Surat ur Rehman

Surah: 55

Verse: 37

سورة الرحمن

فَاِذَا انۡشَقَّتِ السَّمَآءُ فَکَانَتۡ وَرۡدَۃً کَالدِّہَانِ ﴿ۚ۳۷﴾

And when the heaven is split open and becomes rose-colored like oil -

پس جب کہ آسمان پھٹ کر سرخ ہو جائے جیسے کہ سرخ چمڑہ ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Horrors of the Day of Resurrection Allah said, فَإِذَا انشَقَّتِ السَّمَاء ... Then when the heaven is rent asunder, on the Day of Resurrection; this meaning is clear in this and similar Ayat, such as, وَانشَقَّتِ السَّمَأءُ فَهِىَ يَوْمَيِذٍ وَاهِيَةٌ And the heaven will be rent asunder, for that Day it (the heaven) will be frail and torn up. (69:16), وَيَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَأءُ بِالْغَمَـمِ وَنُزِّلَ الْمَلَـيِكَةُ تَنزِيلً And (remember) the Day when the heaven shall be rent asunder with clouds, and the angels will be sent down, with a grand descending. (25:25) and, إِذَا السَّمَأءُ انشَقَّتْ وَأَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَحُقَّتْ When the heaven is split asunder, and listens to and obeys its Lord -- and it must do so. (84:1-2) Allah's statement, ... فَكَانَتْ وَرْدَةً كَالدِّهَانِ and it becomes Wardah like Dihan. This means they will melt just as sediment and silver are melted when heated. And they will be colored, just as dies stain something, sometimes red, sometimes yellow, or blue, or green. This demonstrates the extent of the horrors of the Mighty Day of Resurrection. As-Suddi said, "It will be as rosy color and as filth oil." Mujahid said, كَالدِّهَانِ (like Dihan), "Like the colors of dyes." فَبِأَيِّ الاَء رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ

