Surat ul Qalam

Surah: 68

Verse: 8

سورة القلم

فَلَا تُطِعِ الۡمُکَذِّبِیۡنَ ﴿۸﴾

Then do not obey the deniers.

پس تو جھٹلانے والوں کی نہ مان ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Prohibition of giving in to the Pressure of the Disbelievers and Their Suggestions, and that They like to meet in the Middle of the Path Allah says, `just as We have favored you and given you the upright legislation and great (standard of) character,' فَلَ تُطِعِ الْمُكَذِّبِينَ وَدُّوا لَوْ تُدْهِنُ فَيُدْهِنُونَ

زیادہ قسمیں کھانے والے زیادہ جھوٹ بولتے ہیں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو نعمتیں ہم نے تجھے دیں جو صراط مستقیم اور خلق عظیم ہم نے تجھے عطا فرمایا اب تجھے چاہئے کہ ہماری نہ ماننے والوں کی تو نہ مان ، ان کی تو عین خوشی ہے کہ آپ ذرا بھی نرم پڑیں تو یہ کھل کھیلیں اور یہ بھی مطلب ہے کہ یہ چاہتے ہیں کہ آپ ان کے معبودان باطل کی طرف کچھ تو رخ کریں حق سے ذرا سا تو ادھر ادھر ہو جائیں ، پھر فرماتا ہے کہ زیادہ قسمیں کھانے والے کمینے شخص کی بھی نہ مان چونکہ جھوٹے شخص کو اپنی ذلت اور کذب بیانی کے ظاہر ہو جانے کا ڈر رہتا ہے ، اس لئے وہ قسمیں کھا کھا کر دوسرے کو اپنا یقین دلانا چاہتا ہے لگاتار قسموں پر قسمیں کھائے چلا جاتا ہے اور اللہ کے ناموں کو بےموقعہ استعمال کرتا پھرتا ہے ۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں ( مھین ) سے مراد کاذب ہے ۔ مجاہد کہتے ہیں ضعیف دل والا ۔ حسن کہتے ہیں ( حلاف ) مکابرہ کرنے والا اور ( مہین ) ضعیف ، ( ھماز ) غیب کرنے والا ، چغل خور جو ادھر کی ادھر لگائے اور ادھر کی ادھر تاکہ فساد ہو جائے ۔ طبیعتوں میں نفرت اور دل میں دشمنی آ جائے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے راستے میں دو قبریں آ گئیں آپ نے فرمایا ان دونوں کو عذاب ہو رہا اور کسی بڑے امر پر نہیں ایک تو پیشاب کرنے میں پردے کا خیال نہ رکھتا تھا ۔ دوسرا چغل خور تھا ( بخاری و مسلم ) فرماتے ہیں چغل خور جنت میں نہ جائے گا ( مسند ) دوسری روایت میں ہے کہ حضرت حذیفہ نے یہ حدیث اس وقت سنائی تھی جب آپ سے کہا گیا کہ یہ شخص خفیہ پولیس کا آدمی ہے ، مسند احمد کی حدیث میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں نہ بتاؤں کہ تم میں سب سے بھلا شخص کون ہے؟ لوگوں نے کہا ضرور ارشاد فرمایئے ، فرمایا وہ کہ جب انہیں دیکھا جائے اللہ یاد آ جائے اور سن لو سب سے بدتر شخص وہ ہے جو چغل خور ہو دوستوں میں فساد ڈلوانے والا ہو پاک صاف لوگوں کو تہمت لگانے والا ہو ، ترمذی میں بھی یہ روایت ہے ، پھر ان بدلوگوں کے ناپاک خصائل بیان ہو رہے ہیں کہ بھلائیوں سے باز رہنے والا اور باز رکھنے والا ہے ، حلال چیزوں اور حلال کاموں سے ہٹ کر حرام خوری اور حرام کاری کرتا ہے ، گنہگار ، بدکردار ، محرمات کو استعمال کرنے والا ، بدخو ، بدگو جمع کرنے والا اور نہ دینے والا ہے ۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنتی لوگ گرے پڑے عاجز و ضعیف ہیں جو اللہ کے ہاں اس بلند مرتبہ پر ہیں کہ اگر وہ قسم کھا بیٹھیں تو اللہ پوری کر دے اور جہنمی لوگ سرکش متکبر اور خودبین ہوتے ہیں اور حدیث میں ہے جمع کرنے والے اور نہ دینے والے بدگو اور سخت خلق ، ایک روایت میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا آیت ( عتل زنیم ) کون ہے؟ فرمایا بد خلق خوب کھانے پینے والا لوگوں پر ظلم کرنے والا پیٹو آدمی ، لیکن اس روایت کو اکثر راویوں نے مرسل بیان کیا ہے ، ایک اور حدیث میں ہے اس نالائق شخص پر آسمان روتا ہے جسے اللہ نے تندرستی دی پیٹ بھر کھانے کو دیا مال و جاہ بھی عطا فرمائی پھر بھی لوگوں پر ظلم و ستم کر رہا ہے ، یہ حدیث بھی دو مرسل طریقوں سے مروی ہے ، غرض ( عتل ) کہتے ہیں جس کا بدن صحیح ہو طاقتور ہو اور خوب کھانے پینے والا زور دار شخص ہو ۔ ( زنیم ) سے مراد بدنام ہے جو برائی میں مشہور ہو ، لغت عرب میں ( زنیم ) اسے کہتے ہیں جو کسی قوم میں سمجھا جاتا ہو لیکن دراصل اس کا نہ ہو ، عرب شاعروں نے اسے اسی معنی میں باندھا ہے یعنی جس کا نسب صحیح نہ ہو ، کہا گیا ہے کہ مراد اس سے اخنس بن شریق ثقفی ہے جو بنو زہرہ کا حلیف تھا اور بعض کہتے ہیں یہ اسود بن عبد یغوث زہری ہے ، عکرمہ فرماتے ہیں ولد الزنا مراد ہے ، یہ بھی بیان ہوا ہے کہ جس طرح ایک بکری جو تمام بکریوں میں سے الگ تھلگ اپنا چرا ہوا کان اپنی گردن پر لٹکائے ہوئے ہو تو یہ یک نگاہ پہچان لی جاتی ہے اسی طرح کافر مومنوں میں پہچان لیا جاتا ہے ، اسی طرح کے اور بھی بہت سے اقوال ہیں لیکن خلاصہ سب کا صرف اسی قدر ہے کہ زنیم وہ شخص ہے جو برائی سے مشہور ہو اور عموماً ایسے لوگ ادھر ادھر سے ملے ہوئے ہوتے ہیں جن کے صحیح نسب کا اور حقیقی باپ کا پتہ نہیں ہوتا ایسوں پر شیطان کا غلبہ بہت زیادہ رہا کرتا ہے ، جیسے حدیث میں ہے زنا کی اولاد جنت میں نہیں جائے گی ، اور روایت میں ہے کہ زنا کی اولاد تین برے لوگوں کی برائی کا مجموعہ ہے ، اگر وہ بھی اپنے ماں باپ کے سے کام کرے ۔ پھر فرمایا اس کی ان شرارتوں کی وجہ یہ ہے کہ یہ مالدار اور بیٹوں کا باپ بن گیا ہے ہماری اس نعمت کا گن گانا تو کہاں ہماری آیتوں کو جھٹلاتا ہے اور توہین کر کے کہتا پھرتا ہے کہ یہ تو پرانے افسانے ہیں اور جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے آیت ( ذَرْنِيْ وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيْدًا 11۝ۙ ) 74- المدثر:11 ) مجھے چھوڑ دے اور اسے جسے میں نے یکتا پیدا کیا ہے اور بہت سا مال دیا ہے اور حاضر باش لڑکے دیئے ہیں اور بھی بہت کشادگی دے رکھی ہے پھر بھی اس کی طمع ہے کہ میں اسے اور دوں ہرگز ایسا نہیں ہو سکتا یہ تو میری آیتوں کا مخالف ہے میں اسے عنقریب بدترین مصیبت میں ڈالوں گا اس نے غور و فکر کے اندازہ لگایا یہ تباہ ہو ۔ کتنی بری تجویز اس نے سوچی میں پھر کہتا ہوں ، یہ برباد ہو اس نے کیسی بری تجویز کی اس نے پھر نظر ڈالی اور ترش رو ہو کہ منہ بنا لیا ، پھر منہ پھیر کر اینٹھنے لگا اور کہ دیا کہ یہ کلام اللہ تو پرانا نقل کیا ہوا جادو ہے ، صاف ظاہر ہے کہ یہ انسانی کلام ہے ، اس کی اس بات پر میں بھی اسے ( سقر ) میں ڈالوں گا تجھے کیا معلوم کہ ( سقر ) کیا ہے نہ وہ باقی رکھے نہ چھوڑے بدن پر لپیٹ جاتی ہے اس پر انتیس فرشتے متعین ہیں ، اسی طرح یہاں بھی فرمایا کہ اس کی ناک پر ہم داغ لگائیں گے یعنی اسے ہم اس قدر رسوا کریں گے کہ اس کی برائی کسی پر پوشیدہ نہ رہے ہر ایک اسے جان پہچان لے جیسے نشاندار ناک والے کو بہ یک نگاہ ہزاروں میں لوگ پہچان لیتے ہیں اور جو داغ چھپائے نہ چھپ سکے ، یہ بھی کہا گیا ہے کہ بدر والے دن اس کی ناک پر تلوار لگے گی اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ قیامت والے دن جہنم کی مہر لگے گی یعنی منہ کالا کر دیا جائے گا تو ناک سے مراد پورا چہرہ ہوا ۔ امام ابو جعفر ابن جریر نے ان تمام اقوال کو وارد کر کے فرمایا ہے کہ ان سب میں تطبیق اس طرح ہو جاتی ہے کہ یہ کل امور اس میں جمع ہو جائیں یہ بھی ہو وہ بھی ہو ، دنیا میں رسوا ہو سچ مچ ناک پر نشان لگے آخرت میں بھی نشاندار مجرم بنے فی الواقع یہ بہت درست ہے ، ابن ابی حاتم میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ بندہ ہزارہا برس تک اللہ کے ہاں مومن لکھا رہتا ہے لیکن مرتا اس حالت میں ہے کہ اللہ اس پر ناراض ہوتا ہے اور بندہ اللہ کے ہاں کافر ہزارہا سال تک لکھا رہتا ہے پھر مرتے وقت اللہ اس سے خوش ہو جاتا ہے جو شخص عیب گوئی اور چغل خوری کی حالت میں مرے جو لوگوں کو بدنام کرنے والا ہو قیامت کے دن اس کی ناک پر دونوں ہونٹوں کی طرف سے نشان لگا دیا جائے جو اس مجرم کی علامت بن جائے گا ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

