Surat ul Waqiya

Surah: 56

Verse: 27

سورة الواقعة

وَ اَصۡحٰبُ الۡیَمِیۡنِ ۬ ۙ مَاۤ اَصۡحٰبُ الۡیَمِیۡنِ ﴿ؕ۲۷﴾

The companions of the right - what are the companions of the right?

اور داہنے ہاتھ والے کیا ہی اچھے ہیں داہنے ہاتھ والے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Reward of Those on the Right After Allah mentioned the final destination of those foremost in faith, the nearest to Him, He next mentioned the end of those on the right, the righteous believers. Maymun bin Mihran said that those on the right side are lesser in rank than the foremost in faith. Allah said, وَأَصْحَابُ الْيَمِينِ مَا أَصْحَابُ الْيَمِينِ And those on the right -- how (fortunate) will be those on the right? who are those on the right, what is their condition and what will their final destination be like? Allah next answers this question by saying, فِي سِدْرٍ مَّخْضُودٍ

اصحاب یمین اور ان پر انعامات الٰہی سابقین کا حال بیان کر کے اللہ تعالیٰ اب ابرار کا حال بیان فرماتا ہے جو سابقین سے کم مرتبہ ہیں ۔ ان کا کیا حال ہے کیا نتیجہ ہے اسے سنو ، یہ ان جنتوں میں ہیں جہاں بیری کے درخت ہیں لیکن کانٹے دار نہیں ۔ اور پھل بکثرت اور بہترین ہیں دنیا میں بیری کے درخت زیادہ کانٹوں والے اور کم پھلوں والے ہوتے ہیں ۔ جنت کے یہ درخت زیادہ پھلوں والے اور بالکل بےخار ہوں گے ، پھلوں کے بوجھ سے درخت کے تنے جھکے جاتے ہوں گے حضرت ابو بر احمد بن نجار رحمۃ اللہ علیہ نے ایک روایت وارد کی ہے کہ صحابہ کہتے ہیں کہ اعرابیوں کا حضور کے سامنے آنا اور آپ سے مسائل پوچھنا ہمیں بہت نفع دیتا تھا ایک مرتبہ ایک اعرابی نے آ کر کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن میں ایک ایسے درخت کا بھی ذکر ہے جو ایذاء دیتا ، آپ نے پوچھا وہ کونسا اس نے کہا بیری کا درخت ، آپ نے فرمایا پھر تو نے اس کے ساتھ ہی لفظ مخضود نہیں پڑھا ؟ اس کے کانٹے اللہ تعالیٰ نے دور کر دیئے ہیں اور ان کے بدلے پھل پیدا کر دیئے ہیں ہر ایک بیری میں بہتر قسم کے ذائقے ہوں گے جن کا رنگ و مزہ مختلف ہوگا ، یہ روایت دوسری کتابوں میں بھی مروی ہے اس میں لفظ طلح ہے اور ستر ذائقوں کا بیان ہے ۔ طلح ایک بڑا درخت ہے جو حجاز کی سرزمین میں ہوتا ہے ، یہ کانٹے دار درخت ہے اس میں کانٹے بہت زیادہ ہوتے ہیں ۔ چنانچہ ابن جریر نے اس کی شہادت عربی کے ایک شعر سے بھی دی ہے ۔ ( منضود ) کے معنی تہ بہ تہ پھل والا ، پھل سے لدا ہوا ۔ ان دونوں کا ذکر اس لئے ہوا کہ عرب ان درختوں کی گہری اور میٹھی چھاؤں کو پسند کرتے تھے ، یہ درخت بظاہر دنیوی درخت جیسا ہو گا لیکن بجائے کانٹوں کے اس میں شیرین پھل ہوں گے ۔ جوہری فرماتے ہیں طلح بھی کہتے ہیں اور طلع بھی ، حضرت علی سے بھی یہ مروی ہے ، تو ممکن ہے کہ یہ بھی بیری کی ہی صفت ہو ، یعنی وہ بیریاں بےخاسر اور بکثرت پھلدار ہیں واللہ اعلم ۔ اور حضرات نے طلح سے مراد کیلے کا درخت کہا ہے ، اہل یمن کیلے کو طلح کہتے ہیں اور اہل حجاز موز کہتے ہیں ۔ لمبے لمبے سایوں میں یہ ہوں گے ۔ صحیح بخاری میں رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جنت کے درخت کے سائے تلے تیز سوار سو سال تک چلتا رہے ۔ گا لیکن سایہ ختم نہ ہوگا ۔ اگر تم چاہو اس آیت کو پڑھو ، مسلم میں بھی یہ روایت موجود ہے اور مسند احمد ، مسند ابو یعلی میں بھی مسند کی اور حدیث میں شک کے ساتھ ہے یعنی ستر یا سو اور یہ بھی ہے کہ یہ شجرۃ الخلد ہے ، ابن جریر اور ترمذی میں بھی یہ حدیث ہے پس یہ حدث متواتر اور قطعاً صحیح ہے اس کی اسناد بہت ہیں اور اس کے راوی ثقہ ہیں ، ابن ابی حاتم وغیرہ میں بھی یہ حدیث ہے ، حضرت ابو ہریرہ نے جب یہ روایت بیان کی اور حضرت کعب کے کانوں تک پہنچی تو آپ نے فرمایا اس اللہ کی قسم جس نے تورات حضرت موسیٰ پر اور قرآن حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اتارا کہ اگر کوئی شخص نوجوان اونٹنی پر سوار ہو کر اس وقت چلتا رہے جب تک وہ بڑھیا ہو کر گر جائے تو بھی اس کی انتہاء کو نہیں پہنچ سکتا ، اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے ہاتھ سے بویا ہے اور خود آپ اس میں اپنے پاس کی روح پھونکی ہے اس کی شاخیں جنت کی دیواروں سے باہر نکلی ہوئی ہیں ۔ ابو حصین کہتے ہیں کہ ایک موضع میں ایک دروازے پر ہم تھے ہمارے ساتھ ابو صالح اور شفیق جہنی بھی تھے اور ابو صالح نے حضرت ابو ہریرہ والی اوپر کی حدیث بیان کی اور کہا کیا تو ابو ہریرہ کو جھٹلاتا ہے ؟ اس نے کہا نہیں ، انہیں تو نہیں تجھے جھٹلاتا ہوں ۔ پس یہ قاریوں پر بہت گراں گذرا ۔ میں کہتا ہوں اس ثابت ، صحیح اور مرفوع حدیث کو جو جھٹلائے وہ غلطی پر ہے ۔ ترمذی میں ہے جنت کے ہر درخت کا تنہ سونے کا ہے ۔ ابن عباس فرماتے ہیں جنت میں ایک درخت ہے جس کے ہر طرف سو سو سال کے راستے تک سایہ پھیلا ہوا ہے ۔ جنتی لوگ اس کے نیچے آکر بیٹھتے ہیں اور آپس میں باتیں کرتے ہیں ۔ کسی کو دنیوی کھیل تماشے اور دل بہلاوے یاد آتے ہیں تو اسی وقت ایک جنتی ہوا چلتی ہے اور اس درخت میں سے تمام راگ راگنیاں باجے گاجے اور کھیل تماشوں کی آوازیں آنے لگتی ہیں ، یہ اثر غریب ہے اور اس کی سند قوی ہے ۔ حضرت عمرو بن میمون فرماتے ہیں یہ سایہ ستر ہزار سال کی طولانی میں ہوگا ۔ آپ سے مرفوع حدیث میں ایک سو سال مروی ہے یہ سایہ گھٹتا ہی نہیں نہ سورج آئے نہ گرمی ستائے ، فجر کے طلوع ہونے سے پیشتر کا سماں ہر وقت اس کے نیچے رہتا ہے ۔ ابن مسعود فرماتے ہیں جنت میں ہمیشہ وہ وقت رہے گا جو صبح صادق کے بعد سے لے کر آفتاب کے طلوع ہونے کے درمیان درمیان رہتا ہے سایہ کے مضمون کی روایتیں بھی اس سے پہلے گذر چکی ہیں ، جیسے آیت ( وَّنُدْخِلُھُمْ ظِلًّا ظَلِيْلًا 57؀ ) 4- النسآء:57 ) اور آیت ( اُكُلُهَا دَاۗىِٕمٌ وَّظِلُّهَا 35؁ ) 13- الرعد:35 ) اور آیت ( اِنَّ الْمُتَّقِيْنَ فِيْ ظِلٰلٍ وَّعُيُوْنٍ 41؀ۙ ) 77- المرسلات:41 ) وغیرہ پانی ہو گا بہتا ہوا مگر نہروں کے گڑھے اور کھدی ہوئی زمین نہ ہوگی ، اس کی پوری تفسیر آیت ( فِيْهَآ اَنْهٰرٌ مِّنْ مَّاۗءٍ غَيْرِ اٰسِنٍ 15؀ ) 47-محمد:15 ) میں گذر چکی ہے ۔ ان کے پاس بکثرت طرح طرح کے لذیر میوے ہیں جو نہ کسی آنکھ نے دیکھے نہ کسی کان نے سنے نہ کسی انسانی دل پر ان کا وہم و خیال گذرا ۔ جیسے اور آیت میں ہے جب وہاں پھلوں سے روزی دیئے جائیں گے تو کہیں گے کہ یہ تو ہم پہلے بھی دئے گئے تھے کیونکہ بالکل ہم شکل ہوں گے ، لیکن جب کھائیں گے تو ذائقہ اور ہی پائیں گے ۔ بخاری و مسلم میں سدرۃ المنتہی کے ذکر میں ہے کہ اس کے پتے مثل ہاتھی کے کانوں کے ہوں گے اور پھل مثل ہجر کے بڑے بڑے مٹکوں کے ہوں گے ، حضرت ابن عباس کی اس حدیث میں جس میں آپ نے سورج کے گہن ہونے کا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا سورج گہن کی نماز ادا کرنے کا واقعہ تفصیل سے بیان کیا ہے یہ بھی ہے کہ بعد فراغت آپ کے ساتھ کے نمازیوں نے آپ سے پوچھا حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے آپ کو اس جگہ آگے بڑھتے اور پیچھے ہٹتے دیکھا کیا بات تھی؟ آپ نے فرمایا میں نے جنت دیکھی جنت کے میوے کا خوشہ لینا چاہا اگر میں لے لیتا تو رہتی دنیا تک وہ رہتا اور تم کھاتے رہتے ۔ ابو یعلی میں ہے ظہر کی فرض نماز پڑھاتے ہوئے حضرت ابی کعب نے پوچھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھ گئے اور ہم بھی پھر آپ نے گویا کوئی چیز لینی چاہی ، پھر پیچھے ہٹ آئے ، نماز سے فارغ ہو کر حضرت ابی کعب نے پوچھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم آج تو آپ نے ایسی بات کی جو اس سے پہلے کبھی نہیں کی تھی ، آپ نے فرمایا میرے سامنے جنت لائی گئی اور جو اس میں تروتازگی اور سبزی ہے میں نے اس میں سے ایک انگور کا خوشہ توڑنا چاہا تا کہ لا کر تمہیں دوں پس میرے اور اس کے درمیان پردہ حائل کر دیا گیا اور اگر اس میں اسے تمہارے پاس لے آتا تو زمین و آسمان کے درمیان کی مخلوق اسے کھاتی رہتی تاہم اس میں ذرا سی بھی کمی نہ آتی ۔ اسی کے مثل حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے صحیح مسلم شریف میں بھی مروی ہے ، مسند امام احمد میں ہے کہ ایک اعرابی نے آ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے حوض کوثر کی بابت سوال کیا اور جنت کا بھی ذکر کیا پوچھا کہ کیا اس میں میوے بھی ہیں؟ آپ نے فرمایا ہاں وہاں طوبیٰ نامی درخت بھی ہے؟ پھر کچھ کہا جو مجھے یاد نہیں پھر پوچھا وہ درخت ہماری زمین کے کس درخت سے مشابہت رکھتا ہے؟ آپ نے فرمایا تیرے ملک کی زمین میں کوئی درخت اس کا ہم شکل نہیں ۔ کیا تو شام میں گیا ہے؟ اس نے کہا نہیں ، فرمایا شام میں ایک درخت ہوتا ہے جسے جوزہ کہتے ہیں ایک ہی تنہ ہوتا ہے اور اوپر کا حصہ پھیلا ہوا ہوتا ہے وہ البتہ اس کے مشابہ ہے ، اس نے پوچھا جنتی خوشے کتنے بڑے ہوتے ہیں؟ فرمایا کالا کوا مہینہ بھر تک اڑتا رہے اتنے بڑے ۔ وہ کہنے لگا اس درخت کا تنہ کس قدر موٹا ہے آپ نے فرمایا اگر تو اپنی اونٹنی کے بچے کو چھوڑ دے اور وہ چلتا رہے یہاں تک کہ بوڑھا ہو کر گر پڑے تب بھی اس کے تنے کا چکر پورا نہیں کر سکتا ۔ اس نے کہا اس میں انگور بھی لگتے ہیں؟ آپ نے فرمایا ہاں پوچھا کتنے بڑے ؟ آپ نے جواب دیا کہ کیا کبھی تیرے باپ نے اپنے ریوڑ میں سے کوئی موٹا تازہ بکرا ذبح کر کے اس کی کھال کھینچ کر تیری ماں کو دے کر کہا ہے کہ اس کا ڈول بنا لو؟ اس نے کہا ہاں ، فرمایا بس اتنے ہی بڑے بڑے انگور کے دانے ہوتے ہیں ۔ اس نے کہا پھر تو ایک ہی دانہ مجھ کو اور میرے گھر والوں کو کافی ہے آپ نے فرمایا بلکہ ساری برادری کو ، پھر یہ میوے بھی ہمیشہ رہنے والے ہیں ۔ نہ کبھی ختم ہوں نہ کبھی ان سے روکا جائے ۔ یہ نہیں کہ جاڑے میں ہیں اور گرمیوں میں نہیں ، یا گرمیوں میں ہیں اور جاڑوں میں ندارد بلکہ یہ میوے دوام والے اور ہمیشہ ہمیشہ رہنے والے ہیں جب طلب کریں پالیں اللہ کی قدرت ہر وقت وہ موجود رہیں گے ، بلکہ کسی کانٹے اور کسی شاخ کو بھی آڑ نہ ہو گی نہ دوری ہو گی نہ حاصل کرنے میں تکلف اور تکلیف ہوگی ۔ بلکہ ادھر پھل توڑا ادھر اس کے قائم مقام دوسرا پھل لگ گیا ، جیسے کہ اس سے پہلے حدیث میں گذر چکا ۔ ان کے فرش بلند و بالا نرم اور گدگدے راحت و آرام دینے والے ہوں گے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ان کی اونچائی اتنی ہوگی جتنی زمین و آسمان کی یعنی پانچ سو سال کی ( ترمذی ) یہ حدیث غریب ہے ، بعض اہل معانی نے کہا ہے کہ مطلب اس حدیث شریف کا یہ ہے کہ فرش کی بلندی درجے کی آسمان و زمین کے برابر ہے یعنی ایک درجہ دوسرے درجے سے اس قدر بلند ہے ۔ ہر دو درجوں میں پانچ سو سال کی راہ کا فاصلہ ہے ، پھر یہ بھی خیال رہے کہ یہ روایت صرف رشد بن سعد سے مروی ہے اور وہ ضعیف ہیں ۔ یہ روایت ابن جرید ابن ابی حاتم وغیرہ میں بھی ہے ۔ حضرت حسن سے مروی ہے کہ ان کی اونچائی اسی سال کی ہے ۔ اس کے بعد ضمیر لائی جس کا مرجع پہلے مذکور نہیں اس لئے کہ قرینہ موجود ہے ۔ بستر کا ذکر آیا جس پر جنتیوں کی بیویاں ہوں گی پس ان کی طرف ضمیر پھیر دی ۔ جیسے حضرت سلیمان کے ذکر میں تورات کا لفظ آیا ہے اور شمس کا لفظ اس سے پہلے نہیں پس قرینہ کافی ہے ۔ لیکن ابو عبیدہ کہتے ہیں پہلے مذکورہ ہو چکا آیت ( وَحُوْرٌ عِيْنٌ 22۝ۙ ) 56- الواقعة:22 ) پس فرماتا ہے کہ ہم نے ان بیویوں کو نئی پیدائش میں پیدا کیا ہے ، اس کے بعد کہ وہ باکل پھوس بڑھیا تھیں ہم نے انہیں نو عمر کنواریاں کر کے ایک خاص پیدائش میں پیدا کیا ۔ وہ اپنے ظفافت و ملاحت ، حسن صورت و جسامت سے خوش خلقی اور حلاوت کی وجہ سے اپنے خاوندوں کی بڑی پیاریاں ہیں ، بعض کہتے ہیں عرباء کہتے ہیں ناز و کرشمہ والیوں کو حدیث میں ہے کہ یہ وہ عورتیں ہیں جو دنیا میں بڑھیا تھیں اور اب جنت میں گئی ہیں تو انہیں نو عمر وغیرہ کر دیا ہے اور روایت میں ہے کہ خواہ یہ عورتیں کنواری تھیں یا ثیبہ تھیں اللہ ان سب کو ایسی کر دے گا ، ایک بڑھیا عورت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہتی ہے کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے لئے دعا کیجیئے کہ اللہ تعالیٰ مجھے جنت میں داخل کر دے آپ نے فرمایا ام فلاں جنت میں کوئی بڑھیا نہیں جائے گی ، وہ روتی ہوئی واپس لوٹیں تو آپ نے فرمایا جاؤ انہیں سمجھا دو ، مطلب یہ ہے کہ جب وہ جنت میں جائیں گی بڑھیا نہ ہوں گی ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم انہیں نئی پیدائش میں پیدا کریں گے پھر باکرہ کر دیں گے شمائل ترمذی وغیرہ طبرانی میں ہے حضرت ام سلمہ فرماتی ہیں میں نے کہا یا رسول اللہ حورعین کی خبر مجھے دیجئے آپ نے فرمایا وہ گورے رنگ کی ہیں بڑی بڑی آنکھوں والی ہیں سخت سیاہ اور بڑے بڑے بالوں والی ہیں جیسے گدھ کا پر ، ۔ میں نے کہا ( اللُّؤْلُـہ الْمَكْنُوْنِ 23۝ۚ ) 56- الواقعة:23 ) کی بابت خبر دیجئے آپ نے ارشاد فرمایا دن کی صفائی اور جوت مثل اس موتی کے ہے جو سیپ سے ابھی ابھی نکلا ہو جسے کسی کا ہاتھ بھی نہ لگا ہو ، میں نے کہا خیرات حسان کی کیا تفسیر ہے؟ فرمایا خوش خلق خوبصورت میں نے کہا ( كَاَنَّهُنَّ بَيْضٌ مَّكْنُوْنٌ 49؀ ) 37- الصافات:49 ) سے کیا مراد ہے؟ فرمایا ان کی نذاکت اور نرمی انڈے کی اس جھلی کی مانند ہو گی جو اندر ہوتی ہے ، میں نے عرباء اترابا کے معنی دریافت کئے ، فرمایا اس سے مراد دنیا کی مسلمان جنتی عورتیں ہیں جو بالکل بڑھیا پھوس تھیں ، اللہ تعالیٰ نے انہیں نئے سرے سے پیدا کیا اور کنواریاں اور خاوندوں کی چہیتیاں اور خاوندوں سے عشق رکھنے والیاں اور ہم عمر بنا دیں ، میں نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا کی عورتیں افضل ہیں جیسے استر سے ابرا بہتر ہوتا ہے ، میں نے کہا اس فضیلت کی کیا وجہ ہے؟ فرمایا نمازیں روزے اور اللہ تعالیٰ کی عبادتیں ، اللہ نے ان کے چہرے نور سے ان کے جسم ریشم سے سنوار دیئے ہیں ، سفید ریشم ، سبز ریشم اور زرد سنہرے ریشم اور زرد سنہرے زیور بخوردان موتی کے کنگھیاں سونے کی یہ کہتی رہیں گی نحن الخالدات فلا نموت ابدا ونحن الناعمات فلا نباس ابدا ونحن المقیمات فلا نطعن ابدا ونحن الراضیات فلا نسخط ابدا طوبی لمن کنا لہ وکان لنا یعنی ہم ہمیشہ رہنے والی ہیں کبھی مریں گی نہیں ، ہم ناز اور نعمت والیاں ہیں کہ کبھی سفر میں نہیں جائیں گی ہم اپنے خاوندوں سے خوش رہنے والیاں ہیں کہ کبھی روٹھیں گی نہیں ۔ خوش نصیب ہیں وہ لوگ جن کے لئے ہم ہیں اور خوش نصیب ہیں ہم کہ ان کے لئے ہیں ۔ میں نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بعض عورتوں کے دو دو تین تین چار چار خاوند ہو جاتے ہیں اس کے بعد اسے موت آتی ہے مرنے کے بعد اگر یہ جنت میں گئی اور اس کے سب خاوند بھی گئے تو یہ کسے ملے گی؟ آپ نے فرمایا اسے اختیار دیا جائے گا کہ جس کے ساتھ چاہے رہے چنانچہ یہ ان میں سے اسے پسند کرے گی جو اس کے ساتھ بہترین برتاؤ کرتا رہا ہو ، اللہ تعالیٰ سے کہے گی پروردگار یہ مجھ سے بہت اچھی بودوباش رکھتا تھا اسی کے نکاح میں مجھے دے ، اے ام سلمہ حسن خلق دنیا اور آخرت کی بھلائیوں کو لئے ہوئے ہے ۔ صور کی مشہور مطول حدیث میں ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم تمام مسلمانوں کو جنت میں لے جانے کی سفارش کریں گے جس پر اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں نے آپ کی شفاعت قبول کی اور آپ کو انہیں جنت میں پہنچانے کی اجازت دی ، آپ فرماتے ہیں پھر میں انہیں جنت میں لے جاؤں گا اللہ کی قسم تم جس قدر اپنے گھر بار اور اپنی بیویوں سے واقف ہو اس سے بہت زیادہ اہل جنت اپنے گھروں اور بیویوں سے واقف ہوں گے ۔ پس ایک ایک جنتی کی بہتر بہتر بیویاں ہوں گی جو اللہ کی بنائی ہوئی ہیں اور دو دو بیویاں عورتوں میں سے ہوں گی کہ انہیں بوجہ اپنی عبادت کے ان سب عورتوں پر فضیلت حاصل ہوگی جنتی ان میں سے ایک کے پاس جائے گا یہ اس بالا خانے میں ہوگی جو یاقوت کا بنا ہوا ہوگا اس پلنگ پر ہوگی جو سونے کی تاروں سے بنا ہوا ہوگا اور جڑاؤ جڑا ہوا ہوگا ، ستر جوڑے پہنے ہوئے ہوں گے جو سب باریک اور سبز چمکیلے خالص ریشم کے ہوں گے ، یہ بیوی اس قدر نازک نورانی ہوگی کہ اس کی کمر پر ہاتھ رکھ کر سینے کی طرف سے دیکھے گا تو صاف نظر آجائے گا ، کہ کپڑے گوشت ہڈی کوئی چیز روک نہ ہوگی اس قدر اس کا جسم صاف اور آئینہ نما ہوگا جس طرح مروارید میں سوراخ کر کے ڈورا ڈال دیں تو وہ ڈورا باہر سے نظر آتا ہے اسی طرح اس کی پنڈلی کا گودا نظر آئے گا ۔ ایسا ہی نورانی بدن اس جنتی کا بھی ہوگا ، الغرض یہ اس کا آئینہ ہوگی ، اور وہ اس کا یہ اس کے ساتھ عیش و عشرت میں مشغول ہوگا نہ یہ تھکے نہ وہ اس کا دل بھرے نہ اس کا ۔ جب کبھی نزدیکی کرے گا تو کنواری پائے گا نہ اس کا عضو سست ہو نہ اسے گراں گذرے مگر خاص پانی وہاں نہ ہوگا جس سے گھن آئے ، یہ یونہی مشغول ہوگا جو کان میں ندا آئے گی کہ یہ تو ہمیں خوب معلوم ہے کہ نہ آپ کا دل ان سے بھرے گا نہ ان کا آپ سے مگر آپ کی دوسری بیویاں بھی ہیں ، اب یہ یہاں سے باہر آئے گا اور ایک ایک کے پاس جائے گا جس کے پاس جائے گا اسے دیکھ کر بےساختہ اس کے منہ سے نکل جائے گا ۔ کہ رب کی قسم تجھ سے بہتر جنت میں کوئی چیز نہیں نہ میری محبت کسی سے تجھ سے زیادہ ہے ، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھتے ہیں کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا جنت سے تجھ سے زیادہ ہے ، حضرت ابو ہریرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھتے ہیں کہ یا رسول اللہ کیا جنت میں جنتی لوگ جماع بھی کریں گے؟ آپ نے فرمایا ہاں قسم اس اللہ کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے خوب اچھی طرح بہترین طریق پر جب الگ ہوگا وہ اسی وقت پھر پاک صاف اچھوتی باکرہ بن جائے گی ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مومن کو جنت میں اتنی اتنی عورتوں کے پاس جانے کی قوت عطا کی جائے گی ، حضرت انس نے پوچھا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کیا اتنی طاقت رکھے گا ؟ آپ نے فرمایا ایک سو آدمیوں کے برابر اسے قوت ملے گی ، طبرانی کی حدیث میں ہے ایک ایک سو کنواریوں کے پاس ایک ایک دن میں ہو آئے گا ۔ حافظ عبداللہ مقدسی فرماتے ہیں میرے نزدیک یہ حدیث شرط صحیح پر ہے واللہ اعلم ۔ ابن عباس عربا کی تفسیر میں فرماتے ہں یہ اپنے خاوندوں کی محبوبہ ہوں گی ، یہ اپنے خاوندوں کی عاشق اور خاوند ان کے عاشق ۔ عکرمہ سے مروی ہے کہ اس کا معنی ناز و کرشمہ والی ہے اور سند سے مروی ہے کہ معنی نزاکت والی ہے ، تمیم بن حدلم کہتے ہیں عربا اس عورت کو کہتے ہیں جو اپنے خاوند کا دل مٹھی میں رکھے ۔ زید بن اسلم وغیرہ سے مروی ہے کہ مراد خوش کلام ہے اپنی باتوں سے اپنے خاوندوں کا دل مول لیتی ہیں جب کچھ بولیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ پھول جھڑتے ہیں اور نور برستا ہے ۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ انہیں عرب اس لئے کہا گیا ہے کہ ان کی بول چال عربی زبان میں ہوگی ۔ اتراب کے معنی ہیں ہم عمر عینی تینتیس برس کی اور معنی ہیں کہ خاوند کی اور ان کی طبیعت اور خلق بالکل یکساں ہے جس سے وہ خوش یہ خوش جو اسے ناپسند اسے بھی ناپسند ۔ ، یہ معنی بھی بیان کئے گئے ہیں کہ آپس میں ان میں بیر بغض سوتیا ڈاہ حسد اور رشک نہ ہوگا ۔ یہ سب آپس میں بھی ہم عمر ہوں گی تاکہ بےتکلف ایک دوسری سے ملیں جلیں کھیلیں کودیں ، ترمذی کی حدیث میں ہے کہ یہ جنتی حوریں ایک روح افزا باغ میں جمع ہو کر نہایت پیارے گلے سے گانا گائیں گی کہ ایسی سریلی اور رسیلی آواز مخلوق نے کبھی نہ سنی ہوگی ، ان کا گانا وہی ہوگا جو اوپر بیان ہوا ابو یعلی میں ہے ان کے گانے میں یہ بھی ہوگا ( نحن خیرات حسان ) ۔ ( خبئنا لازواج کرام ) ہم پاک صاف خوش وضع خوبصورت عورتیں ہیں جو بزرگ اور ذی عزت شوہروں کے لئے چھپا کر رکھی گئی تھیں اور روایت میں خیرات کے بدلے جوار کا لفظ آیا ہے ۔ پھر فرمایا یہ اصحاب یمین کے لئے پیدا کی گئی ہیں اور انہی کے لئے محفوظ و مصؤن رکھی گئی تھیں ۔ لیکن زیادہ ظاہر یہ ہے کہ یہ متعلق ہے آیت ( اِنَّآ اَنْشَاْنٰهُنَّ اِنْشَاۗءً 35۝ۙ ) 56- الواقعة:35 ) ، کے یعنی ہم نے انہیں ان کے لئے بنایا ہے ۔ حضرت ابو سلیمان دارانی رحمتۃ اللہ علیہ سے منقول ہے کہ میں نے ایک رات تہجد کی نماز کے بعد دعا مانگنی شروع کی ، چونکہ سخت سردی تھی ، بڑے زور کا پالا پڑھ رہا تھا ، ہاتھ اٹھائے نہیں جاتے تھے اس لئے میں نے ایک ہی ہاتھ سے دعا مانگی اور اسی حالت میں دعا مانگتے مانگتے مجھے نیند آگئی خواب میں میں نے ایک حور کو دیکھا کہ اس جیسی خوبصورت نورانی شکل کبھی میری نگاہ سے نہیں گزری اس نے مجھ سے کہا اے ابو سلیمان ایک ہی ہاتھ سے دعا مانگنے لگے اور یہ خیال نہیں کہ پانچ سو سال سے اللہ تعالیٰ مجھے تمہارے لئے اپنی خاص نعمتوں میں پرورش کر رہا ہے ۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ لام متعلق اتراباً کے ہو یعنی ان کی ہم عمر ہوں گی جیسے کہ بخاری مسلم وغیرہ کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں پہلی جماعت جو جنت میں جائے گی ان کے چہرے چودہویں رات جیسے روشن ہوں گے ان کے بعد والی جماعت کے بہت چمکدار ستارے جیسے روشن ہوں گے یہ پاخانے پیشاب تھوک رینٹ سے پاک ہوں گے ان کی کنگھیاں سونے کی ہوں گی ان کے پسینے مشک کی خوشبو والے ہوں گے ان کی انگیٹھیاں لؤلؤ کی ہوں گی ان کی بیویاں حور عین ہوں گی ان سب کے اخلاق مثل ایک ہی شخص کے ہوں گے ، یہ سب اپنے باپ حضرت آدم علیہ السلام کی شکل پر ساٹھ ہاتھ کے لانبے قد کے ہوں گے ۔ طبرانی میں ہے اہل جنت بےبال اور بےریش گورے رنگ والے خوش خلق اور خوبصورت سرمگیں آنکھوں والے تینتیس برس کی عمر کے سات ہاتھ لانبے اور سات ہاتھ چوڑے چکلے مضبوط بدن والے ہوں گے ۔ اس کا کچھ حصہ ترمذی میں بھی مروی ہے ۔ اور حدیث میں ہے کہ گو کسی عمر میں انتقال ہوا ہو دخول جنت کے وقت تینتیس سالہ عمر کے ہوں گے اور اسی عمر میں ہمیشہ رہیں گے ، اسی طرح جہنمی بھی ( ترمذی ) اور روایت میں ہے کہ ان کے قد سات ہاتھ فرشتے کے ہاتھ کے اعتبار سے ہوں گے قد آدم حسن یوسف عمر عیسیٰ یعنی تینتیس سال اور زبان محمد صلی اللہ علیہ وسلم یعنی عربی والے ہوں گے ، بےبال اور سرمگیں آنکھوں والے ( ابن ابی الدنیا ) اور روایت میں ہے کہ دخول جنت کے ساتھ ہی انہیں ایک جنتی درخت کے پاس لایا جائے گا اور وہاں انہیں کپڑے پہنائے جائیں گے ان کے کپڑے نہ گلیں نہ سڑیں نہ پرانے ہوں نہ میلے ہوں ان کی جوانی نہ ڈھلے نہ جائے نہ فنا ہو ۔ اصحاب یمین گزشتہ امتوں میں سے بھی بہت ہیں اور پچھلوں میں سے بھی بہت ہیں ، ابن ابی حاتم میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے بیان فرمایا میرے سامنے انبیاء مع اپنے تابعدار امتیوں کے پیش ہوئے بعض نبی گذرتے تھے اور بعض نبی کے ساتھ ایک جماعت ہوتی تھی اور بعض نبی کے ساتھ صرف تین آدمی ہوتے تھے اور بعض کے ساتھ ایک بھی تھا راوی حدیث حضرت قتادہ نے اتنا بیان فرمایا کہ یہ آیت پڑھی ( اَلَيْسَ مِنْكُمْ رَجُلٌ رَّشِيْدٌ 78؀ ) 11-ھود:78 ) کیا تم میں سے ایک بھی رشد و سمجھ والا نہیں؟ یہاں تک کہ حضرت موسیٰ بن عمران علیہ السلام گذرے جو بنی اسرائیل کی ایک بڑی جماعت ساتھ لئے ہوئے تھے ، میں نے پوچھا پروردگار یہ کون ہیں؟ جواب ملا یہ تمہارے بھائی موسیٰ بن عمران ہیں اور ان کے ساتھ ان کی تابعداری کرنے والی امت ہے میں نے پوچھا الٰہی پھر میری امت کہاں ہے؟ فرمایا اپنی داہنی جانب نیچے کی طرف دیکھو میں نے دیکھا تو بہت بڑی جماعت نظر آئی لوگوں کے بکثرت چہرے دمک رہے تھے ، پھر مجھ سے پوچھا کہو اب تو خوش ہو میں نے کہا ہاں الٰہی میں خوش ہوں ، مجھ سے فرمایا اب اپنی بائیں جانب کناروں کی طرف دیکھو میں نے دیکھا وہ وہاں بیشمار لوگ تھے پھر مجھ سے پوچھا اب تو راضی ہوگئے؟ میں نے کہا ہاں میرے رب میں راضی ہوں ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور سنو ان کے ساتھ ستر ہزار اور لوگ ہیں جو بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے یہ سن کر حضرت عکاشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کھڑے ہوگئے ، یہ قبیلہ بنو اسد سے محصن کے لڑکے تھے بدر کی لڑائی میں موجود تھے عرض کی کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ مجھے بھی انہی میں سے کرے آپ نے دعا کی پھر ایک اور شخص کھڑے ہوئے اور کہا اے اللہ کے رسول میرے لئے بھی دعا کیجئے ۔ آپ نے فرمایا عکاشہ تجھ پر سبقت کر گئے ، پھر آپ نے فرمایا لوگوں تم پر میرے ماں باپ فدا ہوں اگر تم سے ہو سکے تو ان ستر ہزار میں سے بنو جو بےحساب جنت میں جائیں گے ، ورنہ کم سے کم دائیں جانب والوں میں سے ہو جاؤ گے ، یہ بھی نہ ہو سکے تو کنارے والوں میں سے بن جاؤ ۔ میں نے اکثر لوگوں کو دیکھا ہے کہ اپنے حال میں ہی لٹک جاتے ہیں ۔ پھر فرمایا مجھے امید ہے کہ تمام اہل جنت کی چوتھائی تعداد صرف تمہاری ہی ہوگی ۔ پس ہم نے تکبیر کہی پھر فرمایا بلکہ مجھے امید ہے کہ تم تمام جنت کی تہائی والے ہوگے ، ہم نے پھر تکبیر کہی ۔ فرمایا اور سنو! تم آدھوں آدھ اہل جنت کے ہوگے ہم نے پھر تکبیر کہی اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت ( ثُـلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ 13۝ۙ ) 56- الواقعة:13 ) کی تلاوت کی ۔ اب ہم میں آپس میں مذاکرہ شروع ہو گیا کہ یہ ستر ہزار کون لوگ ہوں گے ، پھر ہم نے کہا وہ لوگ جو اسلام میں پیدا ہوئے اور شرک کیا ہی نہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بلکہ یہ وہ لوگ ہیں جو داغ نہیں لگواتے اور جھاڑ پھونک نہیں کرواتے اور فال نہیں لیتے اور اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہیں ۔ یہ حدیث بہت سی سندوں سے صحابہ کی روایت سے بہت سی کتابوں میں صحت کے ساتھ مروی ہے ۔ ابن جریر میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس آیت میں پہلوں پچھلوں سے مراد میری امت کے اگلے پچھلے ہی ہیں ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

271اب تک سابقین کا ذکر تھا اب عام مومنین کا ذکر ہو رہا ہے

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَ اَصْحٰبُ الْیَمِیْنِ مَآ اَصْحٰبُ الْیَمِیْنِ : سابقون کا حال بیان کرنے کے بعد اب اصحاب الیمین یعنی عام مومنوں کی خوش حالی اور عین و تنعیم کا بیان ہے۔” وَ اَصْحٰبُ الْیَمِیْنِ مَآ اَصْحٰبُ الْیَمِیْنِ “ سے وہی مراد ہیں جو فاصحب الیمنۃ ما اصحب المیمنۃ “ سے ہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

The Reward of Those on the Right وَأَصْحَابُ الْيَمِينِ مَا أَصْحَابُ الْيَمِينِ As for the People of the right, How (lucky) are the People of the Right!...56:27). The People of the Right are initially the God-fearing and the righteous believers. Sinful believers will also join the People of the Right, some through the sheer grace of Allah, and others will be forgiven through the intercession of a prophet or a friend of Allah. Some sinful believers will be punished for their sins, but after serving their punishment, they too will be purified and cleansed of the dross of their sins, after which they will join the People of the Right, because the fire of the Hell is not, in fact, a punishment; it is rather a way to cleanse him from the dross of his sins. (Mazhari)

وَاَصْحٰبُ الْيَمِيْنِ ڏ مَآ اَصْحٰبُ الْيَمِيْنِ ، اصحاب یمین، دراصل مومنین متقین اور اولیاء اللہ میں گناہ گار مسلمان بھی ان کے ساتھ مل جائیں گے، بعض تو محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے بعض کسی نبی ولی کی شفاعت سے مغفرت اور معافی ہوجانے کے بعد اور بعض کو عذاب ہوگا، مگر اپنے گناہ کا عذاب بھگتنے کے بعد یہ بھی گناہ سے پاک صاف ہو کر اصحاب الیمین کے گروہ میں شامل ہوجائیں گے، کیونکہ گناہ گار مومن کے لئے جہنم کی آگ درحقیقت عذاب نہیں بلکہ کھوٹ سے پاک صاف کرنے کی ایک تدبیر ہے (مظہری)

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاَصْحٰبُ الْيَمِيْنِ۝ ٠ۥۙ مَآ اَصْحٰبُ الْيَمِيْنِ۝ ٢٧ صحب الصَّاحِبُ : الملازم إنسانا کان أو حيوانا، أو مکانا، أو زمانا . ولا فرق بين أن تکون مُصَاحَبَتُهُ بالبدن۔ وهو الأصل والأكثر۔ ، أو بالعناية والهمّة، ويقال للمالک للشیء : هو صاحبه، وکذلک لمن يملک التّصرّف فيه . قال تعالی: إِذْ يَقُولُ لِصاحِبِهِ لا تَحْزَنْ [ التوبة/ 40] ( ص ح ب ) الصاحب ۔ کے معنی ہیں ہمیشہ ساتھ رہنے والا ۔ خواہ وہ کسی انسان یا حیوان کے ساتھ رہے یا مکان یا زمان کے اور عام اس سے کہ وہ مصاحبت بدنی ہو جو کہ اصل اور اکثر ہے یا بذریعہ عنایت اور ہمت کے ہو جس کے متعلق کہ شاعر نے کہا ہے ( الطوایل ) ( اگر تو میری نظروں سے غائب ہے تو دل سے تو غائب نہیں ہے ) اور حزف میں صاحب صرف اسی کو کہا جاتا ہے جو عام طور پر ساتھ رہے اور کبھی کسی چیز کے مالک کو بھی ھو صاحبہ کہہ دیا جاتا ہے اسی طرح اس کو بھی جو کسی چیز میں تصرف کا مالک ہو ۔ قرآن میں ہے : ۔ إِذْ يَقُولُ لِصاحِبِهِ لا تَحْزَنْ [ التوبة/ 40] اس وقت پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے رفیق کو تسلی دیتے تھے کہ غم نہ کرو ۔ يمین ( دائیں طرف) اليَمِينُ : أصله الجارحة، واستعماله في وصف اللہ تعالیٰ في قوله : وَالسَّماواتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ [ الزمر/ 67] علی حدّ استعمال الید فيه، و تخصیص اليَمِينِ في هذا المکان، والأرض بالقبضة حيث قال جلّ ذكره : وَالْأَرْضُ جَمِيعاً قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيامَةِ [ الزمر/ 67] «1» يختصّ بما بعد هذا الکتاب . وقوله :إِنَّكُمْ كُنْتُمْ تَأْتُونَنا عَنِ الْيَمِينِ [ الصافات/ 28] أي : عن الناحية التي کان منها الحقّ ، فتصرفوننا عنها، وقوله : لَأَخَذْنا مِنْهُ بِالْيَمِينِ [ الحاقة/ 45] أي : منعناه ودفعناه . فعبّر عن ذلک الأخذ باليَمِينِ کقولک : خذ بِيَمِينِ فلانٍ عن تعاطي الهجاء، وقیل : معناه بأشرف جو ارحه وأشرف أحواله، وقوله جلّ ذكره : وَأَصْحابُ الْيَمِينِ [ الواقعة/ 27] أي : أصحاب السّعادات والمَيَامِنِ ، وذلک علی حسب تعارف الناس في العبارة عن المَيَامِنِ باليَمِينِ ، وعن المشائم بالشّمال . واستعیر اليَمِينُ للتَّيَمُّنِ والسعادة، وعلی ذلک وَأَمَّا إِنْ كانَ مِنْ أَصْحابِ الْيَمِينِ فَسَلامٌ لَكَ مِنْ أَصْحابِ الْيَمِينِ [ الواقعة/ 90- 91] ، وعلی هذا حمل : 477- إذا ما راية رفعت لمجد ... تلقّاها عرابة باليَمِين ( ی م ن ) الیمین کے اصل معنی دایاں ہاتھ یا دائیں جانب کے ہیں اور آیت کریمہ : ۔ وَالسَّماواتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ [ الزمر/ 67] اور آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں لیپٹے ہوں گے ۔ میں حق تعالیٰ کی طرف یمن نسبت مجازی ہے ۔ جیسا کہ ید وغیر ہا کے الفاظ باری تعالیٰ کے متعلق استعمال ہوتے ہیں یہاں آسمان کے لئے یمین اور بعد میں آیت : ۔ وَالْأَرْضُ جَمِيعاً قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيامَةِ [ الزمر/ 67] اور قیامت کے دن تمام زمین اس کی مٹھی میں ہوگی ۔ میں ارض کے متعلق قبضۃ کا لفظ لائے میں ایک باریک نکتہ کی طرف اشارہ ہے جو اس کتاب کے بعد بیان ہوگا اور آیت کریمہ : ۔ إِنَّكُمْ كُنْتُمْ تَأْتُونَنا عَنِ الْيَمِينِ [ الصافات/ 28] تم ہی ہمارے پاس دائیں اور بائیں ) اسے آتے تھے ۔ میں یمین سے مراد جانب حق ہے یعنی تم جانب حق سے ہمیں پھیرتے تھے اور آیت کریمہ : ۔ لَأَخَذْنا مِنْهُ بِالْيَمِينِ [ الحاقة/ 45] تو ہم ان کا دایاں ہاتھ پکڑ لیتے ۔ میں دایاں ہاتھ پکڑ لینے سے مراد روک دینا ہے جیسے محاورہ ہے : ۔ یعنی فلاں کو ہجو سے روک دو ۔ بعض نے کہا ہے کہ انسان کا دینا ہاتھ چونکہ افضل ہے سمجھاجاتا ہے اسلئے یہ معنی ہو نگے کہ ہم بہتر سے بہتر حال میں بھی اسے با شرف اعضاء سے پکڑ کر منع کردیتے اور آیت کریمہ : ۔ وَأَصْحابُ الْيَمِينِ [ الواقعة/ 27] اور دہنے ہاتھ والے ۔ میں دہنی سمت والوں سے مراد اہل سعادت ہیں کو ین کہ عرف میں میامن ( با برکت ) ) کو یمین اور مشاے م ( منحوس ) کو شمالی کے لفظ سے یاد کیا جاتا ہے اور استعارہ کے طور پر یمین کا لفظ بر کت وسعادت کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ وَأَمَّا إِنْ كانَ مِنْ أَصْحابِ الْيَمِينِ فَسَلامٌ لَكَ مِنْ أَصْحابِ الْيَمِينِ [ الواقعة/ 90- 91] اگر وہ دائیں ہاتھ والوں یعنی اصحاب خیر وبر کت سے ہے تو کہا جائیگا تجھ پر داہنے ہاتھ والوں کی طرف سے سلام اور ایس معنی میں شاعر نے کہا ہے ( 426 ) اذا ما رایۃ رفعت ملجد تلقا ھا عرا بۃ بالیمین جب کبھی فضل ومجد کے کاموں کے لئے جھنڈا بلند کیا جاتا ہے تو عرابۃ اسے خیر و برکت کے ہاتھ سے پکڑ لیتا ہے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٧{ وَاَصْحٰبُ الْیَمِیْنِ مَآ اَصْحٰبُ الْیَمِیْنِ ۔ } ” اور اصحاب الیمین ! کیا کہنے ہیں اصحاب الیمین کے ! “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٢٧۔ ٣٨۔ مقربین کے حال کے بعد یہ داہنے ہاتھ والوں کا حال فرمایا۔ طائف کے پاس ایک جگہ ہے جس کا نام وج ہے وہاں بیری اور کیلے کے درختوں کا سایہ بہت ہے اس جگہ کو سایہ اور ٹھنڈک کے سبب سے اہل مکہ بہت پسند کرتے تھے اس لئے فرمایا کہ جنت میں بھی یہ سایہ دار درخت ہوں گے بلکہ اتنی بات بڑھ کر ہوگی کہ دنیا کے بیریوں میں کانٹے ہوتے ہیں جنت کی بیریوں میں سایہ ہوگا پھل ہوں گے مگر کانٹے نہ ہوں گے دنیا کے لمبے درختوں کے نیچے کا حصہ پھل سے خالی ہوتا ہے جنت کے درخت ایسے نہیں ہیں ان میں جڑ کے پاس سے ہی میوے کی شاخیں شروع ہوجاتی ہیں۔ معتبر ١ ؎ سند سے بیہقی کی عبد اللہ بن عباس (رض) کی یہ حدیث اوپر گزر چکی ہے کہ جنت کی چیزوں کے فقط نام دنیا کی چیزوں سے ملتے ہیں ورنہ جنت کی چیزوں کے آگے دنیا کی چیزوں کی کچھ حقیقت نہیں۔ اس لئے ان بیروں اور کیلوں کے مزہ کو دنیا کے بیر اور کیلوں پر قیاس نہ کرنا چاہئے۔ صحیح بخاری ٢ ؎ مسلم اور ترمذی میں ابو سعید خدری سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جنت میں بعض سایہ دار درخت ایسے ہیں کہ ان کا سایہ سوار آدمی سے بھی سو برس کے عرصہ میں طے نہیں ہوسکتا ترمذی ٣ ؎ نے اس حدیث کو ظل ممدود کی تفسیر قرار دیا ہے حضرت عبد ٤ ؎ اللہ بن عباس کی معتبر روایتوں کے موافق جنت میں نہ سورج ہے نہ دھوپ ‘ وہاں تو ہمیشہ ایسا وقت رہے گا جیسا وقت دنیا میں طلوع فجر سے سورج کے نکلنے تک رہتا ہے اس لئے وہاں کا سایہ فقط تفریح کے لئے ہوگا۔ مسند ٥ ؎ امام احمد اور ترمذی میں جو روایتیں ہیں انکا حاصل یہ ہے کہ جنت میں دوھ شہد شراب اور میٹھے پانی کے دریا ہیں جن میں سے یہ چیزیں بہہ کر جنت کے ہر ایک مکان کی نہروں میں آئیں گی اور ہمیشہ وہ ہریں جاری رہیں گی۔ ترمذی نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے اور یہی حدیث ماء مسکوب کی تفسیر ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ میٹھے پانی کے دریا میں سے جنت کی نہروں میں پانی گرے گا اور ہمیشہ جاری رہے گا۔ حضرت ٦ ؎ عبد اللہ بن عباس کے صحیح قول کے موافق جنت کی نہروں کے کنارے اور ان میں گہرائی نہیں ہے بلکہ اللہ کے حکم سے مسطح زمین پر وہ نہریں جاری ہوں گی تاکہ بغیر دقت کے ان میں سے دودھ شہد شراب پانی ہر چیز لی جاسکے۔ صحیح بخاری ٧ ؎ و مسلم کی حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) کی حدیث مشہور ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سورج گہن کی نماز پڑھتے میں جنت اور دوزخ کو دیکھا اور جنت کے انگور کی بیل میں سے ایک خوشہ توڑنا چاہا اور پھر اللہ کا حکم نہ ہونے سے وہ خوشہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نہیں توڑا اور فرمایا کہ اگر میں اس خوشہ کو توڑ لیتا تو قیامت تک لوگ اس کے انگور کھایا کرتے یہ حدیث و فاکھۃ کثیرۃ کی گویا تفسیر ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت کے میوے کا ایک ایک خوشہ ہزاروں آدمیوں کے ہزار ہا برس کے کھانے کے قابل میوے سے لدا ہوا ہے لامقطوعۃ کی تفسیر میں حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) نے فرمایا کہ جس طرح دنیا کے میوے خاص خاص موسم پر ہوتے ہیں اور موسم کے بعد ان کی پیداواری کا سلسلہ مقطوع اور منقطع ہوجاتا ہے جنت کے میووں کا یہ حال نہیں ہے بلکہ وہاں ہر موسم میں کل میوے موجود ہوں گے۔ لاممنوعۃ کی تفسیر انہی کے قول کے موافق یہ ہے کہ لیٹے بیٹھے ہر حالت میں جنتی لوگ جنت کے پیڑوں کا میوہ کھا سکیں گے۔ کسی حالت میں کچھ رکاؤ نہ ہوگا۔ فرش مرفوعہ کا یہ مطلب ہے کہ کئی کئی بچھونے اوپر تلے بچھانے سے وہ بچھونے اونچے ہوجائیں گے۔ ترمذی ١ ؎ میں ابو سعید خدری کی جو روایت ہے اس سے ان بچھونوں کی اونچائی پانسو برس کے راستہ کی معلوم ہوتی ہے۔ ترمذی ٢ ؎ نے اس حدیث کو حسن غریب کہہ کر یہ کہا ہے کہ رشد بن سعد اس حدیث کی روایت عمرو بن الحارث سے تن تنہا کرتا ہے۔ یہ رشد بن سعد اگرچہ ضعیف ہے لیکن صححذ ابن حبان اور بیہقی کی سند میں عبد اللہ بن وہب نے بھی اس حدیث کو عمرو بن الحارث سے روایت ٣ ؎ کیا ہے اور عبد اللہ بن وہب کے ثقہ ہونے میں کسی کو کلام نہیں ہے۔ اس لئے یہ حدیث حسن کے درجہ سے کسی طرح کم نہیں ہے اناانشاناھن انشاء کا مطلب حضرت عبد ٤ ؎ اللہ بن عباس (رض) کے قول کے موافق یہ ہے کہ جنت کی عورتیں ہمیشہ ناکت خدا عورت کی حالت میں رہیں گی۔ عربا کے معنی اپنے شوہر سے الفت کرنے والیاں اتحاباً کے معنی ہم عمر ہے۔ (١ ؎ الترغیب و الترہیب فصل فی ان اعلیٰ مایخطر علی البال الخ ص ١٠٣٩۔ ) (٢ ؎ صحیح بخاری باب صفۃ الجنۃ والنار ص ٩٧٠ ج ٢ و و صحیح مسلم باب الجنۃ وصفۃ نعیمھا اھلھا ص ٣٧٨ ج ٢۔ ) (٣ ؎ جامع ترمذی تفسیر سورة الواقعۃ ص ١٨٤ ج ٢۔ ) (٤ ؎ الترغیب والترہیب فصل فی انھار الجنۃ ص ٩٦٢ ج ٤۔ ) (٥ ؎ جامع ترمذی باب ماجاء فی انھار الجنۃ ص ٩٤ ج ٢۔ ) (٦ ؎ الترغیب و الترہیب فصل فی انھار الجنۃ ص ٩٦٢ ج ٤۔ ) (٧ ؎ صحیح بخاری باب صلوٰۃ الکسوف جماعۃ الخ ص ١٤٣ ج ١ و صحیح مسلم کتاب الکسوف ص ٣٩٨ ج ١۔ ) (١ ؎ جامع ترمذی باب ماجاء فی ثیاب اھل الجنۃ ص ٩٠ ج ٢۔ ) (٢ ؎ جامع ترمذی باب ماجاء فی ثیاب اھل الجنۃ ص ٩٠ ج ٢۔ ) (٣ ؎ الترغیب و الترہیب فصل فی فرش الجنۃ ص ٩٨٤ ج ٢۔ ) (٤ ؎ تفسیر الدر المنثور ص ١٥٨ ج ٦۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(56:27) واصحب الیمین ما اصحب الیمین : ملاحظہ ہو آیت 8 متذکرہ بالا۔ اصحب الیمین۔ دائیں ہاتھ والے۔ ان کو اصحب الیمین یا اصحب المیمنہ کہنے کے متعلق مندرجہ ذیل اقوال ہیں :۔ (1) یہ لوگ رب العزت کے تخت کے دائیں جانب کھڑے ہوں گے۔ (2) ان کو نامہ اعمال دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔ (3) ان کو دائیں ہاتھ سے پکڑ کر بہشت میں لے جایا جائے گا۔ (4) ان کی روحیں حضرت آدم کی دائیں جانب تھیں۔ (جب حضرت آدم کی پشت سے ان کی ساری نسل برآمد کی گئی تھی۔ ان کے دو گروہ بنا دئیے گئے تھے ایک گروہ دائیں طرف جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرما دیا تھا کہ یہ جنتی ہے۔ مندرجہ بالا صورتوں میں یہ یمین سے مشتق ہے جس کا معنی دایاں (ہاتھ یا جانب ہے) ۔ (5) اگر یہ یمین سے ماخوذ لیا جائے۔ جس کا معنی برکت والا ہے تو مراد ہوگا وہ لوگ جن کی ساری زندگی اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں گزری ہو۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : ” اَلسَّابِقُوْنَ الْمُقَرَّبُوْنَ “ کے انعامات کا ذکر کرنے کے بعد ” اَصْحَابُ الْیَمِیْنِ “ کے انعامات کا تذکر ہ۔ ” اَصْحَابُ الْیَمِیْنِ “ کا ذکر کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر ارشاد فرمایا ہے کہ ” اَصْحَابُ الْیَمِیْنِ “ یعنی دائیں ہاتھ والوں کی عیش و عشرت کا کیا کہنا ؟ ” اَلسَّابِقُوْنَ الْمُقَرَّبُوْنَ “ کے انعامات کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد ہوا کہ انہیں مَن پسند پھل دیئے جائیں گے۔ لیکن ” اَصْحَابُ الْیَمِیْنِ “ کے انعام کا ذکر کرتے ہوئے اتنا پیارا انداز اختیار فرمایا ہے کہ جس میں بظاہر ” اَلسَّابِقُوْنَ الْمُقَرَّبُوْنَ “ اور ” اَصْحَابُ الْیَمِیْنِ “ کے انعامات کے درمیان کوئی فرق دکھائی نہیں دیتا۔ ارشاد ہوا کہ ” اَصْحَابُ الْیَمِیْنِ “ کی جنت میں بغیر کانٹوں کے بیریاں، تہہ بہ تہہ کیلے، گھنے اور لمبے لمبے سائیوں والے درخت، پانی کی آبشاریں اور کثیر پھلوں والے باغات ہوں گے جن پر نہ کبھی خزاں آئے گی اور نہ ہی جنتی کو کبھی ان سے روکا جائے گا۔ وہ اونچے اونچے تختوں پر جلوہ افروز ہوں گے اور اللہ تعالیٰ انہیں کنواریاں بیویاں عطا فرمائے گا جو اپنے خاوندوں کے ہم عمر ہوں گی اور ان کے ساتھ دل و جان سے محبت کریں گی۔ ” اَصْحَابُ الْیَمِیْنِ “ پہلے لوگوں میں زیادہ ہوں گے اور پچھلے لوگوں میں سے کم ہوں گے یعنی ہر امت کے پہلے لوگوں میں زیادہ ہوں گے اور پچھلے لوگوں سے تھوڑے ہوں گے۔ دوسرے الفاظ میں جوں جوں قیامت قریب آئے گی توں توں نیک لوگ کم ہوتے چلے جائیں گے یہاں تک کہ قیامت کے نزدیک بدترین لوگ رہ جائیں گے۔ جنت میں بیری کے درخت بھی ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں بیشمار خوبصورت سے خوبصورت درخت پیدا فرمائے ہیں لیکن بیری کے درخت کی اپنی ہی ایک شان اور اس کے سایے میں خاص ٹھنڈک ہوتی ہے جس کا دوسرے درخت مقابلہ نہیں کرسکتے۔ بیری کا شہد تمام قسم کے شہد سے زیادہ مفید اور لذیذ ہوتا ہے اس درخت کی کئی اقسام ہیں۔ پاکستان میں عام طور پر بیری کے درخت دو قسم کے ہوتے ہیں اس کی ایک قسم عام درختوں کی طرح اونچے اور بکھری ہوئی ٹہنیوں والی ہوتی ہے۔ دوسری قسم چھتری نما ہوتی ہے جس کی ٹہنیوں کا رخ زمین کی طرف ہوتا ہے یہ درخت عام طور پر سندھ کے علاقے میں پایا جاتا ہے۔ میں نے سندھ میں بیری کے ایسے درخت دیکھے ہیں جن کا حسن اور کشش دیکھ کر واقعتا حیرت گم ہوجاتی ہے اور یوں دکھائی دیتا ہے جیسے اس درخت کی ٹہنیاں اپنے رب کے حضور سجدہ کررہی ہیں۔ یہ اس قدر پھلوں سے لدھا ہوا درخت ہوتا ہے کہ اس کے بیر اس کے پتوں سے زیادہ دکھائی دیتے ہیں۔ مسائل ١۔ دائیں ہاتھ والوں کا کیا کہنا ! وہ بغیر کانٹے کے بیریوں، تہہ بہ تہہ کیلوں اور لمبے اور گھنے سایوں میں قیام پذیر ہوں گے۔ ٢۔ اصحاب الیمین آبشاروں، گھنے پھلوں اور ناختم ہونے والی نعمتوں سے سرفراز کیے جائیں گے۔ ٣۔ اصحاب الیمین کے اونچے فرشوں پر جلوہ افروز ہوں گے۔ ٤۔ اصحاب الیمین کے لیے ان کی ہم عمر کنواریاں اور اپنے خاوندوں سے پیار کرنے والی بیویاں ہوں گی۔ ٥۔ اصحاب الیمین ہر امت کے پہلے لوگوں میں زیادہ اور پچھلوں میں کم ہوں گے۔ تفسیر بالقرآن جنت کی نعمتوں کی ایک جھلک : ١۔ ہم ان کے دلوں سے کینہ نکال دیں گے اور سب ایک دوسرے کے سامنے تکیوں پر بیٹھے ہوں گے۔ انہیں کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی اور نہ وہ اس سے نکالے جائیں گے۔ (الحجر : ٤٧، ٤٨) ٢۔ جنت کی مثال جس کا مومنوں کے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے۔ اس کے نیچے سے نہریں جاری ہیں اور اس کے پھل اور سائے ہمیشہ کے لیے ہوں گے۔ (الرعد : ٣٥) ٣۔ جنت کے میوے ٹپک رہے ہوں گے۔ (الحاقہ : ٢٣)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اور دائیں بازو والے وہ ہیں جن کی طرف سورة کے آغاز میں اشارہ ہوا تھا۔ میمنہ والے۔ ان کی تواضعات کی تفصیلات ذرا موخر کردی گئیں کیونکہ پہلے سابقین اولین کی مراعات کا ذکر مطلوب تھا۔ ان کے بارے میں وہی مبالغہ اور اظہار عظمت بذریعہ اجمال ما اصحاب الیمین (کیا ہی لوگ ہیں وہ) ان لوگوں کے لئے بھی مادی اور محسوس انعامات ، یہ وہ چیزیں ہیں جو کسی بدوی معاشرے میں اہم ہوتی ہیں اور ان کے لئے قابل فہم ہوتی ہیں۔ جن کو وہ سمجھتے اور برتتے ہیں۔ یہ لوگ فی سدرمخضود (بےخار بیریوں میں ہوں گے) السدر بیری کے درخت کو کہتے ہیں جس کے ساتھ کانٹے ہوں گے لیکن وہاں اس کو کانٹوں سے صاف کردیا گیا ہوگا یعنی مخضود ہوں گے وہ درخت۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اصحاب الیمین کی نعمتیں : اس کے بعد ﴿اَصْحٰبُ الْيَمِيْنِ ﴾ کی نعمتوں کا تذکرہ فرمایا ﴿ وَ اَصْحٰبُ الْيَمِيْنِ ١ۙ۬ مَاۤ اَصْحٰبُ الْيَمِيْنِؕ٠٠٢٧﴾ (اور داہنے ہاتھ والے کیا خوب ہیں داہنے ہاتھ والے) ﴿ فِيْ سِدْرٍ مَّخْضُوْدٍۙ٠٠٢٨﴾ (وہ ان باغوں میں ہوں گے جہاں بےخار بیریاں ہوں گی) سدر کو لفظ مخضود کے ساتھ متصف فرمایا یعنی ان کے درختوں میں کانٹے نہیں ہوں گے جیسا کہ دنیا والی بیریوں میں کا نٹے ہوتے ہیں۔ حضرت ابو امامہ (رض) سے روایت ہے کہ ایک دن ایک اعرابی حاضر خدمت ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ایک ایسے درخت کا ذکر فرمایا ہے جو ایذا دینے والا ہے، آپ نے فرمایا ہے وہ کون سا درخت ہے عرض کیا وہ سدر بیری کا درخت ہے اس میں کانٹے ہوتے ہیں۔ اس کے جواب میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہے اللہ تعالیٰ نے : ﴿ وَّ طَلْحٍ مَّنْضُوْدٍۙ٠٠٢٩﴾ فرمایا ہے یعنی وہ بیری کے درخت ایسے ہوں گے جن میں کانٹے کاٹے ہوئے ہوں گے اللہ اس کے ہر کانٹے کو کاٹ دے گا اور ہر کانٹے کی جگہ پھل لگا دے گا اس میں ایسے پھل لگیں گے کہ ایک پھل پھٹے گا تو اس سے بہتر (٧٢) رنگ کے پھل نکل آئیں گے ایک رنگ دوسرے رنگ کے مشابہ نہ ہوگا۔ (رواہ الحاکم فی المستدرک وقال صحیح الاسناد واقرہ الذہبی صفحہ ٤٧٤: ج ٢) دوسری نعمت بیان کرتے ہوئے ﴿ وَّ طَلْحٍ مَّنْضُوْدٍۙ٠٠٢٩﴾ فرمایا (یعنی وہاں تہہ بہ تہہ لگے ہوئے کیلے ہوں گے) کیلوں کا مزہ اور مٹھاس اور مخصوص کیف جو یہاں دنیا میں پر لطف ہے دنیا والے اس سے واقف ہیں۔ آخرت کے کیلوں میں جو مزہ ہوگا وہ تو اہل دنیا کے تصور سے باہر ہے، تیسری نعمت بیان کرتے ہوئے فرمایا ﴿ وَّ ظِلٍّ مَّمْدُوْدٍۙ٠٠٣٠﴾ کہ اصحاب الیمین خوب زیادہ وسیع پھیلاؤ والے سایہ میں ہوں گے، جنت کا سایہ سراسر آرام دینے والا ہوگا اور سایہ بھی اصلی ہوگا، جھوٹا سایہ نہ ہوگا جیسا کہ دنیا میں دھویں کا سایہ ہوتا ہے اسی لیے سورة نساء میں فرمایا ہے ﴿ وَّ نُدْخِلُهُمْ ظِلًّا ظَلِيْلًا ٠٠٥٧﴾ اور ہم انہیں گہرے سایہ میں داخل کریں گے، یہ سایہ چونکہ آرام دہ ہوگا اس لیے اس میں ذرا بھی گرمی اور سردی نہ ہوگی سورة الدھر میں فرمایا : ﴿ مُّتَّكِـِٕيْنَ فِيْهَا عَلَى الْاَرَآىِٕكِ ١ۚ لَا يَرَوْنَ فِيْهَا شَمْسًا وَّ لَا زَمْهَرِيْرًاۚ٠٠١٣﴾ (اس حالت میں کہ وہ وہاں مسہریوں پر تکیہ لگائے ہوں گے نہ وہاں تپش پائیں گے اور نہ سردی) ۔ حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ بلاشبہ جنت میں ایک ایسا درخت ہے کہ سواری پر چلنے والا سو سال تک چلتا رہے گا اس کی مسافت کو قطع نہ کرسکے گا۔ (رواہ البخاری)

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

12:۔ ” واصحب الیمین “ یہ پہلی جماعت یعنی اصحاب المیمنۃ کے احوال کا بیان ہے۔ اصحاب الیمین کا کیا کہنا انکا حال نہایت اچھا اور اعلی ہوگا۔ ” فی سدر مخضود “ مخضود، کانٹوں کے بغیر، جنت کے میوہ دار درخت کانٹوں سے عاری ہوں گے تاکہ میوہ تناول کرتے وقت کانٹے رنگ میں بھنگ نہ ملا دیں۔ چناچہ بیری کا درخت دنیا میں کانٹوں سے لیس ہوتا ہے، لیکن جنت میں جو بیری کے مشابہ درخت ہوں گے وہ کانٹوں سے عاری ہوں گے اور ان کا پھل حجم میں مٹکوں کے برابر ہوگا اور نہایت خوشذائقہ اور خوشبودار ہوگا۔ سدر فی الجنۃ شجر علی خلقہ لہ ثمر کقلال ھجر طیب الطعم والریح (مخضود، ، من الشوک (بحر ج 8 ص 206) ۔ ” وطلح منضود “ اور کیلے کی پھلیاں تہ بتہ ہوں گی زمین سے لے کر سارا درخت پھلیوں سے لدا ہوگا۔ اشارہ کثرت کی طرف ہے۔ ” وظل ممدود “ وہاں سایہ وسیع اور دائم ہوگا اور کبھی گرمی محسوس نہ ہوگی۔ ” وماء مسکوب “ اور پانی جنت میں ہر جگہ دستیاب اور جاری ہوگا اور اس کے حاصل کرنے میں کوئی تکلیف نہیں ہوگی۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(27) اور داہنی طرف والے سو کیسی اچھی حالت میں ہیں داہنی طرف والے۔