Surat ur Rehman

Surah: 55

Verse: 6

سورة الرحمن

وَّ النَّجۡمُ وَ الشَّجَرُ یَسۡجُدٰنِ ﴿۶﴾

And the stars and trees prostrate.

اور ستارے اور درخت دونوں سجدہ کرتے ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

And the Najm and the trees prostrating. Ibn Jarir commented, "Scholars of Tafsir disagreed over the meaning of Allah's statement, `And the Najm.' They agreed, however, that the trees mentioned here are those that stand on trunks." Ali bin Abi Talhah reported that Ibn Abbas said, "An-Najm refers to the plants that lay on the ground." Similar was said by Sa`id bin Jubayr, As-Suddi and Sufyan Ath-Thawri. This is what Ibn Jarir preferred, may Allah have mercy upon him. Mujahid said, "An-Najm (the star); the one that is in the sky." Al-Hasan and Qatadah said similarly. This is the saying that is the most obvious, and Allah knows best, for Allah the Exalted said, أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ يَسْجُدُ لَهُ مَن فِى السَّمَـوَتِ وَمَن فِى الاٌّرْضِ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَالنُّجُومُ وَالْجِبَالُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَابُّ وَكَثِيرٌ مِّنَ النَّاسِ See you not that whoever is in the heavens and whoever is on the earth, and the sun, and the moon, and the stars, and the mountains, and the trees, and the moving creatures, and many of mankind prostrate themselves to Allah. (22:18) Allah's statement, وَالسَّمَاء رَفَعَهَا وَوَضَعَ الْمِيزَانَ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

6۔ 1 جیسے دوسرے مقام پر فرمایا (اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ يَسْجُدُ لَهٗ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَمَنْ فِي الْاَرْضِ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَالنُّجُوْمُ وَالْجِبَالُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَاۗبُّ ) 22 ۔ الحج :18)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٥] نجم کے معنی ستارا بھی ہے اور بےتنا درخت بھی جس میں جھاڑ جھنکار، جڑی بوٹیاں، بیلیں اور بےتنہ پودے سب شامل ہیں اور یہاں یہ دوسرا معنی ہی زیادہ مناسبت رکھتا ہے اور سجدہ ریز ہونے سے مراد یہ ہے کہ اللہ نے جو طبعی قوانین ان کے لیے مقرر کردیئے ہیں ان سے سرتابی نہیں کرتے اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ فی الواقع اللہ کو سجدہ کر رہے ہوں۔ لیکن انسان اس کیفیت اور ماہیت کو سمجھنے سے قاصر ہو۔ نیز انسان ان سے جو بھی فائدہ اٹھانا چاہے وہ اس میں رکاوٹ نہیں بنتے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَّالنَّجْمُ وَالشَّجَرُ یَسْجُدٰنِ :” النجم “ کا معنی ستارا بھی ہے اور وہ پودے بھی جو تنے کے بغیر ہوتے ہیں ، جیسے گندم ، جو ، چنے ، جڑی بوٹیاں ، بیلیں ، سبزیاں وغیرہ۔ یہاں دوسرا معنی زیادہ مناسب رکھتا ہے ، کیونکہ یہ ” الشجر “ کے مقابلے میں آیا ہے۔ طبری نے علی بن ابی طلحہ کی معتبر سند کے ساتھ ابن عباس (رض) سے یہی معنی نقل فرمایا اور اسے ترجیح دی ہے۔ ان کے سجدہ کرنے کی تفسیر کے لیے دیکھئے سورة ٔ حج (٨١)

