Surat ul Haaqqaa

Surah: 69

Verse: 16

سورة الحاقة

وَ انۡشَقَّتِ السَّمَآءُ فَہِیَ یَوۡمَئِذٍ وَّاہِیَۃٌ ﴿ۙ۱۶﴾

And the heaven will split [open], for that Day it is infirm.

اور آسمان پھٹ جائے گا اوراس دن بالکل بودا ہو جائے گا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

And the heaven will be rent asunder, for that Day it will be frail and torn up. Ibn Jurayj said, "This is like Allah's statement, وَفُتِحَتِ السَّمَأءُ فَكَانَتْ أَبْوَباً And the heaven shall be opened, it will become as gates. (78:19) Ibn `Abbas said, "It (the sky) will be torn apart and the Throne will be near it."

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

16۔ 1 یعنی اس میں کوئی قوت اور استحکام نہیں رہے گا جو چیز پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے۔ اس میں استحکام کس طرح رہ سکتا ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(١) وانشقت السمآء …:” واھیۃ “ ” وھی بھی وھبا “ (ض ، س ، ف) (کمزور ہونا، بودا ہونا) سے اسم فاعل ہے۔ دوسرے نفخہ کے ساتھ یہ مضبوط آسمان جس میں لاکھوں کروڑوں سال سے ایک شگاف بھی نہیں پڑا، بالکل کمزور ہو کر پھٹ جائے گا اور فرشتے اس کے کناروں پر چلے جائیں گے۔ اس دن آٹھ فرشتے عرش الٰہی کو اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے، پھر (رض) اور فرشتے صف در صف زمین پر تشریف لائیں گے۔ ادھر ایک طرف جہنم لائی جائے گی (دیکھیے فجر ٢١ تا ٢٣) ، دوسری طرف جنت قریب لائی جائے گی۔ (دیکھیے شعرائ : ٩٠، ٩١) اس وقت سب لوگ اپنے اعمال کی جزا و سزا کے لئے اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کئے جائیں گے، کسی شخص کا کوئی عمل چھپا نہیں رہ سکے گا۔ (٢) یہ آیت (رض) عنہماکے عرش کے وجود کی زبردست دلیل ہے۔ جو لوگ عرش الٰہی کے منکر ہیں اور کہتے ہیں کہ اس سے مراد صرف حکومت ہے، قیامت کے دن آٹھ فرشتوں کا عرش الٰہی کو اٹھائے ہوئے ہونا ان کی تردید کرتا ہے۔ یہ حضرات نہ عرش کے وجود کیق ائل ہیں، نہ اللہ تعالیٰ کا عرش پر ہونا مانتے ہیں، نہ اللہ تعالیٰ کا قیامت کے دن زمین پر آنا مانتے ہیں اور نہ اس کا اوپر کی جانب ہونا مانتے ہیں، حالانکہ یہ سب کچھ قرآن مجید میں واضح الفاظ میں موجود ہے۔ ایک بزرگ جنہوں نے ہر جگہ عرش الٰہی کی تاویل حکومت و فرماں روائی سے کی ہے ، اس مقام پر آٹھ فرشتوں کے عرش الٰہی کو اٹھانے کے صریح الفاظ کی کوئی تاویل نہیں کرسکے تو انہوں نے اسے آیات متشا بہات میں سے قرار دے کر تسلیم کیا ہے کہ ” ہم نہ جان سکتے ہیں کہ عرش کیا چیز ہے اور نہ سمجھ سکتے ہیں کہ قیامت کے روز آٹھ فرشتوں کے اس کو اٹھانے کی کیفیت کیا ہوگی۔ “ کیا ہی بہتر ہوتا کہ اس طرح وہ اللہ کے عرش کے اوپر ہونے کو بھی مانتے اور اس کے زمین پر آنخ کو بھی مانتے اور اس کی کیفیت اللہ کے سپرد کردیتے کہ اللہ تعالیٰ عرش پر کس طرح ہے اور وہ زمین پر کس طرح اترے گا، کیونکہ قرآن و حدیث کی نصوص اور سلف صالحین کا یہی طریقہ ہے۔ مزیدی دیکھیے سورة فجر (٢٢) کی تفسیر۔ تفسیر ماجدی میں ہے :” یہ کہنا کہ فرشوتں کا حامل عرش ہونا حق تعالیٰ کی شان قیومیت کے منای ہے، محض اپنی سطحیت کا اظہار کرنا ہے، اگر قیومیت کے یہ معنی لے لئے جائیں تو ایک اس مسئلہ پر کیا موقوف ہے، ملائکہ کو واسطہ بنا کر ان سے کام لیتے رہنے کا سارا نظام ہی باطل ہوجاتا ہے۔ “

