Surat ul Haaqqaa

Surah: 69

Verse: 11

سورة الحاقة

اِنَّا لَمَّا طَغَا الۡمَآءُ حَمَلۡنٰکُمۡ فِی الۡجَارِیَۃِ ﴿ۙ۱۱﴾

Indeed, when the water overflowed, We carried your ancestors in the sailing ship

جب پانی میں طغیانی آگئی تو اس وقت ہم نے تمہیں کشتی میں چڑھا لیا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

إِنَّا لَمَّا طَغَى الْمَاء ... Verily, when the water rose beyond its limits, meaning, it rose up over its shores by the leave of Allah and it overcame all that existed. Ibn `Abbas and others said, "The water rising beyond its boundary means it increased abundantly." This happened due to the supplication of Nuh against his people when they denied him, opposed him and worshipped other than Allah. Therefore, Allah answered his supplication and the people of the earth were covered with the flood except for those who were with Nuh in the ship. Thus, are humans all from the loins of Nuh and his progeny. For this reason Allah reminds humanity of His blessing, إِنَّا لَمَّا طَغَى الْمَاء حَمَلْنَاكُمْ فِي الْجَارِيَةِ Verily, when the water rose beyond its limits, We carried you in the ship. meaning, a ship running along upon the surface of the water.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