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

وَالنَّجْمُ وَالشَّجَرُ‌ يَسْجُدَانِ (And the vine and the tree both prostrate [ to Allah ]....55:6). The word najm refers to the &plants having no stem& and the word shajar refers to any &tree& with stems or trunk, twigs and branches. All of them prostrate to Allah. Sajdah or prostration is the supreme symbol of humility, respect, surrender and unconditional love and obedience of Allah. In this context, the verse means that Allah has assigned a specific task to every tree, plant, creeper, and their leaves and fruits for the benefit of mankind and they are performing their tasks without the slightest deviation from their assigned duties. The plants without stems and the trees humbly submit themselves to Allah&s will. Verse [ 6], read along with the preceding verse [ 5], shows that everything, from the largest celestial body to the smallest plant, is subject to His laws manifest in nature. A little disturbance in or deviation from their set course would bring down in pieces the whole universe, which has been created for the service of man. It is inconceivable, therefore, that man for whose service this vast and complicated but perfectly regulated universe has been brought into being would have been created without a purpose. The life of man surely has a grand Divine aim to which repeated reference has been made in this entire Surah and in other parts of the Qur&an. There are two types of obedience: [ 1] obedience that is carried out by free will, as for instance, man and jinn are given free will to choose between obeying Allah&s laws or disobeying them; and [ 2] all other creation of Allah are assigned specific tasks or duties to perform without any choice. The latter is referred to as ita’ ah takwiniyyah or jabriyyah &compelled or coerced obedience&. In the current verse, the word sajdah refers to this type of &obedience to Allah&s laws in nature& where the natural objects have no choice.

وَّالنَّجْمُ وَالشَّجَرُ يَسْجُدٰنِ ، نجم اس درخت کو کہا جاتا ہے جس کی بیل پھیلتی ہے تنا نہیں ہوتا اور شجر تنہ دار درخت کو کہتے ہیں، یعنی ہر قسم کے درخت خواہ بیل والے ہوں یا تنے اور شاخوں والے سب کے سب اللہ تعالیٰ کے سامنے سجدہ کرتے ہیں، سجدہ کرنا چونکہ انتہائی تعظیم اور اطاعت کی علامت ہے، اس سے مراد یہاں یہ ہے کہ ہر ایک درخت، پودے اور بیل اور اس کے پتوں اور پھلوں اور پھولوں کو حق تعالیٰ نے جن خاص خاص کاموں اور انسان کے فوائد کے لئے بنایا ہے اور گویا ہر ایک کی ایک ڈیوٹی مقرر کردی ہے کہ وہ فلاں کام کیا کرے، ان میں سے ہر ایک اپنی اپنی ڈیوٹی پر لگا ہوا ہے اور حکم ربانی کے تابع، اس میں رکھے ہوئے فوائد اور خواص سے لوگوں کو فائدہ پہنچاتا ہے، اسی تکوینی اور جبری اطاعت حق کو اس آیت میں سجدہ سے تعبیر کیا گیا ہے (روح، مظہری)

