Surat ul Qalam

Surah: 68

Verse: 40

سورة القلم

سَلۡہُمۡ اَیُّہُمۡ بِذٰلِکَ زَعِیۡمٌ ﴿۴۰﴾ۚ ۛ

Ask them which of them, for that [claim], is responsible.

ان سے پوچھو تو کہ ان میں سے کون اس بات کا ذمہ دار ( اور دعویدار ) ہے؟

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Ask them, which of them will stand as surety for that! أَمْ لَهُمْ شُرَكَاء فَلْيَأْتُوا بِشُرَكَايِهِمْ إِن كَانُوا صَادِقِينَ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

40۔ 1 کہ کیا وہ قیامت والے دن ان کے لئے وہی کچھ فیصلہ کروائے گا، جو اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے لئے فرمائے گا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

سلھم ایھم بذلک زعیم : ان سے پوچھیے ! ان میں سے کون اس کا ذمہ لیتا ہے کہ آخرت میں انھیں وہی ملے گا جو وہ کہیں گے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

سَلْہُمْ اَيُّہُمْ بِذٰلِكَ زَعِيْمٌ۝ ٤٠ سأل السُّؤَالُ : استدعاء معرفة، أو ما يؤدّي إلى المعرفة، واستدعاء مال، أو ما يؤدّي إلى المال، فاستدعاء المعرفة جو ابه علی اللّسان، والید خلیفة له بالکتابة، أو الإشارة، واستدعاء المال جو ابه علی الید، واللّسان خلیفة لها إمّا بوعد، أو بردّ. ( س ء ل ) السؤال ( س ء ل ) السوال کے معنی کسی چیز کی معرفت حاصل کرنے کی استد عایا اس چیز کی استز عا کرنے کے ہیں ۔ جو مودی الی المعرفۃ ہو نیز مال کی استدعا یا اس چیز کی استدعا کرنے کو بھی سوال کہا جاتا ہے جو مودی الی المال ہو پھر کس چیز کی معرفت کی استدعا کا جواب اصل مٰن تو زبان سے دیا جاتا ہے لیکن کتابت یا اشارہ اس کا قائم مقام بن سکتا ہے اور مال کی استدعا کا جواب اصل میں تو ہاتھ سے ہوتا ہے لیکن زبان سے وعدہ یا انکار اس کے قائم مقام ہوجاتا ہے ۔ أيا أَيُّ في الاستخبار موضوع للبحث عن بعض الجنس والنوع وعن تعيينه، ويستعمل ذلک في الخبر والجزاء، نحو : أَيًّا ما تَدْعُوا فَلَهُ الْأَسْماءُ الْحُسْنى [ الإسراء/ 110] ، وأَيَّمَا الْأَجَلَيْنِ قَضَيْتُ فَلا عُدْوانَ عَلَيَّ [ القصص/ 28] ( ا ی ی ) ای ۔ جب استفہام کیلئے ہو تو جنس یا نوع کی تعیین اور تحقیق کے متعلق سوال کے لئے آتا ہے اور یہ خبر اور جزا کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے چناچہ فرمایا :۔ { أَيًّا مَا تَدْعُوا فَلَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى } ( سورة الإسراء 110) جس نام سے اسے پکارا اس کے سب نام اچھے ہیں { أَيَّمَا الْأَجَلَيْنِ قَضَيْتُ فَلَا عُدْوَانَ عَلَيَّ } ( سورة القصص 28) کہ میں جونسی مدت ( چاہو ) پوری کردوں پھر مجھ پر کوئی زیادتی نہ ہو ۔ زَعِيمٌ ، للاعتقاد في قوليهما أنهما مظنّة للکذب . قال : وَأَنَا بِهِ زَعِيمٌ [يوسف/ 72] ، أَيُّهُمْ بِذلِكَ زَعِيمٌ [ القلم/ 40] ، إمّا من الزَّعَامَةِ أي : الکفالة، أو من الزَّعْمِ بالقول . زعیم اور زعیم کے معنی ذمہ داری اٹھانے اور ریاست ( سرداری ) کے ہیں اور کفیل ضامن کو زعیم کہا جاتا ہے کیونکہ ان دونوں کی بات میں جھوٹ کا احتمال ہوسکتا ہے قرآن میں ہے : ۔ وَأَنَا بِهِ زَعِيمٌ [يوسف/ 72] اور میں اس کا ذمہ دار ہوں ، أَيُّهُمْ بِذلِكَ زَعِيمٌ [ القلم/ 40] ان میں سے کون اس کا ذمہ دار ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٤٠٤١) آپ ان سے ذرا چوپھیے تو کہ تمہارے اس دعوے پر تمہارا کون ضامن ہے کیا ان کے ٹھہرائے ہوئے کچھ معبود ہیں کہ انہوں نے ان سے اس چیز کا وعدہ کر رکھا ہے تو ان کو چاہیے کہ ان ٹھہرائے ہوئے معبودوں کو پیش کریں اگر یہ اپنے اس دعوے میں سچے ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

22 Za'im in Arabic is used for a person who stands a surety on behalf of another, or is a spokesman of others. Thus, the verse means to ask: "Which of you will come forward and say that he has made such and such a covenant with Allah on your behalf?"

