Surat ul Anaam

Surah: 6

Verse: 116

سورة الأنعام

وَ اِنۡ تُطِعۡ اَکۡثَرَ مَنۡ فِی الۡاَرۡضِ یُضِلُّوۡکَ عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ ؕ اِنۡ یَّتَّبِعُوۡنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنۡ ہُمۡ اِلَّا یَخۡرُصُوۡنَ ﴿۱۱۶﴾

And if you obey most of those upon the earth, they will mislead you from the way of Allah . They follow not except assumption, and they are not but falsifying.

اور دنیا میں زیادہ لوگ ایسے ہیں کہ اگر آپ ان کا کہنا ماننے لگیں تو وہ آپ کو اللہ کی راہ سے بے راہ کر دیں وہ محض بے اصل خیالات پر چلتے ہیں اور بالکل قیاسی باتیں کرتے ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Most People are Misguided Allah says; وَإِن تُطِعْ أَكْثَرَ مَن فِي الاَرْضِ يُضِلُّوكَ عَن سَبِيلِ اللّهِ ... And if you obey most of those on the earth, they will mislead you far away from Allah's path. Allah states that most of the people of the earth, are misguided. Allah said in other Ayat, وَلَقَدْ ضَلَّ قَبْلَهُمْ أَكْثَرُ الاٌّوَّلِينَ And indeed most of the men of old went astray before them. (37:71) and, وَمَأ أَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُوْمِنِينَ And most of mankind will not believe even if you eagerly desire it. (12:103) They are misguided, yet they have doubts about their way, and they rely on wishful thinking and delusions. ... إِن يَتَّبِعُونَ إِلاَّ الظَّنَّ وَإِنْ هُمْ إِلاَّ يَخْرُصُونَ They follow nothing but conjecture, and they do nothing but lie. Thus, they fulfill Allah's decree and decision concerning them,

بیکار خیالوں میں گرفتار لوگ اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ اکثر لوگ دنیا میں گمراہ کن ہوتے ہیں جیسے فرمان ہے آیت ( وَلَقَدْ ضَلَّ قَبْلَهُمْ اَكْثَرُ الْاَوَّلِيْنَ ) 37 ۔ الصافات:71 ) اور جگہ ہے آیت ( وَمَآ اَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِيْنَ ) 12 ۔ یوسف:103 ) گو تو حرص کرے لیکن اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں ۔ پھر یہ لوگ اپنی گمراہی میں بھی کسی یقین پر نہیں صرف باطل گمان اور بیکار خیالوں کا شکار ہیں اندازے سے باتیں بنا لیتے ہیں پھر ان کے پیچھے ہو لیتے ہیں ، خیالات کے پرو ہیں تو ہم پرستی میں گھرے ہوئے ہیں یہ سب مشیت الٰہی ہے وہ گمراہوں کو بھی جانتا ہے اور ان پر گمراہیاں آسان کر دیتا ہے ، وہ راہ یافتہ لوگوں سے بھی واقف ہے اور انہیں ہدایت آسان کر دیتا ہے ، ہر شخص پر وہی کام آسان ہوتے ہیں جن کیلئے وہ پیدا کیا گیا ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