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَّالنَّجْمُ وَالشَّجَرُ يَسْجُدٰنِ۝ ٦ نجم أصل النَّجْم : الكوكب الطالع، وجمعه : نُجُومٌ ، ونَجَمَ : طَلَعَ ، نُجُوماً ونَجْماً ، فصار النَّجْمُ مرّة اسما، ومرّة مصدرا، فَالنُّجُوم مرّة اسما کالقلُوب والجُيُوب، ومرّة مصدرا کالطُّلوع والغروب، ومنه شُبِّهَ به طلوعُ النّبات، والرّأي، فقیل : نَجَمَ النَّبْت والقَرْن، ونَجَمَ لي رأي نَجْما ونُجُوماً ، ونَجَمَ فلانٌ علی السّلطان : صار عاصیا، ونَجَّمْتُ المالَ عليه : إذا وَزَّعْتُهُ ، كأنّك فرضت أن يدفع عند طلوع کلّ نَجْمٍ نصیباً ، ثم صار متعارفا في تقدیر دفعه بأيّ شيء قَدَّرْتَ ذلك . قال تعالی: وَعَلاماتٍ وَبِالنَّجْمِ هُمْ يَهْتَدُونَ [ النحل/ 16] ، وقال : فَنَظَرَ نَظْرَةً فِي النُّجُومِ [ الصافات/ 88] أي : في علم النُّجُوم، وقوله : وَالنَّجْمِ إِذا هَوى[ النجم/ 1] ، قيل : أراد به الكوكب، وإنما خصّ الهُوِيَّ دون الطّلوع، فإنّ لفظة النَّجْم تدلّ علی طلوعه، وقیل : أراد بِالنَّجْم الثُّرَيَّا، والعرب إذا أطلقتْ لفظَ النَّجم قصدتْ به الثُّرَيَّا . نحو : طلع النَّجْمُ غُدَيَّه ... وابْتَغَى الرَّاعِي شُكَيَّه «1» وقیل : أراد بذلک القرآن المُنَجَّم المنزَّل قَدْراً فَقَدْراً ، ويعني بقوله : هَوى نزولَهُ ، وعلی هذا قوله : فَلا أُقْسِمُ بِمَواقِعِ النُّجُومِ [ الواقعة/ 75] فقد فُسِّرَ علی الوجهين، والتَّنَجُّم : الحکم بالنّجوم، وقوله تعالی: وَالنَّجْمُ وَالشَّجَرُ يَسْجُدانِ [ الرحمن/ 6] فَالنَّجْمُ : ما لا ساق له من النّبات، وقیل : أراد الکواكبَ. ( ن ج م ) النجم اصل میں طلوع ہونے ولاے ستارے کو کہتے ہیں اس کی جمع نجوم آتی ہے ۔ اور نجم ( ن ) نجوما ونجاما کے معنی طلوع ہونے کے ہیں نجم کا لفظ کبھی اسم ہوتا ہے اور کبھی مصدر اسی طرح نجوم کا لفظ کبھی قلوب وجیوب کی طرح جمع ہوتا ہے اور کبھی طلوع و غروب کی طرح مصدر اور تشبیہ کے طور پر سبزہ کے اگنے اور کسی رائے کے ظاہر ہونے پر بھی نجم النبت والقرن ونجم لی رای نجما کا محاورہ استعمال ہوتا ہے ۔ نجم فلان علی السلطان بادشاہ سے لغایت کرنا نجمت المال علیہ اس کے اصل منعی تو ستاروں کے طلوع کے لحاظ سے قرض کی قسطیں مقرر کرنے کے ہیں ۔ مثلا فلاں ستارے کے طلوع پر مال کی اتنی قسط ادا کرتا رہوں گا ۔ مگر عرف میں لطلق اقساط مقرر کرنے پر بولا جاتا ہے قرآن میں ہے : ۔ وَبِالنَّجْمِ هُمْ يَهْتَدُونَ [ النحل/ 16] اور لوگ ستاروں سے بھی رستے معلوم کرتے ہیں ۔ فَنَظَرَ نَظْرَةً فِي النُّجُومِ [ الصافات/ 88] تب انہوں نے ستاروں کی طرف ایک نظر کی ۔ یعنی علم نجوم سے حساب نکالا ۔ اور آیت کریمہ ؛ ۔ وَالنَّجْمِ إِذا هَوى[ النجم/ 1] تارے کی قسم جب غائب ہونے لگے ۔ کی تفسیر میں بعض نے کہا ہے کہ نجم سے مراد ستارہ ہے اور طلع کی بجائے ھوی کا لفظ لانے کی وجہ یہ ہے کہ طلوع کے معنی پر تو لفظ نجم ہی دلالت کر رہا ہے اور بعض نے کہا ہے کہ جنم سے مراد ثریا یعنی پر دین ہے کیونکہ اہل عرب جب مطلق النجم کا لفظ بولتے ہیں تو پر دین ہی مراد ہے جیسا کہ مقولہ ہے طلع النجم غد یہ وابتغی الراعی سکیہ صبح کا ستارہ طلوع ہوا اور چر واہے نے اپنا مشکیزہ سنبھالا ۔ بعض نے کہا ہے کہ آیت مذکورہ میں النجم سے مراد نجوم القرآن ہیں ۔ کیونکہ وہ بھی تد ریجا معین مقدار میں نازل ہوتا رہا ہے اور ھوی سے اس کا نزول مراد ہے اسی طرح آیت کریمہ : ۔ فَلا أُقْسِمُ بِمَواقِعِ النُّجُومِ [ الواقعة/ 75] ہمیں تاروں کی منزلوں کی قسم ۔ میں بھی مواقع النجوم کی دو طرح تفسیر بیان کی گئی ہے یعنی بعض نے مواقع النجوم سے مراد ستاروں کے منازل لئے ہیں اور بعض نے نجوم القرآن مراد لئے ہیں ۔ التنجم علم نجوم کے حساب سے کوئی پیش گوئی کرنا اور آیت کریمہ : ۔ وَالنَّجْمُ وَالشَّجَرُ يَسْجُدانِ [ الرحمن/ 6] اور بوٹیاں اور درخت سجدے کر رہے ہیں ۔ میں نجم سے بےتنہ نباتات یعنی جڑی بوٹیاں مراد ہیں اور بعض نے ستارے مراد لئے ہیں ۔ شجر الشَّجَرُ من النّبات : ما له ساق، يقال : شَجَرَةٌ وشَجَرٌ ، نحو : ثمرة وثمر . قال تعالی: إِذْ يُبايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ [ الفتح/ 18] ، وقال : أَأَنْتُمْ أَنْشَأْتُمْ شَجَرَتَها [ الواقعة/ 72] ، وقال : وَالنَّجْمُ وَالشَّجَرُ [ الرحمن/ 6] ، لَآكِلُونَ مِنْ شَجَرٍ مِنْ زَقُّومٍ [ الواقعة/ 52] ، إِنَّ شَجَرَةَ الزَّقُّومِ [ الدخان/ 43] . وواد شَجِيرٌ: كثير الشّجر، وهذا الوادي أَشْجَرُ من ذلك، والشَّجَارُ الْمُشَاجَرَةُ ، والتَّشَاجُرُ : المنازعة . قال تعالی: حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيما شَجَرَ بَيْنَهُمْ [ النساء/ 65] . وشَجَرَنِي عنه : صرفني عنه بالشّجار، وفي الحدیث : «فإن اشْتَجَرُوا فالسّلطان وليّ من لا وليّ له» «1» . والشِّجَارُ : خشب الهودج، والْمِشْجَرُ : ما يلقی عليه الثّوب، وشَجَرَهُ بالرّمح أي : طعنه بالرّمح، وذلک أن يطعنه به فيتركه فيه . ( ش ج ر ) الشجر ( درخت وہ نبات جس کا تنہ ہو ۔ واحد شجرۃ جیسے ثمر و ثمرۃ ۔ قرآن میں ہے : إِذْ يُبايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ [ الفتح/ 18] جب مومن تم سے درخت کے نیچے بیعت کررہے تھے ۔ أَأَنْتُمْ أَنْشَأْتُمْ شَجَرَتَها [ الواقعة/ 72] کیا تم نے اس کے درخت کو پیدا کیا ۔ وَالنَّجْمُ وَالشَّجَرُ [ الرحمن/ 6] اور بوٹیاں اور درخت سجدہ کررہے ہیں ۔ مِنْ شَجَرٍ مِنْ زَقُّومٍ [ الواقعة/ 52] ، تھوہر کے درخت سے إِنَّ شَجَرَةَ الزَّقُّومِ [ الدخان/ 43] بلاشبہ تھوہر کا درخت گنجان درختوں والی وادی ۔ بہت درختوں والی جگہ ۔ ھذا الوادی اشجر من ذالک اس وادی میں اس سے زیادہ درخت ہیں ۔ الشجار والمشاجرۃ والتشاجر باہم جھگڑنا اور اختلاف کرنا ۔ قرآن میں ہے ۔ فِيما شَجَرَ بَيْنَهُمْ [ النساء/ 65] اپنے تنازعات میں ۔ شجرنی عنہ مجھے اس سے جھگڑا کرکے دور ہٹا دیا یا روک دیا حدیث میں ہے ۔ (189) فان اشتجروا فالسلطان ولی من لا ولی لہ اگر تنازع ہوجائے تو جس عورت کا ولی نہ ہو بادشاہ اس کا ولی ہے الشجار ۔ ہودہ کی لکڑی چھوٹی پالکی ۔ المشجر لکڑی کا اسٹینڈ جس پر کپڑے رکھے یا پھیلائے جاتے ہیں ۔ شجرہ بالرمح اسے نیزہ مارا یعنی نیزہ مار کر اس میں چھوڑ دیا ۔ سجد السُّجُودُ أصله : التّطامن «3» والتّذلّل، وجعل ذلک عبارة عن التّذلّل لله وعبادته، وهو عامّ في الإنسان، والحیوانات، والجمادات، وذلک ضربان : سجود باختیار، ولیس ذلک إلا للإنسان، وبه يستحقّ الثواب، نحو قوله : فَاسْجُدُوا لِلَّهِ وَاعْبُدُوا[ النجم/ 62] ، أي : تذللوا له، وسجود تسخیر، وهو للإنسان، والحیوانات، والنّبات، وعلی ذلک قوله : وَلِلَّهِ يَسْجُدُ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ طَوْعاً وَكَرْهاً وَظِلالُهُمْ بِالْغُدُوِّ وَالْآصالِ [ الرعد/ 15] ( س ج د ) السجود ( ن ) اسکے اصل معنی فرو تنی اور عاجزی کرنے کے ہیں اور اللہ کے سامنے عاجزی اور اس کی عبادت کرنے کو سجود کہا جاتا ہے اور یہ انسان حیوانات اور جمادات سب کے حق میں عام ہے ( کیونکہ ) سجود کی دو قسمیں ہیں ۔ سجود اختیاری جو انسان کے ساتھ خاص ہے اور اسی سے وہ ثواب الہی کا مستحق ہوتا ہے جیسے فرمایا : ۔ فَاسْجُدُوا لِلَّهِ وَاعْبُدُوا[ النجم/ 62] سو اللہ کے لئے سجدہ کرو اور اسی کی ) عبادت کرو ۔ سجود تسخیر ی جو انسان حیوانات اور جمادات سب کے حق میں عام ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ : وَلِلَّهِ يَسْجُدُ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ طَوْعاً وَكَرْهاً وَظِلالُهُمْ بِالْغُدُوِّ وَالْآصالِ [ الرعد/ 15] اور فرشتے ) جو آسمانوں میں ہیں اور جو ( انسان ) زمین میں ہیں ۔ چار ونا چار اللہ ہی کو سجدہ کرتے ہیں اور صبح وشام ان کے سایے ( بھی اسی کو سجدہ کرتے ہیں اور صبح وشام ان کے سایے ( بھی اسی کو سجدہ کرتے ہیں )

