Surat ur Rehman

Surah: 55

Verse: 8

سورة الرحمن

اَلَّا تَطۡغَوۡا فِی الۡمِیۡزَانِ ﴿۸﴾

That you not transgress within the balance.

تاکہ تم تولنے میں تجاوز نہ کرو ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

In order that you may not transgress the balance. meaning, He created the heavens and earth in justice and truth so that everything is founded on, and observing, justice and truth. Allah's statement, وَأَقِيمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَلاَأ تُخْسِرُوا الْمِيزَانَ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

8۔ 1 یعنی انصاف سے تجاوز نہ کرو۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اَلَّا تَطْغَوْا فِی الْمِیْزَانِِ : اس سے پہلے ” لام “ جارہ محذوف ہے :” ای لئلا تطغوا “ یعنی اس نے میزان اس لیے بنایا ہے کہ تم ہر معاملے میں وزن کرتے ہوئے صحیح وزن کرو ، کمی بیشی مت کرو، کیونکہ یہ حد سے تجاوز ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

أَلَّا تَطْغَوْا فِي الْمِيزَانِ (so that you should not be wrongful in weighing....55:8). The earlier verse stated the creation of the scale, and this verse states the reason for its creation. The imperfect verb تَطْغَوْا tatghaw is derived from طُغیَان tughyan which stands for &injustice&. Thus verses [ 7] and [ 8] put together mean: &[ The &mizan or scale& has been created so that you may not transgress the balance and thus practice injustice&.