سورة الْقَلَم حاشیہ نمبر :22 اصل میں لفظ زعیم استعمال ہوا ہے ۔ کلام عرب میں زعیم اس شخص کو کہتے ہیں جو کفیل ، یا ضامن ، یا کسی قوم کی طرف سے بولنے والا ہو ۔ مطلب یہ ہے کہ تم سے کون آگے بڑھ کر یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس نے اللہ سے تمہارے لیے ایسا کوئی عہد و پیمان لے رکھا ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(68:40) سلہم : سل فعل امر واحد مذکر حاضر سؤال (باب فتح) مصدر۔ تو سوال کر تو پوچھ لے۔ تو دریافت کرلے ۔ تو مانگ لے : س و ل حروف مادہ۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب کا مرجع مشرکین ہے۔ سلہم ای المشرکین (مدارک التنزیل) ایہم : ای استفہامیہ ہے۔ مضاف ہے۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب مضاف الیہ۔ ان میں سے کون ؟ ذلک : کا اشارہ اس عہد و پیمان کی طرف ہے جو اوپر آیت 39 میں مذکور ہوا۔ زعیم : ضامن ، ذمہ دار۔ زعامۃ (باب فتح، نصر) مصدر سے جس کے معنی ضامن بننا یا کفیل ہونا۔ سلہم ایہم بذلک زعیم : (ای محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ) ان (مشرکین سے) پوچھئیے کہ ان میں سے کون اس بات کا ضامن ہے یا اس کی ذمہ داری لیتا ہے کہ ان کا اللہ سے کوئی عہد و پیمان ہے کہ ان کو وہی ملے گا جس کو وہ چاہیں گے۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے وانا بہ زعیم (12:72) اور میں ہی اس کا ضامن ہوں ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 7 یعنی ان میں سے کون اس چیز کا ذمہ لیتا ہے کہ آخرت میں انہیں وہی ملے گا جو مسلمانوں کو ملے گا بلکہ اس سے بھی زیادہ۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

سلھم ................ زعیم (٨٦ : ٠٤) ” ان سے پوچھو تم میں سے کون اس کا ضامن ہے “۔ یعنی اس معاہدے کے اوپر کوئی ہے دستخط کرنے والا اور اس پر عمل کروانے کی ضمانت دینے والا کہ اللہ کے ساتھ ایسا کوئی معاہدہ ہوا ہے اور جو قیامت تک کے لئے قابل عمل اور قابل نفاذ ہے۔ یہ اس قسم کا مزاح ہے ، اس قدر فصیح وبلیغ مزاح ہے کہ اسے سن کر ایک معقول آدمی تو پانی پانی ہوکر رہ جاتا ہے کیونکہ اسے ایک نہایت ہی کھلی اور روشن حقیقت کا سامنا ہوتا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

18:۔ ” سلھم “ خطاب آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ہے، فرمایا آپ ان دعویداروں سے سوال تو کریں کہ ان کے اس دعوے کا ضامن کون ہے کہ قیامت کے دن ان کا انجام بھی ویسا ہی ہوگا جیسا کہ مسلمانوں کا ہوگا۔ ای سل یا محمد ھؤلاء المتقولین علی ایھم کفی بما تقدم ذکرہ وھو ان لہم من الخیر ما للمسلمین (قرطبی ج 18 ص 247) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(40) اے نبی آپ ان سے دریافت کیجئے کہ آخر انمیں وہ کون شخص ہے کہ اس قسم کی باتوں کا ضامن اور ذمہ دار ہے۔ یعنی اگر کوئی قسما قسمی ہوچکی ہے اور ہم نے کوئی ایسا عہد کیا ہے کہ ہم ابتدائے آفریشن سے لے کر آخر تک تم سے یکساں سلوک کریں گے اور جس طرح دنیا میں تم کو عیش و عشرت کی زندگی بسر کرنے کا موقعہ دیا ہے اور بطور استدراج ہر قسم کی ترقی کے مواقع تمہارے لئے مہیا کردیئے گئے اسی طرح آخرت میں بھی تم کو ہر قسم کا آرام و آسائش مہیا کیا جائے گا تو جو اس طرح کا مہمل اور لایعنی باتوں کا ذمہ دار اور ضامن ہے وہ کون ہے اسے بتائو۔