چونکہ اوپر سے خطاب ان انسانوں اور جنوں سے ہوتا چلا آ رہا ہے جو اپنے رب کی طاعت و بندگی سے منحرف ہیں ، اور آگے بھی آیت 45 تک وہی مخاطب ہیں ، اس لیے ان کو اَیُّھَا الثَّقَلَانِ کہہ کر خطاب فرمایا گیا ہے ، گویا خالق اپنی مخلوق کے ان دونوں نالائق گروہوں سے فرما رہا ہے کہ اے وہ لوگو جو میری زمین پر بار بنے ہوئے ہو ، عنقریب میں تمہاری خبر لینے کے لیے فارغ ہوا جاتا ہوں ۔ سورة الرَّحْمٰن حاشیہ نمبر :30 اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس وقت اللہ تعالیٰ ایسا مشغول ہے کہ اسے ان نافرمانوں سے باز پرس کرنے کی فرصت نہیں ملتی ۔ بلکہ اس کا مطلب دراصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک خاص اوقات نامہ مقرر کر رکھا ہے جس کے مطابق پہلے وہ ایک معین مدت تک اس دنیا میں انسانوں اور جنوں کی نسلوں پر نسلیں پیدا کرتا رہے گا اور انہیں دنیا کی اس امتحان گاہ میں لا کر کام کرنے کا موقع دے گا ۔ پھر ایک مخصوص ساعت میں امتحان کا یہ سلسلہ یک لخت بند کر دیا جائے گا اور تمام جن و انس جو اس وقت موجود ہوں گے بیک وقت ہلاک کر دیے جائیں گے پھر ایک اور ساعت نوع انسانی اور نوع جِن ، دونوں سے باز پرس کرنے کے لیے اس کے ہاں طے شدہ ہے جب ان کے اولین و آخرین کو از سر نو زندہ کر کے بیک وقت جمع کیا جائے گا ۔ اس اوقات نامہ کے لحاظ سے فرمایا گیا ہے کہ ابھی ہم پہلے دور کا کام کر رہے ہیں اور دوسرے دور کا وقت بھی نہیں آیا ہے ، کجا کہ تیسرے دور کا کام اس وقت شروع کر دیا جائے مگر تم گھبراؤ نہیں ، عنقریب وہ وقت آیا چاہتا ہے جب ہم تمہاری خبر لینے کے لیے فارغ ہو جائیں گے ۔ یہ عدم فراغت اس معنی میں نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ایک کام نے ایسا مشغول کر رکھا ہے کہ دوسرے کام کی فرصت وہ نہیں پا رہا ہے ۔ بلکہ اس کی نوعیت ایسی ہے جیسے ایک شخص نے مختلف کاموں کے لیے ایک ٹائم ٹیبل بنا رکھا ہو اور اس کی رو سے جس کام کا وقت ابھی نہیں آیا ہے اس کے بارے میں وہ کہے کہ میں سر دست اس کے لیے فارغ نہیں ہوں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