116۔ 1 قرآن کی اس بیان کردہ حقیقت کا بھی، واقعہ کے طور پر ہر دور میں مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔ دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ( سورة یوسف، 103) آپ کی خوہش کے باوجود اکثر لوگ ایمان والے نہیں، اس سے معلوم ہوا، حق اور صداقت کے راستے پر چلنے والے لوگ ہمیشہ تھوڑے ہی ہوتے ہیں۔ جس سے یہ بات بھی ثابت ہوئی کہ حق وباطل کا معیار، دلائل وبراہین ہیں، لوگوں کی اکثریت و اقلیت نہیں۔ یعنی ایسا نہیں ہے کہ جس بات کو اکثریت نے اختیار کیا ہوا ہو، وہ حق ہو اوراقلیت میں رہنے والے باطل پر ہوں۔ بلکہ مذکورہ حقیقت قرآنی کی رو سے یہ زیادہ ممکن ہے کہ اہل حق تعداد کے لحاظ سے اقلیت میں ہوں اور اہل باطل اکثریت میں۔ جس کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جس میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے کہ میری امت 73 فرقوں میں بٹ جائے گی، جن میں سے صرف ایک فرقہ جنتی ہوگا، باقی سب جہنمی۔ اور اس جنتی فرقے کی نشانی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بیان فرمائی کہ جو ما انا علیہ واصحابی میرے اور میرے صحابہ کے طریقے پر چلنے والا ہوگا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٢١] اکثریت کا مذہب محض تقلید اور وہم و قیاس پر ہے :۔ تاریخ اور مشاہدہ دونوں اس حقیقت پر گواہ ہیں کہ کسی بھی معاشرہ میں اہل خرد اور ذہین اور بااصول لوگ کم ہی ہوا کرتے ہیں۔ معاشرہ کی اکثریت جاہل عوام پر مشتمل ہوتی ہے۔ قرآن نے متعدد مقامات پر ایسی اکثریت کو جاہل، فاسق، ظالم اور مشرک قرار دیا ہے ان لوگوں کا اپنا کوئی اصول نہیں ہوتا۔ نہ انہیں کسی بات کا علم ہوتا ہے اور نہ ہی وہ علم حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہیں اپنے کھانے پینے کے سوا نہ کسی چیز کی فکر ہوتی ہے اور نہ ہی اس کے علاوہ وہ کوئی اور بات سوچنے کی زحمت گوارا کرتے ہیں۔ ان کے زندگی گزارنے کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ جس رخ لوگوں کی اکثریت جا رہی ہو ادھر ہی وہ بھی چل پڑتے ہیں۔ وہ کسی بات کی تحقیق نہ کرنا چاہتے ہیں اور نہ کرسکتے ان کے عقائد اور ان کے اعمال سب کچھ وہم و قیاس پر مبنی ہوتے ہیں۔ پھر چونکہ اکثریت کی آراء مختلف بھی ہوتی ہیں اور بدلتی بھی رہتی ہیں۔ لہذا اکثریت کی اتباع ہمیشہ گمراہی پر منتج ہوا کرتی ہے اسی لیے آپ کو اور مسلمانوں کو ان کے کہنے پر چلنے سے روک دیا گیا ہے۔ اس کے برعکس اللہ کی ہدایت کا راستہ صرف ایک ہی ہے اور ہمیشہ سے ایک ہی رہا ہے اور ایک ہی رہے گا۔ سیدنا آدم سے لے کر نبی آخر الزماں تک تمام انبیاء کو اسی راستہ پر چلنے کی تاکید کی جاتی رہی ہے لہذا طالب حق کو ہرگز وہ نہ دیکھنا چاہیے کہ دنیا کے لوگوں کی اکثریت کس راستہ پر چل رہی ہے بلکہ پوری ثابت قدمی کے ساتھ اس راہ پر چلنا چاہیے جو اللہ نے بتائی ہے خواہ اس راہ پر چلنے والوں کی تعداد کتنی ہی قلیل ہو۔ اسی آیت سے موجودہ مغربی جمہوری نظام بھی باطل قرار پاتا ہے جس میں اکثریت کی رائے کو حق کا معیار قرار دیا گیا ہے نیز ہر کس و ناکس کی رائے کو مساوی حیثیت دی گئی ہے۔ اس نظام میں ایک عالم اور ایک جاہل کی رائے کو یکساں درجہ دیا جاتا ہے اور یہ دونوں باتیں قرآن کی صریح آیات کے خلاف ہیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَاِنْ تُطِعْ اَكْثَرَ مَنْ فِي الْاَرْضِ ۔ : اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں اپنے نبی کو متنبہ کیا ہے کہ کثرت آپ کے نزدیک حق کی دلیل نہیں ہونی چاہیے اور محض کثرت کی بنیاد پر آپ کو اہل زمین کا اتباع نہیں کرنا چاہیے، ورنہ آپ راہ حق سے ہٹ جائیں گے۔ یہ کفار جو کثیر تعداد میں ہیں، اس جھوٹے گمان میں مبتلا ہیں کہ ان کے آباء و اجداد حق پر تھے، اس لیے ان کی تقلید کرتے ہیں۔ ان کے پاس اس کے سوا کوئی دلیل موجود نہیں ہے کہ لوگوں کی اکثریت اسی دین پر قائم ہے جو ان کا بھی دین ہے۔ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے بارے میں اٹکل پچو باتیں کرتے ہیں، کبھی کسی کو اللہ کا بیٹا کہتے ہیں تو کبھی بتوں کو اللہ کے پاس اپنا سفارشی بناتے ہیں اور کبھی مردوں اور غیر اللہ کے نام پر ذبح کیے ہوئے جانوروں کو حلال قرار دیتے ہیں۔ اس آیت سے موجودہ جمہوریت کی حقیقت بھی خوب واضح ہوتی ہے، جس میں اکثریت ہی کو فیصلہ کن سمجھا جاتا ہے۔ اکثریت سے متعلق اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے علاوہ بھی حق پر نہ ہونے کا ذکر فرمایا ہے : (وَمَآ اَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِين) [ یوسف : ١٠٣ ] ” اور اکثر لوگ خواہ تو حرص کرے ہرگز ایمان لانے والے نہیں ہیں۔ “ اور فرمایا : ( وَّلٰكِنَّ اَكْثَرَھُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ ) [ یونس : ٥٥ ] ” اور لیکن ان کے اکثر نہیں جانتے۔ “ اور فرمایا : ( وَقَلِيْلٌ مِّنْ عِبَادِيَ الشَّكُوْرُ ) [ سبا : ١٣ ] ” اور بہت تھوڑے میرے بندوں میں سے پورے شکر گزار ہیں۔ “ اور فرمایا : (اِلَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَقَلِيْلٌ مَّا هُمْ ۭ ) [ ص : ٢٤ ] ” مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے اور یہ لوگ بہت ہی کم ہیں۔ “ اب ایک طرف اللہ کا حکم ہو جس سے پکی دلیل کوئی ہو نہیں سکتی اور ایک طرف اکثریت ہو جن کی بنیاد محض ان کے گمان اور اٹکل پر ہے اور اس اٹکل کی بنیاد پر انھوں نے بیشمار حرام چیزوں، مثلاً شرک، سود، زنا، قوم لوط کے عمل وغیرہ کو حلال کرلیا اور بیشمار حلال چیزوں کو حرام قرار دے دیا ہے تو بتائیے حق کس طرف ہوگا ؟ اس لیے اس آیت میں اللہ کے حکم کے مقابلے میں اہل زمین کی اکثریت کی اطاعت سے منع فرمایا۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

In the third verse (116), Allah Ta ala tells the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) that the majority of the progeny of &Adam living on the earth is in error. Let him not be overawed by this situation and let him ignore what they say or do. The Qur&an has dealt with this subject at several places. In Surah As-Saaffaat, it is said: وَلَقَدْ ضَلَّ قَبْلَهُمْ أَكْثَرُ‌ الْأَوَّلِينَ ﴿٧١﴾ (And truly before them, many of the ancients went astray (37:71) In Su-rah Yusuf, it is said: وَمَا أَكْثَرُ‌ النَّاسِ وَلَوْ حَرَ‌صْتَ بِمُؤْمِنِينَ ﴿١٠٣﴾ (And the majority of people - even if you wish - are not to be believers (12:103). The outcome is that the awe of majority customarily overwhelms an individual and he or she ends up following it. Therefore, the address made to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was: And if you obey the majority of those on earth, they will make you lose the way of Allah. They follow nothing but whims, and they do nothing but make conjectures.& The gist of the advice is that he should not be impressed by their numerical majority as a model to follow because they lack principles and go off the right way: At the end of the verse (117), it was said: ` Surely, your Lord knows best those who go astray from His way, and He is the best knower of those who are on the right path (consequently, as the errants shall be punished, the peo¬ple of the straight path shall be rewarded).