8۔ 1 اطاعت سے مراد یہاں وہ مدارات ہے جس کا اظہار انسان نے اپنے ضمیر کے خلاف کرتا ہے۔ یعنی مشرکوں کی طرف جھکنے اور ان کی خاطر مدارت کی ضرورت نہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

فَـلَا تُطِعِ الْمُکَذِّبِیْنَ : اس آیت میں اور آئندہ آنے والی آیات میں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ جھٹلانے والوں کا کہنا مت مان اور نہ کسی ایسے شخص کا کہنا مان جو بہت قسمیں کھانے والا ذلیل ہے ۔ معلوم ہوا کہ یہ کام کرنے والے اللہ تعالیٰ کی نظر میں اتنے برے ہیں کہ وہ کوئی بات بھی کہیں مسلمان کے لیے ان کے کہنے پر چلنا جائز نہیں تو اللہ تعالیٰ کو یہ کس طرح گوارا ہوسکتا ہے کہ مسلمان خود ان جیسے کام کرنے لگیں ۔ گویا جب ان صفات والوں کی اطاعت سے منع کیا گیا تو خود یہ صفات اختیار کرنے سے تو بدرجہ اولیٰ منع کردیا ۔ ایک بات یہ معلوم ہوئی کہ کافر جو بات بھی مسلمان سے منوانا چاہتے ہیں ، بظاہر وہ کتنی ہی خوبصورت کیوں نہ ہو ، اس کے پیچھے ان کا کوئی نہ کوئی خبیث مقصد ضرور ہوتا ہے ، اس لیے ان کا کہنا کسی صورت میں بھی نہیں ماننا چاہیے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

فَلَا تُطِعِ الْمُكَذِّبِينَ وَدُّوا لَوْ تُدْهِنُ فَيُدْهِنُونَ (So, do not obey those who reject [ the true faith ]. They wish that you become flexible [ in your faith ], and they will become flexible [ in their hostile attitude.]....68:8-9]. The interpretation of this verse as adopted in this translation is based on the interpretation of Sayyidna Ibn ` Abbas (رض) as reported by Qurtubi. Ruling This verse indicates that any such compromise with the unbelievers is tantamount to mudahanah fid-din, flexibility in religion, and this is forbidden. [ Mazhari ]. Such a pact of leniency in matters of religion is not permissible, unless compelled by necessity.

فَلَا تُطِعِ الْمُكَذِّبِيْنَ ، وَدُّوْا لَوْ تُدْهِنُ فَيُدْهِنُوْنَ یعنی آپ ان جھٹلانے والوں کی بات نہ مانیں یہ تو یوں چاہتے ہیں کہ آپ کچھ تبلیغ احکام میں نرم پڑجائیں اور شرک و بت پرستی سے ان کو روکنا چھوڑ دیں تو یہ بھی نرم پڑجائیں کہ آپ پر طعن تشنیع اور آپ کی ایذا رسانی چھوڑ دیں (قالہ ابن عباس، قرطبی) مسئلہ :۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ کفار و فجار کے ساتھ یہ سودا کرلینا کہ ہم تمہیں کچھ نہیں کہتے تم ہمیں کچھ نہ کہو۔ یہ مداہنت فی الدین اور حرام ہے (مظہری) یعنی بلا کسی اضطرار و مجبوری کے ایسا معاہدہ جائز انہیں۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

