Surat ul Haaqqaa

Surah: 69

Verse: 27

سورة الحاقة

یٰلَیۡتَہَا کَانَتِ الۡقَاضِیَۃَ ﴿ۚ۲۷﴾

I wish my death had been the decisive one.

کاش! کہ موت ( میرا ) کام ہی تمام کر دیتی ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

But as for him who will be given his Record in his left hand, (He) will say: "I wish that I had not been given my Record! And that I had never known how my account is! Would that it had been my end!..." Ad-Dahhak said, "Meaning a death which is not followed by any life." Likewise said Muhammad bin Ka`b, Ar-Rabi` and As-Suddi. Qatadah said, "He will hope for death even though in the worldly life it was the most hated thing to him." مَا أَغْنَى عَنِّي مَالِيهْ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

27۔ 1 یعنی موت ہی فیصلہ کن ہوتی اور دوبارہ زندہ نہ کیا جاتا تاکہ یہ روز بد نہ دیکھنا پڑتا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

يٰلَيْتَہَا كَانَتِ الْقَاضِيَۃَ۝ ٢٧ ۚ ليت يقال : لَاتَهُ عن کذا يَلِيتُهُ : صرفه عنه، ونقصه حقّا له، لَيْتاً. قال تعالی: لا يَلِتْكُمْ مِنْ أَعْمالِكُمْ شَيْئاً [ الحجرات/ 14] أي : لا ينقصکم من أعمالکم، لات وأَلَاتَ بمعنی نقص، وأصله : ردّ اللَّيْتِ ، أي : صفحة العنق . ولَيْتَ : طمع وتمنٍّ. قال تعالی: لَيْتَنِي لَمْ أَتَّخِذْ فُلاناً خَلِيلًا [ الفرقان/ 28] ، يَقُولُ الْكافِرُ يا لَيْتَنِي كُنْتُ تُراباً [ النبأ/ 40] ، يا لَيْتَنِي اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُولِ سَبِيلًا [ الفرقان/ 27] ، وقول الشاعر : ولیلة ذات دجی سریت ... ولم يلتني عن سراها ليت «1» معناه : لم يصرفني عنه قولي : ليته کان کذا . وأعرب «ليت» هاهنا فجعله اسما، کقول الآخر :إنّ ليتا وإنّ لوّا عناء«2» وقیل : معناه : لم يلتني عن هواها لَائِتٌ. أي : صارف، فوضع المصدر موضع اسم الفاعل . ( ل ی ت ) لا تہ ( ض ) عن کذا لیتا ۔ کے معنی اسے کسی چیز سے پھیر دینا اور ہٹا دینا ہیں نیز لا تہ والا تہ کسی کا حق کم کرنا پوا را نہ دینا ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ لا يَلِتْكُمْ مِنْ أَعْمالِكُمْ شَيْئاً [ الحجرات/ 14] تو خدا تمہارے اعمال میں سے کچھ کم نہیں کرے گا ۔ اور اس کے اصلی معنی رد اللیت ۔ یعنی گر دن کے پہلو کو پھیر نے کے ہیں ۔ لیت یہ حرف طمع وتمنی ہے یعنی گذشتہ کوتاہی پر اظہار تاسف کے لئے آتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ لَيْتَنِي لَمْ أَتَّخِذْ فُلاناً خَلِيلًا [ الفرقان/ 28] کاش میں نے فلاں شخص کو دوست نہ بنایا ہوتا يَقُولُ الْكافِرُ يا لَيْتَنِي كُنْتُ تُراباً [ النبأ/ 40] اور کافر کہے کا اے کاش میں مٹی ہوتا يا لَيْتَنِي اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُولِ سَبِيلًا [ الفرقان/ 27] کہے گا اے کاش میں نے پیغمبر کے ساتھ رستہ اختیار کیا ہوتا ۔ شاعر نے کہا ہے ( 406 ) ولیلۃ ذات وجی سریت ولم یلتنی عن ھوا ھا لیت بہت سی تاریک راتوں میں میں نے سفر کئے لیکن مجھے کوئی پر خطر مر حلہ بھی محبوب کی محبت سے دل بر داشت نہ کرسکا ( کہ میں کہتا کاش میں نے محبت نہ کی ہوتی ۔ یہاں لیت اسم معرب اور لم یلت کا فاعل ہے اور یہ قول لیتہ کان کذا کی تاویل میں سے جیسا کہ دوسرے شاعر نے کہا ہے ( 403 ) ان لینا وان لوا عناء ۔ کہ لیت یا لو کہنا سرا سرباعث تکلف ہے بعض نے کہا ہے کہ پہلے شعر میں لیت صدر بمعنی لائت یعنی اس فاعلی ہے اور معنی یہ ہیں کہ مجھے اس کی محبت سے کوئی چیز نہ پھیر سکی ۔ قضی الْقَضَاءُ : فصل الأمر قولا کان ذلک أو فعلا، وكلّ واحد منهما علی وجهين : إلهيّ ، وبشريّ. فمن القول الإلهيّ قوله تعالی: وَقَضى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] أي : أمر بذلک، ( ق ض ی ) القضاء کے معنی قولا یا عملا کیس کام کا فیصلہ کردینے کے ہیں اور قضاء قولی وعملی میں سے ہر ایک کی دو قسمیں ہیں قضا الہیٰ اور قضاء بشری چناچہ قضاء الہیٰ کے متعلق فرمایا : ۔ وَقَضى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] اور تمہارے پروردگار نے ارشاد فرمایا کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٢٧۔ ٢٨) اور موت کی تمنا کر کے کہے گا کہ کیا اچھا ہوتا پہلی موت ہی میرا خاتمہ کرچکی ہوئی میرا دنیا میں جمع کیا ہوا مال عذاب خداوندی کے سامنے کچھ کام نہ آیا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٧{ یٰـلَیْتَہَا کَانَتِ الْقَاضِیَۃَ ۔ } ” اے کاش کہ وہی موت قصہ پاک کردینے والی ہوتی ! “ کاش کہ وہی موت جو مجھے دنیا میں آئی تھی فیصلہ کن ہوتی ‘ اس موت کے بعد میں معدوم ہوگیا ہوتا اور میرے دوبارہ زندہ ہونے کی نوبت نہ آتی۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