آسمان پھٹ جائے گا وقت احتساب ہو گا آسمان کا پھٹ جانا اور آیتوں میں بھی بیان ہوا ہے ۔ ارشاد ہے آیت ( وَانْشَقَّتِ السَّمَاۗءُ فَھِيَ يَوْمَىِٕذٍ وَّاهِيَةٌ 16؀ۙ ) 69- الحاقة:16 ) ایک اور جگہ ہے آیت ( وَيَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَاۗءُ بِالْغَمَامِ وَنُزِّلَ الْمَلٰۗىِٕكَةُ تَنْزِيْلًا 25؀ ) 25- الفرقان:25 ) ، اور فرمان ہے آیت ( اِذَا السَّمَاۗءُ انْشَقَّتْ Ǻ۝ۙ ) 84- الانشقاق:1 ) ، وغیرہ ۔ جس طرح چاندی وغیرہ پگھلائی جاتی ہے یہی حالت آسمان کی ہو جائے گی رنگ پر رنگ بدلے گا کیونکہ قیامت کی ہولناکی اس کی شدت و دہشت ہے ہی ایسی ۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے لوگ قیامت کے دن اٹھائے جائیں گے اور آسمان ان پر ہلکی بارش کی طرح برستا ہو گا ابن عباس فرماتے ہیں سرخ چمڑے کی طرح ہو جائے گا ۔ ایک روایت میں گلابی رنگ گھوڑے کے رنگ جیسا آسمان کا رنگ ہو جائے گا ۔ ابو صالح فرماتے ہیں پہلے گلابی رنگ ہو گا پھر سرخ ہو جائے گا ۔ گلابی رنگ گھوڑے کا رنگ موسم بہار میں تو زردی مائل نظر آتا ہے اور جاڑے میں بدل کر سرخ جچتا ہے جوں جوں سردی بڑھتی ہے اس کا رنگ متغیر ہوتا جاتا ہے ۔ اسی طرح آسمان بھی رنگ پر رنگ بدلے گا پگھلے ہوئے تانبے کی طرح ہو جائے گا ۔ جیسے روغن گلاب کا رنگ ہوتا ہے اس رنگ کا آسمان ہو جائے گا آج وہ سبز رنگ ہے لیکن اس دن اس کا رنگ سرخی لئے ہوئے ہو گا زیتون کی تلچھٹ جیسا ہو جائے گا ۔ جہنم کی آگ تپش اسے پگھلا کر تیل جیسا کر دے گی ۔ اس دن کسی مجرم سے اس کا جرم نہ پوچھا جائے گا جیسے ایک اور آیت میں ہے ( هٰذَا يَوْمُ لَا يَنْطِقُوْنَ 35؀ۙ ) 77- المرسلات:35 ) ، یہ وہ دن ہے کہ بات نہ کریں گے نہ انہیں اجازت دی جائے گی کہ وہ عذر معذرت کریں ۔ ہاں اور آیات میں ان کا بولنا عذر کرنا ان سے حساب لیا جانا وغیرہ بھی بیان ہوا ہے فرمان ہے آیت ( فَوَرَبِّكَ لَنَسْــَٔـلَنَّهُمْ اَجْمَعِيْنَ 92۝ۙ ) 15- الحجر:92 ) تیرے رب کی قسم ہم سب سے سوال کریں گے اور ان کے تمام کاموں کی پرسش کریں گے ۔ تو مطلب یہ ہے کہ ایک موقعہ پر یہ ہے پرسش ہوئی حساب کتاب ہوا عذر معذرت ختم کر دی گئی اب منہ پر مہر لگ گئی ہاتھ پاؤں اور اعضاء جسم نے گواہی دی پھر پوچھ گچھ کی ضرورت نہ رہی عذر معذرت توڑ دی گئی ۔ اور یہ تطبیق بھی ہے کہ کسی سے نہ پوچھا جائے گا کہ فلاں عمل کیا ؟ یا نہیں کیا ؟ کیونکہ اللہ کو جو خوب معلوم ہے اس سے جو سوال ہو گا وہ یہ کہ ایسا کیوں کیا ؟ تیسرا قول یہ ہے کہ فرشتے پوچھیں گے نہیں وہ تو چہرہ دیکھتے ہی پہچان لیں گے اور جہنمی کو زنجیروں میں باندھ کر اوندھے گھسیٹ کر جہنم واصل کر دیں گے جیسے اس کے بعد ہی فرمایا کہ یہ گنہگار اپنے چہروں اور اپنی خاص علامتوں سے پہچان لئے جائیں گے چہرے سیاہ ہوں گے آنکھیں کیری ہوں گی ٹھیک اسی طرح مومنوں کے چہرے بھی الگ ممتاز ہوں گے ۔ ان کے اعضائے وضو چاند کی طرح چمک رہے ہوں گے ۔ گنہگاروں کو پیشانیوں اور قدموں سے پکڑا جائے گا اور جہنم میں ڈال دیا جائے گا جس طرح بڑی لکڑی کو دو طرف سے پکڑ کر تنور میں جھونک دیا جاتا ہے پیٹھ کی طرف زنجیر لا کر گردن اور پاؤں ایک کر کے باندھ دیے جائیں گے ۔ کمر توڑ دی جائے گی اور قدم اور پیشانی ملا دیجائے گی اور جکڑ دیا جائے گا ۔ مسند احمد میں ہے قبیلہ بنو کندہ کا ایک شخص مائی عائشہ کے پاس گیا ۔ پردے کے پیچھے بیٹھا اور ام المومنین سے سوال کیا کہ کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی سنا ہے کہ کسی وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی شخص کی شفاعت کا اختیار نہ ہو گا ؟ ام المومنین نے جواب دیا ہاں ایک مرتبہ ایک ہی کپڑے میں ہم دونوں تھے میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی سوال کیا تو آپ نے فرمایا ہاں جب کہ پل صراط رکھا جائے گا اس وقت مجھے کسی کی شفاعت کا اختیار نہ ہو گا یہاں تک کہ میں جان لوں کہ خود مجھے کہاں لے جاتے ہیں ؟ اور جس وقت کہ چہرے سفید ہونے شروع ہوں گے یہاں تک کہ میں دیکھ لوں کہ میرے ساتھ کیا کیا جاتا ہے ؟ یا فرمایا یہاں تک کہ میں دیکھ لوں کہ مجھ پر کیا وحی بھیجی جاتی ہے ؟ اور جب جہنم پر پل رکھا جائیگا اور اسے تیز اور گرم کیا جائے گا میں نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تیزی اور گرمی کی کیا حد ہے ؟ فرمایا تلوار کی دھار جیسا تیز ہو گا اور آگ کے انگارے جیسا گرم ہو گا مومن تو بےضرر گذر جائے گا اور منافق لٹک جائے گا جب بیچ میں پہنچے گا اس کے قدم پھسل جائیں گے یہ اپنے ہاتھ اپنے پیروں کی طرف جھکائے گا جس طرح کوئی ننگے پاؤں چل رہا ہو اور اسے کانٹا لگ جائے اور اس زور کا لگے کہ گویا کہ اس نے اس کا پاؤں چھید دیا تو کس طرح بےصبری اور جلدی سے وہ سر اور ہاتھ جھکا کر اس کی طرف جھک پڑتا ہے اسی طرح یہ جھکے گا ادھر یہ جھکا ادھر داروغہ جہنم کی آگ میں گرا دے گا جس میں تقریباً پچاس پچاس سال تک وہ گہرا اترتا جائے گا ، میں نے پوچھا حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ جہنمی کس قدر بوجھل ہو گا آپ نے فرمایا مثل دس گابھن اونٹنیوں کے وزن کے پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت کی یہ حدیث غریب ہے اور اس کے بعض فقروں کا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام سے ہونا منکر ہے اور اس کی اسناد میں ایک شخص ہے جس کا نام بھی نیچے راوی نے نہیں لیا ۔ اس جیسی دلیلیں صحت کے قابل نہیں ہوتیں ، واللہ اعلم ۔ ان گنہگاروں سے کہا جائے گا کہ لو جس جہنم کا تم انکار کرتے تھے اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ لو یہ انہیں بطور رسوا اور ذلیل کرنے شرمندہ اور نادم کرنے ان کی خفت بڑھانے کے لئے کہا جائے گا پھر ان کی یہ حالت ہو گی کہ کبھی آگ کا عذاب ہو رہا ہے کبھی پانی کا ۔ کبھی جحیم میں جلائے جاتے ہیں اور کبھی حمیم پلائے جاتے ہیں ۔ جو پگھلے ہوئے تانبے کی طرح محض آگ ہے جو آنتوں کو کاٹ دیتی ہے اور جگہ ہے آیت ( اِذِ الْاَغْلٰلُ فِيْٓ اَعْنَاقِهِمْ وَالسَّلٰسِلُ ۭ يُسْحَبُوْنَ 71؀ۙ ) 40-غافر:71 ) ، جب کہ ان کی گردنوں میں طوق ہوں گے اور پاؤں میں بیڑیاں ہوں گی وہ حمیم سے جحیم میں گھسیٹے جائیں گے اور بار بار یہ جلائے جائیں گے ۔ یہ گرم پانی حد درجہ کا گرم ہو گا بس یوں کہنا ٹھیک ہے کہ وہ بھی جہنم کی آگ ہی ہے جو پانی کی صورت میں ہے ۔ حضرت قتادہ فرماتے ہیں آسمان و زمین کی ابتدائی پیدائش کے وقت سے آج تک وہ گرم کیا جا رہا ہے ۔ محمد بن کعب فرماتے ہیں بدکار شخص کی پیشانی کے بال پکڑ کر اسے اس گرم پانی میں ایک غوطہ دیا جائے گا تمام گوشت گل جائے گا اور ہڈیوں کو چھوڑ دے گا ۔ بس دو آنکھیں اور ہڈیوں کا ڈھانچہ رہ جائے گا اسی کو فرمایا آیت ( فِي الْحَمِيْمِ ڏ ثُمَّ فِي النَّارِ يُسْجَرُوْنَ 72؀ۚ ) 40-غافر:72 ) ان کے معنی حاضر کے بھی کئے گئے ہیں اور آیت میں ہے ( تُسْقٰى مِنْ عَيْنٍ اٰنِيَةٍ Ĉ۝ۭ ) 88- الغاشية:5 ) سخت گرم موجود پانی کی نہر سے انہیں پانی پلایا جائے گا جو ہرگز نہ پی سکیں گے کیونکہ وہ بے انتہا گرم بلکہ مثل آگ کے ہے ۔ قرآن کریم میں اور جگہ ہے آیت ( غَيْرَ نٰظِرِيْنَ اِنٰىهُ 53؀ ) 33- الأحزاب:53 ) وہاں مراد تیاری اور پک جانا ہے ۔ چونکہ بدکاروں کی سزا اور نیک کاروں کی جزا بھی اس کا فضل و رحمت اور عدل و لطف ہے اپنے ان عذابوں کا قبل از وقت بیان کر دینا تاکہ شرک و معاصی کے کرنے والے ہوشیار ہو جائیں یہ بھی اس کی نعمت ہے اس لئے فرمایا پھر تم اے جن و انس اپنے رب کی کون کون سی نعمت کا انکار کرو گے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