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اور بےتنا کے درخت اور تنا دار درخت اللہ کے فرمانبردار ہیں، نجم ہر اس درخت کو کہتے ہیں جو کھڑا نہ ہوسکے بلکہ زمین پر پھیلے اور شجر تنا دار درخت کو کہتے ہیں

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٦{ وَّالنَّجْمُ وَالشَّجَرُ یَسْجُدٰنِ ۔ } ” اور ستارے اور درخت (اللہ کو) سجدہ کرتے ہیں۔ “ نَجْم کے معروف معنی ستارے کے ہیں ‘ لیکن عربی میں یہ لفظ ایسے پودوں اور بیل بوٹوں کے لیے بھی بولا جاتا ہے جن کا تنا نہیں ہوتا۔ مثلاً جھاڑیاں اور خربوزے اور تربوز کی بیلیں وغیرہ۔ جس طرح لاتعداد ستارے آسمان پر بکھرے نظر آتے ہیں بالکل اسی طرح بیشمار جھاڑیاں اور بیل بوٹے زمین پر پھیلے دکھائی دیتے ہیں۔ چناچہ پچھلی آیت میں سورج اور چاند کے ذکر کی نسبت سے دیکھا جائے تو یہاں النَّجْم سے ستارے مراد ہوں گے ‘ لیکن اگلے لفظ الشَّجَرکے حوالے سے جھاڑیاں یا بیلیں کا ترجمہ بہتر معلوم ہوتا ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

5 The word used in the original is an-najm, the well-known meaning of which is the star; but in the Arabic lexicon this word is also used for the plants and creepers which do not have a stem, e.g. vegetable, melons, water melons, etc. The commentators have disputed the sense in which this word has been used here. Ibn 'Abbas, Sa'id bin Jubair, Suddi, and Sufyan Thauri have taken it in the meaning of stemless vegetation, for just after it the word ash-shajar (the tree) has been used and this meaning is more relevant to it. On the contrary, Mujahid, Qatadah and Hasan Basri have expressed the opinion that an-najm here does not imply the plants of the earth, but the stars of the sky, for this is its well-known meaning. On hearing this word, the mind first turns to this very meaning, and the mention of the sun and the moon has been followed by the stars very naturally and relevantly. Though the majority of the commentators and translators have preferred the first meaning, and it cannot be held wrong either, we hold Hafiz Ibn Kathir's this opinion as sound that in view of both the language and the subject-matter the second meaning seems to be preferable. At another place in the Qur'an (AI-Hajj: 18) also mention has been made of the stars and the trees prostrating themselves, and there the word nujum (pl. of najm) cannot be taken in any other meaning than of the stars. The words of the verse are: Alam fara annallaha yasjudu lahu man fis sma wat-i wa man fil ardi wash-shamsu wal-qamaru walnujumu wal jibalu wash-shajaru wad-da wabbu wa kathir-um-min-annasi. . . . (AI-Hajj: 18). In this verse nujum (stars) have been mentioned along with shams (sun) and qamar (moon), and shajar (trees) along with mountains and animals and it has been said that they all bow down to AIIah. 6 That is, "The stars of the heavens and the trees of the earth, alI are subject to Allah's Command and obedient to His Law. They cannot exceed the rule that has been set for them." What is meant to be impressed in these two verses is that the whole system of the Universe has been created by Allah and is fimctioning in His obedience. Nothing front the earth to the heavens is independent, nor functioning under another's godhead, nor has anyone any share in God's Kingdom, nor has anyone the position that it should be made a deity. AII are servants and slaves: the Master is One Almighty Lord alone. Hence, Tauhid alone is the Truth which is being taught by this Qur'an. Apart from this, any one who is involved in polytheism and denial of God is, in fact, at war with the whole system of the Universe.