تیسری آیت میں حق تعالیٰ نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اطلاع دی کہ زمین پر بسنے والے بنی آدم کی اکثریت گمراہی پر ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس سے مرعوب نہ ہوں ان کی باتوں پر کان نہ دھریں قرآن نے متعدد مقامات پر اس مضمون کو بیان فرمایا ہے، ایک جگہ ارشاد ہے (آیت) ولقد ضل قبلھم اکثر الاولین، دوسری جگہ ارشاد ہے (آیت) وما اکثر الناس ولو حرصت بمومنین، مطلب یہ ہے کہ عادةً انسان پر عددی اکثریت کا رعب غالب ہوجاتا ہے، اور ان کی اطاعت کرنے لگتا ہے، اس لئے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب کیا گیا کہ : ” دنیا میں زیادہ لوگ ایسے ہیں کہ اگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کا کہنا ماننے لگیں تو وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اللہ کی راہ سے بےراہ کردیں، کیونکہ وہ عقائد و نظریات میں محض خیالات اور اوہام کے پیچھے چلتے ہیں اور احکام میں محض تخمینہ اور اٹکل سے کام لیتے ہیں، جن کی کوئی بنیاد نہیں “۔ خلاصہ یہ ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کی عددی اکثریت سے مرعوب ہو کر ان کو موافقت کا خیال بھی نہ فرماویں، کیونکہ یہ سب بےاصول اور بےراہ چلنے والے ہیں، آخر آیت میں فرمایا کہ : ” بالیقین آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا رب ان کو خوب جانتا ہے، جو اس کی راہ سے بےراہ ہوجاتا ہے اور وہ اس کو بھی خوب جانتا ہے جو اس کی راہ پر چلتا ہے، پس جیسے گمراہوں کو سزا ملے گی، سیدھی راہ والوں کو انعام و اکرام حاصل ہوگا “۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاِنْ تُطِعْ اَكْثَرَ مَنْ فِي الْاَرْضِ يُضِلُّوْكَ عَنْ سَبِيْلِ اللہِ۝ ٠ ۭ اِنْ يَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَاِنْ ہُمْ اِلَّا يَخْرُصُوْنَ۝ ١١٦ طوع الطَّوْعُ : الانقیادُ ، ويضادّه الكره قال عزّ وجلّ : ائْتِيا طَوْعاً أَوْ كَرْهاً [ فصلت/ 11] ، وَلَهُ أَسْلَمَ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ طَوْعاً وَكَرْهاً [ آل عمران/ 83] ، والطَّاعَةُ مثله لکن أكثر ما تقال في الائتمار لما أمر، والارتسام فيما رسم . قال تعالی: وَيَقُولُونَ طاعَةٌ [ النساء/ 81] ، طاعَةٌ وَقَوْلٌ مَعْرُوفٌ [ محمد/ 21] ، أي : أَطِيعُوا، وقد طَاعَ له يَطُوعُ ، وأَطَاعَهُ يُطِيعُهُ قال تعالی: وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ [ التغابن/ 12] ، مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطاعَ اللَّهَ [ النساء/ 80] ، وَلا تُطِعِ الْكافِرِينَ [ الأحزاب/ 48] ، وقوله في صفة جبریل عليه السلام : مُطاعٍ ثَمَّ أَمِينٍ [ التکوير/ 21] ، والتَّطَوُّعُ في الأصل : تكلُّفُ الطَّاعَةِ ، وهو في التّعارف التّبرّع بما لا يلزم کالتّنفّل، قال : فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْراً فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ [ البقرة/ 184] ، وقرئ :( ومن يَطَّوَّعْ خيراً ) ( ط و ع ) الطوع کے معنی ( بطیب خاطر ) تابعدار ہوجانا کے ہیں اس کے بالمقابل کرھ ہے جس کے منعی ہیں کسی کام کو ناگواری اور دل کی کراہت سے سر انجام دینا ۔ قرآن میں ہے : ۔ ائْتِيا طَوْعاً أَوْ كَرْهاً [ فصلت/ 11] آسمان و زمین سے فرمایا دونوں آؤ دل کی خوشی سے یا ناگواري سے وَلَهُ أَسْلَمَ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ طَوْعاً وَكَرْهاً [ آل عمران/ 83] حالانکہ سب اہل آسمان و زمین بطبیب خاطر یا دل کے جبر سے خدا کے فرمانبردار ہیں ۔ یہی معنی الطاعۃ کے ہیں لیکن عام طور طاعۃ کا لفظ کسی حکم کے بجا لانے پر آجاتا ہے قرآن میں ہے : ۔ وَيَقُولُونَ طاعَةٌ [ النساء/ 81] اور یہ لوگ منہ سے تو کہتے ہیں کہ ہم دل سے آپ کے فرمانبردار ہیں ۔ طاعَةٌ وَقَوْلٌ مَعْرُوفٌ [ محمد/ 21]( خوب بات ) فرمانبردار ی اور پسندیدہ بات کہنا ہے ۔ کسی کی فرمانبرداری کرنا ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ [ التغابن/ 12] اور اس کے رسول کی فر مانبردار ی کرو ۔ مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطاعَ اللَّهَ [ النساء/ 80] جو شخص رسول کی فرمانبردار ی کرے گا بیشک اس نے خدا کی فرمانبرداری کی ۔ وَلا تُطِعِ الْكافِرِينَ [ الأحزاب/ 48] اور کافروں کا کہا نہ مانو ۔ اور حضرت جبریل (علیہ السلام) کے متعلق فرمایا : ۔ مُطاعٍ ثَمَّ أَمِينٍ [ التکوير/ 21] سردار اور امانتدار ہے ۔ التوطوع ( تفعل اس کے اصل معنی تو تکلیف اٹھاکر حکم بجالا نا کے ہیں ۔ مگر عرف میں نوافل کے بجا لانے کو تطوع کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْراً فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ [ البقرة/ 184] اور جو کوئی شوق سے نیکی کرے تو اس کے حق میں زیادہ اچھا ہے ۔ ایک قرات میں ومن یطوع خیرا ہے ( ضل)إِضْلَالُ والإِضْلَالُ ضربان : أحدهما : أن يكون سببه الضَّلَالُ ، وذلک علی وجهين : إمّا بأن يَضِلَّ عنک الشیءُ کقولک : أَضْلَلْتُ البعیرَ ، أي : ضَلَّ عنّي، وإمّا أن تحکم بِضَلَالِهِ ، والضَّلَالُ في هذين سبب الإِضْلَالِ. والضّرب الثاني : أن يكون الإِضْلَالُ سببا لِلضَّلَالِ ، وهو أن يزيّن للإنسان الباطل ليضلّ کقوله : لَهَمَّتْ طائِفَةٌ مِنْهُمْ أَنْ يُضِلُّوكَ وَما يُضِلُّونَ إِلَّا أَنْفُسَهُمْ [ النساء/ 113] ، أي يتحرّون أفعالا يقصدون بها أن تَضِلَّ ، فلا يحصل من فعلهم ذلك إلّا ما فيه ضَلَالُ أنفسِهِم، وقال عن الشیطان : وَلَأُضِلَّنَّهُمْ وَلَأُمَنِّيَنَّهُمْ [ النساء/ 119] ، وقال في الشّيطان : وَلَقَدْ أَضَلَّ مِنْكُمْ جِبِلًّا كَثِيراً [يس/ 62] ، وَيُرِيدُ الشَّيْطانُ أَنْ يُضِلَّهُمْ ضَلالًا بَعِيداً [ النساء/ 60] ، وَلا تَتَّبِعِ الْهَوى فَيُضِلَّكَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ [ ص/ 26] ، وإِضْلَالُ اللهِ تعالیٰ للإنسان علی أحد وجهين : أحدهما أن يكون سببُهُ الضَّلَالَ ، وهو أن يَضِلَّ الإنسانُ فيحكم اللہ عليه بذلک في الدّنيا، ويعدل به عن طریق الجنّة إلى النار في الآخرة، وذلک إِضْلَالٌ هو حقٌّ وعدلٌ ، فالحکم علی الضَّالِّ بضَلَالِهِ والعدول به عن طریق الجنّة إلى النار عدل وحقّ. والثاني من إِضْلَالِ اللهِ : هو أنّ اللہ تعالیٰ وضع جبلّة الإنسان علی هيئة إذا راعی طریقا، محمودا کان أو مذموما، ألفه واستطابه ولزمه، وتعذّر صرفه وانصرافه عنه، ويصير ذلک کالطّبع الذي يأبى علی الناقل، ولذلک قيل : العادة طبع ثان «2» . وهذه القوّة في الإنسان فعل إلهيّ ، وإذا کان کذلک۔ وقد ذکر في غير هذا الموضع أنّ كلّ شيء يكون سببا في وقوع فعل۔ صحّ نسبة ذلک الفعل إليه، فصحّ أن ينسب ضلال العبد إلى اللہ من هذا الوجه، فيقال : أَضَلَّهُ اللهُ لا علی الوجه الذي يتصوّره الجهلة، ولما قلناه جعل الإِضْلَالَ المنسوب إلى نفسه للکافر والفاسق دون المؤمن، بل نفی عن نفسه إِضْلَالَ المؤمنِ فقال : وَما کانَ اللَّهُ لِيُضِلَّ قَوْماً بَعْدَ إِذْ هَداهُمْ [ التوبة/ 115] ، فَلَنْ يُضِلَّ أَعْمالَهُمْ سَيَهْدِيهِمْ [ محمد/ 4- 5] ، وقال في الکافروالفاسق : فَتَعْساً لَهُمْ وَأَضَلَّ أَعْمالَهُمْ [ محمد/ 8] ، وما يُضِلُّ بِهِ إِلَّا الْفاسِقِينَ [ البقرة/ 26] ، كَذلِكَ يُضِلُّ اللَّهُ الْكافِرِينَ [ غافر/ 74] ، وَيُضِلُّ اللَّهُ الظَّالِمِينَ [إبراهيم/ 27] ، وعلی هذا النّحو تقلیب الأفئدة في قوله : وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ [ الأنعام/ 110] ، والختم علی القلب في قوله : خَتَمَ اللَّهُ عَلى قُلُوبِهِمْ [ البقرة/ 7] ، وزیادة المرض في قوله : فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ فَزادَهُمُ اللَّهُ مَرَضاً [ البقرة/ 10] . الاضلال ( یعنی دوسرے کو گمراہ کرنے ) کی دوصورتیں ہوسکتی ہیں ۔ ایک یہ کہ اس کا سبب خود اپنی ضلالت ہو یہ دو قسم پر ہے ۔ (1) ایک یہ کہ کوئی چیز ضائع ہوجائے مثلا کہاجاتا ہے اضللت البعیر ۔ میرا اونٹ کھو گیا ۔ (2) دوم کہ دوسرے پر ضلالت کا حکم لگانا ان دونوں صورتوں میں اضلال کا سبب ضلالۃ ہی ہوتی ہے ۔ دوسری صورت اضلال کا سبب ضلالۃ ہی ہوتی ہے ۔ دوسری صورت اضلال کی پہلی کے برعکس ہے یعنی اضلال بذاتہ ضلالۃ کا سبب بنے اسی طرح پر کہ کسی انسان کو گمراہ کرنے کے لئے باطل اس کے سامنے پر فریب اور جاذب انداز میں پیش کیا جائے جیسے فرمایا : لَهَمَّتْ طائِفَةٌ مِنْهُمْ أَنْ يُضِلُّوكَ وَما يُضِلُّونَ إِلَّا أَنْفُسَهُمْ [ النساء/ 113] ، ان میں سے ایک جماعت تم کو بہکانے کا قصد کرچکی تھی اور یہ اپنے سوا کسی کو بہکا نہیں سکتے۔ یعنی وہ اپنے اعمال سے تجھے گمراہ کرنے کی کوشش میں ہیں مگر وہ اپنے اس کردار سے خود ہی گمراہ ہو رہے ہیں ۔ اور شیطان کا قول نقل کرتے ہوئے فرمایا : وَلَأُضِلَّنَّهُمْ وَلَأُمَنِّيَنَّهُمْ [ النساء/ 119] اور ان کو گمراہ کرتا اور امیدیں دلاتا رہوں گا ۔ اور شیطان کے بارے میں فرمایا : ۔ وَلَقَدْ أَضَلَّ مِنْكُمْ جِبِلًّا كَثِيراً [يس/ 62] اور اس نے تم میں سے بہت سی خلقت کو گمراہ کردیا تھا ۔ وَيُرِيدُ الشَّيْطانُ أَنْ يُضِلَّهُمْ ضَلالًا بَعِيداً [ النساء/ 60] اور شیطان تو چاہتا ہے کہ ان کو بہکا کر رستے سے دور ڈال دے ۔ وَلا تَتَّبِعِ الْهَوى فَيُضِلَّكَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ [ ص/ 26] اور خواہش کی پیروی نہ کرنا کہ وہ تمہیں خدا کے رستے سے بھٹکادے گی ۔ اللہ تعالیٰ کے انسان کو گمراہ کرنے کی دو صورتیں ہی ہوسکتی ہیں ( 1 ) ایک یہ کہ اس کا سبب انسان کی خود اپنی ضلالت ہو اس صورت میں اللہ تعالیٰ کی طرف اضلال کی نسبت کے یہ معنی ہوں گے کہ جب انسان از خود گمرہ ہوجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے دنیا میں اس پر گمراہی کا حکم ثبت ہوجاتا ہے ۔ جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ آخرت کے دن اسے جنت کے راستہ سے ہٹا کر دوزخ کے راستہ پر ڈال دیا جائے گا ۔ ( 2 ) اور اللہ تعالٰ کی طرف اضلال کی نسببت کے دوسرے معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ باری تعالیٰ نے انسان کی جبلت ہی کچھ اس قسم کی بنائی ہے کہ جب انسان کسی اچھے یا برے راستہ کو اختیار کرلیتا ہے تو اس سے مانوس ہوجاتا ہے اور اسے اچھا سمجھنے لگتا ہے اور آخر کا اس پر اتنی مضبوطی سے جم جاتا ہے کہ اس راہ سے ہٹا نایا اس کا خود اسے چھوڑ دینا دشوار ہوجاتا ہے اور وہ اعمال اس کی طبیعت ثانیہ بن جاتے ہیں اسی اعتبار سے کہا گیا ہے کہ عادت طبعہ ثانیہ ہے ۔ پھر جب انسان کی اس قسم کی فطرت اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی ہے اور دوسرے مقام پر ہم بیان کرچکے ہیں کہ فعل کی نسبت اس کے سبب کی طرف بھی ہوسکتی ہے لہذا اضلال کی نسبت اللہ تعالیٰ کیطرف بھی ہوسکتی ہے اور ہم کہہ سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اسے گمراہکر دیا ور نہ باری تعالیٰ کے گمراہ کر نیکے وہ معنی نہیں ہیں جو عوام جہلاء سمجھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ قرآن نے اللہ تعالیٰ کی طرف گمراہ کرنے کینسبت اسی جگہ کی ہے جہاں کافر اور فاسق لوگ مراد ہیں نہ کہ مومن بلکہ حق تعالیٰ نے مومنین کو گمراہ کرنے کی اپنی ذات سے نفی فرمائی ہے چناچہ ارشاد ہے ۔ وَما کانَ اللَّهُ لِيُضِلَّ قَوْماً بَعْدَ إِذْ هَداهُمْ [ التوبة/ 115] اور خدا ایسا نہیں ہے کہ کسی قومکو ہدایت دینے کے بعد گمراہ کردے ۔ فَلَنْ يُضِلَّ أَعْمالَهُمْ سَيَهْدِيهِمْ [ محمد/ 4- 5] ان کے عملوں کر ہر گز ضائع نہ کریگا بلکہ ان کو سیدھے رستے پر چلائے گا ۔ اور کافر اور فاسق لوگوں کے متعلق فرمایا : فَتَعْساً لَهُمْ وَأَضَلَّ أَعْمالَهُمْ [ محمد/ 8] ان کے لئے ہلاکت ہے اور وہ ان کے اعمال کو برباد کردیگا : وما يُضِلُّ بِهِ إِلَّا الْفاسِقِينَ [ البقرة/ 26] اور گمراہ بھی کرتا ہے تو نافرمانوں ہی کو ۔ كَذلِكَ يُضِلُّ اللَّهُ الْكافِرِينَ [ غافر/ 74] اسی طرح خدا کافررں کو گمراہ کرتا ہے ۔ وَيُضِلُّ اللَّهُ الظَّالِمِينَ [إبراهيم/ 27] اور خدا بےانصافوں کو گمراہ کردیتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ [ الأنعام/ 110] اور ہم ان کے دلوں کو الٹ دیں گے ۔ خَتَمَ اللَّهُ عَلى قُلُوبِهِمْ [ البقرة/ 7] خدا نے انکے دلوں پر مہر لگا رکھی ہے ۔ فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ فَزادَهُمُ اللَّهُ مَرَضاً [ البقرة/ 10] ان کے دلوں میں ( کفر کا ) مرض تھا خدا نے ان کا مرض اور زیادہ کردیا ۔ میں دلوں کے پھیر دینے اور ان پر مہر لگا دینے اور ان کی مرض میں اضافہ کردینے سے بھی یہی معنی مراد ہیں ۔ سبل السَّبِيلُ : الطّريق الذي فيه سهولة، وجمعه سُبُلٌ ، قال : وَأَنْهاراً وَسُبُلًا [ النحل/ 15] ( س ب ل ) السبیل ۔ اصل میں اس رستہ کو کہتے ہیں جس میں سہولت سے چلا جاسکے ، اس کی جمع سبل آتی ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ وَأَنْهاراً وَسُبُلًا [ النحل/ 15] دریا اور راستے ۔ تبع يقال : تَبِعَهُ واتَّبَعَهُ : قفا أثره، وذلک تارة بالجسم، وتارة بالارتسام والائتمار، وعلی ذلک قوله تعالی: فَمَنْ تَبِعَ هُدايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ البقرة/ 38] ( ت ب ع) تبعہ واتبعہ کے معنی کے نقش قدم پر چلنا کے ہیں یہ کبھی اطاعت اور فرمانبرداری سے ہوتا ہے جیسے فرمایا ؛ فَمَنْ تَبِعَ هُدايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ البقرة/ 38] تو جنہوں نے میری ہدایت کی پیروی کی ان کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ غمناک ہونگے ظن والظَّنُّ في كثير من الأمور مذموم، ولذلک قال تعالی: وَما يَتَّبِعُ أَكْثَرُهُمْ إِلَّا ظَنًّا[يونس/ 36] ، وَإِنَّ الظَّنَ [ النجم/ 28] ، وَأَنَّهُمْ ظَنُّوا كَما ظَنَنْتُمْ [ الجن/ 7] ، ( ظ ن ن ) الظن اور ظن چونکہ عام طور پر برا ہوتا ہے اس لئے اس کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا : وَما يَتَّبِعُ أَكْثَرُهُمْ إِلَّا ظَنًّا[يونس/ 36] اور ان میں کے اکثر صرف ظن کی پیروی کرتے ہیں ۔ خرص الخَرْص : حرز الثّمرة، والخَرْص : المحروز، کالنّقض للمنقوض، وقیل : الخَرْص الکذب في قوله تعالی: إِنْ هُمْ إِلَّا يَخْرُصُونَ [ الزخرف/ 20] ، قيل : معناه يکذبون . وقوله تعالی: قُتِلَ الْخَرَّاصُونَ [ الذاریات/ 10] ، قيل : لعن الکذّابون، وحقیقة ذلك : أنّ كلّ قول مقول عن ظنّ وتخمین يقال : خَرْصٌ ، سواء کان مطابقا للشیء أو مخالفا له، من حيث إنّ صاحبه لم يقله عن علم ولا غلبة ظنّ ولا سماع، بل اعتمد فيه علی الظّنّ والتّخمین، کفعل الخارص في خرصه، وكلّ من قال قولا علی هذا النحو قد يسمّى کاذبا۔ وإن کان قوله مطابقا للمقول المخبر عنه۔ كما حكي عن المنافقین في قوله عزّ وجلّ : إِذا جاءَكَ الْمُنافِقُونَ قالُوا نَشْهَدُ إِنَّكَ لَرَسُولُ اللَّهِ ، وَاللَّهُ يَعْلَمُ إِنَّكَ لَرَسُولُهُ ، وَاللَّهُ يَشْهَدُ إِنَّ الْمُنافِقِينَ لَكاذِبُونَ [ المنافقون/ 1] . ( خ ر ص ) الخرض پھلوں کا اندازہ کرنا اور اندازہ کئے ہوئے پھلوں کو خرص کہا جاتا ہے یہ بمعنی مخروص ہے ۔ جیسے نقض بمعنی منقوض بعض نے کہا ہے کہ خرص بمعنی کذب آجاتا ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ ؛۔ یہ تو صرف اٹکلیں دوڑار ہے ہیں ۔ میں بعض نے کہا ہے کہ یعنی وہ جھوٹ بولتے ہیں ۔ اور آیت کریمہ :۔ قُتِلَ الْخَرَّاصُونَ [ الذاریات/ 10] اٹکل کرنے والے ہلاک ہوں ۔ کے معنی بقول بعض یہ ہیں کہ جھولوں پر خدا کی لعنت ہو ، اصل میں ہر وہ بات جو ظن وتخمین سے کہی جائے اسے خرص کہا جاتا ہے ۔ عام اس سے کہ وہ انداز غلط ہو یا صحیح ۔ کیونکہ تخمینہ کرنے والا نہ تو علم یا غلبہ ظن سے بات کرتا ہے اور نہ سماع کی بنا پر کہتا ہے ۔ بلکہ اس کا اعتماد محض گمان پر ہوتا ہے ۔ جیسا کہ تخمینہ کرنیوالا پھلوں کا تخمینہ کرتا ہے اور اس قسم کی بات کہنے والے کو بھی جھوٹا کہا جاتا ہے ۔ خواہ وہ واقع کے مطابق ہی کیوں نہ بات کرے جیسا کہ منافقین کے بارے میں فرمایا :۔ إِذا جاءَكَ الْمُنافِقُونَ قالُوا نَشْهَدُ إِنَّكَ لَرَسُولُ اللَّهِ ، وَاللَّهُ يَعْلَمُ إِنَّكَ لَرَسُولُهُ ، وَاللَّهُ يَشْهَدُ إِنَّ الْمُنافِقِينَ لَكاذِبُونَ [ المنافقون/ 1]( اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب منافق لوگ تمہارے پاس آتے ہیں تو ( ازراہ انفاق ) کہتے ہیں کہ ہم اقرار کرتے ہیں کہ آپ بیشک خدا کے پیغمبر ہیں ۔ اور خدا جانتا ہے کہ درحقیقت تم اس کے پیغمبر ہو لیکن خدا ظاہر کئے دیتا ہے کہ منافق ( دل سے نہ اعتقاد رکھنے کے لحاظ سے ) جھوٹے ہیں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١١٦) اور اس نصرت خداوندی کو جو اس کے اولیاء کے لیے اس کی طرف سے آتی ہے اس میں کوئی تبدیل کرنے والا نہیں یا یہ کہ آپ کے پروردگار کا دین بندوں کے بندوں کے سامنے اس بات کی سچائی کے ساتھ ظاہر ہوگیا ہے کہ وہ دین الہی ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے حکم سے ظاہر ہوگیا کہ اس کے دین میں کوئی کسی قسم کی تبدیلی کرنے والا نہیں اور وہ سب کی باتیں سننے والا اور سب کے افعال سے باخبر ہے۔ رؤساء اہل مکہ جن میں سے ابوالاحوص، مالک بن عوف، بدیل بن ورقاء اور جلیس بن ورقاء ایسے ہیں کہ اگر آپ ان لوگوں کا کہنا مان لیں تو دین الہی سے حرم تک میں بےراہ کردیں اور وہ محض بےبنیاد خیالات پر چلتے ہیں، اور مسلمانوں سے محض خیالی باتیں کرتے ہیں کہ مثلا تم جو اپنی چھریوں سے جانور ذبح کرتے ہو اس سے اللہ تعالیٰ کا ذبح کردہ بہتر ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١١٦ (وَاِنْ تُطِعْ اَکْثَرَ مَنْ فِی الْاَرْضِ یُضِلُّوْکَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ط) ۔ جدید جمہوری نظام کے فلسفے کی نفی کے لیے یہ بڑی اہم آیت ہے۔ جمہوریت میں اصابتِ رائے کے بجائے تعداد کو دیکھا جاتا ہے۔ بقول اقبالؔ : ؂ جمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میں بندوں کو گنا کرتے ہیں ‘ تولا نہیں کرتے ! اس حوالے سے قرآن کا یہ حکم بہت واضح ہے کہ اگر زمین میں بسنے والوں کی اکثریت کی بات مانو گے تو وہ تمہیں گمراہ کردیں گے۔ دنیا میں اکثریت تو ہمیشہ باطل پرستوں کی رہی ہے۔ دور صحا بہ (رض) میں صحابہ کرام (رض) کی تعداد دنیا کی پوری آبادی کے تناظر میں دیکھیں تو لاکھ کے مقابلے میں ایک کی نسبت بھی نہیں بنتی۔ اس لیے اکثریت کو کلی اختیار دے کر کسی خیر کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ ہاں ایک صورت میں اکثریت کی رائے کو اہمیت دی جاسکتی ہے۔ وہ یہ کہ اگر اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے احکام کو قطعی اصولوں اور land makrs کے طور پر مان لیا جائے تو پھر ان کی واضح کردہ حدود کے اندر رہتے ہوئے مباحات کے بارے میں اکثریت کی بنا پر فیصلے ہوسکتے ہیں۔ مثلاً کسی دعوت کے ضمن میں اگر یہ فیصلہ کرنا مقصود ہو کہ مہمانوں کو کون سا مشروب پیش کیا جائے تو ظاہر ہے کہ شراب کے بارے میں تو رائے شماری نہیں ہوسکتی ‘ وہ تو اللہ اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم کے مطابق حرام ہے۔ ہاں روح افزا ‘ کو کا کو لا ‘ سپرائٹ وغیرہ کے بارے میں آپ اکثریت کی رائے کا احترام کرتے ہوئے فیصلہ کرسکتے ہیں۔ لیکن اختیار مطلق (absolute authority) اور اقتدار اعلیٰ (sovereignty) اکثریت کے پاس ہو تو اس صورت حال پر اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ ہی پڑھا جاسکتا ہے۔ چناچہ کلی اختیار اوراقتدارِاعلیٰ تو بہر حال اللہ کے پاس رہے گا ‘ جو اس کائنات اور اس میں موجود ہرچیز کا خالق اور مالک ہے۔ اکثریت کی رائے پر فیصلے صرف اس کے احکام کی حدود کے اندر رہتے ہوئے ہی کیے جاسکتے ہیں۔ (اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ الاَّ الظَّنَّ وَاِنْ ہُمْ الاَّ یَخْرُصُوْنَ ) ۔ یعنی یہ محض گمان کی پیروی کرتے ہیں اور اٹکل کے تیر تکے چلاتے ہیں ‘ قیاس آرائیاں کرتے ہیں۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