37۔ 1 قیامت والے دن آسمان پھٹ پڑے گا، فرشتے زمین پر اتر آئیں گے، اس دن یہ نار جہنم کی شدت حرارت سے پگھل کر سرخ چمڑے کی طرح ہوجائے گا۔ دِھَان سرخ چمڑا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢٧] پہلے وردۃ کا لفظ استعمال فرمایا۔ ورد بمعنی گلاب کا پھول اور وَرْدَۃً بمعنی گلابی رنگ دِھَانٌ بمعنی تیل کی سرخی مائل تلچھٹ یعنی جس دن آسمان پھٹے گا اس دن تمام سیاروں کا نظام درہم برہم ہوجائے گا اور جو شخص آسمان کی طرف نظر دوڑائے گا اسے یوں معلوم ہوگا کہ عالم بالا میں ہر طرف ایک آگ سی لگی ہوئی ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

فَاِذَا انْشَقَّتِ السَّمَآئُ ۔۔۔۔۔۔” وردۃ “ گلاب کے پھول کی طرح گلابی۔۔۔۔ ” الدھان “ میں علماء کے دو قول ہیں ، ایک سرخ چمڑا اور دوسرا ” تیل “ جو ملا جاتا ہے۔ اس معنی میں بعض کہتے ہیں : ” الدھان “ ”’ ھن “ کی جمع ہے اور بعض کہتے ہیں مفرد ہے ۔ تیل کو ” دھن “ بھی کہتے ہیں اور ” دھان “ بھی ۔ ” فاذا انشقت السمائ “ کی تفسیر کے لیے دیکھئے سورة ٔ حاقہ (١٦) ، فرقان (٢٥) اور سورة ٔ انشقاق (١، ٢) اگر ” الدھان “ کا معنی سرخ چمڑا کریں تو اس وقت آیت میں آسمان کے ایک وصف کا بیان ہے کہ آسمان جو آج نیلگوں ہے اس وقت سرخ چمڑے کی طرح لال گلابی ہوجائے گا اور اگر ” الدھان “ کا معنی تیل کیا جائے تو آیت میں آسمان کے پھٹنے کے وقت اس کے دو صفوں کا بیان ہوگا ، ایک یہ کہ وہ حرارت کی شدت سے سرخ ہوگا اور دوسرا یہ کہ پگھل کر تیل کی طرح ہوجائے گا ، جیسا کہ فرمایا :(یَوْمَ تَکُوْنُ السَّمَآئُ کَالْمُھْلِ ) ( المعارج : ٨) ” جس دن آسمان پگھلے ہوئے تانبے ( یا تلچھٹ) کی طرح ہوجائے گا “۔ ( شنقیطی)