11۔ 1 یعنی پانی بلندی میں تجاوز کر گیا، یعنی پانی خوب چڑھ گیا۔ 11۔ 2 کُم سے مخاطب عہد رسالت کے لوگ ہیں، مطلب ہے کہ تم جن آبا کی پشتوں سے ہو، ہم نے انہیں کشتی میں سوار کرکے بپھرے ہوئے پانی سے بچایا تھا۔ اَلْجَارِیَۃ سے مراد سفینہ نوح (علیہ السلام) ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٨] اس آیت میں طوفان سے مراد طوفان نوح ہے۔ اور && تمہیں && سے مراد وہ تمام بنی نوع انسان ہیں۔ جو دنیا میں اس وقت آباد تھے اور یہ ان لوگوں کی ہی اولاد ہیں جنہیں طوفان نوح کے وقت کشتی میں سوار کرلیا گیا تھا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(انا لما طغا المآئ…: نوح (علیہ السلام) کے واقعہ کی طرف اشارہ ہے۔ ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے اپنے احسان کا ذکر کیا ہے، فرمایا نوح (علیہ السلام ) کی قوم کے کفر و شرک پر اصرار کی وجہ سے سے جب پانی اتنا بڑھا کہ عام حدوں سے کہیں اونچا ہوگیا تو ہمیں تھے جنہوں نے تمہیں اس ہلے ہی کشتی میں سوار کرلیا اور پھر اتنے بےحساب پانی میں اس کشتی کو محفوظ رکھا، ورنہ اس طوفان سے بچنے کی کوئی صورت نہ تھی۔ یہاں اگرچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے بعد کے زمانے کے لوگوں سے خطاب ہو رہا ہے ، مگر مراد یہی ہے کہ تمہارے آباء کو سوار کیا، وہ سوار ہوئے تو تم بھی سوار ہوئے، کیونکہ تم ان کی پشتوں میں تھے۔ اگر وہ اس کشتی میں سوار ہو کر طوفان سے نجات نہ پاتے تو آج تمہارا وجود بھی نہ ہوتا۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اِنَّا لَمَّا طَغَا الْمَاۗءُ حَمَلْنٰكُمْ فِي الْجَارِيَۃِ۝ ١١ ۙ لَمَّا يستعمل علی وجهين : أحدهما : لنفي الماضي وتقریب الفعل . نحو : وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جاهَدُوا[ آل عمران/ 142] . والثاني : عَلَماً للظّرف نحو : فَلَمَّا أَنْ جاءَ الْبَشِيرُ [يوسف/ 96] أي : في وقت مجيئه، وأمثلتها تکثر . ( لما ( حرف ) یہ دوطرح پر استعمال ہوتا ہے زمانہ ماضی میں کسی فعل کی نفی اور اس کے قریب الوقوع ہونے کے لئے جیسے فرمایا : وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جاهَدُوا[ آل عمران/ 142] حالانکہ ابھی خدا نے تم میں سے جہاد کرنے والوں کو اچھی طرح معلوم کیا ہی نہیں ۔ اور کبھی یہ اسم ظرف ک طورپر استعمال ہوتا ہے ۔ اور یہ قرآن میں بکژت آیا ہے ۔ جیسے فرمایا : فَلَمَّا أَنْ جاءَ الْبَشِيرُ [يوسف/ 96] جب خوشخبری دینے والا آپہنچا۔ طغی طَغَوْتُ وطَغَيْتُ «2» طَغَوَاناً وطُغْيَاناً ، وأَطْغَاهُ كذا : حمله علی الطُّغْيَانِ ، وذلک تجاوز الحدّ في العصیان . قال تعالی: اذْهَبْ إِلى فِرْعَوْنَ إِنَّهُ طَغى[ النازعات/ 17] ( ط غ ی) طغوت وطغیت طغوانا وطغیانا کے معنی طغیان اور سرکشی کرنے کے ہیں اور أَطْغَاهُ ( افعال) کے معنی ہیں اسے طغیان سرکشی پر ابھارا اور طغیان کے معنی نافرمانی میں حد سے تجاوز کرنا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : إِنَّهُ طَغى[ النازعات/ 17] وہ بےحد سرکش ہوچکا ہے ۔ ماء قال تعالی: وَجَعَلْنا مِنَ الْماءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍ [ الأنبیاء/ 30] ، وقال : وَأَنْزَلْنا مِنَ السَّماءِ ماءً طَهُوراً [ الفرقان/ 48] ، ويقال مَاهُ بني فلان، وأصل ماء مَوَهٌ ، بدلالة قولهم في جمعه : أَمْوَاهٌ ، ومِيَاهٌ. في تصغیره مُوَيْهٌ ، فحذف الهاء وقلب الواو، ( م ی ہ ) الماء کے معنی پانی کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَجَعَلْنا مِنَ الْماءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍ [ الأنبیاء/ 30] اور تمام جاندار چیزیں ہم نے پانی سے بنائیں ۔ وَأَنْزَلْنا مِنَ السَّماءِ ماءً طَهُوراً [ الفرقان/ 48] پاک ( اور نتھرا ہوا پانی اور محاورہ ہے : ۔ ماء بنی فلان فلاں قبیلے کا پانی یعنی ان کی آبادی ماء اصل میں موہ ہے کیونکہ اس کی جمع امراۃ اور میاہ آتی ہے ۔ اور تصغیر مویۃ پھر ہا کو حزف کر کے واؤ کو الف سے تبدیل کرلیا گیا ہے حمل الحَمْل معنی واحد اعتبر في أشياء کثيرة، فسوّي بين لفظه في فعل، وفرّق بين كثير منها في مصادرها، فقیل في الأثقال المحمولة في الظاهر کا لشیء المحمول علی الظّهر : حِمْل . وفي الأثقال المحمولة في الباطن : حَمْل، کالولد في البطن، والماء في السحاب، والثّمرة في الشجرة تشبيها بحمل المرأة، قال تعالی: وَإِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ إِلى حِمْلِها لا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ [ فاطر/ 18] ، ( ح م ل ) الحمل ( ض ) کے معنی بوجھ اٹھانے یا لادنے کے ہیں اس کا استعمال بہت سی چیزوں کے متعلق ہوتا ہے اس لئے گو صیغہ فعل یکساں رہتا ہے مگر بہت سے استعمالات میں بلحاظ مصاد رکے فرق کیا جاتا ہے ۔ چناچہ وہ بوجھ جو حسی طور پر اٹھائے جاتے ہیں ۔ جیسا کہ کوئی چیز پیٹھ لادی جائے اس پر حمل ( بکسرالحا) کا لفظ بولا جاتا ہے اور جو بوجھ باطن یعنی کوئی چیز اپنے اندر اٹھا ہے ہوئے ہوتی ہے اس پر حمل کا لفظ بولا جاتا ہے جیسے پیٹ میں بچہ ۔ بادل میں پانی اور عورت کے حمل کے ساتھ تشبیہ دے کر درخت کے پھل کو بھی حمل کہہ دیاجاتا ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ وَإِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ إِلى حِمْلِها لا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ [ فاطر/ 18] اور کوئی بوجھ میں دبا ہوا پنا بوجھ ہٹانے کو کسی کو بلائے تو اس میں سے کچھ نہ اٹھائے گا ۔ جری الجَرْي : المرّ السریع، وأصله كمرّ الماء، ولما يجري بجريه . يقال : جَرَى يَجْرِي جِرْيَة وجَرَيَاناً. قال عزّ وجل : وَهذِهِ الْأَنْهارُ تَجْرِي مِنْ تَحْتِي [ الزخرف/ 51] وقال تعالی: جَنَّاتُ عَدْنٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهِمُ الْأَنْهارُ [ الكهف/ 31] ، وقال : وَلِتَجْرِيَ الْفُلْكُ [ الروم/ 46] ، وقال تعالی: فِيها عَيْنٌ جارِيَةٌ [ الغاشية/ 12] ، وقال : إِنَّا لَمَّا طَغَى الْماءُ حَمَلْناكُمْ فِي الْجارِيَةِ [ الحاقة/ 11] ، أي : السفینة التي تجري في البحر، وجمعها : جَوَارٍ ، قال عزّ وجلّ : وَلَهُ الْجَوارِ الْمُنْشَآتُ [ الرحمن/ 24] ، وقال تعالی: وَمِنْ آياتِهِ الْجَوارِ فِي الْبَحْرِ كَالْأَعْلامِ [ الشوری/ 32] ، ويقال للحوصلة : جِرِّيَّة إمّا لانتهاء الطعام إليها في جريه، أو لأنها مجری الطعام . والإِجْرِيَّا : العادة التي يجري عليها الإنسان، والجَرِيُّ : الوکيل والرسول الجاري في الأمر، وهو أخصّ من لفظ الرسول والوکيل، وقد جَرَيْتُ جَرْياً. وقوله عليه السلام : «لا يستجرینّكم الشّيطان» يصح أن يدّعى فيه معنی الأصل . أي : لا يحملنّكم أن تجروا في ائتماره وطاعته، ويصح أن تجعله من الجري، أي : الرسول والوکيل ومعناه : لا تتولوا وکالة الشیطان ورسالته، وذلک إشارة إلى نحو قوله عزّ وجل : فَقاتِلُوا أَوْلِياءَ الشَّيْطانِ [ النساء/ 76] ، وقال عزّ وجل : إِنَّما ذلِكُمُ الشَّيْطانُ يُخَوِّفُ أَوْلِياءَهُ [ آل عمران/ 175] . ( ج ر ی ) جریٰ ( ض) جریۃ وجریا وجریا نا کے معنی تیزی سے چلنے کے ہیں ۔ اصل میں یہ لفظ پانی اور پانی کی طرح چلنے والی چیزوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ وَهذِهِ الْأَنْهارُ تَجْرِي مِنْ تَحْتِي [ الزخرف/ 51] اور یہ نہریں جو میرے ( محلوں کے ) نیچے بہ رہی ہیں ۔ میری نہیں ہیں ۔ جَنَّاتُ عَدْنٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهِمُ الْأَنْهارُ [ الكهف/ 31] باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں ۔ وَلِتَجْرِيَ الْفُلْكُ [ الروم/ 46] اور تاکہ کشتیاں چلیں فِيها عَيْنٌ جارِيَةٌ [ الغاشية/ 12] اس میں چشمے بہ رہے ہوں گے اور آیت کریمہ ؛ إِنَّا لَمَّا طَغَى الْماءُ حَمَلْناكُمْ فِي الْجارِيَةِ [ الحاقة/ 11] جب پانی طغیانی پر آیا تو ہم نے تم لو گوں کو کشتی میں سوار کرلیا ۔ میں جاریۃ سے مراد کشتی ہے اس کی جمع جوار آتی ہے جیسے فرمایا ؛۔ وَلَهُ الْجَوارِ الْمُنْشَآتُ [ الرحمن/ 24] اور جہاز جو اونچے کھڑے ہوتے ہیں ۔ وَمِنْ آياتِهِ الْجَوارِ فِي الْبَحْرِ كَالْأَعْلامِ [ الشوری/ 32] اور اسی کی نشانیوں میں سے سمندر کے جہاز ہیں ( جو ) گویا یا پہاڑ ہیں ۔ اور پرند کے سنکدانہ کو جریۃ کہنے کی وجہ یہ ہے کہ کھانا چل کر وہاں پہنچتا ہے اور یا اس لئے کہ وہ طعام کا مجریٰ بنتا ہے ۔ الاجریات عاوت جس پر انسان چلتا ہے ۔ الجری وکیل ۔ یہ لفظ رسول اور وکیل سے اخص ہی ۔ اور جرمت جریا کے معنی وکیل بنا کر بھینے کے ہیں اور حدیث میں ہے :۔ یہاں یہ لفظ اپنے اصل معنی پر بھی محمول ہوسکتا ہے یعنی شیطان اپنے حکم کی بجا آوری اور اطاعت میں بہ جانے پر تمہیں بر انگیختہ نہ کرے اور یہ بھی ہوسکتا ہے ۔ کہ جری بمعنی رسول یا وکیل سے مشتق ہو اور معنی یہ ہونگے کہ شیطان کی وکالت اور رسالت کے سرپر ست مت بنو گویا یہ آیت کریمہ ؛ فَقاتِلُوا أَوْلِياءَ الشَّيْطانِ [ النساء/ 76] شیطان کے مددگاروں سے لڑو ۔ کے مضمون کی طرف اشارہ ہے اور فرمایا :إِنَّما ذلِكُمُ الشَّيْطانُ يُخَوِّفُ أَوْلِياءَهُ [ آل عمران/ 175] یہ ( خوف دلانے والا ) تو شیطان ہے جو اپنے دوستوں سے ڈرتا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١١۔ ١٢) اور ہم نے جبکہ نوح کے وقت میں پانی کو طغیانی ہوئی تو اے محمد تم کو اور تمام مخلوقات کو جو کہ اپنے آباء کی پشتوں میں تھے، نوح کی کشتی میں سوار کیا تاکہ ہم اس کشتی کو یا اس واقعہ کو تمہارے لیے ایک عبرت بنا دیں جس سے تم نصیحت حاصل کرسکو اور یاد رکھنے والے دل اس کو محفوظ رکھیں یا یہ کہ سننے والے کان اس کو سن کر اس سے فائدہ حاصل کریں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١ ١ { اِنَّا لَمَّا طَغَا الْمَآئُ حَمَلْنٰـکُمْ فِی الْْجَارِیَۃِ ۔ } ” جب (سیلابِ نوح (علیہ السلام) کا) پانی طغیانی پر آیا تھا تو ہم نے تمہیں سوار کرا لیا تھا کشتی پر۔ “ اس سیلاب کے بعد نوع انسانی کی نسل حضرت نوح (علیہ السلام) کے انہی تین بیٹوں سے چلی جو اس کشتی میں سوار تھے ‘ اس لیے آیت کے اسلوب سے یہ تاثر ملتا ہے جیسے پوری نوع انسانی کشتی میں سوار تھی۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