سورة الرَّحْمٰن حاشیہ نمبر :5 اصل میں لفظ النجم استعمال ہوا ہے جس کے معروف اور متبادر معنی تارے کے ہیں ۔ لیکن لغت عرب میں یہ لفظ ایسے پودوں اور بیل بوٹوں کے لیے بھی بولا جاتا ہے جن کا تنا نہیں ہوتا ، مثلاً ترکاریاں ، خربوزے ، تربوز وغیرہ ۔ مفسرین کے درمیان اس امر میں اختلاف ہے کہ یہاں یہ لفظ کس معنی میں استعمال ہوا ہے ۔ ابن عباس سعید بن جبیر ، سدی اور سفیان ثوری اس کو بے تنے والی نباتات کے معنی میں لیتے ہیں ، کیونکہ اس کے بعد لفظ الشجر ( درخت ) استعمال فرمایا گیا ہے اور اس کے ساتھ یہی معنی زیادہ مناسبت رکھتے ہیں ۔ بخلاف اس کے مجاہد ، قتادہ اور حسن بصری کہتے ہیں کہ نجم سے مراد یہاں بھی زمین کے بوٹے نہیں بلکہ آسمان کے تارے ہی ہیں ، کیونکہ یہی اس کے معروف معنی ہیں ، اس لفظ کو سن کر سب سے پہلے آدمی کا ذہن اسی معنی کی طرف جاتا ہے ، اور شمس و قمر کے بعد تاروں کا ذکر بالکل فطری مناسبت کے ساتھ کیا گیا ہے ۔ مفسرین و مترجمین کی اکثریت نے اگرچہ پہلے معنی کو ترجیح دی ہے ، اور اس کو بھی غلط نہیں کہا جا سکتا ، لیکن ہمارے نزدیک حافظ ابن کثیر کی رائے صحیح ہے کہ زبان اور مضمون دونوں کے لحاظ سے دوسرا مفہوم زیادہ قابل ترجیح نظر آتا ہے ۔ قرآن مجید میں ایک دوسرے مقام پر بھی نجوم اور شجر کے سجدہ ریز ہونے کا ذکر آیا ہے ۔ اور وہاں نجوم کو تاروں کے سوا اور کسی معنی میں نہیں لیا جا سکتا ۔ آیت کے الفاظ یہ ہیں اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللہَ یَسْجُدُ لَہ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَمَنْ فِی الْاَرْضِ والشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَالنُّجُوْمُ وَالْجِبَالُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَابُّ وَ کَثِیْرٌ مِّنَ النَّاسِ …………… ( الحج ۔ 18 ) ۔ یہاں نجوم کا ذکر شمس و قمر کے ساتھ ہے اور شجر کا ذکر پہاڑوں اور جانوروں کے ساتھ ، اور فرمایا گیا ہے کہ یہ سب اللہ کے آگے سجدہ ریز ہیں ۔ سورة الرَّحْمٰن حاشیہ نمبر :6 یعنی آسمان کے تارے اور زمین کے درخت ، اس اللہ تعالیٰ کے مطیع فرمان اور اس کے قانون کے پابند ہیں ، جو ضابطہ ان کے لیے بنا دیا گیا ہے اس سے یَک سَرِ مُو تجاوز نہیں کر سکتے ۔ ان دونوں آیتوں میں جو کچھ بیان کیا گیا ہے اس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ کائنات کا سارا نظام اللہ تعالیٰ کا آفریدہ ہے اور اسی کی اطاعت میں چل رہا ہے ۔ زمین سے لے کر آسمانوں تک نہ کوئی خود مختار ہے ، نہ کسی اور کی خدائی اس جہان میں چل رہی ہے ، نہ خدا کی خدائی میں کسی کا کوئی دخل ہے ، اور نہ کسی کا یہ مقام ہے کہ اسے معبود بنا یا جائے ۔ سب بندے اور غلام ہیں ، آقا تنہا ایک رب قدیر ہے ۔ لہٰذا توحیدی حق ہے جس کی تعلیم یہ قرآن دے رہا ہے ۔ اس کو چھوڑ کر جو شخص بھی شرک یا کفر کر رہا ہے وہ دراصل کائنات کے پورے نظام سے بر سر پیکار ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

