Surat ul Qalam
Surah: 68
Verse: 16
سورة القلم
سَنَسِمُہٗ عَلَی الۡخُرۡطُوۡمِ ﴿۱۶﴾
We will brand him upon the snout.
ہم بھی اس کی سونڈ ( ناک ) پر داغ دیں گے ۔
سَنَسِمُہٗ عَلَی الۡخُرۡطُوۡمِ ﴿۱۶﴾
We will brand him upon the snout.
ہم بھی اس کی سونڈ ( ناک ) پر داغ دیں گے ۔
We shall brand him on the snout! Ibn Jarir said, "We will make his matter clear and evident so that they will know him and he will not be hidden from them, just as the branding mark on the snouts (of animals)." Others have said, سَنَسِمُهُ (We shall brand him), This is the mark of the people of the Hell-fire; meaning, `We will blacken his face on the Day of Judgement,' and the face has been referred to here as snout.
16۔ 1 بعض کے نزدیک اس کا تعلق دنیا سے ہے، مثلًا کہا جاتا ہے کہ جنگ بدر میں ان کافروں کے ناکوں کو تلواروں کا نشانہ بنایا گیا۔ اور بعض کہتے ہیں کہ یہ قیامت والے دن جہنمیوں کی علامت ہوگی کہ ان کے ناکوں کو داغ دیا جائے گا یا اس کا مطلب چہروں کی سیاہی ہے۔ جیسا کہ کافروں کے چہرے اس دن سیاہ ہونگے۔ بعض کہتے ہیں کہ کافروں کا یہ حشر دنیا اور آخرت دونوں جگہ ممکن ہے۔
[١٣] ممکن ہے کہ اس کی ناک بڑی اور لمبوتری ہو تاہم عمومی محاورہ یہ ہے کہ جو لوگ صاحب مال اور اولاد ہوں ان کی ناک بھی بڑی ہوتی ہے اور یہ لوگ اپنی ناک کی خاطر کئی ایسے جتن کرتے رہتے ہیں کہ ان کی ناک کو کوئی آنچ نہ پہنچے۔ اس آیت میں بتایا گیا کہ ہم اس شخص کی اس بڑی ناک کو پوری طرح ذلیل کرکے چھوڑیں گے۔
سَنَسِمُہٗ عَلَی الْخُرْطُوْمِ :” الخرطوم “ کا لفظ اصل میں درندوں کی ناک ( تھوتھنی) یا ہاتھی کی سونڈ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ ان بد خصلتوں والے انسان کی ناک کو تحقیر و مذمت کے لیے ” خرطوم “ کہا گیا ہے۔ سرکش آدمی چونکہ اپنی ناک اونچی رکھنے ہی کے لیے حق سے انکار کرتا ہے ، اس لیے قیامت کے دن اسی ناک پر داغ لگایا جائے گا جو اس کیذلت کا نشان ہوگا۔” وسم یسم “ ( ض) کا معنی داغ اور نشان لگانا ہے۔
سَنَسِمُهُ عَلَى الْخُرْطُومِ (We will soon brand him on the snout...68:16). That is, as, disbelievers, out of pride and false sense of power rejected the Divine Message in this world, Allah will disgrace and humiliate them on the Day of Resurrection so that the earlier and later generations will be able to see it. His nose has been described by way of reproach as khurtum (snout). This refers specifically to the long nose of a pig or a trunk of an elephant.