7 The illusion is to the Deluge of the Prophet Noah, in which a whole nation was drowned because of this very crime, and only those people were saved, who had listened to and obeyed the Messenger of Allah. 8 "We boarded you...", because the whole human race that exists today has descended from the people who were boarded in the Ark thousands of years ago and thus saved from the Deluge. It means: "You exist in the world today because in that Deluge Allah had caused only the infidels to be drowned and had saved the believers.

سورة الْحَآقَّة حاشیہ نمبر :7 اشارہ ہے طوفان نوح کی طرح جس میں ایک پوری قوم اسی خطائے عظیم کی بنا پر غرق کر دی گئی اور صرف وہ لوگ بچا لیے گئے جنہوں نے اللہ کے رسول کی بات مان لی تھی ۔ سورة الْحَآقَّة حاشیہ نمبر :8 اگرچہ کشتی میں سوار وہ لوگ کیے گئے تھے جو ہزاروں برس پہلے گزر چکے تھے ، لیکن چونکہ بعد کی پوری انسانی نسل انہی لوگوں کی اولاد ہے جو اس وقت طوفان سے بچائے گئے تھے ، اس لیے فرمایا کہ ہم نے تم کو کشتی میں سوار کرا دیا ۔ مطلب یہ ہے کہ تم آج دنیا میں اسی لیے موجود ہو کہ اللہ تعالی نے اس طوفان میں صرف منکرین کو غرق کیا تھا ، اور ایمان لانے والوں کو بچا لیا تھا ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