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَانْشَقَّتِ السَّمَاۗءُ فَھِيَ يَوْمَىِٕذٍ وَّاہِيَۃٌ۝ ١٦ ۙ شق الشَّقُّ : الخرم الواقع في الشیء . يقال : شَقَقْتُهُ بنصفین . قال تعالی: ثُمَّ شَقَقْنَا الْأَرْضَ شَقًّا[ عبس/ 26] ، يَوْمَ تَشَقَّقُ الْأَرْضُ عَنْهُمْ سِراعاً [ ق/ 44] ، وَانْشَقَّتِ السَّماءُ [ الحاقة/ 16] ، إِذَا السَّماءُ انْشَقَّتْ [ الانشقاق/ 1] ، وَانْشَقَّ الْقَمَرُ [ القمر/ 1] ، وقیل : انْشِقَاقُهُ في زمن النّبيّ عليه الصلاة والسلام، وقیل : هو انْشِقَاقٌ يعرض فيه حين تقرب القیامة وقیل معناه : وضح الأمروالشِّقَّةُ : القطعة الْمُنْشَقَّةُ کالنّصف، ومنه قيل : طار فلان من الغضب شِقَاقًا، وطارت منهم شِقَّةٌ ، کقولک : قطع غضبا والشِّقُّ : الْمَشَقَّةُ والانکسار الذي يلحق النّفس والبدن، وذلک کاستعارة الانکسار لها . قال عزّ وجلّ : لَمْ تَكُونُوا بالِغِيهِ إِلَّا بِشِقِّ الْأَنْفُسِ [ النحل/ 7] ، والشُّقَّةُ : النّاحية التي تلحقک المشقّة في الوصول إليها، وقال : بَعُدَتْ عَلَيْهِمُ الشُّقَّةُ [ التوبة/ 42] ، ( ش ق ق ) الشق الشق ۔ شگاف کو کہتے ہیں ۔ شققتہ بنصفین میں نے اسے برابر دو ٹکڑوں میں کاٹ ڈالا ۔ قرآن میں ہے : ثُمَّ شَقَقْنَا الْأَرْضَ شَقًّا[ عبس/ 26] پھر ہم نے زمین کو چیرا پھاڑا ۔ يَوْمَ تَشَقَّقُ الْأَرْضُ عَنْهُمْ سِراعاً [ ق/ 44] اس روز زمین ( ان سے ) پھٹ جائے گی ۔ وَانْشَقَّتِ السَّماءُ [ الحاقة/ 16] اور آسمان پھٹ جائے گا ۔ إِذَا السَّماءُ انْشَقَّتْ [ الانشقاق/ 1] جب آسمان پھٹ جائیگا ۔ اور آیت کریمہ : وَانْشَقَّ الْقَمَرُ [ القمر/ 1] اور چاند شق ہوگیا ۔ میں بعض نے کہا ہے کہ انشقاق قمر آنحضرت کے زمانہ میں ہوچکا ہے ۔ اور بعض کا قول ہے کہ یہ قیامت کے قریب ظاہر ہوگا اور بعض نے انشق القمر کے معنی وضح الاسر کئے ہیں یعنی معاملہ واضح ہوگیا ۔ الشقۃ پھاڑا ہوا ٹکڑا ۔ اسی سے محاورہ ہے ۔ طار فلان من الغضب شقاقا فلاں غصہ سے پھٹ گیا ۔ جیسا کہ قطع غضبا کا محاورہ ہے ۔ طارت منھم شقۃ ۔ ان کا ایک حصہ اڑ گیا ۔ یعنی غضب ناک ہوئے ۔ الشق اس مشقت کو کہتے ہیں جو تگ و دو سے بدن یا نفس کو ناحق ہوتی ہے جیسا کہ الانکسار کا لفظ بطور استعارہ نفس کی درماندگی کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : إِلَّا بِشِقِّ الْأَنْفُسِ [ النحل/ 7] زحمت شاقہ کے بغیر الشقۃ وہ منزل مقصود جس تک بہ مشقت پہنچا جائے ۔ قرآن میں ہے َبَعُدَتْ عَلَيْهِمُ الشُّقَّةُ [ التوبة/ 42] لیکن مسافت ان کو دور ( دراز ) نظر آئی ۔ وهى الوَهْيُ : شقّ في الأديم والثّوب ونحوهما، ومنه يقال : وَهَتْ عَزَالَيِ السّحابِ بمائها قال تعالی: وَانْشَقَّتِ السَّماءُ فَهِيَ يَوْمَئِذٍ واهِيَةٌ [ الحاقة/ 16] وكلُّ شيءٍ استرخی رباطه فقد وَهِيَ. ( و ھ ی ) الوھی کے معنی چمڑے کپڑے یا اس قسم کی دوسری چیزوں میں شگاف ہوجانا کے ہیں اسی سے محاورہ ہے : ۔ وھت عز الی لسحاب بما ئھا بادل کے دھانے پانی کے زور سے ڈھیلے ہوگئے یعنی خوب بارش ہوئی ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ وَانْشَقَّتِ السَّماءُ فَهِيَ يَوْمَئِذٍ واهِيَةٌ [ الحاقة/ 16] اور آسمان پھٹ جائیگا اور اسکی بندش ڈھیلی پڑجائے گی اور وھی الشئی کے معنی بندش کا ڈھیلا پڑجانا کے ہیں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(69:16) وانشقت السماء فہی یؤمئذ واھیۃ واؤ عاطفہ۔ انشقت کا عطف وقعت پر ہے یومئذ ظرف ہے واھیۃ کا۔ انشقت ماضی کا صیغہ واحد مؤنث غائب انشقاق (افعال) مصدر سے جس کا معنی شق ہوجانا۔ پھٹ جانا۔ اور (اس روز) آسمان پھٹ جائے گا۔ فہی میں ہی ضمیر کا مرجع السماء ہے واھیۃ وہی (باب ضرب، فتح، سمع) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث ، بمعنی کمزور، بوسیدہ۔ پھٹا ہوا۔ وہی کے معنی مشک پھٹ جانا۔ رسی کا بند کمزور اور ڈھیلا ہوجانا۔ ابر کا ٹکڑے ٹکڑے ہوجانا۔ گرپڑنا۔ کمزور ہوجانا۔ دیوار کا گرنے کے قریب ہوجانا ہے۔ فہی یومئذ واہیۃ : پس وہ (یعنی آسمان) اس روز بالکل بودا ہوگا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