سَنَسِمُہٗ عَلَي الْخُرْطُوْمِ ١٦ وسم الوَسْمُ : التأثير، والسِّمَةُ : الأثرُ. يقال : وَسَمْتُ الشیءَ وَسْماً : إذا أثّرت فيه بِسِمَةٍ ، قال تعالی: سِيماهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ [ الفتح/ 29] ، وقال : تَعْرِفُهُمْ بِسِيماهُمْ [ البقرة/ 273] ، وقوله : إِنَّ فِي ذلِكَ لَآياتٍ لِلْمُتَوَسِّمِينَ [ الحجر/ 75] ، أي : للمعتبرین العارفین المتّعظین، وهذا التَّوَسُّمُ هو الذي سمّاه قوم الزَّكانةَ ، وقوم الفراسة، وقوم الفطنة . قال عليه الصلاة والسلام : «اتّقوا فراسة المؤمن فإنّه ينظر بنور الله» وقال تعالی: سَنَسِمُهُ عَلَى الْخُرْطُومِ [ القلم/ 16] ، أي : نعلّمه بعلامة يعرف بها کقوله : تَعْرِفُ فِي وُجُوهِهِمْ نَضْرَةَ النَّعِيمِ [ المطففین/ 24] ، والوَسْمِيُّ : ما يَسِمُ من المطر الأوّل بالنّبات . وتَوَسَّمْتُ : تعرّفت بِالسِّمَةِ ، ويقال ذلک إذا طلبت الوَسْمِيَّ ، وفلان وَسِيمٌ الوجه : حسنه، وهو ذو وَسَامَةٍ عبارة عن الجمال، وفلانة ذات مِيسَمٍ :إذا کان عليها أثر الجمال، وفلان مَوْسُومٌ بالخیر، وقوم وَسَامٌ ، ومَوْسِمُ الحاجِّ : معلمهم الذي يجتمعون فيه، والجمع : المَوَاسِمُ ، ووَسَّمُوا : شهدوا المَوْسِمَ کقولهم : عرّفوا، وحصّبوا وعيّدوا : إذا شهدوا عرفة، والمحصّب، وهو الموضع الذي يرمی فيه الحصباء . وس م ) الوسم ( ض ) کے معنی نشان اور داغ لگانے کے ہیں اور سمۃ علامت اور نشان کو کہتے ہیں چناچہ محاورہ ہے ۔ وسمت الشئی وسما میں نے اس پر نشان لگایا ۔ قرآن میں ہے : ۔ سَنَسِمُهُ عَلَى الْخُرْطُومِ [ القلم/ 16] ہم عنقریب اس کی ناک پر داغ لگائیں گے ؛ یعنی اس کی ناک پر ایسا نشان لگائیں گے جس سے اس کی پہچان ہو سکے گی ۔ جیسا کہ مو منین کے متعلق فرمایا : ۔ تَعْرِفُ فِي وُجُوهِهِمْ نَضْرَةَ النَّعِيمِ [ المطففین/ 24] تم ان کے چہروں ہی سے راحت کی تازگی معلوم کر لوگے ۔ سِيماهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ [ الفتح/ 29] کثرتسجود گے اثر سے ان کی پیشانیوں پر نشان پڑے ہوئے ہیں ۔ تَعْرِفُهُمْ بِسِيماهُمْ [ البقرة/ 273] اور تم قیافے سے ان کو صاف پہچان لوگے ۔ التوسم کے معنی آثار وقرائن سے کسی چیز کی حقیقت معلوم کرنے کی کوشش کر نا کے ہیں اور اسے علم ذکانت فراصت اور فطانت بھی کہا جاتا ہے حدیث میں یعنی مومن کی فراست سے ڈرتے رہو وہ خدا تعالیٰ کے عطا کئے ہوئے نور توفیق سے دیکھتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ إِنَّ فِي ذلِكَ لَآياتٍ لِلْمُتَوَسِّمِينَ [ الحجر/ 75] بیشک اس ( قصے ) میں اہل فراست کے لئے نشانیاں ہیں ۔ یعنی ان کے قصہ میں عبرت اور نصیحت حاصل کرنے والوں کے لئے بہت سے نشا نات ہیں الوسمی ۔ موسم بہار کی ابتدائی بارش کو کہتے ہیں اس لئے کہ اس سے زمین پر گھاس کے نشانات ظاہر ہوجاتے ہیں اور تو تمت جس کے معنی علامت سے پہچان لینے کے ہیں ۔ دراصل یہ لفظ وسمی گھاس کے تلاش کرلینے پر بولا جاتا ہے ۔ فلان وسیم الوجہ فلاں خوب رؤ ہے ۔ ھو ذو و سامۃ ۔ وہ صاحب جمال ہے ۔ فلانۃ ذات میسم فلاں عورت صاحب حسن و جمال ہے ۔ فلان موسوم بالخیر اس کے چہرہ سے خیر ٹپکتی ہے ۔ قوم وسام ۔ خوبصورت لوگ ۔ موسم الحاج ۔ حجاج کے جمع ہونے کا زمانہ اس کی جمع موا سم ہے اسمو ا کے معنی موسم حج میں حاضر ہونے کے ہیں ۔ جیسا کہ عر فوا وحصبوا وعیدوا کے معنی عرفہ محصب اور عید گاہ میں جمع ہونے کے ہیں اور جس جگہ حجاج کنکر پھینکتے ہیں اسے محصب کہا جاتا ہے ۔ خرط قال تعالی: سَنَسِمُهُ عَلَى الْخُرْطُومِ [ القلم/ 16] ، أي : نلزمه عارا لا ينمحي عنه، کقولهم : جدعت أنفه، والخرطوم : أنف الفیل، فسمّي أنفه خرطوما استقباحا له . ( خ ر ط ) الخرطوم اس کے اصل معنی ہاتھ کی سونڈ کے ہیں ۔ قرآن میں ہے :۔ سَنَسِمُهُ عَلَى الْخُرْطُومِ [ القلم/ 16] ، ہم عنقریب اس کی ناک پر داغ لگائیں گے ۔ میں انسان کی ناک پر خرطوم کا اطلاق کیا ہے تو یہ محض مذمت کے لئے ہے ۔ یعنی اسے نہ مٹنے والی عار لاحق ہوگی یہ جدعت انفہ کی طرح کا محاورہ ہے
ہم عنقریب اس کی صورت پر یا یہ کہ اس کی ناک پر داغ لگا دیں گے، یا یہ کہ اس کی صورت کو سیاہ کردیں گے۔
آیت ١٦{ سَنَسِمُہٗ عَلَی الْخُرْطُوْمِ ۔ } ” ہم عنقریب اس کی سونڈ پر داغ لگائیں گے۔ “ ممکن ہے اس کی ناک زیادہ لمبی اور نمایاں ہو۔ وہ خود بھی ازراہِ تکبر اپنے آپ کو بڑی ناک والا سمجھتا تھا ‘ جس کے لیے حقارت کے طور پر سونڈ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے اور ناک پر داغ لگانے سے مراد تذلیل ہے۔ اب آئندہ آیات میں ایمان بالآخرت کے حوالے سے بہت عمدہ اور عام فہم تمثیل کے طور پر باغ والوں کا واقعہ بیان کیا جا رہا ہے۔
11 Because he thought he was a man of high prestige, his nose has been called a snout, and "branding him on the snout means disgracing him. That is, "We shall so disgrace him in the world and in the Hereafter that his mark of disgrace will become indelible."
سورة الْقَلَم حاشیہ نمبر :11 چونکہ وہ اپنے آپ کو بڑی ناک والا سمجھتا تھا اس لیے اس کی ناک کو سونڈ کہا گیا ۔ اور ناک پر داغ لگانے سے مراد تذلیل ہے ۔ یعنی ہم دنیا اور آخرت میں اس کو ایسا ذلیل و خوار کریں گے کہ ابد تک یہ عار اس کا پیچھا نہ چھوڑے گا ۔
6: سونڈ سے مراد ناک ہے جسے اہانت کے طور پر سونڈ سے تعبیر کیا گیا ہے، اور مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن ایسے شخص کی ناک کو داغ کر اُس پر ایک بدنما نشان لگا دیا جائے گا جس سے اُس کی مزید رُسوائی ہوگی۔
(68:16) سنسمہ : س مضارع پر داخل ہو کر مستقبل قریب کے معنی میں کردیتا ہے (ملاحظہ ہو 67:29) نسم مضارع واحد متکلم وسم باب ضرب مصدر سے اصل میں نوسم تھا۔ مثال واوی وعد یعد کی طرح وسم یسم ہے مصدر بمعنی داغ لگانا۔ نشان بنانا۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب۔ ہم اس کو داغ لگا دیں گے۔ علی الخرطوم : جار مجرور۔ خرطوم سونڈ۔ تھوتھنی۔ ہاتھی کی سونڈ۔ خنزیر کی تھوتھنی، کو خرطوم کہتے ہیں یہاں مراد ناک ہے۔ نفرت کے اظہار کے لئے خرطوم استعمال ہوا ہے یعنی ہم عنقریب ہی اس کی ناک کو داغ دیں گے۔ کہتے ہیں کہ ولید بن مغیرہ کی ناک بڑی اور بےڈول ہونے کی وجہ سے ہاتھی کی سونڈ جیسی تھی بدر کی لڑائی میں کسی انصاری کی تلوار سے اس کی ناک پر چرکا لگا باوجود علان کے اچھا نہ ہوا ایک داغ ہوگیا۔ اور آخر اسی مرض میں سخت تلخی اٹھا کر سیدھا جہنم میں گیا (تفسیر حقانی)
ف 8 یعنی اسے خوب رسوا اور روسیاہ کریں گے دنیا میں بھی اور قیامت کے روز بھی۔