5: اس سے مراد اُس طوفان کا پانی ہے جو حضرت نوع علیہ السلام کی قوم پر عذاب کے طور پر بھیجا گیا تھا، اور مطلب یہ ہے کہ جو لوگ حضرت نوح علیہ السلام پر ایمان لے آئے تھے، اُنہیں پانی کی طغیانی سے بچانے کے لئے اﷲ تعالیٰ نے اُنہیں کشتی میں سوار کردیا جس کا مفصل واقعہ سورۃ ہود (۱۱:۴۶ تا ۴۸) میں گذر چکا ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(69:11) انا لما طغی المائ : انا مبتدائ۔ ان حرف مشبہ بالفعل اور نا ضمیر جمع متکلم سے مرکب ہے۔ تحقیق ہم نے۔ تحقیق ہم۔ حملنکم مبتداء کی خبر۔ لما طغی الماء ظرف حملنکم کا۔ فی الجاریۃ ای فی سفینۃ نوح علیہ السلام۔ لما بمعنی جب۔ طغی ماضی واحد مذکر غائب۔ طغیان باب نصر و سمع) مصدر سے وہ حد سے نکل گیا۔ (جب نگاہ اپنی حد سے گزر جاتی ہے تو بہکنے لگتی ہے اور جب پانی اپنی حد سے متجاوز ہوتا ہے تو طغیانی آجاتی ہے) یہاں مراد ہے : جب پانی ہر چیز سے اونچا ہوگیا تھا۔ الجاریۃ۔ کشتی۔ ترجمہ ہوگا :۔ جب پانی حد سے گزر گیا تھا تو ہم نے تم کو کشتی میں سوار کرلیا تھا۔ فائدہ : حملنکم میں کم ضمیر جمع مذکر حاضر ہے اس سے مراد تمہارے اسلاف ہیں۔ کیونکہ تم اس وقت اپنے اسلاف اعلیٰ کی پشتوں میں تھے۔ تو جب تمہارے اسلاف کو کشتی میں سوار کیا تو گویا تمہیں کشتی میں سوار کیا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 5 یعنی تمہارے آبائو اجداد کو جبکہ تم ان کی پشتوں میں تھے کشتی میں سوار کرلیا۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : قوم ثمود، عاد اور فرعون سے پہلے ہلاک ہونے والی بستیوں اوراقوام میں سرفہرست نوح (علیہ السلام) کی قوم ہے جسے اللہ تعالیٰ نے شدید طوفان کے ذریعے ہلاک کیا جس کا یہاں مختصر ذکر کیا گیا ہے۔ قرآن مجید نے حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کے جرائم میں جس جرم کا تفصیل کے ساتھ ذکر کیا ہے وہ شرک ہے جس کی ابتدا اس قوم سے ہوئی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے شرک کی وجہ سے اس قوم کو سیلاب کے ذریعے ہلاک کیا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کو ایک کشتی کے ذریعے سیلاب سے محفوظ فرما لیا۔ جس کا تذکرہ ان الفاظ میں کیا جارہا ہے کہ جب پانی کا طوفان حد سے بڑھا تو ہم نے تمہیں کشتی میں سوار کیا تاکہ ہم اسے تمہارے لیے عبرت کا نشان بنائیں اور یاد رکھنے والے کان اسے ہمیشہ یاد رکھیں۔ سب کو معلوم ہے کہ جس واقعہ کی طرف اشارہ کیا جارہا ہے کہ یہ قوم نوح کا واقعہ ہے لیکن اسے بیان کرتے ہوئے۔ ” حَمَلْنٰٰکُمْ فِی الْجَارِیَۃِ “ کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں کہ ہم نے تمہیں چلنے والی کشتی پر سوار کیا۔ مخاطب کی ضمیر لاکر اہل مکہ اور دنیا والوں کو توجہ دلائی گئی ہے کہ فی الحقیقت تم نیک لوگوں کی اولاد ہو۔ جو حضرت نوح (علیہ السلام) کے ساتھی تھے جن کے ایمان اور صالح اعمال کی وجہ سے انہیں کشتی کے ذریعے بچا لیا گیا یہ ایسا واقعہ ہے کہ جسے غور کے ساتھ سنا جائے اور اس پر توجہ دی جائے تو انسان اپنے رب کے ساتھ شرک اور اس کی نافرمانی سے بچ سکتا ہے۔ اے قرآن سننے والو ! تمہیں اس واقعہ کو نصیحت حاصل کرنے کے لیے سننا چاہیے اگر تم نصیحت حاصل نہیں کرو گے تو تمہیں بھی قوم نوح کی طرح تباہ کردیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے قوم نوح پر پانی کا ایسا عذاب نازل کیا کہ جس کے بارے میں سورة القمر آیت ١١، ١٢ اور سورة المؤمنون، آیت ٢٧ میں بیان ہوا ہے کہ آسمان کے دروازے کھل گئے، زمین سے چشمے پھوٹ نکلے یہاں تک کہ تنور پھٹ پڑا۔ اس طرح نوح (علیہ السلام) کے نافرمان بیٹے سمیت ان کی قوم کو پانی میں ڈبکیاں دے دے کر ختم کردیا گیا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کا سب سے بڑا جرم شرک تھا : حضرت عبداللہ بن عباس (رض) نے فرمایا کہ جب نوح (علیہ السلام) کی قوم کے نیک لوگ فوت ہوگئے تو شیطان نے ان کی اولاد کے دل میں یہ خیال ڈالا کہ جہاں تمہارے بزرگ بیٹھا کرتے تھے وہاں ان کے مجسمے تراش کر رکھ دیے جائیں تاکہ ان کا نام اور عقیدت باقی رہے۔ انھوں نے ایسا کیا جب یہ کام کرنے والے لوگ فوت ہوگئے تو ان کے بعد آنے والے لوگوں نے ان مجسموں کو اللہ تعالیٰ کی قربت کا وسیلہ بناناشروع کردیا اور پھر ان کی بالواسطہ عبادت کرنے کے ساتھ ان کے حضور نذرانے پیش کیے جانے لگے۔ عبداللہ بن عباس (رض) یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ سورة نوح میں ودّ ، سواع، یغوث اور یعوق کے نام پر جن بتوں کا تذکرہ پایا جاتا ہے وہ نوح (علیہ السلام) کی قوم کے صالح لوگوں کے نام ہیں۔ (رواہ البخاری : کتاب التفسیر ٤٩٢٠) مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ نے قوم نوح کے نافرمانوں کو سیلاب کے ذریعے تباہ کیا اور نوح (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کو کشتی کے ذریعے بچا لیا۔ ٢۔ نصیحت حاصل کرنے والوں کے لیے نوح (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کا واقعہ بڑی عبرت کی حیثیت رکھتا ہے۔ تفسیر بالقرآن قوم نوح (علیہ السلام) کے جرائم اور ان کی تباہی کا ایک منظر : ١۔ نوح (علیہ السلام) کی قوم ظالم تھی۔ (النجم : ٥٢) ٢۔ قوم نوح کی ہلاکت کا سبب بتوں کی پرستش تھی۔ (نوح : ٢٣) ٣۔ قوم نوح طوفان کے ذریعے ہلاک ہوئی۔ (الاعراف : ١٣٦) ٤۔ قوم نوح کو تباہ کرنے کے لیے آسمان سے موسلاد ھار بارش کے دھانے کھول دئیے گئے۔ ( القمر : ١١) ٥۔ قوم نوح پر عذاب کے وقت تندور نے ابلنا شروع کردیا۔ ( ہود : ٤٠) ٦۔ قوم نوح پر عذاب کی صورت میں آسمان سے پانی برسا اور زمین سے جگہ جگہ چشمے ابل پڑے۔ (ہود : ٤٤) ٧۔ اللہ نے نوح (علیہ السلام) کی تکذیب کرنے والوں کو تباہ و برباد کردیا۔ (الشعراء : ١٢٠) ٨۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے کو فرمایا آج کے دن اللہ کے عذاب سے کوئی بچانے والا نہیں۔ (ہود : ٤٣) ٩۔ قوم نوح نے جب رسولوں کی تکذیب کی تو ہم نے انھیں غرق کردیا اور لوگوں کے لیے باعث عبرت بنا دیا۔ (الفرقان : ٣٧) ١٠۔ ہم نے نوح (علیہ السلام) اور اس کے ساتھیوں کو نجات دی اور تکذیب کرنے والوں کو غرق کردیا۔ (الاعراف : ٦٤)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