6: اصل عربی لفظ ثقلان ہے جس کے معنی ہیں دو بھاری چیزیں، اور اس سے مراد جنات اور انسان ہیں، کیونکہ یہی دو مخلوقات ہیں جنہیں اس کائنات میں عقل وشعور کے علاوہ مکلف بننے کی صلاحیت بخشی گئی ہے۔ 7: یہاں فارغ ہونا مجازی معنی میں استعمال ہوا ہے، اور اس کا مطلب یہ ہے کہ ابھی تو اللہ تعالیٰ کائنات کے دوسرے امور انجام دے رہے ہیں اور ابھی حساب لینے کی طرف متوجہ نہیں ہوئے، لیکن وہ وقت عنقریب آنے والا ہے جب اللہ تعالیٰ حساب کی طرف متوجہ ہوں گے۔ واضح رہے کہ آگے آیت نمبر ٤٤ تک دوزخیوں کے عذاب کا تذکرہ ہے، اور اس کے ساتھ بھی یہ فقرہ ہر جگہ فرمایا گیا ہے کہ تم اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمتوں کو جھٹلاؤگے ؟ اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں اس ہولناک انجام کی جو پہلے سے خبر دے رہا ہے وہ بذات خود ایک نعمت ہے اس کو مت جھٹلاؤ، اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو جھٹلانے کا یہ انجام ہونے والا ہے، کیا اس انجام سے باخبر ہونے کے بعد بھی تم نعمتوں کو جھٹلانے کا رویہ جاری رکھوگے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٣١۔ ٣٦۔ اللہ تعالیٰ کی شان تو اس سے بہت عالی اور برتر ہے کہ اس کو کسی کام سے فرصت اور فراغت حاصل کرنے کی ضرورت ہو کیونکہ یہ تو مخلوق کی شان ہے کہ ایک کام سے فارغ ہوں تو دوسرا کام کریں لیکن جس طرح اردو کے محاورہ میں بولا جاتا ہے کہ سو کام چھوڑ کر یہ کام کیا جائے گا حالانکہ ایسے موقع پر نہ سو کام ہوتے ہیں نہ ان کا چھوڑنا حقیقت میں مقصود ہوتا ہے بلکہ جس کام کے کرنے کا ارادہ ظاہر کرکے یہ محاورہ کی بات کہی جاتی ہے اصل میں اس با سے اس کام کا ضروری ہونا جتلایا جاتا ہے اسی طرح قیامت اور اس کے حساب و کتاب اور سزا و جزا کے جو لوگ منکر ہیں ان کی تنبیہ کے لئے عربی کے محاورہ کے طور پر یہ فرمایا ہے کہ جس حساب اور سزا و جزا کے یہ لوگ منکر ہیں ہمارے نزدیک وہ ایسا ایک اہم کام ہے کہ وقت مقررہ پر خاص توجہ سے ہم اس کو کریں گے۔ اب آگے جنات اور انسان کے منکر حشر گروہ کو فرمایا کہ اس حساب و کتاب اور جزا و سزا سے بھاگ کر آسمان و زمین کے کسی کونے میں یہ لوگ جاسکتے ہوں تو چلے جائیں اور حساب و کتاب اور سزا کے مخمصے سے چھوٹ جائیں۔ پھر فرمایا کہ بھلا اللہ کی حکومت اور بادشاہت سے نکل کر کوئی کہاں جاسکتا ہے۔ صحیح ١ ؎ بخاری و مسلم کی ابوہریرہ (رض) کی حدیث اوپر گزر چکی ہے کہ قبروں سے اٹھتے ہی ایک آگ اس طرح کے لوگوں کو چاروں سے سے گھیر کر محشر کے میدان کی طرف لے جائیے گی آگے اسی آگ کے شعلوں اور دھوئیں کا ذکر ہے اور یہ بھی ذکر ہے کہ اس آگ سے بچنے کے لئے ان کی مدد کرکے کوئی ان کو بچا نہیں سکتا اور نہ یہ خود کہیں بھاگ سکتے ہیں۔ قیامت کے دن کی باتوں سے لوگوں کو دنیا میں خبردار کردینا یہ اللہ کا احسان ہے اس لئے ان باتوں کے ذکر کو نعمت فرمایا اور گزر چکا ہے کہ ابوہریرہ (رض) کی اسی حدیث کو بعض علماء نے قبروں کے اٹھنے کے وقت کا حال قرار دیا ہے اور بعض علمانے اس کو علامات قیامت میں شمار کیا ہے۔ ٢ ؎ (١ ؎ صحیح بخاری۔ باب کیف الحشر ص ٩٦٥ ج ٢۔ ) (٢ ؎ صحیح مسلم فصل فی امارات الساعۃ ص ٣٩٣ ج ٢۔ )