2: سجدہ حقیقی بھی ہوسکتا ہے، کیونکہ قرآن کریم نے کئی جگہ یہ فرمایا ہے کہ تمام مخلوقات میں کچھ نہ کچھ احساس موجود ہے۔ (دیکھئے سورۃ بنی اسرائیل : 44) اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ یہ سب اللہ تعالیٰ کے تابع فرمان ہیں۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(55:6) والنجم والشجر یسجدان اور بیلیں (بےتنے کے پودے) اور درخت (تنے والے پودے) (اسی کے حکم سے) سجدہ ریز ہیں۔ النجم کے متعلق مختلف اقوال ہیں :۔ بعض علماء کا قول ہے کہ :۔ (1) النجم سے مراد نباتات کی وہ قسم ہے جس کا تنانہ ہو جیسے بیلیں وغیرہ۔ اور الشجر سے مراد وہ قسم ہے جس کا تنا ہو۔ (2) مقید کا قول ہے کہ :۔ النجم سے مراد آسمان کے ستارے ہیں اور اس پر وہ سورة الحج کی یہ آیت دلیل لائے ہیں۔ الم تر ان اللہ یسجد لہ من فی السموت ومن فی الارض والشمس والقمر والنجوم والشجر والدواب وکثیر من الناس ۔ (22:18) ۔ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ جو (مخلوق) آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اور سورج اور چاند اور ستارے اور پہاڑ اور درخت اور چار پائے اور بہت سے انسان خدا کو سجدہ کرتے ہیں۔ روح المعانی میں ہے کہ :۔ والمراد بالنجم النبات الذی ینجم ای یظھر ویطلع من الرض ولا ساق لہ ۔۔ اقترانہ بالشجر یدل علیہ۔ النجم سے مراد وہ سبزی یا نبایات ہے جو زمین سے اگتی اور نکلتی ہے اور اس کا تنا نہیں ہوتا۔ شجر کے ساتھ اس کا ذکر کرنا اس کی دلیل اور قرینہ ہے۔ بیضاوی کا یہی قول ہے۔ یسجدان : مضارع تثنیہ مذکر غائب۔ سجود (باب نصر) سے مصدر ۔ وہ دونوں سجدہ کرتے ہیں۔ بیلوں اور درختوں کے سجدہ کرنے سے مراد ان کے سایہ کا سربسجود ہونا ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ہے :۔ یتفیئوا ظللہ عن الیمین والشمائل سجدا للہ وہم داخرون ۔ (16:48) جن کے سائے دائیں سے (بائیں کو) اور بائیں سے (دائیں کو) لوٹتے رہتے ہیں َ (یعنی) خدا کے آگے عاجز ہوکر سجدے میں پڑے رہتے ہیں ۔ یا اس سے مراد ان کا ہر طرح سے خدا کا تابع فرمان ہونا ہے۔ ان کا اگنا ، بڑھنا ، پھل دینا، سوکھ جانا۔ بالارادہ نہیں بلکہ ارادہ بلاچون و چراء قانون الٰہی کے پابند ہیں۔ اگر النجم کے معنی ستارے لئے جائیں تو ان کے سجدہ کرنے سے مراد ان کا طلوع و غروب ہے یا ان کا کائنات میں ایک متعینہ نظام کے تحت گردش کرنا ہے ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 6 ” نجم “ کے مشہور اور متبادر معنی ستارے کے ہیں لیکن یہ ایسے پودے اور بیل بوٹوں کے لئے بھی بولا جاتا ہے جن کا تنا نہیں ہوتا۔ اس لئے متن میں اس کا ترجمہ ” بیل “ بھی کیا گیا ہے اور یہ معنی ” الشجر “ کے قرین ہونے کے اعتبار سے انسب ہیں۔ 7 یعنی اسی کے حکم کے تابع اور اسی کے قانون کے پابند ہیں۔ اس نے ان کے لئے جو ضابطہ اور نظم مقرر فرما دیا ہے اس سے سرموانحراف نہیں کرتے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