83. One need not follow the way of life of the majority, for the majority tend to follow their conjectures and fancies rather than sound knowledge. Their beliefs, their ideas and concepts, their philosophies of life, the guiding principles of their conduct, their laws - all these are founded on conjecture. On the contrary, the way of life which pleases God, was revealed by Him and hence is based on true knowledge rather than conjecture. Instead of trying to discover the way of life of the majority, a seeker after truth should, therefore, persevere in the way prescribed by God, even if he finds himself to be a solitary traveller.

سورة الْاَنْعَام حاشیہ نمبر :83 یعنی بیشتر لوگ جو دنیا میں بستے ہیں علم کے بجائے قیاس و گمان کی پیروی کر رہے ہیں اور ان کے عقائد ، تخیلات ، فلسفے ، اصول زندگی اور قوانین عمل سب کے سب قیاس آرائیوں پر مبنی ہیں ۔ بخلاف اس کے اللہ کے راستہ ، یعنی دنیا میں زندگی بسر کرنے کا وہ طریقہ جو اللہ کی رضا کے مطابق ہے ، لازماً صرف وہی ایک ہے جس کا علم اللہ نے خود دیا ہے نہ کہ وہ جس کو لوگوں نے بطور خود اپنے قیاسات سے تجویز کر لیا ہے ۔ لہٰذا کسی طالب حق کو یہ نہ دیکھنا چاہیے کہ دنیا کے بیشتر انسان کس راستہ پر جا رہے ہیں بلکہ اسے پوری ثابت قدمی کے ساتھ اس راہ پر چلنا چاہیے جو اللہ نے بتائی ہے ، چاہے اس راستہ پر چلنے کے لیے وہ دنیا میں اکیلا ہی رہ جائے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