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

فَاِذَا انْشَقَّتِ السَّمَاۗءُ فَكَانَتْ وَرْدَۃً كَالدِّہَانِ۝ ٣٧ ۚ إذا إذا يعبّر به عن کلّ زمان مستقبل، وقد يضمّن معنی الشرط فيجزم به، وذلک في الشعر أكثر، و «إذ» يعبر به عن الزمان الماضي، ولا يجازی به إلا إذا ضمّ إليه «ما» نحو : 11-إذ ما أتيت علی الرّسول فقل له ( اذ ا ) اذ ا ۔ ( ظرف زماں ) زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے کبھی جب اس میں شرطیت کا مفہوم پایا جاتا ہے تو فعل مضارع کو جزم دیتا ہے اور یہ عام طور پر نظم میں آتا ہے اور اذ ( ظرف ) ماضی کیلئے آتا ہے اور جب ما کے ساتھ مرکب ہو ( اذما) تو معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے جیسا کہ شاعر نے کہا ع (11) اذمااتیت علی الرسول فقل لہ جب تو رسول اللہ کے پاس جائے تو ان سے کہنا ۔ شق الشَّقُّ : الخرم الواقع في الشیء . يقال : شَقَقْتُهُ بنصفین . قال تعالی: ثُمَّ شَقَقْنَا الْأَرْضَ شَقًّا[ عبس/ 26] ، يَوْمَ تَشَقَّقُ الْأَرْضُ عَنْهُمْ سِراعاً [ ق/ 44] ، وَانْشَقَّتِ السَّماءُ [ الحاقة/ 16] ، إِذَا السَّماءُ انْشَقَّتْ [ الانشقاق/ 1] ، وَانْشَقَّ الْقَمَرُ [ القمر/ 1] ، وقیل : انْشِقَاقُهُ في زمن النّبيّ عليه الصلاة والسلام، وقیل : هو انْشِقَاقٌ يعرض فيه حين تقرب القیامة وقیل معناه : وضح الأمروالشِّقَّةُ : القطعة الْمُنْشَقَّةُ کالنّصف، ومنه قيل : طار فلان من الغضب شِقَاقًا، وطارت منهم شِقَّةٌ ، کقولک : قطع غضبا والشِّقُّ : الْمَشَقَّةُ والانکسار الذي يلحق النّفس والبدن، وذلک کاستعارة الانکسار لها . قال عزّ وجلّ : لَمْ تَكُونُوا بالِغِيهِ إِلَّا بِشِقِّ الْأَنْفُسِ [ النحل/ 7] ، والشُّقَّةُ : النّاحية التي تلحقک المشقّة في الوصول إليها، وقال : بَعُدَتْ عَلَيْهِمُ الشُّقَّةُ [ التوبة/ 42] ، ( ش ق ق ) الشق الشق ۔ شگاف کو کہتے ہیں ۔ شققتہ بنصفین میں نے اسے برابر دو ٹکڑوں میں کاٹ ڈالا ۔ قرآن میں ہے : ثُمَّ شَقَقْنَا الْأَرْضَ شَقًّا[ عبس/ 26] پھر ہم نے زمین کو چیرا پھاڑا ۔ يَوْمَ تَشَقَّقُ الْأَرْضُ عَنْهُمْ سِراعاً [ ق/ 44] اس روز زمین ( ان سے ) پھٹ جائے گی ۔ وَانْشَقَّتِ السَّماءُ [ الحاقة/ 16] اور آسمان پھٹ جائے گا ۔ إِذَا السَّماءُ انْشَقَّتْ [ الانشقاق/ 1] جب آسمان پھٹ جائیگا ۔ اور آیت کریمہ : وَانْشَقَّ الْقَمَرُ [ القمر/ 1] اور چاند شق ہوگیا ۔ میں بعض نے کہا ہے کہ انشقاق قمر آنحضرت کے زمانہ میں ہوچکا ہے ۔ اور بعض کا قول ہے کہ یہ قیامت کے قریب ظاہر ہوگا اور بعض نے انشق القمر کے معنی وضح الاسر کئے ہیں یعنی معاملہ واضح ہوگیا ۔ الشقۃ پھاڑا ہوا ٹکڑا ۔ اسی سے محاورہ ہے ۔ طار فلان من الغضب شقاقا فلاں غصہ سے پھٹ گیا ۔ جیسا کہ قطع غضبا کا محاورہ ہے ۔ طارت منھم شقۃ ۔ ان کا ایک حصہ اڑ گیا ۔ یعنی غضب ناک ہوئے ۔ الشق اس مشقت کو کہتے ہیں جو تگ و دو سے بدن یا نفس کو ناحق ہوتی ہے جیسا کہ الانکسار کا لفظ بطور استعارہ نفس کی درماندگی کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : إِلَّا بِشِقِّ الْأَنْفُسِ [ النحل/ 7] زحمت شاقہ کے بغیر الشقۃ وہ منزل مقصود جس تک بہ مشقت پہنچا جائے ۔ قرآن میں ہے َبَعُدَتْ عَلَيْهِمُ الشُّقَّةُ [ التوبة/ 42] لیکن مسافت ان کو دور ( دراز ) نظر آئی ۔ وَرْدُة : قيل : هو من الوارِدِ ، وهو الذي يتقدم إلى الماء، وتسمیته بذلک لکونه أوّل ما يَرِدُ من ثمار السّنة، ويقال لنَوْرِ كلِّ شجرٍ : وَرْدٌ ، ويقال : وَرَّدَ الشّجرُ : خرج نَوْرُهُ ، وشبّه به لون الفرس، فقیل : فرسٌ وَرْدٌ ، وقیل في صفة السماء إذا احمرّت احمراراً کالوَرْدِ أمارةً للقیامة . قال تعالی: فَكانَتْ وَرْدَةً كَالدِّهانِ [ الرحمن/ 37] . الودر اصل میں گل سرخ کو کہتے ہیں اور یہ وارد سے ہے جس کے معنی قافلے سے پہلے پانی پر آنے والا کے ہیں مشہور ہے کہ گلاب کا پھول تمام پھولوں سے پہلے ظاہر ہوتا ہے اس لئے اسے قرد کہا جاتا ہے پھر ہر در خت کے پھول کو مجازا ورد کہہ دیتے ہیں چناچہ در خت کے پھولدار ہونے پر درد الشجرۃ بولا جاتا ہے پھر گھوڑے کے رنگ کو بھی گل سرخ کے ساتھ تشبیہ دے کر فرس ورد کہاجاتا ہے ۔ اور آثار قیامت کے طور پر جب آسمان سرخ ہوجائیگا تو اسے بھی قرآن نے وردۃ کہا ہے ۔ چناچہ ارشاد ہے : ۔ فَكانَتْ وَرْدَةً كَالدِّهانِ [ الرحمن/ 37] تلچھٹ کی طرح گلابی ہوجائے گا ( تو کیسا ہولناک دن ہوگا ) دهن قال تعالی: تَنْبُتُ بِالدُّهْنِ [ المؤمنون/ 20] ، وجمع الدّهن أدهان . وقوله تعالی: فَكانَتْ وَرْدَةً كَالدِّهانِ [ الرحمن/ 37] ، قيل : هو درديّ الزّيت، والمُدْهُن : ما يجعل فيه الدّهن، وهو أحد ما جاء علی مفعل من الآلة وقیل للمکان الذي يستقرّ فيه ماء قلیل : مُدْهُن، تشبيها بذلک، ومن لفظ الدّهن استعیر الدَّهِين للناقة القلیلة اللّبن، وهي فعیل في معنی فاعل، أي : تعطي بقدر ما تدهن به . وقیل : بمعنی مفعول، كأنه مَدْهُون باللبن . أي : كأنها دُهِنَتْ باللبن لقلّته، والثاني أقرب من حيث لم يدخل فيه الهاء، ودَهَنَ المطر الأرض : بلّها بللا يسيرا، کالدّهن الذي يدهن به الرّأس، ودَهَنَهُ بالعصا : كناية عن الضّرب علی سبیل التّهكّم، کقولهم : مسحته بالسّيف، وحيّيته بالرّمح . والإِدْهَانُ في الأصل مثل التّدهين، لکن جعل عبارة عن المداراة والملاینة، وترک الجدّ ، كما جعل التّقرید وهو نزع القراد عن البعیر عبارة عن ذلك، قال : أَفَبِهذَا الْحَدِيثِ أَنْتُمْ مُدْهِنُونَ [ الواقعة/ 81] ، قال الشاعر : الحزم والقوّة خير من ال إدهان والفکّة والهاع وداهنت فلانا مداهنة، قال : وَدُّوا لَوْ تُدْهِنُ فَيُدْهِنُونَ [ القلم/ 9] . ( د ھ ن ) الدھن ۔ تیل ۔ چکنا ہٹ ج ادھان قرآن میں ہے : ۔ تَنْبُتُ بِالدُّهْنِ [ المؤمنون/ 20] جو روغن لئے ہوئے اگتا ہے : ۔ اور آیت کریمہ : ۔ فَكانَتْ وَرْدَةً كَالدِّهانِ [ الرحمن/ 37] پھر ۔۔۔۔ تیل کی تلچھٹ کیطرح گلابی ہوجائیگا ۔ میں بعض نے کہا ہے کہپ دھان کے معنی تلچھٹ کے ہیں المدھن ۔ ہر وہ برتن جس میں تیل ڈالا جائے ۔ یہ اسم آلہ کے منجملہ ان اوزان کے ہے جو ( بطور شواز ) مفعل کے وزن پر آتے ہیں اور بطور تشبیہ ( پہاڑ میں ) اس مقام ( چھوٹے سے گڑھے ) کو بھی مدھن کہا جاتا ہے جہاں تھوڑا سا پانی ٹھہر جاتا ہو اور دھن سے بطور استعارہ کم دودھ والی اونٹنی کو دھین کہا جاتا ہے اور یہ فعیل بمنعی فاعل کے وزن پر ہے یعنی وہ بقدر دہن کے دودھ دیتی ہے بعض نے کہا ہے کہ یہ فعیل بمعنی مفعول ہے ۔ گویا اسے دودھ کا دھن لگایا گیا ہے ۔ یہ بھی دودھ کے کم ہونے کی طرف اشارہ ہے ۔ یہ دوسرا قول الی الصحت معلوم ہوتا ہے ۔ کیونکہ اس کے آخر میں ہ تانیث نہیں آتی ۔ ( جو فعیل بمنعی مفعول ہونیکی دلیل ہی دھن المطر الارض ۔ بارش نے زمین کو ہلکا سنم کردیا جیسا کہ سر پر تیل ملا جاتا ہے ۔ دھنۃ بالعصا ر ( کنایۃ ) لاٹھی سے اس کی تواضع کی ۔ یہ بطور تہکم کے بولا جاتا ہے جیسا کہ مسحۃ ہ بالسیف وحیتہ بالروح کا محاورہ ہے ۔ الادھان ۔ یہ اصل میں تذھین کی طرح ہے ۔ لیکن یہ تصنع ، نرمی برتنے اور حقیقت کا دامن ترک کردینے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے جیسا کہ تقدیر کا لفظ جس کے اصل معنی اونٹ سے چیچڑ دور کر نا کے ہیں پھر تصنع اور نرمی برتنا کے معنی میں استعمال ہونے لگا ۔ قرآن میں ہے : ۔ أَفَبِهذَا الْحَدِيثِ أَنْتُمْ مُدْهِنُونَ [ الواقعة/ 81] کیا تم اسی کتاب سے انکار کرتے ہو ؟ شاعر نے کہا ہے : ۔ کہ حزم و احتیاط اور قوت چاپلوسی اور جزع فزع سے بہتر ہیں ۔ میں نے فلاں کے سامنے چاپلوسی کی ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَدُّوا لَوْ تُدْهِنُ فَيُدْهِنُونَ [ القلم/ 9] کہ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ تم مداہنت سے کام لو یہ بھی نرم ہوجائیں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