اَلَّا تَطْغَوْا فِي الْمِيْزَانِ ، پہلی آیت میں جو میزان پیدا کرنے کا ذکر تھا اس جملے میں اس کے مقصد کو واضح کیا گیا ہے، تطغوا، طغیان سے مشتق ہے، جس کے معنی بےانصافی اور ظلم کے ہیں، مراد یہ ہے کہ میزان کو اللہ تعالیٰ نے اس لئے بنایا کہ تم وزن میں کمی بیشی کر کے ظلم و جور میں مبتلا نہ ہوجاؤ۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اَلَّا تَطْغَوْا فِي الْمِيْزَانِ۝ ٨ طغی طَغَوْتُ وطَغَيْتُ «2» طَغَوَاناً وطُغْيَاناً ، وأَطْغَاهُ كذا : حمله علی الطُّغْيَانِ ، وذلک تجاوز الحدّ في العصیان . قال تعالی: اذْهَبْ إِلى فِرْعَوْنَ إِنَّهُ طَغى[ النازعات/ 17] ( ط غ ی) طغوت وطغیت طغوانا وطغیانا کے معنی طغیان اور سرکشی کرنے کے ہیں اور أَطْغَاهُ ( افعال) کے معنی ہیں اسے طغیان سرکشی پر ابھارا اور طغیان کے معنی نافرمانی میں حد سے تجاوز کرنا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : إِنَّهُ طَغى[ النازعات/ 17] وہ بےحد سرکش ہوچکا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اور انصاف کے ساتھ وزن کو ٹھیک روکھو یا یہ کہ اپنی زبانوں کو سچائی کے ساتھ ٹھیک رکھو اور تول میں کمی مت کرو کہ اس سے لوگوں کے حق مارنا شروع کردو۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٨{ اَلَّا تَطْغَوْا فِی الْْمِیْزَانِ ۔ } ” تاکہ تم میزان میں زیادتی مت کرو۔ “ اس کائناتی توازن کا تقاضا یہ ہے کہ اس کائنات میں رہتے ہوئے تم بھی عدل و انصاف پر قائم رہو۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(55:8) الاتطغوا : الا۔ ان اور لا سے مرکب ہے۔ ان یا تو مصدریہ ہے اس صورت میں لاتطغوا مضارع منفی جمع مذکر حاضر ہے : طغیان (باب سمع و نصر) مصدر سے ۔ تم زیادتی نہ کرو۔ تم سرکشی نہ کرو۔ تم حد سے نہ بڑھو۔ ترجمہ آیت ہوگا : اور اللہ نے میزان قائم کردی تاکہ تم حق سے تجاوز نہ کرو۔ یا ان مفسرہ ہے اور لاتطغوا صیغہ نہی جمع مذکر حاضر ہے ترجمہ :۔ اور اس نے میزان عدل قائم کردی (اور حکم دیا ہے کہ) تم وزن میں حق سے تجاوز نہ کرو۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : آسمان کی رفعت کا ذکر کرنے کے بعد ترازو کا ذکر کیا گیا ہے کیونکہ ترازو بھی زمین سے بلند رکھا جاتا ہے۔ جس طرح آسمان زمین سے بلند ہے۔ (الحدید : ٢٥) میں فرمایا کہ میزان آسمان سے اتارا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کائنات کا نظام اور لوگوں کے درمیان اخلاقی، سیاسی، معاشی اور ہر قسم کا عدل و انصاف قائم رکھنے کے لیے ایک میزان نازل فرمایا ہے۔ جس کے بارے میں اس کا حکم ہے کہ میزان میں تجاوز نہیں ہونا چاہیے حکم دیا کہ جب کسی چیز کا ماپ تول کرو تو اس میں عدل قائم رکھو اور ماپ، تول میں کسی صورت بھی کمی بیشی نہیں ہونی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے پوری کائنات کے اندر ایک نظام اور توازن قائم فرمایا ہے جس بنا پر ہر چیز اپنے اپنے دائرہ کار میں رہ کر اپنا، اپنا کام سرانجام دے رہی ہے۔ کوئی چیز اللہ تعالیٰ کے قائم کردہ توازن اور نظام سے آگے پیچھے نہیں ہوتی۔ سورج اور چاند ایک دوسرے کے مدار میں داخل نہیں ہوتے، رات اور دن اپنے نظام الاوقات سے تجاوز نہیں کرتے۔ یہاں تک اللہ تعالیٰ نے انسان کے و جود میں بھی ایک توازن قائم کردیا ہے۔ حکماء نے انسان کی جبلّت کو تین حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ برودت، حرارت اور سوداء۔ ان میں سے کسی چیز میں کمی بیشی واقع ہوجائے تو انسان کا نظام صحت خراب ہوجاتا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے انسان میں منفی اور مثبت قوتیں رکھی ہیں۔ انتقام اور بدلے کے درمیان، حوصلے اور بزدلی، غیرت اور حسد، مصلحت اور منافقت، حوصلہ اور بزدلی کے درمیان تھوڑا ہی فاصلہ پایا جاتا ہے اگر یہ فاصلہ ختم ہوجائے، تو میزان میں جھول واقع ہوجاتی ہے ان قوتوں میں توازن نہ رہے تو انسان اور کائنات کا پورا نظام عدم توازن کا شکار ہوجاتا ہے عدم توازن سے بچنے کے لیے حکم ہے کہ توازن قائم رکھو اسی طرح ہی بلکہ اس سے بڑھ کر ناپ تول میں بھی قسط یعنی عدل قائم رکھنا لازم ہے۔ کسی سے کوئی چیز خریدی جائے یا اس کے ہاتھ بیچی جائے تو اس میں بھی کسی قسم کی کمی بیشی نہیں ہونی چاہیے۔ قرآن مجید میں ” اَلْمِیْزَانُ “ کا لفظ ٩ دفعہ استعمال ہے۔ دو آیات میں ارشاد ہوا ہے کہ ہم نے ایک میزان نازل فرمایا ہے۔” اَلْمِیْزَانُ “ کے بارے میں اہل علم کے چار قسم کے خیالات ہیں۔ جو اپنی اپنی حیثیت کے مطابق حق پر مبنی ہیں۔ 1” اَلْمِیْزَانُ “ درحقیقت الکتاب کی تشریح ہے۔ 2 ” اَلْمِیْزَانُ “ سے مراد قرآن وسنت کی تعلیم ہے جس کے ذریعے انسان حق و باطل کے درمیان وزن اور فرق کرسکتا ہے۔ 3 ” اَلْمِیْزَانُ “ سے مراد عقل سلیم ہے جس کی روشنی میں آدمی حق اور ناحق کی پہچان کرتا ہے۔ 4 ” اَلْمِیْزَانُ “ سے مراد دنیا کی کسی چیز کی پیمائش یا وزن کرنے کا پیمانہ ہے جس کے ذریعے لوگ آپس میں لین دین کرتے ہیں۔ جن آیات میں ” اَلْمِیْزَانُ “ کا لفظ ہے وہ یہ ہیں۔ (الانعام : ١٥٢، الاعراف : ٨٥، ھود : ٨٤، ٨٥، الشوریٰ : ١٧، الرحمن : ٧، ٨، ٩، الحدید : ٢٥) قرآن مجید نے ہر معاملے میں عدل کرنے کا حکم دیا ہے۔ جس معاشرے میں عدل قائم نہیں ہوگا وہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجائے گا۔ ٹوٹ پھوٹ کا شکار اور عدل و انصاف سے محروم اقوام بالآخر تباہ ہوجاتی ہیں۔ ( عَنْ عَاءِشَۃَ (رض) أَنَّ قُرَیْشًا أَھَمَّھُمْ شَأْنُ الْمَرْأَۃِ الْمَخْزُوْمِیَّۃِ الَّتِيْ سَرَقَتْ فَقَالُوْا وَمَنْ یُکَلِّمُ فِیْھَا رَسُوْلَ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالُوْا وَمَنْ یَجْتَرِ ئُ عَلَیْہِ إِلَّا أُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ حِبُّ رَسُوْلِ اللّٰہِ فَکَلَّمَہٗ أُسَامَۃُ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) أَتَشْفَعُ فِيْ حَدٍّ مِنْ حُدُوْدِ اللّٰہِ ثُمَّ قَامَ فَاخْتَطَبَ ثُمَّ قَالَ إِنَّمَا أَھْلَکَ الَّذِیْنَ قَبْلَکُمْ کَانُوْا إِذَا سَرَقَ فِیْھِمُ الشَّرِیْفُ تَرَکُوْہُ وَإِذَا سَرَقَ فِیْھِمُ الضَّعِیْفُ أَقَامُوْاعَلَیْہِ الْحَدَّ وََأَیْمُ اللّٰہِ لَوْ أَنَّ فَاطِمَۃَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ لَقَطَعْتُ یَدَھَا) (رواہ البخا ری : باب حدیث الغار) ” حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ قریش اس مخزومی عورت کے بارے میں بڑے فکر مند ہوئے جس نے چوری کی تھی انہوں نے سوچا کہ اس معاملے میں اللہ کے رسول سے کون بات کرے گا ؟ کہنے لگے کہ یہ کام اسامہ بن زید (رض) کے سوا کوئی نہیں کرسکتا کیونکہ وہ اللہ کے رسول کا محبوب ہے۔ اسامہ نے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کی۔ آپ نے فرمایا : کیا تم اللہ کی حدود میں سے ایک حد کے متعلق سفارش کرتے ہو ؟ پھر آپ کھڑے ہوئے اور ارشاد فرمایا : یقیناً تم سے پہلے لوگ اسی وجہ سے تباہ ہوئے کہ جب ان میں کوئی بڑاچوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اگر کمزور چوری کرتا تو اس پر حد نافذ کرتے۔ اللہ کی قسم ! اگر فاطمہ بنت محمد بھی چوری کرتی تو میں اس کا ہاتھ کاٹ دیتا۔ “ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ نے ایک میزان قائم فرمایا ہے۔ ٢۔ میزان میں کمی بیشی کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ تفسیر بالقرآن القِسط کی اہمیت وفرضیت : ١۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو عدل و انصاف کا حکم۔ (الاعراف : ٢٩) ٢۔ صلح بھی عدل و انصاف سے کروانا چاہیے۔ (الحجرات : ٩) ٣۔ رسولوں کی بعثت کا مقصد انصاف قائم کرنا تھا۔ (الحدید : ٢٥) ٤۔ انصاف کی بات کہنے کا حکم۔ (الانعام : ١٥٢) ٥۔ کسی کی دشمنی عدل و انصاف میں رکاوٹ نہیں بننی چاہیے۔ (المائدۃ : ٨) ٦۔ داؤد (علیہ السلام) کو عدل کرنے کا حکم۔ (آ : ٢٦)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اللہ نے میزان قائم کردیا ہے۔ اس کا تقاضا یہ ہے کہ : الا تطغوا فی المیزان (55: ٨) ” تم میزان میں خلل نہ ڈالو ، کمی بیشی نہ کرو اور واقیموا ............ المیزان ” اور انصاف کے ساتھ ٹھیک ٹھیک تولو اور ترازو میں ڈنڈی نہ مارو “ میزان حق حقدار کو دینے اور انصاف کرنے کے لئے قائم ہوتا ہے لہٰذا نہ حد سے آگے جاؤ نہ پیچھے رہو۔ اس طرح زمین کے اندر موجود حق اور میزان اور انسانوں کی زندگی کے اندر موجود حقوق میں حق بحق دار رسید کے مطابق اسلامی نظام اور کائنات کے نظام کے درمیان توازن اور ہم آہنگی پیدا ہوگی۔ یوں آسمانوں سے نزول وحی اور آسمانوں کی رفعت اور بلندی دونوں کے درمیان اللہ کا میزان کام کرتا ہے اور یوں یہ دونوں مفہوم انسانی احساس پر سایہ فگن ہوتے ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