(116 ۔ 117) ۔ سورة مائدہ میں گذر چکا ہے کہ قبیلہ خزاعہ کے ایک سروار عمر بن لحی بن قمعہ نے مکہ میں بت پرستی اور بتوں کے نام پر جانور چھوڑ کر ان کو حرام ٹھہرانے کی رسم پھیلائی اس رسم میں یہ بھی ایک بات تھی کہ مردار جانور کو اہل مکہ حلال جانتے تھے غرض ان حرام حلال ٹھہرائے ہوئے جانوروں کہ باب میں مشرکین مکہ اکثر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے طرح طرح کا جھگڑا کیا کرتے تھے۔ خاص طور پر مردار جانور کا جھگڑا تو آگے کی آیتوں میں آتا ہے ان آیتوں میں مشرکین مکہ کے عام جھگڑوں کے متعلق یہ فرمایا ملت ابراہیمی شریعت موسوی شریعت عیسوی کی بگاڑ کر آج کل اس زمین پر یہی لوگ ہیں جن کی یہ اٹکل ان کا دین ایمان ہے کہ جو رسمیں ان کے لیے ان کے بڑے بوڑھے ٹھہرا گئے ہیں وہی ان کا اصل دین ہے۔ اس لیے ان لوگوں کے جھگڑوں میں سے کوئی بات نہ سنی جاوے کیونکہ ان جھگڑوں سے اصل مقصد ان لوگوں کا یہ ہے کہ دین الٰہی کی باتوں کو یہ لوگ مٹا دیویں اور اپنی قدیمی رسموں کو قائم رکھیں لیکن یہ ہرگز نہ ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے دین کا خود حامی اور مددگار ہے۔ ان لوگوں کے یہ خیال ہے کہ ان کے بڑے بوڑھے جو رسمیں ٹھہرا گئے ہیں وہی اصل دین ہے یہ خیال ان کا بالکل غلط ہے اصل دین سے برگشتہ لوگوں کا اور اصل دین کے پابند لوگوں کا حال اللہ تعالیٰ کو خوب معلوم ہے جس دن اللہ تعالیٰ کے علم کے موافق نیک وبد کا فیصلہ ہوگا اس دن ان لوگوں کو معلوم ہوجاوے گا کہ اصل دین کی باتیں وہی تھیں جس کے یہ لوگ منکر تھے صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ (رض) کی حدیث اوپر گذر چکی ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میں لوگوں کو ہتھیلی بھر کر انہیں آگ میں گرنے سے روکتا ہوں لیکن لوگ آگ میں گرنے کی ایسی جرأت کر رہے ‘ ہیں جس طرح کیڑے پتنگے روشنی پر گرتے ہیں یہ حدیث ان آیتوں کو گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اگرچہ دین الٰہی کی باتوں کا پابند کر کے اللہ کے رسول لوگوں کو دوزخ کی آگ سے بچانا چاہتے ہیں لیکن لوگ اپنی قدیمی رسموں کے پابند ہو کر خود بھی دوزخ کی آگ میں گرنے کی کوشش کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی اپنی رسمیں سکھا کر دوزخ میں لے جانا چاہتے ہیں :۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(6:116) تطع۔ تو حکم مانے۔ تو حکم مانے گا۔ اطاعۃ سے مضارع واحد مذکر حاضر۔ تطع۔ اصل میں تطیع تھا۔ ان شرطیہ کے آنے سے ی حذف ہوگئی۔ ان یتبعون اور ان ھم میں ان نافیہ ہے۔ یخرصون۔ مضارع جمع مذکر غائب خوص سے (باب نصر) وہ قیاسی باتیں کرتے ہیں ۔ الخصوص۔ پھلوں کا اندازہ کرنا۔ اندازہ کئے ہوئے پھلوں کو خرص بمعنی مخصروص کہتے ہیں۔ اٹکل کرنا اور جھوٹ بولنے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ چناچہ آیہ ہذا میں اور آیت (43:20) میں ہے ان ہم الا یخرصون۔ یہ تو صرف اٹکلیں دوڑا رہے ہیں۔ اور بعض کے نزدیک یخرصون بمعنی یکذبون ہے یعنی وہ جھوٹ بولتے ہیں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 1 اور اس اٹکل کی بنا پر انہوں نے بہت سی حلال چیزوں کو حرام ٹھہرا لیا ہے۔ موجودہ دور میں اکثر لوگوں کا یہی رویہ ہے، (وحیدی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

