Surat ul Haaqqaa

Surah: 69

Verse: 10

سورة الحاقة

فَعَصَوۡا رَسُوۡلَ رَبِّہِمۡ فَاَخَذَہُمۡ اَخۡذَۃً رَّابِیَۃً ﴿۱۰﴾

And they disobeyed the messenger of their Lord, so He seized them with a seizure exceeding [in severity].

اور اپنے رب کے رسول کی نافرمانی کی ( بالآخر ) اللہ نے انہیں ( بھی ) زبردست گرفت میں لےلیا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

فَعَصَوْا رَسُولَ رَبِّهِمْ ... And they disobeyed their Lord's Messenger, meaning they were all of the same type, they all denied the Messenger of Allah who was sent to them. As Allah says, (38:14) كُلٌّ كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ وَعِيدِ Everyone of them denied the Messengers, so My threat took effect. So whoever denies a Messenger, then verily, he denies all of the Messengers. This is as Allah says, كَذَّبَتْ قَوْمُ نُوحٍ الْمُرْسَلِينَ The people of Nuh belied the Messengers, كَذَّبَتْ عَادٌ الْمُرْسَلِينَ `Ad belied the Messengers. كَذَّبَتْ ثَمُودُ الْمُرْسَلِينَ Thamud belied the Messengers. However, only one Messenger came to every nation. Thus, Allah says here, فَعَصَوْا رَسُولَ رَبِّهِمْ فَأَخَذَهُمْ أَخْذَةً رَّابِيَةً And they disobeyed their Lord's Messenger, so He seized them with a punishment that was Rabiyah. Rabiyah means, great, severe and painful. Mujahid said, "Rabiyah means severe." As-Suddi said, "It means destructive." A Reminder about the Blessing of the Ship Then, Allah says,

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

10۔ 1 یعنی ان کی ایسی گرفت کی جو دوسری قوموں کی گرفت سے زائد یعنی سب میں سخت تر تھی۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