3۔ یعنی قیامت میں اس کے چہرہ اور ناک پر اس کے کفر کی وجہ سے کوئی علامت ذلت اور پہچان کی لگا دیں گے جس سے خوب رسوا ہو۔
سنسمہ ............ الخرطوم (٨٦ : ٦١) ” ہم اس کی اس سونڈ پر داغ لگائیں گے “۔ خرطوم کے معانی میں سے ایک یہ ہے کہ خرطوم خنزیر کی ناک کے کنارے کو کہتے ہیں۔ شاید یہی یہاں مراد ہے اور عربی میں انف عزت کو کہا جاتا ہے ۔ اونچی ناک والا۔ اور غم الانف ناک کا خاک آلود ہونا ذلت کے معنی میں آتا ہے۔ کہا جاتا ہے ورم انفہ ، حمی فنہ ، یعنی غضبناک ہوا اس سے الانطة (عزت نفس) ہے۔ خرطوم پر داغ لگانے کے معنی ہے اسے ذلیل کیا جائے گا۔ ایک تو اس پر داغ لگادیا جائے گا جس طرح غلاموں پر داغ لگائے جاتے تھے اور دوسرے یوں کہ اس کی ناک کو خنزیر کی ناک کی طرح بنایا جائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ ولید پر یہ آیات بم کی طرح آکر گریں ہوں گی کیونکہ وہ ایک ایسی قوم سے تھا جس میں شاعروں کی ہجو سے بھی ، شریف لوگ بچنے کی کوشش کرتے تھے۔ لیکن یہاں تو خالق سموات نے اس پر ایسی سنگباری کی اور اس انداز سے کی جس کی مثال نہیں ہے۔ اور پھر اس ہجو کو ایک ایسے نوشتے میں ریکارڈ کردیا گیا ، جس کے ایک ایک لفظ کو اس پوری کائنات میں پڑھا اور تلاوت کیا جاتا ہے اور یہ اس پوری کائنات میں قرار پکڑتا ہے اور اسے دوام نصیب ہوتا ہے۔ یہ تھی رب ذوالجلال کی طرف سے سنگباری ، اس ذلیل شخص پر جو اس کے دین کا دشمن تھا ، جو رسول کریم کا دشمن تھا ۔ وہ رسول کریم جو خلق عظیم کے مالک تھے اور یہ دشمن اسلام جو بھی ہو ، وہ اس کا مستحق تھا۔ مال اور اولاد کے اشارے کی مناسبت سے اور تکذیب کرنے والوں کی سرکشی اور دست درازیوں کے حوالے سے ایک ایسی کہانی کی طرف یہاں اشارہ کیا جاتا ہے جو ان کے ہاں معروف تھی۔ اور عوام کے اندر اس کا بہت چرچا تھا۔ نعمت خداوندی پر ناشکری کی سزا اسے اللہ خبردار کرتا ہے۔ جو لوگ دوسروں کے حقوق ادا نہیں کرتے ، بھلائی سے منع کرتے ہیں۔ مناع للخیر (٨٦ : ٢١) ہیں ، ان کو خبردا کیا جاتا ہے کہ یہ مال واولاد تو اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ یہ بھی ایک آزمائش ہے ، جس طرح باغ والے آزمائش میں تھے۔ ہر چیز کا ایک انجام ہے اور ہر کوئی ایک حالت میں نہیں ہوتا۔
(16) ہم عنقریب اس کی ناک اور اس کی سونڈھ پر داغ لگادیں گے۔ یعنی اول تو ہر مکذب اس قابل نہیں کہ اس کب بات مان لی جائے اور خاص طور پر ان مکذبین میں سے اگر کوئی شخص ان صفات ذمیمہ کے ساتھ بھی متصف ہو جن کا اوپر ذکر ہوا تو ایسے شخص کا خاص طور پر خیال رکھاجائے اور اس کی اطاعت سے اجتناب کیا جائے جو صفات مذکورہ ہوئیں وہ یہ ہوئیں۔ حلاف بےحد قسمیں کھانے والا اور ہر جائز و ناجائز موقعہ پر خدا کے نام کا استعمال کرنے والا۔ مہین بےقدر اور پست ہمت جو اپنی حرکات شینعہ کی وجہ سے خالق اور مخلوق دونوں کی نظر میں ذلیل و خوار ہے۔ ہماز، طعنہ دینے والا اپنے طعنوں سے لوگوں کی دل آزاری کرتا ہے لوگوں پر اعتراض کرنا لوگوں کے حسب ونسب میں طعن کرنا اس کی عادت ہے۔ مشاء بنمیم لوگوں کی چغل خوری ایک کی دوسرے سے لگائی بجھائی کرتے پھرنا، اور الوگوں میں لڑائی اور جنگ کرانا جو اس لگائی بجھائی کا لازمی نتیجہ ہے۔ مناع للخیر، نیک کام سے روکنے والا جس میں مال کی خیرات کرنے سے روکنا بھی داخل ہے۔ معتد، لوگوں پر ناحق ظلم وتعدی کرنے والا اور حد اعتدال سے گزرجانے والا۔ اثیم، سخت گناہ گار جو ہر بڑے گنا ہ میں مبتلا ہو۔ عتل، سخت طبع، بدخو، متکبر، گردن کش، نخوت شعار۔ زنیم، نطفہ بےتحقیق ولد الزنا، حرام زادہ، اور یہ جو فرمایا ان کان ذامال وبنین۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ ایسے شخص کا کہنا نہ مانیے اور وہ بھی محض اس غرض سے کہ وہ صاحب مال واولاد ہے اور دنیا کی وجاہت رکھتا ہے اس دنیوی وجاہت کا آپ پر کوئی اثر نہیں ہوناچاہیے اور ایسے بدکردار کا ہرگز کہنا نہ مانیے اس لئے آپ کو اس کی اطاعت سے منع کیا جاتا ہے کہ جب اس کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو یہ ازراہ تکبر ناک چڑھا کر کہتا ہے کہ یہ تو پہلے اور گزشتہ لوگوں کی بےسندکہانیاں ہیں۔ بہرحال پہلے عام مکذبین کی اطاعت سے اپنے پیغمبر کو منع کیا اور پھر تخصیص بعد التعمیم کے طور پر مخصوص کافر کی اطاعت سے منع کیا۔ اور فرمایا ہم ایسے بد کردار اور متکبر اور دشمن رسول کی ناک پر داغ لگائیں گے ناک کی بجائے خرطوم کا لفظ بطور تذلیل فرمایا جو عام طور پر ہاتھی اور سور کی سونڈھ کو کہتے ہیں ان دونوں کی سونڈھ یعنی ناک کے نیچے کی طرف رہتی ہے داغ لگانا کنایہ اس کی تذلیل کی طرف ہے یہ تذلیل اور داغ یا تو قیامت میں ہوگا یا جنگ بدر میں ایک انصاری نے اس کافر کی ناک پر تلوار ماری تھی جس سے اس کی ناک زخمی ہوگئی تھی اور وہ زخم آخر تک اچھا نہ ہوا اور اسی میں مرگیا شاید اس واقعہ کی طرف اشارہ ہو۔ یوں تو ہر منکر اور کافر انہی اوصاف سے متصف ہوتا ہے لیکن زنیم کہنے سے عام مفسرین کی رائے یہ ہے کہ اس سے ولید بن مغیرہ مراد ہے ، مغیرہ نے اٹھارہ سال کے بعد اس امر کا اقرار کیا تھا کہ ولید میرے نطفے سے ہے اور یہ بھی مشہور ہے کہ ولید ان آیتوں کے بعد تلوار لے کر اپنی ماں کے پاس پہنچا اور اس نے کہا میں جانتا ہوں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جھوٹ نہیں بولتا سچ بتائیں کس کے نطفے سے ہوں ورنہ میں تیرا سر اڑا دوں گا اس نے کہا بات تو یہ ہے کہ تیرا باپ عنین تھا مجھ کو اس سے اولاد کی امید نہ تھی میں نے خیال کیا کہ مغیرہ کی تمام دولت چچا کے لڑکے لے لیں گے اس لئے میں نے فلاں فلاح غلام سے مل کر تجھ کو حاصل کیا یہ حقیقت تیری پیدائش کی ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں سب کافر کی وصف ہیں آدمی اپنے اندر دیکھے اور یہ خصلتیں چھوڑے۔ بدنام یعنی بدی کر مشہور۔ ذامال وبنین یعنی دنیا میں طالع مند ہے۔ کہتے ہیں یہ ولید تھا قریش میں ایک سردار ناک پر داغ شاید دنیا میں پڑا ہو یا آخرت میں پڑے گا جلنے کا۔ ان آیتوں میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو براکہنے والے کی دس برائیاں بیان کیں اسی طرح نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایک دفعہ درود شریف بھیجنے والے پر اللہ تعالیٰ دس رحمتیں نازل فرماتا ہے۔ آگے حضرت حق تعالیٰ نے باغ والوں کا ایک قصہ بیان فرمایا مکہ والوں کو سنانے کے لئے تاکہ مکہ والے سمجھیں کہ وہ ایک خاص آزمائش میں مبتلا ہیں اگر انہوں نی اس پیغمبر اور اس کی تعلیم سے فائدہ حاصل نہ کیا تو ان کو بھی باغ والوں کی طرح پچتانا پڑے گا۔