فَلَا تُطِعِ الْمُكَذِّبِيْنَ۝ ٨ لا «لَا» يستعمل للعدم المحض . نحو : زيد لا عالم، وذلک يدلّ علی كونه جاهلا، وذلک يكون للنّفي، ويستعمل في الأزمنة الثّلاثة، ومع الاسم والفعل غير أنه إذا نفي به الماضي، فإمّا أن لا يؤتی بعده بالفعل، نحو أن يقال لك : هل خرجت ؟ فتقول : لَا، وتقدیره : لا خرجت . ويكون قلّما يذكر بعده الفعل الماضي إلا إذا فصل بينهما بشیء . نحو : لا رجلا ضربت ولا امرأة، أو يكون عطفا . نحو : لا خرجت ولَا رکبت، أو عند تكريره . نحو : فَلا صَدَّقَ وَلا صَلَّى [ القیامة/ 31] أو عند الدّعاء . نحو قولهم : لا کان، ولا أفلح، ونحو ذلك . فممّا نفي به المستقبل قوله : لا يَعْزُبُ عَنْهُ مِثْقالُ ذَرَّةٍ [ سبأ/ 3] وفي أخری: وَما يَعْزُبُ عَنْ رَبِّكَ مِنْ مِثْقالِ ذَرَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلا فِي السَّماءِ [يونس/ 61] وقد يجيء «لَا» داخلا علی کلام مثبت، ويكون هو نافیا لکلام محذوف وقد حمل علی ذلک قوله : لا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيامَةِ [ القیامة/ 1] ، فَلا أُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشارِقِ [ المعارج/ 40] ، فَلا أُقْسِمُ بِمَواقِعِ النُّجُومِ [ الواقعة/ 75] ، فَلا وَرَبِّكَ لا يُؤْمِنُونَ [ النساء/ 65] لا وأبيك ابنة العامريّ «1» وقد حمل علی ذلک قول عمر رضي اللہ عنه۔ وقد أفطر يوما في رمضان فظنّ أنّ الشمس قد غربت ثم طلعت۔: لا، نقضيه ما تجانفنا لإثم فيه، وذلک أنّ قائلا قال له قد أثمنا فقال لا، نقضيه . فقوله : «لَا» ردّ لکلامه قد أثمنا، ثم استأنف فقال : نقضيه «2» . وقد يكون لَا للنّهي نحو : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ [ الحجرات/ 11] ، وَلا تَنابَزُوا بِالْأَلْقابِ [ الحجرات/ 11] ، وعلی هذا النّحو : يا بَنِي آدَمَ لا يَفْتِنَنَّكُمُ الشَّيْطانُ [ الأعراف/ 27] ، وعلی ذلك : لا يَحْطِمَنَّكُمْ سُلَيْمانُ وَجُنُودُهُ [ النمل/ 18] ، وقوله : وَإِذْ أَخَذْنا مِيثاقَ بَنِي إِسْرائِيلَ لا تَعْبُدُونَ إِلَّا اللَّهَ [ البقرة/ 83] فنفي قيل تقدیره : إنهم لا يعبدون، وعلی هذا : وَإِذْ أَخَذْنا مِيثاقَكُمْ لا تَسْفِكُونَ دِماءَكُمْ [ البقرة/ 84] وقوله : ما لَكُمْ لا تقاتلُونَ [ النساء/ 75] يصحّ أن يكون «لا تقاتلون» في موضع الحال «3» : ما لکم غير مقاتلین . ويجعل «لَا» مبنيّا مع النّكرة بعده فيقصد به النّفي . نحو : فَلا رَفَثَ وَلا فُسُوقَ [ البقرة/ 197] ، [ وقد يكرّر الکلام في المتضادّين ويراد إثبات الأمر فيهما جمیعا . نحو أن يقال : ليس زيد بمقیم ولا ظاعن . أي : يكون تارة كذا وتارة كذا، وقد يقال ذلک ويراد إثبات حالة بينهما . نحو أن يقال : ليس بأبيض ولا أسود ] «4» ، وإنما يراد إثبات حالة أخری له، وقوله : لا شَرْقِيَّةٍ وَلا غَرْبِيَّةٍ [ النور/ 35] . فقد قيل معناه : إنها شرقيّة وغربيّة «5» . وقیل معناه : مصونة عن الإفراط والتّفریط . وقد يذكر «لَا» ويراد به سلب المعنی دون إثبات شيء، ويقال له الاسم غير المحصّل . نحو : لا إنسان، إذا قصدت سلب الإنسانيّة، وعلی هذا قول العامّة : لا حدّ. أي : لا أحد . ( لا ) حرف ) لا ۔ یہ کبھی عدم محض کے لئے آتا ہے ۔ جیسے : زید عالم یعنی جاہل ہے اور کبھی نفی کے لئے ہوتا ہے ۔ اور اسم و فعل دونوں کے ساتھ ازمنہ ثلاثہ میں نفی کے معنی دیتا ہے لیکن جب زمانہ ماضی میں نفی کے لئے ہو تو یا تو اس کے بعد فعل کو ذکر ہی نہیں کیا جاتا مثلا اگر کوئی ھل خرجت کہے تو اس کے جواب میں صرف ، ، لا ، ، کہ دنیا کافی ہے یعنی لاخرجت اور اگر نفی فعل مذکور بھی ہوتا ہے تو شاذو نا در اور وہ بھی اس وقت (11) جب لا اور فعل کے درمیان کوئی فاعل آجائے ۔ جیسے لارجل ضربت ولا امرءۃ (2) جب اس پر دوسرے فعل کا عطف ہو جیسے ۔ لا خرجت ولاضربت اور یا (3) لا مکرر ہو جیسے ؛فَلا صَدَّقَ وَلا صَلَّى [ القیامة/ 31] اس ناعاقبت اندیش نے نہ تو کلام خدا کی نعمتوں کی تصدیق کی اور نہ نماز پڑھی ۔ اور یا (4) جملہ دعائیہ میں جیسے لا کان ( خدا کرے ایسا نہ ہو ) لا افلح ( وہ کامیاب نہ ہوا وغیرہ ۔ اور زمانہ مستقبل میں نفی کے متعلق فرمایا : لا يَعْزُبُ عَنْهُ مِثْقالُ ذَرَّةٍ [ سبأ/ 3] ذرہ پھر چیز بھی اس سے پوشیدہ نہیں ۔ اور کبھی ، ، لا ، ، کلام مثبت پر داخل ہوتا ہے اور کلام محذوف کی نفی کے لئے آتا ہے ۔ جسیے فرمایا : وَما يَعْزُبُ عَنْ رَبِّكَ مِنْ مِثْقالِ ذَرَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلا فِي السَّماءِ [يونس/ 61] اور تمہارے پروردگار سے ذرہ برابر بھی کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے نہ زمین میں اور نہ آسمان میں ۔۔۔ اور مندرجہ ذیل آیات میں بھی بعض نے لا کو اسی معنی پر حمل کیا ہے ۔ لا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيامَةِ [ القیامة/ 1] ہم کو روز قیامت کی قسم ۔ فَلا أُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشارِقِ [ المعارج/ 40] میں مشرقوں اور مغربوں کے مالک کی قسم کھاتا ہوں ۔ فَلا وَرَبِّكَ لا يُؤْمِنُونَ [ النساء/ 65] تمہارے پروردگار کی قسم یہ مومن نہیں ہوں گے ۔ فَلا أُقْسِمُ بِمَواقِعِ النُّجُومِ [ الواقعة/ 75] ہمیں تاروں کی منزلوں کی قسم ۔ اور اسی معنی میں شاعر نے کہا ہے ( المتقارب ) (388) لاوابیک ابتہ العامری نہیں تیرے باپ کی قسم اسے عامری کی بیٹی ۔ اور مروی ہے (105) کہ ا یک مرتبہ حضرت عمر نے یہ سمجھ کر کہ سورج غروب ہوگیا ہے روزہ افطار کردیا اس کے بعد سورج نکل آیا تو آپ نے فرمایا : لانقضیہ ماتجالفنا الاثم فیہ اس میں بھی لا کلام محذوف کی نفی کے لئے ہے یعنی اس غلطی پر جب لوگوں نے کہا کہ آپ نے گناہ کا ارتکاب کیا تو اس کی نفی کے لئے انہوں نے لا فرمایا ۔ یعنی ہم گنہگار نہیں ہیں ۔ اس کے بعد تفضیہ سے از سر نو جملہ شروع کیا ہے ۔ اور کبھی یہ لا نہی کے لئے آتا ہے جیسے فرمایا : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ [ الحجرات/ 11] کوئی قوم کسی قوم سے تمسخرنہ کرے ولا تَنابَزُوا بِالْأَلْقابِ [ الحجرات/ 11] اور نہ ایک دوسرے کا برنام رکھو ۔ اور آیت ؛ يا بَنِي آدَمَ لا يَفْتِنَنَّكُمُ الشَّيْطانُ [ الأعراف/ 27] اے بنی آدم دیکھنا کہیں شیطان تمہیں بہکادے ۔ اور نیزلا يَحْطِمَنَّكُمْ سُلَيْمانُ وَجُنُودُهُ [ النمل/ 18] ایسانہ ہو ک سلمان اور اس کے لشکر تم کو کچل ڈالیں ۔۔۔ میں بھی لا نہی کے لئے ہے ۔ اور آیت کریمہ : وَإِذْ أَخَذْنا مِيثاقَ بَنِي إِسْرائِيلَ لا تَعْبُدُونَ إِلَّا اللَّهَ [ البقرة/ 83] اور جب ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا کہ خدا کے سو اکسی کی عبادت نہ کرنا ۔ کی تفسیر میں بعض نے کہا ہے کہ لانا فیہ یعنی خبر ہے یعنی وہ اللہ کے سو ا کسی کی عبادت نہیں کریں گے ۔ اسی طرح آیت کریمہ : وَإِذْ أَخَذْنا مِيثاقَكُمْ لا تَسْفِكُونَ دِماءَكُمْ [ البقرة/ 84] اور جب ہم نے تم سے عہد لیا ک تم آپس میں کشت وخون نہیں کروگے ۔ میں بھی لانفی پر محمول ہے اور فرمان باری تعالیٰ ما لَكُمْ لا تقاتلُونَ [ النساء/ 75] تمہیں کیا ہوا کہ خدا کی راہ میں نہیں لڑتے ۔ میں ہوسکتا ہے کہ لاتقاتلو ن موضع حال میں ہو ۔ اور معنی ی ہو مالکم غیر مقاتلین یعنی تمہیں کیا ہوا اور آنحالیکہ لڑنے والے نہیں ہو ۔ اور لا کے بعد اسم نکرہ آجائے تو وہ مبنی بر فتحہ ہوتا ہے اور لا لفی کے مبنی دیتا ہے جیسے فرمایا : نہ عورتوں سے اختلاط کرے نہ کوئی برا کام کرے ۔ فَلا رَفَثَ وَلا فُسُوقَ [ البقرة/ 197] اور کبھی دو متضادمعنوں کے درمیان لا مکرر آجاتا ہے ۔ اور دونوں کا اثبات مقصود ہوتا ہے جیسے : لا زید بمقیم ولا ظاعن نہ زید مقیم ہے اور نہ ہی مسافر یعن کبھی مقیم ہے اور کبھی سفر پر اور کبھی متضاد مقصود ہوتا ہے جیسے ۔ لیس ابیض ولااسود سے مراد ہے کہ وہ ان دونوں رنگوں کے درمیان ہے یا پھر یہ بھی ہوسکتا ہے ہے کہ ان دونوں کے علاوہ کوئی تیسرا رنگ ہو چناچہ آیت کریمہ : لا شَرْقِيَّةٍ وَلا غَرْبِيَّةٍ [ النور/ 35] یعنی زیتون کی نہ مشرق کی طرف منسوب اور نہ مغرب کیطر کے بعض نے یہ معنی کئے ہیں کہ وہ بیک وقت مشرقی بھی ہے اور غربی بھی ۔ اور بعض نے اس کا افراط اور تفریط سے محفوظ ہونا مراد لیا ہے ۔ کبھی لا محض سلب کے لئے استعمال ہوتا ہے اور اس سے ایک شے کی نفی کرکے دوسری کا اثبات مقصود نہیں ہوتا مثلا لا انسان کہہ کہ صرف انسانیت کی نفی کا قصد کیا جائے اور عامی محاورہ لاحد بھی اسی معنی پر محمول ہے ۔ طوع الطَّوْعُ : الانقیادُ ، ويضادّه الكره قال عزّ وجلّ : ائْتِيا طَوْعاً أَوْ كَرْهاً [ فصلت/ 11] ، وَلَهُ أَسْلَمَ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ طَوْعاً وَكَرْهاً [ آل عمران/ 83] ، والطَّاعَةُ مثله لکن أكثر ما تقال في الائتمار لما أمر، والارتسام فيما رسم . قال تعالی: وَيَقُولُونَ طاعَةٌ [ النساء/ 81] ، طاعَةٌ وَقَوْلٌ مَعْرُوفٌ [ محمد/ 21] ، أي : أَطِيعُوا، وقد طَاعَ له يَطُوعُ ، وأَطَاعَهُ يُطِيعُهُ «5» . قال تعالی: وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ [ التغابن/ 12] ، مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطاعَ اللَّهَ [ النساء/ 80] ، وَلا تُطِعِ الْكافِرِينَ [ الأحزاب/ 48] ، وقوله في صفة جبریل عليه السلام : مُطاعٍ ثَمَّ أَمِينٍ [ التکوير/ 21] ، والتَّطَوُّعُ في الأصل : تكلُّفُ الطَّاعَةِ ، وهو في التّعارف التّبرّع بما لا يلزم کالتّنفّل، قال : فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْراً فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ [ البقرة/ 184] ، وقرئ :( ومن يَطَّوَّعْ خيراً ) ( ط و ع ) الطوع کے معنی ( بطیب خاطر ) تابعدار ہوجانا کے ہیں اس کے بالمقابل کرھ ہے جس کے منعی ہیں کسی کام کو ناگواری اور دل کی کراہت سے سر انجام دینا ۔ قرآن میں ہے : ۔ ائْتِيا طَوْعاً أَوْ كَرْهاً [ فصلت/ 11] آسمان و زمین سے فرمایا دونوں آؤ دل کی خوشی سے یا ناگواري سے وَلَهُ أَسْلَمَ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ طَوْعاً وَكَرْهاً [ آل عمران/ 83] حالانکہ سب اہل آسمان و زمین بطبیب خاطر یا دل کے جبر سے خدا کے فرمانبردار ہیں ۔ یہی معنی الطاعۃ کے ہیں لیکن عام طور طاعۃ کا لفظ کسی حکم کے بجا لانے پر آجاتا ہے قرآن میں ہے : ۔ وَيَقُولُونَ طاعَةٌ [ النساء/ 81] اور یہ لوگ منہ سے تو کہتے ہیں کہ ہم دل سے آپ کے فرمانبردار ہیں ۔ طاعَةٌ وَقَوْلٌ مَعْرُوفٌ [ محمد/ 21]( خوب بات ) فرمانبردار ی اور پسندیدہ بات کہنا ہے ۔ کسی کی فرمانبرداری کرنا ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ [ التغابن/ 12] اور اس کے رسول کی فر مانبردار ی کرو ۔ مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطاعَ اللَّهَ [ النساء/ 80] جو شخص رسول کی فرمانبردار ی کرے گا بیشک اس نے خدا کی فرمانبرداری کی ۔ وَلا تُطِعِ الْكافِرِينَ [ الأحزاب/ 48] اور کافروں کا کہا نہ مانو ۔ اور حضرت جبریل (علیہ السلام) کے متعلق فرمایا : ۔ مُطاعٍ ثَمَّ أَمِينٍ [ التکوير/ 21] سردار اور امانتدار ہے ۔ التوطوع ( تفعل اس کے اصل معنی تو تکلیف اٹھاکر حکم بجالا نا کے ہیں ۔ مگر عرف میں نوافل کے بجا لانے کو تطوع کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْراً فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ [ البقرة/ 184] اور جو کوئی شوق سے نیکی کرے تو اس کے حق میں زیادہ اچھا ہے ۔ ایک قرات میں ومن یطوع خیرا ہے كذب وأنه يقال في المقال والفعال، قال تعالی: إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] ، ( ک ذ ب ) الکذب قول اور فعل دونوں کے متعلق اس کا استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے ۔ إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] جھوٹ اور افتراء تو وہی لوگ کیا کرتے ہیں جو خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٨۔ ١٢) اور آپ خصوصا ولید بن مغیرہ مخزومی کا کہنا نہ مانیے جو کہ بہت جھوٹی قسمیں کھانے والا وہ دین خداوندی میں ذلیل ہو، طعنہ دینے والا، آتے جاتے لوگوں سے غیبت کرنے والا، وہ لوگوں کے درمیان چغلیاں لگاتا پھرتا ہو تاکہ ان کے درمیان فساد برپا کرے۔ اپنی اولاد اور کنبہ قبیلہ کو دین اسلام سے روکتا ہو حق سے اعتدال کرنے والا اور ان پر ظلم کرنے والا ہو فاجر ہو، جھوٹ اور ؟ شان نزول : وَلَا تُطِعْ كُلَّ حَلَّافٍ مَّهِيْنٍ (الخ) ابن ابی حاتم نے سدی سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ یہ آیت اخنس بن شریق کے بارے میں اتری ہے۔ ابن منذر نے کلبی سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ اور ابن ابی حاتم نے مجاہد سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت اسود بن یغوث کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اور ابن جریر نے ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم پر جب یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی، تو ہم نے اس شخص کو نہیں پہچانا تاآنکہ بعد میں یہ جملہ نازل ہوا کہ بعد ذلک زنیم۔ تو پھر ہم نے اس کو پہچان لیا اس کا بھی ہر ایک کے ساتھ ہونا ایسا تھا جیسا کہ بکری ہر ایک بکری کے ساتھ مل جاتی ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٨۔ ١٦۔ اوپر ذکر تھا کہ مکہ کے مشرکوں میں سے کوئی شخص اگر آداب دنیا کے برخلاف کچھ کہے تو باقتضا حسن اخلاق اس سے درگزر بہتر ہے ان آیتوں میں اس کی صراحت فرمائی کہ یہ مشرک لوگ تو یہ چاہتے ہیں کہ ان کو شرک پر اڑے رہنے سے کوئی نہ روکے تو وہ بھی مسلمانوں کی ایذا کم کردیں لیکن اللہ تعالیٰ کو اصلاح دین منظور ہے اس لئے دین کی خرابی کی کوئی بات ان میں سے کوئی شخص کہے تو وہ ہرگز نہ سننی جائے اور اس کے سننے میں کسی طرح کی مدارات ان لوگوں کے ساتھ نہ برتی جائے وہ دین کی خرابی کی باتیں ایسی ہی ہیں جیسے ان لوگوں نے ایک یہ بات کہی تھی کہ کچھ دنوں تک مسلمان ہمارے بتوں کی بڑائی مان لیں تو ہم بھی اتنے ہی دنوں تک ان کے خدا کی عبادت کرلیں گے لیکن اسلام تو ایسی باتیں مٹانے کے لئے ہے بھلا اسلام میں ایسی باتیں کب سنی جاسکتی ہیں۔ اس کے بعد مشرکین عرب میں سے خاص ایک شخص کی ایسی باتیں نہ سننے کی تاکید فرمائی اور اس شخص کے چند پتے بھی دیئے۔ حلاف وہ ہے جو اکثر جھوٹی قسمیں کھاتا رہتا ہے۔ مھین کے معنی کم عقل ‘ ھماز وہ جو لوگوں کی غیبت کرتا ہے۔ مشاء بنمیم کے معنی چغل خور مناع للخیر کے معنی بخیل معتد اثیم کے معنی بڑا ظالم اور بڑا گناہ گار۔ عتل کے معنی بد خو بد زبان زنیم وہ جو کسی قوم میں آن گھسے اور اصل میں اس قوم کا نہ ہو۔ اگرچہ بعض مفسروں نے ابوجہل کا نام اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے لیکن جمہور مفسرین کا قول یہی ہے کہ اس آیت میں ولید بن مغیرہ کا ذکر ہے اور بعضی علامتوں اور نشانیوں کے سبب سے یہی قول قوی معلوم ہوتا ہے ایک یہ کہ قریش میں ولید بن مغیرہ کی شہرت زیادہ تھی چناچہ سورة مدثر میں خود اللہ تعالیٰ نے اس کے مال اور اولاد کا ذکر فرمایا ہے۔ دوسری اللہ تعالیٰ نے ناک پر داغ دینے کا جو ذکر فرمایا ہے بدر کی لڑائی والے دن ولید بن مغیرہ کے ہی ناک پر زخم لگا تھا جس کا نشان جیتے جی باقی رہا تیسرے یہ کہ یہی شخص قرآن شریف کو پرانا جادو اور پرانی کہانیاں کہا کرتا تھا۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(68:8) فلا تطع المکذین : ف سببیہ ہے۔ یعنی جب یہ بات کھل گئی کہ آپ ہدایت پر ہیں اور آپ کو جھوٹا قرار دینے والے بھٹکے ہوئے ہیں ۔ تو اب ان کے کہنے پر نہ چلئے۔ لاتطع : فعل نہی واحد مذکر حاضر۔ اطاعۃ (افعال) مصدر۔ تو اطاعت مت کر۔ تو کہا مت مان۔ المکذبین اسم فاعل صیغہ جمع مذکر۔ تکذیب (تفعیل) مصدر سے، جھٹلانئے والے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 4 ” کہا ماننے “ کی توضیح اگلی آیت میں آرہی ہے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