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(55:31) سنفرغ لکم : س مستقبل قریب کے لئے ہے نفرغ مضارع جمع متکلم فراغ (باب نصر) مصدر۔ ہم قصد کریں گے۔ ہم فارغ ہوں گے۔ ہم متوجہ ہوں گے۔ (حساب کی طرف) الفراغشغل کی ضد ہے۔ اور فروغا (باب نصر) مصدر بمعنی خالی ہونا ہے۔ فارغ خالی، قرآن مجید میں ہے ۔ فاصبح فؤاد ام موسیٰ فرغا (28:10) اور (حضرت) موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کا دل بےصبر ہوگیا۔ یعنی خوف کی وجہ سے گویا عقل سے خالی ہوچکا تھا۔ اور بعض نے فارغا کا معنی اس کی یاد کے سوا باقی چیزوں سے خالی ہونا بھی کئے ہیں جیسا کہ قرآن مجید میں ہے : فاذا فرغت فانصب (94:7) جب تم (اور کاموں سے) فارغ ہوا کرو تو عبادت میں محنت کیا کرو۔ آیت ہذا کا مطلب ہے کہ :۔ (اے جن و انس) ہم عنقریب (اوقات مقررہ کے مطابق فارغ ہوکر اپنے وقت مقررہ پر تمہاری بازپرس کے لئے) متوجہ ہوا چاہتے ہیں۔ الثقلان : مادہ ثقل سے مشتق ہے ثقل کے معنی بوجھ کے ہیں۔ اور ثقل اس بوجھ کو کہتے ہیں جو سواری پر لدا ہوا ہو۔ سو ثقلان کا لفظی ترجمہ ہوگا : دو لدے ہوئے بوجھ ۔ دو بھاری چیزیں ۔ دو بوجھل خلقیتں (مراد جن و انسان) جن اور انسان کو ثقلان اس لئے کہا گیا ہے کہ یہ زمین پر بھاری بوجھ ہیں۔ (2) یا اس لئے کہ گراں قدر وگراں منزلت ہیں (3) یا اس لئے کہ یہی خود تکلیف ترعیہ سے گراں بار ہیں آیت کا ترجمہ ہوگا :۔ اے جن و انس ہم عنقریب ہی تمہارے (حساب و کتاب کے) فارغ (خالی ) ہوجاتے ہیں۔ (تفسیر مظہری) ۔ عنقریب ہم تم سے باز پرس کرنے کے لئے فارغ ہوئے جاتے ہیں۔ (مودودی)

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 6 اس سے مقصود جنوں اور انسانوں کو متنبہ کرنا ہے کہ تمہارے اعمال کے محاسبہ کا قوت قریب آگیا ہے۔ معلوم ہوا کہ انسانوں کی طرح جنوں کو بھی جزا و سزا ملے گی۔ جمہور علماء اس کے قائل ہیں اور آیت کریمہ و لکل درجات مما عملوا سے اس کی تائید ہوتی ہے۔ 7 یہاں جنوں اور انسانوں کے لئے نقلان کا لفظ اسعتمال ہوا ہے جس کے معنی ہیں ” زمین کے دو بوجھ “ ان کی قدر و منزلت اور وقار کی وجہ سے ان کو ثقلان فرمایا ہے کہ دوسری مخلوق پر ان کا درجہ بھاری ہے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

4۔ یعنی حساب و کتاب لینے والے ہیں، مجازا و مبالغة اس کو خالی ہونے سے تعبیر فرمادیا اور حقیقی معنی اس لئے نہیں ہوسکتے کہ وہ مستلزم ہے اس کو کہ اس کے قبل ایسی مسغول ہو جو مانع ہو، دسری طرف متوجہ ہونے سے، اور یہ ذات باری میں محال ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