انصاف کے ساتھ وزن کرنے کا حکم : ﴿ وَ وَضَعَ الْمِيْزَانَۙ٠٠٧﴾ اور اللہ تعالیٰ نے ترازو کو رکھ دیا ﴿ اَلَّا تَطْغَوْا فِي الْمِيْزَانِ ٠٠٨﴾ (تاکہ تولنے میں سرکشی یعنی نافرمانی نہ کرو) عدل پر قائم رہو ایسا نہ کرو کہ دوسروں سے اپنے حق میں زیادہ تلواؤ اور دوسروں کے لیے تولو تو ڈنڈی ماردو اور گھٹا کر تولو جیسا کہ سورة التطفیف کے شروع میں تولنے والوں کی زیادتی کا طریقہ بیان فرمایا ہے، سورة الانعام اور سورة بنی اسرائیل میں بھی حکم ہے (کہ ناپ اور تول کو انصاف کے ساتھ قائم کرو) ﴿وَ الْاَرْضَ وَ ضَعَهَا لِلْاَنَامِۙ٠٠١٠﴾ (اور زمین کو رکھ دیا لوگوں کے نفع کے لیے) زمین کو اللہ تعالیٰ نے بچھونا بنا دیا اسے نرم بنا دیا تاکہ اسے کھودسکیں، حوض و تالاب بنا سکیں، اس پر عمارتیں کھڑی کرسکیں، مردے دفن کرسکیں، درخت لگا سکیں، کھیتی بوسکیں، ریلیں چلائیں، گھوڑے دوڑائیں، بیچاری بےزبان ہے کچھ بھی انکار نہیں کرتی، اس لیے سورة الملک میں اسے ذلولاً بتایا ہے، اس کے علاوہ بھی زمین سے بنی آدم کے بہت سے فوائد اور منافع وابستہ ہیں، اس کو لفظ للانام میں ظاہر فرمایا، اس کے بعد بعض فوائد کا خصوصی تذکرہ فرمایا ﴿ فِيْهَا فَاكِهَةٌ١۪ۙ﴾ (الآیتیں) اس میں میوے ہیں اور کھجوریں ہیں۔ اکمام، كم کی جمع ہے پھلوں پر جو غلاف ہوتا ہے اسے کم کہا جاتا ہے اس سے ایک تو پھل کی حفاظت رہتی ہے دوسرے خود یہ غلاف بھی کام آتے ہیں، ﴿وَ الْحَبُّ ذو الْعَصْفِ ﴾ اور زمین میں دانے ہیں (گیہوں، جو وغیرہ) جو انسانوں کی غذا بنتے ہیں اور ان دانوں پر بھی غلاف چڑھے ہوئے ہیں جن کو علیحدہ کیا جاتا ہے، ان دانوں کو انسان کھاتے ہیں اور ان کے اوپر جو غلاف یعنی بھوسہ ہوتا ہے اسے حیوان کھاتے ہیں ﴿وَ الرَّيْحَانُۚ٠٠١٢﴾ اس کا ایک ترجمہ تو خوشبودار نبات کیا گیا ہے اور بعض حضرات نے اس کا ترجمہ پھول کیا ہے، اور حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ اس سے رزق مراد ہے بطور قاعدہ کلیہ انہوں نے ارشاد فرما دیا کہ کل ریحان فی القرآن فھو رزق یہ اقوال لکھنے کے بعد صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ رزق کو ریحان اس لیے کہا گیا ہے کہ اس سے راحت ملتی ہے، زمین سے نکلنے والی جن نعمتوں کا تذکرہ فرمایا ان میں وہ چیزیں بھی ہیں جن میں غذا ہے اور لذت ہے اور وہ چیزیں بھی ہیں جن میں محض غذائیت ہے اور وہ چیزیں بھی ہیں جو بہائم یعنی چوپایوں کے کام آتی ہیں ان نعمتوں کے تذکرہ کے بعد فرمایا ﴿فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ﴾ سو اے جنو اور اے انسانو تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔ اوپر جو نعمتیں مذکور ہوئی ہیں ان سے دونوں فریق نفع حاصل کرتے ہیں۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(8) تاکہ تم تولنے میں بےاعتدائی اور کمی بیشی نہ کرو۔ آسمان کا بلند کرنا علاوہ دیگر احسانات کے ایک بڑی نعمت ہے کہ اس سے خالق اور صانع عالم کے وجود پر استدلال کیا جاتا ہے نیز اس آسمان پر فرشتے رہتے ہیں اور ترازو رکھنے کا مطلب یہ کہ ہر چیز کی تول کی جاسکے اور صحیح اندازہ لگایا جاسکے خواہ وہ ترازو ہو ، پیمانہ ہو کوئی آلہ ہو بہرحال ترازو سے کاروبار کرنے والوں اور لین دین کرنے والوں کے لئے بڑے منافع ہیں ساتھ ہی ترازو کے سلسلے میں یہ بھی فرمایا تاکہ کمی بیشی نہ کرو۔