Surat ul Haaqqaa

Surah: 69

Verse: 17

سورة الحاقة

وَّ الۡمَلَکُ عَلٰۤی اَرۡجَآئِہَا ؕ وَ یَحۡمِلُ عَرۡشَ رَبِّکَ فَوۡقَہُمۡ یَوۡمَئِذٍ ثَمٰنِیَۃٌ ﴿ؕ۱۷﴾

And the angels are at its edges. And there will bear the Throne of your Lord above them, that Day, eight [of them].

اس کے کناروں پر فرشتے ہونگے اور تیرے پروردگار کا عرش اس دن آٹھ ( فرشتے ) اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہونگے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَالْمَلَكُ عَلَى أَرْجَايِهَا ... And the angels will be on its sides, The word Malak here is referring to the species of angels (all of them); meaning the angels collectively will be standing on the sides of the heavens. Ar-Rabi` bin Anas said concerning Allah's statement, وَالْمَلَكُ عَلَى أَرْجَايِهَا (And the angels will be on its sides), "This means that they will be standing on what has been ground to powder of the heavens looking at the people of the earth.' ... وَيَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّكَ فَوْقَهُمْ يَوْمَيِذٍ ثَمَانِيَةٌ and eight angels will, that Day, bear the Throne of your Lord above them. The Children of Adam being presented before Allah Concerning the statement of Allah, يَوْمَيِذٍ تُعْرَضُونَ لاَ تَخْفَى مِنكُمْ خَافِيَةٌ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

17۔ 1 یعنی آسمان تو ٹکرے ٹکرے ہوجائے گا پھر فرشتے کہاں ہونگے فرمایا کہ وہ آسمان کے کناروں پر ہوں گے اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ فرشتے آسمان پھٹنے سے پہلے ہی اللہ کے حکم سے زمین پر آجائیں گے۔ یعنی اب مخصوص فرشتوں نے عرش الٰہی کو اپنے سروں پر اٹھایا ہوا ہوگا، یہ بھی ممکن ہے اس عرش سے مراد وہ عرش ہو جو فیصلوں کے لئے زمین پر رکھا جائے گا، جس پر اللہ تعالیٰ نزول اجلال فرمائے گا (ابن کثیر)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٣] یعنی اس وقت اللہ تعالیٰ کے عرش کو اٹھانے والے فرشتوں کی تعداد چار ہے۔ اس دن آٹھ فرشتے اس عرش کو اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ یہ عرش کتنا بڑا ہے اس کے متعلق عام خیال یہ ہے کہ زمین کو پہلا آسمان محیط ہے۔ دوسرا آسمان پہلے سے بڑا اور اس کو محیط ہے۔ علی ہذا القیاس ساتواں آسمان چھٹے کو محیط ہے۔ پھر اس کے اوپر آٹھواں آسمان ہے جسے کرسی بھی کہتے ہیں اور فلک افلاک بھی۔ پھر اس کے اوپر اللہ کا عرش ہے جیسے محیط ہونے کے لحاظ سے نواں آسمان کہہ لیجئے۔ واللہ اعلم بالصواب۔ اتنی بڑائی کی باوجود اللہ کا عرش اللہ سے بہرحال چھوٹا ہے اور اکبر اللہ ہی ہے۔ رہی یہ بات کہ فرشتے اللہ کے عرش کو آج کیسے اٹھائے ہوئے ہیں اور اس دن ان کی تعداد دوگنی کیوں کردی جائے گی ؟ تو ان باتوں کے لئے ہمیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ ہم صرف اتنی بات پر ایمان لاتے ہیں جو اللہ نے واضح طور پر خود بتلا دی ہے۔ نہ اس میں کچھ کمی کرنے کی ضرورت ہے اور نہ اضافہ کی اور نہ کسی قسم کی تاویل کرنے کی۔ اور یہ سب کچھ نفخہ ئصور ثانی کے بعد ہوگا۔ جب تمام لوگ اپنی قبروں سے زندہ اٹھ کھڑے ہوں گے اور میدان محشر میں محاسبہ کے لئے جمع ہوں گے اس وقت اللہ تعالیٰ نزول اجلال فرمائیں گے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

وَيَحْمِلُ عَرْ‌شَ رَ‌بِّكَ فَوْقَهُمْ يَوْمَئِذٍ ثَمَانِيَةٌ (...And on that Day, the Throne of your Lord will be carried above them by eight [ angels ]....69:17). In other words, on the Day of Judgment, eight angels will bear the Throne of the Rahman above their heads. According to some of the Prophetic narratives, before the Judgment Day this task will be carried out by four angels. On the Judgment Day, four more angels will be added to carry out the task. As to what is the Throne of the Rahman, what is its reality, its form and shape, how the angels carry it - are transcendental matters and are all beyond human intellect. Allah is beyond time, space and matter, and therefore we are not permitted to pursue these matters pertaining to Him to determine its exact meaning. The noble Companions, their pupils and the righteous elders took the attitude that they simply believed in all transcendental matters and never questioned about them. Whatever Allah means by them is the Truth. Their nature and reality are unknown.

