Surat ul Waqiya

Surah: 56

Verse: 9

سورة الواقعة

وَ اَصۡحٰبُ الۡمَشۡئَمَۃِ ۬ ۙ مَاۤ اَصۡحٰبُ الۡمَشۡئَمَۃِ ؕ﴿۹﴾

And the companions of the left - what are the companions of the left?

اور بائیں ہاتھ والے کا کیا حال ہے بائیں ہاتھ والوں کا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَالسَّابِقُونَ السَّابِقُونَ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

9۔ 1 اس سے مراد کافر ہیں جن کو ان کے اعمال نامے بائیں ہاتھ میں پکڑائے جائیں گے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٦] شمال بمعنی بایاں ہاتھ بھی، بائیں جانب بھی اور بدبخت بھی۔ یعنی وہ لوگ جنہیں ان کا اعمال نامہ بائیں ہاتھ میں ملے گا انہیں اللہ کی بائیں جانب کھڑا کیا جائے گا۔ اور یہ بدبخت اہل دوزخ ہوں گے۔ جیسا کہ حدیث مذکورہ بالا سے بھی ظاہر ہوتا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاَصْحٰبُ الْمَشْـَٔــمَۃِ۝ ٠ۥۙ مَآ اَصْحٰبُ الْمَشْــَٔــمَۃِ۝ ٩ ۭ وَالسّٰبِقُوْنَ السّٰبِقُوْنَ۝ ١٠ ۚ صحب الصَّاحِبُ : الملازم إنسانا کان أو حيوانا، أو مکانا، أو زمانا . ولا فرق بين أن تکون مُصَاحَبَتُهُ بالبدن۔ وهو الأصل والأكثر۔ ، أو بالعناية والهمّة، ويقال للمالک للشیء : هو صاحبه، وکذلک لمن يملک التّصرّف فيه . قال تعالی: إِذْ يَقُولُ لِصاحِبِهِ لا تَحْزَنْ [ التوبة/ 40] ( ص ح ب ) الصاحب ۔ کے معنی ہیں ہمیشہ ساتھ رہنے والا ۔ خواہ وہ کسی انسان یا حیوان کے ساتھ رہے یا مکان یا زمان کے اور عام اس سے کہ وہ مصاحبت بدنی ہو جو کہ اصل اور اکثر ہے یا بذریعہ عنایت اور ہمت کے ہو جس کے متعلق کہ شاعر نے کہا ہے ( الطوایل ) ( اگر تو میری نظروں سے غائب ہے تو دل سے تو غائب نہیں ہے ) اور حزف میں صاحب صرف اسی کو کہا جاتا ہے جو عام طور پر ساتھ رہے اور کبھی کسی چیز کے مالک کو بھی ھو صاحبہ کہہ دیا جاتا ہے اسی طرح اس کو بھی جو کسی چیز میں تصرف کا مالک ہو ۔ قرآن میں ہے : ۔ إِذْ يَقُولُ لِصاحِبِهِ لا تَحْزَنْ [ التوبة/ 40] اس وقت پیغمبر اپنے رفیق کو تسلی دیتے تھے کہ غم نہ کرو ۔ سبق أصل السَّبْقِ : التّقدّم في السّير، نحو : فَالسَّابِقاتِ سَبْقاً [ النازعات/ 4] ، والِاسْتِبَاقُ : التَّسَابُقُ. قال : إِنَّا ذَهَبْنا نَسْتَبِقُ [يوسف/ 17] ، وَاسْتَبَقَا الْبابَ [يوسف/ 25] ، ثم يتجوّز به في غيره من التّقدّم، قال : ما سَبَقُونا إِلَيْهِ [ الأحقاف/ 11] ، ( س ب ق) السبق اس کے اصل معنی چلنے میں آگے بڑھ جانا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : فَالسَّابِقاتِ سَبْقاً [ النازعات/ 4] پھر وہ ( حکم الہی کو سننے کے لئے لپکتے ہیں ۔ الاستباق کے معنی تسابق یعنی ایک دوسرے سے سبقت کرنا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے :َ إِنَّا ذَهَبْنا نَسْتَبِقُ [يوسف/ 17] ہم ایک دوسرے سے دوڑ میں مقابلہ کرنے لگ گئے ۔ وَاسْتَبَقَا الْبابَ [يوسف/ 25] اور دونوں دوڑتے ہوئے دروز سے پر پہنچنے ۔ مجازا ہر شے میں آگے بڑ اجانے کے معنی میں استعمال ہونے لگا ہے ۔ جیسے فرمایا :۔ ما سَبَقُونا إِلَيْهِ [ الأحقاف/ 11] تو یہ ہم سے اس کیطرف سبقت نہ کرجاتے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اور ان میں جو بائیں والے ہیں وہ بائیں والے کیسے برے ہیں یعنی جن کے نامہ اعمال اللہ تعالیٰ ان کے بائیں ہاتھ میں دے گا اور ان کو دوزخ میں داخل کرے گا تو آپ کو کیا معلوم ہے کہ دوزخیوں کو دوزخ میں کس قدر ذلت اور عذاب کی سختی ہوگی۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٩{ وَاَصْحٰبُ الْمَشْئَمَۃِ لا مَآ اَصْحٰبُ الْمَشْئَمَۃِ ۔ } ” اور جو بائیں والے ہوں گے ‘ تو کیا حال ہوگا بائیں والوں کا ! “ مَشْئَمَۃ ” شئوم “ سے ہے ‘ جس کے معنی بدنصیبی اور نحوست کے ہیں۔ عربوں کے ہاں جس طرح داہنی جانب خوش قسمتی اور برکت کی علامت سمجھی جاتی تھی اسی طرح بائیں جانب کو منحوس خیال کیا جاتا تھا۔ اس وجہ سے ان دونوں مادوں میں مستقل طور پر برکت اور نحوست کے معنی بھی شامل ہوگئے ہیں۔ چناچہ اَصْحٰبُ الْمَشْئَمَۃ کا دوسرا ترجمہ بدقسمت ‘ بدبخت اور برے لوگ بھی کیا گیا ہے۔ اردو لفظ ” شوم “ (شومئی قسمت وغیرہ) بھی اسی سے مشتق ہے۔ بہرحال دوسرا گروہ ان لوگوں پر مشتمل ہوگا جو دربارِ الٰہی میں بائیں جانب کھڑے کردیے جائیں گے اور بہت برے انجام سے دوچار ہوں گے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