آسمان کا سرخ ہونا قول باری ہے (فاذا انشقت السمآء فکانت وردۃ کالدھان، پس جب آسمان پھٹ جائے گا اور وہ لال چمڑے کی طرح سرخ ہوجائے گا) روایت ہے آسمان سرخ ہوکر روغن کی طرح پگھل جائے گا۔ ایک روایت کے مطابق آسمان دنیا لوہے کا ہے جب قیامت کا دن ہوگا تو اس کا نیلا رنگ جہنم کی آگ کی گرمی کی وجہ سے سرخ رنگ میں تبدیل ہوجائے گا جس طرح لوہے کو آگ پر تپانے کی صورت میں اس کا رنگ سرخ ہوجاتا ہے۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٣٧۔ ٣٨) جس روز فرشتوں کے کثرت نزول کے ساتھ اور اللہ تعالیٰ کی ہیبت و جلال سے آسمان پھٹ جائے گا اور ایسا سرخ ہوجائے گا جیسا کہ تیل ہوتا ہے یا یہ کہ جیسا کہ گلاب کا پھول ہوتا ہے یا ایسا سرخ ہوجائے گا جیسا کہ سرخ نری یعنی سیاہی مائل چمڑا۔ سو اے جن و انس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کا انکار کرو گے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣٧{ فَاِذَا انْشَقَّتِ السَّمَآئُ فَکَانَتْ وَرْدَۃً کَالدِّہَانِ ۔ } ” پھر جب آسمان پھٹ جائے گا اور ہوجائے گا گلابی ‘ تیل کی تلچھٹ جیسا۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