والنجم والشجر یسجدن (55: ٦) (تارے اور درخت سجدہ ریز ہیں) بعض آیات میں اس کی تعبیریوں کی گئی ہے۔ تسبیح لہ ................ تسبیحھم (٧١ :44) (اس کی پاکی تو ساتوں آسمان اور زمین اور وہ ساری چیز بھی بیان کررہی ہیں جو آسمان و زمین میں ہیں۔ کوئی چیز ایسی نہیں جو اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح نہ کررہی ہو مگر تم ان کی تسبیح سمجھتے نہیں۔ ) اور دوسری جگہ ہے۔ الم تر ............ وتسبیحہ (4 ٢ : ١ 4) (کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ کی تسبیح کررہے ہیں وہ سب جو آسمان اور زمین میں ہیں اور وہ پرندے جو پر پھیلائے اڑ رہے ہیں۔ ہر ایک اپنی نماز اور تسبیح کا طریقہ جانتا ہے۔ ) جب انسان اس حقیقت پر غور کرتا ہے کہ پوری کائنات سجدہ ریز ہے اور اللہ کی حمدوثنا میں رطب اللسان ہے تو انسانی قلب کو حق تعالیٰ تک پہنچنے کا بہت بڑا زاد راہ ملتا ہے۔ وہ اپنے ماحول کو زندہ سمجھتا ہے ۔ اس سے محبت کرتا ہے اور اس کے ساتھ ہمقدم ہوکر اللہ کی طرف فرار اختیار کرتا ہے۔ یہ سوچ روح کائنات سے یہ ہم نشینی انسان کو اس کائنات کا دوست بنادیتی ہے۔ یہ نہایت ہی دوررس اشارہ ہے اور بہت ہی گہرا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

نجم اور شجرہ سجدہ کرتے ہیں : ﴿ وَّ النَّجْمُ وَ الشَّجَرُ يَسْجُدٰنِ ٠٠٦﴾ (اور بےتنا والا یعنی بیلدار درخت اور تنا والا درخت (جو کھڑا رہتا ہے) یہ سب اللہ تعالیٰ کے حکم کے فرمانبردار ہیں جس طرح سجدہ کرنے والا اپنے خالق کے لیے خوشی سے سجدہ کرتا ہے اس طرح یہ دونوں اللہ تعالیٰ کے اطاعت گزار ہیں، انقیاد اور فرمانبرداری کو سجدہ کرنے سے تعبیر فرمایا۔ كدو، تربوز، خربوزہ کی بیل کو النجم فرمایا اور دوسرے چھوٹے بڑے درخت جو اپنی ساق یعنی پنڈلی پر کھڑے ہوتے ہیں (جن میں موٹے درخت بھی ہوتے ہیں اور پتلے بھی) ان سب کو شجر سے تعبیر فرمایا صاحب روح المعانی فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس (رض) اور حضرت ابن جبیر (رض) سے اسی طرح مروی ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(6) اور بےتنے کے درخت اور تنے والے درخت سجدہ کرتے ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے مطیع اور منقاد ہیں نباتات کی تسخیر کو سجدہ تکوینی سے تعبیر فرمایا ہے بےتنے کے درخت جیسے بیل دار درخت پودے یا گھاس وغیرہ اور تنے دار درخت تو ظاہر ہی ہیں یہ تمام درخت اللہ تعالیٰ کے حکم کے تابع اور مسخر ہیں اور ان نباتات میں جو حضرت تعالیٰ نے فوائد اور منافع رکھے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمت ہے۔