حضرت نوح (علیہ السلام) کے طوفان کا ذکر : ﴿ اِنَّا لَمَّا طَغَا الْمَآءُ حَمَلْنٰكُمْ فِي الْجَارِيَةِۙ٠٠١١﴾ (بلاشبہ جب پانی میں طغیانی آئی تو ہم نے تمہیں کشتی میں سوار کردیا) اس میں حضرت نوح (علیہ السلام) کے طوفان کا تذکرہ ہے حضرت نوح (علیہ السلام) کے ساتھ کشی میں مومنین سوار ہوگئے تھے جن کی تھوڑی سی تعداد تھی پھر انہی سے دنیا میں آبادی بڑھی اور حضرت آدم (علیہ السلام) کی نسل پھلی پھولی، نزول قرآن کے وقت جو لوگ موجود تھے اور جواب موجود ہیں مومن ہوں یا کافر سب انہی لوگوں کی نسل ہیں جو نوح (علیہ السلام) کے ساتھ کشتی میں سوار ہو کر نجات پا گئے چونکہ ان لوگوں کا وجود ان لوگوں کی نجات سے متعلق ہے جو کشی میں سوار ہوگئے تھے اس لیے بطور امتنان ﴿حَمَلْنٰكُمْ فِي الْجَارِيَةِۙ٠٠١١﴾ فرمایا کہ ہم نے تمہیں کشتی میں اٹھا دیا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