فلا تطع .................... فیدھنون (٨٦ : ٩) ” تم جھٹلانے والوں کے دباﺅ میں ہرگز نہ آﺅ۔ یہ تو چاہتے ہیں کہ کچھ تم مداہنت کرو تو یہ بھی مداہنت کریں “۔ دراصل اندر سے یہ لوگ سودا بازی کے لئے تیار ہیں۔ چاہتے ہیں کہ نصف نصف سودا طے ہوجائے جس طرح تاجر لوگ مول تول کرلیتے ہیں۔ لیکن ان کو معلوم ہے کہ نظریات اور تجارت میں فرق ہوتا ہے۔ ایک نظریاتی شخص اپنے عقائد اور نظریات میں کبھی سودا بازی کے لئے تیار نہیں ہوا کرتا۔ کیونکہ نظریات میں چھوٹی بات بھی بڑی بات کی طرح قیمتی ہوتی ہے بلکہ نظریات میں چھوٹی اور بڑی بات ہوتی ہی نہیں ہے۔ نظریہ ایک مکمل اکائی ہوتا ہے۔ اس میں کوئی کسی کی نہ اطاعت کرتا ہے اور نہ اپنے نظریات کے کسی حصے سے دستبردار ہوتا ہے۔ اس بارے میں بیشمار روایات وارد ہیں کہ وہ کیا معاملات تھے جن پر مشرکین مکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ سودا بازی کے لئے تیار تھے کہ آپ نرمی کریں تو وہ بھی کریں یہ کہہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے الہوں کو برا بھلا کہنا ترک کردیں اور یہ بھی نہ کہیں کہ ان بتوں کی عبادت کرنا ایک احمقانہ فعل ہے۔ یا یہ کہ حضور اکرم کچھ باتیں ان کے دین کی مان لیں اور کچھ باتیں وہ مان لیں گے۔ یوں جمہور عرب کے سامنے ان کی لاج رہ جائے گی۔ جس طرح ہمیشہ مصالحت کرنے والوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ نصف نصف پر فیصلہ کرلیتے ہیں۔ لیکن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا رویہ تودو ٹوک تھا۔ آپ اس میں نہ مداہنت کرتے تھے اور نہ نرمی فرماتے تھے لیکن دین اسلام کے اصولوں کے علاوہ آپ تمام معاملات میں ، نہایت ہی نرم رویہ اختیار فرماتے تھے۔ معاملات میں نہایت ہی اچھے تھے ، معاشرت میں نہایت ہی خوش اخلاق تھے اور لوگوں کے ساتھ نہایت ہی اچھا رویہ رکھتے تھے۔ رہا دین کا معاملہ تو وہ خدا سے متعلق تھا۔ اور خدا کی ہدایت یہ تھی۔ فلا تطع المکذبین (٨٦ : ٨) ” لہٰذا تم ان جھٹلانے والوں کی کوئی بات نہ مانو “۔ چناچہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مکہ میں ایسے حالات میں بھی دین کے معاملے میں کوئی سودا بازی نہیں کی جئ کہ آپ نہایت ہی مشکل حالات میں تھے۔ آپ کی تحریک محاصرے میں تھی۔ آپ کے چند ساتھی تھے۔ ہر طرف سے ان پر مظالم ہورہے تھے۔ اچک لئے جاتے تھے۔ شدید ترین اذیتیں دی جاتی تھیں لیکن وہ صبر کرتے تھے۔ البتہ وہ بڑے سے بڑے جبار کے سامنے کلمہ توحید پڑھنے سے کبھی باز نہ آتے تھے۔ نہ وہ ان کے تالیف قلب کے لئے اور نہ ان کی اذیت سے جان چھڑانے کے لئے۔ نہ وہ کسی ایسی حقیقت کی وضاحت سے چوکتے تھے جس کا ان کے ایمان سے کوئی دور کا بھی تعلق ہوتا تھا۔ ابن ہشام نے اپنی سیرت میں ابن اسحاق سے روایت کی ہے : ” رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی قوم کے سامنے اسلام کا اظہار اور علانیہ دعوت شروع کردی تو انہوں نے آپ کے دین کا کوئی رد یا جواب نہ دیا۔ یہاں تک کہ آپ نے ان کے الہوں کا ذکر شروع کردیا اور ان کی عبادت کو احمقانہ فعل بنایا۔ جب حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ کہا تو انہوں نے اسے ایک عظیم جرم سمجھا اور اس پر بہت برا منایا۔ یہ لوگ آپ کے خلاف جمع ہوگئے اور دشمنی شروع کردی۔ ماسوائے ان لوگوں کے جن کو اللہ اسلام میں لے آیا تھا۔ لیکن یہ بہت ہی قلیل اور کمزور تھے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چچا ابو طالب نے آپ کی حمایت کی اور آپ کا دفاع کیا ، اور آپ کے محافظ کے طور پر آپ کے سامنے کھڑے ہوگئے اور رسول اللہ اپنا کام کرتے رہے۔ خوب اظہار خیال کرتے رہے اور کوئی آپ کو اپنی باتوں سے روک نہ سکتا تھا۔ جب قریش کو معلوم ہوگیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان باتوں سے باز نہیں آتے جن کو وہ برا سمجھتے ہیں اور یہ کہ ان کی صفوں میں تفرقہ پڑگیا اور وہ بدستور ان کے الہوں پر تنقید کرتے ہیں۔ پھر انہوں نے یہ بھی دیکھ لیا کہ ان کے چچا ان کی حمایت پر تلے ہوئے ہیں اور وہ ان کو قریش کے سپرد نہیں کرتے۔ تو قریش کے اشراف کا ایک وفد ابوطالب کے پاس گیا۔ ان میں عتبہ اور شیبہ پسران ربیعہ ، ابوسفیان ابن حرب ابن امیہ ، ابوالیحتری العاص ابن ہشام ، اسود ابن مطلب ابن اسد ، ابوجہل (اس کا نام ابوالحکم عمر ابن ہشام تھا) ، ولید ابن مغیرہ ، نبیہ اور منبہ پسران حجاج ابن عامر اور دوسرے لوگ جو ان کے ساتھ گئے تھے۔ انہوں نے کہا ابوطالب ” یہ کہ تمہارے بھتیجے نے ہمارے الہوں کو گالیاں دیں اور ہمارے دین میں عیب نکالے اور ہمارے خیالات کو احمقانہ کہا۔ ہمارے آباﺅ اجداد کو گمراہ کہا ، اب تمہارے سامنے دوراستے ہیں یا تو اسے ان باتوں سے روک دو یا ہمارے اور اس کے درمیان سے ہٹ جاﺅ، کیونکہ جس طرح ہم اس کے دین کو نہیں مانتے تم بھی نہیں مانتے۔ ہم اس کا علاج کردیں گے “۔ ابوطالب نے ان کے ساتھ نہایت ہی نرم باتیں کیں اور انہیں اچھے طریقے سے رخصت کردیا۔ یہ لوگ واپس ہوگئے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا کار جاری رکھا۔ آپ اپنے دین کا اظہار فرماتے اور لوگوں کو اس کی طرف بلاتے۔ لیکن اس کے بعد آپ کے اور قریش کے درمیان اختلافات شدید ہوگئے۔ دشمنی میں دور تک چلے گئے اور لوگوں کی آتش عناد تیز ہوگئی اور جگہ جگہ آپ کے خلاف باتیں ہونے لگیں۔ اور لوگ آپ کے خلاف ایک دوسرے کو اکسانے لگے۔ انہوں نے کہا کہ اٹھو ، اس شخص کے خلاف۔ یہ لوگ دوبارہ ابوطالب کے پاس گئے اور کہا ابو طالب تم ہم میں سب بےمعمر ہو ، عزت دار ہو ، اور شریف ہو۔ ہم نے تم سے درخواست کی تھی کہ اپنے بھتیجے کو اس کام سے روکو مگر تم نے اسے نہ روکا۔ خدا کی قسم ! ہم اس صورت حال کو برداشت نہیں کرسکتے کہ وہ ہمارے آباﺅاجداد کو گالیاں دے ، ہمارے عقائد کو احمقانہ بتلائے اور ہمارے الہوں کی عیب جوئی کرے۔ یا تو آپ اسے روکیں یا پھر اس کی حمایت سے ہاتھ اٹھالیں ورنہ ہمارے اور تمہارے درمیان جنگ ہوگی جو فریق بھی ہلاک ہوگیا۔ یا اس طرح کی سخت باتیں انہوں نے کہیں اور چلے گئے۔ ابوطالب پر قوم کے درمیان یہ جھگڑا ذرا گراں گزرا۔ اور انہوں نے پوری قوم کی عداوت کو بھاری سمجھا۔ اور یہ بھی وہ نہ چاہتے تھے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان کے حوالے کردیں اور شرمندگی اٹھائیں۔ ابن اسحاق کہتے ہیں کہ مجھے یعقوب ابن عتبہ ابن مغیرہ ابن اخنس نے بتایا کہ جب قریش نے ابوطالب سے یہ باتیں کیں تو انہوں نے حضرت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بلایا۔ ان سے کہا بھتیجے ! تمہاری قوم میرے پاس آئی اور انہوں نے یہ کہا اور یہ کہا۔ اس لئے تم مجھ پر اور اپنے آپ پر ذرا رحم کرو اور مجھ پر اس قدر بوجھ نہ ڈالو جس کے اٹھانے کی مجھے طاقت نہ ہو۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ سمجھا کہ شاید ابوطالب کی رائے اس معاملے میں بدل گئی ہے۔ اور یہ کہ آپ بھی اب ساتھ چھوڑنے والے ہیں اور مجھے قریش کے حوالے کرنے والے ہیں اور یہ کہ ابو طالب بھی اب حمایت اور نصرت سے دسکش ہورہے ہیں۔ تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” چچا ! خدا کی قسم اگر یہ لوگ میرے دائیں ہاتھ پر سورج اور بائیں ہاتھ پر چاند بھی لاکر رکھ دیں اور یہ مطالبہ کریں کہ یہ کام چھوڑ دو تو یہ نہیں ہوسکتا ، میں یہ کام کرتارہوں گا جب تک یہ دین غالب نہیں ہوجاتا یا میں ہلاک نہیں ہوجاتا۔ کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آواز روندھ گئی اور آپ روپڑے اور اٹھ کر چلے گئے۔ جب آپ چلے گئے تو ابو طالب نے آواز دی : بھتیجے ! ادھر آﺅ، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) واپس ہوئے تو انہوں نے کہا ” جاﺅ جو چاہو کرو ، خدا کی قسم میں تمہیں کسی قیمت پر ان کے حوالے نہ کروں گا “۔ یہ ہے تصویر حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی کہ آپ اس وقت بھی اپنی دعوت پر جمے ہوئے تھے جبکہ آپ کے چچا محترم بھی دستکش ہونے کے بارے میں سوچ رہے تھے۔ جو آپ کے حامی اور محافظ تھے اور یہ آخری قلعہ تھے ، جس میں آپ اس کرہارض پر اپنے دشمنوں کے مقابلے میں پناہ لے سکتے تھے۔ یہ تو تھی ایک نہایت ہی روشن اور قوی تصویر۔ یہ اپنی نوعیت اور حقیقت کے اعتبار سے بالکل ایک انوکھی تصویر تھی۔ اس کا رنگ اور پر تو سب ہی انوکھے تھے۔ اس کی عبارت اور مکالمات بھی اپنی نوعیت کے تھے۔ نہایت نئے اور سنجیدہ موقف کی ایک تصویر اس طرح روشن ، جس طرح یہ عقیدہ روشن ہے۔ اور اس میں سرٹیفکیٹ اور شہادت کا مصادق اور مفہوم موجود۔ وانک .................... عظیم (٨٦ : ٤) ” اور بیشک آپ عظیم اخلاق کے نہایت ہی بلند مرتبے پر ہیں “۔ اور ان اخلاق عالیہ کی ایک دوسری تصویر بھی خود ابن اسحاق نے نقل کی ہے۔ کہتے ہیں روایت بیان کی یزید ابن اسحاق نے ، محمد ابن کعب قرظی سے ، انہوں نے کہا مجھے یہ بتایا گیا کہ عتبہ ابن ربیعہ ایک سردار تھا۔ یہ ایک دن قریش کی ایک محفل میں بیٹھا ہوا تھا ، اس نے تجویز پیش کی ، جبکہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسجد حرام میں اکیلے بیٹھے ہوئے تھے ، کیا مناسب نہیں ہے کہ میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بات کروں اور ان کے سامنے کچھ باتیں رکھوں شاید وہ اسے قبول کرلیں۔ اس طرح کہ ان کے جو مطالبات ہوں ہم انہیں دے دیں اور وہ ہمارے خداﺅں سے باز آجائیں۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب حضرت حمزہ اسلام قبول کرچکے تھے اور قریش نے دیکھ لیا تھا کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حامیوں میں اضافہ ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا : ابو الولید جاﺅ اور ان سے بات کرو ، عتبہ اٹھا اور آیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے بیٹھ گیا۔ اس نے کہا بھتیجے ! ہمارے اندر تمہاری جو حیثیت ہے ، وہ تم جانتے ہو۔ تمہارا بہت اونچا درجہ ہے اور تمہارا نسب بھی بہت اونچا ہے اور تم نے اپنی قوم کو ایک بڑی مصیبت میں ڈال دیا ہے۔ جماعت کے اندر تفریق پیدا ہوگئی ہے۔ تم نے ہمارے نظریات کا مذاق اڑایا ہے ، ہمارے دین اور الہوں پر تنقید کی ہے اور تم نے ہمارے آباﺅ اجداد کو کافر کہا۔ تم میری بات سنو ۔ میں تمہارے سامنے کچھ تجاویز پیش کرتا ہوں۔ امید ہے کہ تم ان پر غور کرو گے۔ شاید ان میں سے بعض کو تم منظور کرلو۔ کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” ابوالولید کہو۔ میں سنتا ہوں “ اس نے کہا : ” بھتیجے ! تم جو دین پیش کرتے ہو اگر اس سے تمہارا مقصد بہت زیادہ مال جمع کرنا ہے ، تو ہم تمہارے لئے اس قدر مال جمع کرتے ہیں کہ تم ہم میں سب سے زیادہ مالدار ہوجاﺅ گے۔ اور اگر تم اونچا مقام چاہتے ہو تو ہم تم کو اپنا سردار بناتے ہیں ، ہم تمہارے بغیر کوئی فیصلہ نہ کریں گے۔ اگر تم بادشاہت چاہتے ہو تو ہم تم کو اپنا بادشاہ تسلیم کرتے ہیں۔ اور اگر تم پر کوئی دورہ پڑتا ہے جس کا دفعیہ تم نہیں کرسکتے تو ہم تمہارے علاج کا انتظام کرتے ہیں۔ اس پر ہم سے جو ہوسکا ، خرچ کریں گے یہاں تک کہ تم تندرست ہوجاﺅ۔ بعض اوقات یوں ہوتا ہے کہ انسان کے ساتھ کوئی چیز لگ جاتی ہے اور اس کو اس کا علاج کرنا پڑتا ہے “۔ یہ اور ایسی اور باتیں جو اس نے کیں۔ عتبہ ان باتوں سے فارغ ہوا اور رسول اللہ یہ باتیں سنتے رہے۔ اس کے بعد حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ابو الولید تم کہہ چکے ؟ اس نے کہا : ” ہاں “۔ اس پر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اب میری بات سنو۔ اس نے کہا : ہاں ” کہو “۔ اس پر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پڑھنا شروع کیا : حٰم ................................ ویل للمشرکین (٦) (١٤ : ١ تا ٦) ” ح م۔ یہ خدائے رحمن ورحیم کی طرف سے نازل کردہ چیز ہے ، ایک ایسی کتاب جس کی آیات خوب کھول کر بیان کی گئی ہیں۔ عربی زبان کا قرآن ، ان لوگوں کے لئے جو علم رکھتے ہیں ، بشارت دینے والا اور ڈرانے والا مگر ان لوگوں میں سے اکثر نے اس سے روگردانی کی اور وہ سن کر نہیں دیتے۔ کہتے ہیں ” جس چیز کی طرف تو ہمیں بلارہا ہے اس کے لئے ہمارے دلوں پر غلاف چڑھے ہوئے ہیں ، ہمارے کان بہرے ہوگئے ہیں اور ہمارے اور تیرے درمیان ایک حجاب حائل ہوگیا ہے تو اپنا کام کر ہم اپنا کام کیے جائیں گے “۔ اے نبی ان سے کہو ، میں تو ایک بشر ہوں تم جیسا۔ مجھے وحی کے ذریعہ بتایا جاتا ہے کہ تمہارا خدا بس ایک ہی خدا ہے ، لہٰذا تم سیدھے اسی کا رخ اختیار کرو۔ اور اس سے معافی چاہو۔ تباہی ہے مشرکوں کے لئے ....“ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے بعد بھی سورة حم سجدہ پڑھتے رہے۔ جب عتبہ نے اسے سنا تو خاموش ہوگیا اور اپنے ہاتھ پشت کے پیچھے زمین پر لگا کر ٹیک لی اور سنتا رہا۔ اب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سجدہ تک پہنچ گئے اور آپ نے سجدہ کیا۔ اس کے بعد حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ابو الولید تم نے سنا جو سنا بس یہ ہے جواب تم جانو اور تمہارا کام “۔ عتبہ اپنے ساتھیوں کے پاس گیا ۔ انہوں نے ایک دوسرے سے کہا : ” ہم خدا کی قسم اٹھا کر کہتے ہیں کہ یہ شخص جو چہرہ لے کر گیا تھا اس کے ساتھ واپس نہیں آیا۔ جب یہ جاکر ان کی محفل میں بیٹھا تو انہوں نے پوچھا ابوالولید کیا خبر لائے ہو ؟ تو اس نے کہا خبر یہ ہے کہ میں نے ایک ایسا کلام سنا ہے خدا کی قسم میں نے ایسا کوئی کلام کبھی نہیں سنا۔ یہ نہ تو شعر ہے نہ جادو ہے ، نہ کہانت ہے۔ اے اہل قریش میری بات مانوں اور میں اس کا ذمہ دار ہوں ، یہ شخص جو کچھ کرنا چاہتا ہے اسے کرنے دو اور اس کی راہ نہ روکو۔ اس کو الگ چھوڑ دو ، خدا کی قسم اس کی جو بات میں نے سنی ہے اس کی شہ سرخی لگنے والی ہے۔ اگر اس کو عربوں نے ختم کردیا تو تمہارا کام وہ کردیں گے اور تمہیں اسے مارنے کی ضرورت نہ ہوگی اور اگر یہ عربوں پر غالب آگیا تو اس کی حکومت تمہاری حکومت ہوگی اور اس کی عزت تمہاری عزت ہوگی۔ اور تم اس کی وجہ سے نہایت ہی نیک بخت ہوگئے ، انہوں نے کہا ابوالولید خدا کی قسم اس نے اپنی زبان سے تمہیں مسحور کردیا۔ اس نے کہا : اس کے بارے میں یہ میری حقیقی رائے ہے۔ اب تمہاری مرضی ہے جو چاہو کرتے رہو۔ دوسری روایات میں آتا ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کلام الٰہی سناتے ہوئے جب اس آیت پر پہنچے۔ فان ........................ وثمود (١٤ : ٣١) ” اگر یہ لوگ منہ موڑتے ہیں تو ان سے کہہ دو کہ میں تم کو اس طرح کے ایک اچانک ٹوٹ پڑنے والے عذاب سے ڈراتا ہوں جیسا کہ عاد وثمود پر نازل ہوا تھا “ تو ابوالولید خوفزدہ ہکر اٹھا اور آپ کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا اور کہنے لگا : ” محمد ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ) میں تمہیں خدا کا اور رحم کا واسطہ دیتا ہوں “۔ یہ اس ڈر کی وجہ سے کہ کہیں فی الواقع یہ عذاب نازل نہ ہوجائے۔ اس کے بعد وہ قوم کے پاس گیا اور ان سے وہ بات کہی جس کا اوپرتذکرہ ہوا۔ بہرحال یہ قریش کی طرف سے سودے بازی کی دوسری کوشش تھی۔ یہ بھی حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خلق عظیم کی ایک تصویر ہے۔ اس سے آپ کے آداب اچھی طرح معلوم ہوتے ہیں کہ آپ عتبہ کی بات نہایت تحمل سے سنتے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ فارغ ہوجاتا ہے حالانکہ اس کی باتیں نہایت بےمعنی ہیں۔ ان باتوں کا تعلق صرف اس زمین سے ہے۔ لیکن آپ کے اخلاق کریمانہ تھے کہ آپ نہ اس کی بات کاٹتے ہیں نہ جلدی کرتے ہیں اور نہ غصے میں آتے ہیں اور اس کو جھڑکتے ہیں۔ یہاں تک کہ یہ شخص اپنی بیہودہ باتوں سے فارغ ہوجاتا ہے اور آپ پوری توجہ سے سنتے ہیں۔ اس کے بعد آپ نہایت نرمی سے پوچھتے ہیں۔ ابوالولید آپ کی بات ختم ہوئی ، اور یہ تاکید مزید کے لئے کہ وہ یہ نہ کہے کہ میری بات رہتی ہے۔ یہ ہے سچا اطمینان ، اور حقیقی ادب کہ آپ پوری پوری بات سنتے ہیں۔ یہ بھی آپ کے خلق عظیم کا ایک پہلو ہے۔ بیہودہ باتیں بھی تحمل سے سنتے ہیں۔ اور ایک تیسری سودا بازی بھی مروی ہے۔ ابن اسحاق روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خانہ کعبہ کا طواف کررہے تھے کہ اسود ابن المطلب ابن اسد ابن عبدالعزی ، ولید ابن مغیرہ ، امیہ ابن خلف اور عاص ابن وائل سہمی نے آپ کو روکا اور یہ لوگ اپنے قبائل میں نہایت معتبر لوگ تھے۔ انہوں نے کہا : ” محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم اس کی عبادت کرتے ہیں جس کو تم کرتے ہو ، اور تم ان الہوں کی عبادت کرو جن کی ہم کرتے ہیں۔ ہم اور تم شریک ہوجائیں گے۔ اگر جس خدا کی تم عبادت کرتے ہو وہ اچھا ہوا تو ہمارا بھی اس میں حصہ ہوگا اور ہم جن کی عبادت کرتے ہیں اگر وہ اچھے ہوئے تو تم نے بھی اپنا حصہ اس بھلائی سے لیا ہوگا۔ ان کے بارے میں اللہ نے یہ سورت نازل کی۔ قل یایھا الکفرون ................ تعبدون (٩٠١ : ٢) ” اے کافرو ! میں ان کی عبادت نہیں کرتا جن کی تم کرتے ہو “۔ اس سودا بازی کو دو ٹوک انداز میں ختم کردیا گیا۔ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو یہ سورت سنا دی جس طرح اللہ کا حکم تھا۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