سنفرغ ............ تنتصران (5 ٣) فبای الاء ربکما تکذبن (55: ٦٣ (55: ١٣ تا ٦٣) ” اے زمین کے بوجھو ، عنقریب ہم تم سے باز پرس کرنے کے لئے فارغ ہوئے جاتے ہیں۔ (پھر دیکھ لیں گے کہ) تم اپنے رب کے کن کن احسانات کو جھٹلاتے ہو۔ اے گروہ جن وانس اگر تم زمین اور آسمانوں کی سرحدوں سے نکل کر بھاگ سکتے ہو تو بھاگ دیکھو۔ نہیں بھاگ سکتے۔ اس کے لئے بڑا زور چاہئے۔ اپنے رب کی کن کن قدرتوں کو تم جھٹلاؤ گے ؟ (بھاگنے کی کوشش کرو گے تو) تم پر آگ کا شعلہ اور دھواں چھوڑ دیا جائے گا جس کا تم مقابلہ نہ کرسکو گے۔ اے جن وانس ، تم اپنے رب کی کن کن قدرتوں کا انکار کرو گے ؟ “ سنفرغ ............ الثقلن (55: ١٣) (اے زمین کے بوجھو ، عنقریب ہم تم سے باز پرس کرنے کے لئے فارغ ہوجائیں گے) یہ کس قدر ہولناک دھمکی ہے ! کوئی انس اور جن اس کے مقابلے میں کیا ٹھہرے گا۔ اس دھمکی کے مقابلے میں تو پہاڑ اور چٹانیں بھی نہیں ٹھہر سکتیں۔ نہ ستارے اور افلاک ٹھہر سکتے ہیں ! اللہ جل جلالہ ، القوی القادر ، القہار والجبار ، بزرگ و برتر ، دھمکی دے رہا ہے کہ میں تم سے حساب و کتاب لینے والا ہوں اور یہ کس کو انسان اور جن جیسی ضعیف وناتواں مخلوق کو اور دھمکی نہایت ہی غضب اور انتقام کے انداز میں ہے۔ یہ ایک بہت بڑا معاملہ ہے۔ اس دھمکی کو اس طرح مزید خوفناک بنا دیا گیا ہے۔ صرف تصور ہی سے وجود نابود ہوجاتا ہے کیونکہ انسانی وجود تو اس ہی کلمہ سے پردہ عدم سے وجود میں آیا کن فیکون ہوگیا اور ہلاک و بربادی اور نیست ونابود کرنا تو پلک جھپکنے سے بھی کم وقت لگتا ہے۔ اگر احساس ہو تو جن وانس کی حالت کیا ہوگی۔ جب ذوالجلال والاکرام ان کو یہ دھمکی دے رہا ہے غضب وانتقام کی دھمکی !

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

13:۔ ” سنفرغ لکم۔ الایۃ “ یہ تخویف کے لیے تمہید ہے۔ یہ ایک کام سے دوسرے کام میں مشغول ہونے سے کنایہ ہے اور یہاں اس سے محض تہدید مراد ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کو ایک شغل دوسرے شغل سے مانع نہیں ہے۔ یعنی اے جن و انس میں عنقریب ہی تمہیں سزا دینے والا اور تم سے انتقام لینے والا ہوں۔ ” یمعشر الجن۔ الایۃ “ یہ تخویف دنیوی ہے اے جن وانس اگر تم میں یہ قدرت و استطاعت موجود ہے کہ تم موت سے اور میرے عذاب سے بچنے کے لیے زمین و آسمان کی سرحدوں کو پار کر کے کسی محفوظ مقام میں پہنچ جاؤ تو ذرا نکل کر دکھاؤ تو سہی، لیکن یادرکھو ! خدا کے مقابلے میں قوت و شوکت اور قہر و غلبہ کے بغیر تم کہیں نہیں جاسکتے مگر یہ قول و غلبہ تمہیں کہاں سے نصیب ہوگا اس لیے جہاں بھی جاؤ گے خدا کے ملک ہی میں رہو گے اور پکڑے جاؤ گے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(31) اے جن وانس کی دونوں جماعتو ! ہم عنقریب تمہارے حساب و کتاب کے لئے فارغ ہوئے جاتے ہیں فراغت کو یہاں مجازاً اور مبالغتہً فرمایا ہے یہ مطلب نہیں کہ ایک کام چھوڑ کر اور اس سے فارغ ہو کر تمہاری جانب متوجہ ہوتے ہیں کیونکہ یہ قصد اور توجہ تام کے معنی میں ہے اور حضرت حق تعالیٰ کا ہر قصد اور ہر توجہ تام ہی ہے فراغت کے مشہور معنی لینا مستلزم ہے کہ اس سے قبل کا شغل مانع عن التوجہ تھا حالانکہ ذات باری تعالیٰ میں یہ معنی محال ہیں اس لئے یہاں محض مبالغہ اور مجاز کے طور پر فرمایا سنفرغ ثقلان سے مراد جن وانس ہیں۔ اس آیت میں اطلاع دینا ہے عالم آخرت کے حساب وکتاب وغیرہ کی اور حضرت حق تعالیٰ کا احسان ہے۔