6 The word mash 'amah in ashab al-mash'amah, in the original, is from shu'm which means misfortune, ill-luck and bad omen; in Arabic the left hand also is called shuma. The Arabs regarded shimal (the left hand) and shu'm (bad omen) as synonyms, the left hand being a symbol of weakness and indignity. If a bird flew left on the commencement of a journey, they would take it as a bad omen; if they made a person sit on their left, it meant they regarded him as a weak man. Therefore, ashab al-mash'amah implies ill-omened people, or those who would suffer disgrace and ignominy, and would be made to stand on the left side in the Court of Allah.

سورة الْوَاقِعَة حاشیہ نمبر :6 اصل میں لفظ اصحاب المشئمہ استعمال ہوا ہے ۔ مَشْئَمَہْ ، شُؤْم سے ہے جس کے معنی بد بختی ، نحوست اور بدفالی کے ہیں ۔ اور عربی زبان میں بائیں ہاتھ کو بھی شُوْمیٰ کہا جاتا ہے ۔ اردو میں شومئ قسمت اسی لفظ سے ماخوذ ہے ۔ اہل عرب شمال ( بائیں ہاتھ ) اور شؤْم ( فال بد ) کو ہم معنی سمجھتے تھے ۔ ان کے ہاں بایاں ہاتھ کمزوری اور ذلت کا نشان تھا ۔ سفر کو جاتے ہوئے اگر پرندہ اڑ کر بائیں ہاتھ کی طرف جاتا تو وہ اس کو بری فال سمجھتے تھے ۔ کسی کو اپنے بائیں ہاتھ بٹھاتے تو اس کے معنی یہ تھے کہ وہ اسے کمتر درجے کا آدمی سمجھتے ہیں کسی کے متعلق یہ کہنا ہو کہ میرے ہاں اس کی کوئی عزت نہیں تو کہا جاتا کہ فلان منی بالشمال ، وہ میرے بائیں ہاتھ کی طرف ہے اردو میں بھی کسی کام کو بہت ہلکا اور آسان قرار دینا ہو تو کہا جاتا ہے یہ میرے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے ۔ پس اصحاب المشئمہ سے مراد ہیں بد بخت لوگ ، یا وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کے ہاں ذلت سے دوچار ہوں گے اور دربار الہٰی میں بائیں طرف کھڑے کیے جائیں گے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

3: یہ وہ لوگ ہیں جن کو ان کا نامہ اعمال بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا جو ان کے کفر کی علامت ہوگی۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(56:9) واصحب المشئمۃ ما اصحب المشئمۃ۔ اور ایک گروہ بائیں ہاتھ والوں کا کیا ہی ان کی خستہ حالی ہوگی ؟ اور اس کی ترکیب وہی ہوگی جو 52:8 میں ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 1 یعنی ان کی بدبختی نحوست و بدحالی کا کیا ٹھکانا ! مراد دوزخی لوگ ہیں جو عرش کی بائیں طرف ہوں گی یا جنہیں ان کے اعمال نامے بائیں ہاتھ دیئے جائیں گے وغیرہ