آپ کی تکذیب کرنے والوں کی بات نہ مانیے، وہ آپ سے مداہنت کے خواہاں ہیں یہ نو آیات کا ترجمہ ہے ان میں سے پہلی دو آیتوں میں یہ فرمایا کہ آپ تکذیب کرنے والوں کی بات نہ مانیے وہ چاہتے ہیں کہ آپ کچھ نرم پڑجائیں تو وہ بھی آپ کے معاملہ میں نرمی اختیار کرلیں، اہل باطل کا یہ طریقہ رہا ہے کہ خود تو حق کی طرف جھکتے نہیں ان کی پہلی کوشش یہ ہوتی ہے کہ داعیان حق کو دعوت دیں کہ تم اپنی دعوت چھوڑ دو اور ہمارے کفر و گمراہی میں شریک ہوجاؤ، جب اس پر قابو نہیں چلتا تو کہتے ہیں کہ اچھا آپ کچھ نرم پڑجائیں اپنی دعوت اور دعوت کے کاموں میں نرمی اختیار کرلیں ہم بھی اپنی مخالفت میں اور سختی میں کمی کردیں گے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اللہ نے حکم دیا کہ ان کی باتوں میں نہ آئیں جو حکم ہوا ہے اس کے مطابق دعوت دیتے رہیں اور دعوت میں کسی بھی طرح کی نرمی اور مداہنت کو منظور نہ فرمائیں۔ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ مشرکین مکہ نے یوں کہا تھا کہ آپ ہمارے معبودوں کو برا نہ کہیں ہم بھی آپ کی مخالفت نہ کریں گے۔ اس پر مذکورہ بالا آیت نازل ہوئی۔ معلوم ہوا کہ مخلوق کو راضی کرنے کے لیے کسی حق کام یا حق بات کا چھوڑ دینا جائز نہیں۔ ایک کافر کی دس صفات ذمیمہ : اس کے بعد جو سات آیات ہیں ان میں کسی کا نام نہیں لیا البتہ دس صفات ذمیمہ کا تذکرہ فرمایا ہے اور ارشاد فرمایا ہے کہ ان صفات والے شخص کا اتباع نہ کیجئے اس سے ان صاحب کی مذمت بھی ہوگئی اور جو شخص ان صفات سے متصف ہو اس کی مذمت بھی ہوگئی مفسرین نے لکھا ہے کہ اہل مکہ میں جو لوگ اسلام اور داعی اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے شدید ترین دشمن تھے ان میں ایک شخص ولید بن المغیرہ بھی تھا۔ یہ شخص بہت ہی زیادہ مخالفت پر اترا ہوا تھا۔ ان آیات میں اسی کا ذکر ہے، نام لیے بغیر ارشاد فرمایا کہ ایسے ایسے شخص کی اطاعت نہ کیجئے۔ اول تو ﴿ حَلَّافٍ ﴾ فرمایا یعنی بہت زیادہ قسمیں کھانے والا۔ دوسرے ﴿ مَّهِيْنٍ﴾ فرمایا یعنی ذلیل تیسرے ﴿هَمَّازٍ﴾ فرمایا جو دوسروں کو عیب لگاتا ہے غیبتیں کرتا ہے۔ چوتھے ﴿مَّشَّآءٍۭ بِنَمِيْمٍۙ٠٠١١﴾ یعنی چغل خور ہے جو لوگوں کے درمیان فساد پھیلانے کے لیے چغلی کرتا ہے اور اس مشغلہ میں خوب آگے بڑھا ہوا ہے۔ پانچویں ﴿مَّنَّاعٍ لِّلْخَيْرِ﴾ یعنی خیر سے روکنے والا، اس میں ہدایت سے روکنا بھی آگیا اور جہاں اللہ کی رضا مندی کے کاموں میں مال خرچ کرنے کی ضرورت ہو وہاں ہاتھ روک لینے اور کنجوسی کرنے کو بھی شامل ہوگیا۔ چھٹے ﴿ مُعْتَدٍ﴾ فرمایا یعنی حد سے بڑھنے والا ظلم کرنے والا۔ ساتویں ﴿اَثِيْمٍۙ٠٠١٢﴾ فرمایا یعنی گناہگار۔ آٹھویں ﴿ عُتُلٍّۭ﴾ فرمایا یعنی سخت مزاج، نویں فرمایا ﴿ بَعْدَ ذٰلِكَ زَنِيْمٍۙ٠٠١٣﴾ یعنی یہ جو کچھ مذکور ہوا اس کے بعد یہ بھی ہے کہ وہ منقطع النسب ہے۔ یہ شخص ثابت النسب نہیں تھا یعنی اس کا باپ معلوم نہ تھا حقیقت میں قریشی نہ تھا مغیرہ نے اس کی اٹھارہ سال عمر ہونے کے بعد اسے اپنا منہ بولا بیٹا بنا لیا تھا اسی وجہ سے بعض مفسرین نے لفظ زنیم کا ترجمہ حرام زادہ کیا ہے۔ یہاں یہ جو سوال پیدا ہوتا ہے کہ جو بچہ ثابت النسب نہ ہو اس کا کیا قصور ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ پیدا ہونے پر ملامت نہیں ہے حرام زادوں میں افعال قبیحہ اور اخلاق ذمیمہ تربیت نہ ہونے کی وجہ سے پیدا ہوجاتے ہیں لہٰذا ان میں ثابت النسب والے افراد والی شرافت عموماً نہیں پائی جاتی، اس کی دسویں صفت ذمیمہ بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ چونکہ یہ مال والا اور بیٹوں والا ہے اس لیے یہ حرکت کرتا ہے کہ جب اس پر ہماری آیات تلاوت کی جاتی ہیں تو جھٹلانے کے طور پر کہہ دیتا ہے کہ یہ پرانے لوگوں کی چیزیں ہیں جو نقل در نقل چلی آرہی ہیں چاہیے تو یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر شکر کرتا اور اس کی آیات کی تصدیق کرتا لیکن اس نے مال اور اولاد پر گھمنڈ کر کے آیات قرآنیہ کی تکذیب پر کمر باندھ لی۔ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا ہے کہ جہاں تک ہمارا علم ہے اللہ تعالیٰ نے کسی بھی فرد کو اتنی صفات ذمیمہ کے ساتھ موصوف نہیں فرمایا جو ولید بن المغیرہ کی صفات فرمائیں۔ آخرت میں جو کفر پر مرجانے کی سزا ہے وہ اپنی جگہ ہے دنیا میں اس کو یہ سزا دی کہ اس کی ناک پر غزوہٴ بدر کے موقع پر ایک تلوار لگی جس کی وجہ سے ناک پر زخم آگیا اور مستقل ایک نشان بن گیا اس کی ناک بھی بڑی تھی جسے خرطوم سے تعبیر فرمایا ہے خرطوم ہاتھی کی ناک کو کہتے ہیں یہ شخص زندگی بھر اپنی اس عیب دار ناک کو لیے پھرتا تھا اور سب کے سامنے اس کی بدصورتی عیاں تھی۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