(آیت) وَيَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّكَ فَوْقَهُمْ يَوْمَىِٕذٍ ثَمٰنِيَةٌ۔ یعنی قیامت کے روز عشر رحمٰن کو آٹھ فرشتے اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ بعض روایات حدیث میں ہے کہ قیامت سے پہلے تو یہ کام چار فرشتوں کے سپرد ہے قیامت کے روز ان کے ساتھ اور چار بڑھا دیئے جاویں گے۔ رہا یہ معاملہ کہ عرش رحمن کیا چیز ہے اس کی حقیقت اور حقیقی شکل و صورت کیا ہے اور فرشتوں کا اس کو اٹھانا کسی صورت سے ہے یہ سب چیزیں وہ ہیں کہ نہ عقل انسانی ان کا احاطہ کرسکتی ہے نہ ان مباحث میں ان کو غور و فکر کرنے اور سوالات کرنے کی اجازت ہے۔ سلف صالحین صحابہ و تابیعن کا مسلک اس جیسے تمام معاملات میں یہ ہے کہ اس پر ایمان لایا جائے کہ اس سے جو کچھ اللہ جل شانہ کی مراد ہے وہ حق ہے اور اس کی حقیقت و کیفیت نامعلوم ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَّالْمَلَكُ عَلٰٓي اَرْجَاۗىِٕہَا۝ ٠ ۭ وَيَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّكَ فَوْقَہُمْ يَوْمَىِٕذٍ ثَمٰنِيَۃٌ۝ ١٧ ۭ فرشته الملائكة، ومَلَك أصله : مألك، وقیل : هو مقلوب عن ملأك، والمَأْلَك والمَأْلَكَة والأَلُوك : الرسالة، ومنه : أَلَكَنِي إليه، أي : أبلغه رسالتي، والملائكة تقع علی الواحد والجمع . قال تعالی: اللَّهُ يَصْطَفِي مِنَ الْمَلائِكَةِ رُسُلًا [ الحج/ 75] . قال الخلیل : المَأْلُكة : الرسالة، لأنها تؤلک في الفم، من قولهم : فرس يَأْلُكُ اللّجام أي : يعلك . ( ا ل ک ) الملئکۃ ( فرشتے ) اور ملک اصل میں مالک ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ ملاک سے معلوب ہے اور مالک وما لکۃ والوک کے معنی رسالت یعنی پیغام کے ہیں اسی سے لکنی کا محاورہ ہے جس کے معنی ہیں اسے میرا پیغام پہنچادو ، ، ۔ الملائکۃ کا لفظ ( اسم جنس ہے اور ) واحد و جمع دونوں پر بولا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ { اللهُ يَصْطَفِي مِنَ الْمَلَائِكَةِ رُسُلًا } ( سورة الحج 75) خدا فرشتوں میں سے پیغام پہنچانے والے منتخب کرلیتا ہے ۔ خلیل نے کہا ہے کہ مالکۃ کے معنی ہیں پیغام اور اسے ) مالکۃ اس لئے کہتے ہیں کہ وہ بھی منہ میں چبایا جاتا ہے اور یہ فرس یالک اللجام کے محاورہ سے ماخوذ ہے جس کے معنی ہیں گھوڑے کا منہ میں لگام کو چبانا ۔ رجا (کناره) رَجَا البئرِ والسماءِ وغیرِهِمَا : جانبها، والجمع أَرْجَاءٌ ، قال تعالی: وَالْمَلَكُ عَلى أَرْجائِها [ الحاقة/ 17] ، والرَّجَاءُ ظنّ يقتضي حصول ما فيه مسرّة، وقوله تعالی: ما لَكُمْ لا تَرْجُونَ لِلَّهِ وَقاراً [ نوح/ 13] ، قيل : ما لکم لا تخافون وأنشد :إذا لسعته النّحل لم يَرْجُ لسعها ... وحالفها في بيت نوب عوامل ووجه ذلك أنّ الرَّجَاءَ والخوف يتلازمان، قال تعالی: وَتَرْجُونَ مِنَ اللَّهِ ما لا يَرْجُونَ [ النساء/ 104] ، وَآخَرُونَ مُرْجَوْنَ لِأَمْرِ اللَّهِ [ التوبة/ 106] ، وأَرْجَتِ النّاقة : دنا نتاجها، وحقیقته : جعلت لصاحبها رجاء في نفسها بقرب نتاجها . والْأُرْجُوَانَ : لون أحمر يفرّح تفریح الرّجاء . ( ر ج و ) رجا البئر ۔ کنویں کا کنارہ ۔ رجا السماء ۔ آسمان کا کنارہ ۔ اس کی جمع ارجاء آتی ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ وَالْمَلَكُ عَلى أَرْجائِها[ الحاقة/ 17] اس کے کنارے پر فرشتے ہوں گے ۔ اور رجاء ایسے ظن کو کہتے ہیں جس میں مسرت حاصل ہونے کا امکان ہو۔ اور آیت کریمہ ؛۔ ما لَكُمْ لا تَرْجُونَ لِلَّهِ وَقاراً [ نوح/ 13] تو تمہیں کیا بلا مار گئی کہ تم نے خدا کا وقار دلوں سے اٹھا دیا ۔ میں بعض مفسرین نے اس کے معنی لا تخافون کيے ہیں یعنی کیوں نہیں ڈرتے ہوجیسا کہ شاعر نے کہا ہے ۔ ( طویل) (177) وحالفھا فی بیت نوب عواسل جب اسے مکھی ڈنگ مارتی ہے تو وہ اس کے ڈسنے سے نہیں ڈرتا ۔ اور اس نے شہد کی مکھیوں سے معاہدہ کر رکھا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے ۔ کہ خوف ورجاء باہم متلازم ہیں ( جب کسی محبوب چیز کے حصول کی توقع ہوگی ) ساتھ ہی اس کے تضیع کا اندیشہ بھی دامن گیر رہے گا ۔ اور ایسے ہی اس کے برعکس صورت میں کہ اندیشہ کے ساتھ ہمیشہ امید پائی جاتی ہے ) قرآن میں ہے :َوَتَرْجُونَ مِنَ اللَّهِ ما لا يَرْجُونَ [ النساء/ 104] اور تم کو خدا سے وہ وہ امیدیں ہیں جو ان کو نہیں ۔ وَآخَرُونَ مُرْجَوْنَ لِأَمْرِ اللَّهِ [ التوبة/ 106] اور کچھ اور لوگ ہیں کہ حکم خدا کے انتظار میں ان کا معاملہ ملتوی ہے ۔ ارجت الناقۃ : اونٹنی کی ولادت کا وقت قریب آگیا ۔ اس کے اصل معنی یہ ہیں کہ اونٹنی نے اپنے مالک کو قرب ولادت کی امید دلائی ۔ الارجوان : ایک قسم کا سرخ رنگ جو رجاء کی طرح فرحت بخش ہوتا ہے ۔ عرش العَرْشُ في الأصل : شيء مسقّف، وجمعه عُرُوشٌ. قال تعالی: وَهِيَ خاوِيَةٌ عَلى عُرُوشِها[ البقرة/ 259] والعَرْشُ : شبهُ هودجٍ للمرأة شبيها في الهيئة بِعَرْشِ الکرمِ ، وعَرَّشْتُ البئرَ : جعلت له عَرِيشاً. وسمّي مجلس السّلطان عَرْشاً اعتبارا بعلوّه . قال : وَرَفَعَ أَبَوَيْهِ عَلَى الْعَرْشِ [يوسف/ 100] ( ع رش ) العرش اصل میں چھت والی چیز کو کہتے ہیں اس کی جمع عروش ہے ۔ قرآن میں ہے : وَهِيَ خاوِيَةٌ عَلى عُرُوشِها[ البقرة/ 259] اور اس کے مکانات اپنی چھتوں پر گرے پڑے تھے ۔ العرش چھولدادی جس کی ہیت انگور کی ٹٹی سے ملتی جلتی ہے اسی سے عرشت لبئر ہے جس کے معنی کو یں کے اوپر چھولداری سی بنانا کے ہیں بادشاہ کے تخت کو بھی اس کی بلندی کی وجہ سے عرش کہاجاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : وَرَفَعَ أَبَوَيْهِ عَلَى الْعَرْشِ [يوسف/ 100] اور اپنے والدین کو تخت پر بٹھایا ۔ رب الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] ( ر ب ب ) الرب ( ن ) کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ کسی نے کہا ہے ۔ لان یربنی رجل من قریش احب الی من ان یربنی رجل من ھوازن ۔ کہ کسی قریشی کا سردار ہونا مجھے اس سے زیادہ عزیز ہے کہ بنی ہوازن کا کوئی آدمی مجھ پر حکمرانی کرے ۔ رب کا لفظ اصل میں مصدر ہے اور استعارۃ بمعنی فاعل استعمال ہوتا ہے اور مطلق ( یعنی اصافت اور لام تعریف سے خالی ) ہونے کی صورت میں سوائے اللہ تعالیٰ کے ، جو جملہ موجودات کے مصالح کا کفیل ہے ، اور کسی پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا چناچہ ارشاد ہے :۔ بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] عمدہ شہر اور ( آخرت میں ) گنا ه بخشنے والا پروردگار ،۔ فوق فَوْقُ يستعمل في المکان، والزمان، والجسم، والعدد، والمنزلة، وذلک أضرب : الأول : باعتبار العلوّ. نحو : وَرَفَعْنا فَوْقَكُمُ الطُّورَ [ البقرة/ 63] ، مِنْ فَوْقِهِمْ ظُلَلٌ مِنَ النَّارِ [ الزمر/ 16] ، وَجَعَلَ فِيها رَواسِيَ مِنْ فَوْقِها [ فصلت/ 10] ، ويقابله تحت . قال : قُلْ هُوَ الْقادِرُ عَلى أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذاباً مِنْ فَوْقِكُمْ أَوْ مِنْ تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ [ الأنعام/ 65] الثاني : باعتبار الصّعود والحدور . نحو قوله :إِذْ جاؤُكُمْ مِنْ فَوْقِكُمْ وَمِنْ أَسْفَلَ مِنْكُمْ [ الأحزاب/ 10] . الثالث : يقال في العدد . نحو قوله : فَإِنْ كُنَّ نِساءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ [ النساء/ 11] . الرابع : في الکبر والصّغر مَثَلًا ما بَعُوضَةً فَما فَوْقَها[ البقرة/ 26] . الخامس : باعتبار الفضیلة الدّنيويّة . نحو : وَرَفَعْنا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجاتٍ [ الزخرف/ 32] ، أو الأخرويّة : وَالَّذِينَ اتَّقَوْا فَوْقَهُمْ يَوْمَ الْقِيامَةِ [ البقرة/ 212] ، فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا [ آل عمران/ 55] . السادس : باعتبار القهر والغلبة . نحو قوله : وَهُوَ الْقاهِرُ فَوْقَ عِبادِهِ [ الأنعام/ 18] ، وقوله عن فرعون : وَإِنَّا فَوْقَهُمْ قاهِرُونَ [ الأعراف/ 127] ( ف و ق ) فوق یہ مکان ازمان جسم عدد اور مرتبہ کے متعلق استعمال ہوتا ہے اور کئی معنوں میں بولا جاتا ہے اوپر جیسے فرمایا ۔ وَرَفَعْنا فَوْقَكُمُ الطُّورَ [ البقرة/ 63] اور کوہ طور کو تم پر اٹھا کھڑا کیا ۔ مِنْ فَوْقِهِمْ ظُلَلٌ مِنَ النَّارِ [ الزمر/ 16] کے اوپر تو آگ کے سائبان ہوں گے ۔ وَجَعَلَ فِيها رَواسِيَ مِنْ فَوْقِها [ فصلت/ 10] اور اسی نے زمین میں اس کے پہاڑ بنائے ۔ اس کی ضد تحت ہے جس کے معنی نیچے کے ہیں چناچہ فرمایا ۔ قُلْ هُوَ الْقادِرُ عَلى أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذاباً مِنْ فَوْقِكُمْ أَوْ مِنْ تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ [ الأنعام/ 65] کہ وہ اس پر بھی قدرت رکھتا ہے کہ تم پر اوپر کی طرف سے یا تمہارے پاؤں کے نیچے سے عذاب بھیجے ۔ 2 صعود یعنی بلند ی کی جانب کے معنی میں اس کی ضدا سفل ہے جس کے معنی پستی کی جانب کے ہیں چناچہ فرمایا : ۔ إِذْ جاؤُكُمْ مِنْ فَوْقِكُمْ وَمِنْ أَسْفَلَ مِنْكُمْ [ الأحزاب/ 10] جب وہ تمہارے اوپر اور نیچے کی جانب سے تم پر چڑھ آئے ۔ 3 کسی عدد پر زیادتی کے معنی ظاہر کرنے کے لئے آتا ہے جیسے فرمایا : ۔ فَإِنْ كُنَّ نِساءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ [ النساء/ 11] اگر اولاد صرف لڑکیاں ہی ہوں ( یعنی دو یا ) دو سے زیادہ ۔ 4 جسمانیت کے لحاظ سے بڑا یا چھوٹا ہونے کے معنی دیتا ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ : مَثَلًا ما بَعُوضَةً فَما فَوْقَها[ البقرة/ 26] مچھر یا اس سے بڑھ کر کسی چیز مثلا مکھی ۔ مکڑی کی مثال بیان فرمائے ۔ 5 بلحاظ فضیلت دنیوی کے استعمال ہوتا ہے جیسے فرمایا ۔ وَرَفَعْنا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجاتٍ [ الزخرف/ 32] اور ایک دوسرے پر درجے بلند کئے ۔ اور کبھی فضلیت اخروی کے لحاظ سے آتا ہے جیسے فرمایا : ۔ وَالَّذِينَ اتَّقَوْا فَوْقَهُمْ يَوْمَ الْقِيامَةِ [ البقرة/ 212] لیکن جو پرہیز گار ہیں وہ قیامت کے دن ان پر پر فائق ہوں گے ۔ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا [ آل عمران/ 55] کافروں پر فائق ۔ 6 فوقیت معنی غلبہ اور تسلط کے جیسے فرمایا : ۔ وَهُوَ الْقاهِرُ فَوْقَ عِبادِهِ [ الأنعام/ 18] اور وہ اپنے بندوں پر غالب ہے ۔ وَإِنَّا فَوْقَهُمْ قاهِرُونَ [ الأعراف/ 127] فرعون سے اور بےشبہ ہم ان پر غالب ہیں ۔ يَوْمَئِذٍ ويركّب يَوْمٌ مع «إذ» ، فيقال : يَوْمَئِذٍ نحو قوله عزّ وجلّ : فَذلِكَ يَوْمَئِذٍ يَوْمٌ عَسِيرٌ [ المدثر/ 9] وربّما يعرب ويبنی، وإذا بني فللإضافة إلى إذ . اور کبھی یوم کے بعد اذ بڑھا دیاجاتا ہے اور ( اضافت کے ساتھ ) یومئذ پڑھا جاتا ہے اور یہ کسی معین زمانہ کی طرف اشارہ کے لئے آتا ہے اس صورت میں یہ معرب بھی ہوسکتا ہے اور اذ کی طرف مضاف ہونے کی وجہ سے مبنی بھی ۔ جیسے فرمایا : وَأَلْقَوْا إِلَى اللَّهِ يَوْمَئِذٍ السَّلَمَ [ النحل/ 87] اور اس روز خدا کے سامنے سرنگوں ہوجائیں گے ۔ فَذلِكَ يَوْمَئِذٍ يَوْمٌ عَسِيرٌ [ المدثر/ 9] وہ دن بڑی مشکل کا دن ہوگا ۔ اور آیت کریمہ : وَذَكِّرْهُمْ بِأَيَّامِ اللَّهِ [إبراهيم/ 5] اور ان کو خدا کے دن یا ددلاؤ۔ میں ایام کی لفظ جلالت کی طرف اضافت تشریفی ہے اور ا یام سے وہ زمانہ مراد ہے جب کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے فضلو انعام کے سمندر بہا دیئے تھے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اور فرشتے آسمان کے کناروں پر ہوجائیں گے اور آپ کے پروردگار کے عرش کو قیامت کے دن آٹھ فرشتے اپنی گردنوں پر اٹھائے ہوئے ہوں گے ان میں سے ہر ایک فرشتے کے چار مونہ ہوں گے انسان کا چہرہ، چیتے کا چہرہ، شیر کا چہرہ، بیل کا مونہ اور کہا گیا ہے کہ ان فرشتوں کی آٹھ صفیں ہوں گی۔ یا یہ کہ ساتویں آسمان والوں یعنی کروبیین کے آٹھ حصے ہوں گے اور قیامت کے دن جبکہ اللہ تعالیٰ کے سامنے تین مرتبہ تمہاری پیشی ہوگی۔ (١) حساب و کتاب اور عذر و معذرت کے لیے (٢) قصاص اور خصوصیات کی پیشی کے لیے (٣) نامہ اعمال ملنے اور ان کے سنائے جانے کے لیے اور تم میں سے کسی کو بھی نہ چھوڑا جائے گا یا یہ کہ تم میں سے کسی کی کوئی خفیہ بات بھی اللہ تعالیٰ سے پوشیدہ نہ ہوگی۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

11 This is au ambiguous verse the meaning of which is difficult to determine We can neither know what the Throne is nor can understand what will be the nature of the eight angels upholding it on the Day of Resurrection. It is, however. inconceivable that Allah Almighty would be sitting on the Throne and the eight angels would be upholding it along with Him The verse also does not say that Allah at that time would be sitting on the Throne. Besides, the conception of God that the Qur'an gives also prevents one from imagining that the Being Who is free from physical existence as to body, direction and place, should be residing some where and His creatures should sustain Him. Therefore, pursuing any research to determine its meaning would be tantamount to disbelief. However, one should understand that in order to give an idea of AIIah Almighty's rule and sovereignty, and of the matters associated with it, the same scene has been depicted by the Qur'an as of worldly kingship and the same terms have been used for it as are common for kingship and its accompaniments, to enable us to understand matters pertaining to sovereignty of the universe to some extent only by means of this very scene and terms. All this is meant to bring the real Truth within human understanding; it is not, therefore, right to take it literally.