18 That is, "I should have become extinct after death in the world and should have experienced no other life after death."

سورة الْحَآقَّة حاشیہ نمبر :18 یعنی دنیا میں مرنے کے بعد ہمیشہ کے لیے معدوم ہو گیا ہوتا اور کوئی دوسری زندگی نہ ہوتی ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(69:27) یلیتھا : یاء حرف نداء ۔ منادی محذوف۔ لیت حرف مشبہ بالفعل۔ ھا اسم اے قوم کاش وہ ۔۔ ھا سے مراد وہ نفخہ یا دنیاوی زندگی کے بعد موت ہے یا زندگی کے بعد عدم کی حالت ہے۔ کانت القاضیۃ : کانت ماضی واحد مؤنث غائب ۔ کون (باب نصر) مصدر۔ وہ ہوگئی وہ ہوگئی ہوتی۔ (ماضی تمنائی) کانت کا اسم فاعل یل تھا کی ھا ہے یعنی دنیاوی زندگی کے بعد موت یا عدم کی حالت۔ القاضیۃ۔ اسم فاعل واحد مؤنث، قضاء (باب ضرب) مصدر سے جس کے معنی فیصلہ کرنا۔ طے کرنا۔ آخری قطعی حکم اور قطعی عمل آیت ہذا میں عملی قضاء مراد ہے؛ یعنی ختم کردینے والی ایسی موت جس کے بعد زندگی نہ ہو۔ کام تمام ہوجائے۔ القاضیۃ خبر ہے کانت کی لہٰذا منصوب ہے۔ یلیتھا کانت القاضیۃ : ای کاش دنیاوی زندگی کے بعد موت ہی کام تمام کردینے والی ہوتی (نہ میں دوبارہ زندہ ہوتا نہ اعمال نامہ دیکھنے کی نوبت آتی) ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 2 یعنی کاش ! میں مرنے کے بعد دو برہ زندہ ہی نہ کیا جاتا۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(27) کیا اچھا ہوتا کہ وہ پہلی موت ہی آخری فیصلہ کرنے والی ہوتی۔ یعنی موت اول کے بعد دوبارہ بعث اور زندہ ہونا نہ ہوتا۔