6:۔ ” فلا تطع المکذبین “ فاء تفریعیہ ہے۔ جب یہ بات واضح ہوگئی کہ آپ بحمد اللہ مجنون نہیں ہیں، بلکہ یہ آپ کے مخالفین مجانین ہیں۔ اس لیے آپ ان حق کا انکار کرنے والوں کی اطاعت نہ کریں اور ان کی کوئی بات نہ مانیں۔ ” ودوا لو تدھن فیدھنون “ یہ سورت کا دعوی ہے۔ ” فیدھنون “ تمنی کا جواب نہیں ورنہ ” فیدھنوا “ ہوتا۔ اس لیے یہ اصل میں ” فھم یدھنون “ ہے۔ مشرکین کی تمنا اور خواہش ہے کہ آپ توحید کے معاملے میں نرم ہوجائیں یعنی ان کو شرک سے نہ روکیں اور ان کے معبودوں کی عاجزی اور بےبسی کا ذکر نہ کیا کریں، ویسے خود بڑی خوشی سے اپنے معبود کی عبادت کریں اور اس کے صفات و کمالات بیان کیا کریں اور اس کو برکات دہندہ سمجھیں لیکن ان کے معبودوں کو کچھ نہ کہیں اور یہ صراحت نہ کریں کہ وہ برکات دہندہ نہیں ہیں۔ تو اس صورت میں وہ بھی نرم ہوجائیں گے اور آپ پر طعن نہیں کریں گے اور نہ آپ کو تبلیغ اور خدائے واحد کی عبادت سے روکیں گے یا مطلب یہ ہے کہ وہ تو اب نرم ہورہے ہیں اس خواہش میں کہ شاید آپ بھی نرم ہوجائیں۔ مگر یادرکھیے مسئلہ توحید میں ادنی مداہنت کی بھی اجازت نہیں۔ آپ اس میں نرم نہ ہونا اور صاف صاف بیان کرنا کہ تمہارے خود ساختہ معبود عاجز ہیں اور کچھ نہیں کرسکتے۔ ای فھم یدھنون حینئذ او فھم الان یدھنون طمعا فی ادھانک (روح ج 29 ص 26) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(8) لہٰذا آپ ان تکذیب کرنے والوں اور دین حق کو جھوٹا بتانے والوں کا کہنا نہ مانیے اور ان کی اطاعت نہ کیجئے۔ یعنی اے پیغمبر جب آپ کو ان مکذبین کی حالت معلوم ہوگئی تو اب ان کے کہنے میں نہ آئیے اور ان کی بات نہ مانیے کیونکہ یہ کوئی درمیانی بات نکالنے کی کوشش کریں اور آپ کو صلح پر آمادہ کریں گے جیسا کہ دنیوی معاملات میں مبتلا کرتا ہے کہ کچھ تم دب جائو کچھ ہم دب جائیں اور باہمی سمجھوتہ کرلیاجائے تو دین کے معاملہ میں آپ ان کو کوئی ایسی بات نہ مانیں چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