6:۔ ” انا لما طغا الماء “ یہ تخویف دنیوی کا پانچواں نمونہ ہے۔ ” طغا الماء “ یعنی اپنی حد معتاد سے تجاوز کرگیا یہاں تک کہ اونچے اونچے پہاڑوں کی چوٹیوں سے بھی کئی گز اوپر چڑھ گیا۔ جواز حد المعتاد حتی انہ علا علی اعلی جبل خمس عشرۃ ذراعا (روح ج 9 ص 42) ۔ مراد طوفان نوح (علیہ السلام) ہے۔ ” حملناکم “ میں تجوز ہے یعنی تمہارے آباء و اجداد کو کشتی میں اٹھایا اور تم ان کی صلبوں میں تھے۔ حملناکم ای فی اصلاب آباء کم فی الجاریۃ (بحر ج 8 ص 322) ۔ واللفظ لہ بیضاوی ج 2 ص 394 ۔ ہم نے طوفان نوح میں تمام مشرکین کو غرق کردیا اور تمہارے باپ دادوں کو کشتی نوح میں سوار کر کے طوفان سے بچا لیا تاکہ ہم اس واقعہ کو تمہارے لیے عبرت و نصیحت بنا دیں اور کام کی باتیں یاد رکھنے والے کان اس کو سن کر یاد رکھیں اور اس سے فائدہ اٹھائیں۔ اے اہل مکہ تمہیں چاہئے تھا کہ اس مشہور و معروف واقعہ سے عبرت حاصل کرتے اور سبق سیکھتے کہ کہیں اس تمردو سرکشی اور کفر و شرک میں انہماک پر کسی اسی ہی قسم کے ہولناک عذاب سے دوچار نہ ہونا پڑے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(11) ہم نے جس وقت پائی کو حد معتاد سے اونچا کردیا یعنی طوفان کے وقت تو تم کو کشتی میں سوار کرلیا یعنی تمارے بڑوں اور بزرگوں کو۔ مطلب یہ ہے کہ جب نوح (علیہ السلام) کی قوم نے نوح (علیہ السلام) کی نافرمانی کی اور ان کی قوم پر طوفان آیا اور طوفان کا پانی بلند ہونا شروع ہوا توہم نے تمہارے سے بزرگوں کو جو مسلمان تھے اور نوح (علیہ السلام) پر ایمان رکھتے تھے ان کو کشتی میں سوار کرلیا۔