فَعَصَوْا رَسُوْلَ رَبِّہِمْ فَاَخَذَہُمْ اَخْذَۃً رَّابِيَۃً۝ ١٠ عصا العَصَا أصله من الواو، لقولهم في تثنیته : عَصَوَانِ ، ويقال في جمعه : عِصِيٌّ. وعَصَوْتُهُ : ضربته بالعَصَا، وعَصَيْتُ بالسّيف . قال تعالی: وَأَلْقِ عَصاكَ [ النمل/ 10] ، فَأَلْقى عَصاهُ [ الأعراف/ 107] ، قالَ هِيَ عَصايَ [ طه/ 18] ، فَأَلْقَوْا حِبالَهُمْ وَعِصِيَّهُمْ [ الشعراء/ 44] . ويقال : ألقی فلانٌ عَصَاهُ : إذا نزل، تصوّرا بحال من عاد من سفره، قال الشاعر : فألقت عَصَاهَا واستقرّت بها النّوى وعَصَى عِصْيَاناً : إذا خرج عن الطاعة، وأصله أن يتمنّع بِعَصَاهُ. قال تعالی: وَعَصى آدَمُ رَبَّهُ [ طه/ 121] ، وَمَنْ يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ [ النساء/ 14] ، آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُيونس/ 91] . ويقال فيمن فارق الجماعة : فلان شقّ العَصَا ( ع ص ی ) العصا : ( لاٹھی ) یہ اصل میں ناقص وادی ہے کیونکہ اس کا تثنیہ عصوان جمع عصی آتی عصوتہ میں نے اسے لاٹھی سے مارا عصیت بالسیف تلوار کو لاٹھی کی طرح دونوں ہاتھ سے پکڑ کت مارا ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَأَلْقِ عَصاكَ [ النمل/ 10] اپنی لاٹھی دال دو ۔ فَأَلْقى عَصاهُ [ الأعراف/ 107] موسٰی نے اپنی لاٹھی ( زمین پر ) ڈال دی ۔ قالَ هِيَ عَصايَ [ طه/ 18] انہوں نے کہا یہ میری لاٹھی ہے ۔ فَأَلْقَوْا حِبالَهُمْ وَعِصِيَّهُمْ [ الشعراء/ 44] تو انہوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں ۔ القی فلان عصاہ کسی جگہ پڑاؤ ڈالنا کیونکہ جو شخص سفر سے واپس آتا ہے وہ اپنی لاٹھی ڈال دیتا ہے ۔ شاعر نے کہا ہے ( 313 ) والقت عصاھا واستقربھا النوی ( فراق نے اپنی لاٹھی ڈال دی اور جم کر بیٹھ گیا ) عصی عصیانا کے معنی اطاعت سے نکل جانے کے ہیں دراصل اس کے معنی ہیں اس نے لاٹھی ( عصا ) سے اپنا بچاؤ کیا ۔ قرآن میں ہے : وَعَصى آدَمُ رَبَّهُ [ طه/ 121] اور آدم نے اپنے پروردگار کے حکم کے خلاف کیا تو ( وہ اپنے مطلوب سے ) بےراہ ہوگئے ۔ وَمَنْ يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ [ النساء/ 14] اور جو خدا اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا ۔ آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ [يونس/ 91] ( جواب ملا کہ ) اب ( ایمان لاتا ہے ) حالانکہ تو پہلے نافرمانی کرتا رہا ۔ اور اس شخص کے متعلق جو جماعت سے علیدہ گی اختیار کر سے کہا جاتا ہے فلان شق لعصا ۔ رسل وجمع الرّسول رُسُلٌ. ورُسُلُ اللہ تارة يراد بها الملائكة، وتارة يراد بها الأنبیاء، فمن الملائكة قوله تعالی: إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] ، وقوله : إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ، ( ر س ل ) الرسل اور رسول کی جمع رسل آتہ ہے اور قرآن پاک میں رسول اور رسل اللہ سے مراد کبھی فرشتے ہوتے ہیں جیسے فرمایا : إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] کہ یہ ( قرآن ) بیشک معزز فرشتے ( یعنی جبریل ) کا ( پہنچایا ہوا ) پیام ہے ۔ إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ہم تمہارے پروردگار کے بھجے ہوئے ہی یہ لوگ تم تک نہیں پہنچ پائیں گے ۔ رب الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] ( ر ب ب ) الرب ( ن ) کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ کسی نے کہا ہے ۔ لان یربنی رجل من قریش احب الی من ان یربنی رجل من ھوازن ۔ کہ کسی قریشی کا سردار ہونا مجھے اس سے زیادہ عزیز ہے کہ بنی ہوازن کا کوئی آدمی مجھ پر حکمرانی کرے ۔ رب کا لفظ اصل میں مصدر ہے اور استعارۃ بمعنی فاعل استعمال ہوتا ہے اور مطلق ( یعنی اصافت اور لام تعریف سے خالی ) ہونے کی صورت میں سوائے اللہ تعالیٰ کے ، جو جملہ موجودات کے مصالح کا کفیل ہے ، اور کسی پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا چناچہ ارشاد ہے :۔ بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] عمدہ شہر اور ( آخرت میں ) گنا ه بخشنے والا پروردگار ،۔ أخذ الأَخْذُ : حوز الشیء وتحصیله، وذلک تارةً بالتناول نحو : مَعاذَ اللَّهِ أَنْ نَأْخُذَ إِلَّا مَنْ وَجَدْنا مَتاعَنا عِنْدَهُ [يوسف/ 79] ، وتارةً بالقهر نحو قوله تعالی: لا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلا نَوْمٌ [ البقرة/ 255] ( اخ ذ) الاخذ ۔ کے معنی ہیں کسی چیز کو حاصل کرلینا جمع کرلینا اور احاطہ میں لے لینا اور یہ حصول کبھی کسی چیز کو پکڑلینے کی صورت میں ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ { مَعَاذَ اللهِ أَنْ نَأْخُذَ إِلَّا مَنْ وَجَدْنَا مَتَاعَنَا عِنْدَهُ } ( سورة يوسف 79) خدا پناہ میں رکھے کہ جس شخص کے پاس ہم نے اپنی چیز پائی ہے اس کے سو اہم کسی اور پکڑ لیں اور کبھی غلبہ اور قہر کی صورت میں جیسے فرمایا :۔ { لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ } ( سورة البقرة 255) نہ اس پر اونگھ غالب آسکتی اور نہ ہ نیند ۔ محاورہ ہے ۔ ربو رَبْوَة ورِبْوَة ورُبْوَة ورِبَاوَة ورُبَاوَة، قال تعالی:إِلى رَبْوَةٍ ذاتِ قَرارٍ وَمَعِينٍ [ المؤمنون/ 50] ، قال (أبو الحسن) : الرَّبْوَة أجود لقولهم ربی فَاحْتَمَلَ السَّيْلُ زَبَداً رابِياً [ الرعد/ 17] ، فَأَخَذَهُمْ أَخْذَةً رابِيَةً [ الحاقة/ 10] ، ( ر ب و ) ربوۃ ( مثلثلہ الراء ) ورباوۃ ( بفتح الرء وکسر ھما ) بلند جگہ یا ٹیلے کو کہتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ إِلى رَبْوَةٍ ذاتِ قَرارٍ وَمَعِينٍ [ المؤمنون/ 50] ایک اونچی جگہ پر جو ٹھہر نے کے قابل اور شاداب ( بھی تھی ) ابوا حسن نے کہا ہے کہ ربوۃ کا لفظ زیادہ جید ہے ۔ فَاحْتَمَلَ السَّيْلُ زَبَداً رابِياً [ الرعد/ 17] پھر نالے پر پھولا ہوا اجھاگ آگیا۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(69:10) فعصوا : ف عاطفہ اس جملہ کا عطف جاء عطف تفسیری ہے (کیونکہ یہ جملہ جاء بالخاطئۃ کی تفصیل بیان کرتا ہے) عصوا ماضی جمع مذکر غائب معصیۃ وعصیان (باب ضرب۔ عصی مادہ) مصدر سے بمعنی نافرمانی کرنا۔ عصوا۔ اصل میں عصیوا تھا۔ یاء متحرک ماقبل اس کا مفتوح اس لئے یاء کو الف سے بدلا گیا۔ اجتماع ساکنین سے الف گرگیا۔ عصوا رہ گیا۔ رسول ربھم مفعول ہے عصوا کا۔ ترجمہ ہوگا :۔ پس انہوں نے اپنے رب کے رسولوں کی نافرمانی کی۔ (یعنی ہر قوم نے اپنے رب کے رسول کی نافرمانی کی۔ ای فعصی کل امۃ رسولہا (روح المعانی) فاخذھم اخذۃ رابیۃ : ای فاخذھم اللہ ف سببیہ ہے۔ بدیں سبب اللہ نے ان کو پکڑ لیا۔ اخذۃ مفعول مطلق۔ موصوف۔ رابیۃ صفت۔ ربو (باب نصر) مصدر بمعنی بڑھنا۔ اور زائد ہونا۔ سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث ہے۔ ترجمہ ہوگا :۔ بدیں سبب اللہ نے ان کو نہایت سختی اور شدت کے ساتھ پکڑا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 4 یعنی ان میں سے کسی قوم نے اپنے مالک کے پیغمبر کا کہا نہ مانا۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