4۔ چناچہ پھٹ جانا دلیل ضعف ہے، یعنی جیسا اس وقت وہ مضبوط ہے اور اس میں کہیں فطورو شقوق نہیں اس روز اس میں یہ بات نہ رہے گی بلکہ ضعف و انشقاق ہوجاوے گا۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

وانشقت ................ واھیة (٩٦ : ٦١) ” اس دن آسمان پھٹے گا اور اس کی بندش ڈھیلی پڑجائے گی “۔ اور ہمیں معلوم نہیں ہے کہ اس آسمان سے کون سا آسمان مراد ہے۔ جس کے شق کا یہاں ذکر ہے۔ لیکن یہ آیات اور دوسری آیات اشارہ اس طرح کررہی ہیں کہ قیامت کے دن ہولناک فلکی تغیرات اور تضادات ہوں گے ۔ مقصد یہ ہے کہ کر ات فلکی کی چولیں کھل جائیں گی اور جس چیزنے اس نظام کو ایک منظم طریقے سے ٹکارکھا ہے ، اس کا نظم کھل جائے گا۔ اور جب یہ نظام کھل گیا تو اس کا انتشار دیدنی ہوگا۔ اور یہ عجیب اتفاق ہے کہ آج کل علمائے فلک نے آخر کار موجودنظام کے خاتمے کی جو صورت اپنے مشاہدات سے تجویز کی ہے وہ بعینہ وہی ہے ، جو قرآن تجویز کرتا ہے۔ حالانکہ انہوں نے یہ اندازے محض سائنسی مشاہدات سے لگائے ہیں۔ انہوں نے بہرحال اس کائنات کے بارے میں بہت قلیل مشاہدہ کیا ہے اور اس قلیل مشاہدے پر یہ مفروضے قائم کیے ہیں۔ لیکن ہم مومنین وہ مفروضے ان قرآنی آیات کے اندر نہایت مفصل انداز میں مشاہدہ کرتے ہیں۔ یہ نہایت مجمل آیات ہیں اور یہ متعین واقعات نہیں بلکہ اصولی اور کلی واقعات بیان کرتی ہیں۔ ہم بس صرف ان اصولی واقعات پر اکتفا کرتے ہیں ، جو قرآن نے بیان کیے۔ یہ ہمارے لئے سچی خبریں ہیں۔ کیونکہ یہ آیات اس ذات نے بیان کی ہیں جس نے قرآن بھی نازل کیا ہے اور کائنات کو بھی بنایا ہے۔ اور جو اپنی مخلوقات کو ہمارے محدود مشاہدات سے بڑھ کر بہت ہی اچھی طرح جانتا ہے۔ کیونکہ اللہ کی کائنات میں ، یہ زمین اور یہ پہاڑ اور زمین اور سورج کے ساتھ تمام کہکشاں اور ستارے ایسے ہی ہیں جیسے زمین کے اوپر غبار کے چھوٹے چھوٹے ذرات اڑتے ہیں۔ لہٰذا ہم میں سے ایک انسان جس طرح دو ذرات کو اٹھا کر پھینک سکتا ہے ، اللہ کے نزدیک زمین کو اٹھا کر پھینکنا ایسا ہی ہے تو قیامت میں جب آسمانوں کی بندش کھلے گی تو زمین و آسمان ذرات کی طرح اڑتے پھریں گے اور یہ باتیں بھی قرآن کی زندہ آیات سے معلوم ہوتی ہیں۔ اب رب ذوالجلال کا جلال منظر پہ چھا جاتا ہے ، اور صور پھونکے جانے اور زمین اور پہاڑوں کے ریزہ ریزہ ہونے اور بھونچال و انتشار کے بعد اس پوری کائنات میں ایک تھماﺅ آجاتا ہے۔ اور رب ذوالجلال اور قہار کی بزرگی اور عظمت چھا جاتی ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

8:۔ ” وانشقت السماء “ اس دن شدت زلزلہ کی وجہ سے آسمان نہایت کمزور ہوں گے اور ان میں شگاف پڑجائیں گے اور جو فرشتے آسمانوں میں رہتے ہیں وہ آسمانوں کے ان اطراف و جوانب میں ہوں گے جہاں شگاف نہیں ہوں گے۔ ای جوانب السماء واطرافھا التی بقیت بعد الانشقاق (مظہری ج 10 ص 52) ۔ ” ویحمل عرش ربک “ اس دن اللہ تعالیٰ کے عرش کو فرشتوں کی آٹھ صفیں اٹھائے ہوں گی جن کی مجموعی تعداد کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں یہ حضرت ابن عباس (رض) سے منقول ہے بعض نے کہا مراد آٹھ فرشتے ہیں۔ قال ابن عباس ثمانیۃ صفوٖ من الملائکۃ لایعلم عددھم الا اللہ، وقال ابن زیدھم ثمانیۃ املاک (قرطبی ج 18 ص 266) ۔ قیامت کے دن کسی شخص کی کوئی بات اور کسی کا کوئی عمل چھپا نہ رہے گی، بلکہ سب کچھ سامنے آجائیگا، کسی کی حق تلفی نہ ہوگی، نہ کسی پر زیادتی ہوگی اور ہر ایک کو اس کے عملوں کی پوری پوری جزاء وسزا ملے گی۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(16) اور آسمان پھٹ جائے گا اور وہ اس دن بالکل بودا اور کمزور ہوگا۔