1۔ لاتکونن اور ان تطع الخ۔ میں جو اسناد فعل کی جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف کی گئی ہے اس سے سنانا اور روں کو منظور ہے آپ کی طرف اسناد کرنے سے مبالغہ ہوگیا کہ جب آپ کو باوجود عدم احتمال امتراء واطاعت ایساکہا گیا تو دوسروں کی کیا ہستی ہے جیسا کہ ابتغی میں بھی ظاہرا اسناد آپ کی طرف ہے اور مقصود متبعون ہے جس کا مبنی مناظرہ میں ملاطعنت ہے جو کہ نفع فی الدعوت ہے۔ 2۔ یعنی عقائد میں وہ محض بےاصل خیالات پرچلتے ہیں اور اقوال میں بالکل قیاسی باتیں کرتے ہیں۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : حق و انصاف، ہدایت اور رہنمائی کا فیصلہ لوگوں کی اکثریت پر نہیں ہوا کرتا۔ اکثریت کے پیچھے چلنے والا گمراہ ہی ہوا کرتا ہے۔ کیونکہ لوگوں کی اکثریت گمراہ ہوتی ہے۔ رسول محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں منکرین حق اپنی گمراہی کی تائید میں یہ دلیل بھی دیا کرتے تھے کہ اگر آپ سچے ہیں تو آپ کی پیروی کرنے والے تعداد کے لحاظ سے تھوڑے اور وسائل کے اعتبار سے کمزور کیوں ہیں ؟ اس کا جواب یوں دیا گیا ہے کہ لوگوں کی اکثریت ہمیشہ گمراہی پر قائم رہی ہے لہٰذا حق و صداقت کا معیار ٹھوس دلائل ہیں لوگوں کی اکثریت نہیں۔ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ شریعت کا پابند کیا گیا ہے نہ کہ جمہوریت کا ؟ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ دنیا میں گمراہ لیڈر لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے جمہوریت کا بہانہ بنائیں گے اس لیے اس نے جمہوریت کے بت کو پاش پاش کرنے کے لیے اپنے نبی کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر آپ بھی عدل و انصاف کے اصول اور قرآن مجید کی ہدایات کو چھوڑ کر محض اکثریت کی اتباع کریں گے تو یہ لوگ آپ کو صراط مستقیم سے ہٹا دیں گے۔ اکثریت تو خود ساختہ اصولوں اور اپنے تصورات کی اتباع کرنے کے سوا کسی حقیقت پر قائم نہیں ہوتی۔ قربان جائیں قرآن کے فرمان پر ! دنیا میں جہاں، جہاں بھی جمہوریت کو حق و باطل کا معیار بنایا گیا ہے وہاں یہی اصول ہے کہ جمہوریت کا فیصلہ ہی حق کا معیار ہے اس لیے انتخاب جیتنے والا ہر لیڈر نعرہ لگاتا ہے کہ جمہوریت کا فیصلہ غلط نہیں ہوسکتا لیکن جب الیکشن ہار جاتا ہے تو کہتا ہے کہ میرا مد مقابل عوام کو گمراہ کر رہا ہے۔ قرآن مجید جمہوریت کو حق و باطل کا معیار قرار دینے کے اصول اور نظریہ کی نفی کرتا ہے۔ لہٰذا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم ہوا کہ آپ پورے اخلاص اور دلجمعی کے ساتھ اللہ کی نازل کردہ ہدایت کی طرف بلائیں اور اس پر جمے رہیں اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ کون اس کے راستے سے گمراہ ہوا کون خوش نصیب ہدایت یافتہ ہے۔ اس فرمان میں ایک اعتبار سے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دی گئی کہ آپ کا کام سمجھانا ہے منوانا نہیں۔ مسائل ایمان اور حق کا معیار : ١۔ مسلمانوں کو صرف اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے احکام کی پیروی کرنی چاہیے۔ ٢۔ ہدایت اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ ٣۔ اکثریت کی پیروی حق کا معیار نہیں ہوا کرتی۔ ٤۔ لوگوں کی اکثریت محض وہم و گمان کی پیروی کرتی ہے۔ ٥۔ اللہ تعالیٰ ہدایت یافتہ اور گمراہ لوگوں کو خوب جانتا ہے۔ تفسیر بالقرآن لوگوں کی اکثریت حق کے بارے میں جاہل اور گمراہ ہوتی ہے : ١۔ اگر ہم منکرین کے سامنے ہر چیز کو اکٹھا کردیتے تب بھی وہ ایمان نہ لاتے کیونکہ اکثر ان میں جاہل ہیں۔ (الانعام : ١١١) ٢۔ کیا زمین و آسمان کی تخلیق مشکل ہے یا انسان کی پیدائش مگر اکثر لوگ جاہل ہیں۔ (الفاطر : ٥٧) ٣۔ یہ دین صاف اور سیدھا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ (یوسف : ٤٠) ٤۔ اللہ اپنے امر پر غالب ہے لیکن لوگ نہیں جانتے۔ (یوسف : ٢١) ٥۔ اللہ اپنے وعدہ کی خلاف ورزی نہیں کرتا لیکن اکثر لوگ جاہل ہیں۔ (الروم : ٦)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