﴿ فَعَصَوْا رَسُوْلَ رَبِّهِمْ فَاَخَذَهُمْ اَخْذَةً رَّابِيَةً ٠٠١٠﴾ (سو انہوں نے اپنے رب کے پیغمبر کی نافرمانی کی لہٰذا اس نے انہیں سخت گرفت کے ساتھ پکڑ لیا) ۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(10) چنانچہ ان مذکورہ لوگوں نے اپنے پروردگار کے ہر پیغمبر کی جو ان کی طرف بھیجا گیا نافرمانی کی آخر کار اللہ تعالیٰ نے ان کی نہایت سخت گرفت کی۔ فرعون کے واقعات تو قرآن کریم میں کئی جگہ مذکور ہیں اس نے خدا ہونے کا دعویٰ کیا بنی اسرائیل پر انتہائی ظلم کئے حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم مدین میں آباد تھی یہ متمدن اور شہری لوگ تھے کچھ جنگل اور بن میں رہتے تھے ان کو اصحاب الی کہ کہتے ہیں بہرحال حضرت شعیب (علیہ السلام) کی ان لوگوں نے مخالفت کی اور نافرمانی کی بالآخر ان پرچیخ اور چنگھاڑ کا عذاب آیا اور اس کے ساتھ زلزلے کے جھٹکے بھی لگے بن والوں پر آگ اور دھوئیں کا عذاب آیا جس کو سورة شعراء میں یوم الظار فرمایا ہے اسی طرح یہ لوگ ہلاک کردیئے گئے اور موتفکات تو یہ وہی سدوم اور اس کی متعلقہ بستیاں ہیں جن کی ہدایت حضرت لوط (علیہ السلام) کے سپرد ہوئی تھی ان کا انجام یہ ہوا کہاٹھاکر الٹ دی گئیں اور آج تک الٹی پڑی ہیں بہرحال یہ سب حاقہ کی نظریں ہیں اور ان سے ہی حاقہ کا جو واقع ہونے والی ہے کچھ اندازہ لگایا جاسکتا ہے ورنہ اصل حقیقت توحاقہ کی کہاں معلوم ہوسکتی ہے جس طرح دنیا کی حاقہ میں مسلمان کو محفوظ کرلیاجاتا تھا اور کافروں پر عذاب نازل ہوتا تھا اسی طرح قیامت کے وقوع کے وقت بھی اہل ایمان پل صراط سے صحیح سالم گزر جائیں گے اور خدا کے دشمن جہنم میں گرجائیں گے۔ کہتے ہیں حضرت لوط (علیہ السلام) کی بستیوں میں بڑی بستی سدوم کی تھی اور اس سدوم میں چار لاکھ کی آبادی تھی، بہرحال آگے نوح (علیہ السلام) کے زمانے کی طرف اشارہ ہے اور جن مسلمانوں کو کشتی میں سوار کیا گیا تھا۔ ان کی اولاد کو بطور امتنان وہ بات یاد دلائی گئی ہے اور وہ طوفان نوح (علیہ السلام) بھی کفار کیلئے ایک حاقہ تھا جس نے حق و باطل کے درمیان امتیاز کردیا تھا۔ رابیۃ زائدۃ فی الشدت یعنی بہت سخت۔