34 This refers to the Day of Resurrection. Bursting of the heavens implies loosening of the discipline of the heavens, scattering of the celestial bodies, upsetting of the system of the heavens. And the meaning of `reddening like red leather" is that during that great upheaval anyone who looks up towards the sky, will feel as though the entire heavens were on fire.

سورة الرَّحْمٰن حاشیہ نمبر :34 یہ روز قیامت کا ذکر ہے ۔ آسمان کے پھٹنے سے مراد ہے بندش افلاک کا کھل جانا ، اجرام سماوی کا منتشر ہو جانا ، عالم بالا کے نظم کا درہم برہم ہو جانا ۔ اور یہ جو فرمایا کہ آسمان اس لال چمڑے کی طرح سرخ ہو جائے گا ، اس کا مطلب یہ ہے کہ اس ہنگامہ عظیم کے وقت جو شخص زمین سے آسمان کی طرف دیکھے گا اسے یوں محسوس ہو گا کہ جیسے سارے عالم بالا پر ایک آگ سی لگی ہوئی ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٣٧۔ ٤٥۔ پہلے صور سے جب ساری دنیا اجڑے گی ایک دفعہ تو آسمان اس وقت پھٹے گا اور پھر حشر کے لئے دوسرا صور پھونکا جائے گا جس کی آواز سے سب لوگ قبروں سے اٹھیں گے اس وقت نیا آسمان پھٹے گا اور اس میں دروازے ہوجائیں گے جن دروازوں سے حشر کے انتظام کے فرشتے زمین پر اتریں گے۔ ان آیتوں میں آسمان کی اسی دوسری حالت کا ذکر ہے کیونکہ اس کے بعد مجرموں کے دوزخ میں ڈالے جانے کا حال ہے جو دوسرے صور کے بعد ہوگا حضرت عبد اللہ بن مسعود (رض) کی صحیح ١ ؎ مسلم اور ترمذی کی حدیث اوپر گزر چکی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ستر ہزار نکیلیں لگا کر دوزخ کو محشر کے میدان میں لایا جائے گا اس وقت کی دوزخ کی لپٹ سے آسمان کا طرح طرح کا رنگ بدلے گا اسی کا ذکر ان آیتوں میں ہے کہ کبھی آسمان کا رنگ گلابی ہوجائے گا اور کبھی سرخ۔ صحیح ٢ ؎ مسلم کی انس بن مالک کی حدیث اوپر گزر چکی ہے کہ جو گناہ گار اپنے گناہوں کا انکار کریں گے تو ان کے منہ پر مہر لگا کر ان کو گونگا کردیا جائے گا اور ان کے ہاتھ پیروں سے ان کے گناہوں کی گواہی ادا کرائی جائے گی اس گواہی کے بعد ان گونگوں سے پھر کچھ نہ پوچھا جائے گا بلکہ ان کے سیاہ چہرے اور کرنجی آنکھوں کی نشانی سے فرشتے ان کو پہچان لیں گے کہ یہ دوزخی ہیں پھر ان کی پیشانی کے بال ان کے پنجوں میں باندھ دیں گے اور اس طرح ان کی ایک گٹھڑی بنا کر ان کو دوزخ میں جھونک دیں گے۔ جب ان کو دوزخ میں جھونک دیا جائے گا تو ان کو ذلیل کرنے کے لئے فرشتے کہیں گے کہ یہ وہی آگ ہے جس کو دنیا میں تم جھٹلاتے تھے پھر آگ میں جلنے اور پیاس کے وقت نہایت درجہ کا کھولتا ہوا پانی پینے میں ان کی ہمیشہ کی زندگی بسر ہوگی کبھی کبھی عذاب کے طور پر یہ کھولتا ہوا پانی ان کے سر پر ڈال دیا جائے گا۔ اس پانی کے پینے اور سر پر ڈالنے سے ان کی انتڑیاں باہر نکل پڑیں گی۔ ابو سعید خدری (رض) ابوہریرہ (رض) اور ابو امامہ (رض) کی حدیثیں مسند امام احمد ترمذی ٣ ؎ وغیرہ کی روایت سے جو اس باب میں ہیں سورة محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں وہ گزر چکی ہیں۔ حاکم نے ان حدیثوں کو صحیح کہا ہے۔ دنیا میں ان باتوں کو نصیحت کے طور پر ذکر کرکے انسان کو ان باتوں سے ڈرایا دینا یہ اللہ کا ایک احسان ہے اس لئے ان باتوں کے ذکر کو احسان فرمایا۔ (١ ؎ صحیح مسلم باب جھنم اعاذنا اللہ منھا ص ٣٨١ ج ٢ و ترمذی شریف باب ماجاء فی صفۃ النار ص ٩٤ ج ٢۔ ) (٢ ؎ صحیح مسلم فصل فی بیان ان الاعضاء منطقۃ شاھدۃ یوم القیمۃ ص ٤٠٩ ج ٢۔ ) (٣ ؎ جامع ترمذی باب ماجاء فی صفۃ شراب اھل النار ص ٩٥ ج ٢۔ )