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر 39 تا 56 اصحاب الشمال بائیں (ہاتھ) والے سموم گرم ہوا۔ گرم بھاپ۔ یحموم کالا سیاہ دھواں لابارد نہ تو ٹھنڈا۔ لا کریم نہ آرام دینے والا۔ مترفین عیش سے زندگی گذارنے والے یصرون وہ ضد کرتے ہیں۔ اڑ جاتے ہیں۔ ال جنت گناہ زقوم جہنم میں دوزخیوں کی غذا (جہنم میں اگنے والا درخت) مالتئون بھرنے والے۔ شاربون پینے والے۔ شرب الھیم پیاسے اوٹن کی طرح پینا۔ تشریح : آیت نمبر 39 تا 56 سب سے آگے بڑھ جانے والے اور داہنے ہاتھ والے خوش نصیبوں کے بہترین انجام کا ذکر کرنے کے بعد بائیں ہاتھ والے لوگوں کا ذکر کیا جا رہا ہے جو بدترین حالات میں ہوں گے۔ دنیا میں ان کو جو عیش و آرام کا سامان دیا گیا تھا اس نے انہیں ایسے دھوکے میں ڈال دیا تھا کہ وہ اللہ کو بھول کر غیر اللہ کی عبادت و بندگی کرنے لگے تھے اور اس پر اصرار کرتے ہوئے کہتے تھے کہ جب ہم مرکر خاک ہوجائیں گے اور ہماری ہڈیاں بھی ریزہ ریزہ ہو کر دنیا میں بکھر جائیں گی تو کیا ہم دوبارہ پیدا کئے جائیں گے اور ہمارے باپ دادا جو مر کر خاک ہوچکے ہیں جن کی ہڈیوں تک کا پتہ نہیں ہے کیا وہ بھی زندہ کئے جائیں گے۔ وہ کہتے تھے کہ آج تک ان میں سے کوئی زندہ ہو کر تو آیا نہیں ہم کیسے یقین کرلیں کہ ہم دوبارہ زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اللہ نے اگلے پچھلے سب لوگوں کے لئے ایک دن مقرر کردیا ہے جب وہ اللہ کے حکم سے زندہ ہو کر ہمارے سامنے حاضر ہوں گے۔ لیکن وہ دن ان لوگوں کیلئے بڑا سخت اور ذلیل کردینے والا ہوگا جب ان کو جہنم میں دھکیلا جائے گا وہاں ہر طرف آگ ہی آگ، کھولتا ہوا پانی اور سیاہ دھوئیں کے ایسے سائے ہوں گے جس میں نہ تو ٹھنڈک ہوگی اور نہ دل اور بدن کو راحت و آرام پہنچانے والا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا ہے کہ آپ کہہ دیجیے اے گمرا ہوچ اور ہر سچی بات کو جھٹلانے والو ! جہنم میں تمہاری غذا زقوم ہوگی جو ایک بڑا زہریلا کڑوا انتہائی بد مزہ اور بدبو دار درخت ہوگا جو جہنم ہی میں پیدا ہوگا ۔ جب وہ بھوک اور پیاس سے تڑپنے لگیں گے اور زقوم کو کھائیں گے تو وہ ان کے حلق میں پھنس جائے گا۔ پھر وہ پانی کی طرف دوڑیں گے وہ پانی گرم اور کھولتا ہوا ہوگا وہ پانی پر بری طرح گریں گے لیکن اس کے پیتے ہی ان کی آنتیں کٹ کر باہر نکل پڑیں گی۔ وہ پانی کی طرف اس طرح جھپٹیں گے جیسے پیاسے اونٹ جو استقا کی بیماری میں مبتلا ہوں وہ پانی کی طرف جھپٹتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے طنز کے طور پر فرمایا کہ ان جیسے نافرمانوں کی مہمان داری تو اسی طرح ہو سکتی تھی۔ استسقا اونٹوں کی ایسی بیماری کو کہتے ہیں کہ اونٹ پانی پیئے چلا جاتا ہے اور پیاسا ہی رہتا ہے۔ فرمایا کہ اسی طرح قیامت کے دن کفار و مشرکین کا حال ہوگا کہ وہ پیاس سے تڑپ رہے ہوں گے اور جب گرم کھولتا ہوا پانی پئیں گے تو ان کی پیاس نہ بجھے گی اور وہ پانی کے لئے تڑپتے ہی رہ جائیں گے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

4۔ مراد اس سے جن کے نامہ اعمال بائیں ہاتھ میں دیئے جائیں گے یعنی کفار، اور اس میں اجمالا ان کی حالت کا برا ہونا بتلادیا۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(9) اور دوسرے بائیں والے سو کیسی بری حالت میں ہیں بائیں والے۔ یعنی وہ اہل شقاوت جن کے اعمال نامے بائیں ہاتھ میں دیئے جائیں یا یوم میثاق میں حضرت آدم (علیہ السلام) کی بائیں جانب تھے یا جن کو میدان حشر میں بائیں جانب ملے۔