زمین کے اکثر رہنے والے گمراہ کرنے والے ہیں : اس کے بعد فرمایا (وَ اِنْ تُطِعْ اَکْثَرَ مَنْ فِی الْاَرْضِ ) (الآیۃ) اس میں یہ ارشاد فرمایا کہ زمین پر جو لوگ بستے ہیں ان میں اکثر گمراہ ہیں۔ ان اکثریت والوں کی اطاعت کرو گے تو یہ تمہیں راہ حق سے ہٹا دیں گے۔ معلوم ہوا کہ اکثریت دلیل حقانیت نہیں ہے جیسا کہ سورة مائدہ میں فرمایا (قُلْ لَّایَسْتَوِی الْخَبِیْثُ وَ الطِّیِّبُ وَ لَوْاَعْجَبَکَ کَثْرَۃُ الْخَبِیْثِ ) دنیا میں اکثریت گمراہوں کی ہے جو اللہ کی راہ سے ہٹے ہوئے ہیں ان کی بات مانو گے تو گمراہ ہوجاؤ گے۔ حق والوں کے پاس اٹھو بیٹھو اور ان سے حق سیکھو۔ سورة توبہ میں فرمایا (یٰٓایُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُو اتَّقُوا اللّٰہَ وَ کُوْنُوْا مَعَ الصَّدِقِیْنَ ) (اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ ہوجاؤ) اللہ کے یہاں محبوبیت کا مدار ایمان اور تقویٰ پر ہے اکثریت پر نہیں ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

126 یہ زجر ہے اکثر من فی الارض مراد مشرکین ہیں۔ والمراد باکثرھم الکفار (روح) سَبِیْل اللہ سے مراد توحید باری تعالیٰ یعنی اگر آپ کفار و مشرکین کی بات مان لیں گے تو وہ تو آپ کو توحید کی راہ سے ہٹانے ہی کی کوشش کریں گے۔ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ الخ آپ کے پاس تو اللہ کی طرف سے وحی آتی ہے اور آپ کا علم علم الیقین ہے مگر مشرکین کے پاس ظن وتخمین کے سوا کچھ نہیں وہ محض ظن کی بنا پر شرک کر رہے ہیں یَخْرصُوْنَ وہ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں اور اللہ کی طرف ولد (نائب) اور شرکاء کی نسبت کرتے ہیں والمراد انھم یکذبون علی اللہ تعالیٰ فیما ینبون الیہ جل شانہ کا تخاذ الود وجعل عبادۃ الاوثان ذریعۃ الیہ سبحانہ (روح ج 8 ص 12) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

116 اور اے پیغمبر زمین میں بسنے والے لوگوں میں جن لوگوں کی اکثریت ہے اگر آپ اس اکثریت کا کہا ماننے لگیں تو یہ لوگ آپ کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے بچلا دیں گے اور خدا کی راہ سے بےراہ کردیں گے کیونکہ یہ سب لوگ محض بےاصل خیالات و گمان کی پیروی کرتے ہیں اور صرف تخمینی اور قیاسی باتیں کرتے ہیں۔ یعنی ان کے پاس حق نہیں ہے محض اٹکل سے باتیں بناتے ہیں اور انہی غلط باتوں پر چلتے ہیں لہٰذا ان کا کہنا مانو گے تو تم بھی اپنی جگہ سے ہٹ جائو گے اور چونکہ منکرین کی تعداد زیادہ ہے اس لئے انہیں اکثریت فرمایا زمین والوں کی۔