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(55:37) فاذا ف عطف کا ہے۔ اذا حرف شرط ہے انشقت، ماضی (بمعنی مستقبل) واحد مؤنث غائب انشقاق (انفعال) مصدر۔ اور جب آسمان پھٹ جائے گا۔ (نیز ملاحظہ ہو آیت نمبر 54:1) یہ جملہ شرطیہ ہے۔ فکانت وردۃ : ف جواب شرط کے لئے کانت (ماضی بمعنی مستقبل) واحد مؤنث غائب کا مرجع السماء ہے۔ کون (باب نصر) مصدر۔ وردۃ منصوب بوجہ خبر کان کے۔ بمعنی سرخ (جیسا چمڑہ۔ سفید مائل بسرخی۔ سرخ (گلاب کی طرح) وردۃ بطور اسم جنس بمعنی گلاب کا پھول یعنی شرخ) فکانت وردۃ جملہ جواب شرط ہے۔ کالدھان : کاف تشبیہ کا ہے ۔ دھان جمع دھن کی یا ادھنۃ کی بمعنی تیل کی تلچھٹ۔ بعض کے نزدیک یہ دھن کی جمع ہے جیسے رمح ورماح ہے اور اس کے معنی تیل کے ہیں۔ کالدھان صفت ہے وردۃ کی۔ وقوع قیامت کے وقت آسمان کی کیفیت بیان کی جارہی ہے۔ یا کالدھان خبر دوم ہے کانت کی۔ اس صورت میں معنی ہوں گے :۔ آسمان کا رنگ سرخ گلان کی طرح ہوجائے گا اور تیل کی طرح پگھل جائے گا۔ اذا کی جزا محذوف ہے۔ یعنی جب آسمان پھٹ کر سرخ گلاب کی طرح ہوجائے گا تو وہ کیسا ہولناک منظر ہوگا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : جس طرح جن اور انسانوں کے پاس زمین و آسمانوں کے کناروں سے نکلنے کی طاقت نہیں اسی طرح باغی جن اور انسانوں کے پاس اللہ کے عذاب سے بچ نکلنے کی طاقت نہیں۔ قیامت کے اسرافیل جونہی دن صورپھونکیں گے تو آسمان کا رنگ سرخ ہوجائے گا اور وہ اس قدر ہلنا شروع ہوجائے گا کہ بالآخر ٹکڑوں کی صورت میں زمین پر گرپڑے گا۔ زمین و آسمانوں کو بدل دیا جائے گا اور محشر کے میدان میں لوگوں کو جمع کرلیا جائے گا۔ اس دن لوگوں کا حساب و کتاب پیش کرنے اور ان پر شہادتیں قائم کرنے کے بعد ایک ایسا مرحلہ آئے گا کہ مجرم جن اور انسانوں سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ تم نے فلاں فلاں جرم کیوں کیا تھا۔ کیونکہ اس سے پہلے ہر قسم کی حجت قائم ہوچکی ہوگی جس کے بعد مجرموں کے چہروں پر ذلّت چھائی ہوئی ہوگی جس سے وہ پہنچانے جائیں گے۔ اس کے بعد ان کی پیشانی کے بالوں اور پاؤں سے پکڑ کر انہیں جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ فرشتے انہیں کہیں گے کہ یہی وہ جہنم ہے جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔ جہنمی جہنم میں کھولتا ہوا پانی پئیں گے اور مدہوشی کے عالم میں چکر کاٹیں گے اور ان پر سیاہ دھواں چھوڑ کر اوپر سے آگ کے انگارے برسائے جائیں گے۔ جہنمی کبھی ملائکہ سے فریادکریں گے اور کبھی اللہ تعالیٰ سے معافیاں مانگیں گے لیکن ان کی مدد کرنے والا کوئی نہیں ہوگا۔ اے جنوں اور انسانو ! تم اپنے رب کی کس کس قدرت کو جھٹلاؤگے۔ مسائل ١۔ قیامت کے دن حساب و کتاب کے بعد مجرموں سے ان کے گناہوں کے بارے میں دوبارہ سوال نہیں کیا جائے گا۔ ٢۔ مجرم اپنے چہروں سے پہنچانے جائیں گے اور انہیں پیشانی اور پاؤں کے بالوں سے پکڑ کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ ٣۔ ملائکہ مجرموں سے کہیں گے کہ یہی وہ جہنم ہے جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔ ٤۔ جہنمی جہنم کا کھولتا ہوا پانی پیئیں گے اور اس میں انہیں ڈبکیاں دی جائیں گی۔ تفسیر بالقرآن مجرموں کو جہنم میں مختلف قسم کی سزائیں دی جائیں گی : ١۔ اس دن ہم ان کا مال جہنم کی آگ میں گرم کریں گے اس کے ساتھ ان کی پیشانیوں، کروٹوں اور پیٹھوں کو داغاجائے گا۔ (التوبہ : ٣٥) ٢۔ ان کا ٹھکانہ جہنم ہے جب آگ ہلکی ہونے لگے گی تو ہم اسے مزید بھڑکا دیں گے۔ (بنی اسرائیل : ٩٧) ٣۔ اس میں وہ کھولتا ہوا پانی پئیں گے اور اس طرح پئیں گے جس طرح پیا سا اونٹ پیتا ہے۔ (الواقعہ : ٥٤ تا ٥٥) ٤۔ ہم نے ظالموں کے لیے آگ تیار کی ہے جو انہیں گھیرے ہوئے ہوگی اور انہیں پانی کی جگہ پگھلا ہو اتانبا دیا جائے گا جو ان کے چہروں کو جلا دے گا۔ (الکھف : ٢٩) ٥۔ ان کے لیے کھانے کی کوئی چیز نہیں ہوگی مگر ضریع ہے۔ جو انہیں موٹا نہیں کرے گا اور نہ بھوک میں کچھ فائدہ دے گا۔ (الغاشیہ : ٦، ٧) ٦۔ جہنمیوں کو پینے کے لیے پیپ دی جائے گی۔ (النبا : ٢٥) ٧۔ کفار کے لئے اُبلتا ہوا پانی اور دردناک عذاب ہوگا۔ (یونس : ٤) ٨۔ مجرموں کی چمڑیاں بار بار بدلی جائیں گی۔ (الحج : ٢٠)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