سورة الْحَآقَّة حاشیہ نمبر :11 یہ آیت متشابہات میں سے ہے جس کے معنی متعین کرنا مشکل ہے ۔ ہم نہ یہ جان سکتے ہیں کہ عرش کیا چیز ہے اور نہ یہی سمجھ سکتے ہیں کہ قیامت کے روز آٹھ فرشتوں کے اس کو اٹھانے کی کیفیت کیا ہو گی ۔ مگر یہ بات بہرحال قابل تصور نہیں ہے کہ اللہ تعالی عرش پر بیٹھا ہو گا اور آٹھ فرشتے اس کو عرش سمیت اٹھائے ہوئے ہوں گے ۔ آیت میں بھی یہ نہیں کہا گیا ہے کہ اس وقت اللہ تعالی عرش پر بیٹھا ہوا ہو گا ، اور ذات باری کا جو تصور ہم کو قرآن مجید میں دیا گیا ہے وہ بھی یہ خیال کرنے میں مانع ہے کہ وہ جسم اور جہت اور مقام سے منزہ ہستی کسی جگہ متمکن ہو اور کوئی مخلوق اسے اٹھائے ۔ اس لیے کھوج کرید کر کے اس کے معنی متعین کرنے کی کوشش کرنا اپنے آپ کو گمراہی کے خطرے میں مبتلا کرنا ہے ۔ البتہ یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ قرآن مجید میں اللہ تعالی کی حکومت و فرمانروائی اور اس کے معاملات کا تصور دلانے کے لیے لوگوں کے سامنے وہی نقشہ پیش کیا گیا ہے جو دنیا میں بادشاہی کا نقشہ ہوتا ہے ، اور اس کے لیے وہی اصطلاحیں استعمال کی گئی ہیں جو انسانی زبانوں میں سلطنت اور اس کے مظاہر و لوازم کے لیے مستعمل ہیں ، کیونکہ انسانی ذہن اسی نقشے اور انہی اصلاحات کی مدد سے کسی حد تک کائنات کی سلطانی کے معاملات کو سمجھ سکتا ہے ۔ یہ سب کچھ اصل حقیقت کو انسانی فہم سے قریب تر کرنے کے لیے ہے ۔ اس کو بالکل لفظی معنوں میں لے لینا درست نہیں ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(69:17) والملک علی ارجائھا۔ جملہ معطوف ہے اس کا عطف جملہ سابقہ فیومئذ وقعت الواقعۃ پر ہے۔ الملک سے مراد فرشتوں کی جنس ہے کوئی خاص فرشتہ مراد نہیں ارجائھا مضاف مضاف الیہ۔ ارجاء رجا کی جمع ہے یعنی کنارے۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع السماء ہے اور فرشتے اس کے کناروں پر ہوں گے۔ صاحب ضیاء القرآن اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :۔ وہ فرشتے جو آج اپنے قیام ، رکوع، سجود، سے آسمان کے چپہ چپہ کو مزین کئے ہوئے ہیں۔ جب آسمان کا نظام درہم برہم ہوجائے گا تو وہ صفیں باندھ کر کناروں پر کھڑے ہوجائیں گے۔ ویحمل عرش ربک فوقھم یومئذ ثمنیۃ : اس جملہ کا عطف بھی سابقہ جملہ کی طرح فیومئذ وقعت الواقعۃ پر ہے۔ فوقھم مضاف مضاف الیہ۔ ان کے اوپر۔ فوقھم : ای فوق الملئکۃ الذین ہم علی الارجاء اوفوق الثمنیۃ ہے (بیضاوی) ۔ یعنی قیامت کے دن آٹھ فرشتے اطراف آسمان پر مقیم ملائکہ کے اوپر یا اپنے اوپر اللہ کے عرش کو اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ ثمنیۃ اسم عدد۔ آٹھ ۔ یہاں آٹھ فرشتے مراد ہیں۔ آیت کا مطلب یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ عرش پر تشریف فرما ہوگا ۔ اور فرشتے عرش کو اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اس سے منزہ اور پاک ہیں کہ وہ کسی مکان میں سما سکیں۔ عرش کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف اس لئے ہے کہ اس نسبت سے عرش کی شان بلند ہو۔ نیز یہ مقام اللہ تعالیٰ کی خصوصی تجلیات کی جلوہ گاہ ہے۔ کائنات علوی و سفلی میں جس قسم کے تصرفات ہو رہے ہیں جن تدبیروں کا ظہور ہو رہا ہے ان سب کا مرکز یہ مقام ہے جسے عرش کہا جاتا ہے جس طرح بادشاہ اپنے تخت پر بیٹھ کر اپنے فرائض جہانبانی انجام دیتا ہے اسی طرح عالم وجود میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کا منبع اور مصدر یہ مقام ہے اس لئے اسے عرش یعنی تخت الٰہی کہا گیا ہے (ضیاء القرآن) لغات القرآن میں منجملہ دیگر توضیحات کے یہ بھی تحریر ہے :۔ امام ابوبکر احمد بن الحسین البیہقی المتوفی 458 ھ کتاب الاسماء والصفات میں لکھتے ہیں :۔ مفسرین کے اقوال یہی ہیں کہ عرش سے مراد تخت ہی ہے اور یہ ایک جسم مجسم ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا ہے اور فرشتوں کو حکم دیا ہے کہ وہ اٹھائے رکھیں اور اس کی تعظیم اور طواف کے ذریعے عبادت کو بجا لائیں۔ جس طرح کہ زمین میں اس نے ایک گھر پیدا فرمایا اور بنی آدم کو حکم دیا کہ اس کا طواف کریں۔ اور نماز میں اس کی طرف منہ کیا کریں۔ (لغات القرآن ج 4 لفظ عرش کے محاذ

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 9 کیونکہ وہ درمیان سے پھٹ جائیگا۔ ضحاک کہتے ہیں اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرشتوں کے حکم دے گا تو وہ زمین پر اتر آئیں گے اور اسے اور اس کے رہنے والوں کو گھیر لیں گے۔ (شوکانی)10 یا ” فرشتوں کی آٹھ صفیں اٹھائینگی جن کی تعداد صرف اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے جیسا کہ ابن عباس سے متعدد طرق کے ساتھ مروی ہے مگر قرآن کے ظاہری الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ آٹھ فرشتے ہونگے اور اس کی تائید بعض صحیح روایات سے بھی ملتی ہے۔ ابن عربی نیفتوحات میں ملۃ العرش پر مفصل بحث کی ہے اور لکھا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ عظمت الٰہی کی ہے اور لکھا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ عظمت الٰہی کی تمثیل ہو اور اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہونا حساب سے کنایہ ہو۔ (روح)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

5۔ اس سے ظاہرا معلوم ہوتا ہے کہ آسمان بیچ میں سے پھٹ کر چاروں طرف سمٹنا شروع ہوں گے اس لئے فرشتے بھی بیچ میں سے کناروں پر آرہیں گے۔ 6۔ حدیث میں ہے اب عرش کو چار فرشتے اٹھائے ہوئے ہیں۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : قیامت کے دن آسمان پھٹ جائے گا اور رب ذوالجلال کے عرش کو آٹھ ملائکہ اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ اسرافیل کے پہلی مرتبہ صور پھونکنے کے بعد زمین و آسمانوں کی موجودہ حالت ختم ہوجائے گی۔ اللہ تعالیٰ زمین و آسمانوں کو نئی صورت میں بنائیں گے جن کے بارے میں ارشاد فرمایا : ” اس دن اس زمین کو دوسری زمین کے ساتھ بدل دیا جائے گا اور آسمان بھی بدل دیا جائے گا اور لوگ اللہ کے سامنے پیش ہوں گے، جو اکیلا اور بڑا زبر دست ہے۔ “ (ابراہیم : ٤٨) اللہ تعالیٰ کے عرش کو اس دن آٹھ فرشتے اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ اس حالت میں رب ذوالجلال زمین پر جلوہ افروز ہوں گے جس طرح اس کی ذات کے لائق ہے۔ ہمیں یہ بات سوچنے سے اللہ کی پناہ مانگنی چاہیے کہ اللہ کا عرش کتنا بڑا ہوگا، ذات کبریاء کس طرح اس پر جلوہ افروز ہوگی، ملائکہ عرش کو کس طرح اٹھائیں گے اور اللہ تعالیٰ کس طرح نزول فرمائے گا۔ یہ انسان کے سوچنے کی باتیں نہیں ہمارا کام اپنے رب کے فرمان پر یقین کرنا اور قیامت کے دن کی تیاری کرنا ہے۔ اس بارے میں جس شخص کی سوچ آگے بڑھنے کی کوشش کرے اسے ” اعوذ باللہ “ اور ” لاحول ولاقوۃ الاباللہ “ پڑھنا چاہیے۔ رب ذوالجلال کے نزول سے پہلے سب لوگ محشر کے میدان میں جمع ہوچکے ہوں گے اور تمام ملائکہ جن میں جبرائیل امین بھی شامل ہوں گے صف بستہ حاضر ہوں اجازت کے بغیر کوئی بات نہیں کرسکے گا۔ ( النبا : ٣٨) اس موقع پر کچھ اور امور بھی طے کیے جائیں گے جن کا تذکرہ قرآن مجید میں تفصیل کے ساتھ موجود ہے۔ بالآخر وہ مرحلہ آجائے گا جب لوگوں کو ان کے اعمال نامے ان کے ہاتھوں میں تھمادیئے جائیں گے اس وقت کوئی شخص کوئی بات چھپا نہیں سکے گا۔ جس کو اس کا اعمال نامہ اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا اعمال نامہ ملنے کے ساتھ ہی اس کا چہرہ چمک اٹھے گا وہ ہشاش بشاش اور مسکراتے چہرے کے ساتھ اپنے دائیں بائیں والوں کو کہے گا کہ یہ میرا اعمال نامہ ہے۔ آؤ ! اسے پڑھو ! مجھے پہلے سے یقین تھا کہ میرا حساب مجھے ملنے والا ہے اس کے ساتھ ہی اسے معلوم ہوجائے گا کہ مجھے جنت میں داخلہ ملنے والا ہے چناچہ اسے عالی مقام جنت میں داخلہ دیا جائے گا جس کے پھلوں کے گچھے جھکے ہوئے ہوں گے۔ گویا کہ وہ زبان حال سے جنتیوں کو اپنی طرف بلا رہے ہوں گے، اعلان کرنے والا اعلان کرے گا کہ یہ تمہارے گزرے ہوئے ایام میں تمہارے صالح اعمال کا صلہ ہے اب تم جنت میں ہمیشہ ہمیش عیش کے ساتھ رہو اور مزے سے کھاتے پیتے رہو۔ مسائل ١۔ قیامت کے دن کوئی شخص کوئی بات بھی اپنے رب سے چھپا نہیں سکے گا۔ ٢۔ جس شخص کو اس کا اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں دیا گیا وہ اپنے دائیں بائیں والوں سے کہے گا کہ آؤ میرا اعمال نامہ پڑھو ! ٣۔ جسے اس کا اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں دے دیا گیا وہ عالی شان جنت میں بڑی عیش کے ساتھ رہے گا۔ ٤۔ جنت کے پھل جھکے ہوئے ہوں گے جنتی انہیں مزے لے لے کر کھائیں گے۔ تفسیر بالقرآن جنت کے پھلوں کی ایک جھلک : ١۔ ہم نے اس میں کھجوروں، انگوروں کے باغ بنائے ہیں اور ان میں چشمے جاری کیے ہیں۔ (یٰس : ٣٤) ٢۔ یقیناً متقین باغات اور چشموں میں ہوں گے۔ (الذاریات : ١٥) ٣۔ یقیناً متقی نعمتوں والی جنت میں ہوں گے۔ (الطور : ١٧) ٤۔ جنتیوں کو شراب طہور دی جائے گی۔ (الدھر : ٢١) ٥۔ جنت میں تمام پھل دو ، دو قسم کے ہوں گے۔ (الرحمن : ٥٢)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

والملک ................................ ثمنیة (٩٦ : ٧١) ” فرشتے ان کے اطراف و جوانب میں ہوں گے اور آٹھ فرشتے اس روز تیرے رب کا عرش اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے “۔ فرشتے اس کائنات وسماوات کے اطراف و جوانب میں ہوں گے اور اس کائنات کے اوپر عرش الٰہی ہوگا اور اس کو آٹھ فرشتے اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ یہ آٹھ طبقات ہوں گے یا یہ آٹھ اللہ کے علم میں ہوں گے کہ وہ کیا ہوں گے ؟ یہ آٹھ کون ہیں اور کیا ہیں ؟ اس کی تفصیلات کا بھی ہمیں علم نہیں ہے۔ نہ ہمیں عرش کی کیفیت کا علم ہے نہ اٹھانے کی کیفیت کا علم ہے۔ ہم ان تمام امور کو ایک طرف چھوڑ دیتے ہیں ، اس لئے کہ ان کا تعلق غیبی معاملات سے ہے جن کا تفصیلی علم ہمیں نہیں دیا گیا اور ہمیں اللہ نے ان چیزوں کے تفصیلی علم کے حصول کا نہ مکلف بنایا ہے ، نہ حصول کا حکم دیا ہے۔ ہم ان تفصیلات کو بھی اللہ کے غیبی علم پر چھوڑ دیتے ہیں۔ بس اب اللہ ہی اللہ ہوگا ، سب کچھ فنا ہوگا اور یہی شعور ہے جو قرآن اور یہ سورت ہمیں دینا چاہتی ہے کہ ہم اللہ سے ڈریں ، قیامت کی جوابدہی سے ڈریں اور اللہ کی قدرت اور جلالت سے ڈریں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(17) اور فرشتے اس کے کناروں پر سمٹ آئیں گے اور اس دن آپ کے پروردگار کے عرش کو آٹھ فرشتے اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے۔