فاذا انشقت ............ حمیم ان فبای الاء ربکما تکذبن وردة یعنی سرخ تیل کی طرح یعنی بہہ جائے گا۔ قیامت کے دن سے قبل کائنات میں ہونے والے تغیر کے بارے میں جس قدر آیات آئی ہیں ان سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ افلاک کے موجودہ نظام میں مکمل ابتری آجائے گی اور نظام سماوات پر تمام کرے موجودہ نظام کی گرفت سے چھوٹ جائیں گے جیسا کہ اس آیت میں ہے اور مثلاً ۔ اذرجت ............ منبسا (٦) (٦ 5:4 تا ٦) (زمین اس وقت یکبارگی ہلا ڈالی جائے گی اور پہاڑ ریزہ ریزہ کردیئے جائیں گے کہ پراگندہ غبارہ جائیں گے) اور انہی آیات میں سے یہ بھی ہے۔ فاذابرق ................ والقمر (٩) 5 ٧ : ٧ تا ٩) (پھر جب دیدے پتھرا جائیں گے اور چاند بےنور ہوجائے گا اور چاند اور سورج ملا کر ایک کردیئے جائیں گے) اور انہی میں سے۔ اذالشمس .................... سئلت (٨) (١٨ : ١ تا ٨) ” جب سورج لپیٹ لیا جائے گا ، جب تارے بکھر جائیں گے اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے اور جب دس مہینے کی حاملہ اونٹنیاں اپنے حال پر چھوڑ دی جائیں گی اور جب جنگلی جانور سمیٹ کر اکٹھے کردیئے جائیں اور جب سمندر بھڑکا دیئے جائیں گے اور جب جانیں جوڑ دی جائیں گی اور جب زندہ گاڑی ہوئی لڑکی سے پوچھا جائے گا “ اور اسی طرح۔ اذا السمائ ................ فجرت (٣) (٢٨ : ١ تا ٣) ” جب آسمان پھٹ جائے گا اور جب تارے بکھر جائیں گے اور جب سمندر پھاڑ دیئے جائیں گے۔ “ اذا السمائ .................................... وحقت (5) (4 ٨ : ١ تا 5) (جب آسمان پھٹ جائے گا اور اپنے رب کے فرمان کی تعمیل کرے گا اور اس کے لئے حق یہی ہے اور جب زمین پھیلادی جائے گی اور جو کچھ اس کے اندر ہے اسے باہر پھینک کر خالی ہوجائے گی اور اپنے رب کے حکم کی تعمیل کرے گی) یہ اور دوسری سب آیات اس عظیم حادثے کی طرف اشارہ کررہی ہیں جو اس کائنات میں واقع ہوگا اور اس کی حقیقت صرف اللہ ہی جانتا ہے یہ اور اس آیت کی مراد بھی یہی ہے۔ فاذانشقت .................... کالدھان (55: ٧٣) فبای الاء ربکما تکذبن (55: ٨٣) ” پھر جب آسمان پھٹے گا اور سرخ ہوگا اور تیل کس طرح بہہ نکلے گا تو اے جن وانس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔ “

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

15:۔ ” فاذا نشقت۔ الایۃ “ وردۃ، گلاب کا پھول۔ الدھان، سرخ چمڑا۔ قیامت کے دن جب آسمان ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیگا اس وقت وہ شدت حرارت سے گلاب کے پھول کی مانند بلکہ اس سے بھی زیادہ سرخ رنگ کے چمڑے کی طرح ہوجائیگا۔ ورۃ کالدھان دونوں کان کی خبریں ہیں۔ یا کالدھان، وردۃ کی صفت ہے۔ (روح) یہ ہولناک منظر قیامت بپا ہونے کے وقوت ہوگا۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(37) پھر جب آسمان پھٹ جائیگا اور ایسا سرخ ہوجائیگا جیسے تیل کی تلچھٹ ، یا سرخ نری کا چمڑا۔ یعنی اوپر کی آیت مقں قیامت کے دن کی بےبسی کا اظہار تھا کہ اس دن تمام جن وانس عاجز ہوں گے اب فرمایا آسمان پھٹ جائے گا شاید مطلب یہ ہو کہ آسمان کے دروازے کھل جائیں گے اور فرشتے اتریں گے جیسا کہ سورة فرقان میں گزر چکا ہے کہ فرشتے اتریں گے اور بادلوں میں تجلی الٰہی کا نزول ہوگا اور حساب کتاب شروع ہوگا آسمان کا رنگ گلاب کے پھول کی طرح سرخ یا تیز گلابی ہوگا۔ کالدھان کے دو معنی کئے گئے ہیں تیل کی تلچھٹ اور سرخ نری کا چمڑا ہم نے دونوں کی طرف اشارہ کردیا ہے۔